Others

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز کی ہال مارکنگ

صارفین کے اعتماد کی بنیاد،معیار کی ضمانت

Posted On: 05 NOV 2026 2:00PM

ہال مارکنگ صارفین کو سونے اور چاندی کے زیورات کی خریداری کے وقت ان کی خالصیت کے بارے میں مستند ضمانت فراہم کرتی ہے، جس کی بدولت وہ بہتر اور باخبر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس نظام کی نگرانی بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کرتا ہے، جو مقررہ معیارات، ڈیجیٹل ذرائع سے شناخت و سراغ رسانی اور ضابطہ جاتی جانچ کے ذریعے اس عمل کو یقینی بناتا ہے۔سال 2021 میں سونے کے زیورات پر ہال مارکنگ لازمی قرار دیے جانے کے بعد، 15 اکتوبر 2026 تک 65 کروڑ سے زائد سونے کے زیورات کو ہال مارک یونیک آئیڈینٹی فکیشن (ایچ یو آئی ڈی) نمبر جاری کیے جا چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران بی آئی ایس میں رجسٹرڈ صرافوں کی تعداد بھی 43,153 سے بڑھ کر 2,36,624 تک پہنچ گئی ہے۔چاندی کے زیورات کے لیے ہال مارکنگ اگرچہ اب بھی رضاکارانہ ہے، تاہم یکم ستمبر 2025 سے ہال مارک شدہ چاندی کی تمام اشیا پر ایچ یو آئی ڈی  کے ذریعے پہچان درج کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اب تک 90 لاکھ سے زائد چاندی کی اشیا پر ایچ یو آئی ڈی  کے ساتھ ہال مارکنگ کی جا چکی ہے۔بی آئی ایس کیئر ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل تصدیق کی سہولت اور مسلسل نگرانی کے اقدامات صارفین کو زیورات کی تفصیلات کی جانچ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس طرح بازار میں شفافیت کو فروغ ملتا ہے اور صارفین کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

سونے اور صارفین کے اعتماد کی ضرورت

نسل در نسل سونا ہندوستانی گھرانوں میں ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ نہ صرف ایک قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے بلکہ دولت محفوظ رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بھی ہے۔ خاندان عموماً سونا اس غرض سے خریدتے ہیں کہ مہنگائی کے اثرات سے اپنے سرمائے کو محفوظ رکھ سکیں اور ضرورت پڑنے پر زیورات رہن رکھ کر قرض حاصل کر سکیں۔ تاہم، سونے کے زیورات کی خالصیت کا درست اندازہ لگانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

سونا ایک سافٹ دھات ہے اور روزمرہ استعمال کے دوران گھسنے یا خراب ہونے سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے زیورات بنانے کے لیے اس میں دوسری دھاتیں ملائی جاتی ہیں تاکہ اسے مضبوط اور پائیدار بنایا جا سکے۔ اگرچہ یہ عمل ناگزیر ہے، لیکن اس سے ملاوٹ اور سونے کی خالصیت کے بارے میں غلط بیانی کے امکانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، باریک نقش و نگار اور متعدد جوڑوں والے پیچیدہ زیورات یا سونے کی ملمع کاری سے تیار کردہ اشیا میں اصل سونے کی مقدار کا تعین کرنا اور بھی دشوار ہو جاتا ہے۔

 

صارفین کو اس طرح کی بدعنوانیوں اور دھوکا دہی سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے ملک میں سونے کی مصنوعات کے لیے یکساں معیارات وضع کرنے اور ہال مارکنگ کا نظام متعارف کرانے کی جانب عملی اقدامات کیے۔

ہال مارکنگ کیا ہے؟

ہال مارکنگ صارفین کے تحفظ کا ایک اہم اقدام ہے، جس کے تحت قیمتی دھاتوں سے تیار کردہ اشیا کی خالصیت کی مقررہ معیارات کے مطابق تصدیق کی جاتی ہے۔ اس سے صارفین کو زیورات کی خریداری کے وقت باخبر اور درست فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس بات کا خدشہ کم ہو جاتا ہے کہ انہیں جتنی خالصیت کا سونا یا چاندی بتایا گیا ہے، اس سے کم خالص دھات کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے۔

 ہال مارکنگ اسکیم: رضاکارانہ نظام سے وسیع تر دائرۂ کار تک

ہندوستان کی سونے کی منڈی میں ضابطہ جاتی خلا کو دور کرنے کے لیے سال 2000 میں رضاکارانہ ہال مارکنگ اسکیم متعارف کرائی گئی۔ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کو ملک میں ہال مارکنگ اسکیم کے نفاذ اور اس کی نگرانی کے لیے واحد مجاز ادارہ مقرر کیا گیا۔ بی آئی ایس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ صارفین کو دھوکا دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے اس اسکیم پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ہی اسے ہندوستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت بڑھانے اور ملک کو سونے کے زیورات کی عالمی منڈی میں ایک نمایاں مقام دلانے کے لیے بھی اقدامات کرنے کا فریضہ سونپا گیا۔

چاندی کی اشیا کے لیے ہال مارکنگ اسکیم کا آغاز سال 2005 میں کیا گیا۔ فی الحال ہندوستان میں سونے اور چاندی، دونوں کو ہال مارکنگ اسکیم کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

سونے کے زیورات کے لیے 23 جون 2021 سے ملک کے 256 اضلاع میں ہال مارکنگ لازمی قرار دی گئی۔ جانچ اور ہال مارکنگ مراکز  کے قیام اور توسیع کے نتیجے میں اب اس کا دائرۂ کار بڑھ کر 392 اضلاع تک پہنچ گیا ہے۔ہال مارکنگ کے موجودہ نظام کے تحت بھارتی معیار آئی ایس 1417 کے مطابق سونے کی سات اقسام کی خالصیت (فی ہزار حصوں میں) تسلیم کی گئی ہے:- 9 قیراط — 375- 14 قیراط — 585- 18 قیراط — 750- 20 قیراط — 833- 22 قیراط — 916- 23 قیراط — 958- 24کے ایس قیراط — 995

چاندی کے زیورات کی ہال مارکنگ اگرچہ اب بھی رضاکارانہ ہے، تاہم بی آئی ایس کی اسکیم کے تحت ہال مارک کی جانے والی چاندی کی ہر شے پر یکم ستمبر 2025 سے ہال مارک یونیک آئیڈینٹیفکیشن (ایچ یو آئی) کوڈ درج کرنا لازمی ہے۔ایچ یو آئی ڈی  دراصل چھ ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد حروف و اعداد کا کوڈ ہے، جو ہال مارک شدہ ہر زیور پر ثبت کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے زیور کی شناخت اور اس کی تفصیلات کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔نظرثانی شدہ معیار آئی ایس  2112:2025 کے تحت چاندی کے زیورات اور آرائشی اشیا کی ہال مارکنگ کے لیے خالصیت کے آٹھ درجات مقرر کیے گئے ہیں، جن کی پیمائش فی ہزار حصوں کے حساب سے کی جاتی ہے:- 800 — 800.0- 835 — 835.0- 900 — 900.0- 925 — 925.0- 958 — 958.0- 970 — 970.0- 990 — 990.0- 999 — 999.0

 ہال مارک شدہ زیورات کی شناخت کیسے کریں؟

ہال مارک شدہ زیورات یا آرائشی اشیا خریدتے وقت تین اہم نشانات پر ضرور توجہ دینی چاہیے۔

سونے کے زیورات اور آرائشی اشیا کے لیے:

1. بی آئی ایس کا معیاری نشان: اس نشان پر بی آئی ایس کا لوگو درج ہوتا ہے۔

2. خالصیت کا نشان: اس سے زیور میں سونے کی خالصیت کا پتا چلتا ہے، مثلاً کے- 22916۔

3. ایچ یو آئی ڈی  کوڈ: یہ چھ ہندسوں پر مشتمل منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے، جو متعلقہ زیور کو جاری کیا جاتا ہے۔

چاندی کے زیورات اور آرائشی اشیا کے لیے:

1. بی آئی ایس کا معیاری نشان: اس پر بی آئی ایس کا لوگو اور لفظ ’سلور‘ درج ہوتا ہے۔

2. خالصیت کا نشان: اس سے چاندی کی خالصیت ظاہر ہوتی ہے، مثلاً 925۔

3. ایچ یو آئی ڈی  کوڈ: یہ چھ ہندسوں پر مشتمل منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے، جو متعلقہ شے کو جاری کیا جاتا ہے۔

یہ تینوں نشانات مل کر خریدے گئے زیورات کی خالصیت کے بارے میں صارفین کو زیادہ اطمینان اور اعتماد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ زیور کی اصل خوب صورتی اسی وقت دوبالا ہوتی ہے جب اس کی خالصیت کی ضمانت بھی موجود ہو۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261105140210_6f0820.jpg

 عملی طور پر ہال مارکنگ: درخواست سے تصدیق تک

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے ہال مارکنگ کے لیے ایک منظم طریقۂ کار وضع کیا ہے، جس میں صرافوں کی رجسٹریشن، زیورات کی خالصیت کی جانچ، ڈیجیٹل شناخت اور ضابطہ جاتی نگرانی کے تمام مراحل شامل ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261105140228_1f8ea1.jpg

1۔ رجسٹریشن اور جانچ کے مراکز

ہال مارکنگ کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہال مارک شدہ زیورات فروخت کرنے کے خواہش مند صراف بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) میں اپنا اندراج کراتے ہیں۔ صراف نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (این ایس ڈبلیو ایس) کے پورٹل https://www.nsws.gov.in/. پر آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ اس پورٹل تک براہِ راست یا بی آئی ایس کے پورٹل : https://www.manakonline.inکے ذریعے بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ رجسٹریشن کا عمل فوری اور بلا معاوضہ ہے، جبکہ اس کی مدت تاحیات ہوتی ہے۔

رجسٹریشن کے بعد صرافوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زیورات بی آئی ایس سے منظور شدہ جانچ و ہال مارکنگ مرکز  میں جمع کرائیں۔ یہ مراکز زیورات کی جانچ اور خالصیت کے تعین کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ بی آئی ایس ان مراکز کو وہاں دستیاب بنیادی ڈھانچے، جانچ کی سہولتوں اور تربیت یافتہ و اہل عملے کی تصدیق کے بعد منظوری دیتا ہے۔

2۔ ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ہال مارکنگ کی درخواست کا آغاز

زیورات کی ہال مارکنگ کے لیے جمع کرانے کی غرض سے صرافوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ متعلقہ پورٹل کے ذریعے درخواست کا آغاز کریں اور زیورات کو جانچ و ہال مارکنگ مراکز تک بھیجنے کی آن لائن سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔رجسٹرڈ صراف www.manakonline.in پر لاگ اِن کرکے ہال مارکنگ  کاآپشن  منتخب کرتے ہیں اور درخواست کا عمل شروع کرتے ہیں۔ اس دوران انہیں زیورات کی قسم، تعداد، وزن، بتائی گئی خالصیت اور منتخب کردہ جانچ و ہال مارکنگ مرکز (اے ایچ سی) جیسی تفصیلات درج کرکے درخواست جمع کرانی ہوتی ہے۔

متبادل طور پر، اگر کوئی صراف پورٹل استعمال کیے بغیر اپنے زیورات مرکز میں جمع کراتا ہے تو متعلقہ مرکز کا عملہ بھی اس کی جانب سے درخواست شروع کر سکتا ہے۔ اس ڈیجیٹل طریقۂ کار کے تحت زیورات کی ہر کھیپ کا باقاعدہ ریکارڈ تیار ہوتا ہے، جس سے ہال مارکنگ کے پورے عمل کے دوران ان کی شناخت اور نقل و حرکت کا سراغ رکھنا ممکن ہوتا ہے۔

3۔ جانچ اور ایچ یو آئی ڈی  کوڈ  جاری کرنے کا عمل

زیورات جانچ و ہال مارکنگ مرکز (اے ایچ سی) پہنچنے کے بعد مقررہ آلات اور طریقۂ کار کے مطابق ان کے وزن اور خالصیت کی جانچ کی جاتی ہے۔

ہال مارکنگ کے عمل میں استعمال ہونے والی مشینوں اور آلات، جن میں وزن کرنے والے ترازو، ایکس رے فلوریسنس (ایکس آر ایف) مشینیں اور لیزر مارکنگ مشینیں شامل ہیں، کے لیے ضروری ہے کہ وہ مرکزی سافٹ ویئر کو براہِ راست ڈیٹا منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس انتظام کے ذریعے جانچ کے دوران حاصل ہونے والی متعلقہ معلومات الیکٹرانک طور پر ریکارڈ ہو جاتی ہیں اور اعداد و شمار کو دستی طور پر درج کرنے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

دستی طور پر ڈیٹا درج کرنے کے امکان کو ختم کرنے کے لیے یکم ستمبر 2024 سے ایکس آر ایف مشینوں کو اے پی آئی کے ذریعے مرکزی نظام سے منسلک کرنے کا انتظام نافذ کیا گیا۔ اس کے ساتھ وزن کرنے کے مربوط نظام بھی متعارف کرائے گئے، جن کے ذریعے ترازو پر ظاہر ہونے والی وزن کی ریڈنگ براہِ راست ریکارڈ ہو جاتی ہے۔

جانچ مکمل ہونے کے بعد بی آئی ایس کا سرور ہر زیور کے لیے چھ ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد حروف و اعداد کا شناختی کوڈ (ایچ یو آئی ڈی ) جاری کرتا ہے۔ اس کے بعد زیور پر ایچ یو آئی ڈی  کوڈ کے ساتھ بی آئی ایس کا معیاری نشان اور متعلقہ خالصیت کا نشان بھی ثبت کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، جانچ و ہال مارکنگ مراکز کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر زیور اور اس پر ثبت ہال مارک سمیت ایچ یو آئی ڈی  کوڈ، کی تصاویر بھی محفوظ کریں۔ 8 جون 2026 سے نافذ کیے گئے انتظامات کے تحت یہ تصاویر اور زیورات کے وزن کی تفصیلات براہِ راست مانک آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

4۔ ڈیجیٹل نگرانی اور سراغ رسانی کا نظام

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے اپنے پورٹل پر ایسی سہولت فراہم کی ہے جس کے ذریعے جانچ و ہال مارکنگ مراکز (اے ایچ سی) میں انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں کی تاریخ اور وقت ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ ان تفصیلات کی مدد سے مراکز کے کام کاج کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکتی ہے اور یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ہال مارک شدہ زیورات کی وصولی سے لے کر ان کی روانگی تک کتنا وقت صرف ہوا۔ اس کے علاوہ، ان ریکارڈز سے یہ جانچنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ آیا زیورات پر لیزر کے ذریعے نشان ثبت کرنے سے پہلے ان کی خالصیت کی جانچ کی گئی تھی یا نہیں۔

مزید برآں، وزن خودکار طور پر درج کرنے اور ایچ یو آئی ڈی  کی منتقلی جیسی ڈیجیٹل سہولتیں ہال مارکنگ کی پوری سپلائی چین میں زیورات کی نقل و حرکت اور شناخت کا سراغ رکھنے کے نظام کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ٹرانسفر ایچ یو آئی ڈی  کی سہولت کے تحت جب سونے کے زیورات ایک صراف سے دوسرے صراف یا ایک دکان سے دوسری دکان منتقل ہوتے ہیں تو صراف بی آئی ایس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے متعلقہ منفرد ایچ یو آئی ڈی  کوڈ بھی منتقل کر سکتے ہیں۔اس سہولت کا پہلا مرحلہ یکم جون 2026 کو نافذ کیا گیا۔ اس کے تحت ایک کارپوریٹ صراف سے دوسرے کارپوریٹ صراف کو سونا منتقل کرنے یا کسی بھی صراف سے کسی کارپوریٹ ادارے کو سونا منتقل کرنے کی صورت میں ایچ یو آئی ڈی  کی منتقلی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ہال مارکنگ میں ایک ہی زیور کے لیے دوہری یا جعلی نشان دہی کے امکانات کو روکنا ہے۔

5۔ ضابطہ جاتی نگرانی: فروخت کے بعد بھی جانچ پڑتال

ڈیجیٹل نگرانی کے ساتھ ساتھ بی آئی ایس زمینی سطح پر بھی نگرانی اور ضابطہ جاتی جانچ کا عمل جاری رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بی آئی ایس وقتاً فوقتاً زیورات فروخت کرنے والی دکانوں کا دورہ کرتا ہے اور وہاں سے ہال مارک شدہ زیورات کے نمونے اچانک منتخب کرکے متعلقہ بھارتی معیارات کے مطابق ان کی جانچ کراتا ہے۔

اس کے علاوہ، جانچ و ہال مارکنگ مراکز (اے ایچ سی) کے باقاعدہ نگرانی آڈٹ بھی کیے جاتے ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا یہ مراکز اب بھی مقررہ شرائط اور معیارات پر پورا اتر رہے ہیں یا نہیں۔

ہال مارک کے غلط استعمال سے متعلق موصول ہونے والی شکایات یا اطلاعات کی بنیاد پر بی آئی ایس مختلف نفاذ کی کارروائیاں بھی کرتا ہے، جن میں چھاپے مارنا بھی شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو دھوکا دہی سے محفوظ رکھنا اور ہال مارکنگ کے نظام پر عوام کا اعتماد مضبوط بنانا ہے۔مالی سال 2025-26 کے دوران ایسی خلاف ورزیوں کے مرتکب صرافوں کے خلاف 30 سے زائد نفاذکی کارروائیاں کی گئیں۔

6۔ خریداری سے پہلے تصدیق کریں: بی آئی ایس کیئر ایپ

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261105140309_fb02b2.jpg

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) صارفین کو بی آئی ایس کیئر ایپ کے ذریعے ہال مارک شدہ سونے اور چاندی کے زیورات کی ڈیجیٹل ذرائع سے خود تصدیق کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ صارفین زیور پر درج منفرد ہال مارک شناختی نمبر (ایچ یو آئی ڈی ) داخل کرکے اس کی اصلیت اور متعلقہ تفصیلات کی جانچ کر سکتے ہیں۔

اس ایپ کے ذریعے زیور کی خالصیت، اس کی قسم، متعلقہ صراف اور جانچ و ہال مارکنگ مرکز (اے ایچ سی ) کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، 8 جون 2026 کو نافذ کی گئی ڈیجیٹل سہولتوں کے تحت اب اس ایپ پر زیور کی تصویر، اس پر ثبت ہال مارک اور خودکار طور پر ریکارڈ کیا گیا وزن بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے خریدار خریداری مکمل کرنے سے پہلے سامنے موجود زیور کا سرکاری ریکارڈ میں درج تفصیلات سے موازنہ کر سکتے ہیں۔بی آئی ایس کیئر ایپ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں پلیٹ فارمز پر بلا معاوضہ دستیاب ہے اور 12 زبانوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل ذرائع سے سراغ رسانی، جانچ کے آلات کو مرکزی نظام سے مربوط کرنے اور زمینی سطح پر نگرانی کے یہ تمام اقدامات مل کر ہال مارکنگ کے پورے نظام میں جواب دہی اور شفافیت کو مضبوط بناتے ہیں۔

 

ہال مارکنگ ایک نظر میں: بڑھتا ہوا دائرۂ کار اور عوامی بیداری

 

بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے رجسٹرڈ صرافوں اور جانچ و ہال مارکنگ مراکز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ صارفین میں بیداری پیدا کرنے کی مختلف مہمات کے ذریعے ہال مارکنگ کے دائرۂ کار کو وسعت دی ہے۔

سال 2021 میں سونے کے زیورات کے لیے لازمی ہال مارکنگ کے نفاذ کے بعد، 15 اکتوبر 2026 تک 65 کروڑ سے زائد سونے کے زیورات پر ایچ یو آئی ڈی  کے ساتھ ہال مارکنگ کی جا چکی ہے۔ اس عرصے کے دوران بی آئی ایس میں رجسٹرڈ فعال صرافوں کی تعداد 43,153 سے بڑھ کر 2,36,624 ہو گئی، جبکہ منظور شدہ جانچ و ہال مارکنگ مراکز (اے ایچ سی s) کی تعداد بھی 948 سے بڑھ کر 1,565 تک پہنچ گئی۔

چاندی کے زیورات کے معاملے میں رضاکارانہ ہال مارکنگ اسکیم کے تحت یکم ستمبر 2025 سے ایچ یو آئی ڈی  پر مبنی شناختی نشان درج کرنا متعارف کرایا گیا، جس کے نتیجے میں اب تک 90 لاکھ سے زائد چاندی کی اشیا پر ایچ یو آئی ڈی  کے ساتھ ہال مارکنگ کی جا چکی ہے۔

صارفین میں بیداری پیدا کرنا بھی اس پوری کوشش کا ایک اہم حصہ ہے۔ یکم اپریل سے 31 اکتوبر 2026 کے دوران بی آئی ایس کے علاقائی اور شاخی دفاتر نے ملک بھر میں صارفین کی آگاہی کے 1,582 پروگرام منعقد کیے۔ان پروگراموں میں لازمی سرٹیفکیشن کے تحت معیارات سے متعلق آگاہی، ہال مارکنگ اور گرام پنچایتوں کی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے پروگرام سمیت مختلف سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان کا مقصد عوام کو معیار، خالصیت اور صارفین کے حقوق کے بارے میں زیادہ سے زیادہ باخبر بنانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image005_20261105140404_2b69f5.jpg

اعتماد اور شفافیت کے فروغ کی جانب پہل

 

ہال مارکنگ قیمتی دھاتوں کی خالصیت کو اس اعتماد سے جوڑتی ہے جو صارفین کو زیورات کی خریداری کے وقت درکار ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس نظام کا دائرۂ کار وسیع ہوا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سراغ رسانی کے مؤثر انتظامات نے اسے مزید مضبوط بنایا ہے۔منفرد شناختی کوڈز کی مدد سے زیورات کی تفصیلات کی تصدیق ممکن ہوئی ہے، جبکہ زمینی سطح پر نگرانی اور ضابطہ جاتی جانچ کے اقدامات اس نظام میں جواب دہی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ صارفین میں بیداری پیدا کرنے کی مہمات بھی انہیں ہال مارک شدہ زیورات کی شناخت کرنے اور خریداری کے وقت باخبر فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ٹیکنالوجی، شفافیت اور جواب دہی کو یکجا کرتے ہوئے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) مسلسل اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہال مارکنگ کے ہر نشان کے ساتھ خالصیت کی ضمانت اور صارفین کا اعتماد وابستہ ہو۔

حوالہ:

امورصارفین، خوراک اور سرکاری عوامی نظام تقسیم کی وزارت

https://www.bis.gov.in/wp-content/uploads/2020/12/brief-on-Hallmarking.pdf

https://www.bis.gov.in/hallmarking-overview/?lang=en

https://www.bis.gov.in/case-studies/bis-hallmark-green-tests-for-yellow-metal/?utm_

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2239540&reg=48&lang=2

https://www.bis.gov.in/hallmarking-overview/hallmarking-faqs/hallmarking-faq/?lang=en

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1904262&reg=48&lang=2

https://www.bis.gov.in/wp-content/uploads/2026/07/GuidelinesFor AHC s.pdf

https://www.bis.gov.in/wp-content/uploads/2026/06/Guidelines-for-recognition-operation-of- AHC s.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2088051&lang=2&reg=48

https://sansad.in/getFile/annex/271/AU2602_qHfqdj.pdf?source=pqars

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2211859&reg=48&lang=2

پی آئی بی ریلیز/بیک گراؤنڈرس

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1912343&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284432&lang=2&reg=48

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2207673&reg=3&lang=1

  پی ڈی ایف دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں

******

ش ح ۔ع ح۔ن ع

U. No.7264

 

(Explainer ID: 160716) आगंतुक पटल : 14
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English