Technology

پمپڈ اسٹوریج پن بجلی

ہندوستان کی ماحولیات کے لئے سازگار توانائی کی منتقلی کو توانائی فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ

Posted On: 02 NOV 2026 4:31PM

ماحولیات کے لئے سازگار توانائی ہندوستان کے توانائی کے منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے اور ایسے میں ایک قدیم اور آزمودہ ٹیکنالوجی توانائی کے ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ پانی کی بیٹری کے نام سے معروف پمپڈ اسٹوریج نظام میں پانی اور کششِ ثقل کے ذریعے بجلی ذخیرہ کی جاتی ہے، جس سے بجلی کی پیداوار اور اس کی ضرورت کے وقت کے درمیان فرق کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ آبی ذخائر سے لے کر جدید بجلی کے نظام تک، یہ ٹیکنالوجی ایک ماحولیات کے لئے سازگار، زیادہ قابلِ اعتماد اور مستحکم توانائی کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

 

اسٹوریج کے ذریعے ہندوستان کے توانائی کے مستقبل کی تشکیل

ہندوستان میں توانائی کی منتقلی کا عمل توانائی کی یقینی فراہمی اور پائیداری کو مستحکم بنانے کے لیے تیزی سے قابلِ تجدید توانائی پر انحصار کر رہا ہے۔ ملک بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو ماحولیات کے لئے سازگارذرائع سے پورا کرنے کے لیے شمسی اور پون چکی سے پیدا ہونے والی توانائی کی پیداواری صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ ستمبر 2026 تک ہندوستان میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 308.027 گیگاواٹ ہو چکی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ہندوستان نے غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 55.29 گیگاواٹ کا اضافہ کیا۔ ہندوستان نے 2030 تک غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو 500 گیگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول میں شمسی اور پون چکی سے پیدا ہونے والی توانائی اہم کردار ادا کریں گی۔

تاہم، قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار دھوپ، موسم اور روزانہ مانگ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق کم و بیش ہوتی رہتی ہے۔ اس تغیر کے باعث ایسے وقت میں بجلی ذخیرہ کرنے کی ضرورت بڑھ رہی ہے جب قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوارمانگ سے زیادہ ہو۔ اس کے بعد ذخیرہ شدہ بجلی اس وقت فراہم کی جا سکتی ہے جب قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار کم ہو یا بجلی کی مانگ عروج پر ہو۔

قابلِ تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ بجلی ذخیرہ کرنے کی ضرورت بھی تیزی سے بڑھنے کا امکان ہے۔ مرکزی ادارہ برائے بجلی (سی ای اے) نے 2031-32 تک بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 73.93 گیگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اس میں 26.69 گیگاواٹ صلاحیت پمپڈ اسٹوریج منصوبوں (پی ایس پیز) سے اور 47.24 گیگاواٹ صلاحیت بیٹری پر مبنی توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔

پمپڈ اسٹوریج منصوبے طویل مدت تک بجلی ذخیرہ کرنے کی اس ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان منصوبوں میں بجلی کی اضافی پیداوار کے اوقات میں پانی کو پمپ کے ذریعے اوپری آبی ذخیرے میں پہنچا کر بجلی ذخیرہ کی جاتی ہے۔ جب بجلی کی مانگ بڑھتی ہے تو ذخیرہ شدہ پانی کو ٹربائنوں کے ذریعے چھوڑا جاتا ہے۔ اس طرح یہ منصوبے قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو ایک وقت سے دوسرے وقت کے لیے محفوظ رکھنے اور بجلی کے ترسیلی نظام کو مستحکم بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ طویل مدت تک بجلی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ مانگ کے عروج کے اوقات میں بجلی کی فراہمی بھی یقینی بناتے ہیں، جس سے قابلِ تجدید توانائی کی بڑی مقدار کو بجلی کے نظام میں شامل کرنا ممکن ہوتا ہے۔

 

توانائی ذخیرہ کرنے کے طریقے

بیٹری پر مبنی توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس) اور پمپڈ اسٹوریج منصوبے (پی ایس پیز) قابلِ تجدید توانائی کو بجلی کے ترسیلی نظام میں شامل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے معاون حل فراہم کرتے ہیں۔ بی ای ایس ایس کم دورانیے کی ضروریات پر تیزی سے ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں، جس سے بجلی کی فریکوئنسی کو منضبط رکھنے، مانگ کے عروج کو سنبھالنے اور ترسیلی نظام میں توازن برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ پمپڈ اسٹوریج منصوبے طویل دورانیے تک بجلی ذخیرہ کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں اور بجلی کی اضافی پیداوار اور مانگ کے مختلف اوقات کے درمیان بڑی مقدار میں بجلی کی منتقلی ممکن بناتے ہیں۔ بی ای ایس ایس نسبتاً کم وقت میں نصب کیے جا سکتے ہیں اور انہیں قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار یا بجلی کے استعمال کے مراکز کے قریب قائم کیا جا سکتا ہے۔ پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے موزوں جغرافیائی حالات درکار ہوتے ہیں، تاہم یہ طویل عرصے تک بڑے پیمانے پر بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی طویل عملی عمر بھی بجلی کے ترسیلی نظام کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

 

.

بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ کانفرنس اور نمائش (بھارت آر ای) 2026 کا انعقاد 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دلی کے بھارت منڈپم میں ’’سرمایہ کاری کریں، اختراع کریں، ترغیب دیں‘‘ کے موضوع کے تحت کیا جا رہا ہے۔ چار روزہ اس سربراہ کانفرنس میں 130 سے زائد ممالک کے شرکاء شرکت کر رہے ہیں، جن میں 40 سے زیادہ وزراء، پالیسی ساز، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے اور صنعت کے سرکردہ رہنما شامل ہیں۔ نو ممالک، یعنی آسٹریلیا، ڈنمارک، یوروپی یونین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ، شراکت دار ممالک کی حیثیت سے اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی 13 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں، جہاں قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت، سرمایہ کاری کے مواقع اور ماحولیات کے لئے سازگارمصنوعات کی تیاری کے امکانات کو پیش کیا جا رہا ہے۔ سربراہ کانفرنس کے اہم موضوعات میں شمسی اور پون چکی سے پیدا ہونے والی توانائی،گرین ہائیڈروجن، توانائی کا ذخیرہ، بجلی کے ترسیلی نظام میں انضمام، ملک میں تیاری، ڈیجیٹلائزیشن اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمالات شامل ہیں۔ یہ کانفرنس ماحولیات کے لئے سازگار توانائی میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری اور صنعتی تعاون کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس میں وزارتی سطح کے مباحثے، چیف ایگزیکٹو افسران کی گول میز کانفرنسیں، سرمایہ کاروں کے ساتھ تبادلۂ خیال اور 400 سے زائد نمائش کنندگان پر مشتمل نمائش شامل ہے۔ اس تقریب کا انعقاد بین الاقوامی شمسی اتحاد کی نویں اسمبلی اور گرین ہائیڈروجن سے متعلق چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جس سے ماحولیات کے لئے سازگار توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔مزید پڑھنے کے لیے: بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ کانفرنس اور نمائش 2026

 

پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کو سمجھنا: توانائی کے ذخیرے اور فراہمی کا طریقہ کار

پمپڈ اسٹوریج منصوبہ عموماً دو آبی ذخائر پر مشتمل ہوتا ہے، جو مختلف بلندیوں پر واقع ہوتے ہیں۔ جب بجلی کی پیداوار مانگ سے زیادہ ہوتی ہے تو پانی کو نچلے آبی ذخیرے سے پمپ کے ذریعے اوپری آبی ذخیرے میں پہنچایا جاتا ہے، جہاں اسے وضعی توانائی کی صورت میں ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ جب بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو اوپری آبی ذخیرے سے پانی ٹربائنوں کے ذریعے چھوڑا جاتا ہے، جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ بجلی کی مانگ کم ہونے کے بعد، اضافی بجلی کی دستیابی کے اوقات میں پانی کو دوبارہ پمپ کے ذریعے اوپری آبی ذخیرے میں پہنچا دیا جاتا ہے، اور اس طرح ذخیرہ کرنے کا یہ چکر مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، پمپڈ اسٹوریج منصوبے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے طور پر کام کرتے ہیں اور بجلی کے ترسیلی نظام میں استحکام برقرار رکھنے اور قابلِ تجدید توانائی کو اس نظام میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

.

پمپڈ اسٹوریج بجلی گھروں کی درجہ بندی

پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی درجہ بندی اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ ان کے آبی ذخائر قدرتی آبی گزرگاہوں سے کس طرح منسلک ہیں یا ان کے مقابلے میں کہاں واقع ہیں۔ انہیں تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: قدرتی آبی گزرگاہ پر قائم منصوبے، قدرتی آبی گزرگاہ سے الگ کھلے چکر والے منصوبے اور قدرتی آبی گزرگاہ سے الگ بند چکر والے منصوبے۔ ان مختلف اقسام سے منصوبے کے آبی ذخائر اور قدرتی آبی گزرگاہوں کے درمیان تعلق کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔

.

قدرتی آبی گزرگاہ پر قائم پمپڈ اسٹوریج منصوبے

قدرتی آبی گزرگاہ پر قائم پمپڈ اسٹوریج منصوبوں میں دونوں آبی ذخائر کسی دریا، ندی یا نالے پر واقع ہوتے ہیں۔ بجلی کی مانگ پوری کرنے کے لیے بالائی آبی ذخیرے میں جمع پانی ٹربائنوں سے گزرتا ہے، جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ بجلی کی مانگ کم ہونے یا اضافی بجلی دستیاب ہونے کے اوقات میں پانی کو دوبارہ استعمال کے لیے پمپ کے ذریعے بالائی آبی ذخیرے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

قدرتی آبی گزرگاہ سے الگ کھلے چکر والے پمپڈ اسٹوریج منصوبے

قدرتی آبی گزرگاہ سے الگ کھلے چکر والے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں میں ایک آبی ذخیرہ کسی دریا، ندی یا نالے پر واقع ہوتا ہے، جبکہ دوسرا آبی ذخیرہ کسی دریا، سال بھر بہنے والی ندی یا نالے پر واقع نہیں ہوتا۔ جب بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو بالائی آبی ذخیرے سے پانی ٹربائنوں کے ذریعے گزرتا ہے، جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد اضافی بجلی استعمال کرکے پانی کو دوبارہ پمپ کیا جاتا ہے، تاکہ نظام کو اگلے دور کے لیے بحال کیا جا سکے۔

قدرتی آبی گزرگاہ سے الگ بند چکر والے پمپڈ اسٹوریج منصوبے

قدرتی آبی گزرگاہ سے الگ بند چکر والے پمپڈ اسٹوریج منصوبے میں کوئی بھی آبی ذخیرہ کسی دریا، سال بھر بہنے والی ندی یا نالے پر واقع نہیں ہوتا۔ دونوں آبی ذخائر سال بھر بہنے والی قدرتی آبی گزرگاہوں سے دور قائم کیے جاتے ہیں۔ جب بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو بالائی آبی ذخیرے سے پانی ٹربائنوں کے ذریعے گزرتا ہے، جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد بجلی کی مانگ کم ہونے یا اضافی بجلی دستیاب ہونے کے اوقات میں پانی کو دوبارہ پمپ کے ذریعے بالائی آبی ذخیرے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔

پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی ان تینوں اقسام کی افادیت کا انحصار مقام کے مخصوص جغرافیائی اور تکنیکی حالات پر ہوتا ہے۔ تاہم، دریاؤں سے دور واقع مزید ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو قدرتی آبی گزرگاہوں سے الگ ہوں، تاکہ منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے اور آبی حیات کے نظام اور اردگرد کے ماحول پر ان کے اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں توسیع: ہندوستان میں پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کو فروغ

ہندوستان قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کو سہارا دینے کے لیے پمپڈ اسٹوریج کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں منصوبوں پر عمل درآمد، زیرِ تعمیر اور تعمیر سے قبل کے مختلف مراحل میں پیش رفت جاری ہے۔ ان منصوبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہندوستان میں طویل دورانیے تک توانائی ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنا رہی ہے۔

  • فعال صلاحیت: اگست 2026 تک ہندوستان میں 10 منصوبوں کے تحت پمپڈ اسٹوریج کی 7.43 گیگاواٹ صلاحیت فعال ہے۔ ان منصوبوں میں ہر ایک کی نصب شدہ صلاحیت 25 میگاواٹ سے زیادہ ہے۔

  • زیرِ تعمیر اور عمل درآمد کے مرحلے میں: ملک بھر میں مزید 11 پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے تحت 15.87 گیگاواٹ صلاحیت کے منصوبے زیرِ تعمیر ہیں یا ان پر عمل درآمد جاری ہے۔

  • منصوبوں کی آئندہ مرحلے کی پیش رفت: 8 منصوبوں کے تحت 10.40 گیگاواٹ صلاحیت کے منصوبوں کو مرکزی ادارہ برائے بجلی (سی ای اے) کی منظوری یا جانچ کے بعد توثیق حاصل ہو چکی ہے۔

ہندوستان میں پمپڈ اسٹوریج کی علاقائی سطح پر متنوع صلاحیت

.

ہندوستان میں مجموعی طور پر 345.38 گیگاواٹ کی صلاحیت کے حامل 320 پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں 56.67 گیگاواٹ صلاحیت کے 62 قدرتی آبی گزرگاہ پر قائم منصوبے اور 288.71 گیگاواٹ صلاحیت کے 258 قدرتی آبی گزرگاہوں سے الگ منصوبے شامل ہیں۔ یہ منصوبے ملک کے پانچوں خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں ترقی کے مختلف مراحل کے منصوبے شامل ہیں، جن میں پہلے ہی کام کر رہے منصوبے بھی شامل ہیں۔

پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی ترقی اور ان کے لیے موزوں مقامات کے تعین کے لیے متعدد تکنیکی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ ان میں جغرافیائی ساخت، ارضیات، آبیات، آبی ذخائر کی خصوصیات، بنیادوں کی حالت، زلزلے کے امکانات اور ماحولیاتی امور شامل ہیں۔ منصوبوں کی جانچ کے دوران تعمیراتی مواد، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور بجلی کی ترسیل کے نظام سے رابطے کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ مغربی خطے میں 129.72 گیگاواٹ کی سب سے زیادہ شناخت شدہ صلاحیت موجود ہے۔ مرکزی ادارہ برائے بجلی (سی ای اے) کے مطابق اس کی بنیادی وجہ جغرافیائی ساخت اور مغربی گھاٹ سے نکلنے والے دریاؤں کے تیز ڈھلوان والے راستے ہیں۔ مہاراشٹر میں 67.36 گیگاواٹ، جبکہ گجرات میں 33.36 گیگاواٹ صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

جنوبی خطے میں 97.76 گیگاواٹ صلاحیت موجود ہے، جس میں آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سرِفہرست ہیں۔ مشرقی خطے میں 53.41 گیگاواٹ صلاحیت ہے، جس میں اڈیشہ کا حصہ 41.53 گیگاواٹ ہے۔ شمالی خطے میں 50.32 گیگاواٹ صلاحیت ہے، جس میں اتر پردیش اور ہماچل پردیش نمایاں ہیں۔ شمال مشرقی خطہ ملک کی شناخت شدہ مجموعی صلاحیت میں 14.18 گیگاواٹ کا حصہ ہے۔ مجموعی طور پر، ان خطوں میں موجود وسائل پمپڈ اسٹوریج کے وسیع امکانات اور ملک بھر میں ان کی دستیابی کو اجاگر کرتے ہیں۔

پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے ذریعے متوقع صلاحیت میں اضافہ

وسائل کی یہ وسیع بنیاد طویل دورانیے تک توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے مرکزی ادارہ برائے بجلی نے 2035-36 تک صلاحیت میں خاطر خواہ اضافے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ 2035-36 تک مجموعی طور پر 100.81 گیگاواٹ صلاحیت کے منصوبوں کو شروع کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پہلے سے زیرِ تعمیر منصوبے بھی شامل ہیں، جن کے مکمل ہونے سے پمپڈ اسٹوریج کی مجموعی صلاحیت بڑھ کر 105.56 گیگاواٹ ہو جائے گی۔ اس توسیعی منصوبے سے بجلی کے ترسیلی نظام میں لچک کو نمایاں طور پر تقویت مل سکتی ہے اور قابلِ تجدید توانائی کو اس نظام میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح پمپڈ اسٹوریج ہندوستان کے مستقبل کے بجلی نظام کے ایک اہم ستون کے طور پر بھی ابھرے گا۔

سال

اضافہ (گیگاواٹ)

مجموعی صلاحیت (گیگاواٹ)

2024-25 تک

–

4.745

2025-26

2.68

7.425

2026-27

2.92

10.345

2027-28

1.6

11.945

2028-29

6.35

18.295

2029-30

13.5

31.795

2030-31

21.19

52.985

2031-32

8.8

61.785

2032-33

14.59

76.375

2033-34

11.88

88.255

2034-35

5.7

93.955

2035-36

11.6

105.555

کل

100.81

 

 

 

 

.

 

پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی عالمی نصب شدہ صلاحیت

پمپڈ اسٹوریج پن بجلی بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کی دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے، جو توانائی ذخیرہ کرنے کی دیگر ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں اپنے وسیع پیمانے اور پختگی کی عکاسی کرتی ہے۔ بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آئرینا) کے مطابق، 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں پمپڈ اسٹوریج پن بجلی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 159.8 گیگاواٹ تھی۔ اس صلاحیت میں چین کا حصہ تقریباً 66 گیگاواٹ تھا، جبکہ جاپان اور امریکہ بالترتیب تقریباً 22 گیگاواٹ اور 19 گیگاواٹ کے ساتھ اس کے بعد تھے۔ نصب شدہ پمپڈ اسٹوریج صلاحیت کے لحاظ سے ہندوستان دنیا میں چوتھے مقام پر ہے اور 2025 کے اختتام تک اس کی صلاحیت 7.18 گیگاواٹ تھی۔ اس کے بعد جولائی 2026 تک ملک کی یہ صلاحیت بڑھ کر 7.43 گیگاواٹ ہو گئی ہے، جو عالمی سطح پر پمپڈ اسٹوریج کے شعبے میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

 

حکومتی اقدامات اور انتظامات

حکومت ہند نے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں (پی ایس پیز) کی ترقی اور ان کے نفاذ کو فروغ دینے کے لیے پالیسی، ضابطہ جاتی، مانگ اور رسد سے متعلق متعدد مربوط اقدامات کیے ہیں۔

  • پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی ترقی کے لیے مخصوص رہنما اصول: وزارتِ بجلی نے اپریل 2023 میں ہندوستان میں پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی ترقی کو فروغ دینے سے متعلق رہنما اصول جاری کیے۔ ان رہنما اصولوں میں پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی تیز رفتار ترقی کو آسان بنانے کے لیے پالیسی کا ایک خاکہ فراہم کیا گیا ہے۔ رہنما اصول دیکھنے کے لیے لنک کلک کریں

  • ضروری بنیادی ڈھانچے کے لیے معاونت: بجٹ کے ذریعے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی ترقی کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی فراہمی میں مدد دی جاتی ہے۔ اس میں سڑکیں، پل، ریلوے کی پٹریاں، رسّی کے راستے، مواصلاتی سہولتیں اور بجلی کی ترسیلی لائنیں شامل ہیں۔ ان اقدامات سے منصوبوں تک رسائی بہتر ہوتی ہے اور ان کی مالی و عملی افادیت مستحکم ہوتی ہے۔

  • مسابقتی طریقے سے خریداری کا نظام: محصولات پر مبنی مسابقتی بولی (ٹی بی سی بی) سے متعلق رہنما اصول فروری 2025 میں جاری کیے گئے۔ ان کے ذریعے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں سے توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ذخیرہ شدہ بجلی کی خریداری کے لیے شفاف اور معیاری طریقۂ کار فراہم کیا گیا ہے۔

  • بین ریاستی ترسیلی نظام کے محصولات سے چھوٹ: 30 جون 2028 تک تعمیر کے لیے منظور کیے گئے پمپڈ اسٹوریج منصوبے بین ریاستی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی ایس) کے محصولات میں 100 فیصد چھوٹ کے اہل ہوں گے۔ یہ چھوٹ تجارتی طور پر کام شروع ہونے کی تاریخ سے 25 سال تک نافذ رہے گی۔ اس اقدام سے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی مالی افادیت میں اضافہ ہوگا۔

  • منصوبوں کی منظوری کے عمل میں تیزی: مرکزی ادارہ برائے بجلی (سی ای اے) کے نظرثانی شدہ رہنما اصولوں کے تحت تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) کی منظوری کے لیے درکار مدت کم کر دی گئی ہے۔ تمام پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے یہ مدت 90 دن سے گھٹا کر 50 دن کر دی گئی ہے۔ بین ریاستی امور سے متعلق منظوری کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ ان اقدامات سے منصوبوں کی ترقی کے عمل میں تیزی آئے گی۔

  • ماحولیاتی جانچ کے عمل کو آسان بنانا: وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے ماحولیاتی جانچ سے متعلق الگ الگ دفعات متعارف کرائی ہیں۔ متعلقہ دفعات کے تحت اہل منصوبوں کو بی 2 زمرے میں شامل کرنے کا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ قدرتی آبی گزرگاہوں سے الگ منصوبوں کے لیے ابتدائی ماحولیاتی اعداد و شمار سے متعلق تقاضے بھی کم کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے ضابطہ جاتی تحفظات برقرار رکھتے ہوئے ماحولیاتی جانچ کے عمل کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • سروے اور تحقیق میں سہولت: وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے جنگلاتی اراضی کے سروے سے متعلق دفعات میں توسیع کی ہے اور زمین کے اندر تحقیق کے لیے سوراخ کرنے کی حد میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے تکنیکی اعتبار سے مستحکم تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹیں بروقت تیار کرنے میں سہولت ملتی ہے۔

  • بجلی کے ترسیلی نظام اور ترسیل کی مربوط منصوبہ بندی: قومی سطح پر بجلی کی منصوبہ بندی میں توانائی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس طریقۂ کار سے قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے، ترسیلی نظام میں رکاوٹیں کم کرنے اور اس کے قابلِ اعتماد ہونے کو مستحکم بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک منصوبۂ عمل کے تحت 2025-26 سے 2035-36 کے درمیان 100 گیگاواٹ پمپڈ اسٹوریج صلاحیت کو بجلی کے نظام میں شامل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

  • منصوبوں کی ڈیجیٹل نگرانی: مرکزی ادارہ برائے بجلی کا جل ودیوت ڈی پی آر پورٹل سروے اور تحقیق کی سرگرمیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبوں کی تیاری کے دوران مختلف متعلقہ فریقوں کے درمیان تال میل کو بھی آسان بناتا ہے۔ اس ڈیجیٹل طریقۂ کار سے منظوریوں کے عمل کو آسان بنانے اور پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی ترقی میں تیزی لانے میں مدد ملتی ہے۔

  • مرکزی ادارہ برائے بجلی کی منظوری کے لیے درکار سرمایہ جاتی اخراجات کی حد پر نظرثانی: حکومتِ ہند نے یکم اگست 2025 کو جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے پن بجلی پیدا کرنے والے بجلی گھروں کے قیام سے متعلق منصوبوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کی حد بڑھا کر 3,000 کروڑ روپے کر دی ہے، جس کے لیے مرکزی ادارہ برائے بجلی کی منظوری درکار ہوگی۔ مزید برآں، قدرتی آبی گزرگاہوں سے الگ بند چکر والے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کو سرمایہ جاتی اخراجات کی مقدار سے قطع نظر مرکزی ادارہ برائے بجلی کی منظوری کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

پالیسی سے متعلق وضاحت، مالی معاونت، منظوریوں کے آسان طریقۂ کار، مسابقتی خریداری اور بجلی کے ترسیلی نظام کی مربوط منصوبہ بندی پر مشتمل ان اقدامات نے پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کی تیز رفتار ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔

توانائی کی منتقلی کا اگلا اہم تقاضا

2030 تک 500 گیگاواٹ غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہندوستان کا ہدف ملک کے بجلی کے منظرنامے میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کا کردار بڑھنے کے ساتھ ساتھ توانائی کو ذخیرہ کرنے اور مانگ کے مطابق اسے استعمال میں لانے کی صلاحیت ایک قابلِ اعتماد اور متوازن بجلی نظام برقرار رکھنے کے لیے مزید اہم ہو جائے گی۔ پمپڈ اسٹوریج پن بجلی بڑے پیمانے پر طویل دورانیے تک توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ بجلی کے نظام کی وسیع تر ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا کردار مانگ کے عروج کے اوقات کو سنبھالنے اور متغیر قابلِ تجدید توانائی کو بجلی کے نظام میں شامل کرنے سے لے کر اس نظام کی لچک اور مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مستحکم بنانے تک پھیلا ہوا ہے۔ ماحولیات کے لئے سازگار توانائی کا نظام مسلسل ترقی کر رہا ہے اور ایسے میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ایک ایسے بجلی نظام کی تشکیل کے لیے کلیدی اہمیت رکھے گا، جو زیادہ ماحولیات کے لئے سازگار، لچکدار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

حوالہ جات:

وزارتِ بجلی

وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی

مرکزی ادارہ برائے بجلی

نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن لمیٹڈ

  • https://ntpc.co.in/media/employee-blog/role-water-batteries-energy-transition-and-green-energy-integration-india?utm_source

بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی

Click to see pdf

******

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا )

UR.No-7151

(Explainer ID: 160695) आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी