Technology
جیوتھرمل توانائی
بھارت کے صاف ستھری توانائی کے سفر میں ایک نیا باب
Posted On:
02 NOV 2026 4:49PM
|
زمین کے اندرونی حصے میں موجود شدید حرارت صاف ستھری توانائی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے، جسے ارضیاتی حرارتی توانائی کہا جاتا ہے۔ بھارت میں ارضیاتی حرارتی توانائی کے وسیع قدرتی وسائل موجود ہیں، اس لیے توانائی کی یہ قسم چوبیس گھنٹے مسلسل بجلی فراہم کرنے کے ایک اہم اور امید افزا ذریعے کی حیثیت رکھتی ہے۔
|
پائیدار بھارت کے لیے ارضیاتی حرارتی توانائی سے استفادہ
زمین کی سطح کے نیچے، اس کے اندرونی حصے کی شدید حرارت سے پیدا ہونے والی توانائی کا ایک مسلسل اور کم کاربن اخراج والا ذریعہ موجود ہے، جسے ارضیاتی حرارتی توانائی کہا جاتا ہے۔ایسے مقامات جہاں زمین کی ارضیاتی ساخت اور ٹیکٹونک سرگرمیاں اس کے لیے موزوں ہوں، وہاں اس توانائی کو بروئے کار لا کر بجلی پیدا کی جا سکتی ہے یا اسے براہِ راست مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔شمسی اور ہوائی توانائی کے برعکس، ارضیاتی حرارتی توانائی قابلِ تجدید توانائی کا ایسا ذریعہ ہے جو چوبیس گھنٹے مسلسل دستیاب رہتا ہے۔اس توانائی کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومتِ ہند نے ستمبر 2025 میں قومی پالیسی برائے ارضیاتی حرارتی توانائی (این پی جی ای )کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔یہ پالیسی بھارت کے ارضیاتی حرارتی وسائل کی تلاش، دریافت اور ترقی کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے۔ نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت(ایم این آر ای) کو اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے مرکزی ذمہ دار وزارت (نوڈل وزارت) مقرر کیا گیا ہے۔

اس پالیسی کے تحت پیش رفت کرتے ہوئے بھارت نے جولائی 2026 میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے۔ او این جی سی انرجی سینٹر(او این جی سی ای سی) نے لداخ کی وادی پوگامیں ملک کے پہلے دو ارضیاتی حرارتی کنوؤں کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا۔سطحِ سمندر سے 14 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر واقع وادی پوگا بھارت کے سب سے زیادہ امید افزا ارضیاتی حرارتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ وادی اپنے گرم چشموں اور زیرِ زمین حرارتی ذخائر کے لیے مشہور ہے۔ایک ہزار میٹر گہرے یہ دونوں کنویں زیرِ زمین حرارتی ذخائر کی صلاحیت اور کیفیت کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھارت کے پہلے ایک میگاواٹ کے آزمائشی ارضیاتی حرارتی بجلی گھر کے منصوبے کی راہ بھی ہموار کریں گے۔ یہ پیش رفت بھارت میں ارضیاتی حرارتی توانائی سے بجلی کی پیداوار کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
بھارت جب صاف توانائی کی جانب اپنی منتقلی کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے، ایسے میں ارضیاتی حرارتی توانائی ملک کے قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کی قابلِ اعتماد اور مقامی سطح پر دستیاب فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

|
بھارت میں قابلِ تجدید توانائی کا عالمی سربراہ اجلاس اور نمائش 2026، 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس سال اجلاس کا مرکزی عنوان ‘‘سرمایہ کاری، جدت اور ترغیب’’ ہے۔یہ چار روزہ اجلاس 130 سے زائد ممالک کے نمائندوں کو ایک جگہ ایک پلیٹ فارم پرجمع کر رہا ہے، جن میں 40 سے زیادہ وزراء، پالیسی ساز، سرمایہ کار، مالیاتی اداروں کے نمائندگان اور صنعتی شعبے کی اہم شخصیات شامل ہیں۔آسٹریلیا، ڈنمارک، یورپی اتحاد، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ سمیت نو ممالک اس اجلاس میں شراکت دار ممالک کی حیثیت سے شرکت کر رہے ہیں۔بھارت کی 13 ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بھی اس اجلاس میں شریک ہیں، جہاں وہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور ماحول دوست صنعتی پیداوار کے امکانات کو پیش کر رہے ہیں۔اجلاس کے اہم موضوعات میں شمسی توانائی، ہوائی توانائی، ماحول دوست ہائیڈروجن، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام سے ہم آہنگی، ملکی سطح پر توانائی کے آلات کی تیاری، ڈیجٹلائز کرنے اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال شامل ہیں۔یہ اجلاس صاف ستھری اور ماحول دوست توانائی کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے اور صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔اجلاس کے دوران وزارتی سطح پر مذاکرات، اعلیٰ صنعتی سربراہان کی گول میز کانفرنسیں، سرمایہ کاروں سے میٹنگیں اور ایک بڑی نمائش منعقد کی جا رہی ہے، جس میں 400 سے زائد ادارے اپنی مصنوعات، خدمات اور جدید ٹیکنالوجی پیش کر رہے ہیں۔یہ اجلاس بین الاقوامی شمسی اتحاد کی نویں اسمبلی اور ماحول دوست ہائیڈروجن سے متعلق چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کے ساتھ بیک وقت منعقد ہو رہا ہے، جس سے صاف ستھری توانائی کے شعبے میں عالمی تعاون، باہمی اشتراک اور مشترکہ کوششوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔
|
ارضیاتی حرارتی توانائی: ایک تعارف
ارضیاتی حرارتی توانائی ایک مستقل، کم کاربن اخراج والی اور موسمی حالات سے بے نیاز توانائی کا ذریعہ ہے۔ اس میں قدرتی وسائل کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس سے ابھی بھرپور استفادہ نہیں کیا جا سکاہے۔ اس توانائی کے مؤثر استعمال سے بھارت کے صاف ستھری اور ماحول دوست توانائی کے مستقبل کو مضبوط بنانے اور معدنی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ارضیاتی حرارتی توانائی کی تشکیل
زمین کا اندرونی حصہ بنیادی طور پر چار تہوں پر مشتمل ہے۔ سب سے بیرونی تہہ ٹھوس چٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے نیچے درمیانی تہہ نیم ٹھوس مادّے پر مشتمل ہوتی ہے۔ زمین کا مرکزی حصہ دو حصوں میں تقسیم ہے: بیرونی مرکز جو کثیف مائع مادّے پر مشتمل ہے، اور اندرونی مرکز جو ٹھوس حالت میں ہے۔زمین کی گہرائی میں جانے کے ساتھ درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ غلافِ ارض کا درجۂ حرارت مرکز کے ساتھ اس کی سرحد پر تقریباً 3700 سیلسیس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ زمین کے مرکزی حصے کا درجۂ حرارت 5000 سے 6000 ڈگری سیلسیس تک ہوتا ہے۔زمین کے اندر یہ حرارت بنیادی طور پر یورینیم، تھوریم اور پوٹاشیم جیسے عناصر کے تابکار تحلیل ہونے کے عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی تشکیل کے ابتدائی دور کی باقی ماندہ حرارت بھی اس کا ایک اہم ذریعہ ہے۔یہ اندرونی حرارت غلافِ ارض میں بڑے پیمانے پر حرارتی گردش پیدا کرتی ہے۔ اس عمل کے دوران گرم مادّہ زمین کے مرکز کے قریب سے اوپر کی جانب حرکت کرتا ہے اور غلافِ ارض اور قشرِ ارض کے نسبتاً ٹھنڈے حصوں تک پہنچتا ہے۔ اس مادّے میں ہائیڈرو آکسائیڈز کی صورت میں موجود پانی بھی شامل ہوتا ہے۔غلافِ ارض میں پیدا ہونے والی یہ حرارتی گردش زمین کی پرتوں کی تمام بڑی ارضیاتیاتی سرگرمیوں کا سبب بنتی ہے، جن میں زلزلے، آتش فشاں پہاڑوں کا پھٹنا اور پہاڑوں کی تشکیل شامل ہیں۔ارضیاتیاتی طور پر سرگرم علاقوں میں زمین کی چٹانوں میں موجود دراڑیں اور شکستگیاں گرم مادّے کو سطحِ زمین کے قریب پہنچنے کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں چٹانوں کی مسام دار تہوں کے اندر گرم پانی اور بھاپ کے ذخائر وجود میں آتے ہیں۔زمین کے اندر موجود اس قدرتی حرارت کو حاصل کرکے توانائی کے طور پر استعمال کرنے کے عمل کو ارضیاتی حرارتی توانائی کہا جاتا ہے۔
ارضیاتی حرارتی توانائی سے بجلی کی پیداوار تک
ارضیاتی حرارتی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے زمین کے اندر قدرتی طور پر موجود حرارت کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے زمین کی سطح کے نیچے موجود گرم پانی اور بھاپ کے ذخائر سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ گہرے کنویں کھود کر اس گرم پانی اور بھاپ کو زمین کی سطح پر لایا جاتا ہے۔اس کے بعد بھاپ کے دباؤ سے ایک ٹربائن چلائی جاتی ہے، جو ایک برقی مولد سے منسلک ہوتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ طریقہ روایتی حرارتی بجلی گھروں میں بجلی پیدا کرنے کے عمل سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس میں ایندھن جلانے کے بجائے زمین کے اندر قدرتی طور پر موجود حرارت استعمال کی جاتی ہے۔بجلی پیدا کرنے کے بعد استعمال شدہ پانی کو ٹھنڈا کرکے دوبارہ زمین کے اندر موجود گرم پانی کے ذخیرے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے پانی کے ذخائر کی بحالی میں مدد ملتی ہے اور توانائی کی مسلسل پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ارضیاتی حرارتی توانائی صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں بلکہ اسے براہِ راست حرارت حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے اہم استعمال میں شہروں اور رہائشی علاقوں کو حرارت فراہم کرنا، زراعت، آبی زراعت، عمارتوں کو گرم رکھنا اور ٹھنڈا کرنا شامل ہیں۔اس طرح ارضیاتی حرارتی توانائی کا مؤثر استعمال توانائی کی بچت، قدرتی وسائل کے بہتر استعمال اور ماحول دوست توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
|
زمین کی اندرونی ساخت
زمین اپنے مرکز سے بیرونی سطح کی جانب چار مختلف تہوں پر مشتمل ہے۔سب سے اندرونی تہہ کو اندرونی مرکز کہا جاتا ہے۔ یہ لوہے اور نکل سے بنا ہوا ایک ٹھوس گول کرہ ہے، جس کا قطر تقریباً 2,400 کلومیٹر ہے۔اس کے گرد بیرونی مرکز واقع ہے، جو پگھلے ہوئے لوہے اور نکل پر مشتمل مائع تہہ ہے۔ اس کی موٹائی تقریباً 2,400 کلومیٹر ہے۔اس کے بعد غلافِ ارض کی تہہ آتی ہے، جو زیادہ تر گرم اور کثیف چٹانی مادّے پر مشتمل ہے۔ اس کی موٹائی تقریباً 2,900 کلومیٹر ہے اور یہ زمین کی سب سے بڑی تہہ ہے۔سب سے بیرونی تہہ کو قشرِ ارض کہا جاتا ہے۔ یہ ایک پتلی اور ٹھوس تہہ ہے۔ سمندروں کے نیچے اس کی موٹائی تقریباً 5 سے 8 کلومیٹر، جبکہ براعظموں کے نیچے تقریباً 24 سے 56 کلومیٹر تک ہوتی ہے۔
|
ہندوستان کا جیوتھرمل ریسورس بیس
ہندوستان کی متنوع ارضیاتیات جیوتھرمل ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد پیش کرتی ہے ۔ جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) نے ملک بھر میں 381 گرم چشموں کی نقشہ سازی کی ہے اور 10 جیوتھرمل صوبوں کی نشاندہی کی ہے ۔ ہندوستان کا نظریاتی جیوتھرمل امکان تقریبا 10.6 گیگاواٹ ہے ۔ ان میں سے 42 مقامات کو بجلی کی پیداوار اور براہ راست گرمی کے استعمال کے لیے امید افزا قرار دیا گیا ہے ۔
10 جیوتھرمل صوبوں میں ہمالیائی جیوتھرمل صوبہ ، ناگا-لوسائی ، انڈمان اور نکوبار جزائر ، سون نرمدا تاپی (سوناٹا) مغربی ساحل ، کیمبے گربین ، اراولی ، مہاندی ، گوداوری اور جنوبی ہندوستانی کریٹونک علاقے شامل ہیں ۔

سازگار ارضیات اور ٹیکٹونکس کی وجہ سے ہندوستان کے جیوتھرمل ریفٹ بیسن مضبوط گنجائش رکھتے ہیں ۔ لیکن موزوں منصوبے کہیں بھی جیوتھرمل وسائل موجود ہو سکتے ہیں ۔ بہتر جیوتھرمل سسٹم (ای جی ایس) اور ایڈوانسڈ جیوتھرمل سسٹم (اے جی ایس) جیسی جدید ٹیکنالوجیز تلاش کے مواقع کو مزید وسیع کریں گی ۔
|
ترک شدہ تیل اور قدرتی گیس کے کنوؤں کا دوبارہ استعمال
ارضیاتی حرارتی توانائی ترک شدہ تیل اور قدرتی گیس کے کنوؤں سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسے کنویں جو غیر فعال ہو چکے ہوں یا جن سے مزید تیل اور گیس حاصل نہ ہو رہی ہو، انہیں تکنیکی اور عملی امکانات کا جائزہ لینے کے بعد ارضیاتی حرارتی توانائی کے منصوبوں کے لیے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس طریقۂ کار سے تیل اور قدرتی گیس کے شعبے میں پہلے سے موجود کھدائی کے تجربے، کنوؤں سے متعلق معلومات اور بنیادی ڈھانچے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس طرح نئے منصوبوں پر آنے والی لاگت اور وسائل کی ضرورت کو کم کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
|
ہندوستان کی جیوتھرمل توسیع
ہندوستان قابل ذکر رفتار کے ساتھ وسائل کی تشخیص سے میدان میں مظاہرے کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ یہ رفتار نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کی جانب سے جولائی اور اگست 2025 کے درمیان پانچ تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں جھلکتی ہے ، جس میں وسائل کی تشخیص ، مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی اور فیلڈ مظاہرے شامل ہیں ۔ ان منصوبوں میں بجلی کی پیداوار ، حرارتی اور کولنگ ایپلی کیشنز شامل ہیں ۔ یہ کوششیں مستقبل میں تجارتی تعیناتی کے لیے درکار تکنیکی ڈیٹا اور فیلڈ کا تجربہ پیدا کر رہی ہیں ۔
|
پروجیکٹ
|
حکومت کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کی موجودہ صورتحال 12 دسمبر 2026 تک
|
|
انکلیشور، گجرات
|
ایک پائلٹ پراجیکٹ غیر پیداواری تیل اور گیس کے کنوؤں کو دوبارہ تیار کرکے بجلی کی پیداوار کا جائزہ لے رہا ہے۔ فیلڈ تحقیقات اور بیس لائن ارضیاتیاتی اور پیداواری ڈیٹا مکمل کر لیا گیا ہے۔
|
|
گاندھی نگر، گجرات
|
شمسی اور جیوتھرمل توانائی کو یکجا کرنے والے ایک مظاہرے کے منصوبے نے تین جیوتھرمل کنویں کھدوائے ہیں جو 70 سے 80 ڈگری سیلسیئس پر جیوتھرمل سیال پیدا کرتے ہیں اور 50 سے 90 کلو واٹ کی بجلی پیدا کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔
|
|
توانگ، اروناچل پردیش
|
فیلڈ تحقیقات اور جیو کیمیکل تجزیہ کے ذریعے خطے کے جیوتھرمل وسائل کا اندازہ لگانے کے لیے پانچ جیوتھرمل سائٹس پر مطالعات جاری ہیں۔
|
|
حیدرآباد، تلنگانہ
|
ایک تحقیقی پروجیکٹ ماڈلنگ اور کارکردگی کے تجزیہ کا استعمال کرتے ہوئے ایئر کنڈیشنگ ایپلی کیشنز کے لیے جیوتھرمل کولنگ سسٹم تیار کر رہا ہے۔
|
|
شیلو جیوتھرمل توانائی
|
پائلٹ اسٹڈی ہیٹنگ اور کولنگ ایپلی کیشنز کے لیے بور ہول ہیٹ ایکسچینجرز کا استعمال کرتے ہوئے شیلو جیوتھرمل سسٹمز کا اندازہ کرنے کے لیے تجزیاتی ماڈل تیار کر رہی ہے ۔
|
ارضیاتی حرارتی توانائی کے وسیع قدرتی وسائل، جدید ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ابتدائی عملی سرگرمیاں بھارت میں اس توانائی کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔اگرچہ بھارت میں ابھی تک تجارتی پیمانے پر ارضیاتی حرارتی توانائی سے بجلی کی پیداوار کا آغاز نہیں ہوا ہے، تاہم زیرِ زمین حرارتی وسائل تک رسائی کے لیے کنوؤں کے جال میں توسیع، تجرباتی منصوبوں پر عمل درآمد اور تحقیق و ترقی کی سرگرمیاں اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دے رہی ہیں۔یہ تمام کوششیں مستقبل میں ارضیاتی حرارتی توانائی کے وسیع پیمانے پر استعمال اور بجلی کی پیداوار کے تجارتی منصوبوں کے آغاز کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔
بھارت میں ارضیاتی حرارتی توانائی کے امکانات سے استفادہ: پالیسیاں اور شراکت داریاں
ارضیاتی حرارتی توانائی دنیا بھر میں ایک آزمودہ اور مستحکم قابلِ تجدید توانائی کے ذریعے کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ 2025 کے اختتام تک دنیا بھر میں اس توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 15.67 گیگاواٹ تک پہنچ چکی تھی۔انڈونیشیا، امریکہ، فلپائن، ترکیہ اور نیوزی لینڈ اس شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان پانچ ممالک کے پاس دنیا بھر میں ارضیاتی حرارتی توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کا تقریباً 67 فیصد حصہ موجود ہے۔بھارت اب ارضیاتی حرارتی توانائی کے وسائل کی تلاش اور جائزے سے لے کر ان کے عملی استعمال تک ایک مضبوط نظام تشکیل دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قومی سطح پر مختلف منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے اس شعبے کی ترقی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ان اقدامات کے تحت تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور اس شعبے سے متعلق معلومات، تجربات اور مہارت کے تبادلے کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ ارضیاتی حرارتی توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے اور انہیں عملی طور پر توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔

قابل تجدید توانائی ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ پروگرام (آر ای-آر ٹی ڈی)
ایم این آر ای تحقیقی اداروں اور صنعتی شراکت داروں کے ذریعے آر ای-آر ٹی ڈی اسکیم کو نافذ کر رہا ہے ۔ اس پہل کا مقصد ملک بھر میں جیوتھرمل توانائی سمیت قابل تجدید توانائی کے لیے مقامی ، کم لاگت والی ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے ۔
بین الاقوامی تعاون
ہندوستان نے کئی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنی جیوتھرمل توانائی کی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے ۔ آسٹریلیا اور آئس لینڈ کے ساتھ تعاون کے طریقہ کار کے تحت ، جیوتھرمل توانائی کو تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر شناخت کیا گیا ہے ۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ ایک مفاہمت نامے میں جیوتھرمل توانائی کو دو طرفہ مشغولیت کے فوکس ایریا کے طور پر نامزد کیا گیا ہے ۔
یہ اقدامات ہندوستان کے جیوتھرمل وسائل کو تمام شعبوں میں توسیع پذیر حل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں ۔
ہندوستان کی مخلوط قابل تجدید توانائی میں نئی جہت
ہندوستان کا جیوتھرمل توانائی کا سفر توانائی کی حفاظت اور پائیدار ترقی کے لیے حکومت کے مستحکم عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔ جیوتھرمل انرجی سے متعلق قومی پالیسی کو مطلع کرنے سے لے کر وادی پوگا ، لداخ میں ملک کے پہلے دو جیوتھرمل کنوؤں کو شروع کرنے تک ، ہندوستان فیصلہ کن طور پر منصوبہ بندی سے عمل درآمد کی طرف بڑھ گیا ہے ۔ ملک میں تقریبا 10,600 میگاواٹ کے نظریاتی جیوتھرمل وسائل کی صلاحیت ہے ۔ بڑھتے ہوئے پائلٹ پروجیکٹس اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے سے بجلی کی پیداوار سے لے کر ہیٹنگ ، جیو ٹورزم اور زراعت تک اس کی ایپلی کیشنز میں توسیع ہو رہی ہے ۔ اس طرح جیوتھرمل توانائی ہندوستان کے قابل تجدید توانائی پورٹ فولیو میں ایک قیمتی اضافے کے طور پر ابھر رہی ہے ۔ جیسے جیسے ہندوستان اپنے 2070 نیٹ زیرو ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے ، جیوتھرمل توانائی ملک کی توانائی کی منتقلی اور ترقی کا ایک مستحکم اور مقامی ستون بنی رہے گی ۔
حوالہ جات:
Ministry of New and Renewable Energy
Administration of Union Territory of Ladakh
Ministry of Information and Broadcasting
Telangana Renewable Energy Development Corporation Ltd
International Renewable Energy Agency
U.S. Department of Energy
U.S. Energy Information Administration
Click to see pdf
*****
ش ح۔ م م ع۔ ف ر
U: 7138
(Explainer ID: 160692)
आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments