Technology
بھارت کے انّ داتاؤں کو بااختیار بنانا
Posted On:
02 NOV 2026 3:50PM

کسانوں کو بااختیار بنانے کے دائرہ کار میں توسیع
گزشتہ 12 برسوں کے دوران بھارت کے زرعی شعبے میں کسانوں کو بااختیار بنانے کے عمل میں ہمہ گیر توسیع دیکھنے میں آئی ہے۔ اب توجہ محض فلاحی امداد تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ پیداوار میں اضافے، آمدنی کے تحفظ، منڈیوں تک رسائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ادارہ جاتی استحکام کو فروغ دینے تک وسیع ہو گیا ہے۔
زرعی پیداوار میں اضافے، آبپاشی کے دائرہ کار میں توسیع، قرضوں تک بہتر رسائی، فصلوں کے بیمے کے وسیع تر تحفظ اور متعلقہ شعبوں کی ترقی نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کے تحت خریداری کے عمل اور نظام کو وسعت دینے سے منڈیوں میں فروخت کا اعتماد مضبوط ہوا ہے، کسانوں کو ان کی پیداوار کا منافع بخش معاوضہ یقینی بنانے میں مدد ملی ہے اور قومی غذائی تحفظ کے مقاصد کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ مزید برآں ڈیجیٹل پلیٹ فارم، کوآپریٹو اداروں، غذائی اجناس کی ڈبہ بندی اور آب و ہوا کے اثرات سے مطابقت رکھنے والے اقدامات نے زرعی قدر کی پوری زنجیر میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ یہ پیش رفت بتدریج ایک ایسے زرعی نظام کی جانب منتقلی کی عکاس ہے جو زیادہ متنوع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور کسانوں کو مرکزیت دینے والا ہے۔
بھارت کے زرعی شعبے کا عروج :ترقی ،سرمایہ کاری اوراستحکام
گزشتہ دہائی کے دوران ، ہندوستان کے زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں نمایاں توسیع دیکھنے میں آئی ہے ۔ جس کی حمایت پالیسی پر مستقل توجہ اور عوامی سرمایہ کاری میں اضافے سے ہوئی ہے ۔ ہدف شدہ مداخلتوں نے زرعی پیداوار میں اضافے ، پیداواری صلاحیت میں بہتری اور دیہی معیشت کی لچک کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
زراعت اور اس سے وابستہ مجموعی قدر میں اضافہ کی دہائی

زراعت اور اس سے منسلک شعبے کا کل مجموعی ویلیو ایڈڈ (جی وی اے) میں تقریبا ً18 فیصد حصہ ہے ۔ اس شعبے کا جی وی اے 15-2014 میں 20.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-2023 میں 48.7 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ۔ اس مدت کے دوران اس شعبے نے موجودہ قیمتوں پر 8.83 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) درج کی ۔
فصل کے حصے میں بہتری سے بھی ترقی کو مدد ملی ہے ۔فصلوں کا جی وی اے ایک لاکھ روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ روپے ہو گیا ۔ مالی سال15-2014 میں یہ 12,92,874 کروڑ روپے رہا ۔ جبکہ24-2023 میں 26,52,891 کروڑ روپے رہا۔
زراعت کے لیے مالی امداد میں اضافہ

اس عرصے کے دوران زرعی شعبے میں عوامی سرمایہ کاری میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کے لئے بجٹ مختص 14-2013 میں27,663 کروڑ روپے سے بڑھ کر27-2026 کے لئے 1,40,528.78 کروڑ روپےہو گیا ۔ یہ نمایاں اضافہ زرعی بنیادی ڈھانچے میں پائیدار پالیسی سپورٹ اور مسلسل سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے ، جس سے مجموعی زرعی توسیع کو تقویت ملتی ہے ۔
غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کی رفتار
غذائی اجناس کی کل پیداوار 14-2013کے 265.05 ملین ٹن سے بڑھ کر 25-2024 میں 357.73 ملین ٹن ہو گئی ہے ۔ یہ ترقی چاول ، گندم ، مکئی اور موٹے اناج کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ اس میں باجرے بھی شامل تھے۔ جنہیں اب شری انّ کے نام سے فروغ دیا گیا ہے ۔ اس ترقی کو نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ نیوٹریشن مشن (این ایف ایس این ایم) کی حمایت حاصل ہے ۔ یہ مشن چاول ، گندم ، دالوں اور موٹے اناج کی زیادہ پیداوار کو فروغ دیتا ہے ۔ یہ بہتر بیجوں ، بہتر زرعی طریقوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے میں مدد کرتا ہے ۔
- چاول نے25-2024 میں 150.18 ایم ٹی کی ریکارڈ پیداوار کو چھو لیا ، جو15-2014 (105.48 ایم ٹی)کے مقابلے میں 42.38 فیصد زیادہ ہے ۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک بن گیا ۔
- گندم کی سب سے زیادہ پیداوار 25-2024میں 117.94 ایم ٹی ریکارڈ کی گئی۔ جو 15-2014کے بعد سے 36 فیصد سے زیادہ ہے ۔
- مکئ کی پیداوار بھی 25-2024 میں 43.40 ایم ٹی تک پہنچ گئی ، جو 15-2014 (24.17 ایم ٹی) سے تقریباً79 فیصد زیادہ ہے ۔

خود کفالت کے حصول کی کوششیں تلہن کے شعبے میں بھی نمایاں ہیں۔ تلہن کی پیداوار2024-25 میں بڑھ کر ریکارڈ 42.99 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو 2014-15 کی پیداوار 27.51 ملین ٹن کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ ہے۔
خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار 2015-16 میں 63.2 فیصد تھا، جو 2023-24 میں کم ہو کر 56.25 فیصد رہ گیا، جو اس سمت میں بتدریج پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس عرصے کے دوران تلہن کی کاشت کے رقبے میں 18 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس کی پیداوار میں تقریباً 55 فیصد جبکہ فی ہیکٹر پیداوار میں لگ بھگ 31 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
باغبانی کا شعبہ بھی زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے ایک نمایاں شعبے کے طور پر ابھرا ہے۔ فصلوں کے شعبے کی مجموعی پیداواری قدر میں اس کا حصہ تقریباً 37 فیصد ہے۔ باغبانی کی پیداوار 2013-14 میں 280.70 ملین ٹن تھی، جو بڑھ کر 2024-25 میں 369.05 ملین ٹن ہو گئی۔ یہ اضافہ زیادہ قدر والی فصلوں کی جانب زرعی شعبے کے تنوع کی نشاندہی کرتا ہے، جسے بہتر طریقہ ہائے کاشت اور منڈی کی طلب سے تقویت ملی ہے۔
ان شعبہ جاتی بہتریوں کے ساتھ ساتھ، زرعی پالیسی کا دائرہ بھی مسلسل وسیع کیا گیا ہے تاکہ پیداواری نظام کو مضبوط بنایا جا سکے، کسانوں کی مدد کی جا سکے اور طویل مدتی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
اصلاحات کے لئے ایک روڈ میپ :ہندوستان کی زرعی پالیسی کو مضبوط بنا(2014-2026)
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران زرعی پالیسی کا دائرہ آبپاشی، زمین کی صحت، منڈیوں، خطرات سے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے جیسے مختلف شعبوں تک وسیع ہوا ہے۔ متعدد مخصوص اقدامات نے زرعی شعبے کو ایک مربوط اور کسانوں پر مرکوز نظام میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔
ابتدائی اصلاحات کا محور پیداوار میں اضافے اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانا تھا۔ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی)کے ذریعے آبپاشی کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی اور پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دیا گیا۔ سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم نے زمین میں غذائی اجزا کے سائنسی انتظام کو ممکن بنایا، جبکہ راشٹریہ گوکل مشن کے ذریعے دیسی نسلوں کے تحفظ اور دودھ کی پیداوار میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
اس کے بعد توجہ پیداواری خطرات کو کم کرنے اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے پر مرکوز ہوئی۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)کے ذریعے فصلوں کے بیمے کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی، جبکہ ای-نام نے زرعی اجناس کی ڈیجیٹل تجارت اور منڈیوں کے وسیع تر انضمام کی راہ ہموار کی۔ 2018 میں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) سے متعلق اصلاحات کے تحت ایم ایس پی کو لاگتِ پیداوار کے ڈیڑھ گنا کی سطح پر مقرر کرکے کسانوں کو بہتر قیمت ملنے کا یقین دلانے کے نظام کو مضبوط بنایا گیا۔
بعد کے برسوں میں کسانوں کو آمدنی کی مدد فراہم کرنے اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے پر زیادہ توجہ دی گئی۔ پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کے ذریعے کسانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کرنے کا نظام متعارف کرایا گیا۔ پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم-کے ایم وائی)کے تحت چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کے لیے پنشن کا نظام قائم کیا گیا۔ ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ(اے آئی ایف)اور پی ایم کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے ذریعے فصلوں کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے اور زرعی پیداوار کی قدر میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری کو فروغ دیا گیا۔
ادارہ جاتی اصلاحات اور امدادِ باہمی پر مبنی ترقی کے عمل میں بھی تیزی آئی۔ وزارتِ امدادِ باہمی نے امدادِ باہمی کے اداروں کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور اس نظام پر مبنی معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کیے۔
مزید برآں حالیہ اقدامات میں زرعی تنوع اور خود کفالت کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ نیشنل مشن آن ایڈیبل آئلز-آئل پام (این ایم ای او-او پی)اور نیشنل مشن آن ایڈیبل آئلز-آئل سیڈز (این ایم ای او-او ایس)کے ذریعے خوردنی تیل کی گھریلو پیداوار کو فروغ دیا گیا۔ پردھان منتری کسان سمردھی کیندروں (پی ایم کے ایس کے)نے زرعی مداخل اور مشاورتی خدمات تک کسانوں کی رسائی بہتر بنائی۔ پردھان منتری-دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم-ڈی ڈی کے وائی)جیسے نئے اقدامات کا مقصد اہم فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اسی طرح دالوں میں خود کفالت کا مشن درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ملک میں دالوں کی پیداوار بڑھانے پر مرکوز ہے۔

ہندوستانی کسانوں کو بااختیار بنانا: مالی استحکام اور سماجی تحفظ
پچھلے بارہ سالوں میں ، کاشت کاری اور بیمہ کوریج سے لے کر خریداری تک ، زرعی دور میں حکومتی اقدامات میں توسیع ہوئی ۔ ان مداخلتوں نے کسانوں کے لیے براہ راست آمدنی کی امداد کو بھی مضبوط کیا ۔
براہ راست فوائد کی منتقلی کے ذریعہ کسانوں کی آمدنی کی امدادکو ادارہ جاتی بنانا

پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان)چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو یقینی آمدنی کی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس سے انہیں زراعت اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مدد ملتی ہے اور غیر رسمی ذرائع سے قرض لینے پر ان کا انحصار کم ہوتا ہے۔
اس اسکیم کے تحت ہر اہل کسان خاندان کو سالانہ6,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ رقم براہِ راست مستفیدین کے کھاتوں میں منتقلی(ڈی بی ٹی)کے نظام کے ذریعے 2,000 روپے کی تین مساوی قسطوں میں منتقل کی جاتی ہے۔
مارچ 2026 میں اسکیم کے آغاز سے اب تک 22 قسطوں کے ذریعے 4.28 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس سے ملک بھر میں 9.44 کروڑ سے زیادہ کسان خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس اسکیم کے تحت فراہم کیے گئے فوائد میں سے 25 فیصد سے زیادہ خواتین مستفیدین کو حاصل ہوئے ہیں، جو دیہی خاندانوں تک اس اسکیم کی جامع رسائی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ اسکیم کسانوں کے لیے دنیا کے سب سے بڑے براہِ راست مالی امداد کی منتقلی(ڈی بی ٹی)کے اقدامات میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔ یہ مستفیدین تک آمدنی کی امداد براہِ راست پہنچانے کے لیے ایک وسیع پیمانے پر قائم کیے گئے ادارہ جاتی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔
فصل بیمہ اور خطرے کو کم کرنے کے ذریعہ فصل کو محفوظ بنا نا
زراعت کا شعبہ آج بھی خشک سالی، سیلاب، طوفان، فصلوں پر کیڑوں کے حملوں اور قدرتی آفات سے جڑے دیگر غیر یقینی حالات کے خطرات سے دوچار ہے۔ ایسے خطرات کسانوں کو آمدنی کا بھاری نقصان پہنچا سکتے ہیں اور زرعی سرگرمیوں کے تسلسل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی)کسانوں کو فصلوں کے بیمے کا ایک آسان، کم خرچ اور جامع نظام فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت فصل کے پورے دورانیے کو بیمے کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے، جس میں بوائی سے پہلے اور فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات بھی شامل ہیں۔ یہ اسکیم ’’ایک ملک، ایک فصل، ایک پریمیم‘‘ کے اصول پر عمل کرتی ہے، جس کے تحت پورے ملک میں بیمے کے پریمیم کی یکساں شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔

پی ایم ایف بی وائی کے تحت شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کرشی رکشک پورٹل اور ہیلپ لائن نمبر 14447 شروع کیے گئے ہیں۔ شکایات کے ازالے کے اس نظام کو ملک بھر میں تقریباً 500 اہلکاروں کی مدد حاصل ہے۔
اس اسکیم کے تحت ہر سال 4 کروڑ سے زیادہ کسانوں کی فصلوں کا بیمہ کیا جاتا ہے، جو اس کی وسیع رسائی اور کسانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مظہر ہے۔ 2016-17 سے اب تک 92.46 کروڑ کسان درخواستوں کا بیمہ کیا جا چکا ہے۔31 دسمبر 2025 تک 1.96 لاکھ کروڑ روپے کے بیمہ دعوؤں کی رقم ادا کی جا چکی ہے۔ جس سے تقریباً 24.31 کروڑ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس طرح یہ اسکیم کسانوں کی غیر یقینی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور انہیں زیادہ اعتماد اور استحکام کے ساتھ زرعی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
زرعی خریداری اور ایم ایس پی ویلیو میں دہائی اور ترقی
کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) زرعی پیداوار کی پہلے سے طے شدہ قیمتیں یقینی بنا کر کسانوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ہر سال 22 مقررہ فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ 2018-19 سے کم از کم امدادی قیمتیں لاگتِ پیداوار سے کم از کم 50 فیصد زیادہ مقرر کی جا رہی ہیں۔
کم از کم امدادی قیمت کی سہولت کے ساتھ ہی سرکاری خریداری کے عمل میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ سرکاری خریداری کے ذریعے گیہوں، دھان، دالوں، تلہن اور کپاس جیسی فصلیں کم از کم امدادی قیمت پر خرید کر کسانوں کی مدد کی جاتی ہے۔ مجموعی سرکاری خریداری 2004 سے 2014 کے دوران 698.7 ملین ٹن تھی، جو 2014 سے 2026 کے دوران بڑھ کر 1,229.2 ملین ٹن ہو گئی۔ اس طرح اس میں تقریباً 76 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ 2014 سے فروری 2026 تک کم از کم امدادی قیمت کے تحت خریداری کی مجموعی مالیت 26.32 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ یہ گزشتہ دہائی یعنی 2004 سے 2014 کے دوران درج کی گئی 7.41 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت سے 3.5 گنا زیادہ ہے۔ یہ اضافہ کسانوں کو دستیاب منڈی کی معاونت کے وسیع دائرے کو ظاہر کرتا ہے۔

خریف کی فصلوں میں، راگی کی کم از کم امدادی قیمت میں2014-15سے اب تک سب سے زیادہ 236 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے بعد نگر سیڈ کی قیمت میں 179 فیصد اور جوار(ہائبرڈ)کی قیمت میں 163 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ربیع اور تجارتی فصلوں میں جوٹ کی کم از کم امدادی قیمت میں 147 فیصد جبکہ مسور کی قیمت میں 128 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ یہ رجحانات فصلوں کی مختلف اقسام کے لیے یقینی قیمتوں کا تحفظ مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے تمام خریف فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتیں:
|
نمبر
|
فصل
|
ایم ایس پی 2014-15 (روپے/کوئنٹل)
|
ایم ایس پی 2026-27 (روپے/کوئنٹل(
|
2014-15 سے فیصد نمو
|
|
1.
|
دھان )عام(
|
1360
|
2441
|
79 فیصد
|
|
دھان )گریڈ اے )
|
1400
|
2461
|
76 فیصد
|
|
2.
|
جوار )ہائبرڈ(
|
1530
|
4023
|
163 فیصد
|
|
جوار )مالڈانڈی(
|
1550
|
4073
|
163 فیصد
|
|
3.
|
باجرہ
|
1250
|
2900
|
132 فیصد
|
|
4.
|
مکئی
|
1310
|
2410
|
84 فیصد
|
|
5.
|
راگی
|
1550
|
5205
|
236 فیصد
|
|
6.
|
تور )ارہر(
|
4350
|
8450
|
94 فیصد
|
|
7.
|
مونگ
|
4600
|
8780
|
91 فیصد
|
|
8.
|
اُڑد
|
4350
|
8200
|
89 فیصد
|
|
9.
|
مونگ پھلی کے چھلکےکے ساتھ
|
4000
|
7517
|
88 فیصد
|
|
10.
|
سویابین (پیلا)
|
2560
|
5708
|
123 فیصد
|
|
11.
|
سورج مکھی کا بیج
|
3750
|
8343
|
122 فیصد
|
|
12.
|
تل
|
4600
|
10346
|
125 فیصد
|
|
13.
|
رام تل
|
3600
|
10052
|
179 فیصد
|
|
14.
|
کپاس (درمیانی درجے کی)
|
3750
|
8267
|
120 فیصد
|
|
کپاس (لمبی)
|
4050
|
8667
|
114 فیصد
|
مارکیٹنگ سیزن 2026-27 کے لیے تمام ربیع اور تجارتی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتیں :
|
نمبر
|
فصل
|
ایم ایس پی2014-15 (روپے/کوئنٹل(
|
ایم ایس پی 2026-27 (روپے/کوئنٹل)
|
2014-15 سے فیصد نمو
|
|
ربیع کی فصلیں۔
|
|
1.
|
گندم
|
1400
|
2585
|
84فیصد
|
|
2.
|
جَو
|
1150
|
2150
|
87 فیصد
|
|
3.
|
چنا
|
3175
|
5875
|
85 فیصد
|
|
4.
|
مسور (دال)
|
3075
|
7000
|
128 فیصد
|
|
5.
|
ریپسیڈ/سرسوں
|
3100
|
6200
|
100 فیصد
|
|
6.
|
زعفران
|
3050
|
6540
|
114 فیصد
|
|
تجارتی فصلیں۔
|
|
1.
|
جوٹ
|
2400
|
5925
|
147 فیصد
|
|
2.
|
کوپرا (ملنگ)
|
5550
|
12027
|
117 فیصد
|
|
کوپرا (گیند)
|
5830
|
12500
|
114 فیصد
|
فصلوں میں ایم ایس پی میں مسلسل اضافہ کسانوں کے لیے آمدنی کی حمایت کو مستحکم کرنے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے ۔
ادارہ جاتی زرعی قرض میں اضافہ
کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اسکیم کے ذریعے کسانوں کو بروقت اور سستے قرضوں کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔ یہ اسکیم کسانوں کو زراعت اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کی قلیل مدتی ضروریات اور سرمایہ کاری کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ایک ہی جگہ پر قرض کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
ستمبر 2025 تک فعال کسان کریڈٹ کارڈ کھاتوں کی تعداد 2013-14 کے 6.46 کروڑ سے بڑھ کر 2024-25 میں 7.81 کروڑ ہو گئی ہے۔ ان کھاتوں میں موجود رقم بھی مارچ 2014 کے 4.26 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مارچ 2025 میں 10.20 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی، یعنی اس میں دوگنا سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار کسانوں تک ادارہ جاتی قرضوں کی رسائی کے وسیع دائرے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت کاشت کاری کے اخراجات، فصل کی کٹائی کے بعد کی ضروریات اور زرعی پیداوار کی فروخت کے لیے درکار مالی وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

مزید برآں ، گراؤنڈ لیول کریڈٹ (جی ایل سی) بینکوں اور مالیاتی اداروں سے زراعت اور متعلقہ شعبوں کو مرکوز کریڈٹ سپورٹ فراہم کرتا ہے ۔ زراعت میں جی ایل سی کا بہاؤ 2013-2014 میں 7.30 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-2025 میں 28.67 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ۔ یہ زرعی شعبے میں ادارہ جاتی مالیات کی ساختی توسیع کی نشاندہی کرتا ہے ۔
کسانوں کے لیے جامع سماجی تحفظ کو فروغ دینا
پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم-کے ایم وائی)چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو پنشن پر مبنی سماجی تحفظ کا نظام فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہلیت کی شرائط پوری کرنے والے کسانوں کو 60 سال کی عمر کے بعد ماہانہ 3,000 روپے پنشن دی جاتی ہے۔ یہ رضاکارانہ اور شراکت پر مبنی اسکیم ہے، جس میں 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد اندراج کرا سکتے ہیں۔
فروری 2026 تک اس اسکیم کے تحت تقریباً 24.95 لاکھ کسانوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ یہ کسانوں کے درمیان سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں بتدریج توسیع کو ظاہر کرتا ہے۔
پانی، مٹی، بیج اور توانائی کے وسائل کے مؤثر انتظام کو زرعی ترقی کا ایک بنیادی پہلو بنا دیا گیا ہے۔ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا(پی ایم کے ایس وائی)نے آبپاشی کے دائرہ کار کو وسعت دینے اور پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مالی سال 2015-16سے 2020-21 کے درمیان مجموعی زیرِ کاشت رقبے میں آبپاشی کی سہولت والے رقبے کا تناسب 49.3 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد ہو گیا۔
بیجوں اور پودے لگانے کے مواد سے متعلق ذیلی مشن (ایس ایم ایس پی)کا مقصد تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کو وسعت دینا ہے۔ اس اقدام کے تحت تقریباً 6.85 لاکھ بیج گاؤں قائم کیے گئے ہیں، جہاں 1,649 لاکھ کوئنٹل معیاری بیج تیار کیے جا رہے ہیں۔
سوائل ہیلتھ کارڈ(ایس ایچ سی)اسکیم کسانوں کو مٹی میں موجود غذائی اجزا سے متعلق معلومات اور کھاد کے استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ 2014-15 سے مارچ 2026 تک تقریباً 26 کروڑ کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جس سے مٹی کی صحت کے انتظام کے دائرہ کار میں مسلسل توسیع ہوئی ہے۔ اس کوشش میں 8,313 مٹی کی جانچ کرنے والی تجربہ گاہیں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، مٹی کی صحت سے متعلق مشورے دینے اور باخبر زرعی طریقوں کو اپنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے 70,000 سے زیادہ کرشی سکھیوں کو تربیت دی گئی ہے۔
حالیہ برسوں میں پائیدار زرعی طریقوں کو بھی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا(پی کے وی وائی)کے تحت گروپوں کی تشکیل کے ذریعے نامیاتی کاشت کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ شمال مشرقی خطے کے لیے نامیاتی قدر کی زنجیر کی ترقی کا مشن(ایم او وی سی ڈی این ای آر)اس خطے میں نامیاتی پیداوار اور منڈیوں تک رسائی کے روابط کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
دسمبر 2025 تک پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی)کے تحت 18.84 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا جا چکا ہے۔ جس سے 33.93 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اسی طرح، 2015-16 میں آغاز کے بعد سے شمال مشرقی خطے کے لیے نامیاتی قدر کی زنجیر کی ترقی کے مشن (ایم او وی سی ڈی این ای آر)کے تحت 2.36 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا ہے اور 2.70لاکھ کسانوں کو مدد فراہم کی گئی ہے۔
قومی قدرتی کاشت کاری مشن (این ایم این ایف)مٹی کی صحت بہتر بنانے اور زرعی اخراجات کم کرنے کے لیے کیمیائی مادوں سے پاک کاشت کاری کے طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔ اب تک اس اسکیم کے تحت 9 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا جا چکا ہے اور 19 لاکھ کسانوں کا اندراج کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ2014 سے 2025 کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو برداشت کرنے والی فصلوں کی 2,996 اقسام جاری کی گئی ہیں۔ حکومت نے 448 گاؤں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے قابل دیہی نمونے بھی فروغ دیے ہیں، جن سے زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں کے 8.5 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ مربوط زرعی نظام (آئی ایف ایس)کو 79 اضلاع کے 1.04 لاکھ کسان خاندانوں تک وسعت دی گئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سالانہ فی ہیکٹر زرعی آمدنی بڑھ کر 1.5 سے 3.6 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
قابلِ تجدید توانائی بھی زرعی ترقی کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا ایوم اُتھان مہاابھیان (پی ایم کُسم)، جسے2019 میں شروع کیا گیا تھا، زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے تحت شمسی پمپوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور کسانوں کو بجلی پیدا کرکے اسے فروخت کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں اس اسکیم میں نمایاں توسیع دیکھی گئی ہے ۔ 2025 کے وسط تک ، کسانوں کے لیے شمسی پمپوں میں 92 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ، جو اپنانے میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے ۔ دسمبر 2025 تک 21.77 لاکھ سے زیادہ کسانوں نے اس اسکیم کے تحت فائدہ اٹھایا ہے ۔ 10 لاکھ سے زیادہ اسٹینڈ لون شمسی زرعی پمپ لگائے گئے ہیں ۔ گرڈ سے جڑے 13 لاکھ سے زیادہ زرعی پمپوں کو شمسی بنایا گیا ہے ۔
یہ کوششیں موثر اور پائیدار زراعت کی طرف بتدریج تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں ۔ بہتر آبپاشی ، بہتر ان پٹ اور صاف توانائی کے حل نے وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پیداواریت میں مدد کی ہے ۔
اہدافی اصلاحات کے ذریعے خوراک کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا
تقسیم کے نظام میں بہتری اور مخصوص خطوں کے لیے ہدفی اقدامات نے پسماندہ علاقوں میں رسائی، شفافیت اور شمولیت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد کی ہے۔ 2025 میں شروع کی گئی پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی)کا مقصد کم زرعی کارکردگی والے 100 اضلاع کو ترقی دینا ہے۔ اس اسکیم کی توجہ آبپاشی، فصلوں کے تنوع، فصلوں کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے اور قرضوں تک بہتر رسائی پر مرکوز ہے۔ اپریل 2026 تک اس پہل سے 1.7 کروڑ کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جس سے نچلی سطح پر زرعی ترقی کے نتائج کو تقویت مل رہی ہے۔
عوامی نظامِ تقسیم(پی ڈی ایس)کو غذائی اجناس کی تقسیم کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مضبوط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے اہل خاندانوں کو رعایتی نرخوں پر غذائی اجناس کی بروقت فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ قومی غذائی تحفظ قانون(این ایف ایس اے)کے تحت تقریباً 79.8کروڑ مستفیدین کو رعایتی نرخوں پر غذائی اجناس فراہم کی جاتی ہیں۔ مزید برآں سارتھک پی ڈی ایس (راشن کی نقل و حمل اور ہینڈلنگ میں معاونت اور پی ڈی ایس میں خودکاری کی اسکیم)کے تحت مرکزی حکومت آئندہ پانچ برسوں میں 25,530 کروڑ روپے مختص کرے گی۔ اس اسکیم کے ذریعے غذائی اجناس کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں تقریباً 81.35 کروڑ مستفیدین کے لیے قومی غذائی تحفظ قانون پر عمل درآمد میں مدد فراہم کی جائے گی۔
اس اسکیم کا مقصد غذائی اجناس کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں تقریباً 81.35 کروڑ مستفیدین کے لیے قومی غذائی تحفظ قانون پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ایک ملک، ایک راشن کارڈ (او این او آر سی)نظام تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ ہے۔ اس نظام کے تحت تقریباً 99.9 فیصد راشن کارڈوں کو آدھار سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ تقریباً 99.8 فیصد مناسب قیمت کی دکانوں پر الیکٹرانک فروخت کے آلات نصب ہیں۔ ملک بھر میں ایسی دکانوں کی تعداد تقریباً 5.50 لاکھ ہے۔ اس نظام کے تحت 98 فیصد سے زیادہ لین دین کو ڈیجیٹل بنایا جا چکا ہے۔ اس طرح تقسیم کے نظام میں کی گئی ان اصلاحات سے شفافیت اور راشن کارڈ کی ملک گیر قابلِ استعمال سہولت میں بہتری آئی ہے۔
کوآپریٹو اور ایف پی او اصلاحات کے ذریعے دیہی اداروں کو بااختیار بنانا
حالیہ برسوں میں امدادِ باہمی کے شعبے پر نئے سرے سے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 2021میں وزارتِ امدادِ باہمی کا قیام اس شعبے کے اداروں کو مضبوط بنانے اور امدادِ باہمی کی انجمنوں کی صلاحیت میں اضافے کے مقصد سے عمل میں آیا۔ اس سلسلے میں بنیادی زرعی قرضہ جاتی انجمنوں(پی اے سی ایس)کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنا کر انہیں مضبوط بنانے کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شواہد پر مبنی منصوبہ بندی میں مدد کے لیے قومی امدادِ باہمی ڈیٹابیس (این سی ڈی)تیار کیا گیا ہے، جس میں پی اے سی ایس سمیت 8.4 لاکھ سے زیادہ امدادِ باہمی کی انجمنوں کی معلومات شامل ہیں۔
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ نمونہ جاتی ضمنی قوانین کا اشتراک کیا گیا ہے۔جس سے پی اے سی ایس کو 25سے زیادہ کاروباری سرگرمیوں میں اپنے دائرہ کار کو وسعت دینے کا موقع ملا ہے۔ ان سرگرمیوں میں پٹرول پمپ، ایل پی جی کی تقسیم، جن اوشدھی مراکز اور دیہی خدمات شامل ہیں۔ ان اصلاحات سے جواب دہی میں اضافہ ہو رہا ہے، عملی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور امدادِ باہمی کے اداروں کی معاشی پائیداری بہتر ہو رہی ہے۔
پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائزڈ بنانے کے منصوبے کے ذریعے ڈیجیٹل نظام نے امدادِ باہمی کے اداروں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان انجمنوں کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کے نتیجے میں شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور بنیادی سطح پر خدمات کی فراہمی کا نظام بھی مستحکم ہوا ہے۔
- 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 79,630بنیادی زرعی قرضہ جاتی انجمنوں (پی اے سی ایس)کو کمپیوٹرائزڈ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔
- مارچ 2026 تک 61,866پی اے سی ایس کو ادارہ جاتی وسائل کی منصوبہ بندی(ای آر پی)پر مبنی قومی سافٹ ویئر سے منسلک کیا جا چکا ہے۔
مزید برآں2020میں شروع کیے گئے 10,000 کسان پیداوار کار تنظیموں (ایف پی اوز)کے قیام اور فروغ کے پروگرام نے کسانوں کی اجتماعی شرکت کو وسعت دی ہے۔ فروری 2026تک 10,000 ایف پی اوز کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار یکجا کرنے اور منڈیوں تک زیادہ مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔
یہ پیش رفت زراعت کے شعبے میں منظم اور ادارہ جاتی قیادت پر مبنی نظام کی جانب وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ کسانوں کے مضبوط گروپ اور امدادِ باہمی کی انجمنیں منڈیوں میں بہتر شرکت اور طویل مدتی پائیداری کو فروغ دے رہی ہیں۔
فارم گیٹ سے مارکیٹ تک: زرعی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
حالیہ برسوں میں منڈیوں تک رسائی اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ایک اہم ترجیح رہی ہے۔ 2020-21میں شروع کیا گیا زرعی بنیادی ڈھانچے کا فنڈ (اے آئی ایف)فصلوں کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے۔ اس کی توجہ کھیتوں کی سطح پر ذخیرہ کرنے، نقل و حمل اور ڈبہ بندی کی سہولتوں پر مرکوز ہے۔ مارچ 2026 تک اے آئی ایف کے تحت 1.68 لاکھ منصوبوں کے لیے 84,202 کروڑ روپے کے قرض منظور کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم کے ذریعے 1.33 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری بھی متحرک ہوئی ہے، جس سے دیہی بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملی ہے۔
قومی زرعی منڈی (ای-نام)نے منڈیوں کے باہمی انضمام کو بہتر بنایا ہے۔ یہ زرعی اجناس کی خرید و فروخت کے لیے ایک متحدہ برقی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ مارچ 2026 تک 1,656 منڈیوں کو اس سے منسلک کیا جا چکا ہے۔ جبکہ 1.80 کروڑ سے زیادہ کسانوں اور 4,724 کسان پیداوار کار تنظیموں (ایف پی اوز) کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ یہ پلیٹ فارم قیمتوں کے شفاف تعین اور کسانوں کو براہِ راست ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
طبعی بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی سہولتوں میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ پردھان منتری کسان سمردھی کیندر(پی ایم کے ایس کے)، جنہیں 2022 میں شروع کیا گیا، زرعی مداخل اور مشاورتی خدمات کے لیے یکجا سہولت مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اگست 2025 تک ملک بھر میں تقریباً 1.8 لاکھ ایسے مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔
میگا فوڈ پارک اسکیم نے کسانوں اور منڈیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا ہے۔ میگا فوڈ پارکوں کی تعداد 2014 میں 2 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 41 ہو گئی، جن میں 24 فعال ہیں اور 17 پر کام جاری ہے۔ یہ پارک ڈبہ بندی، ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کے لیے جدید بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے میں بہتری، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں اور ڈبہ بندی کی صلاحیت میں اضافے سے کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور کسانوں کے لیے آمدنی کے بہتر مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
فوڈ پروسیسنگ اصلاحات کے ذریعے زراعت اور صنعت کو جوڑنا

غذائی اجناس کی ڈبہ بندی زراعت اور صنعت کے درمیان ایک اہم کڑی کے طور پر ابھری ہے۔ اس سے زرعی پیداوار کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے اور منڈیوں تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔ اس شعبے کی مجموعی اضافی قدر 2014-15 میں 1.34 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو بڑھ کر 2023-24 میں 2.24 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔ وزارتِ غذائی ڈبہ بندی کی بجٹ میں مختص رقم بھی 2014-15 کے 785.86 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 4,064 کروڑ روپے ہو گئی۔ یہ شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ صنعتوں کے سالانہ سروے (اے ایس آئی)2023-24 کے مطابق منظم صنعتی شعبے میں روزگار کی مجموعی تعداد میں اس کا حصہ 12.83فیصد ہے۔
غذائی ڈبہ بندی کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم(پی ایل آئی ایس ایف پی آئی)مالی سال 2021-22 سے 2026-27 تک نافذ کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد 10,900 کروڑ روپے کے مالیاتی مختص کے ساتھ اس شعبے میں پیداواری صلاحیت کو وسعت دینا اور پیداوار کی قدر میں اضافہ کرنا ہے۔
- غذائی ڈبہ بندی کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی ایس ایف پی آئی)کے تحت وزارتِ غذائی ڈبہ بندی نے مختلف زمروں میں مجموعی طور پر 165 درخواستوں کو منظوری دی ہے۔
- ان منظوریوں کا تعلق 274 منصوبوں کے مقامات سے ہے۔
- مستفیدین نے اس اسکیم کے تحت 9,207 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اطلاع دی ہے۔
- فروری 2026 تک 2,162.55 کروڑ روپے کے ترغیبی فوائد تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
خوردنی اجناس کی چھوٹی ڈبہ بندی کرنے والے اداروں کو باقاعدہ شکل دینے کی پردھان منتری اسکیم(پی ایم ایف ایم ای)2020-21میں شروع کی گئی تھی۔ یہ اسکیم چھوٹے اداروں اور غیر مرکزی ڈبہ بندی کے نظام کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
31 دسمبر 2025 تک:
- 4,04,062 درخواستوں کو مدد فراہم کی گئی۔
- 1,72,707 قرضوں کی فراہمی میں سہولت فراہم کی گئی۔
- 14,190 کروڑ روپے کے مدتی قرضے فراہم کیے گئے۔
- خواتین کے خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جیز)کو 1,277.45 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ جاتی امداد فراہم کی گئی۔
ان اقدامات کے علاوہ ، کوششوں میں بڑے پیمانے پر پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے ۔ پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی)بنیادی ڈھانچے ، ویلیو ایڈیشن اور سپلائی چین کی حمایت کرتی ہے ۔2017 میں شروع کی گئی ، 6,520 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ ، اس اسکیم نے 1,607 پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے ۔ اس نے 7.25 لاکھ لوگوں کے لیے روزگار پیدا کیا ہے اور 2025 کے وسط تک 50.27 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ پہنچایا ہے ۔
زرعی تنوع اور متعلقہ شعبوں کی ترقی

زراعت سے وابستہ دیگر شعبوں میں تنوع نے کسانوں کی آمدنی کو مستحکم بنانے اور محض فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ان کا انحصار کم کرنے میں مدد دی ہے۔ ان شعبوں میں مویشی پروری، ماہی پروری اور ڈیری شامل ہیں، جو آمدنی کے متعدد ذرائع فراہم کرنے کے ساتھ دیہی روزگار کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
معیشت میں ان شعبوں کا حصہ مسلسل بڑھا ہے۔ اسی عرصے کے دوران مویشی پروری کے شعبے کی مجموعی قدر 5.10 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 15.06 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔ ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے میں بھی توسیع ہوئی۔ اس کی مجموعی اضافی قدر جی وی اے1.17لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 3.68 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی، جو زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں کی مجموعی اضافی قدر کا 7.55 فیصد ہے۔
دیہی اقتصادی ترقی کے محرک کے طور پر مویشی اور دودھ
مویشیوں کے شعبے میں 15-2014 سے لے کر اب تک 12.77 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ہندوستان عالمی سطح پر دودھ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ، جو عالمی پیداوار میں تقریبا 25 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے ۔ دودھ کی پیداوار 15-2014میں 146.31 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 247.87 ملین ٹن ہو گئی ، جو 69.4 فیصد سے زیادہ کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے ۔ بہتر دستیابی نے غذائیت کے نتائج کی حمایت کی ہے ۔ 2024-25 میں فی کس دودھ کی دستیابی 485 گرام یومیہ تک پہنچ گئی ، جبکہ عالمی اوسط 328 گرام یومیہ تھی ۔

پیداواری صلاحیت میں اضافے نے اس توسیع کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے:
- دیسی گائے کی فی جانور دودھ کی پیداوار 2014-15 میں 927 کلوگرام تھی، جو 2023-24 میں بڑھ کر 1,292 کلوگرام ہو گئی۔
- بھینس کی فی جانور پیداوار 1,880 کلوگرام سے بڑھ کر 2,161 کلوگرام ہو گئی۔
- گائے اور بھینس سمیت مویشیوں کی مجموعی فی جانور پیداوار 2013-14 میں 1,648.17 کلوگرام تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 2,079 کلوگرام ہو گئی۔
مرغی کے انڈوں اور گوشت کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر بھارت انڈوں کی پیداوار میں دوسرے اور گوشت کی پیداوار میں چوتھے مقام پر ہے:
- انڈوں کی پیداوار 2014-15 میں 78.48 ارب تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 149.11 ارب انڈے ہو گئی۔
- فی کس انڈوں کی دستیابی سالانہ 62 سے بڑھ کر 106 انڈے ہو گئی۔
- گوشت کی پیداوار 6.69 ملین ٹن سے بڑھ کر 10.50 ملین ٹن ہو گئی۔
آبی زراعت کی توسیع سے ماہی گیروں کی اجتماعی تنظیم تک

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے ماہی پروری کے شعبے میں اوسط سالانہ شرحِ نمو مسلسل 8.74 فیصد رہی ہے۔ مچھلی کی مجموعی پیداوار 2013-14 میں 9.58 ملین ٹن تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 19.78 ملین ٹن ہو گئی۔ اس توسیع میں اندرونِ ملک ماہی پروری اور آبی زراعت نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسی عرصے کے دوران اس شعبے کی پیداوار میں 147 فیصد اضافہ درج کیا گیا اور یہ 6.14 ملین ٹن سے بڑھ کر 15.16 ملین ٹن ہو گئی۔ مزید برآں، ماہی پروری کے شعبے میں 2,195 کسان ماہی پیداوار کار تنظیموں(ایف ایف پی اوز)کے قیام کے ذریعے اجتماعی تنظیم سازی کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ادارہ جاتی تعاون کے دائرے میں بھی توسیع ہوئی ہے اور کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت 4.39 لاکھ ماہی گیروں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قرضوں تک رسائی بہتر ہوئی ہے اور اس شعبے کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
شہد کی مکھیوں کی پرورش اور حیاتیاتی توانائی کے شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع
قومی شہد کی مکھیوں کی پرورش اور شہد مشن (این بی ایچ ایم) : 2020 میں شروع کیا گیا قومی شہد کی مکھیوں کی پرورش اور شہد مشن سائنسی طریقے سے شہد کی مکھیوں کی پرورش اور دیہی روزگار کو فروغ دیتا ہے۔ شہد کی پیداوار 0.081 ملین ٹن سے بڑھ کر 0.152 ملین ٹن ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، شہد کی برآمدات میں 240 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے بھارت شہد برآمد کرنے والے سرکردہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔
ایتھنول آمیز پٹرول (ای بی پی)پروگرام: حیاتیاتی توانائی زرعی تنوع کا ایک اہم جزو بن کر ابھری ہے۔ اس سے توانائی کے تحفظ میں تعاون کے ساتھ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ایتھنول ایک زرعی خام مال سے تیار ہونے والا ایندھن ہے، جسے گنے کی ضمنی پیداوار اور غذائی اجناس سے بنایا جاتا ہے۔ ایتھنول آمیز پٹرول پروگرام کے تحت اسے پٹرول میں ملانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور ملک میں اس کی پیداوار کو فروغ ملے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس پروگرام میں نمایاں توسیع ہوئی ہے:
- ایتھنول کی خریداری 2013-14 میں 38 کروڑ لیٹر تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 904 کروڑ لیٹر ہو گئی۔
- عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)کی جانب سے ایتھنول آمیز پٹرول پروگرام کے تحت پٹرول میں ایتھنول ملانے کی اوسط شرح 2014-15 کے 1.14 فیصد سے بڑھ کر ایتھنول سپلائی سال ای ایس وائی2025-26 میں(جنوری 2026 تک20 فیصد ہو گئی)۔
- گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایتھنول کی فروخت سے چینی ملوں کو 1.29 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی ہوئی ہے۔
- اس شعبے میں 42,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری متحرک ہوئی ہے۔

یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حیاتیاتی توانائی کے اقدامات وسیع تر دیہی معیشت کو مضبوط کرتے ہوئے آمدنی میں تنوع کی حمایت کر رہے ہیں ۔
زرعی اور پروسیس شدہ خوراک کی برآمدات کے ذریعے عالمی یکجہتی کو بڑھانا
زرعی اور اس سے وابستہ شعبوں کی برآمدات نے بھارت کو عالمی منڈیوں کے ساتھ مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پیداوار، ڈبہ بندی کی صلاحیت اور منڈیوں تک رسائی میں اضافے نے اس توسیع کو تقویت دی ہے۔
زرعی برآمدات کی مالیت 2013-14 میں 37.29 ارب امریکی ڈالر تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 51.1 ارب امریکی ڈالر ہو گئی۔ اس طرح ان میں تقریباً 37 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ یہ پیش رفت بھارتی زراعت کے عالمی تجارت اور قدر کی زنجیروں کے ساتھ بتدریج بڑھتے ہوئے انضمام کی عکاسی کرتی ہے۔
برآمدات کی اقسام میں تنوع
برآمدات میں بنیادی اور ڈبہ بند، دونوں طرح کی مصنوعات کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ بھارت چاول، مصالحہ جات، سمندری مصنوعات، کپاس اور چینی برآمد کرنے والے دنیا کے سرکردہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔
ڈبہ بند غذائی مصنوعات کی برآمدات کا زرعی برآمدات میں حصہ وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔ ان کا حصہ 2014-15 میں 13.7 فیصد تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 20.4 فیصد ہو گیا۔ اس طرح اس میں تقریباً 49 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ یہ پیش رفت پیداوار کی قدر میں اضافے اور عالمی منڈی میں مسابقت کی بہتر ہوتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔
سمندری مصنوعات کی برآمدات میں بھی مجموعی برآمدات کے اندر نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات 2013-14 میں 3.64 ارب امریکی ڈالر تھیں، جو 2024-25 میں بڑھ کر تقریباً 7.52 ارب امریکی ڈالر ہو گئیں۔ اس طرح ان میں تقریباً 106 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ اب یہ مصنوعات 130 سے زیادہ ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں، جس سے عالمی سمندری غذائی مصنوعات کی منڈیوں میں بھارت کی موجودگی مزید مستحکم ہوئی ہے۔

یہ پیش رفت زیادہ متنوع اور ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ باسکٹ کی طرف تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ زرعی برآمدات بنیادی اجناس سے آگے بڑھ کر پروسیس شدہ اور اعلی قیمت والی مصنوعات کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور صحت سے متعلق ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت کو جدید بنانا
ٹیکنالوجی زرعی طریقوں کی تشکیل میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل نظام منصوبہ بندی کو بہتر بنا رہے ہیں، خدمات کی فراہمی کو مضبوط کر رہے ہیں اور کسانوں کو بروقت معلومات تک رسائی میں مدد دے رہے ہیں۔
ڈیجیٹل زرعی مشن: ڈیجیٹل زرعی مشن زراعت کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل نظام تشکیل دے رہا ہے۔ اس کے تحت کسانوں کے کوائف، زمین کے ریکارڈ اور فصلوں سے متعلق معلومات کو یکجا کیا جا رہا ہے، تاکہ امداد کی فراہمی کو زیادہ ہدف پر مبنی اور شفاف بنایا جا سکے۔
ڈیجیٹل نظام کی توسیع کا اندازہ اس عمل کے وسیع پیمانے سے لگایا جا سکتا ہے۔ فروری 2026 تک 7.63 کروڑ سے زیادہ کسان شناختی کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں اور تقریباً 23.5 کروڑ زرعی قطعوں کو ڈیجیٹل شکل دی جا چکی ہے۔ یہ نظام بہتر منصوبہ بندی میں مدد دیتے ہیں اور مستفیدین تک فوائد کی زیادہ درست انداز میں فراہمی ممکن بناتے ہیں۔
نمُو ڈرون دیدی: 2023 میں شروع کی گئی اس پہل کا مقصد خواتین کے خود امدادی گروپوں کے ذریعے زرعی سرگرمیوں میں ڈرون کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کو 2023-24 سے 2025-26 تک کی مدت کے لیے 1,261 کروڑ روپے کے مالیاتی مختص کے ساتھ منظوری دی گئی تھی۔
اس اسکیم کے تحت 2023-24 میں 500 ڈرون تقسیم کیے گئے۔ یہ اسکیم ڈرون کے ذریعے روزگار کے مواقع اور جدید زرعی ٹیکنالوجی فراہم کرکے خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے۔
کیڑوں کی نگرانی کا قومی نظام: کیڑوں کی نگرانی کا قومی نظام فصلوں پر کیڑوں کے حملوں کی حقیقی وقت میں نگرانی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس میں ڈیجیٹل ذرائع اور میدانی سطح سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار استعمال کیے جاتے ہیں، تاکہ پیشگی انتباہات اور مشورے فراہم کیے جا سکیں۔
اگست 2024 میں شروع کیا گیا یہ نظام 66 فصلوں کا احاطہ کرتا ہے اور 432 سے زیادہ اقسام کے کیڑوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس نظام کو 10,000 سے زیادہ میدانی اہلکار استعمال کر رہے ہیں، جس کے ذریعے کسانوں کو بروقت مشورے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس سے فصلوں کے نقصان میں کمی لانے اور نئے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
کسان ای-متر: کسان ای-متر کسانوں کو اسکیموں اور خدمات سے متعلق معلومات تک ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتا ہے۔ مارچ 2026 تک اس پلیٹ فارم پر 95 لاکھ سے زیادہ سوالات کے جوابات دیے جا چکے ہیں، جبکہ اس کی روزانہ 8,000 سے زیادہ سوالات سے نمٹنے کی صلاحیت ہے۔ یہ 11 علاقائی زبانوں میں دستیاب ہے، جس سے مختلف علاقوں کے کسانوں کے لیے اس تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ یہ مخصوص اقدامات زراعت کو بتدریج ٹیکنالوجی پر مبنی نظام میں تبدیل کرنے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل ذرائع عملی کارکردگی کو بہتر بنا رہے ہیں، ادارہ جاتی رسائی کو وسیع کر رہے ہیں اور خدمات، معلومات اور خطرات سے نمٹنے کے طریقۂ کار تک تیز تر رسائی ممکن بنا رہے ہیں۔
علم پر مبنی ترقی: زرعی توسیع اور مشاورتی خدمات کو بڑھانا
جیسے جیسے زراعت میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور اس کا انحصار موسمی حالات پر زیادہ ہوتا جا رہا ہے، کسانوں کے علمی نظام کو مضبوط بنانا بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ تربیتی اور توسیعی پروگرام کسانوں کو بہتر طریقہ ہائے کاشت اپنانے، مقامی چیلنجوں سے نمٹنے اور سائنسی مشوروں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
کرشی وگیان کیندر (کے وی کیز): بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل(آئی سی اے آر)کے قائم کردہ کرشی وگیان کیندر(کے وی کیز) ملک بھر میں کسانوں کو تربیت فراہم کرنے والے صفِ اول کے مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ 731 کرشی وگیان کیندروں کے ذریعے 2021-22 سے 2023-24 کے دوران زرعی طریقوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے سے متعلق تربیتی پروگراموں کے تحت تقریباً 58.02 لاکھ کسانوں کو تربیت دی گئی۔ صرف 2024-25 کے پہلے دس مہینوں میں 18.56 لاکھ کسانوں نے تربیت حاصل کی۔
زرعی ٹیکنالوجی کے انتظام کی ایجنسی (اے ٹی ایم اے): زرعی ٹیکنالوجی کے انتظام کی ایجنسی غیر مرکزی زرعی توسیعی نظام کی معاونت کرتی ہے۔ اس کی توجہ ضلع کی سطح پر کسانوں کو مشاورتی خدمات فراہم کرنے کے نظام کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
اس اسکیم کے تحت تربیت کا دائرہ مسلسل وسیع رہا ہے۔ 2021-22 میں تقریباً 32.38 لاکھ کسانوں کو تربیت دی گئی۔ اس کے بعد 2022-23 میں 40.11 لاکھ اور 2023-24 میں 36.60 لاکھ کسانوں نے تربیت حاصل کی۔ جنوری 2025 تک تقریباً 18.30 لاکھ کسانوں کو تربیت دی جا چکی تھی۔
مجموعی طور پر 2021 سے 2025 کے دوران اے ٹی ایم اے کے تحت تقریباً 1.27 کروڑ کسانوں کو تربیت دی گئی ہے۔ ان کوششوں سے بیداری میں اضافہ ہوا ہے اور بہتر طریقہ ہائے کاشت اپنانے کے عمل کو فروغ ملا ہے۔
مزید برآں توسیعی خدمات کسانوں کو بہتر طریقہ ہائے کاشت اپنانے اور بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ یہ تحقیق اور میدانی سطح پر اس کے عملی نفاذ کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط بنا رہی ہیں۔
لچکدار اور مربوط زرعی ماحولیاتی نظام کی طرف پیش قدمی
یہ مخصوص اقدامات بھارت کے زرعی شعبے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پالیسی اصلاحات میں بتدریج پیداوار میں اضافے، آمدنی کے استحکام اور خطرات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ پیداوار میں اضافے اور ادارہ جاتی کارکردگی کے شواہد ایک ایسے نظام کی جانب منتقلی کو ظاہر کرتے ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اس عمل کو قرضوں اور بیمے تک بہتر رسائی، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)کے تحت خریداری کے دائرے میں توسیع اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے سے تقویت ملی ہے۔
مربوط قدر کی زنجیروں میں حکمت عملی کے تحت کی گئی سرمایہ کاری نے کھیتوں سے منڈیوں تک رسائی کے روابط کو زیادہ مؤثر بنایا ہے۔ اس کے علاوہ، زراعت سے وابستہ دیگر سرگرمیوں کے دائرے میں توسیع نے دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ مزید برآں ان اقدامات کے ذریعے اَنّ داتاؤں (کسانوں)کو بااختیار بنایا جا رہا ہے اور ایک ایسے زرعی شعبے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جو مشکلات کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھنے والا، شمولیت پر مبنی اور پائیدار ہو۔
حوالہ جات
اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے)
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2095068®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2265788®=3&lang=1
وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237739®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2239789®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AS450_OAibYg.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=105862®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AS450_OAibYg.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=110936®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=112426®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=149244®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2244628®=3&lang=1
https://icar.org.in/en/agricultural-extension-division/achievements-agricultural-extension-division
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU3226_xbrVz9.pdf?source=pqars
وزارت خزانہ
https://www.indiabudget.gov.in/doc/eb/allsbe.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2251315®=3&lang=1#:~:text=In%20this%20context%2C%20it%20is,like%20pulses%20and%20edible%20oilseeds
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU1981_EnKkCu.pdf?source=pqars#:~:text=The%20credit%20limit%20to%20all,60.50%25%20in%202016%2D17
https://www.mofpi.gov.in/sites/default/files/ob_14-15.pdf.pdf
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=106273®=3&lang=2#:~:text=Agricultural%20Exports%20Increase%20by%205.1,Marine%20Exports%20up%20by%2045%25&text=Agricultural%20exports%20(including%20marine)%20grew,44.8%25%20over%20the%20same%20period
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237490®=3&lang=1
کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2239623®=3&lang=1#:~:text=Encouraging%20adoption%20of%20alternative%20fertilizers,its%20inception%20in%202015%E2%80%9316
نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2042069®=3&lang=2#:~:text=Posted%20On:%2006%20AUG%202024%202:56PM%20by,under%20the%20PM%2DKUSUM%20scheme%20benefiting%20the%20farmers:%2D
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2244667®=1&lang=1
صارفین کے امور ، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2210211
تعاون کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247832®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245119®=3&lang=2
وزارت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2212769®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2254015®=3&lang=2
ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2212290®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225760
وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220434®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU1898_HVBDeE.pdf?source=pqars
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157935&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2238004®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=149246®=37&lang=1
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/jun/doc202567565801.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2179514
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=158169&NoteId=158169&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2234117®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155859&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2254015®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157597&ModuleId=3®=3&lang=1
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2026/feb/doc2026214789901.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=157897&id=157897®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2186124®=3&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
*****
( ش ح ۔ م ح۔ع د)
U. No. 7094
(Explainer ID: 160685)
आगंतुक पटल : 31
Provide suggestions / comments