Farmer's Welfare
کھیت بچاؤ ابھیان – ربیع 2026
‘‘مٹی کی صحت اور پائیدار زراعت’’
Posted On:
02 NOV 2026 11:01AM
|
کھیت بچاؤ ابھیان (کے بی اے)- ربیع 2026 ایک ملک گیر مہم ہے جو 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔ اس مہم کا مقصد 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، 700 سے زائد اضلاع اور 50,000 گاؤں میں زمین کی صحت کو بہتر بنانے، کھادوں کے متوازن استعمال اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا ہے۔ اس مہم کے تحت تقریباً50 لاکھ کسانوں تک رسائی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی اہم ترجیحات میں غذائی اجزا کا متوازن انتظام، قدرتی کاشت کاری، فصلوں کی باقیات کا انتظام، فصلوں کے تنوع کو فروغ دینا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زراعت شامل ہیں۔ اس مہم کے تحت کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور زرعی ٹیکنالوجی انتظامی ایجنسی(اے ٹی ایم اے)کو شامل کرتے ہوئے 4,150 ٹیمیں تشکیل دینے کا منصوبہ ہے، جنہیں12,000 سے زائد سائنس دانوں اور اے ٹی ایم اے کے اہلکاروں کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس اقدام کے تحت کھیتوں میں50,000 عملی مظاہرے اور باقاعدہ تربیت کے 11,750 اجلاس منعقد کرنے کا ہدف ہے۔ اس مہم کے ذریعے سماجی ذرائع ابلاغ کے توسط سے 1.5 کروڑ کسانوں تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ مجموعی ڈجیٹل رسائی کو بڑھا کر 2.5 کروڑ افراد تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
|
زراعت کی بنیاد نیچے پوشیدہ ہے
زمین کی صحت، زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور دیہی عوام کے ذرائع معاش کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کی46 فیصد سے زیادہ افرادی قوت زراعت اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں سے وابستہ ہے اس لیے زمین کی صحت کا اثر غذائی نظام اور معاشی استحکام پر بھی پڑتا ہے۔ صحت مند زمین فصلوں کی زیادہ پیداوار کو یقینی بنانے کے ساتھ بیرونی وسائل پر انحصار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
زمین کی صحت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے‘کھیت بچاؤ ابھیان (کے بی اے)– ربیع 2026’،‘‘سواستھ دھرا، سمردھ کسان’’ (صحت مند زمین، خوشحال کسان)کے عنوان سے 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک ملک گیر مہم چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس مہم میں باہمی اشتراک پر مبنی طریق کار اختیار کیا گیا ہے، جس کے تحت متوازن اور مناسب مقدار میں کھاد کے استعمال اور غذائی اجزا کے پائیدار انتظام کو فروغ دینے کے لیے محکمۂ زراعت، تحقیقی اداروں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے اہلکاروں کو ایک ساتھ لایا جائے گا۔ اس مہم کا مقصد پائیدار زراعت کو فروغ دینا، زمین کی صحت بہتر بنانا اور زرعی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کے تحت قدرتی کاشت کاری، آبی تحفظ اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ یہ مہم کھادوں کے غیر متوازن استعمال، زمین میں نامیاتی مادے کی مسلسل کمی، کاشت کاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور قدرتی وسائل کے انحطاط جیسے مسائل سے بھی نمٹنے پر توجہ مرکوز کرے گی۔
ان اقدامات میں صلاحیت سازی، زرعی مشینوں کے استعمال کو فروغ دینے اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے عملی مظاہروں پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ان میں حیاتیاتی زراعت کے طریقے بھی شامل ہیں، جن کا مقصد زمین کی صحت بحال کرنا اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینا ہے۔
یہ مہم ملک کی34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، 700 سے زائد اضلاع اور 50,000 گاؤں پر محیط ہوگی۔ مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے تقریباً پچاس لاکھ کسانوں تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کھادوں کے زیادہ استعمال والے سو اضلاع کو ترجیح دیں، تاکہ کسانوں تک مہم کی رسائی کو مستحکم بنانے اور غذائی اجزا کے متوازن استعمال کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔
وسیع پیمانے پر رسائی اور زمینی سطح پر سرگرمیوں کے ذریعے اس مہم کا مقصد کسانوں، سائنس دانوں اور زرعی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ توقع ہے کہ یہ مربوط کوشش کسانوں کو باخبر فیصلے کرنے اور پائیدار زرعی طریقوں کو زیادہ سے زیادہ اپنانے کی ترغیب دے گی۔
|
کھیت بچاؤ ابھیان
(یکم سے 30 جون 2026 تک)
کھیت بچاؤ ابھیان کا آغاز یکم جون 2026 کو ملک گیر سطح پر ایک ماہ طویل مہم کے طور پر کیا گیا، جس کا مقصد زمین کی صحت کو بہتر بنانا، کھادوں کے متوازن استعمال اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینا تھا۔ اس مہم کے تحت کسانوں سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل 1,657 ٹیمیں تعینات کی گئیں۔ اس مہم کے دوران 92.44 لاکھ کسانوں کے لیے بیداری کے 1.34 لاکھ سے زائد پروگرام منعقد کیے گئے، جبکہ سبز کھاد اور حیاتیاتی کھادوں کے استعمال سے متعلق 6,685 تربیتی اجلاس منعقد کیے گئے، جن سے 4.94 لاکھ کسان مستفید ہوئے۔ اس کے علاوہ، عملی معلومات فراہم کرنے کے لیے کھیتوں میں3,167 مظاہرے اور 4,779 باہمی تبادلۂ خیال کے پروگرام منعقد کیے گئے۔ مزید برآں، کھاد اور زرعی مداخل کے فروخت کنندگان کی شمولیت سمیت 4,916 جن پرتی ندھی سمیلن منعقد کیے گئے، جن سے نچلی سطح پر عوامی رابطے کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی۔ مجموعی طور پر اس مہم کے ذریعے تقریباً 1.07 کروڑ کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں تک براہ راست رسائی حاصل کی گئی، جبکہ سماجی ذرائع ابلاغ کے توسط سے تقریباً 4.5 کروڑ شہریوں تک اس کا پیغام پہنچایا گیا۔
|
کھیت بچاؤ مہم کے کلیدی مقاصد - ربیع 2026
اس مہم کا مقصد کسانوں کو مقامی ضروریات کے مطابق سائنسی بنیادوں پر وضع کردہ زرعی طریقے اپنانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ زرعی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی زراعت کو فروغ ملے۔
- غذائی اجزا کا متوازن انتظام: کھادوں کے استعمال کے لیے عمومی سفارشات (جی ایف آر) پر مبنی غذائی اجزا کے انتظام اور کھادوں کے استعمال کے چار اصولوں کو فروغ دینا یعنی صحیح قسم کی کھاد، صحیح مقدار، صحیح وقت اور صحیح جگہ۔ اس طریقٔ کار سے ربیع کی فصلوں کی ضروریات کے مطابق کھادوں کا متوازن اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔
- قدرتی کاشت کاری:بیداری مہمات، صلاحیت سازی، عملی مظاہروں اور کسانوں کے درمیان باہمی تجربات کے تبادلے کے ذریعے قدرتی کاشت کاری اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا۔
- غذائی اجزا کا مربوط انتظام (آئی این ایم):بیداری، صلاحیت سازی اور عملی مظاہروں کے ذریعے غذائی اجزا کے مربوط انتظام اور موزوں نامیاتی و حیاتیاتی مداخل کے استعمال کو فروغ دینا۔
- فصلوں کی باقیات کا انتظام: معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے پائیدار طریقے سے فصلوں کی باقیات کے انتظام کو فروغ دینا اور پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں فصلوں کی باقیات جلانے کی حوصلہ شکنی کرنا۔
- فصلوں میں تنوع: تیل دار بیجوں اور دالوں کی پیداوار کو مستحکم بنانا، فصلوں کے تنوع کو فروغ دینا اور بیداری، صلاحیت سازی اور عملی مظاہروں کے ذریعے دھان کی کٹائی کے بعد خالی رہنے والی زمینوں کے مؤثر استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا۔

- موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے مطابقت رکھنے والی زراعت: مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، آندھرا پردیش اور راجستھان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں مقامی ضروریات کے مطابق ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد کرنا تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے موزوں فصلوں اور وسائل کے انتظام کو فروغ دیا جا سکے۔
- زرعی اسکیموں سے متعلق بیداری: زراعت سے متعلق حکومت کی مختلف اسکیموں اور ان کے فوائد کے بارے میں بیداری پیدا کرنا۔
- کیڑوں کا مربوط انتظام اور جراثیم کش ادویات کا ذمہ دارانہ استعمال: جراثیم کش ادویات کے معیار اور ان کے محفوظ استعمال کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، کیڑوں کے مربوط انتظام (آئی پی ایم) کو فروغ دینا، نیز ضرورت کے مطابق محفوظ طریقے سے اور مقررہ ہدایات کے مطابق جراثیم کش ادویات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے بے دریغ استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا۔
|
ڈھینچا اور سبز مونگ صحت مند زمین کے حصول کی راہ ہموار کرتے ہیں
بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے دھان کی کاشت والے علاقوں میں کھادوں کے استعمال کا مناسب انتظام کرتے ہوئے زمین کی زرخیزی برقرار رکھنا کسانوں کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ زمین میں نامیاتی کاربن کی مقدار میں کمی اور خورد غذائی اجزا کی کمی نے اس چیلنج کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کھیت بچاؤ ابھیان - 2026 کے تحت، آئی سی اے آر-مہاتما گاندھی مربوط زرعی نظام تحقیقی ادارے (ایم جی آئی ایف آر آئی)، موتیہاری، بہار نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سبز کھاد کے استعمال اور حیاتیاتی طور پر نائٹروجن کے تثبیت کے عمل سے زمین کی صحت بہتر بنانے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔
بہار کے ضلع مشرقی چمپارن کے رکسول بلاک کی پنٹوکا پنچایت میں کسانوں سے رابطے کے لیے منعقدہ پروگرام کے دوران کسانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ کھیتوں میں استعمال ہونے والی گوبر کی کھاد، کمپوسٹ، حیاتیاتی کھادوں اور فصلوں کی باقیات کو کھادوں کی تجویز کردہ مقدار کے ساتھ استعمال کریں۔ اس دوران دھان کی نرسری کے انتظام اور فصلوں کی باقیات جلانے کے متبادل طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جن میں کمپوسٹ تیار کرنا، زمین کو نامیاتی مواد سے ڈھانپنا اور کیچوؤں کی مدد سے کھاد تیار کرنا شامل ہیں۔

سائنس دانوں نے دھان پر مبنی فصلوں کے نظام میں ڈھینچا (سیس بینیا کی نسل) اور موسم گرما کی مونگ کی کاشت کے استعمال پر بھی زور دیا۔ ڈھینچا فی ہیکٹیئر تقریباً50 سے 60 کلوگرام نائٹروجن فراہم کر سکتا ہے جو 110 سے 130 کلوگرام یوریا کے مساوی ہے۔ اسی طرح موسم گرما کی مونگ فی ہیکٹیئر 25 سے 30 کلوگرام نائٹروجن فراہم کر سکتی ہے جو 55 سے 65 کلوگرام یوریا کے برابر ہے۔ یہ فصلیں زمین میں نامیاتی مادے اور حیاتیاتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے ساتھ کھادوں کی ضرورت کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔اس پروگرام میں41 خواتین سمیت مجموعی طور پر 62 کسانوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے سبز کھاد کے استعمال اور غذائی اجزا کے متوازن انتظام کے طریقے اپنانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
|
- ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا محکمۂ زراعت: مہم کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد، ضروری ہدایات جاری کرنے، تیاری سے متعلق اجلاس منعقد کرنے، ضلع سطح کے نظام الاوقات کی منظوری دینے، میدانی عملے اور اشتراکی شراکت داروں کو متحرک کرنے، سرکاری اسکیموں اور خدمات تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے اور رپورٹوں کو یکجا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
- زرعی ٹیکنالوجی انتظامی ایجنسیاں (اے ٹی ایم اے) اور ضلع انتظامیہ برائے زراعت: ضلع، بلاک اور گاؤں کی سطح پر مہم کی سرگرمیوں میں تال میل قائم کرنے، مختصر عملی منصوبے تیار کرنے، کسانوں اور مقامی اداروں کو متحرک کرنے، پروگراموں کے لیے مقامات، کھیتوں تک رسائی، معلومات، تعلیم و ابلاغ (آئی ای سی) سے متعلق مواد اور دیگر ضروری انتظامات میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ حاضری اور سرگرمیوں کا ریکارڈ برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہوں گی۔
- آئی سی اے آر کے ادارے، زرعی ٹیکنالوجی ایپلی کیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹس (اے ٹی اے آر آئیز)، کرشی وگیان کیندرز (کے وی کے) اور زرعی جامعات (علمی شراکت دار): یہ ادارے سائنسی بنیادوں پر تکنیکی رہنمائی اور مقامی ضروریات کے مطابق سفارشات فراہم کریں گے، ماہرین نامزد کریں گے، تربیت میں معاونت کریں گے، درخواست کیے جانے پر عملی مظاہرے اور کسانوں و سائنس دانوں کے درمیان تبادلۂ خیال کے پروگرام منعقد کریں گے، تکنیکی معلومات، تعلیم و ابلاغ سے متعلق مواد اور رہنما ہدایات تیار یا ان کی توثیق کریں گے، تحقیقی شواہد کا اشتراک کریں گے اور حاصل شدہ تجربات کو دستاویزی شکل دیں گے۔ ان کا کردار ریاستی سطح پر مہم کے نفاذ، انتظامی کنٹرول، قوانین کے نفاذ یا اخراجات کی ذمہ داریوں تک وسیع نہیں ہوگا، الاّ یہ کہ انہیں الگ سے اس کی اجازت دی گئی ہو۔
|
اس مہم کے تحت کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور زرعی ٹیکنالوجی انتظامی ایجنسی (اے ٹی ایم اے) کو شامل کرتے ہوئے 4,150 ٹیمیں تشکیل دینے کا منصوبہ ہے۔ مہم پر عمل درآمد میں12,000 سے زائد سائنس دانوں اور اے ٹی ایم اے کے اہلکاروں سے تعاون حاصل ہونے کی توقع ہے۔ اے ٹی ایم اے اور آئی سی اے آر کے ذریعے اس مہم کا مقصد تقریباً ایک کروڑ افراد تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
|

- دیگر ریاستی محکمے اور ایجنسیاں: باغبانی، زمین اور آبی وسائل کے تحفظ، آب پاشی، مویشی پروری، دیہی ترقی، امدادی انجمنوں، پنچایتی راج، ماحولیات، زرعی مارکیٹنگ اور متعلقہ شعبوں کے ذمہ دار محکموں اور ایجنسیوں کے باہمی تال میل کے ذریعے اپنے اپنے دائرۂ کار کے مطابق مہم کی سرگرمیوں میں تعاون اور سہولت فراہم کریں گے۔
- کسان پیداواری تنظیمیں (ایف پی اوز)، خود امدادی گروپ (ایس ایچ جیز)، بنیادی زرعی قرض سوسائٹیاں (پی اے سی ایس)، کسٹم ہائرنگ مراکز (سی ایچ سیز)اور ترقی پسند کسان: مقامی سطح پر کسانوں کو متحرک کرنے، ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے، عملی مظاہروں کے دوروں اور کسانوں کے درمیان مستند رہنما ہدایات کی تشہیر و ترسیل میں تعاون کریں گے۔
- ذرائع ابلاغ اور مواصلاتی شراکت دار: مقامی ذرائع ابلاغ، کمیونٹی ریڈیو، واٹس ایپ، کسان سارتھی اور دیگر موزوں مواصلاتی ذرائع کے ذریعے مہم کے منظور شدہ پیغامات کی تشہیر و ترسیل میں سہولت فراہم کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ کسانوں کے ساتھ شیئر کی جانے والی زرعی معلومات درست اور مستند ہوں۔
کسانوں میں بیداری پیدا کرنے اور ان تک رسائی کو فروغ دینا
اس مہم کے تحت کسانوں میں بیداری پیدا کرنے، ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، کھیتوں میں عملی مظاہرے کرنے، عملی تجربات کے حصول کے لیے دوروں اور ڈجیٹل ذرائع سے تشہیر و ترسیل کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ زرعی طریقوں کو بہتر بنایا جا سکے، تکنیکی معلومات کو مستحکم کیا جا سکے اور مہم کے پیغامات کو زیادہ سے زیادہ کسانوں تک پہنچایا جا سکے۔

مختلف سرگرمیوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا
اس مہم کا مقصد کسانوں میں عمومی سفارشات برائے کھاد (جی ایف آر) کی بنیاد پر غذائی اجزا کے انتظام، قدرتی کاشت کاری، غذائی اجزا کے مربوط انتظام (آئی این ایم)، فصلوں کی باقیات کے انتظام (سی آر ایم) اور تیل دار بیجوں و دالوں کی پیداوار کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں بیداری اور سمجھ بوجھ کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ، خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں ہنگامی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے معیاری عملی طریق کار (ایس او پیز) اور زراعت سے متعلق حکومت کی اہم اسکیموں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی جائیں گی۔
- آئی سی اے آر کے اداروں کی950 ٹیموں میں سے ہر ایک کو ہفتے میں تین گاؤں کا دورہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ 700 کرشی وگیان کیندر(کے وی کے) ٹیموں سے توقع ہے کہ وہ ہفتے میں چار دورے کریں گی۔ ہر دورہ میں 100 کسانوں کی شرکت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- پانچ ہفتوں کے دوران اس مہم کے تحت 5,650 بیداری پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جن کے ذریعے اندازاً 28.25 لاکھ کسانوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
کسانوں کی صلاحیت سازی
تربیتی پروگراموں کا مقصد غذائی اجزا کے مربوط انتظام (آئی این ایم)، فصلوں کی باقیات کے انتظام (سی آر ایم)، قدرتی کاشت کاری، تیل دار بیجوں اور دالوں کی بہتر پیداوار کے طریقوں، کیڑوں کے مربوط انتظام (آئی پی ایم) اور دیگر متعلقہ موضوعات کے بارے میں کسانوں کے علم اور تکنیکی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا ہے۔
- آئی سی اے آر کے اداروں کی950 ٹیموں میں سے ہر ایک سے توقع ہے کہ وہ ہر ہفتے ایک تربیتی پروگرام منعقد کرے گی، جبکہ 700 کرشی وگیان کیندر(کے وی کے)ٹیموں کو ہر ہفتے دو تربیتی پروگرام منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہر پروگرام میں 40 شرکاء کی شرکت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- پانچ ہفتوں کے دوران اس مہم کے تحت 11,750 تربیتی پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جن کے ذریعے اندازاً 4.70 لاکھ کسانوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
کھیتوں میں کسانوں کے عملی مظاہرے
آئی سی اے آر کے ادارے اور کرشی وگیان کیندر(کے وی کے) منتخب کسانوں کے کھیتوں میں عملی مظاہرے منعقد کرتے ہیں تاکہ بہتر زرعی ٹیکنالوجیز کی افادیت اور ان کے فوائد کو واضح کیا جا سکے۔ ان مظاہروں سے کسانوں کو سائنسی طریقوں کی افادیت کا جائزہ لینے اور ان کے نتائج کا روایتی زرعی طریقوں سے موازنہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ان مظاہروں میں سبز امونیہ، فصلوں کی باقیات کا انتظام (سی آر ایم)، غذائی اجزا کا مربوط انتظام (آئی این ایم)، کیڑوں کا مربوط انتظام (آئی پی ایم)، قدرتی کاشت کاری، تیل دار بیجوں اور دالوں کے لیے مربوط انتظام فصل (آئی سی ایم)، حیاتیاتی کھادوں اور نامیاتی و حیاتیاتی مداخل کے استعمال جیسے اہم شعبوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
- اس مہم کے تحت 50,000 عملی مظاہرے منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں سے 40,000 مظاہرے کرشی وگیان کیندروں اور 10,000 آئی سی اے آر کے اداروں کے ذریعے کیے جائیں گے۔
- ہر مظاہرے میں20 کسانوں کی شرکت کے ہدف کے ساتھ اس اقدام کے ذریعے اندازاً 10 لاکھ کسانوں تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔
میدانی سرگرمیوں کے دن، فصل کی کٹائی کے پروگرام اور مشاہداتی دورے
کھیتوں میں سرگرمیوں کے دن، فصل کی کٹائی کے پروگرام اور عملی مظاہروں کے مقامات کے مشاہداتی دورے اس مہم کے ‘‘دیکھ کر یقین کرنے’’ کے طریق کار کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے کسانوں کو بہتر زرعی ٹیکنالوجیز کا براہ راست مشاہدہ کرنے، ان کے عملی استعمال کو سمجھنے اور کھیتوں میں ان کے فوائد کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
- 1,650 ٹیموں میں سے ہر ایک کو فصل کے موسم کے دوران تین میدانی سرگرمیوں یا فصل کی کٹائی کے پروگرام اور دو مشاہداتی دورے منعقد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہر سرگرمی میں تقریباً 125 کسانوں کی شرکت کا ہدف رکھا گیا ہے۔
- توقع ہے کہ ان سرگرمیوں کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 10 لاکھ کسانوں تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر
ڈجیٹل پلیٹ فارم بہتر زرعی طریقوں، تکنیکی رہنما ہدایات اور مہم سے متعلق سرگرمیوں کی معلومات عام کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اس طرح میدانی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں کے علاوہ بھی مہم کا دائرۂ رسائی وسیع کیا جا سکتا ہے۔
- مہم کے تحت کام کرنے والی ٹیموں کو واٹس ایپ، فیس بک، ایکس اور دیگر موزوں ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے روزانہ کی تازہ ترین معلومات عام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
- اس مہم کے ذریعے سماجی ذرائع ابلاغ پر 1.5 کروڑ کسانوں تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ مجموعی ڈجیٹل رسائی کو بڑھا کر 2.5 کروڑ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کسانوں کو اسکیموں اور خدمات سے مربوط کرنا
اس مہم کے تحت کسانوں کو زراعت سے متعلق اہم اسکیموں، خدمات اور زرعی طریقوں سے واقف کرانے کے لیے خصوصی بیداری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں پی ایم-کسان، جراثیم کش ادویات کا متوازن استعمال، سوائل ہیلتھ کارڈ، کھادوں کی فروخت سے متعلق نافذ العمل ضابطہ جاتی نظام اور تجارتی معاہدوں کے ممکنہ فوائد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کسانوں کی شناختی دستاویزات (فارمرز آئی ڈی) تیار کرنے اور انہیں تازہ ترین معلومات سے ہم آہنگ کرنے میں بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے تحت فصلوں کی بیمہ کوریج سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزید برآں، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) اسکیم کے تحت تمام اہل کسانوں کو ادارہ جاتی قرض کی سہولت تک رسائی فراہم کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر ان اقدامات کا مقصد کسانوں میں حکومتی امدادی نظام کے بارے میں بیداری کو فروغ دینا اور ضروری زرعی خدمات، باضابطہ قرضہ جاتی سہولیات اور خطرات کو کم کرنے کے ذرائع تک ان کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ اس طرح کھیتی باڑی سے وابستہ معاش کے ادارہ جاتی اور مالیاتی بنیادوں کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔
پائیدار زراعت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا
کھیت بچاؤ ابھیان-ربیع 2026 کا مقصد زمین کی صحت اور وسائل کے پائیدار انتظام کو زرعی ترقی کے مرکز میں لانا ہے۔ سائنسی اداروں، سرکاری محکموں، توسیعی خدمات کے نیٹ ورکس اور کاشت کار برادریوں کے درمیان تال میل کے ذریعے اس کا مقصد سائنسی معلومات کو مقامی حالات کے مطابق زرعی طریقوں میں ڈھالنا ہے۔ اس کے مربوط طریق کار میں کسانوں میں بیداری پیدا کرنا، ان کی صلاحیت سازی، کھیتوں میں عملی مظاہرے اور مالی ذرائع سے تشہیر شامل ہیں، تاکہ کاشت کاری کے بہتر طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔ غذائی اجزا کے متوازن انتظام، قدرتی کاشت کاری اور زرعی مداخل کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ اس مہم میں فصلوں کے تنوع، فصلوں کی باقیات کے انتظام، کیڑوں کے مربوط انتظام اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ ادارہ جاتی تال میل اور کسانوں کی شراکت پر اس کی توجہ سے نچلی سطح پر توسیعی خدمات کے نظام اور زرعی خدمات تک رسائی کو بھی تقویت ملتی ہے۔
یہ اقدامات وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی کاشت کاری کے نظام، زمین کی بہتر صحت اور زرعی ذرائع معاش کو موسمیاتی و دیگر خطرات کے مقابلے میں زیادہ مستحکم بنانے میں معاون ہیں، اور اس طرح ‘وکست بھارت’ کے وسیع تر ویژن کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ مہم پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کی سمت پیش رفت میں بھی معاون ہے، بالخصوص بھوک کا خاتمہ (ایس ڈی جی-2) اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات (ایس ڈی جی 13) شامل ہیں۔
حوالہ جات
- Ministry of Agriculture and Farmers Welfare
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=159311&ModuleId=3®=48&lang=1
https://www.manage.gov.in/publications/eBooks/DAESI_%20Vol%20I_Study%20Material.pdf
https://vikalp.kisansarathi.in/#home
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2302428®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2326112®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2266794&lang=1®=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288740®=48&lang=2
https://icar.gov.in/en/icar-mgifri-motihari-takes-khet-bachao-abhiyan-indias-frontier-villages-promotes-soil-health-and
- Indian Council of Agricultural Research
https://icar.org.in/sites/default/files/2026-10/Khet-Bachaao-Abhiyaan-2026.pdf
https://icar.org.in/sites/default/files/Circulars/ICAR%20Insights%20Outcomes%20Booklet%20%28English%29.pdf
https://icar.org.in/sites/default/files/Circulars/Farmers%20Innovations_2025___English.pdf
Click to see pdf
***
ش ح-ظ الف-ش ب ن
UR No. 7076
(Explainer ID: 160671)
आगंतुक पटल : 7
Provide suggestions / comments