Technology

بھارت کے نئےدور کی خلائی ٹیکنالوجیز

خود انحصاری کی راہ

Posted On: 28 OCT 2026 12:13PM

بھارت کا خلائی سفر 1963 میں کیرالہ کے تھمبا سے داغے گئےایک تحقیقی راکٹ کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ آج بھارت مجوزہ بھارتی آنترکش اسٹیشن کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز اس پیش رفت کو رفتار دے رہی ہیں۔ ان میں دوبارہ استعمال کیے جانے والے لانچ وہیکلز، برقی، ماحول دوست اور جوہری ایندھن کی ٹیکنالوجیز اور خلا میں ہی مصنوعی سیارچوں کی مرمت اور دیکھ بھال کی سہولتیں شامل ہیں۔ اسپیس ڈیکس مشن کے ذریعے بھارت مدار میں دو خلائی جہازوں کی خودکار ڈاکنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بھی بن گیا۔ یہ پیش رفت خود انحصاری کو تقویت دیتی ہے۔ اسی دوران، گگن یان مشن کے ذریعے بھارت کے انسانی خلائی پرواز کے اہداف کوبھی  آگے بڑھارہا ہے۔

خلائی سائنس اور آج کے دور میں اس کی اہمیت

بھارت میں خلائی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز 1962 میں ڈاکٹر وکرم اے سارا بھائی کے وژن کے تحت بھارتی قومی کمیٹی برائے خلائی تحقیق (انکوسپار) کے قیام کے ساتھ ہوا۔ 21 نومبر 1963 کو کیرالہ کے تھمبا سے پہلا تحقیقی راکٹ چھوڑا گیا۔ بھارتی خلائی تحقیق کی تنظیم (اسرو) کا قیام 15 اگست 1969 کو عمل میں آیا، جس نے انکوسپار کی جگہ لی اور بعد ازاں 1972 میں اسے محکمۂ خلا کے تحت لایا گیا۔ اپنے قیام کے بعد سے ہی اسرو نے ترقی کو ترجیح دینے کے فلسفے پر عمل کیا، جس کے تحت زمینی مسائل حل کرنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی دہائیوں کے دوران اس نے محض راکٹ چھوڑنے کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے سے کہیں آگے ترقی کی ہے اور اس کی کارکردگی اور تکنیکی مہارت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ آج اس کی ساکھ ایک سادے عہد:’ ہر مشن عام شہری کے لیے مفید ہونا چاہیے‘ پر قائم ہے۔

یہی وژن اب ملک بھر میں روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ مواصلاتی سیارچے دور دراز اور ان علاقوں تک رابطے کی سہولت پہنچاتے ہیں جہاں یہ سہولتیں ناکافی ہیں۔ زمین کے مشاہدے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار زراعت، آفات کے جائزے، منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی اور دیگر قومی ضروریات میں معاون ہوتے ہیں۔ موسمیاتی سیارچے سمندری طوفانوں اور مانسون کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں اور بروقت انتباہات جاری کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ ماہی گیر، کسان اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگ اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے ان انتباہات پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ نظام شہریوں کو آپس میں جوڑتے ہیں، لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، حکمرانی کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور جامع و پائیدار ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ ان خدمات کے علاوہ، خلائی ٹیکنالوجی بھارت کی سرحدوں کے تحفظ میں بھی مدد دیتی ہے اور اس کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خلائی مواصلاتی نظام قومی سلامتی اور اسٹریٹجک ضروریات کی تکمیل میں معاون ہیں۔

ان صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اختراع، رابطے کی سہولتوں اور خدمات کی فراہمی کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔ نجی ادارے اور نئے کاروباری ادارے بھی اب اس سفر میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس طرح بھارت ایک پُراعتماد، خود انحصار اور عالمی سطح پر قابل احترام خلائی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کر رہا ہے۔مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: بھارت کا خلائی سفر

 

تخلیقی ذہن، سائنس کو محرک بنانے، ٹیکنالوجیز کو بااختیار بنانے کا ذریعہ

ای ایس ٹی آئی سی (ایسٹک -2026)، بھارت کی ابھرتی ہوئی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ ایسٹک 2026 کا انعقاد 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہا ہے۔ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجیز سے متعلق موضوعاتی اجلاس، جس کا اہتمام محکمۂ خلاء  اور اسرو کی جانب سے 29 اکتوبر 2026 کو کیا جا رہا ہے، اس کانفرنس کے موضوعاتی پروگراموں میں سے ایک ہے۔

ایجنڈے کی مزید تفصیلات کے لیے پڑھیں: ایسٹک 2026

 

ابھرتی ہوئی خلائی ٹیکنالوجیز

بھارت جیسے جیسے زیادہ خود انحصاری اور بلند تر اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے، اس سفر کو قوت فراہم کرنے کے لیے نئے دور کی ٹیکنالوجیز بھی فروغ پا رہی ہیں۔ ان اختراعات میں اگلے سلسلے کے خلائی راکٹ نظام، خلاء  میں انجام دی جانے والی سرگرمیاں، انسانی خلائی پرواز اور جدید نیویگیشن و مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز بھارت کی ابتدائی کامیابیوں سے ایک ایسے خلائی پروگرام کی جانب پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں جو مستقبل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔ آنے والی دہائیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ان متعلقہ پروگراموں کا مقصد بھارت کو مسابقت کے قابل، باہم مربوط اور مکمل طور پر خود انحصار بنانا ہے۔

اگلےسلسلے کے خلائی راکٹ (این جی ایل وی)

خلاء  تک رسائی کا آغاز خلائی راکٹ چھوڑنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے۔ ایسا ملک جو اپنے راکٹ خود تیار کرنے اور انہیں خلا ء میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ یہ طے کرسکتا ہے کہ خلاء  تک کب، کس طرح اور کتنی لاگت پر رسائی حاصل کی جائے۔ بھارت کا خلائی راکٹ پروگرام چھوٹے، صرف ایک بار استعمال ہونے والے (قابل تلف)راکٹوں سے شروع ہوکر بھاری وزن لے جانے والے راکٹوں تک پہنچا ہے اور اب دوبارہ استعمال کیے جانے والے راکٹ نظاموں کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

 

بھارت کی روایتی خلائی لانچ وہیکل   

  • پی ایس ایل وی ( قطبی سیارچہ بردار راکٹ):  بھارتی خلائی تحقیق کی تنظیم (اسرو) کا یہ قابل اعتماد راکٹ، مشن کی ترتیب کے لحاظ سے، 600 کلومیٹر بلندی پر سورج کے ہم آہنگ قطبی مدار میں 1,750 کلوگرام تک اور ذیلی جغرافیائی منتقلی مدار میں 1,425 کلوگرام تک وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • جغرافیائی ہم آہنگ سیارچہ بردار راکٹ (جی ایس ایل وی): یہ راکٹ مقامی طور پر تیار کردہ کرایوجینک بالائی مرحلے کا استعمال کرتا ہے اور دو ٹن وزن کے زمرے تک کے مواصلاتی سیارچے خلا میں لے جاسکتا ہے۔
  • خلائی راکٹ مارک-3 (ایل وی ایم-3): یہ بھارت کا بھاری وزن لے جانے والا خلائی راکٹ ہے۔ یہ جغرافیائی منتقلی مدار میں چار ٹن وزن کے زمرے تک کے مواصلاتی سیارچے اور زمین کے نچلے مدار میں دس ٹن وزن کے زمرے تک کے پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • چھوٹے سیارچوں کو لے جانے والا راکٹ (ایس ایس ایل وی): یہ تین مرحلوں پر مشتمل راکٹ ہے، جس کا وزن پرواز کے آغاز کے وقت تقریباً 120 ٹن ہوتا ہے۔ یہ 500 کلومیٹر بلندی پر ایک مستوی مدار میں تقریباً 500 کلوگرام وزن کے زمرے تک کے سیارچے پہنچا سکتا ہے۔

ستمبر 2024 میں مرکزی کابینہ نے اگلے سلسلے کے خلائی راکٹ (این جی ایل وی) کی تیاری کو منظوری دی۔ اس کے لیے منظور شدہ 8,240 کروڑ روپے کے بجٹ میں تیاری کی لاگت، تین تجرباتی پروازوں، ضروری سہولتوں، پروگرام کے انتظام اور راکٹ روانہ کرنے کی مہم کے اخراجات شامل ہیں۔ زمین کے نچلے مدار میں زیادہ سے زیادہ 30 ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیے جانے والے این جی ایل وی کی باربرداری کی صلاحیت، ایل وی ایم-3 کی زمین کے نچلے مدار میں 10 ٹن وزن لے جانے کی موجودہ حد کے مقابلے میں تین گنا ہوگی۔ اس کے علاوہ، زمین کے نچلے مدار میں 14 ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت کے حامل این جی ایل وی کے جزوی طور پر دوبارہ قابل استعمال نمونے کی تیاری بھی جاری ہے، تاکہ کم لاگت پر خلاء  تک رسائی ممکن ہوسکے۔ اس کی دوبارہ استعمال کی صلاحیت بھی خلاء تک پہنچنے کی لاگت کم کرے گی۔

این جی ایل وی قومی اور تجارتی، دونوں طرح کے مشنوں کو ممکن بنائے گا۔ ان میں بھارتی  آنترکش  اسٹیشن تک انسانی خلائی پرواز کے مشن، نیز چاند اور بین سیاروی تحقیق شامل ہیں۔ یہ زمین کے نچلے مدار میں مواصلاتی اور زمین کے مشاہدے سے متعلق سیارچوں کے مجموعے بھی پہنچائے گا۔ ان مشنوں سے خلائی شعبے کے پورے نظام کو فائدہ پہنچے گا اور ملک کی صلاحیتوں اور استعداد میں اضافہ ہوگا۔

اہم اصطلاحات کو سمجھنا

سورج کے ہم آہنگ مدار (ایس ایس او): سورج کے ہم آہنگ مدار سے مراد قطبین کے قریب واقع ایسا مدار ہے جس میں کوئی سیارچہ تقریباً ایک ہی مقامی شمسی وقت پر کسی علاقے کے اوپر سے گزرتا ہے۔ اس سے یکساں روشنی کے حالات میں حاصل کردہ مشاہدات کا موازنہ کرنا ممکن ہوتا ہے۔ کسی مخصوص مقام کے بار- بار مشاہدے کے درمیان وقفہ سیارچے اور اس کے مدار کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

جغرافیائی مدار میں منتقلی کا مدار (جی ٹی او): جی ٹی او ایک انڈے کی شکل کا درمیانی مدار ہے، جسے کسی سیارچے کو جغرافیائی مدار (جی ای او) میں منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مدار کا زمین سے قریب ترین نقطہ حضیض ارض عموماً زمین کی سطح سے چند سو کلومیٹر کی بلندی پر ہوتا ہے، جب کہ سب سے دور کا نقطہ (اوج ارض) زمین کی سطح سے تقریباً 35,786 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہوتا ہے۔ عموماً خلائی راکٹ سیارچے کو براہ راست جغرافیائی مدار میں پہنچانے کے بجائے جی ٹی او میں داخل کرتا ہے۔ اوج ارض کے قریب پہنچ کر سیارچہ اپنے اندر نصب اوج کے انجن کو چلاتا ہے، جس سے اس کے حضیض ارض کی بلندی بڑھ جاتی ہے اور مدار کو دائرہ نما بنایا جاتا ہے۔ مدار کو زمین کے استوائی مستوی کے مطابق ڈھالنے کے لیے مزید حرکات بھی درکار ہوسکتی ہیں۔ جغرافیائی مدار میں سیارچہ خط استوا کے اوپر زمین کی گردش کے برابر دورانیے کے ساتھ گردش کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زمین پر موجود کسی مبصر کو ایک ہی مقام پر ٹھہرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

کرایوجینک بالائی مرحلہ: کرایوجینک بالائی مرحلہ خلائی راکٹ کا آخری مرحلہ ہوتا ہے، جس میں مخصوص ایندھن اور آکسیڈائزر استعمال کرکے مطلوبہ مدار میں سیارچوں کو پہنچانے کے لیے درکار اعلیٰ کارکردگی حاصل کی جاتی ہے۔ اسرو کے ذریعہ تیار کردہ کرایوجینک بالائی مرحلے میں، جو جغرافیائی ہم آہنگ سیارچہ بردار راکٹ (جی ایس ایل وی) میں استعمال ہوتا ہے، مائع ہائیڈروجن بطور ایندھن اور مائع آکسیجن بطور آکسیڈائزر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان دونوں کو انتہائی کم درجۂ حرارت پر ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے نے جی ایس ایل وی کی ابتدائی پروازوں میں استعمال ہونے والے روس سے حاصل کردہ مرحلے کی جگہ لی، جس سے جدید خلائی راکٹ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت کے خود انحصاری کے عزم کو تقویت ملی۔

دوبارہ استعمال کیے جانے والے خلائی راکٹ )آر ایل وی(

دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹوں کی ٹیکنالوجیز راکٹ چھوڑنے کی لاگت کم کرنے اور عملی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ روایتی یک بار استعمال ہونے والے خلائی راکٹوں کے برعکس، دوبارہ استعمال کے قابل نظام اس طرح تیار کیے جاتے ہیں کہ ان کے اہم حصوں کو واپس حاصل کرکے آئندہ مشنوں میں دوبارہ استعمال کیا جاسکے۔ ان کی تیاری کے لیے فضا میں دوبارہ داخلے کے عمل کو قابو میں رکھنے، خودکار سمت طے کرنے، ہوائی حرکیات کے اصولوں کے مطابق پرواز اور انتہائی درست انداز میں لینڈنگ کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔اسرو نے اپنے پروں والے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹ کے تجرباتی نمونے پشپک کے ذریعے رن وے پر خودکار لینڈنگ کی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آر ایل وی کی لینڈنگ کے تین تجربات بالترتیب 2 اپریل 2023، 22 مارچ 2024 اور 23 جون 2024 کو مکمل کیے گئے۔ تیسرے تجربے، ایل ای ایکس-03، میں نسبتاً زیادہ  دشوار حالات میں، جن میں پرواز کے راستے سے افقی انحراف اور تیز ہوا کے اثرات شامل تھے، خودکار لینڈنگ کی صلاحیت کی توثیق کی گئی۔

 

اسکریم جیٹ ٹیکنالوجی: بھارت میں دوبارہ استعمال کے قابل خلائی نقل و حمل کو تقویت

اسکریم جیٹ (سُپرسونک کمبسشن ریم جیٹ) ہوا سے آکسیجن حاصل کرکے کام کرنے والا ایک جیٹ انجن ہے۔ یہ اپنے ساتھ صرف ایندھن لے جاتا ہے اور آکسیجن اردگرد کی فضا سے حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس، روایتی خلائی راکٹ ایندھن اور آکسیڈائزر دونوں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اسی لیے اسکریم جیٹ کا وزن نسبتاً کم ہوتا ہے اور یہ راکٹ کے پرواز کے وقت کے مجموعی وزن کے برابر وزن کے ساتھ زیادہ باربرداری کی صلاحیت فراہم کرسکتا ہے۔ یہ انجن صرف فضا میں انتہائی تیز رفتار پر کام کرتا ہے، اس لیے اسے مطلوبہ رفتار تک پہنچانے کے لیے پہلے ایک بوسٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی رفتار کو میک نمبر کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے۔ میک 1 آواز کی رفتار کے برابر ہوتا ہے، جب کہ میک 5 سے زیادہ رفتار کو انتہائی تیز رفتار کہا جاتا ہے۔اسکریم جیٹ ٹیکنالوجی دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹوں کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسے راکٹوں کے اہم حصوں کو واپس حاصل کرکے دوبارہ پرواز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے اخراجات کم ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ ٹیکنالوجی کم لاگت پر خلا تک رسائی کے لیے ایک امید افزا راستہ فراہم کرتی ہے۔بھارت نے 28 اگست 2016 کو اپنے اسکریم جیٹ انجن کی پرواز کی آزمائش کی۔ اس دوران اس نے میک 6 کی رفتار حاصل کی، جو انتہائی تیز رفتار کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ بھارت اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ 22 جولائی 2024 کو اسرو نے فضائی تنفس پر مبنی نظام دفع کے عملی مظاہرے اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے آر ایچ-560 تجرباتی راکٹ کی ایک تجرباتی پرواز بھی الگ سے انجام دی۔

 

دیسی ساختہ خلائی آلات اور اہم ٹیکنالوجیز

ہر خلائی مشن کا انحصار کئی اہم ٹیکنالوجیز پر ہوتا ہے، جن میں انجن، تھرسٹرز، ایندھن اور توانائی کے نظام شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کو بھارت میں ہی تیار کرنے سے بیرونی ممالک کے فراہم کنندگان پر انحصار کم کرنے اور ملک کی خود اپنے خلائی جہاز تیار کرنے اور انہیں چلانے کی صلاحیت مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اسرو مقامی طور پر نظام دفع کی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھا رہا ہے، جن میں برقی قوت دفع اور متبادل ایندھن شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مستقبل کے مشنوں کے لیے درکار ٹیکنالوجیز پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔ یہ کوششیں خلا ءکے شعبے میں طویل مدتی خود انحصاری کے بھارت کے ہدف کو آگے بڑھاتی ہیں۔

ترقی کا ایک اہم شعبہ برقی قوت دفع ہے، جس میں برقی توانائی کے ذریعے محرک مادے کو تیز رفتار دے کر دھکا پیدا کیا جاتا ہے۔ روایتی کیمیائی قوت دفع کے مقابلے میں، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت کم محرک مادہ استعمال کرتے ہوئے مدار میں وہی تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ اس سے سیارچے پر لے جانے والے ایندھن کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور مواصلاتی آلات اور دیگر سامان کے لیے زیادہ وزن کی گنجائش دستیاب ہوتی ہے۔

مورخہ27 مارچ 2025 کو اسرو نے اپنے ملک میں تیار کردہ 300 ملی نیوٹن اسٹیشنری پلازما تھرسٹر کا 1,000 گھنٹے کا آزمائشی دورانیہ کامیابی سے مکمل کیا۔ اس کی مخصوص قوتِ محرکہ، جو قوت دفع کی کارکردگی کو ناپنے کا پیمانہ ہے، روایتی قوت دفع کے نظاموں کے مقابلے میں کم از کم چھ گنا زیادہ ہے۔ اسرو اپنے ٹیکنالوجی مظاہراتی سیارچے (ٹی ڈی ایس-01)کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کی توثیق کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد مستقبل کے برقی قوت دفع سے چلنے والے سیارچوں کی مدد کرنا ہے، جن میں مدار کی بلندی بڑھانا اور سیارچے کو اس کے مقررہ مدار میں برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔

 راکٹ کا برقی قوت دفع کے ساتھ ساتھ، اسرو ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے اور قوت دفع کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متبادل محرک مادے بھی تیار کر رہا ہے، جسے ماحول دوست قوت دفع کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال اسروسین ہے، جو راکٹوں میں استعمال ہونے والا مخصوص معیار کا مٹی کا تیل ہے۔ نیم کرایوجینک راکٹ انجنوں میں استعمال کے لیے مائع آکسیجن اور مٹی کے تیل پر مشتمل محرک مادے تیار کیے جا رہے ہیں۔

ماحول دوست راکٹ کے قوت دفع کے شعبے میں پیش رفت صرف اسرو کے اپنے ترقیاتی پروگراموں تک محدود نہیں ہے۔ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم(ڈی آر ڈی او) کے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت، بنگلورو میں قائم بیلاٹرکس ایرو اسپیس نے خرد سیارچوں کی سمت کو قابو میں رکھنے اور انہیں مدار میں برقرار رکھنے کے لیے ایک نیوٹن قوت کے زمرے کا ماحول دوست یک جزوی محرک انجن تیار کیا۔ جنوری 2024 میں پی ایس ایل وی-سی 58 کے ذریعے خلاء میں بھیجے گئے ایک پے لوڈ پر اس انجن کی مداری فعالیت کا مظاہرہ کیا گیا۔

یہ پیش رفت بھارت میں مقامی طور پر برقی اور ماحول دوست راکٹ کی قوت دفع کی ٹیکنالوجیز کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔ مسلسل آزمائشوں اور توثیق کے عمل سے یہ طے کرنے میں مدد ملے گی کہ یہ ٹیکنالوجیز مستقبل کے خلائی مشنوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے کس حد تک تیار ہیں۔

 

ریڈیوآئسوٹوپ سے حرارت اور توانائی حاصل کرنے کی ٹیکنالوجیز

اسرو اور محکمۂ جوہری توانائی (ڈی اے ای) باہمی تعاون سے ریڈیوآئسوٹوپ ہیٹر یونٹس (آر ایچ یو)کی ضروریات پر کام کر رہے ہیں، جو حرارت فراہم کرتے ہیں، نیز ریڈیوآئسوٹوپ تھرمو الیکٹرک جنریٹرز (آر ٹی جی) کی ضروریات پر بھی تعاون کر رہے ہیں، جو ریڈیوآئسوٹوپس سے حاصل ہونے والی حرارت کو برقی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس تعاون کا مقصد مستقبل میں ممکنہ چندریان اور مریخ مشنوں میں ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کے امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضروریات کا تعین کرنا ہے۔


خلاء میں عملی سرگرمیاں اور انسانی خلائی پرواز

خلاء میں عملی سرگرمیوں سے مراد وہ کام ہیں جو خلائی جہاز مدار میں پہنچنے کے بعد انجام دیتے ہیں، مثلاً ایک دوسرے کے قریب آنا، باہم جڑنا اور الگ ہونا۔ کسی مصنوعی سیارے کو خلاء میں بھیجنا صرف پہلا قدم ہے؛ خلائی اسٹیشن، انسان بردار پرواز یا چاند سے نمونے واپس لانے جیسے پیچیدہ مشن اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ خلائی جہاز مدار میں پہنچنے کے بعد کیا کچھ انجام دے سکتے ہیں۔ جب مشترکہ مشن کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے کئی راکٹوں کے ذریعے خلائی جہاز روانہ کرنے کی ضرورت ہو تو خلاء میں جڑنے کی ٹیکنالوجی ناگزیر ہوتی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی چاند سے نمونے واپس لانے اور بھارتیہ انترکش اسٹیشن کی تعمیر و آپریشن جیسے منصوبوں کی بنیاد بھی ہے۔

اسرو کے اسپَیڈیکس مشن کے تحت پہلی بار 16 جنوری 2025 کو اس کے دونوں مصنوعی سیاروں کو باہم جوڑا گیا اور اس کے بعد انہیں الگ کرنے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ 20 اپریل 2025 کو 15 میٹر کے باہمی فاصلے سے دونوں مصنوعی سیاروں کو مکمل طور پر خودکار نظام کے ذریعے دوسری بار جوڑنے کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا۔ 21 اپریل 2025 کو باہم جڑے ہوئے مصنوعی سیاروں کے درمیان دونوں سمتوں میں برقی توانائی کی منتقلی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ اس طرح بھارت امریکہ، روس اور چین کے بعد خلاء میں دو خلائی جہازوں کو باہم جوڑنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ یہ کامیابی مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے درکار ٹیکنالوجیز کی ترقی میں بھی اہم پیش رفت ہے۔

خلائی جہازوں کو باہم جوڑنے کے علاوہ، یہ ٹیکنالوجی انہیں مدار میں مل کر کام کرنے کے قابل بھی بناتی ہے۔ مستقبل میں مدار ہی میں خلائی جہازوں میں ایندھن بھرنے، ان کی مرمت کرنے یا انہیں جدید بنانے کی سہولت فراہم ہو سکتی ہے، جس سے انہیں زمین پر واپس لانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اسپَیڈیکس مشن نے خلائی جہازوں کو جوڑنے، الگ کرنے اور توانائی کی منتقلی کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح کی کارروائیوں سے مصنوعی سیاروں کی مدتِ کار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور ان کی جگہ نئے مصنوعی سیارے بھیجنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ یہ کامیابیاں مستقبل میں مدار ہی میں خلائی جہازوں کی دیکھ بھال اور مرمت کی صلاحیتیں تیار کرنے کے لیے اہم تکنیکی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

اگلے سلسلے کے نیویگیشن اور مواصلاتی نظام

مصنوعی سیاروں پر مبنی نیویگیشن اور مواصلاتی نظام بھارت بھر میں بنیادی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نیویگیشن کے مصنوعی سیارے مقام، راستے کی رہنمائی اور وقت سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں، جب کہ مواصلاتی مصنوعی سیارے ٹیلی ویژن، ٹیلی فون، تیز رفتار انٹرنیٹ اور دیگر معلوماتی اشارے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔ یہ دونوں نظام مل کر نقل و حمل، مالی خدمات، دور مواصلات، آفات کے انتظام اور قومی سلامتی کے شعبوں کو سہارا دیتے ہیں۔ بھارت، اسرو کے تیار کردہ مقامی نیویک نیویگیشن نظام اور مواصلاتی مصنوعی سیاروں کے ذریعے ان صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

بھارتی مجموعۂ مصنوعی سیارگان پر مبنی نیویگیشن نظام (نیویک) بھارت کا خود مختار علاقائی مصنوعی سیارگان پر مبنی نیویگیشن نظام ہے، جسے اسرو نے تیار کیا ہے اور وہی اس کی دیکھ بھال بھی کرتا ہے۔ یہ بھارت بھر میں اور سرزمین ہند سے 1,500 کلومیٹر تک کے علاقے میں مقام، راستے کی سرزمین اور وقت سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔ نیویک عام شہریوں کے لیے معیاری مقام شناسی کی خدمت فراہم کرتا ہے، جب کہ مجاز صارفین کے لیے خفیہ اور محدود رسائی کی خدمت بھی دستیاب ہے۔ یہ صلاحیتیں زمینی، فضائی اور بحری سرزمین، نقشہ پیمائی، گاڑیوں کی نگرانی اور وقت کی درست پیمائش میں مدد دیتی ہیں۔ نیویک زمینی مواصلاتی نیٹ ورک کی حدود سے باہر کام کرنے والے ماہی گیروں کے لیے ہنگامی انتباہی پیغامات بھی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کو اس سے مطابقت رکھنے والے آلات اور اطلاقی پروگراموں میں شامل کرنے سے شہری اور اسٹریٹجک شعبوں میں اس کا استعمال مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، بھارت کے مواصلاتی مصنوعی سیارے نشریات، تیز رفتار انٹرنیٹ رابطے اور محفوظ مواصلات کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ جی سیٹ-24 کو 23 جون 2022 کو بھارتی معیاری وقت کے مطابق رات 03:20 بجے (مقامی وقت کے مطابق 22 جون کو) فرانسیسی گیانا کے کورو سے آریان-5 راکٹ کے ذریعے خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ اسے بھارت میں گھر تک براہ راست ٹیلی ویژن نشریات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس صلاحیت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، جی سیٹ-این 2 (جی سیٹ-20) کو 19 نومبر 2024 کو خلاء میں روانہ کیا گیا۔ یہ اعلیٰ گنجائش والا مصنوعی سیارہ تقریباً 48 گیگا بٹس فی سیکنڈ کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے بھارت بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور دورانِ پرواز رابطے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں دور دراز جزیرہ جاتی علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مواصلاتی مصنوعی سیارے بھارت کی دفاعی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔ سی ایم ایس-03، جسے جی سیٹ-7 آر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 2 نومبر 2025 کو خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ یہ بھارتی بحریہ کے لیے مخصوص ایک مواصلاتی مصنوعی سیارہ ہے۔ یہ مصنوعی سیارے بھارت کے خلائی مواصلاتی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہیں اور شہری رابطوں، بحری سرگرمیوں اور قومی سلامتی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

زمین کے مشاہدے کے جدید مصنوعی سیارے

زمین کے مشاہدے کے مصنوعی سیارے خلاء سے زمین، سمندروں، برف سے ڈھکے علاقوں اور فضائی کرہ کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار زراعت، آفات کے انتظام، آبی وسائل کی منصوبہ بندی، آب و ہوا سے متعلق تحقیق اور قومی سلامتی کے لیے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ دسمبر 2020 سے دسمبر 2025 کے درمیان اسرو نے 22 مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجے، جن میں زمین کے مشاہدے کے سات مصنوعی سیارے شامل تھے۔ یہ مصنوعی سیارے قدرتی وسائل کی نگرانی، ماحولیاتی تبدیلیوں کا سراغ لگانے اور مستند معلومات کی بنیاد پر منصوبہ بندی میں معاونت کے لیے تصاویر اور اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں۔ بھارت، ریڈار کے ذریعے تصویری عکس بندی اور طیفیاتی پیمائش کی جدید تکنیکوں سمیت جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے ان صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔

زمین کے مشاہدے کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ناسا اور اسرو کا مشترکہ مصنوعی روزن ریڈار مشن (نیسار) ہے۔ اسے 30 جولائی 2025 کو سری ہری کوٹا سے جی ایس ایل وی-ایف 16 راکٹ کے ذریعے خلاء میں روانہ کیا گیا۔ یہ پہلا مصنوعی سیارہ مشن ہے جس میں دو ریڈاری تعددوں کو بیک وقت استعمال کیا گیا ہے: ناسا کا ایل بینڈ اور اسرو کا ایس بینڈ۔ ریڈار بادلوں کی موجودگی اور اندھیرے میں بھی اعداد و شمار جمع کر سکتا ہے، جس سے دن اور رات، تقریباً ہر طرح کے موسمی حالات میں مشاہدہ ممکن ہوتا ہے۔ نیسار کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ ہر 12 دن میں زمین کی خشکی اور برف سے ڈھکی سطحوں کا مشاہدہ کرے۔ اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سائنس دانوں کو زمین کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں، گلیشیئرز کی نقل و حرکت، نباتات میں تبدیلیوں، مٹی میں نمی اور قدرتی آفات کے خطرات کی نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان مشاہدات سے ساحلی علاقوں کی نگرانی اور آفات سے نمٹنے کے اقدامات میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

جہاں ریڈار زمین کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے، وہیں کثیر طیفی تصویربرداری مختلف مادّوں اور سطحی خصوصیات کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔ اسرو نے 29 نومبر 2018 کو کثیر طیفیاتی تصویربرداری کے مصنوعی سیارے (ہائسس) کو خلاء میں روانہ کیا تھا۔ یہ مرئی روشنی، قریب زیریں سرخ اور مختصر موج والی زیریں سرخ شعاعوں کے حصوں میں زمین کی سطح کا مشاہدہ کرتا ہے۔ روشنی کے متعدد محدود طیفیاتی حصوں میں معلومات ریکارڈ کرنے کے باعث ہائسس ایسی خصوصیات میں فرق کر سکتا ہے جن کی شناخت عام تصویربرداری کے ذریعے آسانی سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار زراعت، جنگلات، مٹی اور ارضیاتی مطالعات، ساحلی علاقوں اور اندرونِ ملک آبی ذخائر سے متعلق کاموں میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

 

کیا آپ جانتے ہیں؟ہائسس کو آٹھ ممالک کے 30 غیر ملکی مصنوعی سیاروں کے ساتھ خلاء میں روانہ کیا گیا تھا۔ ان میں ایک خرد مصنوعی سیارہ اور 29 نینو مصنوعی سیارے شامل تھے۔ اس مشن میں آسٹریلیا، کینیڈا، کولمبیا، فن لینڈ، ملیشیا، نیدرلینڈز، اسپین اور امریکہ کے مصنوعی سیارے شامل تھے۔ ان میں سے 23 مصنوعی سیارے امریکہ کے تھے۔ اس پرواز نے بین الاقوامی صارفین کے لیے ایک ساتھ متعدد مصنوعی سیارے خلاء میں تعینات کرنے کی پی ایس ایل وی کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا۔

مستقبل کا لائحۂ عمل: 44 ارب امریکی ڈالر کی خلائی معیشت کی تشکیل

بھارت کا خلائی شعبہ سائنسی اور اسٹریٹجک مقاصد کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی، نجی سرمایہ کاری اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے میں بھی تیزی سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ محکمۂ خلاء کے مطابق، بھارت کی خلائی معیشت کو 2033 تک 44 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹ، فضا سے آکسیجن حاصل کرکے کام کرنے والے انجن، برقی قوت سے چلنے والے انجن اور خلاء میں خلائی جہازوں کو باہم جوڑنے جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اس ترقی کو آگے بڑھانے میں مدد دے رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ پیش رفت پہلے ہی معاشی مواقع پیدا کر رہی ہے۔ نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) نے اسرو کی تیار کردہ 83 ٹیکنالوجیز بھارتی صنعت کو منتقل کرنے کے لیے 118 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔ 31 مارچ 2026 تک بھارت کے خلائی شعبے کے نئے کاروباری اداروں میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 618.5 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جب کہ سرمایہ کاری کا رجحان ابتدائی مرحلے کی مالی معاونت سے بڑھ کر ترقی کے مرحلے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

مجموعی طور پر، یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کی ابھرتی ہوئی خلائی ٹیکنالوجیز نہ صرف ملک کی صلاحیتوں کو آگے بڑھا رہی ہیں بلکہ آنے والے برسوں کے لیے نجی کاروباری اداروں کی قیادت میں ایک مضبوط خلائی معیشت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

حوالہ جات:

محکمۂ خلاء

اسرو

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پی آئی بی ریسرچ

**********

ش ح۔ م ش ۔ ش  ہ ب

U. No-6842

 

(Explainer ID: 160607) आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Kannada