Rural Prosperity

سرس میلہ - 2026

دیہی خواتین کے کاروباری اداروں کو قومی منڈیوں تک پہنچانا

Posted On: 21 OCT 2026 11:03AM

مرکز کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سرس میلے (ایس اے آر ایس-‘سرس’ میلہ)، دین دیال انتودیہ یوجنا، قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی –این آر ایل ایم) کے تحت دیہی خواتین کاروباریوں کو وسیع تر منڈیوں، خریداروں اور کاروباری مواقع سے جوڑتے ہیں۔ وجے واڑہ میں منعقد ہونے والا سرس میلہ دہلی-این سی آر سے باہر منعقد ہونے والا پہلا قومی سرس میلہ ہے، جس میں34 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی خواتین کاروباری شرکت کر رہی ہیں۔

یہ پلیٹ فارم پائیدار ذریعۂ معاش کو فروغ دینے کے لیے ڈے اے وائی-این آر ایل ایم کی کوششوں کو تقویت دیتا ہے اور آمدنی میں اضافے کے‘لکھ پتی دیدی’ ویژن کی حمایت کرتا ہے۔ میلہ میں قائم کیے گئے خصوصی پویلین کاروباری سیکھنے، ادارہ جاتی تعاون اور کاروباری اداروں کی ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ای-سرس جیسے ڈجیٹل پلیٹ فارم  فزکل میلوں سے آگے بھی منڈیوں تک رسائی کو وسعت دیتے ہیں، جس سے دیہی خواتین کو اپنی مصنوعات وسیع تر منڈیوں تک پہنچانے میں مدد ملتی ہے۔

جہاں دیہی کاروبار کو مواقع میسر آتے ہیں

ہندوستان کی دیہی معیشت روایتی ہنر، دستکاری اور کاروباری صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ خواتین کے خود امدادی گروپ(ایس ایچ جیز) ان صلاحیتوں کو مقامی معیشت کا حصہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی تیار کردہ مصنوعات میں ہینڈلوم، دستکاری، پراسیس شدہ غذائی اشیا اور دیگر مقامی طور پر تیار کردہ اشیا شامل ہیں۔ تاہم، کسی مصنوعات کی تیاری صرف پہلا قدم ہے۔ دیہی کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے گاہکوں، منڈی سے متعلق معلومات اور ترقی کے مواقع کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

سرس میلہ خواتین کے زیرقیادت کاروباری اداروں کو صارفین، خریداروں اور اداروں کے قریب لا کر اس فاصلے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دین دیال انتودیہ یوجنا- قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت منعقد کیے جانے والے سرس میلوں نے تقریباً تین دہائیوں کے دوران نمایاں ترقی کی ہے۔ اب یہ محض نمائشوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ ایسی جگہ بن چکے ہیں جہاں مصنوعات فروخت کرنے، صارفین کی ترجیحات کو سمجھنے، کاروباری روابط قائم کرنے اور وسیع تر منڈیوں تک رسائی کے امکانات تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261021110628_9bb5b2.png

آندھرا پردیش کے شہر وجے واڑہ میں قومی سرس میلے(نیشنل سرس میلہ) کا انعقاد اس سفر میں ایک نئی جہت کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ دہلی-این سی آر خطے سے باہر منعقد ہونے والا پہلا قومی سرس میلہ ہے۔ یہ میلہ 13 اکتوبر 2026 سے 31 اکتوبر 2026 تک وجے واڑہ کے پُنّمی گھاٹ میں جاری ہے۔ اس میلہ میں34 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جیز)کی تقریباً 1,500 کاروباری خواتین اور لکھ پتی دیدیاں650 سے زائد اسٹالز کے ذریعے اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔ میلے میں علاقائی ٹیکسٹائل، دستکاری، قدرتی اور پراسیس شدہ غذائی اشیا اور دیہی علاقوں میں تیار کی جانے والی دیگر مصنوعات نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، انڈیا فوڈ کورٹ، ثقافتی پروگراموں اور سیکھنے کے لیے مخصوص مقامات نے بھی میلے کی رونق میں اضافہ کیا ہے۔

قومی سرس میلے کو مختلف علاقوں میں منعقد کرنے کا اقدام ترقی کے ایک وسیع تر نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد ہندوستان بھر میں قومی پلیٹ فارموں کو مصنوعات تیار کرنے والوں اور صارفین کے قریب لانا ہے۔ یہ اقدام مقامی ہنر کو نئی منڈیوں سے جوڑنے کے ساتھ خواتین کے زیرقیادت کاروباری اداروں کی ترقی میں بھی معاون ہے۔ یہ میلہ مستقبل میں دیگر قومی تقریبات کو بھی مختلف علاقوں میں منعقد کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے اور برکس اور جی-20  اجلاسوں جیسے بین الاقوامی پروگراموں کو علاقائی سطح پر منعقد کرنے کے طریقۂ کار سے ہم آہنگ ہے۔

دیہی ذریعۂ معاش سے منڈیوں تک رسائی: ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کا کردار

دین دیال انتودیہ یوجنا — قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم)، دیہی غربت میں کمی لانے اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے حکومت کا ایک اہم پروگرام ہے۔ یہ مشن خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جیز) اور ان کی تنظیموں کے ذریعے کام کرتا ہے، جبکہ مالی شمولیت اور پائیدار ذرائعٔ معاش کو فروغ دیتا ہے۔ یہ مشن خواتین کو ہنر، مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور ذریعۂ معاش کے مواقع تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعات کو نمایاں کرنے، برانڈنگ اور طبعی، ڈجیٹل اور ادارہ جاتی منڈیوں سے روابط قائم کرنے کے ذریعے خواتین کے زیرقیادت کاروباری اداروں کے لیے منڈی کے نظام کو بھی مضبوط بناتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261021110711_9b1e4e.png

 

منڈیوں سے یہ رابطہ اس لیے اہم ہے کیونکہ کاروباری ترقی کا انحصار صرف مصنوعات کی تیاری پر نہیں ہوتا۔ خواتین کو اپنی مقامی برادریوں سے باہر بھی اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع درکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہیں صارفین کی آرا، مصنوعات کو بہتر انداز میں پیش کرنے اور خریداروں کے ساتھ روابط قائم کرنے سے بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

سرس میلے ان ضروریات اور منڈی کے مواقع کے درمیان ایک عملی پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ میلے خود امدادی گروپوں(ایس ایچ جیز) کے کاروباری اداروں، صارفین، ادارہ جاتی خریداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔ کاروباری خواتین یہاں براہ راست اپنی مصنوعات فروخت کر سکتی ہیں، صارفین کی ترجیحات کا جائزہ لے سکتی ہیں اور ایسی شراکت داریوں کے امکانات تلاش کر سکتی ہیں جو میلہ کے اختتام کے بعد بھی برقرار رہیں۔

65 مستفیدین سے ایک قومی منڈی تک

سرس میلے  کا سفر 1999 میں شروع ہوا، جب دہلی میں تقریباً 65 مستفیدین کے ساتھ پہلے قومی سرس میلے کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ پلیٹ فارم قومی، علاقائی، ریاستی اور ضلع سطحوں تک وسعت اختیار کر چکا ہے۔

اب تک مجموعی طور پر 117 قومی سرس میلوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جبکہ ان کے ذریعے سالانہ فروخت 200 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے بھی ہر سال کم از کم دو ریاستی سطح کے سرس میلوں کا انعقاد کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں سالانہ اوسطاً تقریباً 50 میلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔

علاقائی اور ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے میلے مقامی مصنوعات تیار کرنے والوں کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع ان کے قریب فراہم کرتے ہیں۔ یہ تمام پلیٹ فارم مل کر نئی منڈیوں کی تلاش، برانڈنگ، خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان روابط قائم کرنے اور کاروباری اداروں کی ترقی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

 

لکھ پتی دیدی: ذریعۂ معاش کو مزید پائیدار بنانا

لکھ پتی دیدی اقدام، دین دیال انتودیہ یوجنا — قومی دیہی روزگار مشن(ڈے اے وائی-این آر ایل ایم) کے تحت شروع کیا گیا ایک ایسا پروگرام ہے جس کا مقصد ذریعۂ معاش کے شعبہ میں ٹھوس نتائج حاصل کرنا ہے۔ یہ خود امدادی گروپوں(ایس ایچ جیز) اور ان کی تنظیموں کے ذریعے منظم خواتین کے نیٹ ورک کو بنیاد بناتا ہے۔ اس کا مقصد متنوع ذرائعٔ معاش کے مواقع فراہم کرکے خواتین اور ان کے خاندانوں کو پائیدار آمدنی حاصل کرنے میں مدد دینا ہے۔

لکھ پتی دیدی ایسی خاتون ہوتی ہے جو خود امدادی گروپ کی رکن ہو اور جس کے خاندان کی سالانہ آمدنی پائیدار بنیادوں پر کم از کم ایک لاکھ روپے ہو۔ اس کا جائزہ کم از کم چار زرعی موسموں اور/یا کاروباری ادوار کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

اگست-2023 میں حکومت نے دو کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کا ہدف مقرر کیا، جس سے اس اقدام کو قومی سطح پر مزید تقویت ملی۔ بعد ازاں عبوری بجٹ 2024-25 میں اس ہدف کو بڑھا کر تین کروڑ کر دیا گیا۔ اس کے بعد دسمبر- 2025 تک اس اقدام نے تین کروڑ لکھ پتی دیدیوں کا سنگ میل حاصل کر لیا۔

فروری-2026 میں حکومت نے چھ کروڑ لکھ پتی دیدیاں بنانے کا نیا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس اگلے مرحلے میں آمدنی میں اضافے کو برقرار رکھنے اور کاروباری اداروں کی ترقی میں مدد دینے پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے منڈیوں تک رسائی، مصنوعات کو نمایاں کرنا، برانڈنگ اور فروخت کے قابل اعتماد ذرائع نہایت اہم ہیں۔

سرس میلے ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنے سے آگے بڑھ کر کاروباری اداروں کی ترقی کی جانب اس سفر میں معاون ہیں۔ ان کے ذریعہ بڑی مقدار میں آرڈرز حاصل کرنے، ادارہ جاتی فروخت بڑھانے اور طویل مدتی تجارتی روابط قائم کرنے کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ وجے واڑہ کا سرس میلہ کامیاب کاروباری خواتین کے لیے مخصوص مقامات، کاروباری تربیت اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رابطے کو عملی شکل دیتا ہے۔ خواتین یہاں اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ بانٹ سکتی ہیں، نئے طریقے سیکھ سکتی ہیں اور اپنے کاروبار کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات تلاش کر سکتی ہیں۔

وجے واڑہ: علاقائی رسائی کے ساتھ ایک قومی منڈی

وجے واڑہ کا سرس میلہ ہندوستان بھر کی مصنوعات اور روایات کو ایک ہی منڈی میں یکجا کرتا ہے۔ یہاں آنے والے افراد پنجاب کی پھلکاری، جموں و کشمیر کی پشمینہ، تلنگانہ کے اکاٹ اور تیلیا ٹیکسٹائل اور میزورم کی پاؤنجئی جیسی روایتی مصنوعات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔میلے کے اسٹالوں پر میناکاری، ڈوکرا آرٹ، پیتل کا کام، لکڑی کی دستکاری اور روایتی مصوری کے نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261021110744_2fb9d1.png

ایک16 فٹ بلند تنصیب، جس کا عنوان‘‘شکتی — لکھ پتی دیدی کی روح’’ ہے، جو اس میلے کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔ یہ تنصیب ان خواتین کی اجتماعی طاقت کی علامت ہے جو روایتی دستکاری کو محفوظ رکھتی ہیں اور اپنی مہارتوں کو ذریعۂ معاش، خودمختاری اور خوشحالی میں تبدیل کرتی ہیں۔

اس میلے کو حکومت کے مختلف شراکت دار اداروں کی معاونت حاصل ہے، جن میں قومی بینک برائے زراعت و دیہی ترقی(این اے بی اے آر ڈی-نابارڈ) اور قومی ادارہ برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج(این آئی آر ڈی پی آر) شامل ہیں۔ میلے کا ڈھانچہ براہ راست فروخت کے ساتھ سیکھنے، عملی مظاہروں اور اداروں سے روابط قائم کرنے کے مواقع کو یکجا کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ تقریب نہ صرف آنے والوں کے لیے مفید ہو بلکہ ان کاروباری خواتین کے لیے بھی معاون ثابت ہو جو پائیدار کاروبار قائم کرنا چاہتی ہیں۔

ایسے مقامات  مصنوعات، مہارتوں اور مواقع کو آپس میں جوڑتے ہیں

وجے واڑہ کا قومی سرس میلہ روایتی نمائش اور خرید و فروخت کے دائرے سے آگے بڑھتے ہوئے موضوعاتی، معلوماتی اور باہمی روابط کے لیے مخصوص مختلف مقامات قائم کر رہا ہے۔ ان مقامات کے ذریعے کاروباری اداروں کو اپنی مصنوعات پیش کرنے، ایک دوسرے سے سیکھنے، معلومات کا تبادلہ کرنے، سرکاری اداروں اور منڈی کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون بڑھانے، مصنوعات کی تیاری کے عملی مظاہرے کرنے اور خریداروں و فروخت کنندگان کے درمیان منظم روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

لکھ پتی دیدی پویلین: کاروباری سفر سے سیکھنے کے مواقع

لکھ پتی دیدی پویلین میں ان خواتین کو نمایاں کیا گیا ہے جنہوں نے کامیاب کاروباری ادارے قائم کیے ہیں۔ اس میں ایسی کاروباری خواتین شامل ہیں جن کی سالانہ آمدنی 10لاکھ روپے سے زیادہ ہے، جبکہ بعض خواتین کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔یہ خواتین اپنے کاروباری سفر، مصنوعات، کاروباری ماڈلز اور منڈی سے متعلق حکمت عملیوں کے بارے میں خود امدادی گروپوں(ایس ایچ جیز) کی دیگر ارکان کو آگاہ کرتی ہیں۔ ان کی کہانیاں کاروباری ترقی کے مختلف راستوں کو اجاگر کرتی ہیں، جن میں زراعت، غیر زرعی ذرائع معاش، غذائی اشیا کی پراسیسنگ، دستکاری، ہینڈلوم اور خدمات کے شعبے شامل ہیں۔ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے ذریعے خواتین اپنی مہارتوں اور حالات کے مطابق موزوں طریقے اختیار کر سکتی ہیں۔

سیکھنے اور معلومات کا پویلین: کاروباری مہارتوں کو فروغ دینا

معیاری مصنوعات کے لیے مضبوط کاروباری طریق کار بھی ضروری ہے۔ سیکھنے اور معلومات کا پویلین خود امدادی گروپوں کی کاروباری خواتین، ریاستی دیہی روزگار مشنوں(ایس آر ایل ایمس)، خریداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان ورکشاپس، ماہرین کے خطابات، ماسٹر کلاسز اور تجربات کے تبادلے کے اجلاسوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

ان سرگرمیوں میں پیکیجنگ، برانڈنگ، کاروباری تجاویز تیار کرنے، ای کامرس اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سرکاری اداروں اور نجی شعبہ کی تنظیموں کے ساتھ رابطوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان میں این اے بی اے آر ڈی-نابارڈ ، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف آئی سی سی آئی-فکی)، کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری(سی آئی آئی) ، آئی ٹی سی(آئی ٹی سی، ہندوستان یونی لیور، ایمازون اور فلپ کارٹ شامل ہیں۔ اس طرح کے روابط کاروباری خواتین کو مصنوعات کی بہتر پیشکش اور صارفین تک رسائی کے لیے عملی ذرائع اور طریقے سیکھنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

اشتراکی پویلین: خواتین کو معاونت سے جوڑنا

کسی کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اکثر منڈی تک رسائی کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروباری خواتین کو قرض، ہنر، ٹیکنالوجی، معیار کی تصدیق اور سرکاری معاونت بھی درکار ہوتی ہے۔اشتراکی پویلین خود امدادی گروپوں کی کاروباری خواتین کو متعلقہ سرکاری محکموں، مالیاتی اداروں، ترقیاتی ایجنسیوں اور تکنیکی اداروں کے ساتھ ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ ان اداروں اور پلیٹ فارموں میں قبائلی امور کی وزارت، وزارت  مائیکرو،اسمال، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں، وزارت ٹیکسٹائل، اوپن نیٹ ورک فار ڈجیٹل کامرس(او این ڈی سی)، گورنمنٹ ای - مارکیٹ پلیس(جی ای ایم) اور ٹرائی فیڈ(ٹی آر آئی ایف ای ڈی) شامل ہیں۔

اس پویلین کا مقصد خواتین کو متعلقہ سرکاری اسکیموں، خدمات اور معاونتی نظاموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار کی ترقی کے لیے دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔

 نمائشی پویلین: مصنوعات کی تیاری کے طریقوں کی نمائش

تیار شدہ مصنوعات کے پیچھے اکثر ہنر، وقت اور مخصوص تکنیکوں کی ایک پوری کہانی ہوتی ہے۔ نمائشی-مظاہراتی پویلین میں آنے والوں کو ان مصنوعات کی تیاری کا عمل براہ راست دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔خواتین کاروباری افراد اور دستکار روایتی اور جدید طریقوں سے مصنوعات تیار کرنے کے عملی مظاہرے پیش کر رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں مٹی کے برتن بنانا، سوئی سے کڑھائی اور شیشوں کے ٹکڑوں سے مزین کڑھائی شامل ہیں۔لکھ پتی دیدیوں کی جانب سے کیے جانے والے براہ راست مظاہرے عملی تربیت اور معلومات کے تبادلے کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ان سے  دیکھنے والوں کو ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات کے پیچھے موجود دستکاری اور محنت کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس سلسلے میں‘‘مظاہرے اور براہ راست سیکھنے کا علاقہ’’ (ڈیمو اینڈ لائیو لرننگ ایریا) ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261021110818_fbfa57.png

انڈیا فوڈ کورٹ: علاقائی ذائقے اور خواتین کی کاروباری سرگرمیاں

کھانے پینے کا شعبہ بھی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے دیہی کاروباری سرگرمیاں صارفین تک پہنچتی ہیں۔ انڈیا فوڈ کورٹ میں50 فوڈ اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جہاں خالص مصالحوں کا استعمال کرتے ہوئے روایتی طریقوں سے تیار کیے جانے والے مختلف علاقوں کے پکوان پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس تقریب میں28 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والی200 سے زیادہ ایسی خواتین کاروباری شخصیات حصہ لے رہی ہیں، جنہوں نے پہلی مرتبہ فوڈ سروس کے شعبے میں اپنا کاروبار شروع کیا ہے۔یہاں آنے والے افراد گول گپے، چاٹ اور کباب جیسے مقبول اسٹریٹ فوڈ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مختلف علاقوں کے خصوصی پکوانوں میں بہار کا لِٹّی چوکھا، حیدرآبادی دم بریانی، آسام کا مشروم پیٹھا اور پنجاب کی مکئی کی روٹی اور سرسوں کاساگ شامل ہیں۔ دیگر پکوانوں میں کیرالہ کے اٹّاپڈی کا وانا سندری اور چھتیس گڑھ کا چاؤسیلا بھی شامل ہیں۔فوڈ کورٹ خواتین کو قومی سطح پر اپنے علاقائی کھانوں اور روایتی پکوانوں کی ثقافت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری اداروں کی وسیع تر داستان میں کھانے کی تیاری اور خدمات کی فراہمی سے وابستہ کاروبار کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261021110856_88b658.png

ثقافتی مظاہرے: ہندوستان کے تنوع کا جشن

ثقافتی پروگراموں میں شرکت کرنے والے علاقوں کے روایتی فنون، دست کاری، ملبوساتی کپڑوں، موسیقی اور رقص کو پیش کیا جاتا ہے، جس سے یہاں آنے والوں کو ملک کی ثقافتی رنگا رنگی کا بھرپور تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ ثقافتی مظاہرے نمائش میں رکھی گئی متعدد مصنوعات سے وابستہ ورثے کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شرکت کرنے والی ریاستوں کو اپنی منفرد ثقافتی شناخت پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

ڈجیٹل انضمام: روایتی اسٹالز سے ڈجیٹل منڈیوں تک

سارس میلے میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں ڈجیٹل ادائیگیاں اہم محرک کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یو پی آئی کے ذریعے لین دین آسان اور شفاف ادائیگیوں کو ممکن بناتا ہے، جبکہ فوڈ کورٹ میں بنیادی طور پر نقد رقم کے بغیر لین دین کیا جاتا ہے۔ تاہم، بزرگ شہریوں اوریہاں آنے والوں  کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو نقد ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں، کوپن کے ذریعے نقد ادائیگی کی سہولت بھی دستیاب ہے، تاکہ ہر شخص کے لیے ایک جامع، آسان اور بلارکاوٹ تجربہ یقینی بنایا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image008_20261021110921_1da6aa.png

 

مزید برآں، بازار تک رسائی کا موقع میلے کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ڈجیٹل ذرائع کاروباری اداروں کو تقریب کے بعد بھی اور جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر صارفین تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی لیے سارس کا نظام روایتی میلوں کو سارس گیلری اور ای- کامرس کے ذرائع کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ ای -سارس  پلیٹ فارم صارفین کو خود امدادی گروپوں(ایس ایچ جیز) سے وابستہ کاروباری خواتین کی تیار کردہ مصنوعات تلاش کرنے اور خریدنے کے لیے آن لائن سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس طرح بازار تک رسائی کا دائرہ بالمشافہ فروخت سے آگے بڑھ جاتا ہے اور میلے کے اختتام کے بعد بھی مصنوعات کو صارفین کی نظروں میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سارس میلہ ڈجیٹل ایپ-2025 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ یہ خود امدادی گروپوں کی نامزدگی، حاضری کے انتظام اور تقریب سے متعلق معلومات کے تبادلے میں معاونت کرتی ہے۔ اس طرح، روایتی تقریبات اور ڈجیٹل ذرائع مل کر بازار تک رسائی کے ایک دوسرے کے تکمیلی راستے فراہم کرتے ہیں۔ سارس میلہ صارفین اور خریداروں سے براہ راست رابطے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ آن لائن ذرائع مصنوعات کی تلاش اور فروخت کو تقریب کے اختتام کے بعد بھی وسعت دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔

قومی منڈیوں تک رسائی کو علاقائی سطح تک وسعت دینا

وجے واڑہ میں منعقد ہونے والا قومی سارس میلہ بازار تک رسائی کے اس پلیٹ فارم کو ایک نئے خطے تک وسعت دینے کی نمائندگی کرتا ہے۔ مختلف مقامات پر قومی تقریبات کا انعقاد انہیں مقامی صارفین، خریداروں اور ادارہ جاتی شراکت داروں کے مزید قریب لا سکتا ہے۔ اس سے مختلف ریاستوں کے دست کاروں اور مصنوعات تیار کرنے والوں کو وسیع تر منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ یہ طریق کار دین دیال انتودیہ یوجنا- قومی دیہی روزگار مشن(ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) اور لکھ پتی دیدی پہل کے وسیع تر مقاصد کی تکمیل میں معاون ہے۔ خواتین کو پائیدار ذریعۂ معاش کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی مصنوعات کی قدر میں اضافہ کرنے اور فروخت کو وسعت دینے کے مواقع بھی درکار ہیں۔ ایسے پلیٹ فارم جو فروخت، سیکھنے کے مواقع اور ادارہ جاتی روابط کو یکجا کرتے ہیں، اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دہلی-این سی آر خطے سے باہر منعقد ہونے والا یہ قومی سارس میلہ  یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہونے والے ‘سیوا پکھواڑہ’ کے دوران حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے۔ سارس میلے‘ووکل فار لوکل’ اور ‘آتم نربھر بھارت’ کے ویژن کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ یہ صارفین کو دیہی مصنوعات دریافت کرنے اور انہیں تیار کرنے والی خواتین کاروباری شخصیات سے براہ راست ملنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح روایتی ہنر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

قومی سارس میلے کا بنیادی مقصد ہر مصنوعات، ہر دست کاری اور ہر کاروباری ادارے کے پیچھے موجود خواتین کو نمایاں کرنا اور اس سفر کو آگے بڑھانا ہے جو ہنر سے کاروبار، کاروبار سے منڈی اور منڈی سے پائیدار ذریعۂ معاش تک پہنچتا ہے۔

 

حوالہ جات

Ministry of Rural Development

https://www.esaras.in/

https://x.com/esarasaajeevika?lang=en

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2322458&reg=48&lang=1

Ministry of Electronics & Information Technology

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.esaras&hl=en_IN

President’s Secretariat

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2323813&reg=48&lang=2

Government of Telangana

https://www.efms.serp.telangana.gov.in/Livelihoods/SARAS/Views/SarasHome.aspx

               

Click to see pdf

***

ش ح-ظ الف- م ش

UR No. 6394

(Explainer ID: 160518) आगंतुक पटल : 5
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी