Infrastructure

کشمیر کو جوڑنا: ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر

Posted On: 17 OCT 2026 11:29AM

جموں و کشمیر کا دشوار گزار خطہ رفتہ رفتہ رابطے کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اودھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک نے وادی کو ملک کے باقی حصوں کے ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا ہے۔ اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت چناب ریلوے پل ہے، جو دنیا کا بلند ترین ریلوے آرچ پل ہے۔ وندے بھارت ایکسپریس کی خدمات میں توسیع سے مسافروں کی آمد و رفت مزید آسان ہو رہی ہے۔ نئے مال برداری ٹرمینلوں کے ذریعے کشمیری سیب، زعفران اور دست کاری کی مصنوعات کو ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے میں مدد مل رہی ہے، جس سے کسانوں اور تاجروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

سڑک رابطے کے شعبے میں سونمرگ اور زوجیلا سرنگوں سے لداخ تک سال بھر بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانے کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔ ہوائی رابطے کو بہتر بنانے کے لیے سری نگر ہوائی اڈے کی توسیع اور اودھم پور و کشتواڑ میں نئے ہوائی رابطہ مراکز کی ترقی سمیت مختلف اقدامات جاری ہیں۔ یہ تمام پیش رفت کشمیر کی زرعی و دست کاری کی مصنوعات، تجارت اور سیاحت کو ملک کے دیگر حصوں سے مزید مضبوطی کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔

خطے کو دوبارہ ریل نیٹ ورک سے جوڑنا

جموں و کشمیر کا پہاڑی خطہ طویل عرصے سے رابطے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں کے دوران صورتِ حال میں مسلسل تبدیلی آئی ہے۔ بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی ایک نئی لہر نے خطے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کے طریقے کو نئی شکل دی ہے۔ اودھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) پروجیکٹ اس توسیع کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ آزادی کے بعد ملک میں شروع کیے گئے مشکل ترین ریلوے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ آج اسے ہندوستان کی انجینئرنگ کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے وادیٔ کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے ریل کے ذریعے جوڑ دیا ہے۔

یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ سڑکوں، سرنگوں اور ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مسلسل وسعت دی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں بڑی سڑکوں اور سرنگوں کے علاوہ وندے بھارت ایکسپریس جیسی نئی ریل خدمات بھی شامل ہیں۔ سری نگر ہوائی اڈے کی گنجائش میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اُڑان اسکیم کے تحت علاقائی ہوائی اڈوں کو ترقی دینے کا منصوبہ ہے، جس سے مسافروں کی آمد و رفت میں اضافے کی توقع ہے۔ کثیر ذرائعی مال برداری کے ٹرمینل اور مال برداری کی بہتر خدمات پورے خطے میں سامان کی نقل و حمل کو آسان بنا رہی ہیں۔ ان پیش رفتوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورک کو مسلسل وسعت ملی ہے اور ہر موسم میں بلا تعطل سفر کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

ریلوے: کشمیر کو قومی ریل نیٹ ورک سے جوڑنا

اودھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) قومی پروجیکٹ

یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کا افتتاح جون 2025 میں کیا گیا، جس سے ہمالیائی خطے میں رابطے کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر تقویت ملی۔ 43,780 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ پروجیکٹ جموں و کشمیر کے اودھم پور، ریاسی، رام بن، سری نگر، اننت ناگ، پلوامہ، بڈگام اور بارہمولہ اضلاع سے گزرتا ہے۔

یہ منصوبہ ہمالیہ کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں 272 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں مجموعی طور پر 119 کلومیٹر طویل 36 سرنگیں اور 943 پل شامل ہیں۔ خطے کے دشوار گزار جغرافیائی حالات کے مطابق تیار کیا گیا یہ منصوبہ دور دراز علاقوں کو قومی ریل نیٹ ورک سے جوڑتا ہے، جس سے نقل و حمل، تجارت اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے تحت مقامی آبادی کی سہولت کے لیے 215 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں بھی تعمیر کی گئی ہیں، جن میں ایک سرنگ اور 320 پل شامل ہیں۔ مزید برآں، اس پروجیکٹ کے تحت ریلوے لائن کی مکمل برقی کاری کی گئی ہے، جس میں سرنگوں کے اندر اور کھلے حصوں میں بچھائی گئی پٹریاں بھی شامل ہیں۔

یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ نے خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے اہم اثرات میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے نتیجے میں روزگار کے 5 کروڑ سے زیادہ انسانی یومِ کار (مین ڈیز) پیدا کیے گئے۔

وندے بھارت ایکسپریس

تصویر 1: جموں و کشمیر میں وندے بھارت ایکسپریس

وندے بھارت ایکسپریس نے جون 2025 میں پہلی بار جموں و کشمیر میں کٹرا اور سری نگر کے درمیان اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ ریل رابطے کو مزید بہتر بنانے کے لیے سری نگر–کٹرا وندے بھارت ایکسپریس سروس کو اپریل 2026 میں جموں توی ریلوے اسٹیشن تک توسیع دی گئی۔

اب جموں سے سری نگر کا سفر پانچ گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ٹرین کے ڈبوں کی تعداد 8 سے بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے۔ ان ٹرینوں کو خاص طور پر شدید موسمی حالات میں چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ جدید ترین نظامِ کار اور الیکٹرانک آلات سے لیس ہیں، جو بلند پہاڑی علاقوں میں آپریشن کے لیے موزوں ہیں۔

اس راستے پر برف ہٹانے والی ایک خصوصی ٹرین بھی فراہم کی گئی ہے، جو پٹریوں سے برف صاف کرنے اور سال بھر ریل خدمات جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید برآں، زلزلے کے جھٹکوں کو جذب کرنے کے لیے خصوصی ڈیمپرز نصب کیے گئے ہیں، جو زلزلے کے زیادہ خطرے والے اس خطے میں سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے تحت انجینئرنگ کی نمایاں کامیابیاں

یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے تحت انجینئرنگ کی کئی اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، جن میں چناب ریل پل، انجی کھڈ پل اور ٹی 50 سرنگ شامل ہیں۔

چناب ریل پل

یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے تحت جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں دریائے چناب پر دنیا کا بلند ترین ریلوے محرابی پل تعمیر کیا گیا ہے۔ چناب پل کا افتتاح جون 2025 میں کیا گیا تھا۔ یہ 1,315 میٹر طویل ہے، جبکہ اس کے محراب کا پھیلاؤ 467 میٹر ہے۔ یہ دریا کی تہہ سے 359 میٹر بلند ہے، جس کی وجہ سے یہ ایفل ٹاور سے بھی بلند ہے۔

اس پل کو زلزلے کے شدید جھٹکوں اور تیز رفتار ہواؤں کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پل پر وندے بھارت ایکسپریس کی خدمات شروع ہونے سے جموں اور کشمیر کے درمیان ریل رابطے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

تصویر 2: جموں و کشمیر میں چناب ریل پل

انجی کھڈ پل

تصویر 3: جموں و کشمیر میں انجی کھڈ پل

انجی کھڈ پل ہندوستان کا پہلا کیبل اسٹیڈ ریلوے پل ہے، جو دریائے چناب کے معاون دریا، انجی، کی گہری گھاٹی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ پل اودھم پور–سری نگر–بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) پروجیکٹ کا حصہ ہے اور اس کا افتتاح جون 2025 میں کیا گیا تھا۔

یہ پل جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں واقع ہے۔ اسے الٹے انگریزی حرف ’’Y‘‘ کی شکل کے ایک 193 میٹر بلند ٹاور کے ذریعے سہارا دیا گیا ہے، جس سے مضبوط کیبلیں منسلک ہیں۔ پل کے مرکزی حصے کی مجموعی لمبائی 473.25 میٹر ہے۔ اس کا ڈیزائن خطے کے دشوار گزار جغرافیائی حالات اور زلزلے کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

ٹی 50 سرنگ

تصویر 4: جموں و کشمیر میں ٹی 50 سرنگ

ٹی 50 سرنگ، جس کا افتتاح 2024 میں کیا گیاتھا، جموں و کشمیر میں کھڑی اور سنبر کو ملانے والی 12.77 کلومیٹر طویل ریلوے سرنگ ہے۔ یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ کے تحت تعمیر کی گئی یہ سرنگ ہندوستان کی طویل ترین ٹرانسپورٹ سرنگ ہے۔ یہ وادیٔ کشمیر اور ملک کے باقی حصوں کے درمیان ایک اہم ریل رابطہ فراہم کرتی ہے۔

ہمالیہ کے پیچیدہ ارضیاتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سرنگ کی تعمیر کے لیے نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) استعمال کیا گیا۔ تعمیر کے دوران پانی کے شدید رساؤ، زمین کھسکنے، فالٹ زونز اور شکستہ آتش فشانی چٹانوں جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سرنگ ایک مرکزی سرنگ اور اس کے متوازی ایک ہنگامی اخراج کی سرنگ پر مشتمل ہے۔ حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دونوں سرنگوں کو ہر 375 میٹر کے فاصلے پر باہم ملایا گیا ہے۔ مزید برآں، ہر 50 میٹر پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے سرنگ کی نگرانی مرکزی کنٹرول روم سے کی جا سکتی ہے۔

ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے معاون اقدامات

جموں و کشمیر میں ریل رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور ریلوے نیٹ ورک کی ترقی پر سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیے ریلوے کا اوسط سالانہ بجٹ 2009–14 کے دوران 1,044 کروڑ روپے تھا، جو 2026–27 میں بڑھ کر 1,086 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔

برقی کاری

ہندوستانی ریلوے نے مشن موڈ میں ریلوے لائنوں کی برقی کاری کا عمل آگے بڑھایا ہے۔ اب ملک کے تقریباً 99.6 فیصد براڈ گیج (بی جی) ریلوے نیٹ ورک کو برقی بنایا جا چکا ہے۔ جموں و کشمیر میں موجود پورا براڈ گیج ریلوے نیٹ ورک بھی برقی ہو چکا ہے۔ تمام نئی ریلوے لائنوں اور متعدد پٹریوں کی تعمیر کے منصوبوں کو ابتدا ہی سے برقی کاری کے انتظامات کے ساتھ منظوری دی گئی ہے اور ان پر اسی کے مطابق کام کیا جا رہا ہے۔

ریلوے اسٹیشنوں کی ازسرِنو ترقی

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ہندوستانی ریلوے کے 1,340 اسٹیشنوں کو ازسرِنو ترقی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں جموں و کشمیر کے چار اسٹیشن شامل ہیں: بڈگام، جموں توی، شہید کیپٹن تشار مہاجن (اودھم پور) اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا ریلوے اسٹیشن۔

علاقائی ریلوے کے دیگر اقدامات

جموں و کشمیر کے سرحدی اور تزویراتی لحاظ سے اہم علاقوں میں ریلوے رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے کئی منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں درج ذیل منصوبے شامل ہیں:

  • جالندھر کینٹ–جموں توی کے درمیان تیسری ریلوے لائن — 216 کلومیٹر
  • جموں اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا کے درمیان اضافی ریلوے لائن — 78 کلومیٹر
  • جموں/ریاسی اور پونچھ کے درمیان نئی ریلوے لائن — 190 کلومیٹر

سڑکیں: سڑک رابطے کو مضبوط بنانا

ریلوے رابطے کی تکمیل میں سڑکوں کا کردار

ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ ریلوے نیٹ ورک سے باہر واقع علاقوں تک آخری مرحلے کا رابطہ فراہم کرنے میں سڑکیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی–4) کے تحت اگست 2026 میں مجموعی طور پر 598.455 کلومیٹر طویل 110 سڑکوں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ 1,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت والے ان منصوبوں سے اودھم پور–کٹھوعہ–ڈوڈہ–کشتواڑ کے علاقے کے 46,972 افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

ان منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر کے متعدد پیکجوں میں استعمال شدہ پلاسٹک کے فضلے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے سڑکوں کی تعمیر کو زیادہ پائیدار اور ماحول دوست بنانے میں مدد ملے گی۔

ہمالیائی خطے میں سرنگوں کی تعمیر بھی ترقی کا ایک اہم جزو بن گئی ہے۔ اس کا مقصد ہر موسم میں ٹریفک کی بلا تعطل آمد و رفت کو یقینی بنانا، سڑکوں کی حفاظت بہتر بنانا اور تزویراتی لحاظ سے اہم علاقوں تک رسائی کو آسان بنانا ہے۔

سونمرگ(زیڈ موڑ) سرنگ

تصویر 5: جموں و کشمیر میں سونمرگ سرنگ

سونمرگ سرنگ پروجیکٹ، جسے زیڈ موڑ سرنگ (Z-Morh Tunnel) بھی کہا جاتا ہے، کا افتتاح جنوری 2025 میں کیا گیا تھا۔ یہ 6.4 کلومیٹر طویل دو رویہ سرنگ ہے، جس کے ساتھ 6.4 کلومیٹر طویل متوازی ہنگامی اخراج کی سرنگ اور 5.5 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک بھی ہے۔ 2,700 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کی گئی یہ سرنگ سطح سمندر سے 2,634 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

یہ سرنگ سری نگر سے لیہہ تک سونمرگ کے راستے سال بھر بلا تعطل سڑک رابطہ فراہم کرتی ہے۔ اس کی تعمیر سے سڑک کے ان حصوں کو نظرانداز کرنا ممکن ہوا ہے جہاں برفانی تودے گرنے اور زمین کھسکنے کا خطرہ رہتا ہے۔ یہ سرنگ سونمرگ کو سال بھر سیاحوں کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے، جس سے موسمِ سرما کی سیاحت، مہم جوئی پر مبنی کھیلوں اور مقامی لوگوں کے ذرائع معاش کو فروغ ملتا ہے۔ زوجیلا سرنگ کے ساتھ مل کر یہ پروجیکٹ قومی شاہراہ 1 کے متعلقہ حصے کی لمبائی 13 کلومیٹر سے کم کرکے 11.98 کلومیٹر کرنے میں مدد دے گا۔

زوجیلا سرنگ

زوجیلا سرنگ 13.153 کلومیٹر طویل دو رویہ سرنگ ہے، جو قومی شاہراہ 1 پر بالتال اور مینا مرگ کے درمیان تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس پروجیکٹ پر نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) عمل درآمد کر رہی ہے۔ سطح سمندر سے 2,900 سے 3,310 میٹر کی بلندی پر واقع اس سرنگ کے منصوبے کی لاگت 6,808 کروڑ روپے ہے۔ اس کا مقصد جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر ہر موسم میں سڑک رابطہ برقرار رکھنا ہے۔

اس منصوبے پر تعمیراتی کام اکتوبر 2020 میں شروع ہوا تھا۔ جون 2026 میں مرکزی سرنگ کی کھدائی دونوں جانب سے آگے بڑھتے ہوئے باہم ملنے کے مرحلے تک پہنچ گئی۔

تصویر 6: جموں و کشمیر میں زوجیلا سرنگ

یہ سرنگ جدید نظامِ ہوا رسانی، خودکار آگ کا پتا لگانے کے نظام، سی سی ٹی وی نگرانی، متغیر پیغاماتی نشانات (وی ایم ایس)، نگرانی، کنٹرول اور ڈیٹا کے حصول کے نظام (ایس سی اے ڈی اے) اور دیگر جدید حفاظتی و ٹریفک انتظامی نظاموں سے لیس ہوگی۔

اس منصوبے میں نیلگر کی دو یک طرفہ سرنگیں شامل ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 4.8 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں آٹھ کٹ اینڈ کور حصے شامل ہیں، جن کی مجموعی لمبائی 2,350 میٹر ہے، نیز چار پل ہیں جن کی مجموعی لمبائی 810 میٹر ہے، اور 40 کلورٹس (پانی کی نکاسی کے لیے بنائے گئے راستے) شامل ہیں۔

مزید برآں، برفانی تودوں سے تحفظ کے لیے 16.964 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک کے ساتھ برف سے بچاؤ کی سرنگیں، برفانی تودوں کو روکنے والے ڈیم، ان کا رخ موڑنے والے ڈیم، ہوا کے دباؤ سے بچاؤ کی دیواریں اور دیگر حفاظتی ڈھانچے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

منصوبے کی تکمیل کے بعد سونمرگ اور مینا مرگ کے درمیان سفر کا وقت تقریباً دو گھنٹے سے کم ہو کر 30 منٹ رہ جائے گا۔ اس سے حادثات کے خطرے میں کمی آئے گی اور دشوار گزار زوجیلا درّے پر ٹریفک کی آمد و رفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور ہوں گی۔ یہ درّہ سردیوں میں شدید برف باری اور برفانی تودے گرنے سے متاثر ہوتا ہے۔

یہ سرنگ سیاحت اور تجارت کو فروغ دے گی اور دور دراز و سرحدی علاقوں تک رسائی آسان بنائے گی۔ سال بھر بلا تعطل سڑک رابطہ دفاعی رسد رسانی اور تزویراتی تیاریوں کو مضبوط کرے گا۔ مزید برآں، اس منصوبے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، اقتصادی ترقی کو تقویت ملے گی اور مقامی آبادی کے معیارِ زندگی اور ذرائع معاش کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی سرنگ

(سابقہ نام: چنانی–ناشری سرنگ)

2017 میں کھولی گئی یہ 9 کلومیٹر طویل سرنگ ہندوستان کی طویل ترین فعال شاہراہ سرنگوں میں سے ایک اور ایشیا کی طویل ترین دو رویہ سرنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ جموں و کشمیر میں اودھم پور کو رام بن سے جوڑتی ہے۔ 2,500 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی اس سرنگ سے سفر کا فاصلہ 31 کلومیٹر کم ہو جاتا ہے اور تقریباً دو گھنٹے کی بچت ہوتی ہے، جس سے ایندھن کے اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔

شاہراہوں کے نیٹ ورک کی توسیع

دہلی–امرتسر–کٹرا ایکسپریس وے

یہ 667 کلومیٹر طویل گرین فیلڈ شاہراہ دہلی کو امرتسر اور کٹرا سے جوڑتی ہے۔ اسے تیز رفتار سڑک رابطہ فراہم کرنے، قومی شاہراہ 44 پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور شری ماتا ویشنو دیوی مندر سمیت اہم مذہبی مقامات تک رسائی آسان بنانے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

اس ایکسپریس وے کے اہم حصوں کا افتتاح جولائی 2026 میں کیا گیا، جو دہلی اور کٹرا کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد دہلی سے کٹرا تک سفر کا وقت تقریباً 14 گھنٹے سے کم ہو کر 6 گھنٹے رہ جانے کی توقع ہے۔ یہ راہداری زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ راستے میں صنعتی سرگرمیوں، مال برداری اور رسد رسانی کو بھی فروغ دے گی۔

رفیع آباد–کپواڑہ سڑک (قومی شاہراہ 701)

قومی شاہراہ 701 کے رفیع آباد–کپواڑہ حصے کو چوڑا اور مضبوط بنانے کے منصوبے کا سنگِ بنیاد جون 2025 میں رکھا گیا تھا۔ اس کا مقصد، بالخصوص سرحدی علاقوں میں، سڑک رابطے کو آخری مرحلے تک مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے تحت رفیع آباد–کپواڑہ–چوکی بل–تنگدھر–چمکوٹ راہداری کا حصہ ہے۔

شوپیاں بائی پاس (قومی شاہراہ 444)

8.925 کلومیٹر طویل شوپیاں بائی پاس منصوبے کو مارچ 2024 میں 224.44 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی تھی، جبکہ اس کا سنگِ بنیاد جون 2025 میں رکھا گیا۔ یہ بائی پاس شوپیاں، پلوامہ اور کولگام کے درمیان سڑک رابطے کو بہتر بنائے گا اور زرعی پیداوار کی تیز رفتار اور آسان نقل و حمل میں مدد دے گا۔

ہوائی اڈے: فضائی رابطے کو فروغ دینا

سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی توسیع

سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سول انکلیو کی توسیع کے لیے فروری 2026 میں 1,677 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دی گئی۔ اس ہوائی اڈے کا انتظام ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کرتی ہے، جبکہ یہ ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) کے بڈگام ایئر بیس کمپلیکس کے اندر واقع ہے۔ اس منصوبے سے وادیٔ کشمیر میں فضائی رابطے کو مزید تقویت ملے گی۔

73.18 ایکڑ رقبے پر پھیلے اس منصوبے میں 71,500 مربع میٹر رقبے پر مشتمل ایک نئی ٹرمینل عمارت کی تعمیر شامل ہے۔ یہ ٹرمینل مصروف ترین اوقات میں 2,900 مسافروں اور سالانہ ایک کروڑ مسافروں کی آمد و رفت سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا۔ ہوائی اڈے پر طیاروں کی پارکنگ کے لیے 15 مقامات بنائے جائیں گے، جن میں بڑے طیاروں کے لیے بھی جگہ ہوگی۔ موجودہ 3,658 میٹر طویل رن وے ہندوستانی فضائیہ کے زیرِ انتظام ہی رہے گا۔ مزید برآں، ایک ہزار کاروں کی گنجائش والی نئی کثیر منزلہ پارکنگ بھی تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے میں سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بیرکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔

نئی ٹرمینل عمارت میں کشمیر کے روایتی طرزِ تعمیر کے عناصر شامل کیے جائیں گے، جن میں لکڑی پر مقامی نقش و نگار اور روایتی دست کاری نمایاں ہوں گے۔ ان عناصر کو ہوائی اڈے کی جدید سہولیات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں پائیداری کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے تحت بارش کے پانی کو جمع کرنے، قدرتی روشنی کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور مقامی طور پر دستیاب ماحول دوست تعمیراتی مواد کو ترجیح دی جائے گی۔ اس منصوبے کا مقصد مربوط مسکن تشخیص (گریہا) کے تحت فائیو اسٹار گرین ریٹنگ حاصل کرنا ہے۔

علاقائی فضائی رابطے کو فروغ دینا

حکومت علاقائی فضائی رابطے کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر کے باشندوں کو سستے اور محفوظ سفری متبادل فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

اودھم پور اور کشتواڑ اس بات کی مثالیں ہیں کہ علاقائی فضائی خدمات بڑے شہری مراکز سے دور واقع علاقوں تک رسائی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اڑان اسکیم کے تحت ان دونوں علاقوں میں ہوائی اڈوں کی ترقی کا منصوبہ ہے، تاکہ جموں و کشمیر میں علاقائی فضائی رابطے کو وسعت دی جا سکے۔ ہوائی اڈوں کی صلاحیت میں اضافے سے سیاحت کو فروغ ملنے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہونے اور سری نگر کے اقتصادی مرکز کی حیثیت مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

رابطے سے اقتصادی انضمام تک

کثیر ذرائعی رسد رسانی

اکتوبر 2021 میں شروع کیے گئے پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی ایک مربوط منصوبہ بندی کا پلیٹ فارم قائم کیا گیا، جس پر ریلوے، سڑکوں، بندرگاہوں، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں، ہوائی اڈوں اور رسد رسانی کے بنیادی ڈھانچے کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس میں 44 مرکزی وزارتیں اور 36 ریاستیں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقے شامل ہیں۔

اسی فریم ورک کی بنیاد پر دسمبر 2021 میں گتی شکتی کثیر ذرائعی مال برداری ٹرمینل (جی سی ٹی) پالیسی شروع کی گئی۔ اس کا مقصد نجی سرمایہ کاری کے ذریعے جدید اور ریلوے سے منسلک مال برداری کے ٹرمینل قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

اب تک ملک میں گتی شکتی کے 142 مال برداری ٹرمینل فعال ہو چکے ہیں۔ 2024 میں جموں و کشمیر کے ضلع سانبہ میں ایک گتی شکتی کثیر ذرائعی مال برداری ٹرمینل شروع کیا گیا، جو اب پوری طرح فعال ہے۔ مزید برآں، ملک بھر میں 310 دیگر مقامات پر جی سی ٹی قائم کرنے کے لیے اصولی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے تین ٹرمینل جموں و کشمیر کے اضلاع کٹھوعہ، اننت ناگ اور جموں میں قائم کرنے کی تجویز ہے۔

جی سی ٹی پالیسی سے سیمنٹ، فولاد، بجلی، کان کنی، زراعت، رسد رسانی اور صنعت کاری جیسے اہم شعبوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس پالیسی کے تحت جدید کثیر ذرائعی مال برداری ٹرمینل قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جہاں گوداموں، ذخیرہ گاہوں، سائلوز، سرد خانوں اور رسد رسانی کی دیگر اضافی سہولیات کا انتظام ہوتا ہے۔ اس سے مقامی صنعتوں اور کسانوں کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور علاقائی اقتصادی ترقی کو تقویت ملی ہے۔

رسائی سے مواقع تک

ماضی میں جغرافیائی طور پر الگ تھلگ رہنے کے حوالے سے معروف یہ خطہ اب ہندوستان کے اقتصادی جغرافیے کے ایک مربوط اور اہم حصے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ریلوے، سڑکوں اور فضائی رابطے کے منصوبے اب الگ الگ اقدامات کے بجائے ایک مربوط نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ مربوط ترقی مقامی باشندوں، کسانوں، تاجروں اور سیاحت کی صنعت سے وابستہ افراد کی روزمرہ زندگیوں میں تبدیلی لا رہی ہے۔

رابطے کے اس وسیع تر نیٹ ورک سے کسانوں اور مقامی کاروباروں کی ملک کے دیگر حصوں کی منڈیوں تک رسائی بہتر ہو رہی ہے۔ کشمیر کی مخصوص مصنوعات، جن میں سیب، خشک میوہ جات، پشمینہ شالیں اور دست کاری کی اشیا شامل ہیں، اب وسیع تر منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں، جس سے اقتصادی تنوع کو فروغ مل رہا ہے۔

مزید برآں، بہتر رابطہ خطے کی تزویراتی اہمیت کو مضبوط بنا رہا ہے، خصوصاً سرحدی سلامتی، آفات سے نمٹنے اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے حوالے سے۔

حوالہ جات
وزارت ریلوے

سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت

شہری ہوابازی کی وزارت

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی

وزارت داخلہ

اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی

عملہ ، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)

وزارت اطلاعات و نشریات

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

***

 

UR-6248

(ش ح۔اس ک  )

(Explainer ID: 160491) आगंतुक पटल : 17
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी