Infrastructure
بھارت کے آبی گزرگاہوں کی ترقی: ایک محفوظ اور جدید نیٹ ورک کی تعمیر
Posted On:
16 OCT 2026 12:05PM
|
بھارت میں آبی گزرگاہوں پر آمدورفت بڑھنے کے ساتھ ساتھ محفوظ اور بہتر اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کا نظام تیار کیا جا رہا ہے۔ آبی سروے اور بحری راستوں کی دیکھ بھال کے ذریعے آبی گزرگاہوں کو کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت کے قابل بنایا جاتا ہے۔ وہیں دریائے برہم پتر پر بھارت کے پہلے دریائی لائٹ ہائوس چوبیس گھنٹے جہاز رانی کے لیے دور تک رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پانی کی گہرائی، راستوں اور موسم سے متعلق حقیقی وقت کی معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ ان تمام اقدامات سے جہاز رانی کی حفاظت مضبوط ہو رہی ہے، آمدورفت زیادہ آسان اور قابلِ پیش گوئی بن رہی ہےاور بھارت کی آبی گزرگاہوں پر مال برداری کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں میں مدد مل رہی ہے۔
|
آبی گزرگاہوں کی توسیع کے ساتھ جہاز رانی کے نظام کو مضبوط بنانا
بھارت کے دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کا ملک کے نقل و حمل کے نظام میں کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہیں معیشت کی ترقی میں معاون قوت کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نقل و حمل کا ایک کم لاگت اور ماحول دوست ذریعہ فراہم کرتی ہیں۔ پانی کے ذریعے ایک ٹن مال کی نقل و حمل پر آنے والی لاگت سڑک کے ذریعے نقل و حمل کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی اور ریل کے ذریعے نقل و حمل کے مقابلے میں نصف ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس طریقۂ نقل و حمل سے کاربن کا اخراج بھی بہت کم ہوتا ہے۔ اس سے شاہراہوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور انہیں مسافروں اور ایسے سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے جس کی بروقت ترسیل ضروری ہو۔
ملک میں جہاز رانی اور آبی نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے 111 قومی آبی گزرگاہیں موجود ہیں۔ ان آبی گزرگاہوں کی مجموعی لمبائی 20,187 کلومیٹر ہے اور یہ 23 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں سے 32 قومی آبی گزرگاہوں پر فی الحال نقل و حمل جاری ہے۔ آبی گزرگاہوں کی بڑھتی ہوئی اقتصادی اہمیت ان کے ذریعے مال برداری میں تیزی سے ہونے والے اضافے سے واضح ہوتی ہے۔ اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے مال برداری 2015-2014 میں 2.9 کروڑ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2026-2025 میں 21.8 کروڑ میٹرک ٹن ہو گئی۔ یہ 20.13 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو (سی اے جی آر) کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ اضافہ میری ٹائم انڈیا وژن 2030 کے تحت مقرر کردہ 20 کروڑ میٹرک ٹن کے ہدف سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ اس طرح اندرونِ ملک آبی گزرگاہیں اب محض امکانات تک محدود نہیں، بلکہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ بھی کر رہی ہیں۔
آبی گزرگاہوں کے اس پھیلاؤ کے ساتھ محفوظ اور بہتر جہاز رانی کے لئے ایسی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت بڑھ رہی ہے، جو دریاؤں کی صورتِ حال اور مختلف راستوں پر جہاز رانی کے امکانات کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں۔ دریاؤں کے بدلتے ہوئے حالات میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے آبی سروے کیے جا رہے ہیں اور جہاز رانی کے راستوں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پانی کی گہرائی، راستوں، جہازوں کی نقل و حرکت اور موسم سے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔ بھارت کے پہلے دریائی لائٹ ہاؤسز سمیت نئے جہاز رانی کے بنیادی ڈھانچے سے چوبیس گھنٹے جہازوں کی آمدورفت کو مزید سہولت مل رہی ہے۔

آبی سروے: دریاؤں کی صورتحال کو سمجھنا
دریا سطح سے بظاہر غیر تبدیل شدہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن اس کی قابلِ جہاز رانی گزرگاہ کی ساخت باہر سے نظر نہیں آتی۔ پانی کی سطح بھی مختلف موسموں اور دریا کے مختلف حصوں میں بدلتی رہتی ہے۔ یہ تبدیلیاں جہازوں کے لیے دستیاب راستوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسی لیے اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی ترقی کے لیے دریاؤں کی صورتحال سے مسلسل آگاہ رہنا ضروری ہے۔
آبی سروے
آبی سروے کے تحت آبی ذخائر اور ان کی طبعی خصوصیات کی پیمائش کی جاتی ہے اور ان کی تفصیلات مرتب کی جاتی ہیں۔ اس میں دریا یا آبی ذخیرے کی تہہ کی ساخت، پانی کی گہرائی، بہاؤ کی سمت اور ممکنہ خطرات کا پتا لگانا شامل ہے۔ اس کا مقصد جہاز رانی کے ساتھ ساتھ سمندر میں ہونے والی سرگرمیوں، سائنسی تحقیق، ماحولیاتی تحفظ اور پیش گوئی کی خدمات جیسی دیگر سرگرمیوں میں مدد فراہم کرنا ہے۔ آبی سروے کا ایک اہم مقصد جہاز رانی سے متعلق چارٹ اور نقشے تیار کرنا ہے، جن کے ذریعے سروے کیے گئے علاقے کے بارے میں واضح، جامع اور تازہ ترین معلومات فراہم کی جا سکیں۔
بھارتی اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی اتھارٹی قومی آبی گزرگاہوں پر آبی سروے کرتی ہے۔ ان سروے کے تحت دریا کی گہرائی، تہہ کی ساخت، ریت کے اتھلے ٹیلوں، پانی کے بہاؤ کی خصوصیات اور جہاز رانی کو متاثر کرنے والی دریا کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیمائش اور تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ان میں تھال ویگ سروے بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے دریا کے کسی حصے میں جہاز رانی کے لیے دستیاب سب سے گہرے راستے کی نشاندہی کی جاتی ہے اور اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ ٹرمینل اور جیٹی سروے کے تحت ٹرمینلز اور جیٹیوں کے آس پاس پانی کی گہرائی اور وہاں تک پہنچنے کے حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مسلسل آبی سروے سے جہاز رانی کے راستوں (فیئر وے) کی ترقی، دریا کی تہہ سے گاد اور دیگر مواد ہٹانے کے منصوبے تیار کرنے، جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانے اور ملک بھر میں اندرونِ ملک آبی نقل و حمل (آئی ڈبلیو ٹی) کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
|
آبی ذخائر کی تہہ سے گاد ہٹانے کے عمل کو ڈریجنگ (گاد نکالنا) کہا جاتا ہے۔ قومی آبی گزرگاہوں کے مختلف حصوں میں جہاز رانی کو بہتر بنانے کیلئے ڈریجنگ کا کام کیا جاتا ہے۔

|
دریا کے بعض حصوں میں حالات تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے آبی گزرگاہوں کی انفرادی ضروریات کے مطابق سروے کی تعداد اور وقفے مختلف ہوتے ہیں۔ ستمبر 2026 تک، 22 قومی آبی گزرگاہوں میں دریا کے سب سے گہرے قابلِ جہاز رانی راستے کی باقاعدہ پیمائش کے سروے کیے جا رہے تھے۔ آبی گزرگاہ کے لحاظ سے یہ سروے ہفتہ وار، ہر پندرہ دن بعد یا ماہانہ بنیاد پر انجام دیے جاتے ہیں۔ اس نگرانی کے نظام میں ہند-بنگلہ دیش پروٹوکول کے آبی راستے کا بھارتی حصہ بھی شامل تھا۔ یہ اندرونِ ملک آبی آمدورفت کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو مخصوص دریائی راستوں کے ذریعے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان مال برداری کو ممکن بناتا ہے۔
کم از کم دستیاب گہرائی: جہاز رانی کا ایک اہم پیمانہ
آبی پیمائش کے سروے کے اہم ترین نتائج میں سے ایک کم از کم دستیاب گہرائی ہے۔ اس سے مراد جہاز رانی کے راستے میں پانی کی کم سے کم دستیاب گہرائی ہے۔ اس کا تعین کسی مخصوص آبی راستے اور مقررہ مدت کے لیے کیا جاتا ہے۔ کم از کم دستیاب گہرائی جہازوں کی آمدورفت اور جہاز رانی کی منصوبہ بندی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ جہاز کے لیے قابلِ اجازت زیرِ آب گہرائی کا تعین کرتی ہے اور اس کی مال برداری کی صلاحیت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ راستوں کے لیے نظام الاوقات مرتب کرنے اور موسم کے مطابق جہاز رانی سے متعلق فیصلے کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔
جہاز رانی کے معاون نظام: جہازوں کی محفوظ رہنمائی
محفوظ جہاز رانی کا انحصار ایسے قابلِ اعتماد نظاموں پر ہوتا ہے جو جہازوں کو راستوں، خطرات اور بدلتے ہوئے حالات کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سمندری معاون آلات برائے جہاز رانی ایکٹ، 2021 کے تحت ان نظاموں کو باضابطہ طور پر معاون آلات برائے جہاز رانی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
معاون آلات برائے جہاز رانی سے مراد ایسے آلات، نظام یا خدمات ہیں جو جہازوں کے باہر نصب یا فراہم کیے جاتے ہیں اور جنہیں انفرادی جہازوں اور جہازوں کی آمدورفت کو محفوظ اور مؤثر بنانے کے لیے تیار اور چلایا جاتا ہے۔ ان میں روشنیاں رکھنے والی تیرتی نشانیاں، ریڈار کے ذریعے شناخت میں مدد دینے والے اشارتی آلات، روشنی کے کھمبے، آبی راستوں کی نشاندہی کرنے والے نشانات، روشنی کے مینار اور روشنی سے آراستہ بحری جہاز وغیرہ شامل ہیں۔
|
پانی پر تیرنے والے نشانات:یہ ایسی تیرتی ہوئی اشیا ہوتی ہیں جنہیں ایک مقررہ مقام پر لنگر کے ذریعے باندھا جاتا ہے تاکہ ملاحوں کی رہنمائی کی جا سکے، انہیں ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے، پانی میں ڈوبی ہوئی اشیا کے مقامات کی نشاندہی کی جا سکے یا جہازوں کو لنگر ڈالنے کے بجائے ان کے ساتھ باندھ کر ٹھہرایا جا سکے۔تیرتی ہوئی آبی نشانیوں کی اقسام میں راستے کے اطراف کی نشاندہی کرنے والی نشانیاں، بنیادی سمتوں کی نشاندہی کرنے والی نشانیاں، الگ تھلگ خطرے کی نشانیاں، محفوظ پانی کی نشانیاں، خصوصی نشانیاں اور ہنگامی طور پر جہاز کے ملبے کی نشاندہی کرنے والی تیرتی نشانیاں شامل ہیں۔

ریڈار اشارتی نظام (ریکون):ریڈار بیکن ایک نہایت مؤثر اور یکجا آلہ ہے، جسے بندرگاہوں اور ساحلی لنگرگاہوں کے حکام ملاحوں کی مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ جہاز رانی کے لیے نصب مستقل یا تیرتے ہوئے معاون آلات کے مقام کی باآسانی شناخت کر سکیں۔ یہ آلہ تقریباً ہر قسم کے موسمی حالات میں اشارے نشر کرتا ہے اور دھند، خراب موسم یا سمندر کی ناموافق صورتحال سے متاثر نہیں ہوتا۔

|
لائٹ ہاؤسز اور لائٹ شپس کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی ایل ایل) کی ذمہ داری بھارت کے ساحلی علاقوں میں جہاز رانی کے عمومی معاون آلات کی ترقی، دیکھ بھال اور انتظام ہے۔ یہ ادارہ جہاز رانی کے معاون آلات اور جہازوں کی آمدورفت کی خدمات (وی ٹی ایس) سے متعلق تربیت فراہم کرنے کے لیے قومی اتھارٹی کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ بھارت سمندر میں انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (سولاس) کا دستخط کنندہ ہے، جس کے تحت معاہدے میں شامل حکومتوں کے لیے مناسب معاون آلات برائے جہاز رانی تیار کرنا اور انہیں فعال رکھنا ضروری ہے۔ بھارت جہاز رانی کے معاون آلات سے متعلق بین الاقوامی تنظیم (آئی اے ایل اے) کی جانب سے جاری کردہ سفارشات اور رہنما اصولوں پر بھی عمل کرتا ہے۔
اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی اتھارٹی (آئی ڈبلیو اے آئی) قومی آبی گزرگاہوں پر جہاز رانی کے معاون نظاموں کا ایک مضبوط نیٹ ورک برقرار رکھتی ہے۔ جہاز رانی کی ضروریات کے مطابق مختلف آبی گزرگاہوں پر ان نظاموں کے مختلف امتزاج استعمال کیے جاتے ہیں۔ قومی آبی گزرگاہ نمبر 3 اس بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم مثال ہے۔ ریاست کیرالہ میں واقع قومی آبی گزرگاہ نمبر 3 ملک کے اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ ہے۔ مغربی ساحلی نہر کا نظام کوٹّاپورم کو کولّم سے جوڑتا ہے اور چمپکّارا اور اودیوگ منڈل نہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے پورے قابلِ جہاز رانی حصے میں چوبیس گھنٹے جہاز رانی میں مدد فراہم کرنے کے لیے معاون نظام نصب کیے گئے ہیں۔ اس آبی گزرگاہ پر شمسی توانائی سے چلنے والی روشنیوں سے لیس فائبر گلاس سے تقویت یافتہ پلاسٹک (ایف آر پی) کی کل 312 تیرتی ہوئی اشارتی بوائے اور 17 روشنی والے اشارتی کھمبے نصب کیے گئے ہیں۔
دریائی لائٹ ہاؤسز:چوبیس گھنٹے جہاز رانی میں معاونت
بھارت کے اندرونِ ملک جہاز رانی کے نظام نے مارچ 2026 میں ایک نئی پیش رفت کی۔ بھارت نے دریائے برہم پتر پر اپنے پہلے چار دریائی روشنی کے میناروں کے قیام کا اعلان کیا، جسے قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں پر جہاز رانی کے معاون نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ چار روشنی کے مینار پانڈو، بوگی بیل، سلگھاٹ اور بسواناتھ گھاٹ میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ 74 کروڑ روپے کے اس منصوبے میں جہاز رانی کے لیے رہنمائی کے ساتھ نگرانی کی جدید سہولیات بھی شامل ہوں گی۔
- لائٹ ہاؤسز زمین سے 20 میٹر کی بلندی پر ہوں گے، جو جہاز رانی کے لیے اہم حوالہ جاتی مقامات فراہم کریں گے۔
- ان کی جغرافیائی حدودِ دید 14 ناٹیکل میل تک ہوں گی، جس سے جہاز رانی کے دوران زیادہ دور تک دیکھنے میں مدد ملے گی۔
- ان کی روشنی کی حد 8 سے 10 ناٹیکل میل کے درمیان ہوگی، جس سے رات کے وقت جہازوں کی آمدورفت میں سہولت ملے گی۔
- مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والے یہ لائٹ ہاؤسز اپنے آپریشن کے لیے صاف اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کریں گے۔
- موسم کی نگرانی کرنے والے سینسر جہاز رانی اور حفاظت سے متعلق مزید معلومات فراہم کریں گے۔
- اس کمپلیکس میں عجائب گھر، ایمفی تھیٹر، کیفے ٹیریا اور خوب صورت منظر کشی کے ساتھ عوامی مقامات بھی شامل ہوں گے۔
- بچوں کے کھیلنے کی جگہیں اور یادگاری اشیا کی دکانیں عوامی سہولیات اور سیاحت کے لیے مزید اہم انتظامات فراہم کریں گی۔
دریائے برہم پتر کیلئے یہ پیش رفت کیوں اہم ہے؟
یہ اقدام بھارت میں کسی اندرونِ ملک آبی گزرگاہ پر روشنی کے میناروں کے بنیادی ڈھانچے کی پہلی تنصیب کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ایسے دریائی راستے پر جہاز رانی کے تحفظ کا ایک نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جہاں نقل و حمل کی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 آسام میں دھوبری سے سادیا تک پھیلی ہوئی ہے، جس کی قابلِ جہاز رانی لمبائی 891 کلومیٹر ہے۔ یہ بھارت کی کسی بھی آبی گزرگاہ کا سب سے طویل قابلِ جہاز رانی حصہ ہے۔
یہ آبی گزرگاہ خطے میں مال برداری، مسافروں کی آمدورفت اور سیاحت کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ چائے، کوئلے اور کھاد سے متعلق رسدی سلسلوں کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 پر مال برداری مالی سال 2024–25 میں 9 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر مالی سال 2025–26 میں 12 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ اس آبی گزرگاہ پر جہاز رانی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
نئے روشنی کے مینار چوبیس گھنٹے جہاز رانی میں معاونت فراہم کریں گے۔ اس طرح یہ منصوبہ دریائے برہم پتر کے ساتھ جہاز رانی کے تحفظ، تکنیکی معاونت اور سیاحت کے فروغ کو یکجا کرتا ہے۔
ڈیجیٹل جہاز رانی اور حقیقی وقت کی معلومات
ٹیکنالوجی بھارت کی اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں پر جہاز رانی کے طریقۂ کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آبی گزرگاہوں، جہازوں کی نقل و حرکت، پانی کی گہرائی، موسم اور ٹریفک سے متعلق معلومات یکجا کی جا رہی ہیں۔ اس سے ملاحوں اور متعلقہ حکام کو ضرورت کے وقت اور مقام پر اہم معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل آبی پیمائش کے نقشے: دریاؤں کی معلومات اسکرین پر
جدید آبی پیمائش کے نقشوں کے ذریعے ملاحوں کو جہاز رانی کے تحفظ میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل صورت میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ستمبر 2026 تک 18 فعال اور مدوجزر سے متاثر ہونے والی آبی گزرگاہوں کے لیے برقی بحری نقشے تیار کیے جا چکے ہیں۔ یہ نقشے پانی اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی اتھارٹی آف انڈیا کے جہازوں کی نگرانی کے نظام جیسے آن لائن پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔
2014 سے پہلے یہ سہولت صرف قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 پر دستیاب تھی، جو ہلدیہ سے پریاگ راج تک گنگا، بھاگیرتھی اور ہوگلی دریائی نظام پر مشتمل ہے۔ اس سہولت کی توسیع سے جہاز رانی سے متعلق ڈیجیٹل معلومات تک رسائی کے دائرے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ نقشے دریاؤں کے طبعی سروے سے حاصل ہونے والی معلومات کو جہاز رانی کے لیے موزوں اور قابلِ استعمال شکل میں پیش کرتے ہیں۔

پی اے این آئی اور اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی اتھارٹی آف انڈیا کا جہازوں کی نگرانی کا نظام: جہاز رانی کو حقیقی وقت کی معلومات سے مربوط کرنا
جہاز رانی کے لیے صرف آبی راستوں کی گہرائی جاننا کافی نہیں ہے۔ اثاثوں اور جہاز رانی سے متعلق معلومات کا پورٹل (پانی) دریائی جہاز رانی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کرتا ہے۔ پانی پورٹل قومی آبی گزرگاہوں اور ان سے وابستہ اثاثوں کی تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ ان میں جہاز رانی کے راستے، بنیادی سہولیات اور دریاؤں کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پھیلے ہوئے ڈھانچے شامل ہیں۔ یہ پورٹل مال برداری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے جیٹیوں تک رسائی اور ہنگامی خدمات سے متعلق معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔
اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی اتھارٹی آف انڈیا کا جہازوں کی نگرانی کا نظام اور پانی پورٹل مل کر ویب اور موبائل پر مبنی برقی جہاز رانی کا نظام تشکیل دیتے ہیں۔ اس نظام کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت پر حقیقی وقت میں نظر رکھی جاتی ہے، جہاز رانی کے راستوں کو تازہ ترین معلومات کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے اور پانی کی گہرائی سے متعلق معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ سہولیات اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں پر محفوظ اور مؤثر نقل و حرکت میں معاون ہیں۔
نو درشیکا: دریا میں آمدورفت کے مربوط انتظام کی جانب
ناؤ درشیکا، قومی دریائی ٹریفک اور جہاز رانی کا نظام، 2025 میں جہازوں کی محفوظ، مؤثر اور پائیدار نقل و حرکت کے لیے شروع کیا گیا۔ اس نظام میں جہاز رانی میں معاونت کے لیے کم از کم دستیاب گہرائی سے متعلق حقیقی وقت کی معلومات شامل ہیں۔ پانی اور کم از کم دستیاب گہرائی کے معلوماتی نظام جیسے پہلے سے موجود ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ، ناؤ درشیکا دریائی ٹریفک اور جہاز رانی کے انتظام کے لیے ایک مخصوص نظام فراہم کرتا ہے۔
دریائی معلوماتی خدمات: ٹریفک معلومات کا ایک نیٹ ورک
دریائی معلوماتی خدمات ڈیجیٹل جہاز رانی کو مزید جدید بناتی ہیں۔ یہ نظام جہازوں کی نگرانی کی ٹیکنالوجی، موسم اور پانی کی پیمائش کرنے والے حسّاس آلات اور معلوماتی ٹیکنالوجی کے نظاموں کو یکجا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے جہازوں کے منتظمین اور متعلقہ حکام کو حقیقی وقت میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ جہازوں اور کنٹرول مراکز کے درمیان رابطے میں بھی معاونت کرتا ہے۔ معلومات کے اس تبادلے سے دریائی ٹریفک کے بہتر انتظام اور عملی فیصلے تیزی سے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
|
گنگا پر آر آئی ایس
قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 (دریائے گنگا) کے تین حصوں میں دریائی معلوماتی خدمات کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ان میں ہلدیہ سے فرّخہ، فرّخہ سے پٹنہ اور پٹنہ سے وارانسی تک کے آبی راستے شامل ہیں۔
اس نظام میں 4 کنٹرول اسٹیشن اور 13 بنیادی اسٹیشن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میں خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) کے آلات اور بہت بلند تعدد (وی ایچ ایف) پر مبنی مواصلاتی نظام نصب کیے گئے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں موسمیاتی حسّاس آلات بھی شامل ہیں۔ محکمہ جاتی استعمال کے 30 جہازوں پر دریائی معلوماتی خدمات کے کنسول فراہم کیے گئے ہیں۔
یہ تمام اجزا مل کر قومی آبی گزرگاہ نمبر 1 پر دریائی ٹریفک کی حقیقی وقت میں نگرانی کا نظام تشکیل دیتے ہیں۔
|
محفوظ جہاز رانی کیلئے مربوط حکمتِ عملی
بھارت کی آبی گزرگاہوں پر محفوظ جہاز رانی کا انحصار مسلسل معلومات، قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے اور بروقت معلومات کی فراہمی پر ہے۔ آبی پیمائش کے سروے دریاؤں کی بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ جہاز رانی کے معاون آلات پانی میں نمایاں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پانی کی گہرائی، راستوں، موسم اور آبی ٹریفک سے متعلق حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرکے اس نظام کو مزید مؤثر اور درست بنا رہے ہیں۔
یہ تمام نظام مل کر اندرونِ ملک آبی جہاز رانی کو زیادہ قابلِ پیش گوئی اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوری ردِعمل دینے کے قابل بنا رہے ہیں۔ آبی گزرگاہوں پر ٹریفک میں اضافے کے ساتھ یہ مربوط حکمتِ عملی جہازوں کی محفوظ، مؤثر اور چوبیس گھنٹے آمدورفت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
حوالہ
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت، حکومتِ ہند
https://shipmin.gov.in/en/division/iwt-1
https://shipmin.gov.in/en/content/dgll
https://shipmin.gov.in/sites/default/files/Marine%20Aids%20to%20Navigation%20Act%202021as%20Notified.pdf
https://iwai.gov.in/hydrography-0
https://dgll.nic.in/about-DGLL/Service-reminder/Buoys-page
https://www.dgll.nic.in/About-DGLL/Service-reminder/Racon
https://iwai.gov.in/offerings/national-waterway/national-waterways1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289149®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2275554®=3&lang=1
https://iwai.gov.in/least-available-depth-lad
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289149®=48&lang=2
https://iwai.gov.in/digital-platform
https://iwai.gov.in/offerings/national-waterway/national-waterways3?page=1
https://www.facebook.com/IWAI.MoPSW/videos/indias-waterways-are-entering-a-smarter-safer-and-more-connected-future-with-nau/1350068953607450/
https://www.facebook.com/IWAI.MoPSW/videos/dredging-is-the-process-of-removing-sediments-from-the-bottom-of-waterbodies-dre/1170286874124187/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290484®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2235574®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?lang=2®=48&relid=188636
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2003047&lang=2
https://www.facebook.com/IWAI.MoPSW/videos/indias-waterways-are-entering-a-smarter-safer-and-more-connected-future-with-nau/1350068953607450/
PIB Backgrounders
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255798&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
****
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.6202
(Explainer ID: 160488)
आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments