Economy
خواتین، روزگار اور کاروبار: بہتر ذریعۂ معاش کی جانب ہندوستان کی پیش قدمی
Posted On:
15 OCT 2026 12:11PM
ہندوستان میں خواتین کی روزگار کی صورت حال اب محض روزگار میں شمولیت تک محدود نہیں رہی بلکہ آگے بڑھ کر بہتر معیار کے کام کی جانب گامزن ہے۔ افرادی قوت کے دوری سروے (پی ایل ایف ایس) کے مطابق، خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح (ایل ایف پی آر) 2017-18 میں 23.3 فیصد سے بڑھ کر 2025 میں 40 فیصد ہو گئی، جبکہ کام کرنے والی آبادی کی شرح (ڈبلیو پی آر) 22 ؍فیصد سے بڑھ کر 38.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے، پالیسی اقدامات کے ذریعے خواتین کے روزگار کو مستحکم بنانے کے لیے کاروباری اداروں کو باضابطہ شناخت دینے، قرض کی سہولت، منڈیوں تک رسائی، کام کے زیادہ محفوظ مقامات، ہنر مندی کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔اب توجہ اس بات پر ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو زیادہ آمدنی، تحفظ اور معاشی ترقی میں تبدیل کیا جائے۔
خواتین کے روزگار میں اضافہ اور معاشی مواقع میں وسعت
ہندوستان میں خواتین کی روزگار میں شمولیت اب محض ان کی موجودگی تک محدود نہیں رہی۔ افرادی قوت میں شرکت کا بڑھتا ہوا تناسب ایک اہم تبدیلی کی علامت ہے، جس کے ساتھ ساتھ روزگار کی نوعیت اور معیار پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ خواتین افرادی قوت میں شامل ہو رہی ہیں، پیشرفت کی اگلی منزل ان مواقع میں پنہاں ہے ،جو کام کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں۔ اقتصادی بااختیاری کو اس وقت مزید استحکام ملتا ہے، جب روزگار سے آمدنی، تحفظ، شناخت اور معاشی ترجیحات پر زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔
اس وسیع تر تبدیلی کو ایسی پالیسیوں کے ذریعے تقویت دی جا رہی ہے جو محفوظ تر کام کی جگہوں، سماجی تحفظ، کاروباری صلاحیت (انٹرپرینیورشپ)، رسمی شکل دینے (فارملائزیشن) اور مالیاتی مواقع تک خواتین کی رسائی کو وسعت دیتی ہیں۔ یہ اقدامات معیشت میں خواتین کی شرکت کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں، جو آگے چل کر محفوظ اور بااختیار بنانے والے مواقع کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔
عددی تبدیلی: افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں اضافہ
حالیہ برسوں میں ہندوستان کی افرادی قوت کے بازار میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 15 برس اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین میں افرادی قوت میں شرکت کی شرح(ایل ایف پی آر) 2017-18 میں 23.3 فیصد تھی، 2025 میں جو بڑھ کر 40.0 فیصد ہو گئی۔
اس اضافے کے نتیجے میں کام کرنے والی خواتین کے تناسب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2017-18 میں خواتین کی کام کرنے والی آبادی کی شرح (ڈبلیو پی آر) 22.0 فیصد تھی، 2025 میں جو بڑھ کر 38.8 فیصد ہو گئی۔ مجموعی تعداد کے لحاظ سے، اندازہ ہے کہ 2025 کے دوران ہندوستان میں 15 برس اور اس سے زیادہ عمر کی تقریباً 20 کروڑ خواتین برسر روزگار تھیں۔
|
لیبر فورس پارٹیسیپیشن ریٹ (ایل ایف پی آر) آبادی کے اس حصے کا حساب لگاتا ہے، جو یا تو کام کر رہا ہے یا کام کی تلاش میں ہے یا کام کے لیے دستیاب ہے۔ورکر پاپولیشن ریشو (ڈبلیو پی آر) آبادی میں ملازمت پیشہ افراد کے تناسب کی پیمائش کرتا ہے۔
|

مزدور، کاروباری افراد اور معاشی شراکت داروں کے طور پر خواتین
خواتین کی شرکت میں اضافے کے ساتھ، معیشت میں ان کی شمولیت کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔
کاروباری شعبے میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی
بڑی تعداد میں خواتین کاروبار کے میدان میں قدم رکھنے کے ساتھ اپنے کاروباری ادارے قائم کر رہی ہیں۔ خواتین کی کاروباری سرگرمیاں آمدنی حاصل کرنے، اثاثے بنانے اور کاروبار کو ترقی دینے کے مواقع پیدا کرکے معاشی شرکت کو وسعت دیتی ہیں۔ اس سے مالی خودمختاری مضبوط ہوتی ہے، جبکہ ہنر اور وسائل تک رسائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
- خواتین کی ملکیت والے چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے: اکتوبر 2026 تک، تقریباً 3.69 کروڑ رجسٹرڈ کاروباری اداروں کی ملکیت خواتین کے پاس تھی، جو تمام رجسٹرڈ اداروں کا تقریباً 38 فیصد ہے۔
- نئے کاروباری اداروں میں خواتین: مارچ 2026 تک،1.07؍لاکھ سے زیادہ تسلیم شدہ نئے کاروباری اداروں میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر یا شراکت دار تھی۔ یہ تمام تسلیم شدہ نئے کاروباری اداروں کا تقریباً 48 فیصدہے۔

ٹیکنالوجی اور اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں خواتین
کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ، مینوفیکچرنگ اور اعلیٰ مہارت والے شعبوں میں بھی خواتین کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
- جولائی 2026 تک، موبائل فون مینوفیکچرنگ کے شعبے میں براہ راست کام کرنے والی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب تقریباً 70 فیصد رہا۔ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے وسیع تر شعبے میں گزشتہ دہائی کے دوران پیدا ہونے والے روزگار میں خواتین کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔
- سیمی کنڈکٹر صنعت میں بھی خواتین اپنی نمایاں موجودگی درج کرا رہی ہیں۔ مارچ 2025 تک، اس صنعت کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب تقریباً 25 فیصد ہے، جبکہ ہندوستان میں چپ ڈیزائن اور انجینئرنگ کے شعبے میں کام کرنے والی افرادی قوت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔
- شہری ہوا بازی کا شعبہ بھی خصوصی نوعیت کے کاموں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندوستان میں پائلٹوں میں خواتین کا تناسب 15 فیصد ہے، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ تناسب میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ، جون 2025 تک، فضائی ٹریفک کنٹرولرز میں خواتین کا حصہ 15 فیصد، پرواز کے منصوبہ سازوں میں 11 فیصد اور شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی سی اے )میں پروازوں کے آپریشن کے معائنہ کاروں میں 33 فیصد ہے۔
- ہندوستان کے تحقیقی نظام میں بھی یہ توسیع نمایاں ہے۔ تحقیق و ترقی کے اعداد و شمار 2025-26 کی رپورٹ کے مطابق، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں تحقیقی پیشوں سے وابستہ خواتین کی شرح 2000-01 میں 13 فیصد تھی، جو 2020-21 میں بڑھ کر 18.6 فیصد اور 2023-24 میں 29 فیصد ہو گئی۔
خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروباری اداروں کو شناخت سے ترقی تک لے جانا
جیسے جیسے خواتین مختلف شعبوں میں اپنے کاروبار قائم کر رہی ہیں، ان کی طویل مدتی ترقی کے لیے معاونت کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ باضابطہ شناخت، مالی وسائل تک رسائی اور منڈیوں تک رسائی ایسے اہم عوامل ہیں جو خواتین کی زیرقیادت کاروباری اداروں کو مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
باضابطہ نظام میں شمولیت: خواتین کے کام کو معاشی شناخت دینا
خواتین کی قیادت میں چلنے والی بہت سی معاشی سرگرمیاں چھوٹے پیمانے پر شروع ہوتی ہیں، اس لیے انہیں باضابطہ شناخت دینا اہم ہے۔ باضابطہ نظام میں شمولیت سے سرکاری شناخت ملتی ہے اور قرض، سرکاری اسکیموں، ہنر مندی اور کاروبار کی ترقی سے متعلق خدمات تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔
1. سوالمبنی اسکیم (2025) :یہ اسکیم نوجوان خواتین کو کاروباری تصور پیش کرنے سے لے کر کاروباری ادارہ قائم کرنے تک مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت کاروبار سے متعلق تربیت، مالی وسائل، منڈی سے متعلق رہنمائی اور قانونی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ منتخب شرکا کو پائیدار کاروباری ادارے قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے 21 ہفتوں تک رہنمائی اور مسلسل تعاون بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
|
اس اسکیم کا آغاز فروری 2025 میں ایک آزمائشی منصوبے کے طور پر کیا گیا تھا، جسے آسام، میگھالیہ، میزورم، اتر پردیش اور تلنگانہ کے چھ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نافذ کیا گیا۔
|
سوالمبنی آزمائشی منصوبے کے تحت مقررہ اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
- اساتذہ کی ترقی کے پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 82 اساتذہ کو تربیت دی گئی؛
- کاروباری بیداری پروگرام کے تحت 1200 شرکا کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 1276 شرکا کو تربیت دی گئی؛ اور
- کاروباری ترقی کے پروگرام کے تحت 600 شرکا کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں مجموعی طور پر 602 شرکا کو تربیت دی گئی۔
2. یشسوِنی مہم (2024) :اس مہم کا مقصد 2029 تک ادیم رجسٹریشن پورٹل اور ادیم اسسٹ پلیٹ فارم پر خواتین اور مردوں کی یکساں نمائندگی یقینی بنا کر کاروبار میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں سے سرکاری خریداری کے لیے مقررہ 3 فیصد ہدف کو فروغ دینا بھی اس مہم کا مقصد ہے۔
یہ مہم بیداری پیدا کرنے، مسلسل رہنمائی اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے موجودہ اور مستقبل کی خواتین کاروباری افراد کی معاونت بھی کرتی ہے۔ جولائی 2026 تک، یشسوِنی مہم کے تحت خواتین کی ملکیت والے 22 لاکھ سے زیادہ چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے اندراج میں مدد فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ مالی سال 2025-26 میں خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں سے مجموعی سرکاری خریداری 3.8 فیصد رہی، جو مقررہ 3 فیصد ہدف سے زیادہ ہے۔
قرض کی سہولت: کاروباری ترقی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی
باضابطہ نظام میں شمولیت سے کاروباری اداروں کو تسلیم شدہ کاروباری نظام کا حصہ بننے میں مدد ملتی ہے، جبکہ مالی وسائل تک رسائی انہیں سرمایہ کاری کرنے، جدت لانے اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے قابل بناتی ہے۔
خواتین کی قیادت میں چلنے والے چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے مالی معاونت
- پردھان منتری مُدرا یوجنا(پی ایم ایم وائی):2015 میں شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد غیر کارپوریٹ اور غیر زرعی شعبوں میں آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے وابستہ چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو 20 لاکھ روپے تک کا بغیر ضمانت کےقرض فراہم کرکے مالی وسائل تک ان کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔
- آغاز سے اپریل 2026 تک، پی ایم ایم وائی کے تحت 57.79 کروڑ سے زیادہ قرض منظور کیے جا چکے تھے، جن میں خواتین کاروباری افراد کے حصے میں مجموعی منظور شدہ قرضوں کے دو تہائی آئے۔
2.چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے قرض ضمانت اسکیم: اس اسکیم کا آغاز چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو قرض کی فراہمی مضبوط بنانے اور مالی وسائل سے محروم یا ناکافی مالی سہولتیں حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی قرض تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت، خواتین کی قیادت میں چلنے والے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو 90 فیصد کی بہتر ضمانتی کوریج کے ساتھ ضمانتی فیس میں 10 فیصد کی رعایت دی جاتی ہے۔
- فروری 2026 تک (مالی سال 2000-01 سے مالی سال 2025-26 تک)، خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے تقریباً 30.75 لاکھ قرض ضمانتیں منظور کی گئیں، جن کی مالیت تقریباً 2.07 لاکھ کروڑ روپے تھی۔
پرائم منسٹرز امپلائمنٹ جنریشن پروگرام( پی ایم ای جی پی):یہ قرض سے منسلک سبسڈی اسکیم ہے، جو غیر زرعی شعبے میں نئے چھوٹے اور بہت چھوٹے 3.کاروباری ادارے قائم کرنے میں معاونت کرتی ہے۔ اس کے تحت مستفیدین کو بینک قرضوں کے مقابلے میں مارجن منی(سبسڈی)کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت خواتین شہری علاقوں میں 25 فیصد اور دیہی علاقوں میں 35 فیصد سبسڈی حاصل کرنے کی اہل ہیں۔
- مئی 2026 تک، پی ایم ای جی پی کے تحت معاونت حاصل کرنے والے تمام چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں میں خواتین کا حصہ تقریباً 40 فیصد تھا۔ انہیں تقسیم کی گئی مجموعی مارجن منی سبسڈی میں سے بھی تقریباً 45 فیصد حاصل ہوئی۔

خواتین کی قیادت میں چلنے والے نئے کاروباری اداروں کے لیے مالی معاونت
سال2016 میں شروع کیا گیا اسٹارٹ اَپ انڈیا ہندوستانی حکومت کا ایک اہم پروگرام ہے، جس کا مقصد جدت طرازی کو فروغ دینا اور نئے کاروباری اداروں کے لیے ایک مضبوط نظام تشکیل دینا ہے۔ اس کے تحت حکومت مختلف شعبوں اور کاروباری ترقی کے مختلف مراحل میں نئے کاروباری اداروں کی متعدد مالی معاونتی اقدامات کے ذریعے مدد کرتی ہے۔
1.نئے کاروباری اداروں کے لیے فنڈ آف فنڈز (ایف ایف ایس: 2016 میں قائم کیے گئے اس فنڈ کے ذریعے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی)میں رجسٹرڈ متبادل سرمایہ کاری فنڈز(اے آئی ایف)کو سرمایہ فراہم کرکے نئے کاروباری اداروں کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ اس کے بعد یہ فنڈز حصص اور حصص سے منسلک مالی ذرائع کے ذریعے نئے کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
- جنوری 2026 تک، معاونت یافتہ متبادل سرمایہ کاری فنڈز نے 2025 سے اب تک خواتین کی قیادت میں چلنے والے نئے کاروباری اداروں میں تقریباً 2,995 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔
2.اسٹارٹ اَپ انڈیا سیڈ فنڈ اسکیم (ایس آئی ایس ایف ایس): 2021 میں شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت منظور شدہ انکیوبیٹرز کے ذریعے مختلف شعبوں کے نئے کاروباری اداروں کو ابتدائی سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔
- جنوری 2026 تک، اس اسکیم کے تحت معاونت یافتہ انکیوبیٹرز نے خواتین کی قیادت میں چلنے والے نئے کاروباری اداروں کے لیے تقریباً 294 کروڑ روپے کی مالی امداد منظور کی تھی۔
3.نئے کاروباری اداروں کے لیے قرض ضمانت اسکیم(سی جی ایس ایس): اپریل 2023 سے نافذ اس اسکیم کے تحت اہل نئے کاروباری اداروں کو بغیر کسی ضمانت کے قرض فراہم کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔ اس کے تحت بینکوں، مالیاتی اداروں، غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں (این بی ایف سی) اور سیبی میں رجسٹرڈ متبادل سرمایہ کاری فنڈز کی جانب سے دیے جانے والے قرضوں پر ضمانت فراہم کی جاتی ہے۔
- جنوری 2026 تک، خواتین کی قیادت میں چلنے والے نئے کاروباری اداروں کو دیے گئے تقریباً 39 کروڑ روپے کے قرضوں پر ضمانت فراہم کی جا چکی تھی۔
منڈیوں تک رسائی: خواتین کی محنت کو خریداروں سے جوڑنا
منڈیوں تک رسائی خواتین کاروباری افراد کو زیادہ خریداروں تک پہنچنے اور طلب، معیار کے معیارات، مصنوعات کی تشہیر اور قیمتوں کے تعین کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
1.ومینیا پہل: ومینیا سرکاری ای-مارکیٹ پلیس پر شمولیت کو فروغ دینے والی ایک اہم پہل ہے، جو خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں اوراپنی مدد آپ گروپوں کو حکومت کے باضابطہ خریداروں سے جوڑتا ہے۔ اس مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے وہ رجسٹریشن کرا سکتی ہیں اور ہینڈلوم، جوٹ، کوائر اور گھر کی آرائش سے متعلق اشیا جیسی مصنوعات پیش کر سکتی ہیں۔
- جولائی 2026 تک، گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس(جی ای ایم) پر خواتین کی ملکیت والے 2.17 لاکھ سے زیادہ چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری ادارے رجسٹرڈ تھے۔ یہ سرکاری تنظیموں، محکموں اور سرکاری شعبے کے اداروں کی جانب سے خریدی جانے والی مختلف اشیا اور خدمات کے لیے مخصوص ای-مارکیٹ پلیس ہے۔
- مالی سال 2025-26 میں خواتین کے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو دیے گئے ٹھیکوں کی مجموعی مالیت 28,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 27.6 فیصد اضافہ ہے۔
- جی ای ایم کے ذریعے دیے گئے مجموعی آرڈر کی مالیت میں خواتین کا حصہ 5.6 فیصد رہا، جو مقررہ 3 فیصد سرکاری خریداری کے ہدف سے زیادہ ہے۔
مزید تفصیلی معلومات کے لیے ملاحظہ کریں: وومینیا: خواتین کاروباری شخصیات کے لیے جامع منڈیوں تک رسائی کے نئے راستے

2.خریداری اور مارکیٹنگ میں مدد کی اسکیم(پی ایم ایس): یہ اسکیم رجسٹرڈ چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو تجارتی میلوں، نمائشوں، فروخت کنندگان کی ترقی کے پروگراموں، ای کامرس اور پیکجنگ سے متعلق معاونت کے ذریعے منڈیوں تک رسائی میں مدد دیتی ہے۔ خواتین کی ملکیت والے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری ادارے تجارتی میلوں میں جگہ کے کرایے پر 100 فیصد سبسڈی حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
3. چھوٹے، بہت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو تجارت اور مارکیٹنگ کے قابل بنانے کی پہل (ٹی ای اے ایم): چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ تک رسائی فراہم کرنے کے لیے آر اے ایم پی پروگرام کے تحت 2024 سے 2027 تک تین سال کے لیے ٹیم پہل شروع کی گئی۔ اس کا مقصد ڈیجیٹل کامرس کے کھلے نیٹ ورک (او این ڈی سی)کے ذریعے ایسے کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی، اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے اور آمدنی میں اضافہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔
- مالی سال 2025-26 تک اس پہل کے تحت خواتین کی ملکیت والے 1,700 چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری ادارے رجسٹرڈ کیے جا چکے تھے۔
منڈیوں تک رسائی کاروباری سرگرمیوں کی پوری قدر زنجیر کو مکمل کرتی ہے۔ باضابطہ نظام میں شمولیت کاروباری اداروں کو شناخت فراہم کرتی ہے، قرض کی سہولت پیداوار کو ممکن بناتی ہے، جبکہ منڈیوں کے لیے معاونت پیداوار کو آمدنی اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرتی ہے۔
ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے ہنر مندی کے فروغ کا نظام تشکیل دینا
ٹیکنالوجی اور خصوصی مہارت والے شعبوں میں خواتین کے لیے مواقع بڑھنے کے ساتھ، ان شعبوں میں رسائی کو وسیع کرنے کے لیے مستقبل کی ضروریات کے مطابق ہنر مندی کا فروغ اہمیت اختیار کر رہا ہے۔
|
اہم ہنر مندی کے فروغ کے منصوبوں کے تحت ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والی خواتین امیدواروں کی تعداد (22-2021سے 26-2025تک)
|
|
اسکیم
|
مقصد
|
سیکٹر
|
|
|
|
مصنوعی ذہانت
|
سیمی کنڈکٹر
|
قابلِ تجدید توانائی
|
|
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا(پی ایم کے وی وائی 4.0)
|
مصنوعی ذہانت سمیت مستقبل کی جدید اور نئی ٹیکنالوجیز میں تربیت پر زور۔
|
20,393
|
5,927
|
76,671
|
|
قومی اسکیم برائے فروغِ عملی تربیت (این اے پی ایس)
|
روایتی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں بامعاوضہ عملی تربیت کے ذریعے اپرنٹس شپ (دورانِ ملازمت پیشہ ورانہ تربیت ) تربیت کو فروغ دینا، جس میں زیرتربیت افراد کو براہِ راست وظیفے کی مالی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
|
1,534
|
-
|
19,899
|
|
صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئز) کے ذریعے کاریگروں کی تربیت کی اسکیم (سی ٹی ایس)
|
آئی ٹی آئیز کے ذریعے پیشہ ورانہ اور تکنیکی تربیت فراہم کرنا، تاکہ روایتی اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے مختلف پیشوں میں روزگار کے لیے درکار مہارتیں پیدا کی جا سکیں۔
|
512
|
31
|
5,753
|
خواتین کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات
.1نوعمر لڑکیوں کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے امنگوں کی آبیاری( این اے وی وائی اے): 2025 میں شروع کی گئی این اے وی وائی اے اسکیم کا مقصد پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا4.0( پی ایم کے وی وائی 4.0) کے تحت 3,850 نوعمر لڑکیوں کو غیر روایتی اور مستقبل پر مبنی پیشہ ورانہ شعبوں میں ہدف پر مبنی ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنا ہے۔ 31 اگست 2026 تک اس اسکیم کے تحت 1,105 لڑکیوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔
2.خواتین کے لیے اے آئی میں کریئر کے مواقع: 2025 میں شروع کیا گیا یہ پروگرام چھ ریاستوں کے خواتین کے کالجوں میں مہارت کے فروغ کے 30 مراکزِ امتیاز(ایکسی لینس سینٹر) قائم کر رہا ہے۔ یہ مراکز درجہ دوم اور درجہ سوم کے شہروں میں 150 ذیلی مراکز (اسپوکی سینٹرز) کی معاونت کریں گے۔
اس کا مقصد 20,000 زیر تربیت کو مصنوعی ذہانت( اے آئی) میں عملی اور صنعت سے متعلقہ تربیت کے ساتھ منصوبوں پر مبنی تجربہ فراہم کرنا ہے۔ شرکاء کو سرٹیفکیٹ، انٹرن شپ، اپرنٹس شپ، فیلوشپ، کریئر سے متعلق رہنمائی اور مصنوعی ذہانت سے مستفید ہونے والے روزگار کے مواقع تک رسائی فراہم کی جائے گی۔
3. سائنس اور انجینئرنگ میں خواتین—تحقیقی ترقی میں شمولیت کو فروغ دینے کے لیے علم کا استعمال( ڈبلیو آئی ایس ای؍ کے آئی آر اے این): یہ اسکیم فیلوشپ اور ادارہ جاتی پروگراموں کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے شعبے میں خواتین کی شرکت کو فروغ دیتی ہے۔
- وظائف میں پی ایچ ڈی کے لیے وائز فیلوشپ (ڈبلیو آئی ایس ای-پی ایچ ڈی)، وائز پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ (ڈبلیو آئی ایس ای-پی ڈی ایف)، سماجی چیلنجز اور مواقع کے لیے وائز پروگرام (ڈبلیو آئی ایس ای-اسکوپ)، حقوقِ دانش میں وائز انٹرن شپ (ڈبلیو آئی ایس ای-آئی پی آر) اور سائنسی بلندیوں اور اختراعات کے فروغ کے لیے خواتین کی فطری صلاحیتوں کا استعمال (ڈبلیو آئی ڈی یو ایس ایچ آئی) شامل ہیں۔ یہ پروگرام ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق، پیشہ ورانہ وقفے کے بعد دوبارہ ملازمت شروع کرنے، تحقیق کے نتائج کو عملی استعمال میں لانے، حقوقِ دانش سے متعلق تربیت اور تحقیقی سرگرمیوں میں مسلسل شمولیت کے لیے معاونت فراہم کرتے ہیں۔
- ادارہ جاتی پروگراموں میں جدت اور امتیاز کے لیے یونیورسٹی تحقیق کا استحکام (سی یو آر آئی ای)، وگیان جیوتی، اداروں میں تبدیلی کے لیے صنفی ترقی(جی اے ٹی آئی) اور خواتین کے لیے خلائی قیادت کا پروگرام (ڈبلیو آئی ایس ایل پی) شامل ہیں۔
- 2025-26 میں 180 خواتین نے پی ایچ ڈی کی، 606 خواتین سائنس دانوں کو پوسٹ ڈاکٹریٹ یا اطلاقی تحقیق کے لیے معاونت فراہم کی گئی، 26 سینئر سائنس دانوں کو تحقیق و ترقی کے لیے معاونت دی گئی اور 29,443 طالبات کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں معاونت فراہم کی گئی۔
- 110 سے زائد خواتین سائنس دانوں کو روزگار حاصل ہوا، جبکہ 450 سے زائد خواتین نے تحقیق میں شرکت، مہارتوں میں اضافے یا دوبارہ کیریئر شروع کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا۔
یہ اقدامات ہنر مندی کی تربیت اور تحقیقی معاونت کے ذریعے ابھرتے ہوئے اور خصوصی شعبوں میں خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے راستوں کو مستحکم کر رہے ہیں۔
محفوظ روزگار کے مواقع کو یقینی بنانے والی لیبر اصلاحات
خواتین کے لیے افرادی قوت میں وسیع تر شرکت کا انحصار نہ صرف ملازمتوں کی دستیابی پر ہے، بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ آیا وہ ان ملازمتوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں اور انہیں برقرار رکھ سکتی ہیں۔ ان حالات کو تشکیل دینے میں لیبر قوانین اور ضوابط اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
|
نومبر 2025 میں حکومت نے 29 موجودہ محنت سے متعلق قوانین کو یکجا کرکے محنت سے متعلق چارضابطوں میں ’اجرت سے متعلق ضابطہ، 2019؛ صنعتی تعلقات سے متعلق ضابطہ؛ سماجی تحفظ سے متعلق ضابطہ؛ اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت اور کام کے حالات سے متعلق ضابطہ، 2020‘شامل کر دیا ۔
|
اس متحدہ قانونی ڈھانچے کے تحت کئی دفعات خواتین کے کام کی جگہ پر حقوق، تحفظ، نمائندگی اور روزگار تک رسائی کو مستحکم کرتی ہیں۔
- شکایات کے ازالے میں نمائندگی: شکایات کے ازالے کے لیے قائم کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی افرادی قوت میں ان کے تناسب کے مطابق لازمی ہے۔
- زچگی کے فوائد: اہل خواتین کو 26 ہفتوں تک کی بااجرت زچگی کی چھٹی دی جاتی ہے۔ گود لینے والی مائیں اور سروگیسی کے ذریعے بچے کو جنم دینے والی مائیں 12 ہفتوں کی زچگی کی چھٹی کی حق دار ہیں۔ دیگر اہم دفعات میں شامل ہیں:
- اگر حمل سے پہلے اور بعد کی مفت طبی سہولیات فراہم نہ کی جائیں تو خواتین 3,500 روپے بطور طبی اعزازیہ حاصل کرنے کی حق دار ہیں۔
- بچے کے 15؍ماہ تک کے ہونے تک خواتین کو کام کے دوران بچے کو دودھ پلانے کے لیے دو وقفے لینے کا حق حاصل ہے۔
- کم از کم 50 کارکنوں والے اداروں میں بچوں کی نگہداشت کے مراکز فراہم کرنا لازمی ہے۔ آجر کو خاتون کارکن کو دن میں چار مرتبہ ان مراکز میں جانے کی اجازت دینی ہوگی، جس میں آرام کے وقفے بھی شامل ہیں۔
- روزگار کے وسیع تر مواقع : خواتین تمام اداروں میں کام کر سکتی ہیں، بشمول رات کی شفٹوں کے، بشرطیکہ وہ رضامند ہوں اور مقررہ حفاظتی انتظامات کی پابندی کی جائے۔
- صنفی امتیاز کی ممانعت: بھرتی، اجرت اور ملازمت کی شرائط میں صنفی امتیاز ممنوع ہے۔
- پالیسی سازی میں نمائندگی: مرکزی اور ریاستی مشاورتی بورڈوں میں خواتین کی نمائندگی ایک تہائی ہونا لازمی ہے۔ یہ بورڈ کم از کم اجرت اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات کے بارے میں مشورہ دیں گے۔

خواتین کے لیے روزگار کے مضبوط تر مواقع
خواتین کے روزگار کے حوالے سے ہندوستان کی حکمت عملی میں اب ان حالات کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جو خواتین کو کام کرنے اور معاشی طور پر ترقی کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ جیسے جیسے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے، روزگار، کاروبار اور معیشت کے نئے شعبوں میں خواتین کا کردار مزید نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
مہارتوں، مالیات، منڈیوں اور سازگار ماحول پر مشتمل کام کی جگہوں تک وسیع تر رسائی ان راہوں کو مزید تقویت دیتی ہے۔ اس سے ہندوستان کی ترقی میں خواتین کا کردار مزید مستحکم ہوگا اور وکست بھارت کے ہدف کے حصول کے سفر میں خواتین کی قیادت میں ترقی کو فروغ ملے گا۔
حوالہ جات
محنت و روزگارکی وزارت
https://www.labour.gov.in/static/uploads/2026/06/4b7ec0e8206aa4860576d6f75b432e97.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2078530&lang=2®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2256177&lang=2®=48
وزارت مالیات
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249915&lang=1®=3
بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236871®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209712®=48&lang=2
https://www.cgtmse.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236871&lang=1®=20
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AS289_FewgL8.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2099687&lang=2®=3
https://www.msme.gov.in/offerings/schemes-and-services/details/prime-minister-employment-generation-programme-and-other-credit-support-schemes-1-MDMzETMtQWa
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258590&lang=1®=1
https://www.msme.gov.in/offerings/schemes-and-services/details/marketing-promotion-schemes-1-QzMzETMtQWa
https://ramp.msme.gov.in/ramp/RAMP-initiative/msme-team-initiative/msme-team-initiative
https://www.msme.gov.in/static/uploads/2026/05/1bfda06b460e72543530b40817573495.pdf
https://dashboard.msme.gov.in/#
https://sambandh.msme.gov.in/PPP_Index.aspx
تجارت و صنعت کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253019&lang=1®=3
https://www.startupindia.gov.in/content/sih/en/about-startup-india-initiative.html
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1595854&lang=2®=48
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2202984&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2127843®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241313®=48&lang=2
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226498&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204133&lang=1®=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2123510&lang=2®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225466&lang=1®=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294851®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2149336&lang=2®=3
https://nstiwshimla.dgt.gov.in/en/node/2209
وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246009&lang=1®=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2057970&lang=2®=3
https://mospi.gov.in/uploads/publications_reports/publications_reports1787307445576_78c40fd2-1acd-40fb-abb8-15f9491ba4b8_QBUSE_Bulletin_(2).pdf
https://www.mospi.gov.in/national-sample-survey-office
وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2284808®=48&lang=2
وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU3029_YErb7m.pdf?source=pqars
وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2298220&lang=1®=48
پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کا محفوظ شدہ ریکارڈ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250664&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2181702&lang=2®=3
https://newindiasamachar.pib.gov.in/WriteReadData/Magazine//2026/May/M202605011.pdf
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150499®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=154624®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/blogs/blogsdescr.aspx?feaaid=581&lang=1
انوسٹ انڈیا
https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/women-shaping-future-indian-industries
بین الاقوامی تنظیمیں
https://www.unwomen.org/sites/default/files/2024-03/un-women-womens-economic-empowerment-strategy-en.pdf
https://www.ilo.org/sites/default/files/wcmsp5/groups/public/%40ed_emp/%40emp_ent/%40ifp_seed/documents/publication/wcms_766156.pdf
https://www.worldbank.org/ext/en/topic/competitiveness/small-and-medium-enterprises-smes-finance#tab-context
https://digitalforwomen.worldbank.org/access-markets
click to see pdf
***
ش ح ۔م ع ن۔ م ش
U. No.6183
(Explainer ID: 160480)
आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments