• Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

گیارہواں یوم آیوروید

صحت مند کل کے لیے آیوروید

Posted On: 22 SEP 2026 11:08AM

11ویں یوم آیوروید کے موقع پر بھارت اپنے 5 ہزار سال قدیم طریقہ علاج کو سائنسی شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے روزمرہ کی جدید صحت خدمات کا حصہ بنانے کی ایک دہائی مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ آج ملک بھر کے سرکاری کلینکوں اور اسپتالوں میں معمول کی طبی خدمات کے ساتھ ساتھ آیورویدک علاج بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ مفت آن لائن ڈاکٹر سے مشورہ، بیمہ کی سہولت اور اعلی سطح کی سائنسی تحقیق ان قدیم طریقہ ہائے صحت کو زیادہ محفوظ اور سب کے لیے کہیں زیادہ آسانی سے قابل رسائی بنا رہی ہے۔ مضبوط عالمی شراکت داریوں کے ذریعے بھارت دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ روایتی علم اور جدید سائنس مل کر کس طرح ایک زیادہ صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

 

آیوروید: جامع طرز زندگی کی بنیاد

 

آیوروید 5 ہزار سال سے زیادہ قدیم علم حیات ہے۔ اس کی جڑیں رگ وید تک جاتی ہیں۔ لفظ آیوروید، ’آیو‘ (زندگی) اور ’وید‘ (سائنس) سے ماخوذ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ’’سوستھسیہ ساستھیہ  رکشنم، آتوریسیہ وکار پرشمن‘‘ ہے، یعنی صحت مند افراد کی صحت برقرار رکھنا اور بیمار افراد کے مرض کا علاج کرنا۔

آیوروید حقیقی صحت کو جسم میں موجود حیاتیاتی اور میٹابولک عناصر کے درمیان ہم آہنگ توازن کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اس کے لیے حیاتیاتی توانائیوں (دوش)، میٹابولک فائر (اگنی)، جسمانی بافتوں (دھاتو) اور فضلات کے اخراج (مل) کے درمیان بہترین توازن کے ساتھ روح (آتما)، ذہن (منس) اور حواس (اندریا) کا پرسکون اور متوازن ہونا بھی ضروری ہے۔ پودوں، حیوانی مصنوعات اور معدنیات کی طبی اور علاجی خصوصیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، جن کا ذکر چرک سمیہتا اور سشروت سمیہتا میں بھی ملتا ہے، آیوروید ایک قدیم علم ہونے کے باوجود آج بھی اپنی افادیت رکھتا ہے۔ اس علم کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اچھی صحت فرد کے جسم، ذہن اور روح کے درمیان اور اس کے ارد گرد موجود دنیا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی حالت کا نام ہے۔

اس ورثے کو خراج تحسین پیش کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے حکومت ہر سال 23 ستمبر کو یوم آیوروید مناتی ہے۔ اس تاریخ کا انتخاب موسم خزاں کے اعتدالِ شب و روز کے موقع سے ہم آہنگ کرتے ہوئے قدرتی توازن کی عکاسی کے لیے کیا گیا ہے۔ ’’صحت مند کل کے لیے آیوروید‘‘ کے موضوع کے تحت حکومت روایتی صحت نظام کو پھر سے فروغ دینے کے لیے قومی حکمت عملی پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260922111029_655e44.jpg

حکومت آیوروید کے شعبے کی ترقی میں معاونت کے لیے ایک سازگار نظام بھی قائم کر رہی ہے۔ اس کے تحت تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، سائنسی شواہد پر مبنی تحقیق و ترقی کو آگے بڑھانا، ادویات کے معیارات وضع کرنا، عالمی سطح پر رسائی بڑھانا اور آیوروید کو جدید طب کے ساتھ مربوط کرنا شامل ہے۔ حکومت کی یہ جامع حکمت عملی آیوروید اور اس سے وابستہ روایتی طبی نظاموں، جن میں یوگا و قدرتی طریقہ علاج، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی شامل ہیں، کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260922111121_130fc9.jpg

 

صحت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر

 

حکومت اپنے قومی آیوش مشن (این اے ایم) اور قومی صحت مشن کے ذریعے آیوروید سمیت آیوش نظام کو وسعت دے رہی ہے، جدید بنا رہی ہے اور اسے سرکاری طبی نظام میں مربوط کر رہی ہے۔ آیوش کی وزارت اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کے تحت بالترتیب چلنے والے ان دونوں قومی مشنوں کے ذریعے ملک بھر میں آیوش کلینک، اسپتال، شعبے اور کمیونٹی صحت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔

این اے ایم ملک میں آیوش صحت خدمات کی توسیع اور انضمام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان مرکزی حکومت نے آیوش صحت خدمات کو روایتی طبی نظاموں میں شامل کرنے کے لیے این اے ایم کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 6,406.99 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جاری کی۔ قومی صحت مشن بھی ان میں سے بعض اقدامات میں تعاون کر رہا ہے۔ ان اقدامات میں شامل ہیں:

  • مقامی آیوش کلینک/صحت مراکز کو جدید بنانا اور قائم کرنا: موجودہ صحت کلینک (ڈسپنسریوں) کو جدید بنایا جا رہا ہے اور بہتر سہولیات سے لیس صحت مراکز میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جنہیں آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) کہا جاتا ہے۔ یہ قومی صحت مشن اور قومی آیوش مشن کی مشترکہ کوشش ہے۔ قومی صحت مشن آیوشمان آروگیہ مندروں میں آیوش کے صحت کارکنوں کی تربیت اور مالی معاونت فراہم کرتا ہے، جبکہ قومی آیوش مشن بنیادی ڈھانچے، آلات و فرنیچر اور ادویات کی فراہمی کا انتظام کرتا ہے۔

 

  • 12,260 آیوشمان آروگیہ مندر فعال ہیں(19 ستمبر 2026 تک )۔ قومی آیوش مشن کا ہدف 12,500 آیوشمان آروگیہ مندر قائم کرنا ہے۔
  • ان آیوشمان آروگیہ مندروں کو قومی صحت مشن کے ذریعے دیگر کمیونٹی صحت مراکز کے ساتھ بھی ایک ہی جگہ پر قائم کیا جا رہا ہے۔ قومی صحت مشن ملک بھر میں 13,249 سرکاری صحت مراکز میں معمول کی طبی خدمات کے ساتھ آیوش کی صحت خدمات فراہم کرنے میں معاونت کر رہا ہے۔
  • 30 دسمبر 2025 تک شامل صحت مراکز:
  • 6,302 بنیادی صحت مراکز
  • 3,191 کمیونٹی صحت مراکز
  • 475 ضلعی اسپتال
  • 3,281 دیگر مقامی صحت مراکز
  • عملے کے لیے معاونت: حکومت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خدمات انجام دینے والے 25,322 آیوش ڈاکٹروں اور 5,666 آیوش پیرا میڈیکس کی تنخواہوں کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔
  • تربیت یافتہ آیوروید معالج (بیچلر آف آیوروید، میڈیسن اینڈ سرجری کے فارغ التحصیل) کمیونٹی ہیلتھ آفیسر (سی ایچ او) کے طور پر گاؤں کی سطح پر بنیادی صحت مرکز کا انتظام سنبھال سکتے ہیں اور صحت خدمات کے لیے جامع طریقہ کار فراہم کر سکتے ہیں۔
  • ایک ہی چھت تلے خدمات کو یکجا کرنا: مقامی صحت مراکز اور ضلعی اسپتالوں سمیت سرکاری صحت مراکز میں روایتی طب کے کاؤنٹر اور ڈاکٹروں کی سہولت فراہم کرنا۔
  • موجودہ اسپتالوں اور کلینکوں کو بہتر بنانا: روایتی طب کے الگ سے قائم اسپتالوں اور کلینکوں کی مرمت اور جدید کاری کرنا۔
  • بہتر صحت مراکز قائم کرنا: خستہ حال کلینک عمارتوں کی مرمت کرنا، کرائے کی عمارتوں میں چلنے والے کلینکوں کو مستقل عمارتوں میں منتقل کرنا اور ان علاقوں میں نئے کلینک تعمیر کرنا جہاں اس وقت روایتی طب کی صحت خدمات دستیاب نہیں ہیں۔
  • نئے مربوط اسپتال قائم کرنا: ایک ہی چھت تلے مختلف روایتی طبی طریقہ ہائے علاج کو یکجا کرتے ہوئے 10، 30 یا 50 بستروں والے نئے اسپتال قائم کرنا۔
  • ضروری ادویات کی فراہمی: سرکاری کلینکوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں ضروری روایتی ادویات کی مسلسل اور مفت فراہمی یقینی بنانا۔
  • کمیونٹی صحت پروگرام: روایتی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ پر مبنی عوامی صحت مہمات چلانا۔
  • بیداری مہمات: صحت، تندرستی اور دستیاب علاج کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے تعلیمی پروگرام، اشتہارات اور عوامی رابطہ مہمات چلانا۔
  • نئے طبی کالج قائم کرنا: ان ریاستوں اور علاقوں میں نئے روایتی طبی کالج قائم کرنا جہاں طلبہ کے لیے سرکاری تعلیمی مواقع کافی نہیں ہیں۔
  • طبی تعلیمی اداروں کو بہتر بنانا: موجودہ کالجوں کے کیمپس، کلاس رومز اور آلات کو جدید بنانا، جبکہ اعلیٰ ڈگری پروگرام، فارمیسی پروگرام اور پیرا میڈیکل تربیت بھی شروع کرنا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260922111143_8bea23.jpg

حکومت ان مرکزی سرکاری اسپتالوں میں مربوط طب کے شعبے قائم کرکے آیوش کی صحت خدمات کو بھی وسعت دے رہی ہے

  • وردھمان مہاویر میڈیکل کالج (وی ایم ایم سی) اور صفدرجنگ اسپتال، اور
  • لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج۔

یہ شعبے پنچ کرم کے مکمل طور پر فعال یونٹ سمیت بیماریوں سے بچاؤ، صحت کے فروغ اور علاج سے متعلق طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آیوش تحقیقی کونسلوں کی جانب سے توسیعی او پی ڈی خدمات بھی درج ذیل مقامات پر دستیاب ہیں:

  • وردھمان مہاویر میڈیکل کالج (وی ایم ایم سی) اور صفدرجنگ اسپتال،
  • لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج، اور
  • ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اسپتال۔

نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بھی آیوش کی صحت خدمات دستیاب ہیں۔

ٹیلی میڈیسن

حکومت مفت ٹیلی میڈیسن سروس ’ای سنجیونی‘ فراہم کرتی ہے، جس سے 50 کروڑ سے زیادہ مریض فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ جدید طبی نظام کے علاوہ ای سنجیونی آیوش او پی ڈی خدمات بھی فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے مریض پلیٹ فارم کے ذریعے براہ راست آیوروید اور دیگر آیوش طریقہ ہائے علاج کے ماہر ڈاکٹروں سے آن لائن مشورہ کر سکتے ہیں۔

صحت بیمہ

حکومت نے صحت بیمہ منصوبوں کے تحت آیوش علاج کو شامل کرنے کے لیے بیمہ پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے۔ 2024 میں بھارتی بیمہ ضابطہ و ترقیاتی اتھارٹی (آئی آر ڈی اے آئی) نے لازمی قرار دیا کہ تمام بیمہ کمپنیاں بورڈ سے منظور شدہ بیمہ پالیسیوں کے تحت تمام طبی نظاموں سمیت آیوروید کا احاطہ کرنے والی مصنوعات یا اضافی سہولیات فراہم کریں۔

10 فروری 2026 کو نئی دہلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے) نے جنرل انشورنس کونسل (جی آئی سی) کے ساتھ مشترکہ پینل میں شمولیت کے لیے مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس کے نتیجے میں اے آئی آئی اے بھارت کی تمام 32 جنرل انشورنس کمپنیوں کے پینل میں شامل ہوگیا، جو نقد رقم کے بغیر علاج کے لیے کسی آیوش ادارے کی جانب سے پہلی مرتبہ عالمی سطح پر پینل میں شمولیت کا معاہدہ ہے۔ اے آئی آئی اے نے مستفیدین کو بیمہ سے متعلق سوالات میں مدد فراہم کرنے اور آیوش بیمہ کوریج کے بارے میں بیداری بڑھانے کے لیے مخصوص آیوش ہیلتھ انشورنس ہیلپ لائن (1800-11-0008) بھی شروع کی ہے۔

 

ڈبلیو ایچ او کے آئی سی ڈی-11 ماڈیول میں آیوروید کی شمولیت

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے آیوروید کو بیماریوں کی بین الاقوامی درجہ بندی کے 11ویں نظرثانی شدہ ماڈیول میں شامل کیے جانے کے بعد آیوروید کی اصطلاحات کو اب بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس شمولیت سے دنیا بھر کے معالجین کو معیاری کوڈز کے ذریعے اے ایس یو (آیوروید، سدھا اور یونانی) تشخیص درج کرنے میں سہولت ملے گی، جس سے مختلف خطوں اور صحت مراکز میں تشخیص کی یکساں تشریح یقینی بن سکے گی۔ اس سے بیمہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے آیوش علاج کی کارروائی مکمل کرنے، منظوری دینے اور اخراجات کی ادائیگی میں بھی آسانی ہوگی، جبکہ تحقیق و ترقی اور پالیسی سازی سمیت مستقبل میں بیماریوں پر قابو پانے کی حکمت عملی وضع کرنے، میں بھی مدد ملے گی۔

 

 

آیوروید کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی ترقی

آیوش کے بڑھتے ہوئے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو چلانے کے لیے آیوش کے صحت کارکنوں کی بھی ضرورت ہے۔ قومی آیوش مشن کے تحت آیوروید کی تعلیم کو وسعت دینے کے لیے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ادارے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ فارمیسی اور پیرا میڈیکل پروگرام شروع کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

قومی آیوش مشن کے تحت ملک بھر میں 17 آیوش کالج قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 12 کا تعلق آیوروید کی تعلیم کو فروغ دینے سے ہے۔ آیوروید کے سرکاری اور نجی دونوں تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اس شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ 13 مارچ 2026 تک ملک بھر میں:

  • آیوروید کے 593 کالج،
  • آیوروید میں انڈر گریجویٹ سطح کی 45,245 سیٹیں، اور
  • آیوروید میں پوسٹ گریجویٹ سطح کی 5,673 سیٹیں ہیں۔

طبی تربیت اور تعلیمی توسیع کے علاوہ، جدید طب کے دائرے میں آیوروید کی ساکھ قائم کرنے کے لیے سخت سائنسی اصولوں پر مبنی تحقیق اور سائنسی توثیق بھی ضروری ہے۔

آیوروید میں تحقیق و ترقی

آیوروید میں تحقیق و ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت کئی اسکیمیں چلا رہی ہے، جن کا مقصد روایتی طبی طریقہ ہائے علاج کو جدید بنانا اور ادویات کی تیاری کے عمل کو مضبوط کرنا ہے۔

آیورگیان اسکیم

ان کوششوں میں مرکزی حیثیت آیورگیان اسکیم کو حاصل ہے، جسے آیوش کی وزارت نے 2021-22 میں شروع کیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت تحقیق و ترقی کے اقدامات کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ 34 منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 17.79 کروڑ روپے کے تحقیقی فنڈ میں سے نصف آیوروید کے لیے مختص ہے، جس کے تحت 17 مخصوص منصوبوں کے لیے 9.38 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔

2026 کے اوائل تک 11 مخصوص تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی تھی، جن میں سے چھ منصوبوں میں آیوروید کی پانچ اہم واحد نباتاتی ادویات کی حفاظت اور افادیت سے متعلق دستاویزات تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ کوششیں علمی تحقیق میں بڑھتے ہوئے نتائج کی عکاسی کرتی ہیں، جن کے نتیجے میں 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان آیوروید سے متعلق 33 تحقیقی اشاعتیں سامنے آئیں، جبکہ 2001-02 سے اب تک مجموعی طور پر 77 تحقیقی اشاعتیں سامنے آ چکی ہیں۔

آیور سواستھیا یوجنا

آیورگیان اسکیم کے ساتھ آیور سواستھیا یوجنا (2021-2026) بھی جاری رہی، جس کے تحت سرکاری یا غیر منافع بخش آیوش اداروں کو آیوش سے متعلق طبی اور ادویاتی تحقیق، تعلیم، عوامی صحت کے اقدامات اور سہولیات کو اعلی معیار کے سینٹر آف ایکسیلنس میں اپ گریڈ کرنے کے لیے تحقیق و ترقی کی غرض سے مالی معاونت فراہم کی گئی۔

2025 کے اواخر تک معاونت حاصل کرنے والے 25 منصوبوں میں سے 22 میں آیوروید پر توجہ مرکوز کی گئی تھی یا آیوروید سے متعلق طریقہ ہائے علاج شامل تھے۔ اس اسکیم کے تحت 28 خصوصی سینٹر آف ایکسلینس قائم کیے گئے، جن میں سے 22 آیوروید پر مبنی تحقیق اور صحت خدمات کو آگے بڑھانے کے لیے مختص ہیں۔

آیورویدک علوم میں تحقیق کے لیے مرکزی کونسل (سی سی آر اے ایس)

ادارہ جاتی سطح پر آیورویدک علوم میں تحقیق کے لیے مرکزی کونسل (سی سی آر اے ایس)، جو وزارت کے تحت کام کرنے والے پانچ خود مختار تحقیقی اداروں میں سے ایک ہے، ملک بھر میں آیوروید سے متعلق مطالعات کی سائنسی تشکیل، تال میل اور فروغ کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ 30 قومی اور علاقائی اداروں کے نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتے ہوئے سی سی آر اے ایس فیلوشپ، تربیتی پروگراموں اور طلبہ کے لیے ایس پی اے آر کے پروگرام جیسی خصوصی پہل کے ذریعے تحقیقی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔

ایس پی اے آر کے پروگرام

اسٹوڈنٹس شپ پروگرام فار آیوروید ریسرچ کین (ایس پی اے آر کے) انڈر گریجویٹ آیوروید طلبہ میں تحقیق کے شوق اور صلاحیت کو فروغ دیتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت قلیل مدتی آزاد تحقیقی منصوبوں کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ طلبہ کو آیوروید میں تحقیق کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ 2022-23 سے 2024-25 کے درمیان ایس پی اے آر کے پروگرام سے 289 آیوروید کالج مستفید ہوئے۔

آیوروید پر تحقیقی مواد کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے ترجمہ

سائنسی علم کو ہر شخص کے لیے قابل رسائی بنانے کی خاطر سی سی آر اے ایس نے مارچ 2026 میں انوادنی اے آئی کے ساتھ شراکت داری کی۔ انوادنی اے آئی، وزارت تعلیم کے اے آئی سی ٹی ای کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمہ کی سہولت ہے۔ اس تعاون کے ذریعے سی سی آر اے ایس اپنے وسیع تحقیقی نتائج، تعلیمی مواد اور سہ ماہی طبی جرائد کا 13 علاقائی بھارتی زبانوں میں ترجمہ کر رہی ہے۔

زبان کی رکاوٹیں دور کرکے یہ پہل آیوروید سے متعلق طبی تحقیق تک رسائی کو عام بنانے میں مدد دے رہی ہے، جس سے بھارت بھر کے طلبہ، معالجین اور عام لوگ ان سائنسی پیش رفتوں کو آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکیں گے۔

ادویاتی پودوں کی ترقی

حکومت طبی خصوصیات رکھنے والی جڑی بوٹیوں کے تحفظ، کاشت اور پروسیسنگ کے لیے کسانوں اور تحقیقی اداروں کی فعال طور پر معاونت کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت سپلائی چین کی خامیوں کو دور کرنے، کسانوں کی حوصلہ افزائی، مقامی برادریوں کو بااختیار بنانے اور ادویات کے معیار کو برقرار رکھنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260922111245_41bafb.jpg

ضابطہ جاتی معیارات کو مضبوط بنانا: ادویات کا تحفظ اور صارفین کی خوراک

آیوروید کی مارکیٹ میں تیزی سے توسیع کے ساتھ حکومت یہ یقینی بنانے کے لیے قانونی ڈھانچہ بھی قائم کر رہی ہے کہ آیورویدک مصنوعات صارفین کے لیے محفوظ ہوں۔

ادویات کا معیار

آیورویدک ادویات کو ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 اور ڈرگس رولز 1945 کے تحت سختی سے منظم کیا جاتا ہے۔ ان قانونی دفعات کے تحت:

  • ادویات تیار کرنے والوں کے لیے اچھے مینوفیکچرنگ طریقوں (جی ایم پی) پر عمل کرنا، ادویات کی حفاظت اور افادیت ثابت کرنا اور فارماکوپیا کے معیارات پر پورا اترنا لازمی ہے۔
  • معیار برقرار رکھنے کے لیے سرکاری ڈرگ انسپکٹر باقاعدگی سے ادویات کے نمونے حاصل کرکے ان کی جانچ کرتے ہیں۔ اس کام میں سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کے اندر قائم خصوصی آیوش شعبہ بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔

ضابطوں کی تعمیل کے عمل کو آسان بنانے کے لیے حکومت نے ای-آیوشدھی پورٹل شروع کیا ہے، جس کے ذریعے ادویات تیار کرنے کے لائسنس کی درخواستوں کی کاغذ کے بغیر کارروائی اور حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکتی ہے۔

آیوروید آہار

ادویات سے غذائیت تک تحفظ کے ان اصولوں کو وسعت دیتے ہوئے، بھارتی خوراک تحفظ و معیارات اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) نے آیوش کی وزارت کے تعاون سے آیوروید آہار کے لیے معیاری ضوابط متعارف کرائے ہیں۔ اس پہل کے تحت مستند کلاسیکی متون کی بنیاد پر مستند آیورویدک غذائی اشیا کی ایک فہرست تیار کی گئی ہے۔ یہ فہرست روایتی غذائی اشیا تیار کرنے والوں کے لائسنس اور رجسٹریشن کے لیے بھی اہم ہے۔ اس سے روایتی غذائی اشیا تیار کرنے والوں کے لیے ایک شفاف اور ضابطہ بند شعبہ قائم ہوتا ہے، جبکہ بھارت اور دنیا بھر میں صارفین کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔

بین الاقوامی شراکت داریوں اور سفارتی تعلقات کو وسعت دینا

آیوش کی عالمی سطح پر قبولیت اور اسے عالمی منڈی میں شامل کرنے کے لیے حکومت نے دنیا بھر میں حکمت عملی پر مبنی دو طرفہ شراکت داری، تحقیقی تعاون اور تعلیمی تبادلوں کا نظام قائم کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدوں، تحقیقی تعاون، تعلیمی تبادلے کے پروگراموں اور ادویات کی عالمی سطح پر تصدیق کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی تعاون

حکمت عملی پر مبنی بین الاقوامی شراکت داری، مشترکہ تحقیقی ڈھانچوں، علمی اداروں میں مخصوص چیئرز کے قیام اور خصوصی اسکالرشپ پروگراموں کے ذریعے ملک جامع صحت اور مربوط طب کے شعبے میں اپنی مضبوط بین الاقوامی موجودگی قائم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت نے متعدد مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • روایتی طب اور ہومیوپیتھی کے شعبے میں تعاون کے لیے 27 ممالک کے ساتھ بین حکومتی مفاہمت نامے (ایم او یوز)۔
  • آیوش اکیڈمک چیئرز قائم کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ 16 مفاہمت نامے۔
  • مشترکہ تحقیق اور تعلیمی تعاون کے لیے ادارہ جاتی سطح پر 57 مفاہمت نامے۔
  • مالی سال 2025-26 میں انگولا، قازقستان اور تنزانیہ کے ساتھ 3 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے؛ گھانا، جنوبی افریقہ، ری یونین جزیرے، جرمنی، ملائیشیا اور منگولیا کے اداروں کے ساتھ ادارہ جاتی سطح پر 6 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے؛ جبکہ عمان کے ساتھ اکیڈمک چیئر کے قیام کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔

اس عالمی سطح پر موجودگی کو مزید تقویت حاصل ہے:

  • 43 غیر ملکی ممالک میں 46 آیوش اطلاعاتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
  • بین الاقوامی آیوش فیلوشپ/اسکالرشپ پروگرام کے تحت غیر ملکی شہریوں کو 104 اسکالرشپ دی گئی ہیں۔

عالمی سربراہ اجلاس، فریم ورک اور حکمت عملی پر مبنی معاہدوں میں قیادت

بھارت اب روایتی طب کے شعبے میں پالیسی اور معیارات کے لیے ایک عالمی مرکز بن رہا ہے۔ دسمبر 2025 میں نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں روایتی طب سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی دوسری عالمی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں 100 سے زائد ممالک کے نمائندوں اور 22 وزرائے صحت نے شرکت کی۔ کانفرنس کا موضوع ’’توازن کی بحالی: صحت اور فلاح و بہبود کا علم اور عملی طریقہ‘‘ تھا۔ شرکا نے دہلی اعلامیے کو منظور کیا، جس میں رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ ثابت شدہ سائنسی طریقوں کے ذریعے روایتی طب کو بنیادی صحت خدمات میں شامل کریں۔

بین الاقوامی معیارات وضع کرنا اور ثقافتی سفارت کاری کو فروغ دینا

سخت معیار اور تربیتی معیارات کا تعین بھارت کی عالمی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ گجرات کے جام نگر میں قائم عالمی ادارہ صحت کا عالمی روایتی طب تحقیق اور پالیسی سازی کے مرکز کا ایک اہم مرکز ہے۔ آیوش کی وزارت نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر آیوروید اور یونانی طب کے لیے معیاری تربیتی رہنما کتابچے تیار کیے ہیں۔ وزارت نے 17 ممالک کے ساتھ جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات کے ضابطے سے متعلق ایک ورکشاپ کا بھی مشترکہ طور پر انعقاد کیا اور امریکا میں نباتاتی علوم سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس میں تحقیقی کام پیش کیا۔ ثقافتی رابطوں کا دائرہ بھی مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔

جون 2025 میں 11ویں عالمی یوم یوگا کے موقع پر 191 ممالک میں تقریباً 2,000 پروگرام منعقد ہوئے۔ اسی دوران جاپان کے شہر اوساکا میں عالمی نمائش 2025 کے دوران روزانہ یوگا سیشنز نے بھارتی پویلین کو نمائش کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں شامل کر دیا۔

کثیر ملکی تعاون اور طبی قدر پر مبنی سفر

بھارت روایتی صحت خدمات کو اہم بین الاقوامی اتحادوں کا حصہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ برکس اعلانات، جن میں ریو ڈی جنیرو اعلامیہ بھی شامل ہے، کے بعد چندی گڑھ میں منعقدہ 16ویں برکس وزرائے صحت اجلاس میں روایتی، تکمیلی اور مربوط طب سے متعلق ایک خصوصی ماہرین کا ورکنگ گروپ قائم کیا گیا۔

اسی دوران حکومت غیر ملکی مریضوں کے لیے بھارت میں قدرتی طریقہ علاج سے استفادہ کرنا آسان بنا رہی ہے۔ مخصوص آیوش ویزا سہولیات کے ذریعے سفر کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے، جس کے تحت مریضوں کے لیے ایم-3 ویزا اور ان کے ساتھ آنے والے نگہداشت کنندگان کے لیے ایم-4 ویزا فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ پہل بھارت کو عالمی طبی سیاحت کا مرکز بنانے کے مقصد میں معاونت کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image006_20260922111335_f2ac6f.jpg

آیوش شعبے کے لیے مرکزی بجٹ 2026-27 میں مختص رقم

مرکزی بجٹ 2026-27 میں آیوش کی وزارت کے لیے 4,408 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ملک بھر میں آیوش صحت نظام کو مضبوط بنانے، سائنسی شواہد پر مبنی تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے اور آیوش سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچے اور عالمی سطح پر رسائی کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ بجٹ میں کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے:

  • تعلیم، طبی خدمات اور تحقیق کو مضبوط بنانے کے لیے تین نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے) قائم کیے جائیں گے۔
  • معیار، یکسانیت اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے آیوش فارمیسیوں اور ادویات کی جانچ کرنے والی تجربہ گاہوں کو جدید بنایا جائے گا۔
  • روایتی طب میں سائنسی شواہد پر مبنی تحقیق اور عالمی سطح پر رسائی کو فروغ دینے کے لیے عالمی ادارہ صحت کے عالمی مرکز برائے روایتی طب، جام نگر کو جدید بنایا جائے گا۔

روایتی علم کو جدید صحت نظام سے مربوط کرنا

آیوروید کا موروثی علمی روایت سے جدید صحت خدمات کے ایک بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی جزو تک کا سفر جدید معاشرے میں اس کی بدلتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، تحقیق، ضابطہ جاتی نظام، ڈیجیٹل رسائی اور بین الاقوامی تعاون میں توسیع نے آیوروید کی ترقی اور اسے ذمہ دارانہ طور پر صحت نظام میں مربوط کرنے کے لیے ایک وسیع تر نظام تشکیل دیا ہے۔ سائنسی توثیق، معیاری ضوابط اور سائنسی شواہد پر مبنی تحقیق پر بڑھتا ہوا زور جدید دور میں اس کی اہمیت کو مستحکم کرنے میں خاص طور پر اہم ہے۔

اسی کے ساتھ، آیوروید کا عوامی صحت نظام میں انضمام اور اس کی بڑھتی ہوئی عالمی شراکت داریاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ روایتی علم جدید اداروں اور سائنسی تحقیق کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ آیوروید کا مسلسل ارتقا اس طرح بھارت کے تہذیبی علم، جدید صحت نظام اور جامع صحت و بہبود کے حصول کے درمیان ایک متحرک ربط کی عکاسی کرتا ہے۔

حوالہ

آیوش کی وزارت

 

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297703&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287031&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2040904&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209338&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292389&reg=6&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225996&reg=1&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1994921&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297704&reg=48&lang=1

https://anudan.Ayush.gov.in/rni_dashboard

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209249&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246931&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2179805&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2151745&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2310151&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2287033&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2296193&reg=48&lang=2

https://ccras.nic.in/

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

https://aam.mohfw.gov.in/

https://nhsrcindia.org/sites/default/files/2021-03/Operational%20Guidelines%20For%20Comprehensive%20Primary%20Health%20Care%20through%20Health%20and%20Wellness%20Centers.pdf

https://esanjeevani.mohfw.gov.in/#/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2171329&reg=48&lang=2

آیوش کے ڈائریکٹوریٹ، دہلی حکومت

https://Ayush.delhi.gov.in/Ayush/ayurveda

یونیسکو

https://www.unesco.org/en/memory-world/rigveda

دیگر وسائل

https://www.ibef.org/research/case-study/the-growth-of-ayurveda-in-india

https://www.ibef.org/industry/Ayush

https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC5871155/

پی ڈی ایف دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں

 

********

ش ح ۔ع ح۔م ش

U. No.3898

(Explainer ID: 160073) وزیٹر کاؤنٹر : 3
Provide suggestions / comments
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Assamese