• Sitemap
  • Advance Search
Farmer's Welfare

کسانوں کے مستقبل کو باوقار اور محفوظ بنانا

پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا کے 7 سال

Posted On: 11 SEP 2026 5:26PM

گزشتہ سات برسوں سے پی ایم-کے ایم وائی نے چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والےکسانوں کو بڑھتے ہوئے مالی تحفظ اور وقار کے ساتھ بڑھاپے کی زندگی کی طرف دیکھنے میں مدد فراہم کی ہے۔ 2019 میں شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت 60 سال کی عمر سے ہر ماہ کم از کم 3,000 روپے کی یقینی پنشن فراہم کی جاتی ہے۔فروری 2026 تک ملک بھر میں 24.96 لاکھ سے زائدکسان اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن کراچکے ہیں۔ تقریباً 5.75 لاکھ رجسٹریشن کے ساتھ ہریانہ سرفہرست ہے، جبکہ بہار 3.46 لاکھ سے زائدرجسٹریشن کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔سال 2019 سے فروری 2026 تک اس اسکیم کے نفاذ اور اس کی رسائی کو وسعت دینے کے لیے 540.66 کروڑ روپے استعمال کیے جاچکے ہیں۔ اس اسکیم کی وسیع ہوتی رسائی کسان برادریوں میں سماجی تحفظ کی اہمیت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بیداری کی عکاسی کرتی ہے۔ پی ایم-کے ایم وائی کسانوں کی زندگی کے آخری برسوں کو زیادہ محفوظ اور باوقار بنانے کی مسلسل کوشش کی ایک مثال ہے۔

 

پی ایم-کے ایم وائی کے 7 سال: کاشت کاری کے سالوں سے آگے کی زندگی پر ایک نظر

کئی نسلوں سے ہندوستان کے کسان ملک کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں اور کھیتوں میں انتھک محنت کرتے رہے ہیں۔ جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی ہے، حکومت اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ان کی برسوں کی محنت کا صلہ انہیں تحفظ اور باوقار زندگی کی صورت میں ملنا چاہیے۔ یہ خصوصاً چھوٹے اور معمولی کسانوں کے لیے اہم ہے، جن کے پاس بڑھاپے میں انحصار کرنے کے لیے محدود بچت ہو سکتی ہے۔

اسی وژن کے تحت پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم-کے ایم وائی) کا آغاز 12 ستمبر 2019 کو کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت اہل چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والےکسانوں، خواہ وہ مرد ہوں یا خواتین، کو 60 سال کی عمر سے ہر ماہ باقاعدہ پنشن کی یقینی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسان اپنی زندگی کے آخری برسوں میں مالی استحکام اور ذہنی اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

آغاز کے بعد سے پی ایم-کے ایم وائی کسان برادری کے لیے سماجی تحفظ کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھری ہے۔ 12 ستمبر 2026 کو اس اسکیم کے سفر کے سات سال مکمل ہورہے ہیں۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران اس اسکیم کی رسائی ملک بھر کے کسانوں تک مسلسل وسیع ہوئی ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت کسانوں کے لیے یہ یقینی بنانے کے اپنے عزم پر مسلسل قائم ہے کہ وہ اپنے بڑھاپے کے برسوں کی طرف زیادہ مالی تحفظ اور وقار کے ساتھ دیکھ سکیں۔

اثر: سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں توسیع

پی ایم-کے ایم وائی کا سفر صرف سات سال مکمل ہونے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سماجی تحفظ کے دائرے میں شامل ہونے والے کسانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ کسان برادریوں میں سماجی تحفظ کی اس ضمانت کو بتدریج پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور 6 فروری 2026 تک پی ایم-کے ایم وائی کے تحت 24,96,252 کسان رجسٹریشن کراچکے ہیں۔

اس اسکیم کا اثر خاص طور پر مختلف ریاستوں میں اس کے وسیع پھیلاؤ سے واضح ہوتا ہے۔ ہریانہ تقریباً 5.75 لاکھ اندراج شدہ کسانوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ بہار میں 3.46 لاکھ سے زائد کسان اس اسکیم سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ جھارکھنڈ اور اتر پردیش دونوں میں اندراج کی تعداد 2.5 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ چھتیس گڑھ میں 2 لاکھ سے زائد کسانوں کا اندراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اڈیشہ، جموں و کشمیر، مدھیہ پردیش، تمل ناڈو اور مہاراشٹر بھی اس اسکیم کے ملک گیر دائرۂ کار کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

اس بڑھتی ہوئی رسائی کے پیچھے مسلسل عوامی سرمایہ کاری کارفرما ہے۔ پی ایم-کے ایم وائی کے تحت 2019 سے فروری 2026 تک ملک بھر میں 540.66 کروڑ روپے استعمال کیے جاچکے ہیں، جس سے اسکیم کے مسلسل نفاذ اور اس کی رسائی کو مزید وسعت دینے میں مدد ملی ہے۔

کسانوں کو بڑھاپے میں سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی پی ایم-کے ایم وائی آج ملک گیر حفاظتی نظام کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ یہ اسکیم ان لاکھوں کسانوں کے لیے مالی تحفظ کی ضمانت کو مزید یقینی بناتی ہے، جو اپنی پوری عملی زندگی ملک کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں صرف کرتے ہیں۔

کسانوں کے سنہرے برسوں کے لیے پنشن کا مضبوط سہارا

پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم-کے ایم وائی) ایک مرکزی شعبے کی اسکیم ہے، جسے وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود کے محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی جانب سے نافذ کیا جارہا ہے۔ اس اسکیم کو لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کے اشتراک سے نافذ کیا جارہا ہے۔

پی ایم-کے ایم وائی ایک رضاکارانہ اور تعاون پر مبنی ضعیفی پنشن اسکیم ہے، جس کا مقصد چھوٹے اورحاشیے پر رہنے والے کسانوں کو عمر کے آخری مرحلے میں مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل مستفیدین کو 60 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد کم از کم 3,000 روپے ماہانہ کی یقینی پنشن دی جاتی ہے۔

اس اسکیم میں مستفیدین کی وفات کے بعد خاندان کے لیے پنشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اگر کسی مستفید کو پنشن ملنے کے دوران موت واقع ہو جاتی ہے تو اس کے شریک حیات کو مستفید کی پنشن کا 50 فیصد خاندانی پنشن کے طور پر دیا جاتا ہے۔ یہ رقم 1,500 روپے ماہانہ بنتی ہے۔ یہ فائدہ صرف شریک حیات کے لیے دستیاب ہے اور اسی صورت میں ملتا ہے جب شریک حیات پہلے سے پی ایم-کے ایم وائی کا مستفید نہ ہو۔

اگر کسی مستفید ہونے والے شخص کی 60 سال کی عمر مکمل ہونے سے پہلے وفات ہوجاتی ہے تو اسکیم میں اس صورت حال کے لیے بھی ایک متبادل انتظام موجود ہے۔ اگر مستفید ہونے والے شخص نے باقاعدگی سے مقررہ رقم جمع کی ہو تو اس کا شریک حیات مقررہ باقاعدہ رقم جمع کرکے اسکیم میں شامل ہوکر اسے جاری رکھ سکتا ہے۔ متبادل طور پر، شریک حیات اسکیم سے باہر نکلنے اور رقم واپس لینے سے متعلق مقررہ شرائط کے مطابق اسکیم سے باہر نکل سکتا ہے۔

پی ایم-کے ایم وائی سے کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

یہ اسکیم ملک بھر کے ان چھوٹے اورحاشیے پر رہنے والےکسانوں کے لیے ہے جن کے پاس زیادہ سے زیادہ دو ہیکٹیئر قابل کاشت اراضی ہے۔ اسکیم میں اندراج کے لیے کسان کی عمر 18 سے 40 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔ اہل قرار پانے کے لیے یکم اگست 2019 تک متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اراضی ریکارڈ میں کسان کا نام درج ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کسان اسکیم میں مقررہ اخراج کے معیار کے دائرے میں نہیں آنا چاہیے۔

پی ایم-کے ایم وائی سے کون اہل نہیں ہے؟

گرچہ پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم-کے ایم وائی) چھوٹے اور حاشیے پررہنے والے کسانوں کے لیے ایک وسیع سماجی تحفظ کے نظام کے طور پر تیار کی گئی ہے، تاہم بعض مخصوص زمروں کے افراد کو واضح طور پر اس اسکیم سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ اس کے فوائد ان کسانوں تک پہنچ سکیں جنہیں بڑھاپے میں مالی تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

1 .دیگر سماجی تحفظ اور پنشن اسکیموں کے تحت آنے والے کسان

جو کسان پہلے ہی دیگر قانونی یا مرکزی سماجی تحفظ کی اسکیموں میں شامل ہیں، وہ پی ایم-کے ایم وائی میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں:

  • نیشنل پنشن اسکیم (این پی ایس)، ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی )اسکیم یا ایمپلائز فنڈ آرگنائزیشن اسکیم جیسی قانونی اسکیموں کے رکن۔
  • پردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا (پی ایم - ایس وائی ایم) کے مستفیدین۔
  • پردھان منتری لگھو ویاپاری مان دھن یوجنا (پی ایم- ایل وی ایم) کے مستفیدین۔
  1. زیادہ معاشی حیثیت رکھنے والے افراد کے زمرے

کمزور اور زیادہ ضرورت مند کسان خاندانوں تک معاونت محدود رکھنے کے لیے ایسے افراد اور خاندان، جو درج ذیل میں سے کسی بھی زیادہ آمدنی یا معاشی خوشحالی کی علامت پر پورا اترتے ہوں، اس اسکیم کے دائرے سے باہر رکھے گئے ہیں:

  • ادارہ جاتی زمین رکھنے والے: تمام ادارہ جاتی زمین رکھنے والے ادارے۔
  • آئینی عہدوں پر فائز افراد: موجودہ اور سابق آئینی عہدوں پر فائز افراد۔
  • عوامی نمائندے: موجودہ اور سابق مرکزی وزرا یا وزرائے مملکت، لوک سبھا یا راجیہ سبھا کے ارکان، ریاستی قانون ساز اسمبلیوں یا قانون ساز کونسلوں کے ارکان، میونسپل کارپوریشنوں کے میئر اور ضلعی پنچایتوں کے چیئرمین۔
  • سرکاری اور سرکاری شعبے کے ملازمین: مرکزی یا ریاستی حکومت کی وزارتوں، محکموں یا فیلڈ یونٹس، مرکزی یا ریاستی سرکاری شعبے کے اداروں(پی ایس ای )،ان سے منسلک یا خود مختار اداروں کے موجودہ یا ریٹائرڈ افسران اور ملازمین، نیز مقامی اداروں کے مستقل ملازمین۔
    • ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف(ایم ٹی ایس)، کلاس IV اور گروپ ڈی کے ملازمین کو اس اخراج کے دائرے سے مستثنی رکھا گیا ہے اور وہ پی ایم-کے ایم وائی کے لیے اہل رہیں گے۔
  • انکم ٹیکس ادا کرنے والے: وہ تمام افراد جنہوں نے گزشتہ تشخیصی سال میں انکم ٹیکس ادا کیا ہو۔
  • رجسٹرڈ پیشہ ور افراد: ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) اور آرکیٹیکٹ جیسے پیشہ ور افراد، جو متعلقہ پیشہ ورانہ اداروں میں رجسٹرڈ ہوں۔
  1. تصدیق اور خود اقرار نامہ

پی ایم-کے ایم وائی کے لیے اہلیت کی بنیادی طور پر درخواست گزار کے خود اقرار نامے کی بنیاد پر جانچ کی جاتی ہے۔ ریاستی یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومتیں ان خود اقرار ناموں کی بنیاد پر اہلیت کی تصدیق کرتی ہیں۔ اگر کسی درخواست گزار کی جانب سے غلط یا جھوٹا اقرار نامہ جمع کرائے جانے کا پتہ چلتا ہے تو وہ اسکیم کے تحت مالی فوائد کا اہل نہیں رہتا، مرکزی حکومت کی جانب سے دی جانے والی مساوی مالی شراکت روک دی جاتی ہے اور مستفید کے ذریعے جمع کی گئی رقم بغیر سود کے واپس کر دی جاتی ہے۔

مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ مالی تعاون

پی ایم-کے ایم وائی میں مشترکہ مالی تعاون کا نظام ہے، جس کے تحت کسان اور مرکزی حکومت پنشن فنڈ میں برابر رقم جمع کرتے ہیں۔ کسان اپنی کام کرنے کی عمر کے دوران ہر ماہ مقررہ رقم جمع کرتے ہیں، جبکہ حکومت بھی اتنی ہی رقم بطور مساوی شراکت جمع کرتی ہے۔کسان کی ماہانہ شراکت 55 روپے سے 200 روپے تک ہوتی ہے، جو اس عمر کے مطابق طے ہوتی ہے جس میں کسان اس اسکیم میں شامل ہوتا ہے۔ اس طرح کم عمر میں اسکیم میں شامل ہونے والے کسانوں کو ہر ماہ کم رقم جمع کرنی ہوتی ہے، جبکہ زیادہ عمر میں شامل ہونے والے کسانوں کی ماہانہ شراکت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

داخلے کی عمر (سالوں میں)

ریٹائرمنٹ کی عمر (سالوں میں)

ممبر کا تعاون (روپے)

حکومت کا تعاون (روپے)

کل شراکت (روپے)

18

60

55

55

110

19

60

58

58

116

20

60

61

61

122

21

60

64

64

128

22

60

68

68

136

23

60

72

72

144

24

60

76

76

152

25

60

80

80

160

26

60

85

85

170

27

60

90

90

180

28

60

95

95

190

29

60

100

100

200

30

60

105

105

210

31

60

110

110

220

32

60

120

120

240

33

60

130

130

260

34

60

140

140

280

35

60

150

150

300

36

60

160

160

320

37

60

170

170

340

38

60

180

180

360

39

60

190

190

380

40

60

200

200

400

کسان کی جانب سے جمع کی جانے والی رقم اسکیم سے منسلک بینک کھاتے سے خودکار طور پر کاٹ لی جاتی ہے۔ اس سے پنشن فنڈ میں ہر ماہ باقاعدگی سے رقم جمع ہونا یقینی بنایا جاتا ہے۔ اسکیم میں اندراج کے وقت کسان خودکار کٹوتی کی اجازت دیتا ہے، جس کے ذریعے متعلقہ ماہانہ شراکت کی رقم منسلک بینک کھاتے سے کاٹنے کی منظوری دی جاتی ہے۔

اہل چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والے کسان پی ایم-کے ایم وائی میں رضاکارانہ شراکت کے لیے پی ایم-کسان کے تحت ملنے والے فوائد کو استعمال کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کسان اندراج اور خودکار کٹوتی کی اجازت کا فارم جمع کرتا ہے۔ اس کے ذریعے اس بینک کھاتے سے شراکت کی رقم خودکار طور پر کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے، جس میں پی ایم-کسان کے فوائد جمع کیے جاتے ہیں۔

اندراج: ایک آسان ڈیجیٹل عمل

پی ایم-کے ایم وائی کے تحت اہل چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والے کسانوں کے لیے قریبی کامن سروس سینٹر (سی ایس سی )کے ذریعے آسان اور کاغذی کارروائی سے پاک اندراج کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ کسانوں کو او ٹی پی کی تصدیق کے لیے اپنا آدھار کارڈ، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور موبائل نمبر ساتھ لے جانا ہوگا۔کامن سروس سینٹر پر ولیج لیول انٹرپرینیور(وی ایل ای )کسان کی تفصیلات کی تصدیق کرتا ہے اور آن لائن رجسٹریشن کا عمل مکمل کرتا ہے۔ کسان اجازت نامے کے فارم پر دستخط کرتا ہے۔ اس مرحلے پر پہلی شراکت کی رقم ڈیجیٹل طریقے سے جمع کی جاتی ہے۔

کامیاب رجسٹریشن کے بعد کسان کو پنشن اکاؤنٹ نمبر اور پنشن کارڈ دیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیلات لائف انشورنس کارپوریشن کو بھیجی جاتی ہیں، جو پنشن فنڈ اور پنشن کی ادائیگی کا انتظام کرتی ہے۔ اس کے بعد کی شراکت کی رقم کسان کے بینک اکاؤنٹ سے خودکار طور پر کاٹ لی جاتی ہے۔

کسان اپنی سہولت اور مالی ضروریات کے مطابق ماہانہ، سہ ماہی، چار ماہ میں ایک بار یا شش ماہی شراکت کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے کسانوں کو اپنی سہولت کے مطابق ڈیجیٹل طریقے سے اندراج مکمل کرنے میں آسانی ہوتی ہے، جبکہ ان کی شراکت اور پنشن سے متعلق ریکارڈ بھی منظم انداز میں برقرار رکھے جاتے ہیں۔

کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل عزم

پی ایم-کے ایم وائی کے سات سال بھارت کے چھوٹے اور حاشیے پر رہنے والے کسانوں کے لیے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2019 میں شروع کی گئی اس اسکیم کی رسائی ملک بھر میں بتدریج وسیع ہوئی ہے اور اس کے ذریعے کسان خاندانوں کے لیے بڑھاپے میں آمدنی کے تحفظ کو مزید یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے آسان اور کاغذی کارروائی سے پاک اندراج کے عمل اور شراکت کی لچکدار سہولتوں نے اہل کسانوں کے لیے اسکیم میں شامل ہونا آسان بنا دیا ہے۔

 اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پی ایم-کے ایم وائی کسانوں کی فعال عمر تک محدود نہیں رہتی بلکہ 60 سال کی عمر کے بعد بااعتماد پنشن فراہم کرکے ان کے مستقبل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ اس لیے پی ایم-کے ایم وائی کا سفر صرف اندراج اور دائرہ کار بڑھانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ کسانوں کی زندگی کے آخری برسوں میں ان کے وقار اور مالی استحکام کے تحفظ کے وسیع تر عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پنشن کے ذریعے سماجی تحفظ کا مضبوط سہارا فراہم کرکے یہ اسکیم ان کسانوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے عزم کو مضبوط کرتی ہے، جو اپنی پوری عملی زندگی ہندوستان کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں صرف کرتے ہیں۔

حوالہ

وزارت زراعت و کسانوں کی بہبود

https://pmkisan.gov.in/Documents/PM-KMY%20-%20Operational%20Guidelines.pdf

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/187/AU1656_xhexVu.pdf?source=lsapps

https://pmkmy.gov.in/scheme/pmkmy https://agriwelfare.gov.in/Documents/DAFW_AnnualReport_2025_26_En.pdf

PIB Backgrounders

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2053142&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150838&reg=48&lang=1 https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2022/jan/doc20221185101.pdf

پی ڈی ایف فائل یہاں دیکھیں

********

ش ح۔ ش آ۔ش ب ن

U-NO-3399

(Explainer ID: 159972) आगंतुक पटल : 8
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Malayalam