Farmer's Welfare
نیلگو ںمعیشت کا فروغ
پی ایم ایم ایس وائی کے تحت بھارت کے ماہی پروری کے شعبے کو بااختیار بنانے کے چھ برس
Posted On:
10 SEP 2026 12:15PM
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی ) نے بھارت کے ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے بجٹ تخمینے میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ریکارڈ 2,500 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جو اس شعبے کی ترقی کے تئیں حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔مچھلی کی پیداوار 20-2019 میں 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 25-2024 میں ریکارڈ 197.75 لاکھ ٹن ہوگئی۔ ماہی پروریکی مصنوعات کی برآمدات بھی 20-2019میں 46,663 کروڑ روپے سے بڑھ کر 26-2025 میں 73,890 کروڑ روپے ہوگئیں، جو اس شعبے کی مضبوط ترقی کو ظاہر کرتی ہیں۔اس اسکیم کے تحت ماہی پروریاور آبی زراعت سے متعلق سرگرمیوں میں 58 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے۔ اس کے علاوہ، کولڈ چین اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 2,797 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جس سے پیداوار کے بعد اس کے بہتر انتظام اور منڈیوں تک رسائی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملی۔اس کے علاوہ ، 544.86 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کے ذریعے 2,195 ایف ایف پی او کو تعاون فراہم کیا گیا، جس سے ماہی گیروں کو اجتماعی طور پر بااختیار بنانے کی کوششوں کو مزید تقویت ملی۔
بھارت کی نیلگو ںمعیشت کو مضبوط بنانا
بھارت کا ماہی پروریکا شعبہ معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جو تقریباً تین کروڑ افراد خاص طور پر محروم اور ساحلی برادریوں کے لیے کے روزگار کا ذریعہ ہے ۔ ایک تسلیم شدہ ابھرتے ہوئے شعبے کے طور پر اس میں مسلسل ترقی ہوئی ہے، جس کی بنیاد پیداوار، برآمدات، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے والی پالیسیوں پرہے۔اس شعبے کی صلاحیتوں کو مزید بروئے کار لانے کے لیے حکومت نے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی ) متعارف کرائی، جس کا مقصد ماہی پروریکے پورے شعبے میں جامع اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ 10 ستمبر 2026 کو اس اسکیم کے چھ سال مکمل ہونے کے ساتھ ہی یہ بھارت کے ماہی پروریکے شعبے کو جدید بنانے، پائیدار بنانے اور خوشحالی کی جانب لے جانے میں ایک اہم سنگ میل بن چکی ہے۔2020 میں آغاز کے بعد سے اس اسکیم نے ملک بھر میں بہتر بنیادی ڈھانچہ تیار کیا، روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے اور ماہی پروروں اور مچھلی پالنے والوں کو مسلسل تعاون فراہم کیا ہے۔ نیلگوں انقلاب اسکیم کی بنیاد پر تیار کی گئی پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کا مقصد ماہی پروریسے متعلق پوری ویلو چین میں موجود اہم خامیوں کو دور کرنا تھا۔

حکومت 21-2020 سے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا نافذ کر رہی ہے، جس کے لیے مجموعی طور پر 20,750 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ تخمینے میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت ریکارڈ 2,500 کروڑ روپے مختص کرکے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے، جس سے ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے ذرائع کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے مسلسل تعاون بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔11 اگست 2026 تک، 21-2020 سے 26-2025 کے دوران محکمہ ماہی پروری نے ماہی پروری اور آبی زراعت سے متعلق 21,394.88 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 9,510.89 کروڑ روپے ہے۔ یہ منظوری ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مختلف نفاذی ایجنسیوں سے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ ان منصوبوں سے ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ماہی پروری سے متعلق مکمل ویلو چین کو مضبوط بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
پی ایم ایم ایس وائی نے بھارت کے ماہی پروری کے شعبے میں تبدیلی لانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس کے تحت پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ، ویلو چین کو جدید بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، آمدنی میں اضافہ، برآمدات اور مجموعی اضافی قدر کو فروغ دینا، ماہی پرور کے تحفظ اور بہبود کو مضبوط بنانا اور ماہی پروری کے انتظام و ضابطے کو بہتر بنانا شامل ہے۔

کامیابی کی کہانی: برف بنانے کے پلانٹ سے وسیع تر خوشحالی کی جانب
گجرات کے پوربندر میں شری پروین بھائی بابولال ماسانی گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ماہی پروری کا کاروبار چلا رہے ہیں۔ اس شعبے میں وسیع تجربے کی بدولت وہ سمجھتے تھے کہ برف کے نئے پلانٹ میں سرمایہ کاری سے ان کے کاروبار کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، برف کا پلانٹ قائم کرنے کی زیادہ لاگت ان کی مالی استطاعت سے باہر تھی۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا نے برف کے کارخانے کے قیام کے لیے مالی امداد فراہم کرکے انہیں یہ موقع فراہم کیا۔2021-22 میں شری ماسانی کو پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی )کے تحت کامیابی کے ساتھ 48 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل ہوئی۔ اس مالی تعاون سے انہوں نے روزانہ 30 میٹرک ٹن برف تیار کرنے کی صلاحیت والا برف کا کارخانہ قائم کیا، جس سے ماہی پروری کی کشتیوں کے لیے اعلی معیار کی برف تیار کرنا ممکن ہوا۔ اس نئے کارخانے کی مدد سے ماہی پروری کی کشتیاں مچھلی کو تازہ رکھنے اور ماہی پروری کے دوران اس کے خراب ہونے کو کم کرنے کے لیے وافر مقدار میں برف اپنے ساتھ لے جا سکتی ہیں۔اس سہولت سے شری ماسانی کا ماہی پروری کا کاروبار مضبوط ہوا، ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور ان کے خاندان کے روزگار کے حالات بہتر ہوئے۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت ہدف پر مبنی تعاون ماہی پرور افراد کو ضروری بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنے، اپنے کاروبار کو مضبوط بنانے اور ماہی پروری کے شعبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کس طرح مدد فراہم کر سکتا ہے۔
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے ذریعے بھارت کے ماہی پروری شعبے میں تبدیلی
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ایک وسیع تر اسکیم ہے، جس میں مرکزی شعبہ( سی ایس ) اور مرکز کے زیر اہتمام اسکیم(سی ایس ایس) کے اجزا شامل ہیں۔
مرکزی شعبہ(سی ایس): اس کی مکمل مالی اعانت اور عمل درآمد مرکزی حکومت کرتی ہے۔ مرکزی شعبے کے تحت مچھلیوں کی نسلی بہتری، اختراع، ٹیکنالوجی کے عملی مظاہرے، تربیت، آبی حیاتیاتی قرنطینہ، ماہی پروری کی بندرگاہوں کو جدید بنانا، بیماریوں کی نگرانی اور ماہی پروری سے متعلق اعداد و شمار کے نظام کو تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، قومی ماہی پروری ترقیاتی بورڈ اور ماہی پروری سے متعلق اداروں کو مضبوط بنانے، ماہی پروروں کی حفاظت، ماہی گیر پیداوار کنندگان کی تنظیموں، امداد باہمی کی انجمنوں اور اپنی مدد آپ گروپوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تصدیق، پیداوار کی قابل سراغ رسانی، منظوری اور لیبلنگ کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم -ایم کے ایس ایس وائی )مرکزی شعبے کے تحت ایک ذیلی اسکیم ہے۔ یہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے وسیع تر دائرہ کار کے تحت کام کرتی ہے۔ یہ اسکیم پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے بنیادی مقاصد کی تکمیل اور انہیں مزید تقویت فراہم کرتی ہے۔ اس کا خصوصی مقصد ماہی پروری کے شعبے کی ترقی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی)
پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) مرکزی شعبے کے تحت ایک ذیلی اسکیم ہے، جسے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے وسیع تر دائرہ کار میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ اسکیم 24-2023 سے 27-2026 تک چار سال کے لیے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ ہے اور اس کے لیے 6,000 کروڑ روپے کی تخمینی مالی لاگت مقرر کی گئی ہے۔
یہ اسکیم ماہی پروری کے شعبے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے کے لیے رسمی نظام کو فروغ دینے، بیمہ کی سہولت کو وسعت دینے، ادارہ جاتی مالی وسائل تک رسائی کو مضبوط بنانے اور ماہی پروری سے متعلق ویلو چین میں معیار کی یقین دہانی اور پیداوار کی قابل سراغ رسانی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس کا مقصد ماہی گیروں، آبی زراعت سے وابستہ کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی مالی مضبوطی اور خطرات سے تحفظ میں اضافہ کرنا اور انہیں منڈی سے بہتر طور پر مربوط کرنا ہے، تاکہ ماہی پروری کا شعبہ زیادہ منظم، شفاف اور پائیدار بن سکے۔
مرکز کے زیر اہتمام اسکیم(سی ایس ایس): اس کے لیے مرکزی حکومت جزوی مالی اعانت فراہم کرتی ہے جبکہ اس پر عمل درآمد ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کرتے ہیں۔ مرکز کے زیر اہتمام اسکیم کے تحت سرگرمیوں میں شامل ہیں:
- مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ: ٹیکنالوجی کے استعمال اور ماہی پروری کے بہتر طریقہ کار کے ذریعے مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے تحت اندرون ملک ماہی گیری، سمندری ماہی گیری، سمندری آبی زراعت، سمندری گھاس کی کاشت، ہمالیائی اور شمال مشرقی ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ماہی پروری کی ترقی اور سجاوٹی مچھلیوں کی پرورش شامل ہے۔
- بنیادی ڈھانچہ اور پیداوار کے بعد کا انتظام: ماہی پروری کی بندرگاہوں، مچھلی اتارنے کے مراکز اور پیداوار کے بعد کی سہولیات کے ذریعے ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کولڈ چین کا بنیادی ڈھانچہ، گہرے سمندر میں ماہی گیری، جدید مربوط ساحلی ماہی گیر بستیوں، بازاروں اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔
- ماہی پروری کا انتظام اور ضابطہ جاتی نظام: نگرانی، کنٹرول اور گشت کے نظام، ماہی پروری کی کشتیوں اور ماہی پروروں کے لیے بیمہ اور ماہی گیری سے متعلق توسیعی و امدادی خدمات کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ سمندر میں ماہی گیروں کے تحفظ اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے علاوہ ان کے روزگار اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی تعاون کیا جاتا ہے۔
پی ایم ایم ایس وائی: پیداوار، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کے ذرائع کو مضبوط بنانا
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا نے گزشتہ چھ برسوں کے دوران مچھلی کی پیداوار میں اضافے، ماہی پروری کی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے اور روزگار و معاش کے مواقع پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
- مچھلی کی پیداوار 20-2019 میں 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر25-2024 میں ریکارڈ 197.75 لاکھ ٹن ہوگئی۔
- اس اسکیم کے تحت ماہی پروری اور آبی زراعت سے متعلق سرگرمیوں میں 58 لاکھ افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
- ماہی پروری کی مصنوعات کی برآمدات 20-2019 میں 46,663 کروڑ روپے سے بڑھ کر26-2025 میں 73,890 کروڑ روپے ہوگئیں۔

جدید آبی زراعت اور ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا
- پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت 713.80 کروڑ روپے کی مجموعی لاگت سے 12 مربوط آبی زراعت مراکز کی منظوری دی گئی ہے۔
- گزشتہ پانچ برسوں (25-2020) کے دوران سمندری گھاس کی کاشت اور اس سے متعلق سرگرمیوں کے لیے 198.17 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔
- اندرون ملک آبی زراعت کے لیے 52,058 ذخائر میں پنجرے لگانے اور 23,285.06 ہیکٹر تالابوں کے رقبے سے متعلق منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 12,081 پانی کی دوبارہ گردش کے نظام اور 4,205 بایوفلاک اکائیوں کو بھی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
- پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت 2,672 سجاوٹی مچھلیوں کی پرورش اور مربوط سجاوٹی مچھلی اکائیوں کو تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے اور ویلو چین کو مضبوط بنانا
حکومت پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہی ہے، جس میں ماہی گیری کی بندرگاہوں، مچھلی اتارنے کے مراکز، کولڈ چین، نقل و حمل اور مارکیٹنگ کی سہولیات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران محکمہ ماہی پروری نے 28 ماہی پروریبندرگاہوں کی ترقی و جدید کاری کے منصوبوں، مچھلی اتارنے کے 25 مراکز کے منصوبوں اور کھدائی کے 23 منصوبوں کے لیے 3,741.89 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔
اس کے علاوہ، کولڈ چین اور مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 2,797 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ 11 اگست 2026 تک منظور کیے گئے منصوبوں میں شامل ہیں:
- مچھلی کی نقل و حمل کے لیے 28,489 اکائیاں
- زندہ مچھلیوں کی فروخت کے لیے 1,394 اکائیاں، مچھلی فروخت کرنے کے 6,018 مچھلیوں کیوسک اور مچھلی کی خوردہ فروخت کے 117 بازار
- 775 کولڈ چین اور برف کے پلانٹ اور مچھلی کی تھوک فروخت کے 24 بازار
ان اقدامات سے اندرون ملک ماہی پروری سے حاصل ہونے والی پیداوار کے بعد کے انتظام، کولڈ چین ، نقل و حمل اور منڈیوں تک رسائی کو مضبوط بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

اجتماعی کوشش، استحکام دینا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے برادریوں کو بااختیار بنانا
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا بنیادی ڈھانچے کی ترقی، برادریوں کو بااختیار بنانے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنا رہی ہے۔
ایف ایف پی او کے ذریعے اجتماعی طور پر بااختیار بنانا
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے (پی ایم ایم ایس وائی )کےتحت ماہی گیر پیداوار کنندگان کی تنظیموں(ایف ایف پی او) کے قیام کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، تاکہ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے اور ان کی سودے بازی کی صلاحیت مضبوط ہو۔ مالی سال 22-2021 سے 26-2025تک محکمہ ماہی پروری نے ملک بھر میں 2,195 ماہی گیر پیداوار کنندگان کی تنظیمیں قائم کرنے کے لیے 544.86 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی۔ اس کے تحت ابتدائی مرحلے کی معاونت، انتظامی اخراجات اور حصص کی مالی امداد فراہم کی گئی۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ساحلی برادریوں کو مضبوط بنانا
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت محکمہ ماہی پروری نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے اور ساحلی بستیوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے 100 ساحلی ماہی گیر بستیوں کی شناخت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط ساحلی ماہی گیر بستیوں کے طور پر کی ہے۔ یہ پہل پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے مرکزی شعبے کے تحت نافذ کی جا رہی ہے۔ ہر بستی کے لیے 200 لاکھ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے، جس کی مکمل مالی اعانت حکومت کرے گی۔ اس کے تحت ساحلی ماہی گیر برادریوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے، روزگار کے ذرائع اور پیداوار کے بعد کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ٹیکنالوجی پر مبنی آبی زراعت
یہ اسکیم ٹیکنالوجی پر مبنی آبی زراعت کے نظام کو فروغ دیتی ہے، جو زمین اور پانی کے بہتر استعمال کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے تحت کم پانی میں زیادہ پیداوار دینے والے نظام، جیسے پانی کی دوبارہ گردش کے نظام (آر اے ایس )اور بایوفلاک ٹیکنالوجی کو تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ ان سے پیداوار اور پانی کے معیار میں بہتری، وسائل کے مؤثر استعمال اور ماحول کے تحفظ کو فروغ ملتا ہے۔
- پانی کی دوبارہ گردش کا نظام(آر اے ایس): اس نظام میں پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دوران فضلہ اور آلودگی کو دور کیا جاتا ہے، جس سے کم سے کم زمین اور پانی کے استعمال کے ساتھ بڑی تعداد میں مچھلیاں پالنا ممکن ہوتا ہے۔
- بایوفلاک ٹیکنالوجی: یہ آبی زراعت کا ایک پائیدار طریقہ ہے، جس میں مفید خرد جانداروں کی مدد سے پانی میں موجود غذائی اجزا کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ یہ خرد جاندار جھنڈ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جنہیں بایوفلاک کہا جاتا ہے۔ یہ قدرتی خوراک کے طور پر کام کرنے کے ساتھ پانی کو صاف رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ اس طریقے میں پانی کی تبدیلی بہت کم یا بالکل نہیں کرنی پڑتی، اس لیے محدود وسائل کے ساتھ بڑی تعداد میں مچھلیاں پالنے کے لیے یہ موزوں ہے۔ یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ پیداوار میں بھی اضافہ کرتا ہے، اسی لیے ماہی پروری کے شعبے میں اسے ’’گرین سوپ ‘‘ یا غیر نامیاتی خوراک پر انحصار کرنے والے تالاب بھی کہا جاتا ہے۔
ماہی پروری کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی
پیداواری نظاموں کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا ماہی پروری کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ ستمبر 2024 میں پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت قومی ماہی پروری ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی ) کا آغاز کیا گیا۔ اس کا مقصد ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے میں ڈیجیٹل نظم و نسق اور باقاعدہ نظام کو فروغ دینا ہے۔قومی ماہی پرور ی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کام کی بنیاد پر ڈیجیٹل شناخت فراہم کرتا ہے اور متعلقہ فریقوں کا جامع ڈیٹا بیس تیار کرتا ہے، جس سے اس شعبے کو باقاعدہ نظام میں لانے میں مدد ملتی ہے۔ عملی طور پر یہ ایک سنگل ونڈو والا ڈیجیٹل نظام ہے، جس کے ذریعے مستفیدین ادارہ جاتی قرض، آبی زراعت کے بیمہ، پیداوار کو پتہ لگانے کے قابل نظام اور کارکردگی سے منسلک مالی مراعات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم ماہی پروری سے متعلق امداد باہمی کی تنظیموں ، تربیت اور صلاحیت سازی کی سرگرمیوں میں بھی تعاون فراہم کرتا ہے۔8 ستمبر 2026 تک قومی ماہی پروری ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی ) پر 37.01 لاکھ سے زیادہ افراد نے اندراج کرایا ہے، جبکہ مجموعی اندراجات کی تعداد 37.23 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایس ڈی جی 14میں تعاون : زیر آب حیاتیات
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا پائیدار اور ذمہ دارانہ ماہی پروری اور آبی زراعت کو فروغ دیتی ہے اور آبی وسائل کے پائیدار استعمال میں معاونت کرتی ہے۔ یہ اسکیم مچھلی کی پائیدار پیداوار کے طریقوں اور آبی زراعت کے جدید طریقہ کار، بشمول بایوفلاک، آر اے ایس ، پنجروں میں مچھلی پالنے اور سمندری آبی زراعت کو بھی فروغ دیتی ہے۔ یہ اقدامات ایس ڈی جی 14 (زیر آب حیاتیات ) میں تعاون کرتے ہوئے ماہی پروری اور آبی زراعت کے پائیدار انتظام اور آبی وسائل کے تحفظ کو مضبوط بناتے ہیں۔
پائیدار ماہی پروری اور نیلگوں معیشت کی ترقی کی جانب بڑھتے قدم
ماہی پروری کا شعبہ بھارت کی زرعی اور دیہی معیشت میں اہم مقام رکھتا ہے اور روزگار، غذائی تحفظ، ملازمتوں اور برآمدات میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی )پیداوار، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، روزگار کے ذرائع اور پائیداری کو مضبوط بنا کر بھارت کے ماہی پروری کے شعبے میں تبدیلی لا رہی ہے۔ جدید بنیادی ڈھانچے، کولڈ - چین کی سہولیات، ٹیکنالوجی پر مبنی آبی زراعت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ماہی پرور ی سے متعلق پوری ویلو چین مضبوط ہو رہی ہے۔ماہی گیروں، مچھلی پالنے والے کسانوں اور ساحلی برادریوں کو مسلسل تعاون فراہم کرنے سے زیادہ آمدنی اور منڈیوں تک بہتر رسائی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کوششیں آبی وسائل کے پائیدار استعمال اور تحفظ کو فروغ دے کر ایس ڈی جی - 14 ( زیر آب حیاتیات) کے حصول میں بھی معاون ہیں۔ مسلسل سرمایہ کاری کے ساتھ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا نے ایک جدید، مسابقتی اور پائیدار ماہی پرور ی کے شعبے کی بنیاد مضبوط کر دی ہے۔جیسے جیسے بھارت اپنی نیلگوں معیشت کے وژن کو آگے بڑھا رہا ہے، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا روزگار کے ذرائع کو بہتر بنانے، غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے، برآمدات کو فروغ دینے اور آبی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے میں بدستور اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔
حوالہ جات
ماہی پروری ، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت
https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU1400_wqgu0V.pdf?source=lsapps
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286997®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2205029®=3&lang=1
AU3898_WKn6Y0.pdf
https://cof.gujarat.gov.in/ViewFile?fileName=5ZzVmugN0TiBNluOINM7wcaKIboe27p1WeHt%E2%9C%A47qxzBWO42UynszvkodMqi58s6jqLM26puQ%E2%9C%A45b5kcswdgvaGVqwfndgS9e2SOAr1Befbe3VReOJCVLnLPhhtseT%E2%9C%BFPdzucS8UOwM0pFg%E2%9C%A4HzBVL%E2%9C%A4W%E2%9C%BFjA%E2%99%AC%E2%99%AC
https://www.myscheme.gov.in/schemes/pmmsy
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221582®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237418®=3&lang=1https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290431®=3&lang=1
https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU1394_tAzKmS.pdf?source=lsapps https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU3898_WKn6Y0.pdf?source=lsapps
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221582®=48&lang=2
https://pmmsy.dof.gov.in/assets/documents/10%20Years%20Achievement_English.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2304929®=3&lang=1
https://nfdp.dof.gov.in/nfdp/#/
https://www.dof.gov.in/static/uploads/2026/06/c591f3591c5923975e7f220bcbc093f0.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2291663®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225765®=3&lang=2
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155080&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155173&ModuleId=3®=3&lang=2
پی ڈی ایف ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
*******
ش ح۔م ش ۔ ش ا
U.NO.3252
(Explainer ID: 159948)
आगंतुक पटल : 3
Provide suggestions / comments