Energy & Environment
نیلے آسمان کی جانب ہندوستان کی پیش قدمی
بیداری سے صاف ہوا کے لئے عملی اقدامات تک
Posted On:
07 SEP 2026 8:31PM
|
دنیا بھر میں 7 ستمبر کو منائے جانے والے نیلے آسمان(بلیو اسکائی) کے لیے صاف ہوا کے عالمی دن کا مقصد فضائی آلودگی کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبوں پر مشتمل اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں 130 شہروں میں قومی صاف ہوا پروگرام بھی شامل ہے۔ مالی سال 2025-26 میں 108 شہروں میں 2017-18 کے مقابلے میں پی ایم 10 کی سطح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان میں سے 72 شہروں نے 20 فیصد سے زیادہ کمی حاصل کی، جبکہ 26 شہروں میں یہ کمی 40 فیصد سے بھی زیادہ رہی۔ نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، صاف ستھری نقل و حمل کو فروغ دینے، شہروں کے لیے مخصوص اقدامات اور سائنسی طریقۂ کار کے ذریعے بھارت میں صاف ہوا کے حصول کی کوششوں کو مسلسل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
|
صاف ہوا کی جانب پیش قدمی: عالمی اور قومی عزم
صاف ہوا انسانی صحت، ماحولیاتی پائیداری اور معاشی خوش حالی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ شہری آبادی اور معاشی سرگرمیوں میں توسیع کے ساتھ فضائی آلودگی سے نمٹنا عالمی سطح پر ایک اہم ترجیح بن گیا ہے۔ اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی برادری نے ماحولیاتی اقدامات میں صاف ہوا کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
نیلے آسمان کے لیے صاف ہوا کا عالمی دن ہر سال 7 ستمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2019 میں فضائی آلودگی کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے اس دن کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر ہر سطح پر عوامی بیداری پیدا کرنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کو فروغ دینے اور ان میں سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ ہندوستان اس موقع کو ’سوچھ وایو دیوس‘ کے طور پر مناتا ہے اور عالمی مہم کو اپنی قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرتا ہے۔
حکومت ہند اس پیچیدہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے جامع اور کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی اختیار کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی میں ہوا کے معیار کی نگرانی، آلودگی کے اخراج پر قابو پانے اور شہروں کے لیے مخصوص عملی منصوبے شامل ہیں۔ مرکزی حکومت ہدف پر مبنی پروگراموں اور پالیسی اقدامات کے ذریعے ریاستوں اور شہروں کو تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ریاستی حکومتیں اور ضلع انتظامیہ ان اقدامات کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان مشترکہ کوششوں کے ذریعے نہ صرف آلودگی کے ذرائع سے نمٹا جا رہا ہے بلکہ ہوا کے معیار کے مسلسل اور مؤثر انتظام کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت بھی مضبوط کی جا رہی ہے۔
|
فضائی آلودگی کو سمجھنا
فضائی آلودگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نقصان دہ مادے فضا میں اس سطح تک جمع ہو جائیں جو انسانی صحت اور ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ آلودہ مادے گیسوں، مائع قطروں یا ٹھوس ذرات کی شکل میں موجود ہو سکتے ہیں۔ ان کا اخراج قدرتی عوامل کے ساتھ ساتھ انسانی سرگرمیوں، جن میں نقل و حمل، صنعتیں، تعمیرات اور جلانا شامل ہیں، سے بھی ہو سکتا ہے۔
ان آلودہ مادوں میں اہم فضائی آلودہ عنصر ذراتی مادہ (پی ایم) ہے، جس میں ہوا میں معلق نہایت چھوٹے ٹھوس یا مائع ذرات شامل ہوتے ہیں۔ جسامت کی بنیاد پر ان ذرات کو عام طور پر پی ایم 10 اور پی ایم 2.5 میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پی ایم 10 سے مراد ایسے ذرات ہیں جن کا قطر 10 مائیکرومیٹر یا اس سے کم ہو۔ پی ایم 2.5 سے مراد اس سے بھی باریک ذرات ہیں جن کا قطر 2.5 مائیکرومیٹر یا اس سے کم ہوتا ہے۔ اگر اس کا اندازہ انسانی بال سے لگایا جائے تو ایک انسانی بال کی چوڑائی تقریباً 100 مائیکرومیٹر ہوتی ہے، یعنی اس کی چوڑائی میں تقریباً 40 انتہائی باریک پی ایم 2.5 ذرات سما سکتے ہیں۔ ان ذرات کا انتہائی چھوٹا حجم انہیں نظام تنفس میں زیادہ گہرائی تک پہنچنے کے قابل بناتا ہے۔ بعض ذرات خون کے بہاؤ میں بھی شامل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کے صحت پر ممکنہ مضر اثرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ذراتی آلودگی پر قابو پانا صاف تر ہوا اور صحت مند معاشرے کے لیے ایک اہم ترجیح ہے۔
|

فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے ہندوستان کے اقدامات
قومی فضائی معیار نگرانی پروگرام
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے قومی محیطی فضائی معیار نگرانی پروگرام کا آغاز کیاجسے بعد میں قومی فضائی معیار نگرانی پروگرام کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کے مقاصد میں فضائی آلودگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینا، شہری علاقوں میں محیطی ہوا کے معیار کی موجودہ صورت حال اور رجحان کا تعین کرنا، مستقبل میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کا اندازہ لگانا، مقررہ محیطی فضائی معیار کے معیارات کی خلاف ورزیوں اور صحت کو لاحق خطرات کی نشاندہی کرنا شامل ہے۔
مارچ 2026 تک ملک میں محیطی فضائی معیار کی نگرانی کے نیٹ ورک میں 28 ریاستوں اور 7 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 603 شہروں میں مجموعی طور پر 1,646 اسٹیشن شامل ہیں، جن میں دستی اسٹیشن اور حقیقی وقت میں نگرانی کرنے والے اسٹیشن دونوں شامل ہیں۔ دستی اسٹیشن وقفے وقفے سے نمونے جمع کرکے ان کا تجزیہ کرتے ہیں، جبکہ مسلسل محیطی فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشن ہوا کے معیار سے متعلق اعداد و شمار حقیقی وقت میں مسلسل فراہم کرتے ہیں۔
’سَمیر ‘موبائل ایپلی کیشن اور ویب پورٹل 292 سے زیادہ شہروں کے لیے تقریباً حقیقی وقت میں فضائی معیار اشاریہ سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں، جس سے شفافیت اور شہریوں میں بیداری کو فروغ ملتا ہے۔ قومی صاف ہوا پروگرام میں شامل تمام شہروں میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے پورٹل بھی قائم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے آلودگی پر قابو پانے کی کوششوں میں عوام کی شرکت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

|
ہندوستان میں فضائی آلودگی کی نگرانی
ہندوستان میں محیطی ہوا کے معیار اور صنعتی ذرائع سے ہونے والی آلودگی کی نگرانی کے لیے خصوصی نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں اہم نظام مسلسل محیطی فضائی معیار کی نگرانی کا نظام، محیطی فضائی معیار کی نگرانی کا نظام اور آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کا نظام شامل ہیں۔
مسلسل محیطی فضائی معیار کی نگرانی کا نظام محیطی ہوا کے معیار کی خودکار اور حقیقی وقت میں نگرانی فراہم کرتا ہے، یہ پی ایم 2.5، پی ایم 10، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز، کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون اور امونیہ جیسے آلودہ عناصر کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ نظام آلودگی کی سطح کو مسلسل ریکارڈ کرتا ہے اور ہوا کے معیار کی صورت حال کا بروقت جائزہ لینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
محیطی فضائی معیار کی نگرانی کا نظام ایک وسیع تر نگرانی کا نظام ہے، جس میں دستی اور خودکار دونوں طرح کے نگرانی کے نظام شامل ہیں۔ یہ اہم فضائی آلودہ عناصر، مثلاً ذراتی مادہ (پی ایم 2.5 اور پی ایم 10)، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور قومی محیطی فضائی معیار کے معیارات میں بیان کردہ دیگر آلودہ عناصر کی نشاندہی اور مقدار کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت، نمی، ہوا کی سمت اور رفتار سمیت مخصوص موسمیاتی عوامل کی پیمائش بھی کر سکتا ہے۔ دستی نگرانی کے دوران 24 گھنٹے تک ہوا کے نمونے جمع کیے جاتے ہیں اور لیبارٹریوں میں ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس سے آلودہ عناصر کی مقدار کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوتی ہیں اور طویل مدت میں ہوا کے معیار کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔
آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام صنعتی ذرائع سے براہِ راست خارج ہونے والی آلودگی کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ نظام انتہائی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی 17 اقسام سمیت مختلف صنعتی اداروں میں نصب کیے جاتے ہیں۔ دہلی-این سی آر کے معاملے میں آلودگی پھیلانے والی 17 اقسام کے صنعتی اداروں کے علاوہ درمیانے اور بڑے درجے کی سرخ زمرے کی آلودگی پھیلانے والی صنعتوں، خوراک اور خوراک کی پروسیسنگ کی صنعتوں اور دھات سے متعلق صنعتی یونٹوں کے لیے بھی آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ نظام نگرانی سے متعلق اعداد و شمار مسلسل ضابطہ کار حکام اور مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے سرور کو منتقل کرتے ہیں، جس سے ماحولیاتی ضوابط کی تعمیل کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح صنعتی اخراج اور سیال فضلے کے اخراج کو مقررہ ماحولیاتی معیارات کے اندر رکھنے کو یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔
|
فضائی معیار اشاریہ(اے کیو آئی)
فضائی معیار اشاریہ شہریوں کے لیے ہوا کے معیار کو آسانی سے سمجھنے کا ایک سادہ ذریعہ ہے۔ یہ آلودہ عناصر کی مقدار اور ان کے صحت پر ممکنہ اثرات کی بنیاد پر ہوا کے معیار کو اچھے سے لے کر شدید تک 6 زمروں میں تقسیم کرتا ہے۔ فضائی معیار اشاریہ کا حساب آٹھ آلودہ عناصر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جن میں پی ایم 10، پی ایم 2.5، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، اوزون، امونیہ اور سیسہ شامل ہیں۔ مجموعی فضائی معیار اشاریہ کا تعین اس آلودہ عنصر کی بنیاد پر ہوتا ہے جس کی کارکردگی سب سے خراب ہو۔
|
اے کیو آئی کیٹیگری
|
اے کیو آئی
|
|
اچھا
|
0-50
|
|
تسلی بخش
|
51-100
|
|
معتدل
|
101-200
|
|
خراب
|
201-300
|
|
انتہائی خراب
|
301-400
|
|
شدید
|
401-500
|
قومی صاف ہوا پروگرام(این سی اے پی)
شہری علاقوں میں فضائی آلودگی سے مشن موڈ میں نمٹنے کے لیے حکومت نے 2019 میں ملک کے 130 شہروں میں قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کا آغاز کیا۔ یہ ایک کثیر شعبہ جاتی اقدام ہے، جس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں، شہری مقامی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی باہمی ہم آہنگ کوششیں شامل ہیں۔ این سی اے پی میں شہر، ریاست اور قومی سطح پر صاف ہوا کے عملی منصوبوں کے ذریعے آلودگی کے مخصوص ذرائع سے نمٹنے کے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کی نگرانی مرکزی، ریاستی اور ضلعی سطح پر تشکیل دی گئی مختلف کمیٹیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
|
قومی صاف ہوا پروگرام کی اہم کامیابیاں
- قومی صاف ہوا پروگرام(این سی اے پی) کے تحت 24 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور 130 شہروں نے ریاست اور شہر کی مخصوص صاف ہوا کے عملی منصوبے تیار کیے ہیں، جن میں مختصر اور طویل مدتی شعبہ جاتی اقدامات کے ذریعے آلودگی کے اہم ذرائع کو ہدف بنایا گیا ہے۔
- مالی سال 2019-20 سے 2025-26 کے دوران فضائی معیار سے متعلق کارکردگی کی بنیاد پر دی جانے والی گرانٹس کے ذریعے 130 شہروں کو آلودگی میں کمی کے اقدامات کے لیے 16,423.55 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ اب تک شہروں نے ان فنڈز میں سے 11,575.54 کروڑ روپے، یعنی 70.5 فیصد کے استعمال کی اطلاع دی ہے۔
- مالی سال 2025-26 میں 108 شہروں نے 2017-18 کے مقابلہ میں سالانہ پی ایم 10 کے ارتکاز میں کمی درج کی۔ ان میں 72 شہروں نے 20 فیصد سے زیادہ، 26 شہروں نے 40 فیصد سے زیادہ کمی حاصل کی، جبکہ 14 شہروں نے قومی محیطی فضائی معیار کے معیارات پر پورا اترنے میں کامیابی حاصل کی۔
|

ڈجیٹل ذرائع سے صاف ہوا کی پیش رفت کی نگرانی
’پرَانا‘ – غیر حصولیابی والے شہروں میں فضائی آلودگی کے ضابطے کے لیے پورٹل، قومی صاف ہوا پروگرام (این سی اے پی) کے نفاذ اور نگرانی کے لیے ایک آن لائن پورٹل ہے۔ یہ شہروں کے صاف ہوا کے عملی منصوبوں پر عمل درآمد کی عملی اور مالی پیش رفت کی نگرانی میں معاونت کرتا ہے اور این سی اے پی کے تحت ہوا کے معیار کے انتظام سے متعلق کوششوں کی معلومات عوام تک پہنچاتا ہے۔ این سی اے پی کے تحت مختلف متعلقہ فریقوں کی جانب سے انجام دی جانے والی مختلف سرگرمیوں اور ان کی پیش رفت سے متعلق معلومات اس پورٹل پر دستیاب ہیں، جو مستقبل میں پالیسی سازی کے فیصلوں میں معاون ثابت ہوں گی۔پورٹل تک رسائی
صاف ہوا سروے
’ سوچھ وایو سرویکشن‘این سی اے پی کے تحت 130 شہروں کا سالانہ جائزہ ہے۔ مالی سال 2022-23 میں شروع کیا گیا یہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کا ایک اہم اقدام ہے۔ اس جائزے میں آلودگی کے بڑے ذرائع سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور شہروں کے لیے مخصوص صاف ہوا کے عملی منصوبوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ شہروں کے درمیان صحت مند مسابقت، اختراع اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تیز تر اقدامات کو فروغ دیتا ہے۔
|
سوچھ وایو سرویکشن 2025 کے سرفہرست شہر
سن2025 کے سوچھ وایو سرویکشن میں ان تین زمروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 11 شہروں کو اعزاز دیا گیا۔ زمرہ اول میں 47 ایسے شہر شامل ہیں جن کی آبادی 10 لاکھ یا اس سے زیادہ ہے۔ زمرہ دوم میں 44 ایسے شہر شامل ہیں جن کی آبادی 3 لاکھ سے 10 لاکھ کے درمیان ہے۔ زمرہ سوم میں 40 ایسے شہر شامل ہیں جن کی آبادی 3 لاکھ سے کم ہے۔ زمرہ اول میں اندور نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ زمرہ دوم میں امراوتی سرفہرست رہا اور زمرہ سوم میں دیواس نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
|
سوچھ وایو سرویکشن- 2026 کے سرفہرست شہر
وارڈ سطح پر سوچھ وایو سرویکشن نچلی سطح سے اوپر کی جانب نقطۂ نظر کو یقینی بنانے اور بنیادی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کو تسلیم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ ملک بھر کے 7,400 سے زیادہ وارڈوں میں وارڈ سطح پر سوچھ وایو سرویکشن کا انعقاد کیا گیا۔
سن2026 کے سرویکشن میں ان تین زمروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 10 شہروں کو اعزاز دیا گیا۔ زمرہ اول میں لکھنؤ نے پہلی پوزیشن حاصل کی، زمرہ دوم میں رورکیلا سرفہرست رہا، جبکہ زمرہ سوم میں کلنگانگر نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
قومی سطح پر تین زمروں میں 10 وارڈوں کو اعزاز دیا گیا۔ زمرہ اول میں 30,000 سے زیادہ آبادی والے وارڈ، زمرہ دوم میں 10,000 سے 30,000 کے درمیان آبادی والے وارڈ اور زمرہ سوم میں 10,000 سے کم آبادی والے وارڈ شامل ہیں۔
وارڈ نمبر 70، لکھنؤ نے زمرہ اول میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ بھونیشور کے وارڈ نمبر 30 اور 36 نے زمرہ دوم میں سرفہرست مقام حاصل کیا۔ زمرہ سوم میں رورکیلا کے وارڈ نمبر 13 نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے علاوہ 23 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 69 وارڈوں، یعنی ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے سے 3 وارڈوں کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔
ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے شعبہ وار اہم تدارکی اقدامات
گاڑیوں سے ہونے والا اخراج
- اپریل - 2020 سے ملک بھر میں بی ایس-6 کے مقررہ معیارات پر پورا اترنے والی گاڑیوں کا آغاز کیا گیا۔
- حکومت ہند کی بھاری صنعتوں کی وزارت کی پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم اور شہری امور و مکانات کی وزارت کی پی ایم ای-بس سیوا کے ذریعے برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
- بجلی کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق برقی گاڑیوں کیلئے چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
- شہر کے عملی منصوبوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور چوراہوں کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں، تاکہ گاڑیوں کی آمدورفت سے ہونے والی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔
- سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت نے گاڑیوں کی اسکریپنگ پالیسی پر عمل درآمد کے لیے سازگار نظام وضع کرنے کی غرض سے رجسٹرڈ وہیکل اسکریپنگ سہولت اور خودکار جانچ نظام کے قیام سے متعلق اطلاعات جاری کی ہیں۔
- سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کی جانب سے ملک بھر میں آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ نظام کو بہتر اور مضبوط بنانے کا پروگرام نافذ کیا جا رہا ہے۔
- شہری امور و ہاؤسنگ کی وزارت نے ’پریورتن‘پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد ٹرانسپورٹ سے ہونے والی فضائی آلودگی اور نیٹ ورک کے اخراج میں کمی لانا ہے۔ یہ مقررہ مدت پر مبنی گاڑیوں کے بیڑے کو جدید بنانے کی اسکیم ہے، جس کے تحت بی ایس-4 اور اس سے پرانی گاڑیوں، ٹرکوں اور بسوں کی جگہ بی ایس-6، سی این جی یا برقی گاڑیوں کو فروغ دے کر قومی راجدھانی خطے میں گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
- دہلی-این سی آر میں فضائی معیار کے انتظامی کمیشن نے قومی راجدھانی خطہ دہلی کی حکومت اور ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش کی ریاستی حکومتوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ عوامی نقل و حمل کی خدمات، خصوصاً این سی آر میں بسوں کو صاف ستھرے ذرائع پر منتقل کیا جائے۔ کمیشن نے ریاستی حکومتوں کو عوامی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور یکم نومبر 2026 سے سیاحتی بسوں سمیت صرف بی ایس-6، سی این جی یا برقی عوامی نقل و حمل کی بسوں کو دہلی میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی ہدایت دی ہے۔
- دہلی-این سی آر میں فضائی معیار کے انتظامی کمیشن نے قومی راجدھانی خطہ دہلی کی حکومت اور ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش کی ریاستی حکومتوں کو موٹر گاڑیوں کے مجموعی خدمات فراہم کرنے والوں، ترسیلی خدمات فراہم کرنے والوں اور برقی تجارت سے وابستہ اداروں کی خدمات میں صاف ستھری نقل و حرکت کو تیزی سے فروغ دینے کے لیے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔
- دہلی-این سی آر میں ایل-5 زمرے کے صرف برقی تین پہیوں والی گاڑیوں، جن میں مسافر اور مال بردار گاڑیاں شامل ہیں، کو لازمی طور پر مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے۔ پہلے دہلی میں اور اس کے بعد این سی آر کے زیادہ حجم والے اضلاع، یعنی گروگرام، فریدآباد، سونی پت، غازی آباد اور گوتم بدھ نگر میں، جبکہ این سی آر کے دیگر تمام اضلاع میں بھی مرحلہ وار اس نظام کو نافذ کیا جائے گا۔
صنعتوں سے ہونے والا اخراج
- ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے صنعتی شعبوں کے لیے ماحولیاتی معیارات مقرر کیے ہیں۔ جن صنعتوں کے لیے مخصوص معیارات مقرر نہیں کیے گئے ہیں، انہیں ماحولیاتی تحفظ ضوابط- 1986 کے تحت قابل اطلاق عمومی معیارات پر عمل کرنا ہوگا۔
- مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے آلودگی پھیلانے کی صلاحیت کی بنیاد پر 419 صنعتی شعبوں اور ذیلی شعبوں کی درجہ بندی کی ہے۔ ان میں 125 سرخ، 137 نارنجی، 94 سبز، 54 سفید اور 9 نیلے زمرے شامل ہیں۔
- دہلی-این سی آر میں صنعتی اخراج کو کم کرنے کے لیے فضائی معیار کے انتظامی کمیشن نے صنعتوں کے لیے منظور شدہ ایندھن کی ایک معیاری فہرست جاری کی ہے۔ تمام نشان زدہ صنعتی اداروں کے لیے آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام نصب کرنا اور مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے سرور سے ان کا رابطہ یقینی بنانا لازمی ہے۔
- مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے آلودگی پھیلانے والی 17 انتہائی اہم صنعتی اقسام کو آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام نصب کرنے کی ہدایت دی ہے۔
- فضائی معیار کے انتظامی کمیشن نے ذراتی مادے کے اخراج کے نظرثانی شدہ معیارات کو مزید سخت کرتے ہوئے بڑی اور آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے لیے 50 ملی گرام فی نارمل مکعب میٹر کا معیار مقرر کیا ہے، جو یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگا۔ اس کے مطابق نشان زدہ صنعتی یونٹوں میں فضائی آلودگی پر قابو پانے والے آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔
- ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈوں کو صنعتی اداروں والے غیر موافق علاقوں میں سخت نگرانی اور کارروائی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
- جامع ماحولیاتی آلودگی اشاریے پر مبنی درجہ بندی کے ذریعے صنعتی کلسٹروں کو انتہائی آلودہ علاقوں یا شدید آلودہ علاقوں کے طور پر درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ ان علاقوں میں آلودگی کے بوجھ کو کم کرنے اور ماحولیاتی معیار کو بہتر بنانے کیلئے عملی منصوبوں پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔
- 2022 میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے ڈیزل، پٹرول یا دوہری ایندھن سے چلنے والے 800 کلو واٹ تک کے بجلی پیدا کرنے والے جنریٹروں کے لیے مزید سخت اخراج کے معیارات (مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ چہارم پلس) مقرر کیے۔
سڑکوں سے اٹھنے والی دھول اور تعمیراتی سرگرمیاں
- مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے تعمیرات اور انہدام سے پیدا ہونے والے فضلے کے ماحول دوست انتظام کے لیے رہنما خطوط کے ساتھ ساتھ تعمیراتی مواد اور تعمیراتی و انہدامی فضلے سے اٹھنے والی دھول پر قابو پانے کے لیے بھی رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔
- ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈوں اور آلودگی کنٹرول کمیٹیوں کو 20,000 مربع میٹر سے زیادہ رقبہ والے تعمیراتی مقامات پر دھند مخالف توپیں اور دھول پر قابو پانے کے مناسب انتظامات نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے تعمیرات اور انہدامی منصوبوں میں دھند مخالف توپوں کے استعمال کے لیے بھی رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔
- قومی راجدھانی خطے میں دھول پر قابو پانے کے اقدامات کی نگرانی اور مؤثر نفاذ کے لیے سڑکوں کی ملکیت رکھنے، دیکھ بھال کرنے یا تعمیر کرنے والی ایجنسیوں کو ’دھول کنٹرول اور انتظامی سیل‘قائم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پورے قومی راجدھانی خطے میں 70 دھول کنٹرول اور انتظامی سیل قائم کیے جا چکے ہیں، جن کا فضائی معیار کے انتظامی کمیشن کی جانب سے باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔
- دہلی-این سی آر میں 500 مربع میٹر سے زیادہ رقبے والے تعمیراتی مقامات پر دھول میں کمی کے اقدامات کی تعمیل کی نگرانی کے لیے ویب پورٹل کے ذریعے آن لائن نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
- دہلی-این سی آر میں سڑکوں سے اٹھنے والی دھول پر قابو پانے کیلئے سڑکوں کی ازسرنو تعمیر، مناسب تعداد میں مشینی سڑک صفائی کی مشینوں کی تعیناتی اور تعمیرات و انہدام سے پیدا ہونے والے فضلہ کو جمع کرنے کے بنیادی ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
|
تعمیرات اور انہدام ( سی اینڈڈی)سے پیدا ہونے والا فضلہ
تعمیراتی سرگرمیوں اور سڑکوں سے اٹھنے والی دھول ہندوستانی شہروں میں ذراتی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ قومی صاف ہوا پروگرام کے تحت کیے گئے آلودگی کے ذرائع کی تقسیم سے متعلق مطالعات کے مطابق، بیشتر شہروں میں پی ایم 10 کی مجموعی مقدار میں اس کا حصہ تقریباً 40 سے 50 فیصد تک ہے۔ شہروں کے صاف ہوا کے عملی منصوبوں کے تحت سڑکوں کی بہتری اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ چوراہوں کو بہتر بنانے اور کھلی جگہوں پر سبزہ کاری جیسے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں، تاکہ دھول کو کم کیا جا سکے اور شہری ہوا کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
|
کھلے میں کچرا جلانا
- ٹھوس فضلہ انتظام کے ضوابط (2016، 2026 میں نظرثانی شدہ)، پلاسٹک فضلہ انتظام کے ضوابط (2016، 2022 میں ترمیم شدہ)، مضر فضلہ انتظام کے ضوابط (2016)، ای-فضلہ انتظام کے ضوابط (2022)، بیٹری فضلہ انتظام کے ضوابط (2022) اور حیاتیاتی طبی فضلہ انتظام کے ضوابط (2016) پر عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
- مارکیٹ پر مبنی توسیعی پروڈیوسر ذمہ داری کے تحت پروڈیوسروں کے لیے پلاسٹک پیکیجنگ، ای-فضلے، بیٹریوں، ٹائروں اور استعمال شدہ تیل سمیت صارفین کے استعمال کے بعد پیدا ہونے والے فضلے کے انتظام کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ اس سے ری سائیکلنگ کو فروغ ملتا ہے، لینڈفِل پر فضلے کے دباؤ میں کمی آتی ہے اور غیر رسمی طور پر فضلے کو سنبھالنے کے دوران ہونے والے اخراج پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
- کم افادیت اور زیادہ کچرا پھیلانے کی صلاحیت رکھنے والی 12 واحد استعمال پلاسٹک اشیا، مثلاً پلاسٹک کے برتن، اسٹرا اور تھرموکول کی سجاوٹی اشیا پر یکم جولائی 2022 سے پابندی عائد کی گئی ہے، تاکہ پلاسٹک فضلے میں کمی لائی جا سکے اور اسے جلانے سے ہونے والے اخراج پر قابو پایا جا سکے۔
فصلوں کی باقیات اور حیاتیاتی مادے کو جلانا
- مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ دھان کے بھوسے سے پیلیٹ بنانے اور اسے ٹورفیکشن کے ذریعے قابل استعمال بنانے والے پلانٹوں کے قیام کے لیے ایک مرتبہ کی مالی امداد فراہم کرتا ہے۔
- فضائی معیار کے انتظامی کمیشن نے دہلی سے 300 کلومیٹر کے دائرے میں واقع حرارتی بجلی گھروں، قومی راجدھانی خطے کے صنعتی بجلی گھروں اور اینٹوں کے بھٹوں میں 5 سے 10 فیصد حیاتیاتی ایندھن کے ساتھ مشترکہ طور پر ایندھن جلانے کی ہدایت دی ہے۔ ان اقدامات سے فصلوں کی باقیات کے متبادل استعمال کو فروغ ملتا ہے اور انہیں کھلے میں جلانے کے رجحان میں کمی آتی ہے۔
- مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ قومی راجدھانی خطے کی ریاستوں میں دھان کے بھوسے پر مبنی پیلیٹ سازی اور ٹورفیکشن پلانٹ قائم کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ 34 پلانٹوں کے لیے مجموعی طور پر 37.16 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، جن میں پنجاب میں 27 اور ہریانہ میں 7 پلانٹ شامل ہیں۔
- زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت نے مالی سال 2018-19 سے 2025-26 کے دوران فصلوں کی باقیات کے انتظام سے متعلق اقدامات کے لیے 4,233.84 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔ ہریانہ، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش اور قومی راجدھانی خطہ دہلی میں کسانوں کو فصلوں کی باقیات کے انتظام کے لیے 3.53 لاکھ سے زیادہ مشینیں فراہم کی گئی ہیں اور 43,535 سے زیادہ کسٹم ہائرنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
- متعدد متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 2025 میں 2021 کے مقابلے پنجاب میں دھان کی پرالی جلانے کے واقعات میں 93 فیصد اور ہریانہ میں 91 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
شجرکاری اور سبز رقبہ
- گرین انڈیا مشن کا مقصد جنگلات کے معیار، ماحولیاتی لچک اور کاربن کے جذب کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ مارچ 2026 تک ریاستوں کو 1,019.26 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
- معاوضہ جاتی شجرکاری فنڈ انتظام و منصوبہ بندی اتھارٹی جنگلات کی بحالی اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں معاونت کرتی ہے۔ مالی سال 2020-21 سے 2024-25 کے دوران 3.20 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر معاوضہ جاتی شجرکاری کی گئی۔
- نگر ون یوجنا کا آغاز 2020 میں کیا گیا تھا، اس اسکیم کا مقصد مالی سال 2026-27 تک 1,000 نگر ون اور واٹیکائیں تیار کرنا ہے۔ 31 مارچ 2026 تک 626 نگر ون/واٹیکاؤں کی ترقی کے لیے 557.62 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔
- اراؤلی گرین وال اقدام کے تحت راجستھان، گجرات، ہریانہ اور دہلی میں 63.1 لاکھ ہیکٹر رقبے کی بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 435 نرسریاں قائم کی گئی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 393.24 لاکھ پودے تیار کرنے کی گنجائش ہے۔ 2025 کے دوران تقریباً 36,025 ہیکٹر رقبہ کو بحال کیا گیا۔
- ’ایک پیڑ ماں کے نام‘مہم ایک بڑی عوامی ماحولیاتی تحریک بن کر ابھری ہے۔ دسمبر 2025 تک 262.4 کروڑ پودے لگائے جا چکے تھے۔
ہندوستان کے صاف ہوا کے اہداف کے حصول میں معاون ادارے
حکومت ہند نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کثیر سطحی ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے۔ اس نظام میں قومی ضابطہ کار اداروں، ریاستی ایجنسیوں، شہری مقامی اداروں اور خصوصی اداروں کو یکجا کیا گیا ہے، جو ضابطہ سازی، نگرانی، نفاذ، سائنسی جائزے اور باہمی مربوط اقدامات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ بھارت کے صاف ہوا کے اہداف کے حصول میں معاون ادارے
حکومتِ ہند نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کثیر سطحی ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے۔ اس نظام میں قومی ضابطہ کار اداروں، ریاستی ایجنسیوں، شہری مقامی اداروں اور خصوصی اداروں کو یکجا کیا گیا ہے، جو ضابطہ سازی، نگرانی، نفاذ، سائنسی جائزے اور باہمی مربوط اقدامات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(سی پی سی بی)
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ ایک قانونی ادارہ ہے، جو پانی (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ- 1974 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اسے ہوا (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ- 1981 کے تحت مختلف اختیارات اور ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ ملک میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور فضائی آلودگی کی روک تھام، کنٹرول اور تخفیف کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کو تکنیکی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔
فضائی معیار کے انتظامی کمیشن(سی اے کیو ایم)
حکومت نے قومی راجدھانی خطے اور ملحقہ علاقوں میں فضائی معیار کے انتظامی کمیشن سے متعلق ایکٹ- 2021 نافذ کیا اور قومی راجدھانی خطے کے فضائی خطے میں فضائی آلودگی کے مربوط انتظام کے لیے فضائی معیار کے انتظامی کمیشن کو ایک مخصوص قانونی ادارے کے طور پر تشکیل دیا۔ یہ پورے قومی راجدھانی خطے میں درجہ وار کارروائی کے منصوبے کے نفاذ میں بھی تال میل قائم کرتا ہے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ ایک قانونی ادارہ ہے، جو پانی (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ، 1974 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اسے ہوا (آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول) ایکٹ، 1981 کے تحت مختلف اختیارات اور ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ ملک میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور فضائی آلودگی کی روک تھام، کنٹرول اور تخفیف کے لیے کام کرتا ہے، جبکہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کو تکنیکی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔
|
درجہ وار کارروائی کا منصوبہ
درجہ وار کارروائی کا منصوبہ قومی راجدھانی خطے میں بگڑتے ہوئے ہوا کے معیار سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کا ایک جامع نظام ہے۔ اس کے تحت مختلف سرکاری ادارے باہم مل کر آلودگی کی شدت کے مطابق مرحلہ وار اور ہدف پر مبنی اقدامات کرتے ہیں۔ یہ اقدامات اس وقت نافذ کیے جاتے ہیں جب دہلی کا فضائی معیار اشاریہ مقررہ سطح تک پہنچ جائے یا اس سطح تک پہنچنے کا امکان ہو۔
درجہ وار کارروائی کا منصوبہ فضائی معیار سے متعلق اعداد و شمار، موسم کی پیش گوئی اور سائنسی جائزوں کو بروئے کار لا کر بروقت اقدامات کو یقینی بناتا ہے۔ اس کے چار مراحل ’’خراب‘‘ (فضائی معیار اشاریہ 201 تا 300) سے لے کر ’’انتہائی شدید‘‘ (فضائی معیار اشاریہ 450 سے زیادہ) تک ہیں۔ ہوا کے معیار میں خرابی بڑھنے کے ساتھ اقدامات بھی بتدریج مزید سخت ہوتے جاتے ہیں۔
ان اقدامات میں دھول اور آلودگی کے اخراج پر قابو پانا، تعمیراتی اور صنعتی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور بعض گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ فضائی معیار کے انتظامی کمیشن قومی راجدھانی خطے میں اس منصوبے کے نفاذ میں تال میل قائم کرتا ہے۔
|
ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ(ایس پی سی پیز)
ہندوستان کے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ذمہ دار اہم ضابطہ کار ادارے ہیں۔ یہ ماحولیاتی ضوابط کے نفاذ میں صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پانی ایکٹ، ہوا ایکٹ اور ماحولیاتی تحفظ ایکٹ کے تحت اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے علاوہ، آج ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ شور کی آلودگی کی نگرانی، مضر اور پلاسٹک فضلے کا انتظام، اعداد و شمار اور فہرستوں کی تیاری، معیارات کا تعین اور مسلسل وسعت پذیر صنعتی شعبے میں ماحولیاتی ضوابط کی تعمیل یقینی بنانے جیسے امور بھی انجام دیتے ہیں۔یہ ادارے ضابطہ سازی، نگرانی، نفاذ اور سائنسی جائزے کے ذریعے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط نظام فراہم کرتے ہیں۔
صنعتوں کے لیے ماحولیاتی ضوابط میں زیادہ شفافیت، یکسانیت اور کارکردگی لانے کے مقصد سے حکومت نے ہوا ایکٹ- 1981 اور پانی ایکٹ- 1974 میں ترمیم کی ہے۔ اس کے علاوہ یکساں منظوری کے رہنما خطوط بھی جاری کیے گئے ہیں۔ ’’ہوا کی آلودگی پر کنٹرول (منظوری دینے، مسترد کرنے یا منسوخ کرنے سے متعلق) رہنما خطوط- 2025‘‘ 29 جنوری- 2025 کو اور ’’پانی کی آلودگی (منظوری دینے، مسترد کرنے یا منسوخ کرنے سے متعلق) رہنما خطوط- 2025‘‘ 30 جنوری- 2025 کو جاری کیے گئے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے متحدہ منظوری و اجازت نامہ انتظامی نظام بھی شروع کیا ہے، جس کے ذریعے تمام ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈوں اور آلودگی کنٹرول کمیٹیوں کی جانب سے منظوری کی درخواستوں کی آن لائن کارروائی میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ پورٹل منظوری دینے، مسترد کرنے یا منسوخ کرنے کے پورے عمل کو آن لائن انجام دینے کا مربوط نظام فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے فیس، جگہ کے انتخاب کے معیارات اور مقررہ مدت میں یکسانیت قائم ہونے کے ساتھ ساتھ شفافیت اور پورے عمل کی قابلِ سراغ نگرانی بھی بہتر ہوگی۔
آگے کا لائحۂ عمل
ہندوستان کی صاف ہوا سے متعلق کوششوں میں آئندہ مستقل، آلودگی کے مخصوص ذرائع پر مرکوز اور سائنسی بنیادوں پر مبنی اقدامات پر مزید توجہ دی جائے گی۔ فضائی معیار کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے سے آلودگی کے ذرائع اور ابھرتے ہوئے آلودگی کے مراکز کی بہتر شناخت ممکن ہوگی۔ حقیقی وقت کے اعداد و شمار، پیش گوئی اور سائنسی ماڈل سازی کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے بروقت اور ہدف پر مبنی اقدامات میں مدد ملے گی۔
ریاستیں، شہر اور ضلع انتظامیہ قومی پروگراموں کو زمینی سطح پر قابلِ پیمائش بہتری میں تبدیل کرنے میں بدستور کلیدی کردار ادا کریں گے۔ صاف ستھری نقل و حرکت، بہتر عوامی نقل و حمل اور صاف ایندھن کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے ہونے والے اخراج میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔
دھول کے بہتر انتظام، فضلے کی مؤثر پروسیسنگ اور صنعتی اخراج پر مضبوط کنٹرول کے ذریعے شہری آلودگی کے بڑے ذرائع سے نمٹا جا سکے گا۔ شہری سبزہ کاری اور ماحولیاتی نظام کی بحالی سے ماحولیاتی فوائد میں مزید اضافہ ہوگا اور بدلتے حالات کے مقابلہ میں لچک بھی بہتر ہوگی۔
مسلسل اختراع سے صاف ستھری ٹیکنالوجیوں اور زیادہ مؤثر آلودگی کنٹرول نظاموں کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ رویوں میں پائیدار تبدیلی کے لیے عوامی بیداری اور شہریوں کی شرکت بدستور ناگزیر رہے گی۔ باہمی تعاون پر مبنی حکمرانی اور قابلِ پیمائش نتائج پر ہندوستان کی مسلسل توجہ صاف ہوا اور صحت مند معاشروں کے حصول کی جانب پیش رفت کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Environment, Forest and Climate Change
· https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1857587®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2288316®=1&lang=1
· https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2147751®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2291891®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1752814®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2164956®=3&lang=2
· https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1795074®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2147803®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2213842®=3&lang=1
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2261439®=48&lang=2
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2192852®=3&lang=2
· https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3724_MjEnDz.pdf?source=pqals
· https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1943721®=48&lang=2
United Nations
· https://www.unep.org/events/un-day/international-day-clean-air-blue-skies-2025
· https://www.unep.org/explore-topics/air/what-we-do/clean-air-day
MY Bharat
· https://mybharat.gov.in/mega_events/swachh-vayu-diwas-clean-air-blue-skies
World Health Organization
· https://www.who.int/data/gho/data/themes/air-pollution
Ministry of Health and Family Welfare
· https://ncdc.mohfw.gov.in/uploads/pdf/air17.pdf
PRANA Portal
· https://prana.cpcb.gov.in/#/about
Central Pollution Control Board
· https://cpcb.gov.in/uploads/National_Ambient_Air_Quality_Standards.pdf
PIB Backgrounder
· https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268795®=48&lang=2
Others
· https://www.ceew.in/publications/how-are-state-pollution-control-boards-addressing-workload-resources-and-financial-challenges-by-innovative-functional-practices
Click here for pdf file.
*****
ش ح – ظ الف – ج
UR No. 3137
(Explainer ID: 159879)
आगंतुक पटल : 11
Provide suggestions / comments