Farmer's Welfare
جوٹ:ہندوستان کا سنہرا ریشہ
اختراعی پالیسی اقدامات کے ذریعہ روزگار اور معاش کے ذرائع کوبر قرار رکھنا
Posted On:
07 SEP 2026 6:12PM
|
ہندوستان دنیا میں خام جوٹ کی پیداوار میں سرفہرست ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار اور معاش کے ذرائع کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ پائیدار صنعتی ترقی کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ مالی سال26-2025میں ہندوستان نے 76 لاکھ گانٹھ خام جوٹ اور 12.80 لاکھ میٹرک ٹن جوٹ مصنوعات تیار کیں۔ اسی مالی سال کے دوران ہندوستان نے 22,700 میٹرک ٹن خام جوٹ برآمد کیا، جس کی مالیت 225.11 کروڑ روپے تھی۔ جبکہ 1,71,300 میٹرک ٹن جوٹ مصنوعات برآمد کی گئیں، جن کی مالیت 3,155.27 کروڑ روپے رہی۔ حکومتی اقدامات نے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے، قدر افزائی کے پورے سلسلے کو جدید بنانے اور مصنوعات میں تنوع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جوٹ کی حیاتیاتی طور پر تحلیل پذیر خصوصیت اور اس کے بڑھتے ہوئے استعمال اسے مصنوعی مواد کے ایک اہم متبادل کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ اختراع، منڈیوں کی توسیع اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہندوستان کے اس ’سنہرے ریشے‘ کو عالمی سطح پر مسابقتی اور ماحول دوست صنعت بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
|
ہندوستان کے سنہرے ریشہ کی صنعت
جوٹ ہندوستان کے اہم ترین قدرتی ریشوں میں سے ایک ہے۔ جسے اس کے وسیع پیمانے پر استعمال اور ماحولیاتی پائیداری کے باعث خاص اہمیت حاصل ہے۔ تجارتی اور صنعتی تناظر میں جوٹ اور میستا کو ان کے یکساں نوعیت کے استعمال کے باعث مجموعی طور پر ’خام جوٹ‘ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ میستا ایک ریشے دار فصل ہے جو خاص طور پر نسبتاً خشک زرعی و آب و ہوائی علاقوں میں جوٹ کے کم لاگت متبادل کے طور پر کاشت کی جاتی ہے۔ اپنی مخصوص سنہری رنگت اور ریشمی چمک کے باعث جوٹ کو عام طور پر ’سنہرا ریشہ‘ کہا جاتا ہے۔

ہندوستان دنیا میں کچے جوٹ کی پیداوار کا سب سے بڑا ملک ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار کے تیسرے پیشگی تخمینے (26-2025) کے مطابق جوٹ اور میستا کی پیداوار 2024-25 میں 88.02 لاکھ گانٹھوں سے بڑھ کر 2025-26 میں 94.03 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی ہے۔ہندوستان دنیا میں جوٹ سے تیار اشیا پیدا کرنے والا بھی سب سے بڑا ملک ہے اور جولائی 2026 تک دنیا کی اندازاً مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 75 فیصد ہے۔ ہندوستان میں جوٹ کی صنعت کا مضبوط صنعتی ڈھانچہ مشرقی خطے، خصوصاً مغربی بنگال، میں قائم ہے۔ یہ صنعت منظم کارخانوں اور جوٹ کی متنوع اکائیوں میں تقریباً 3.70 لاکھ افراد کو براہِ راست روزگار فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جوٹ کی کاشت سے وابستہ تقریباً 40 لاکھ زرعی خاندانوں کے روزگار کا بھی یہ اہم ذریعہ ہے۔ دسمبر 2025 تک ہندوستان میں جوٹ کی 120 جامع ملیں ہیں، جن میں سے صرف مغربی بنگال میں 89 ملیں قائم ہیں، جو تمام ریاستوں میں سب سے زیادہ ہیں۔
ہندوستان جوٹ سے تیار اشیا کی پیداوار میں مسلسل مکمل طور پر خود کفیل ہے اور ملک میں پیداوار ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ مالی سال 26-2025 میں جوٹ سے تیار اشیا کی ملکی کھپت 12.05 لاکھ میٹرک ٹن رہی۔ یہ جوٹ سے تیار اشیا کی مجموعی پیداوار 12.80 لاکھ میٹرک ٹن کا 94 فیصد ہے۔ اسی مالی سال میں ہندوستان نے 1.71 لاکھ میٹرک ٹن جوٹ سے تیار اشیا برآمد کیں، جن کی مالیت 3,155.27 کروڑ روپے رہی۔ اسی طرح کچے جوٹ کی برآمد 22,700 میٹرک ٹن رہی، جس کی مالیت 225.11 کروڑ روپے تھی۔
ہندوستان میں جوٹ کی پیداوار کی تاریخ
ہندوستان میں جوٹ کی تاریخ تیسری صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ تاہم برطانوی نوآبادیاتی دور میں اپنی اسٹریٹیجک عسکری افادیت کے باعث جوٹ ایک اہم تجارتی جنس کے طور پر ابھرا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال میں جوٹ کی متعدد ملیں قائم کیں، جس کے نتیجے میں یہ خطہ جوٹ کی کاشت اور اس کی تیاری و پروسیسنگ کا اہم مرکز بن گیا۔
1947 میں ہندوستان کی آزادی اور اس کے بعد ہونے والی تقسیم نے بنگال کی مربوط جوٹ معیشت کو شدید متاثر کیا۔ جوٹ کی تقریباً 80 فیصد کاشت والے علاقے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کا حصہ بن گئے، جبکہ جوٹ کی زیادہ تر ملیں ہندوستان میں ہی رہ گئیں۔ اس کے نتیجے میں ان ملوں میں پروسیسنگ کے لیے کچے جوٹ کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ اس عدم توازن کو دور کرنے کے لیے حکومت نے ستمبر 1949 میں ’’مزید جوٹ اگاؤ‘‘ مہم شروع کی۔ کسانوں کو دھان کی کاشت کے بجائے جوٹ اگانے کی ترغیب دی گئی۔ نتیجتاً ہندوستان میں کچے جوٹ کی پیداوار52-1951 میں 6.7 لاکھ ٹن سے دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ کر 1961-62 میں 14.56 لاکھ ٹن ہوگئی۔ جوٹ پیکیجنگ ایکٹ، 1987 نے ضروری اشیا کی پیکیجنگ کے لیے جوٹ کی بوریوں کے استعمال کو لازمی قرار دے کر اس شعبے کو مزید مضبوط کیا۔ اس اقدام سے ہندوستانی جوٹ کسانوں کے لیے ایک مستحکم منڈی یقینی بنانے میں مدد ملی۔ وقت گزرنے کے ساتھ جوٹ ایک اہم ماحول دوست ریشہ بن کر ابھرا،جس نے دیہی آبادی کے روزگار اور ماحول دوست صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
موجودہ دور میں ملک میں کچے جوٹ کی کاشت میں سب سے بڑا حصہ مغربی بنگال کا ہے، جس کے بعد بہار، آسام، اوڈیشہ اور جھارکھنڈ کا نمبر آتا ہے۔ جوٹ کی بوائی عموماً مارچ-اپریل میں کی جاتی ہے اور 100 سے 110 دن کے اندر فصل تیار ہو کر کاٹ لی جاتی ہے۔ اس فصل کی بہتر نشوونما کے لیے گرم اور مرطوب آب و ہوا موزوں ہوتی ہے، جبکہ فصل کی افزائش کے دوران 700 سے 1,500 ملی میٹر تک بارش درکار ہوتی ہے۔ ان زرعی موسمی تقاضوں کے باعث جوٹ کی کاشت بنیادی طور پر ہندوستان کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں میں مرکوز ہے اور زیادہ تر بارش پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ فصل عموماً چھوٹے اور معمولی رقبے والے کسان کاشت کرتے ہیں۔
جوٹ ایک اہم قدرتی ریشہ کیوں ہے؟
جوٹ ایک حیاتیاتی طور پر تحلیل پذیر اور قابلِ بازیافت قدرتی ریشہ ہے، جس کی نمایاں خصوصیات میں تیزی سے نشوونما، کم لاگت اور آسانی سے دستیابی شامل ہیں۔ یہ مضبوط، پائیدار، ہوا کے گزر کے لیے موزوں اور نہایت ہمہ گیر ریشہ ہے، جس کا استعمال پیکیجنگ، تعمیرات، زراعت اور صنعتی ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں کیا جاتا ہے۔ جوٹ میں حرارتی اور صوتی موصلیت، نمی جذب کرنے کی اعلیٰ صلاحیت اور جامد بجلی کی کم پیداوار جیسی مفید خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ قدرتی اور مصنوعی دونوں طرح کے ریشوں کے ساتھ اچھی طرح مل جاتا ہے، جس کی بدولت اس سے مختلف اقسام کی قدر افزوں مصنوعات اور ٹیکسٹائل تیار کیے جا سکتے ہیں۔

|
کیا جوٹ بطور غذا استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جوٹ کے پتے طویل عرصے سے افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف علاقوں میں سبزی کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ جاپان میں جوٹ کے پتوں کو صحت بخش غذا کے طور پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے اور استعمال کیا جاتا ہے۔ غذائی اعتبار سے جوٹ کے پتے وٹامنز، کیروٹینائڈز، کیلشیم، پوٹاشیم اور غذائی ریشے سے بھرپور ہوتے ہیں، جو انہیں صحت بخش اور مفید غذا کا ایک اہم ذریعہ بناتے ہیں۔ جوٹ کے پتوں سے اینٹی آکسیڈنٹ جڑی بوٹیوں پر مبنی مشروب اور صحت نگہداشت کی مصنوعات تیار کرنے کے لیے ثابت شدہ ٹیکنالوجیز بھی تیار کی گئی ہیں۔
|
جوٹ جیو ٹیکسٹائل: پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لیے قدرتی کپڑا
جوٹ جیو ٹیکسٹائل ایک ہمہ گیر اور متنوع جوٹ کی مصنوعات ہے، جو تکنیکی ٹیکسٹائل کی ایک قسم سے تعلق رکھتی ہے۔ اسے سول انجینئرنگ، مٹی کے کٹاؤ پر قابو پانے، سڑکوں کی تعمیر اور دریاؤں کے کناروں کے تحفظ سمیت متعدد شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جوٹ جیو ٹیکسٹائل کو خصوصی طریقۂ کار سے ریشوں کی تیاری اور بُنائی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔
اپنی مؤثر کارکردگی، ماحول دوست خصوصیات، سازگار تکنیکی و طبعی خصوصیات اور مسابقتی قیمت کے باعث جوٹ جیو ٹیکسٹائل کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ ماحولیاتی نقطۂ نظر سے یہ مکمل طور پر حیاتیاتی طور پر تحلیل پذیر ہے، جس سے مٹی کی ساخت اور زرخیزی بہتر ہوتی ہے۔ مزید برآں جوٹ جیو ٹیکسٹائل کو دنیا بھر میں مٹی کو مستحکم کرنے، کٹاؤ پر قابو پانے اور تباہ شدہ زمینوں کی ماحولیاتی بحالی کے لیے ایک مؤثر قدرتی حل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مٹی کا درجہ حرارت نسبتاً کم رکھنے اور سطحی خلل کو کم کرنے کے ذریعے مقامی ماحولیاتی حالات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح یہ بیجوں کے اگنے اور پودوں کی ابتدائی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
جوٹ جیو ٹیکسٹائل کا مختلف استعمال
جوٹ جیو ٹیکسٹائل نے سول انجینئرنگ، مٹی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مختلف مقاصد کے لیے ایک مؤثر قدرتی مواد کے طور پر نمایاں مقام حاصل کیا ہے:
- اسے مٹی سے بنے پشتوں، پہاڑی کٹاؤ، دریائی کناروں، نہروں اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے والے ڈھانچوں میں ڈھلوانوں کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی ابتدائی زیادہ تناؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور سطح کی کھردری پن مٹی کو مستحکم کرنے اور کٹاؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
- سڑکوں اور بھاری آمدورفت والی سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ریلوے پٹریوں کی بنیاد تیار کرنے میں جوٹ جیو ٹیکسٹائل بوجھ کی یکساں تقسیم اور مٹی کے دبنے کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے دیکھ بھال کی ضرورت اور پوری مدت کے دوران آنے والی لاگت کم ہوتی ہے۔
- بالخصوص پہاڑی علاقوں میں زیرِ زمین نکاسی آب کے نظام میں اس کا استعمال پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مٹی کے بہہ جانے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ جوٹ جیو ٹیکسٹائل کو پہلے سے تیار شدہ عمودی نکاسی آب کے ذریعے نرم مٹی کو مستحکم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے مٹی کے دباؤ کو کم کرنے کا عمل تیز ہوتا ہے اور زمین کی بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

حالیہ برسوں میں نیشنل جوٹ بورڈ جوٹ جیو ٹیکسٹائل کو انجینئرنگ کے ایک مؤثر مواد کے طور پر فروغ دینے اور اس کی تیاری و ترقی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ بورڈ آخری صارفین کو تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے، جس میں ڈیزائن کی خصوصیات، خریداری کے طریقۂ کار، جانچ کے معیارات اور تنصیب کے طریقوں سے متعلق رہنمائی شامل ہے۔
|
ہندوستانی دستہ نے 2026 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں جوٹ کے ملبوسات پیش کیے
ہندوستانی کھلاڑیوں اور ٹیم کے ارکان نے 2026 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں جوٹ اور وِسکوز کے امتزاج سے تیار کردہ ملبوسات زیب تن کیے۔ یہ ملبوسات نیشنل جوٹ بورڈ نے تیار کرائے تھے، جبکہ ان کا ڈیزائن نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی، نئی دہلی نے تیار کیا تھا۔ اس اقدام نے 100 فیصد حیاتیاتی طور پر تحلیل پذیر جوٹ اور وِسکوز کے مرکب کپڑے کی پائیدار اور اختراعی ٹیکسٹائل حل کے طور پر صلاحیت کو اجاگر کیا ہے۔ اس سے ہندوستان کی جوٹ کی صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں ہونے کا موقع ملا اور ہندوستانی صنعت کاروں کی ہنرمندی بھی اجاگر ہوئی۔
|
کھیت سے منڈی تک: جوٹ کی صنعت کے لیے حکومتی اقدامات
حکومت نے جوٹ کے شعبے کو مضبوط بنانے کے اپنے مستقل عزم کے تحت متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں کچے جوٹ کی کم از کم امدادی قیمت میں مسلسل اضافہ بھی شامل ہے۔ مالی سال 27-2026 کے لیے کچے جوٹ کی کم از کم امدادی قیمت 5,925 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی ہے۔ اس سے ملک بھر میں پیداوار کی اوسط وزنی لاگت کے مقابلے میں کسانوں کو 61.8 فیصد منافع یقینی ہوگا۔ یہ مالی سال 15-2014 میں کچے جوٹ کی 2,400 روپے فی کوئنٹل کی کم از کم امدادی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 147 فیصد اضافہ ہے۔
جوٹ کے کسانوں کو ادا کی جانے والی کم از کم امدادی قیمت کی مجموعی رقم میں بھی وقت کے ساتھ نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 05-2004 سے 14-2013کے دوران کسانوں کو 441 کروڑ روپے ادا کیے گئے تھے، جو مالی سال 15-2014 سے 26-2025 کے دوران بڑھ کر 1,342 کروڑ روپے ہوگئے۔

حکومت نے جوٹ پیکیجنگ مواد (اشیا کی پیکیجنگ میں لازمی استعمال) ایکٹ بھی نافذ کیا ہے۔ اس قانون میں ان اشیا کی وضاحت کی گئی ہے جنہیں جوٹ سے تیار کردہ پیکیجنگ مواد میں لازمی طور پر پیک کیا جانا ہے اور اس کی مقررہ مقدار بھی متعین کی گئی ہے۔ حکومت نے 100 فیصد غذائی اجناس اور 20 فیصد چینی کی جوٹ کی بوریوں میں پیکیجنگ لازمی قرار دی ہے۔
|
ہندوستانی جوٹ کارپوریشن
جوٹ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (جے سی آئی) کچے جوٹ کے لیے کم از کم امدادی قیمت کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے والی واحد مرکزی ایجنسی ہے۔ یہ ادارہ اس وقت جوٹ کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے جب منڈی میں کچے جوٹ کی قیمت کم از کم امدادی قیمت سے نیچے چلی جاتی ہے، اور اس صورت میں کسانوں سے براہِ راست جوٹ خریدتا ہے۔ جے سی آئی کے محکمانہ خرید مراکز دیہی علاقوں میں قائم ہیں، جہاں کسانوں سے براہِ راست کچا جوٹ خریدا جاتا ہے۔ جے سی آئی کے مغربی بنگال، آسام، بہار، آندھرا پردیش، اوڈیشہ اور تریپورہ میں تقریباً 110 محکمانہ خرید مراکز ہیں۔

|
حکومت نے جوٹ کی کاشت اور اس کی پروسیسنگ کے فروغ و تعاون سے متعلق اپنی تمام کوششوں کو ’’قومی جوٹ ترقیاتی پروگرام‘‘ کے تحت مربوط کیا ہے۔

قومی جوٹ ترقیاتی پروگرام (این جے ڈی پی)
قومی جوٹ ترقیاتی پروگرام جوٹ کے شعبے کی ترقی اور فروغ کے لیے ایک جامع پروگرام ہے۔ اسے نیشنل جوٹ بورڈ کے ذریعے مالی سال 22-2021 سے 26-2025 تک 485.58 کروڑ روپے کے مالیاتی حجم کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کھیتوں میں پیداواریت اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ جوٹ کے استعمال میں تنوع پیدا کرنا ہے۔ اس کے لیے دو اہم اجزا، جُوٹ-آئی کیئر اور جوٹ تنوع اسکیم، کے ذریعے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت پلاسٹک کے متبادل کے طور پر جوٹ کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سیمینار، نمائشیں اور بیداری مہمات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔
|
نیشنل جوٹ بورڈ (این جے بی)
نیشنل جوٹ بورڈ جوٹ کے شعبے کی پوری قدر افزا زنجیر میں ترقی، فروغ اور تنوع پیدا کرنے کے لیے مرکزی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے اہم فرائض میں شامل ہیں:

- جوٹ کی کاشت اور ریشے کے معیار کو بہتر بنانا،
- پیداواریت میں اضافہ اور معیار بندی کو فروغ دینا،
- ملکی اور برآمدی منڈیوں کو فروغ دینا،
- تحقیق اور قدر افزوں مصنوعات میں تنوع کے لیے معاونت فراہم کرنا، اور
- صلاحیت سازی اور منڈی کی ترقی کے ذریعے چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) اور دست کاروں کو مضبوط بنانا۔
|
جوٹ آئی کیئر (بہتر کاشت اور ریشہ الگ کرنے کے جدید طریقہ ٔ کار) اسکیم
جُوٹ-آئی کیئر اسکیم مالی سال 16-2015میں شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد جوٹ کی پیداواریت اور ریشے کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ مقصد سائنسی طریقۂ کاشت، مشینی عمل اور ریٹنگ کے بہتر طریقوں کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت چھوٹے اور معمولی رقبے والے کسانوں کو رعایتی نرخوں پر تصدیق شدہ بیج، کھیتوں میں عملی مظاہروں اور مشینی اقدامات کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اسکیم سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار جوٹ اینڈ الائیڈ فائبرز اور جوٹ کارپوریشن آف انڈیا کے اشتراک سے نافذ کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا اور راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا کے ساتھ اشتراک کے ذریعے ریٹنگ تالابوں کی تعمیر میں بھی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
جوٹ تنوع اسکیم
جوٹ تنوع اسکیم کے تحت جوٹ کی پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور فروخت کو فروغ دینے کے لیے مختلف منصوبے شامل ہیں۔
جوٹ کی پرو سیسنگ میں معاونت کے لیے اقدام:جوٹ خام مال بینک(جے آر ایم بی)
جوٹ خام مال بینک غیر منظم شعبے اور چھوٹی پیداواری اکائیوں کو جوٹ سے تیار متنوع مصنوعات کی تیاری کے لیے کچا جوٹ دستیاب کرانے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کچا جوٹ مل کے گیٹ کی قیمت کے علاوہ حقیقی نقل و حمل کے اخراجات کے برابر اقتصادی نرخ پر فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ اسکیم جوٹ سے متنوع مصنوعات تیار کرنے والے دست کاروں، خواتین کے خود امدادی گروپوں اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو معیاری خام مال تک مسلسل رسائی فراہم کرکے معاونت کرتی ہے۔ اس سے دیہی علاقوں میں روزگار اور معاش کے مواقع کو بھی فروغ ملتا ہے۔
پیدا وار، تشہیر اور فروخت کے فروغ کے اقدامات
جوٹ تنوع اسکیم کے تحت متعدد ذیلی اسکیموں کے ذریعے قدر افزائی، جدید کاری اور منڈیوں میں توسیع کو فروغ دیا جاتا ہے:
- پودوں اور مشینری کے حصول کے لیے سرمایہ جاتی سبسڈی: جوٹ کی متنوع مصنوعات تیار کرنے والی جوٹ ملوں اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو مشینری کی لاگت پر 30 فیصد سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔
- جوٹ وسائل و پیداواری مراکز: دست کاروں، خواتین کے خود امدادی گروپوں، صنعت کاروں، غیر سرکاری تنظیموں، امدادی انجمنوں کے ارکان اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے کلسٹر کی بنیاد پر تربیت اور پیداواری مراکز قائم کیے جاتے ہیں۔
- جوٹ خوردہ مراکز: جوٹ کی متنوع مصنوعات کی خوردہ فروخت اور شوروم کے ذریعے فروخت کو فروغ دینے کے لیے 25 فیصد تک فروختی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جو فی یونٹ زیادہ سے زیادہ 9 لاکھ روپے تک ہے۔
- جوٹ کی متنوع مصنوعات کی برآمدات کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم: برآمد کنندگان کو برآمد کی جانے والی جوٹ کی متنوع مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال اور برآمدات سے حاصل ہونے والی قدر کی بنیاد پر ترغیبات فراہم کی جاتی ہیں۔
برانڈ سازی، معیار کی یقین دہانی اور منڈی کے فروغ کے لیے اقدامات
جوٹ مارک انڈیا لوگو
جُوٹ مارک انڈیا لوگو جوٹ اور جوٹ سے تیار کردہ مرکب مصنوعات کی اصلیت، معیار کی یقین دہانی اور پائیداری کی علامت ہے۔ ایک منظم خاکے کے اندر جوٹ کی گٹھڑیوں کا علامتی نقش قدرتی ریشے کی مضبوطی، دست کاری اور پوری قدر افزا زنجیر میں معیار بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ جُوٹ مارک انڈیا لوگو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مصنوعات مقررہ معیار پر پوری اترتی ہیں اور مرکب مصنوعات میں جوٹ کی مقدار کی بھی توثیق کرتا ہے۔ اس سے صارفین کا اعتماد بڑھتا ہے اور مصنوعات کی برانڈ شناخت مزید مضبوط ہوتی ہے۔

ملکی سطح پر مارکیٹنگ کے اقدامات
حکومت نے مالی سال 26-2025 کے دوران ملک کے بڑے شہروں میں 57 سے زائد علاقائی جوٹ میلوں کا انعقاد کیا، جن میں انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر، سورج کنڈ میلہ اور بھارت ٹیکس جیسے اہم میلے شامل ہیں۔
|
جوٹ ہینڈ لوم کاروبار: خود امدادی گروپ سے برآمدی منڈیوں تک
برانڈ سازی، نمائشوں کے ذریعے تشہیر اور منظم انداز میں منڈیوں تک رسائی نے جوٹ سے متعلق کاروباری اداروں کے زمینی سطح پر نتائج کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی مثالیں بھارتیہ گراموتھان سنستھا، رشی کیش (اتراکھنڈ)، ہیڈن ہال انسٹی ٹیوٹ، دارجلنگ (مغربی بنگال)، جُوٹ آرٹیزنز گلڈ ایسوسی ایشن، لکھنؤ (اتر پردیش) اور رورل آرگنائزیشن فار سوشل ایکشن، کٹک (اوڈیشہ) ہیں۔ان اداروں نے نیشنل جوٹ بورڈ کے پروگراموں کے تحت تربیت حاصل کی اور رہنمائی و منڈی سے روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم جوٹ ہینڈ لوم کی پیداوار کے شعبے میں قدم رکھا۔ انہوں نے نئی دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر، نئی دہلی میں ٹیکس ٹرینڈز انڈیا اور ممبئی میں گفٹ ٹیکس شو جیسے بڑے تجارتی میلوں میں شرکت شروع کی۔ اس سے انہیں خریداروں سے براہِ راست رابطے کا موقع ملا، بڑی مقدار میں برآمدی آرڈر حاصل ہوئے اور مارکیٹنگ کی صلاحیتیں مزید مضبوط ہوئیں۔نتیجتاً، ان اداروں سے وابستہ افراد کی انفرادی آمدنی میں اضافہ ہوا، جبکہ پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی اور انہیں سماجی سطح پر بھی زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔
 
 
|
سپلائی چین میں ڈیجیٹل اور تکنیکی اقدامات
جُوٹ اسمارٹ
2016 سے جوٹ کی بوریوں (غذائی اجناس کی پیکیجنگ کے لیے) کی خریداری اور فراہمی سے متعلق تمام امور جوٹ کمشنر کے دفتر کے زیرِ انتظام ہیں۔ ان امور کو آسان بنانے کے لیے جوٹ کمشنر کے دفتر نے نومبر 2016 میں جُوٹ اسمارٹ کے نام سے ایک جامع برقی حکمرانی سافٹ ویئر پورٹل تیار کرکے نافذ کیا۔
اگست 2026 تک اس پورٹل کے ذریعے 20 سے زائد ریاستی خریداری ایجنسیوں، جن میں پنجاب، ہریانہ، اوڈیشہ، تلنگانہ، مغربی بنگال، بہار، آندھرا پردیش اور ایف سی آئی وغیرہ شامل ہیں، نے 303 لاکھ گانٹھ بی ٹی وِل جوٹ کی بوریوں کی خریداری کی ہے۔ ہر گانٹھ میں 500 بوریاں ہوتی ہیں اور ان کی مجموعی مالیت تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
2026 میں سپلائی چین کے مختلف مراحل کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے جُوٹ اسمارٹ کو مزید جدید بنایا گیا ہے۔ اس میں مختلف متعلقہ فریقوں، جیسے نقل و حمل کرنے والوں، کچے جوٹ کے تاجروں اور درآمد کنندگان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کچے جوٹ کے تاجروں، درآمد کنندگان اور جوٹ ملوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔ ضابطوں کی پابندی کو آسان بنانے کے لیے مطلوبہ گوشوارے جمع کرانے کا عمل بھی مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے۔
جوٹ فصل معلوماتی نظام
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو)کے نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر نے جوٹ کارپوریشن آف انڈیا اور نیشنل جوٹ بورڈ کے تعاون سے جوٹ فصل معلوماتی نظام تیار کیا ہے۔ یہ نظام دوری سے حاصل کردہ معلومات اور کھیتوں سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے ذریعے جوٹ کی کاشت کی نگرانی کے لیے کام کرتا ہے۔ اس اقدام کے تحت دو اہم ذرائع تیار کیے گئے ہیں:
- بھون جمپ: کھیتوں میں جوٹ کی نگرانی کے لیے موبائل ایپلی کیشن۔
- پٹ سن(موبائل ایپ پر مبنی کھیتوں کے مشاہدات کے ذریعے جوٹ کی ممکنہ پیداوار کا جائزہ): یہ ویب پر مبنی پلیٹ فارم تقریباً حقیقی وقت میں جوٹ کی نگرانی اور تجزیاتی معلومات فراہم کرتا ہے، جس سے حکام اور متعلقہ فریقوں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
منڈی کی ترقی و فروغ کی اسکیم
حکومت قومی جوٹ ترقیاتی پروگرام کے تحت منڈی کی ترقی و فروغ کی اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے جوٹ سے تیار متنوع مصنوعات کے صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کو ملکی اور برآمدی منڈیوں میں ان مصنوعات کی تشہیر اور فروخت کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
کارکنوں کی فلاح و بہبود کی اسکیم (وظیفہ اسکیم)
قومی جوٹ بورڈ ایکٹ،2008 کا مقصد ’’ جوٹ کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کے لیے بہتر کام کے حالات اور سہولیات کو یقینی بنانا، نیز ان کی فلاحی سہولیات اور مراعات میں بہتری لانا‘‘ ہے۔ اسی مقصد کے تحت نیشنل جوٹ بورڈ جوٹ ملوں اور جوٹ سے متنوع مصنوعات تیار کرنے والی چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتی اکائیوں کے کارکنوں کی بیٹیوں کو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی امتحانات کامیابی سے پاس کرنے پر وظیفہ اور ترغیبی معاونت فراہم کرتا ہے۔
جوٹ کے ساتھ پائیدار مستقبل
ہندوستان کا جوٹ شعبہ پائیدار اور جامع ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر ترقی کر چکا ہے۔ یہ قدر افزا زنجیر سے وابستہ لاکھوں کسانوں، کارکنوں، دست کاروں اور صنعت کاروں کے روزگار اور معاش کا ذریعہ ہے۔ حکومتی پالیسی تعاون، جدت طرازی اور پیداوار میں بہتری نے اس شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ جوٹ دیہی روزگار، ماحولیاتی پائیداری اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہندوستان میں زیادہ ماحول دوست اور پائیدار مواد کے استعمال کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتی ہے۔ مسلسل سرمایہ کاری، جدت طرازی اور کمیونٹی کی شمولیت سے اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
حوالہ جات
National Jute Board
https://jute.com/jute/
https://jute.com/jute/njb/21
https://jute.dac.gov.in/pdf/StatusPaper.pdf
https://www.nitiforstates.gov.in/public-assets/Policy/policy_files/SNC504A000660.pdf
Ministry of Agriculture and Farmers Welfare
https://www.ncfc.gov.in/change-jute-area.html
https://agriwelfare.gov.in/Documents/Time_Series_3rdAE_2025_26_En.pdf
Ministry of Commerce & Industry
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2122016
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2117470
https://www.ibef.org/exports/jute-industry-india
Ministry of Textiles
https://www.texmin.gov.in/static/uploads/2025/12/c865d599cae0c357c02d247a8a82d24e.pdf
https://www.texmin.gov.in/static/uploads/2026/05/5c48e80d2180ca3194b9e9b01340696d.pdf
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/182/AU2512_P6JQIu.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2222478®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2282076®=1&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200812®=3&lang=1
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/171/AU4409.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/annex/259/AU2191.pdf?source=pqars
https://sansad.in/getFile/annex/255/AU2392.pdf?source=pqars
https://www.jutecorp.in/jute-i-care/
Cabinet Committee on Economic Affairs
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2232106®=3&lang=1
World Bank
https://thedocs.worldbank.org/en/doc/088011224509316922-0560011976/original/WorldBankGroupArchivesfolder30124862.pdf
Click here for pdf file
*****
ش ح۔م ح۔ ف ر
U-3138
(Explainer ID: 159878)
आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments