Rural Prosperity
وائبرینٹ ولیجز پروگرام
جامع ترقی کے ذریعے ہندوستان کی سرحدوں کو مضبوط بنانا
Posted On:
06 SEP 2026 10:52AM
وائبرینٹ ولیجز پروگرام (وی وی پی) نے ہندوستان کے سرحدی گاؤں کے کردار کی نئی تعریف کی ہے۔ یہ گاؤں اب دور دراز کی چوکیاں نہیں رہے، بلکہ قومی سلامتی اور ترقی میں اسٹریٹجک شراکت دار بن چکے ہیں۔ یہ پروگرام 11,639 کروڑ روپے کے کل مالی حجم کے ساتھ وی وی پی-اوّل اور وی وی پی-دوئم کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان کی بین الاقوامی زمینی سرحدوں سے متصل گاؤں میں سڑک رابطے، بجلی، ٹیلی مواصلات، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور ذریعۂ معاش کے مواقع کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ وی وی پی کا مقصد متحرک، مضبوط اور خوشحال سرحدی برادریوں کی تعمیر ہے۔ یہ معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح سرحدوں پر ترقی یافتہ اور فعال برادریوں کو برقرار رکھ کر یہ ہندوستان کی سرحدی سلامتی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
سرحدی گاؤں کیوں اہم ہیں؟

ہندوستان سات پڑوسی ممالک کے ساتھ 15,000 کلومیٹر سے زیادہ طویل بین الاقوامی زمینی سرحد کا اشتراک کرتا ہے۔ سب سے طویل سرحد بنگلہ دیش کے ساتھ ہے، جو 4,096.7 کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس کے بعد چین کے ساتھ 3,488 کلومیٹر اور پاکستان کے ساتھ 3,323 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ باقی سرحدیں نیپال، میانمار، بھوٹان اور افغانستان کے ساتھ ہیں۔
کئی دہائیوں تک بہت سے سرحدی گاؤں دشوار گزار جغرافیائی حالات، کمزور رابطہ نظام، محدود بنیادی ڈھانچے اور ذریعۂ معاش کے محدود مواقع کے باعث الگ تھلگ رہے۔ ان چیلنجوں کے نتیجے میں نقل مکانی میں اضافہ ہوا اور کئی سرحدی علاقوں میں آبادی کم ہوتی گئی۔ ان دیرینہ مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت نے 2023 میں وائبرینٹ ولیجز پروگرام (وی وی پی) شروع کیا۔ اس کا مقصد ہندوستان کی سرحدوں سے متصل منتخب گاؤں کی جامع ترقی کو تیز کرنا ہے۔
سرحدی باشندوں کو سرحدی محافظ دستوں کی آنکھ اور کان تسلیم کرتے ہوئے، اس پروگرام کا مقصد متحرک، محفوظ اور خوشحال سرحدی برادریوں کی تعمیر ہے۔ یہ ان بستیوں کو ملک کے ’’آخری گاؤں‘‘ کے بجائے ’’پہلے گاؤں‘‘ کے طور پر دیکھنے کے نقطۂ نظر میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
شمالی سرحد سے متصل گاؤں سے آغاز کرتے ہوئے حکومت نے مرحلہ وار اس پروگرام کو پوری بین الاقوامی زمینی سرحد تک وسعت دی ہے۔ بااختیار سرحدی برادریاں ایک محفوظ، مضبوط اور ترقی یافتہ وکست بھارت@2047 کی بنیاد تشکیل دیتی ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
1999 میں کارگل میں دراندازی کی پہلی اطلاع ریڈار یا گشت سے نہیں ملی تھی۔ 3 مئی 1999 کو مقامی باشندوں نے کارگل سیکٹر میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع دی تھی۔ یہ واقعہ ملک کے لیے دفاع کی پہلی صف کے طور پر سرحدی برادریوں کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

دو مرحلے، ایک سرحدی مشن
حکومت وائبرینٹ ولیجز پروگرام کو دو مراحل میں نافذ کر رہی ہے، جو مل کر ہندوستان کی پوری بین الاقوامی زمینی سرحد کا احاطہ کرتے ہیں۔ وی وی پی-اوّل شمالی سرحد سے متصل گاؤں کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ وی وی پی-دوئم اسی نقطۂ نظر کو دیگر بین الاقوامی زمینی سرحدوں تک وسعت دیتا ہے۔ دونوں مراحل کے تحت مجموعی طور پر 2,616 سے زیادہ گاؤں کا احاطہ کیا جائے گا، جس کے لیے مجموعی طور پر 11,639 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔

دونوں مراحل کا ڈھانچہ مختلف ہے، تاہم ان کا مقصد ایک ہی ہے۔ وی وی پی-اوّل مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے، جسے ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ وی وی پی-دوئم مرکزی شعبے کی اسکیم ہے، جس کی مکمل مالی اعانت مرکزی حکومت کرتی ہے۔
اس پہل کے دونوں مراحل کا مقصد معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، مقامی سطح پر ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنا اور سرحدی برادریوں کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ ’’پہلے گاؤں‘‘ کو ترقی کے متحرک مراکز کے طور پر فروغ دے کر ملک کی سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔
وی وی پی-اوّل: شمالی سرحدی برادریوں کو مضبوط بنانا

وی وی پی کے پہلے مرحلے کا اعلان مرکزی بجٹ 2022-23 میں شمالی سرحد سے متصل گاؤں کے لیے کیا گیا تھا۔ اسے 10 اپریل 2023 کو اروناچل پردیش کے انجاو ضلع کے کیبیتھو میں شروع کیا گیا تھا۔ چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں شمالی سرحد سے متصل 46 بلاکس اور 19 اضلاع کے گاؤں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے تقریباً 1.42 لاکھ کی آبادی پر مشتمل 662 اہم گاؤں کو جامع ترقی کے لیے ترجیح دی گئی۔ ان میں اروناچل پردیش، ہماچل پردیش، سکم، اتراکھنڈ اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ شامل ہیں۔
اس اسکیم کو 4,800 کروڑ روپے کے مالی تخمینے کے ساتھ منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت مالی سال 2022-23 سے 2026-27 تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس رقم میں سے 2,500 کروڑ روپے سڑک رابطے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پروگرام کا مقصد دور دراز سرحدی گاؤں میں ترقیاتی خلا کو پُر کرنا ہے۔ اس کے تحت ان گاؤں کو ملک کے دیگر علاقوں میں دستیاب خدمات کے مساوی معیاری بنیادی ڈھانچہ اور ضروری خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
کیبیتھو کو اس کے اسٹریٹجک محلِ وقوع، تاریخی اہمیت اور ترقیاتی ضروریات کے پیش نظر وی وی پی کے آغاز کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ اروناچل پردیش کے انجاو ضلع میں واقع کیبیتھو ہندوستان کے انتہائی مشرقی آباد گاؤں میں سے ایک ہے۔ اس علاقے میں 1962 کی ہندوستان-چین جنگ کے دوران شدید لڑائی ہوئی تھی۔ دور دراز محلِ وقوع، کمزور رابطے اور نقل مکانی کے باعث یہاں طویل عرصے تک ترقی کی رفتار محدود رہی۔ کیبیتھو سے پروگرام کا آغاز کرنا سرحدی علاقوں تک ترقی کو ترجیحی بنیاد پر پہنچانے کے حکومت کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
وی وی پی-اوّل کے تحت اہم اقدامات
یہ پروگرام ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں، پینے کے پانی، قابلِ اعتماد بجلی، موبائل اور انٹرنیٹ رابطے کے ساتھ ساتھ ضروری صحت کی سہولیات اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی فراہمی میں معاونت کرتا ہے۔ یہ ذریعۂ معاش اور مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سیاحتی سہولیات اور کثیرالمقاصد کمیونٹی مراکز کے فروغ کو بھی حمایت فراہم کرتا ہے۔
ذریعۂ معاش سے متعلق معاونت ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں سماجی صنعت کاری، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا، سیاحت اور مقامی ثقافت کا فروغ اور ’’ایک بلاک، ایک پروڈکٹ‘‘ کے تحت کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔ مختلف اسکیموں اور اقدامات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے وی وی پی-اوّل نے خدمات کی فراہمی کا ایک ایسا ماڈل قائم کیا ہے، جسے دوسرے مرحلے کے تحت اب ملک کی دیگر بین الاقوامی زمینی سرحدوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
ہندوستان تقریباً چار دہائیوں سے سرحدی گاؤں کی ترقی کے لیے معاونت فراہم کر رہا ہے۔ بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام (بی اے ڈی پی) 1986-87 میں مغربی سرحد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ بعد میں اسے بین الاقوامی سرحد سے متصل پہلی بستی سے 10 کلومیٹر کے اندر واقع گاؤں تک وسعت دی گئی۔ اس کے تحت 16 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 111 اضلاع کا احاطہ کیا گیا اور 2004-05 سے اب تک 39,000 سے زیادہ ترقیاتی کاموں کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ پروگرام اب اپنے اختتامی مرحلے میں ہے۔ اسی بنیاد پر وی وی پی کے تحت منتخب سرحدی گاؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان گاؤں کو تمام متعلقہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ حاصل ہو، لوگوں کو اپنے آبائی گاؤں میں رہنے کے لیے بہتر مواقع میسر آئیں اور سرحدی سلامتی مزید مضبوط ہو۔
وی وی پی-دوئم: ماڈل کو تمام زمینی سرحدوں تک وسعت دینا
مرکزی کابینہ نے 2 اپریل 2025 کو وی وی پی-دوئم کو منظوری دی۔ پہلے مرحلے کے برعکس، وی وی پی-دوئم کی مکمل مالی اعانت مرکزی حکومت کرتی ہے اور اسے وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا باضابطہ آغاز 20 فروری 2026 کو آسام کے کاچر ضلع کے ناتھن پور گاؤں میں کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے لیے مالی سال 2028-29 تک 6,839 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے تحت بین الاقوامی زمینی سرحدوں سے متصل 334 بلاکس میں جامع ترقی کے لیے 1,954 گاؤں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بلاکس 15 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں واقع ہیں۔ ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اروناچل پردیش، آسام، بہار، گجرات، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، پنجاب، راجستھان، سکم، تریپورہ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، مغربی بنگال، مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ شامل ہیں۔
شمالی سرحد پر واقع وہ بلاکس جو پہلے ہی وی وی پی-اوّل کے تحت آتے ہیں، انہیں کوششوں کی تکرار سے بچنے کے لیے وی وی پی-دوئم سے خارج رکھا گیا ہے۔
وی وی پی-دوئم کے تحت اقدامات
حکومت ہند نے سرحدی گاؤں کو مضبوط بنانے کے لیے وی وی پی-دوئم کے تحت ایک جامع پیکیج کی منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت بنیادی ڈھانچے، کوآپریٹیو اور سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) کے ذریعے ویلیو چینز،اسمارٹ کلاس رومز، سیاحتی سرکٹس اور پائیدار ذریعۂ معاش کے مواقع کی حمایت کی جائے گی۔
یہ سڑک رابطے، صحت کی دیکھ بھال، مالی شمولیت، ہنرمندی کے فروغ اور ٹیلی مواصلات کے رابطے کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس کا مقصد معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنا اور لوگوں کو سرحدی گاؤں میں رہنے کے لیے ترغیب دینا ہے۔ اس طرح وائبرینٹ ولیجز پروگرام کو ایک متحد ترقیاتی فریم ورک کے تحت ہندوستان کی پوری بین الاقوامی زمینی سرحد تک وسعت دی جا رہی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
وی وی پی-دوئم کا مقصد خوشحال اور محفوظ سرحدی علاقوں کی تعمیر کرنا ہے۔ اس کے تحت مضبوط سرحدی برادریوں کے ذریعے سرحد پار جرائم کی روک تھام اور ان پر قابو پانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
اسکیموں کے کنورجنس کے ذریعے ترقی کی فراہمی
وائبرینٹ ولیجز پروگرام کا نفاذ ولیج ایکشن پلان کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت مقامی ضروریات کی بنیاد پر سرحد سے متعلق، ریاست سے متعلق اور گاؤں سے متعلق مخصوص اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام کنورجنس پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے، جس کے تحت موجودہ رہنما اصولوں کے مطابق مختلف اسکیموں کی مکمل کوریج کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ دیہی ترقی کی وزارت کی پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی)-IV کے تحت ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔
چونکہ سرحدی گاؤں کو منفرد چیلنجوں کا سامنا ہے، اس لیے کابینہ سکریٹری کی صدارت میں قائم اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اسکیم کے رہنما خطوط میں مناسب نرمی کی سفارش کر سکتی ہے۔ وزارت داخلہ اس کی نوڈل وزارت ہے۔ یہ مربوط منصوبہ بندی اور مؤثر نفاذ کے لیے ریاستی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ اور سرحدی محافظ دستوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
زمینی سطح پر اثرات
اپنے آغاز کے بعد سے وائبرینٹ ولیجز پروگرام-اوّل نے شمالی سرحدی گاؤں میں جامع اور پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط کی ہے۔

جولائی 2026 تک وزارت داخلہ نے 3,020.32 کروڑ روپے کی لاگت والے 1,248 منصوبوں کو منظوری دی ہے۔ کنورجنس کے تحت مرکزی وزارتوں اور محکموں کے ذریعے مزید 1,655 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 953.47 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے ذریعے 283 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ منظور شدہ منصوبوں کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیلات ذیل کے جدول میں دی گئی ہیں۔
|
نمبر شمار
|
ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
ایم ایچ اے کے ذریعے منظور شدہ منصوبے
|
|
1۔
|
اروناچل پردیش
|
832
|
|
2.
|
ہماچل پردیش
|
98
|
|
3۔
|
لداخ (یوٹی)
|
79
|
|
4.
|
سکم
|
87
|
|
5۔
|
اتراکھنڈ
|
152
|
|
|
کل
|
1,248
|
رابطہ: سڑکیں اور طویل پل
مجموعی طور پر 2,481.93 کروڑ روپے کی لاگت والے 111 سڑک منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ سڑکیں 134 ایسے گاؤں کو جوڑیں گی جہاں پہلے سڑک رابطہ موجود نہیں تھا۔ ان منصوبوں کے تحت مجموعی طور پر 35 طویل پلوں کی تعمیر کو بھی منظوری دی گئی ہے۔ توقع ہے کہ بہتر سڑک رابطے سے سفر آسان ہوگا، مقامی بازاروں تک رسائی میں اضافہ ہوگا اور ان گاؤں میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔
سیاحت: آمدنی کا نیا ذریعہ
سیاحت زمینی سطح پر پروگرام کے نمایاں ترین اجزا میں سے ایک بن گئی ہے۔ وی وی پی-اوّل کے تحت 145 کروڑ روپے کی لاگت والے 327 سیاحتی منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان میں ویو پوائنٹس، ایڈونچر ٹورزم، ایکو ٹورزم، ایکو ریزورٹس، ٹریکنگ روٹس اور سیاحتی مراکز شامل ہیں۔
رسائی اور خدمات کی فراہمی
31 جولائی 2026 تک 8,800 سے زیادہ سرگرمیاں منعقد کی جا چکی ہیں۔ ان میں بیداری مہمات، خدمات کی فراہمی کے کیمپ، صحت اور ویٹرنری کیمپ اور ہنرمندی کی تربیت شامل ہیں۔ اروناچل پردیش میں 2,990 اور لداخ میں 2,221 سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اتراکھنڈ میں 2,038، ہماچل پردیش میں 1,037 اور سکم میں 530 سرگرمیاں انجام دی گئیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
وکست وائبرینٹ ولیجز پروگرام سرحدی گاؤں کو ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے لیونگ کلاس رومز(متحرک کمرہ ہائے جماعت) میں تبدیل کر رہا ہے۔ 2026 میں ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے 400 سے زیادہ رضاکاروں نے لداخ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے 74 سرحدی گاؤں میں ایک ہفتہ گزارا۔ انہوں نے سماجی خدمت، ثقافتی تبادلے اور زمینی سطح پر ترقی سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

وی وی پی: بنیادی ڈھانچے سے آگے اثرات
وائبرینٹ ولیجز پروگرام کے اثرات بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے آگے بڑھ کر سلامتی، ذریعۂ معاش، حکمرانی اور برادریوں کی مضبوطی کو مستحکم کرنے تک پھیلتے ہیں۔
سلامتی: ایک آباد اور پُراعتماد سرحدی پٹی سرحدی محافظ دستوں کے کام میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ دونوں مراحل ایک مضبوط سرحدی آبادی تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں، جو ملک کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر کام کرتی ہے۔
ڈیموگرافکس اور ریورس مائیگریشن (آبادیا تی صورتحال اور نقل مکانی کا الٹا رجحان): ذریعۂ معاش کے مواقع اور بہتر رابطے خاندانوں کو سرحدی گاؤں میں رہنے اور وہاں واپس آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اروناچل پردیش کے کرونگ کومے، دیبانگ ویلی اور شی یومی اضلاع کے سرحدی گاؤں کے لوگ اپنے آبائی گاؤں میں واپس لوٹ رہے ہیں۔ یہ پروگرام کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
معیشت: سرحدی سیاحت، کوآپریٹیو، سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) اور کسان پروڈیوسر تنظیمیں ان علاقوں میں مقامی آمدنی کی بنیاد مضبوط کر رہی ہیں، جہاں پہلے اقتصادی مواقع محدود تھے۔ سرحدی محافظ دستوں کی جانب سے مقامی سطح پر خریداری گاؤں کے اندر ہی ایک یقینی بازار فراہم کرتی ہے۔
حکمرانی: سیچوریشن اپروچ (مکمل کوریج پر مبنی نقطۂ نظر )کے ذریعے ان گاؤں کے ہر اہل گھرانے تک موجودہ مرکزی اور ریاستی اسکیموں کے فوائد پہنچائے جا رہے ہیں۔ ولیج ایکشن پلان ضلع انتظامیہ کو مختلف محکموں کے کام کو مرحلہ وار ترتیب دینے کے لیے ایک مشترکہ ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ چاروں پہلو ایک ہی تصور کی وضاحت کرتے ہیں: ترقی اور سلامتی سرحد پر ایک دوسرے سے متصادم ترجیحات نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دینے والے عوامل ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
اروناچل پردیش میں ہند-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) براہِ راست متحرک گاؤں سے دودھ، سبزیاں، انڈے اور اناج خریدتی ہے۔ اس طرح ایک سرحدی چوکی اپنے آس پاس کے کھیتوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد خریدار بن جاتی ہے۔
ایک مربوط اور خود کفیل سرحد کی جانب
وائبرینٹ ولیجز پروگرام اس عزم کا اظہار ہے کہ ہندوستان کی سرحدی برادریاں ملک کی ترقی میں مکمل طور پر شریک ہوں گی۔ بہتر بنیادی ڈھانچہ، پائیدار ذریعۂ معاش اور سرکاری اسکیموں کے درمیان ہم آہنگی گھر کے قریب مواقع پیدا کر رہی ہے۔ ساتھ ہی، سرحدی سیاحت اور مقامی کاروبار خطے کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔
جیسے جیسے یہ گاؤں زیادہ متحرک، خوشحال اور خود کفیل ہوتے جائیں گے، وہ ہندوستان کی سرحدوں کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے اور 2047 تک ایک محفوظ، جامع اور وکست بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
حوالہ جات
وزیر اعظم کا دفتر
https://www.pmindia.gov.in/en/news_updates/pm-to-interact-with-participants-of-viksit-vibrant-village-programme-2026-on-26-july/
کابینہ
نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت
پریس انفارمیشن بیورو (ریسرچ یونٹ)
سنسد ٹی وی
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
*****
UR-3069
(ش ح۔اس ک )
(Explainer ID: 159863)
आगंतुक पटल : 6
Provide suggestions / comments