Farmer's Welfare
کوآپریٹو شعبے میں اناج کے غیر مرکزی ذخیرہ کاری کا منصوبہ
’’ہندوستان میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کو مضبوط بنانا‘‘
Posted On:
03 SEP 2026 12:15PM
بھارت میں زرعی پیداوار میں مسلسل اضافے اور غذائی تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باعث ملک بھر میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ کوآپریٹو شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کا منصوبہ 2023 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے ذریعے ذخیرہ کاری،ڈبہ بندی، سرکاری خریداری اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔یہ منصوبہ موجودہ سرکاری اسکیموں کو باہم مربوط کرتے ہوئے ایک جامع اور کوآپریٹو اداروں کی قیادت پر مبنی طریقہ کار اختیار کرتا ہے۔ اسے ادارہ جاتی تعاون اور مالی معاونت کے مختلف طریقۂ کار کے ذریعے تعاون حاصل ہے۔ابتدائی طور پر 11 ریاستوں/ پی اے سی ایس کے ساتھ 9,750 میٹرک ٹن ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے حامل پائلٹ منصوبوں سے شروع ہونے والی یہ پہل مسلسل توسیع پارہی ہے۔ جولائی 2026 تک ملک بھر میں 313 پی اے سی ایس میں گوداموں کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی، جس سے 1.80 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔اس منصوبے کے تحت معیار کے ضوابط، شفافیت اور عملی طور پر مؤثر و پائیدار نظام پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔
|
بڑھتی ہوئی زرعی معیشت کے لیے ذخیرہ کاری کی گنجائش میں اضافہ
بھارت میں اناج ذخیرہ کرنے کا نظام روایتی ذخیرہ کاری کے طریقوں، غیر مرکزی مقامی نظاموں اور جدید بنیادی ڈھانچے کے امتزاج کے ذریعے بتدریج ترقی کرتا رہا ہے۔ اس مربوط طریقۂ کار نے غذائی اجناس کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کے غذائی تحفظ کو بھی تقویت دی ہے۔ مٹی کے بنے برتن نما ذخیرہ خانوں، زیرِ زمین گڑھوں اور مٹی سے لیپے ہوئے ذخیرہ کرنے کے ڈھانچوں جیسے روایتی طریقے آج بھی گوداموں اور سائلوز پر مبنی جدید بنیادی ڈھانچے کے ساتھ رائج ہیں۔ تاہم، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث ملک بھر میں جدید اور غیر مرکزی ذخیرہ کاری کی سہولیات کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
تیسرے پیشگی تخمینوں (26-2025) کے مطابق، ملک میں غذائی اجناس کی مجموعی پیداوار 376.563 ملین ٹن رہنے کا اندازہ ہے، جو گزشتہ سال کی 357.732 ملین ٹن پیداوار کے مقابلے میں تقریباً 18.8 ملین ٹن یعنی 5.3 فیصد زیادہ ہے۔ بھارت قومی غذائی تحفظ قانون، 2013 کے تحت دنیا کے سب سے بڑے غذائی تحفظ پروگراموں میں سے ایک بھی چلا رہا ہے، جس سے تقریباً 80 کروڑ افراد مستفید ہوتے ہیں۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اناج ذخیرہ کرنے کی سہولیات کے مضبوط اور وسیع نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔ اگرچہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا(ایف سی آئی) اور ریاستی ایجنسیوں کے زیر انتظام مرکزی ذخیرہ کاری کا بنیادی ڈھانچہ بدستور اہم ہے، تاہم غیر مرکزی ذخیرہ کاری کی سہولیات بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔امداد باہمی کی وزارت نے پیداوار کے مراکز کے قریب ذخیرہ کاری کی سہولیات قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان سہولیات کا مقصد خریداری مراکز کے درمیان نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنا، غذائی اجناس کے ضیاع کو کم سے کم کرنا اور غذائی تحفظ کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

اس تناظر میں، امداد باہمی کے شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کا منصوبہ 31 مئی 2023 کو ایک پائلٹ منصوبے کے طور پر شروع کیا گیا۔ اس اقدام نے کوآپریٹو اداروں کے ذریعے غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کے نظام کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم کی حیثیت اختیار کی۔ امداد باہمی کے نظام کے تحت شروع کیے گئے اس منصوبے کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- غذائی اجناس کی بربادی میں کمی لانا اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا،
- کسانوں کو مشکلات کے باعث کم قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرنے سے بچنے کے لیے زیادہ استحکام فراہم کرنا اور انہیں اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنا،
- خریداری مراکز، گوداموں اور مناسب قیمت کی دکانوں کے درمیان نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنا،
- زرعی سرگرمیوں میں تنوع پیدا کرکے بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے کردار کو وسعت دینا(۔ پی اے سی ایس گاؤں کی سطح پر قائم ایسے ادارے ہیں جو دیہی قرض داروں کو قلیل مدتی قرض اور مالی خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قرض کی واپسی کی رقم جمع کرنے میں بھی سہولت فراہم کرتے ہیں۔) اور،
- کسانوں کے لیے آمدنی کے زیادہ مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا۔
مربوط بنیادی ڈھانچہ اور مختلف اسکیموں کے امتزاج کا طریقۂ کار
امداد باہمی کے شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کے منصوبے کا مقصد بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کی سطح پر زرعی شعبے سے متعلق مربوط بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ یہ نظام موجودہ سرکاری اسکیموں کو باہم مربوط کرکے کام کرتا ہے:
- زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف) اسکیم — فصل کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اسے بہتر بنانے کے لیے مالی معاونت اور سود میں رعایت فراہم کرتی ہے۔
- زرعی مارکیٹنگ بنیادی ڈھانچہ اسکیم (اے ایم آئی) — غذائی اجناس کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات کی تعمیر کے لیےتعمیر کے بعد سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کرتی ہے۔
- زرعی میکانائزیشن کا ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم) — کسٹم ہائرنگ مراکز کے قیام اور زرعی مشینری تک رسائی کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
- پردھان منتری خوراک کی ڈبہ بندی کی بہت چھوٹی صنعتوں کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم (پی ایم ایف ایم ای) — چھوٹی غذائی اشیا کی پروسیسنگ کرنے والی اکائیوں کو باقاعدہ شکل دینے اور ان کی ترقی کو فروغ دیتی ہے۔
ان اسکیموں کو باہم مربوط کرنے سے بنیادی زرعی قرض سوسائٹیاں (پی اے سی ایس) جامع دیہی خدمات کے مراکز میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس سے زرعی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، زرعی پیداوار کی قدر میں اضافے کے سلسلے کو بہتر بنانے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
امداد باہمی کے شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کے منصوبے کے تحت اہم سہولیات اور خدمات میں شامل ہیں:
- کسٹم ہائرنگ مراکز کے ذریعے پی اے سی ایس کسانوں کو کرائے پر دینے کے لیے زرعی مشینری خرید سکتی ہیں۔ اس میں ٹریکٹر، ہارویسٹر، ٹلر اور دیگر زرعی مشینری شامل ہو سکتی ہے۔
- مناسب قیمت کی دکانیں مقامی برادریوں میں اناج کی تقسیم اور تیار شدہ غذائی مصنوعات کی فروخت میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔
- بنیادی پروسیسنگ یونٹس اناج کی صفائی، چھٹائی اور خشک کرنے جیسی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، جس سے پیداوار کے معیار اور اس کی مارکیٹ میں فروخت کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔
- سرکاری خریداری مراکز ریاستی ایجنسیوں اور ایف سی آئی کے لیے پی اے سی ایس کے ذریعے اناج کی سرکاری خریداری میں معاونت کرتے ہیں۔
- اس منصوبے کے تحت کوآپریٹو ذخیرہ کاری کے ماڈل میں 50 میٹرک ٹن، 100 میٹرک ٹن اور 200 میٹرک ٹن گنجائش والے سائلوز پر مبنی ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کا بھی انتظام ہے۔

اس منصوبے کے نفاذ کے طریقۂ کار میں اس میں حصہ لینے والی بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کے لیے ادارہ جاتی اور اہلیت سے متعلق معیار بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
پی اے سی ایس کا انتخاب اور ادارہ جاتی طریقہ کار
’’مارگ درشیکا‘‘ (معیاری عملی طریقۂ کار) کے مطابق، بنیادی زرعی قرض سوسائٹیوں (پی اے سی ایس) کی نشاندہی اور منظوری ضلعی کوآپریٹو ترقیاتی کمیٹیوں (ڈی سی ڈی سی) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ پی اے سی ایس کا انتخاب ان علاقوں میں کیا جاتا ہے جہاں ذخیرہ کاری کی ضرورت موجود ہو۔
اس منصوبے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے زمین سے متعلق شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ ترجیحاً پی اے سی ایس کے پاس اپنی زمین ہونی چاہیے۔ زمین پر پانی جمع نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی یہ جنگلاتی علاقے میں واقع ہونی چاہیے۔ زمین کے استعمال کے لیے پی اے سی ایس کے ارکان کی رضامندی ضروری ہے۔ لیز پر حاصل کی گئی زمین کی صورت میں لیز کی مدت 20 سال سے زیادہ ہونی چاہیے۔

نفاذ کا طریقۂ کار
امداد باہمی کے شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کے منصوبے کے نفاذ کی ذمہ داری نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کی ہے۔ منصوبے کے نفاذ میں قومی، ریاستی اور ضلع سطح پر باہمی رابطے کے ذریعے تعاون کیا جاتا ہے۔ قومی سطح پر ایک بین وزارتی کمیٹی (آئی ایم سی) منصوبے کے مجموعی نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔قومی سطح کی رابطہ کمیٹی (این ایل سی سی) اس منصوبے میں شامل اداروں اور ایجنسیوں کے درمیان عملی رابطہ کاری میں معاونت فراہم کرتی ہے۔ ریاستی کوآپریٹو ترقیاتی کمیٹیاں (ایس سی ڈی سیز) اور ضلعی کوآپریٹو ترقیاتی کمیٹیاں (ڈی سی ڈی سیز) بالترتیب ریاستی اور ضلع سطح پر منصوبے کے نفاذ اور باہمی رابطہ کاری میں معاونت کرتی ہیں۔
مالی معاونت اور منصوبے کی افادیت
حکومت نے اس منصوبے کے تحت منصوبوں کو مالی طور پر زیادہ قابلِ عمل بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اے ایم آئی اسکیم کے تحت سبسڈی کو 25 فیصد سے بڑھا کر 33.33 فیصد کرنا، مارجن منی کی ضرورت کو 20 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنا اور گوداموں کی تعمیر کے لیے لاگت کے معیارات پر نظرِ ثانی کرنا شامل ہے۔
اہل اسکیموں کے تحت سود میں رعایت اور قرض کی معاونت کے مختلف طریقۂ کار کے ذریعے بھی مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اے ایم آئی اسکیم کے تحت نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ (نابارڈ) اہل منصوبوں کے لیے سبسڈی فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ ریاستی کوآپریٹو بینک اور ضلعی مرکزی کوآپریٹو بینک پی اے سی ایس کے لیے بنیادی قرض فراہم کرنے والے اداروں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ نفاذ کے طریقۂ کار کے تحت یہی ادارے قرض کی منظوری اور اس کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔
یہ منصوبہ شریک کوآپریٹو اداروں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے نابارڈ کی خصوصی ری فائنانس سہولت سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ اے آئی ایف کے تحت دستیاب 3 فیصد سود میں رعایت کو شامل کرنے کے بعد، اس منصوبے کے تحت پی اے سی ایس کے لیے قرض کی مؤثر شرحِ سود کم ہو کر 1 فیصد رہ جاتی ہے۔
ایف سی آئی کو بھی مقررہ شرائط کے تحت اس منصوبے کے تحت تعمیر کیے گئے اہل گوداموں کو یقینی بنیاد پر کرائے پر حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام سے ذخیرہ کاری کے منصوبوں کی مالی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے اور پی اے سی ایس کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
اس نظام کے عملی طور پر نافذ ہونے کے بعد منصوبے پر مرحلہ وار توسیع کی حکمتِ عملی کے تحت عمل درآمد آگے بڑھا۔
پائلٹ منصوبے سے توسیع تک
اس منصوبے پر مرحلہ وار حکمتِ عملی کے تحت عمل درآمد کیا گیا ہے، جس کا آغاز پائلٹ منصوبوں سے ہوا اور اب اسے وسیع پیمانے پر وسعت دی جا رہی ہے۔ پائلٹ مرحلے کے تحت 11 ریاستوں میں 11 پی اے سی ایس میں گوداموں کی تعمیر مکمل کی گئی، جس سے 9,750 میٹرک ٹن ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔ پائلٹ منصوبے مہاراشٹر، اتر پردیش، گجرات، راجستھان، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، تمل ناڈو، تلنگانہ، آسام، کرناٹک اور تریپورہ میں نافذ کیے گئے۔ ان پائلٹ منصوبوں نے تعاون کے شعبے میں مقامی سطح پر ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کے قیام کی عملی بنیاد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت اور قابلِ عمل ہونے کو بھی ثابت کیا ہے۔
اس بنیاد پر منصوبے کے نفاذ میں نمایاں توسیع کی گئی ہے۔ جولائی 2026 تک اس منصوبے کے تحت 1,012 پی اے سی ایس یا کوآپریٹو سوسائٹیوں کی نشاندہی کی جا چکی تھی۔ اسی مدت تک 313 پی اے سی ایس میں گوداموں کی تعمیر بھی مکمل ہو چکی تھی، جس سے 1.80 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔
یہ پیش رفت اس منصوبے کے تصوراتی مرحلے سے نکل کر بڑے پیمانے پر عملی نفاذ کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتی ہے۔
|
|

کوآپریٹو ذخیرہ کاری کا عملی نمونہ: نیرپنگلائی پی اے سی ایس
|
مہاراشٹر کے امراوتی میں واقع نیرپنگلائی پی اے سی ایس نے تعاون کے شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کے منصوبے کے تحت 3,000 میٹرک ٹن گنجائش کا گودام تعمیر کیا ہے۔ اس منصوبے کو زرعی مارکیٹنگ بنیادی ڈھانچہ (اے ایم آئی) اور زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ (اے آئی ایف) اسکیموں کے تحت معاونت حاصل ہوئی۔ نابارڈ کی ری فائنانس سہولت کے باعث منصوبے کے قرض پر مؤثر شرحِ سود کم ہو کر 1 فیصد رہ گئی۔تقریباً 300 کسان اس گودام میں سویا بین کی تقریباً 32,000 بوریاں ذخیرہ کر رہے ہیں۔ سوسائٹی نے ذخیرہ شدہ پیداوار کے عوض تقریباً 4.50 کروڑ روپے کی پیشگی رقم بھی فراہم کی ہے، جس سے کسانوں کو فوری مالی وسائل دستیاب ہوئے اور انہیں مجبوری میں کم قیمت پر اپنی پیداوار فروخت کرنے سے بچنے میں مدد ملی۔پی اے سی ایس کو کرائے سے سالانہ تقریباً 7.68 لاکھ روپے اور سود سے سالانہ تقریباً 54 لاکھ روپے کی آمدنی ہونے کی توقع ہے۔ اس گودام سے آس پاس کے علاقوں کے کسانوں کے لیے ذخیرہ کاری کی سہولت بہتر ہوئی ہے اور کوآپریٹو سوسائٹی کی آمدنی کے ذرائع بھی مضبوط ہوئے ہیں۔اس اقدام سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ یہ منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر مرکزی ذخیرہ کاری کا بنیادی ڈھانچہ کس طرح کسانوں کی معاونت کے نظام اور دیہی کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

نیرپنگلائی پی اے سی ایس کا گودام اور سوسائٹی کے رکن ماخذ: امداد باہمی کی وزارت
|
معیار، برانڈنگ اور شفافیت
اس منصوبے کے تحت تیار کیے جانے والے ذخیرہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کے لیے یکساں برانڈنگ سے متعلق رہنما اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ ہر ذخیرہ گاہ پر منظور شدہ اناج ذخیرہ کاری کا لوگو اور مقررہ رنگوں کی اسکیم نمایاں کرنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد اس منصوبے کے لیے ایک واضح اور قابلِ شناخت تشخص قائم کرنا اور متعلقہ فریقوں میں اس کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینا ہے۔

معیار کی یقین دہانی
اس ماڈل میں گوداموں کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے معیار کے اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے کو ویئرہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈبلیو ڈی آر اے) کے مقررہ معیارات کے مطابق ہونا چاہیے اور مقامی ماحولیاتی حالات کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔ تعمیر میں پائیدار اور زنگ سے محفوظ رہنے والے مواد کا استعمال کیا جانا چاہیے، جبکہ اناج کو خراب ہونے سے بچانے اور اس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب ہوا دار نظام بھی ہونا چاہیے۔
طے شدہ ڈیزائن اور حفاظتی معیارات کی پابندی یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ معائنہ اور معیار کی جانچ ضروری ہے۔ پی اے سی ایس کے ارکان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ منصوبے کی پیش رفت کی نگرانی کریں، جبکہ منصوبہ جاتی انتظامی مشیر(پی ایم سی) تعمیراتی سرگرمیوں اور اخراجات سے متعلق تازہ معلومات فراہم کرتے ہیں، تاکہ منصوبے کے نفاذ میں شفافیت اور جواب دہی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اس منصوبے کے تحت تیار کیا جانے والا بنیادی ڈھانچہ طویل مدت تک پائیدار اور جواب دہ رہے اور مقررہ معیار کے اصولوں کے مطابق کام کرے۔
بھارت کے غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا
امداد باہمی کے شعبے میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ کاری کا منصوبہ، کوآپریٹو اداروں کے ذریعے زرعی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک جامع طریقۂ کار کی نمائندگی کرتا ہے۔ پی اے سی ایس کی سطح پر ذخیرہ کاری، پروسیسنگ، خریداری اور تقسیم کے نظام کو باہم مربوط کرکے یہ منصوبہ پیداوار کے مراکز کے قریب غذائی اجناس کے انتظام کو مزید مؤثر بناتا ہے۔
یہ قدم غذائی تحفظ کو تقویت دینے، اجناس کی بربادی کو کم کرنے اور دیہی کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ہے۔ موجودہ سرکاری اسکیموں کے امتزاج، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور مالی معاونت کے مختلف طریقۂ کار کے ذریعے اس منصوبے کو مرحلہ وار توسیع دی جا رہی ہے۔یہ نظام ملک میں غیر مرکزی زرعی بنیادی ڈھانچے اور طویل مدتی غذائی اجناس کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوآپریٹو اداروں کی قیادت پر مبنی طریقۂ کار کی عکاسی کرتا ہے۔
حوالہ جات
امداد باہمی کی وزارت
https://www.cooperation.gov.in/en/worlds-largest-grain-storage-plan-cooperative-sector-0
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2146718®=3&lang=2
https://www.cooperation.gov.in/sites/default/files/2025-08/DGSP%20English%20Margdarshika%20SOP.pdf
https://www.cooperation.gov.in/en/worlds-largest-decentralized-grain-storage-program-cooperative-sector-ensure-food-security
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241928®=3&lang=1
زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت اور آئی سی اے آر
http://www.ftic.co.il/2016NewDelhiPDF/PP047-052-A008-SESSION02.pdf
https://agriwelfare.gov.in/Documents/Time_Series_3rdAE_2025_26_En.pdf
صارفین کے امور،خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
https://dfpd.gov.in/WriteReadData/AnnualRecordUploadDocuments/b9c640b8-5889-4ffd-a62d-5b56c5d4f029_Food%20AR%202024-25%20English%20small%20size.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2210211
وزارت خزانہ
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
پی آئی بی بیک گراؤنڈر
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2172351®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215759®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150721®=48&lang=1
پی ڈی ایف کو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
پی آئی بی تحقیق
*****
ش ح۔م ش ۔ش ا
Urdu No-2977
(Explainer ID: 159829)
आगंतुक पटल : 9
Provide suggestions / comments