• Sitemap
  • Advance Search
Economy

اضلاع بطور برآمداتی مراکز

ہندوستان کی برآمدات کو ملک کے ہر ضلع تک وسعت دینا

Posted On: 02 SEP 2026 11:38AM

اگرچہ ہندوستان  کے برآمداتی سفر میں قابلِ  ذکرترقی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ترقی کے عمل کو مزید جامع اور ہمہ گیر بنانا ضروری ہے۔ ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز (ڈی ای ایچ) اقدام جامع برآمداتی ترقی کے حصول کے لیے ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے تحت ہر ضلع کو برآمداتی منصوبہ بندی کا مرکز بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی منڈی میں صلاحیت رکھنے والی مصنوعات اور خدمات کی نشاندہی کی جاتی ہے اور مقامی پیداوار کنندگان کو بین الاقوامی منڈیوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔ایک ضلع، ایک پروڈکٹ (او ڈی او پی) کے تصور کی بنیاد پر ڈی ای ایچ ایک ہم آہنگی پر مبنی طریق کار اختیار کرتا ہے، جس کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومت کی اسکیموں، اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا جاتا ہے۔ضلع کی سطح پر موجود صلاحیتوں اور خصوصیات کو بروئے کار لا کر انہیں بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑنے کے ذریعے ڈی ای ایچ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کو مضبوط بنانے اور بھارت کی برآمداتی ترقی کو مزید جامع، مسابقتی اور عالمی معیار کے مطابق بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 ہندوستان  کو اضلاع کی سطح پر برآمداتی ماڈل کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

برآمدات ہندوستان کی معاشی ترقی میں ایک اہم محرک بن چکی ہیں۔ بیرونی منڈیوں سے حاصل ہونے والی ہر روپیہ آمدنی ملک میں روزگار، آمدنی اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں ہندوستان کی اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 825.25 ارب امریکی ڈالر ہو گئیں، جبکہ 2025-26 میں یہ مزید بڑھ کر اندازاً 863.11 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔کئی دہائیوں تک ہندوستان کی برآمدی سرگرمیاں چند بڑے صنعتی مراکز اور بندرگاہی شہروں تک محدود رہیں۔ چھوٹے شہروں، دیہی اضلاع اور دور دراز علاقوں کی مصنوعات اگرچہ منفرد اور اعلیٰ معیار کی تھیں، لیکن انہیں بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے مواقع بہت کم ملے۔بستر کا لوہے کا دستکاری کا کام، جلگاؤں کے کیلے اور میگھالیہ کے کینو جیسی مصنوعات اس پوشیدہ برآمداتی صلاحیت کی واضح مثالیں ہیں۔ ان مصنوعات نے یہ ظاہر کیا کہ ہندوستان کے مختلف اضلاع میں عالمی منڈی کے لیے بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جسے مناسب مواقع اور مؤثر نظام کے ذریعے برآمداتی ترقی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس موقع اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز(ڈی ای ایچ) اقدام کے تحت ضلع کی سطح پر برآمدات کو فروغ دینے کی حکمت عملی متعارف کرائی۔ اس اقدام کا مقصد ہر ضلع کی منفرد خصوصیات اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ہندوستان کی برآمداتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ایک ضلع، ایک مصنوعات  او ڈی او پی سے ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز تک: فریم ورک کا ارتقا

ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز (ڈی ای ایچ) اقدام کا آغاز ہر ضلع کی صلاحیتوں اور وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اس کی برآمدی استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ہر ضلع کو محض پیداوار کی اکائی نہیں بلکہ برآمداتی منصوبہ بندی کی ایک مکمل اکائی تصور کیا جاتا ہے۔یہ اقدام مقامی کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے، اپنی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے اور ضلع کی سطح پر معاشی ترقی کو فروغ دینے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ یہ ہندوستان کے وسیع تر ویژن ’ آتم نربھر بھارت‘اور ’ ووکل فار لوکل‘سے بھی ہم آہنگ ہے۔

 

کیا آپ جانتے ہیں؟

ایک ضلع، ایک مصنوعات (او ڈی او پی) کا آغاز 2018 میں اتر پردیش کی ریاستی سطح کی ایک پہل کے طور پر ہوا تھا۔ اس کا تصور مرادآباد کی مشہور پیتل کی صنعت کو مرکز میں رکھ کر تیار کیا گیا، جس کے بعد اسے قومی سطح پر وسعت دی گئی۔

ڈی ای ایچ کی کہانی ’ ایک ضلع، ایک مصنوعات‘(او ڈی او پی) پروگرام سے شروع ہوتی ہے۔  او ڈی او پی کا مقصد ہر ضلع سے ایک منفرد اور نمایاں مصنوعات کا انتخاب کرنا، اسے برانڈ کے طور پر متعارف کرانا اور فروغ دینا تھا تاکہ مقامی شناخت کو معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔

A blue and white timeline with icons

اس طریق کار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ(ڈی جی ایف ٹی) کے تحت محکمۂ تجارت نے ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز(ڈی ای ایچ) اقدام کے ذریعے توجہ کو صرف مصنوعات کے فروغ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک جامع برآمداتی فروغ اور برآمداتی ماحولیاتی نظام کی مضبوطی تک وسعت دی ہے۔جنوری 2026 تک ڈی ای ایچ اقدام کے دائرے میں ملک بھر کے 770 سے زائد اضلاع شامل ہو چکے ہیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی رسائی اور مجموعی برآمداتی منصوبہ بندی کے ساتھ اس کے مضبوط تر انضمام کی عکاسی کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image006_20260902114433_019b0b.jpg

 

ڈی ای ایچ کو کسی مالی امدادی اسکیم کے بجائے ایک ہم آہنگی پر مبنی فریم ورک کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ اس کے تحت کوئی الگ مالیاتی اسکیم متعارف نہیں کرائی گئی، بلکہ مرکز اور ریاستوں کی پہلے سے جاری مختلف اسکیموں کے تحت دستیاب مالی وسائل سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔یہ اقدام نچلی سطح پر برآمدات، مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیتا ہے۔ اس طرح ڈی ای ایچ ہر ضلع کو درپیش مخصوص برآمداتی مسائل سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ضلع کی برآمداتی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

ادارہ جاتی ڈھانچہ

ڈی ای ایچ مرکز، ریاستوں اور اضلاع کے درمیان کثیر سطحی باہمی رابطے اور تعاون کے نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ محکمۂ تجارت مجموعی پالیسی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) اس کے نفاذ کی نگرانی، متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطہ کاری اور پیش رفت کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

  • ریاستی سطح پر ریاستی برآمدی فروغ کمیٹیاں(ایس ای پی سیز) عمل درآمد کی رہنمائی کرتی ہیں اور مختلف محکموں کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو یقینی بناتی ہیں۔
  • ضلع سطح پر ضلع برآمداتی فروغ کمیٹیاں(ڈی ای پی سیز) برآمداتی مواقع کی نشاندہی کرتی ہیں، مقامی مسائل کو حل کرتی ہیں اور صنعت، برآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ کاری کرتی ہیں۔

ڈی ای پی سیز کی ایک اہم ذمہ داری ضلع برآمداتی ایکشن پلانز(ڈی ای اے پیز) تیار کرنا ہے۔ ان منصوبوں میں برآمداتی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات اور خدمات کی نشاندہی، بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس کا جائزہ اور برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، مسابقتی صلاحیت اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی سفارش بھی کی جاتی ہے۔

مارچ 2026 تک، 590 اضلاع کے لیے ڈی ای اے پیز کے مسودے تیار کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 249 اضلاع کے ڈی ای اے پیز کو متعلقہ ڈی ای پی سیزنے باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

برآمدات کے لیے صرف مسابقتی اور معیاری مصنوعات کا ہونا کافی نہیں۔ ڈی ای ایچ اضلاع کو برآمد کنندگان کی صلاحیت بڑھانے اور برآمدات سے متعلق لاجسٹکس، معیار کے معیارات اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے بارے میں معلومات اور آگاہی کی کمی کو دور کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، تاکہ اضلاع کو برآمدات کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔

مصنوعات اور خدمات کی نشاندہی اور نقشہ سازی

ڈی ای ایچ کے تحت مختلف اضلاع میں برآمدی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات اور خدمات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان میں جغرافیائی شناخت(جی آئی) حاصل شدہ مصنوعات، زرعی کلسٹرز، کھلونوں کے کلسٹرز، انجینئرنگ مصنوعات وغیرہ شامل ہیں۔ ضلع کی مخصوص مصنوعات اور خدمات کی نقشہ سازی کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے ہدفی اور مؤثر حکمت عملیاں تیار کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پروڈکٹ

ضلع

ریاست

سیرامک ​​اور ٹائلیں، آلو

سابر کانٹھا

گجرات

معدنیات، زرعی پروسیسنگ، گلاس اور ٹائلیں

اراؤلی

گجرات

جلگاؤں کیلا، جلگاؤں بھرت بیگن

جلگاؤں

مہاراشٹر

کینو

آگر مالوہ

مدھیہ پردیش

بستر لوہے کی دستکاری، چاول، جوار، مکئی

ہائبرڈ

چھتیس گڑھ

بانس کرافٹ، کاجو

جمتارہ

جھارکھنڈ

اضلاع میں  ڈی ای ایچ مصنوعات کی فہرست یہاں دیکھی جا سکتی ہے ۔

عالمی معیار پر پورا اترنا

ایک مرتبہ مصنوعات کی نشاندہی ہو جانے کے بعد ان کے لیے بین الاقوامی معیار کے تقاضوں پر پورا اترنا ضروری ہے۔ ڈی ای ایچ کے تحت معیاری تقاضوں، ٹیسٹنگ سہولیات، پیکیجنگ، برانڈنگ اور سرٹیفیکیشن سے متعلق آگاہی پیدا کرنے اور مقامی کاروباری اداروں کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دی جاتی ہے۔ اس طرح مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں درکار معیار اور ضوابط پر پورا اترنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

ڈجیٹل برآمدات کو فروغ دینا

ڈجیٹل رسائی نے انتہائی مقامی سطح تک کاروباری اداروں کی رسائی ممکن بنائی ہے اور تمام کاروباری اداروں، حتیٰ کہ دور دراز علاقوں میں قائم کاروباری اداروں کے لیے بھی منڈیوں تک رسائی کے مواقع وسیع کیے ہیں۔ ڈی ای ایچ اقدام کے تحت ایمیزون، شپ راکٹ اور ڈی ایچ ایل جیسے ای -کامرس اور لاجسٹکس پلیٹ فارمز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایم ایس ایم ایز کو کم لاگت والی کورئیر اور شپنگ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جس سے مال برداری کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

’ڈاک گھر نِریات کیندرزاس رسائی کو مزید وسعت دیتے ہیں۔ یہ مراکز دستاویزات کی تیاری، پیکیجنگ اور چھوٹی کھیپوں کی ترسیل کے لیے کم لاگت والی ڈاک کے ذریعے برآمداتی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

 

صلاحیت سازی اور آگاہی

برآمداتی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے ڈی جی ایف ٹی کے علاقائی دفاتر ضلع انتظامیہ کے ساتھ مل کر صلاحیت سازی اور آگاہی کے پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ ان پروگراموں میں لاجسٹکس کی منصوبہ بندی، برآمداتی طریق کار، پیکیجنگ کے معیارات اور ضوابط کی پابندی جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ان آگاہی پروگراموں کے کامیاب انعقاد میں مختلف اداروں اور شراکت داروں نے فعال کردار ادا کیا ہے۔ ان میں ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن آف انڈیا(ای سی جی سی) ، ایکسپورٹ پروموشن کونسل فار ہینڈی کرافٹس(ای پی سی ایچ) ، فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز(ایف آئی ای او) ، وزارت ایم ایس ایم ای، انڈیا پوسٹ اور ایکزم بینک شامل ہیں۔ان پروگراموں کے ذریعے برآمد کنندگان کو شناخت کیے گئے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مفید معلومات اور عملی مہارتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ای -کامرس کو اپنانے سے متعلق مسائل، مثلاً ادائیگی سے متعلق مشکلات، خریداروں کے اعتماد اور خریدار کی تصدیق جیسے معاملات کے بارے میں بھی آگاہی پیدا کی جاتی ہے۔

نچلی سطح پر ترقی کے اقدامات کو فروغ دینا

ڈی ای ایچ کو خصوصی مہارت رکھنے والے اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ڈی جی ایف ٹی نے منتخب اضلاع میں برآمداتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایکزم بینک کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔اس تعاون کے تحت چھ اضلاع-اننت پور، رائے پور، سولن، تروپور، کانپور اور کولہاپور کو ایکزم کے ’ گراس روٹس انیشی ایٹیوز فار ڈیولپمنٹ(جی آر آئی ڈی) ‘ پروگرام کے تحت معاونت کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔اس اقدام کے ذریعے شعبہ جاتی نوعیت کی رکاوٹوں اور مسائل کو دور کیا جاتا ہے، ممکنہ مستفید ہونے والوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور ہر ضلع کی ضروریات کے مطابق خصوصی اقدامات اور حکمت عملیاں تیار کی جاتی ہیں، تاکہ برآمداتی مسابقتی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

تروپور، جو  ہندوستان کا ’نٹ ویئر کا دارالحکومت‘کہلاتا ہے نے مالی سال 2025-26 میں 46,000 کروڑ روپے کی ریکارڈ برآمدات حاصل کیں۔ تروپور ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اب 2030 تک 1 لاکھ کروڑ روپے (1 ٹریلین) کی برآمدات کا ایک پرعزم ہدف مقرر کیا ہے۔یہ ہدف  ہندوستان کے اس وسیع تر مقصد سے ہم آہنگ ہے جس کے تحت 2030 تک ملکی ٹیکسٹائل برآمدات کو 38 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کا ارادہ ہے۔

 ڈی ای ایچ کے نفاذ کے لیے مرکوز حکمت عملی

عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے حکومت نے یکم جون 2026 سے ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز( ڈی ای ایچ) اقدام کے تحت نتائج پر مبنی، مرکوز اور مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس حکمت عملی کے پہلے مرحلہ میں 27 ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے اضلاع کو شامل کیا گیا ہے، جس میں ڈی جی ایف ٹی کے 24 علاقائی دفاتر اور 11 شراکت دار ادارے معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ اس مرحلے میں قابلِ پیمائش نتائج پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جن میں نئے برآمد کنندگان کا اندراج اور جاری مرکزی و ریاستی اسکیموں کے باہمی اشتراک کے ذریعے برآمدات کی مالیت میں اضافہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ جغرافیائی شناخت(جی ایچ) حاصل شدہ مصنوعات اور ایم ایس ایم ای کلسٹرز سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر، ڈی ای ایچ کا یہ فریم ورک اضلاع کو طویل عرصے سے درپیش ساختی رکاوٹوں پر قابو پانے اور مقامی پیداواری صلاحیتوں کو برآمداتی مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

آگے کا راستہ

ڈسٹرکٹس ایز ایکسپورٹ ہبز(ڈی ای ایچ) ہندوستان کی برآمداتی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے تحت برآمداتی ترقی کو چند بڑے صنعتی مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ہر ضلع کی برآمداتی صلاحیت کو بروئے کار لانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مقامی صلاحیتوں کو بہتر برآمداتی تیاری، عالمی منڈیوں تک رسائی اور ادارہ جاتی معاونت سے جوڑ کر یہ اقدام ایک زیادہ جامع اور مضبوط برآمدی نظام تشکیل دے رہا ہے۔

جیسے جیسے ہندوستان 1 ٹریلین امریکی ڈالر کی برآمدات کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے، مرکز، ریاستوں اور اضلاع کے درمیان مؤثر اور مضبوط باہمی تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے مقامی معیشتوں کو تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے مراکز میں تبدیل کرنے اور ملک بھر میں برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی۔

 

حوالہ جات

Ministry of Commerce & Industry

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2197651&reg=3&lang=1

https://content.dgft.gov.in/Website/dgftprod/a667478a-d204-4d95-a71c-a58452e1c6d9/Note%20-%20Districts%20as%20Export%20Hubs%20Initiative.pdf

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU5109_bmg27T.pdf?source=pqals

https://www.facebook.com/DeptofCommerceIndia/videos/india-is-strengthening-district-level-export-competitiveness-through-the-distric/1826517751372921/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2280927&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244401&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1897408&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201284&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256724&reg=3&lang=1

DD News

https://ddnews.gov.in/en/services-boom-drives-indias-exports-to-record-usd-863-billion-in-2025-26/

Other organizations

https://ifpuat.gujarat.gov.in/DIGIGOV/digigov.htm;jsessionid=-VKltUfx4n22mbT4IYiYjyFavY2jMvzQVM49b4Hn.DIGIGOV?actionFlag=getDistrictAsExportHubForView&pagedisp=static

https://silpasathi.wb.gov.in/export-hub/

https://prsindia.org/policy/report-summaries/implementation-of-the-districts-as-export-hubs-initiative

https://eodbodisha.odisha.gov.in/Home/DEH

ODOP

https://odopup.in/en#district-products

IBEF

https://www.ibef.org/news/government-expands-deh-initiative-to-boost-district-level-export-competitiveness

PIB Archives

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2217539&reg=3&lang=1

Click here to see pdf

 

*****

 

ش ح-ظ الف -ا ش ق

UR No.2924

(Explainer ID: 159817) आगंतुक पटल : 6
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Kannada