Farmer's Welfare
زرعی نظاموں کی ازسرِنو تشکیل: مضبوط ہندوستان کے لیے(ری جینریٹو ایگریکلچر) تجدیدی زراعت
Posted On:
23 AUG 2026 10:28AM
ہندوستان کے کھیتوں میں زرعی ترقی کاعمل مسلسل جاری ہے، لیکن طویل مدتی پیداواری صلاحیت کا انحصار صحت مند مٹی اور مضبوط ماحولیاتی نظام پر ہے۔ ’’تجدیدی زراعت‘‘ مٹی کی حیاتی قوت کو بحال کرنے، حیاتیاتی تنوع کو بہتر بنانے اور موسمیاتی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کو مستحکم کرنے کا ایک راستہ فراہم کرتی ہے۔ ملک بھر میں کسان قدرتی کاشتکاری، زرعی جنگلات، خرد یا مائیکرو آبپاشی، مربوط زرعی نظام اور سائنسی طریقوں سے مٹی کے انتظام جیسے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ حکومتی تعاون نے اس تبدیلی کے عمل کو رفتار فراہم کی ہے۔
مارچ 2026 تک قدرتی کاشتکاری کے کلسٹرز 8.80 لاکھ ہیکٹر رقبے تک پھیل چکے تھے اور ان میں 18.19 لاکھ کسان شامل تھے۔ مئی 2026 تک تقریباً 109 لاکھ ہیکٹر اراضی کو ’’ہر بوند، زیادہ فصل‘‘ (پر ڈراپ مور کراپ) اسکیم کے تحت لایا جا چکا تھا۔ اس کے علاوہ، اس اسکیم کے آغاز سے مارچ 2026 تک 25.89 کروڑ ’’مٹی صحت کارڈ۔ سوائل ہیلتھ کارڈز ‘‘ جاری کیے جا چکے ہیں۔
یہ مشترکہ کوششیں ہندوستانی زراعت کے لیے زیادہ پیداواری، وسائل کے لحاظ سے مؤثراور ماحول کے تئیں ذمہ دار مستقبل کی تعمیر میں مدد کر رہی ہیں۔
تجدیدی زراعت کی ضرورت
ہندوستان کے زرعی اور اس سے وابستہ شعبوں نے مضبوط اور پائیدار ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مالی سال 2016 سے مالی سال 2025 کے دوران اس شعبے نے 4.45 فیصد کی دہائی کی شرح نمو درج کی، جو کئی دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ رہی ہے۔ یہ کامیابی زرعی شعبے کی مضبوطی اور ملک بھر کے کسانوں کی مسلسل محنت و کاوشوں کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم، اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ان ماحولیاتی بنیادوں کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے جو طویل مدتی زرعی پیداوار کو سہارا دیتی ہیں۔
مالی سال 2016 سے مالی سال 2025 کے دوران اس شعبے نے 4.45 فیصد کی دس سالہ شرح نمو درج کی۔
ہر موسم میں کسان نئی امید اور بڑھتی ہوئی ذمہ داری کے ساتھ اپنے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں۔ برسوں سے کی جانے والی شدید کاشت، کیمیائی مداخلت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بارشوں کے بے قاعدہ ہونے نے مٹی کی مختلف اقسام کی زرخیزی کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی پیداواری صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ جو پیداوار پہلے آسانی سے حاصل ہو جاتی تھی، اس کے لیے اب زیادہ زرعی مداخلت درکار ہوتی ہے۔ گرمی کی لہریں، خشک سالی یا ضرورت سے زیادہ بارش مہینوں کی محنت کو ضائع کر سکتی ہے۔ لاکھوں چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کے لیے مٹی کی صحت میں کمی کا مطلب اکثر بڑھتی ہوئی لاگت اور فصل کی پیداوار میں غیر یقینی صورتِ حال ہوتا ہے۔ نتیجتاً، زرعی پائیداری ایک اہم تشویش بن گئی ہے۔
یہیں تجدیدی زراعت کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ مٹی کی صحت اور زرخیزی بحال کرکے، ماحولیاتی نظام کے افعال کو مضبوط بناکر اور موسمیاتی تغیرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری لاکریہ زراعت مٹی اور پیداواری صلاحیت سے متعلق دونوں چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ یہ طریقۂ کار ہندوستان کی زرعی بنیاد کو مضبوط اور بحال کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
تجدیدی زراعت کے نقطۂ نظر کو سمجھنا
تجدیدی زراعت کاشتکاری کا ایک جامع طریقہ ہے، جو مٹی کی صحت بہتر بنانے اور حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرنے پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد زرعی نظام کی طویل مدتی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو یقینی بنانا بھی ہے۔ صحت مند مٹی زیادہ خوراک اور غذائی اجزا فراہم کرتی ہے، زیادہ کاربن ذخیرہ کرتی ہے اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں معاون ہوتی ہے۔
پائیدار زراعت کے برعکس، جس کا بنیادی مقصد موجودہ وسائل اور حالات کو برقرار رکھنا ہے، تجدیدی زراعت کا مقصد موجودہ حالات کو مزید بہتر بنانا ہے۔ یہ طریقۂ کار مٹی کی صحت کو فعال طور پر بہتر بنانے، حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرنے اور ماحولیاتی نظام کی مضبوطی کو مستحکم کرکے زراعت کو ایک قدم آگے لے جاتا ہے۔
یہ درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
- مٹی میں کم سے کم خلل ڈالنا
- بارہماسی فصلوں کی زندہ جڑوں کی حفاظت
- مٹی پر نباتاتی احاطہ برقرار رکھنا
- مویشیوں کو زرعی نظام میں شامل کرنا
- کیمیائی مداخلتوں کے استعمال کو محدود کرنا
- حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینا
مختصراً، تجدیدی زراعت، زراعت کی قدرتی بنیادوں کو بحال کرکے کاشتکاری کے مستقبل کے لیے ایک عملی اور پائیدار راستہ فراہم کرتی ہے۔
تجدیدی طریقوں کے ذریعے زرعی شعبے کی صلاحیت اورمضبوطی میں اضافہ
تجدیدی زراعت ہندوستان میں رائج کاشتکاری کے مختلف طریقوں پر مبنی ہے۔ اگرچہ تجدیدی طریقوں کا دائرہ وسیع ہے، تاہم چند اہم طریقوں کو وسیع طور پر درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پانی اور وسائل کا مؤثر استعمال
مائیکرو آبپاشی کے نظام، جیسے ڈرِپر، اسپرنکلر اور فوگرز، پانی براہِ راست پودوں کی جڑوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس سے پانی کے ضیاع میں کمی اور پانی کے استعمال کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔ کھیت کی سطح پر پانی کے بہتر انتظام کے ذریعے یہ نظام فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں اور خشک سالی اور پانی کی قلت سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ نتیجتاً، کاشتکاری کے نظام موسمیاتی اعتبار سے زیادہ مضبوط اور معاشی طور پر قابلِ عمل بن جاتے ہیں۔
زرعی میکانائزیشن میں مختلف زرعی سرگرمیوں کو آسان اور خودکار بنانے کے لیے زرعی مشینری اور آلات کا استعمال شامل ہے۔ اس سے پانی، ایندھن اور کھاد جیسے ضروری وسائل کے استعمال کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے، جس کے نتیجے میں وسائل کے ضیاع اور کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔ زرعی سرگرمیوں کو بروقت اور درست انداز میں انجام دینے کے قابل بنا کر، میکانائزیشن وسائل کے بہتر انتظام، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور کاشتکاری کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
مٹی اور غذائی اجزا کا انتظام
نائٹروجن کھاد کا مؤثر انتظام نائٹرس آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس میں مناسب کھاد کا انتخاب اور اس کے استعمال کے وقت اور مقدار کو بہتر بنانا شامل ہے۔ دیگر طریقوں میں نائٹروجن کی صورتحال کا درست اندازہ لگانے کے لیے سپر گرینولر یوریا کو گہرائی میں ڈالنا اور پتوں کے رنگ کے چارٹ کا استعمال شامل ہے۔ اس طریقے میں حیاتیاتی ذرائع کے استعمال کو بھی فروغ دیا جاتا ہے، جیسے سائانوبیکٹیریا اور پھلی دار فصلوں کی بین الفصل کاشت۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات نائٹروجن کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے اور ماحولیاتی نقصانات کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
قدرتی کاشتکاری
قدرتی کاشتکاری ہندوستان کے روایتی علمی نظام پر مبنی ایک کیمیکل سے پاک زرعی نظام ہے۔ اس میں کھیت میں ہی تیار کیے جانے والے حیاتیاتی زرعی اِن پُٹس، جیسے بیج امرت، جیوا امرت، گھنجیوا امرت، نیم استر اور دش پرنی، استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ اجزا مقامی مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کے استعمال سے تیار کیے جاتے ہیں۔
یہ نظام روایتی بیجوں کے استعمال اور کھیت کی حدود پر درخت لگانے کو بھی فروغ دیتا ہے۔ کیڑوں کا انتظام مقامی طور پر تیار کردہ اور کھیت پر پودوں سے حاصل کردہ مرکبات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مٹی کی زرخیزی اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کسانوں کو مسلسل کور کراپنگ، کثیر فصلی کاشت، ملچنگ اور مٹی کی کم سے کم جوتائی جیسے طریقے اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
مویشیوں کو متنوع فصلوں کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے سے مٹی کی صحت بہتر ہوتی ہے، ماحولیاتی نظام بحال ہوتا ہے اور کسانوں کی پیداواری لاگت میں کمی آتی ہے۔
مٹی کی صحت کا انتظام
مٹی کی صحت کے انتظام کے طریقے، جیسے سبز کھاد، کور کراپنگ اور ملچنگ، تجدیدی زراعت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سبز کھاد کے تحت مخصوص فصلیں اس مقصد سے اگائی جاتی ہیں کہ انہیں زمین میں شامل کرکے نامیاتی مادے اور غذائی اجزا کی مقدار بڑھائی جا سکے۔ اس سے مٹی کی زرخیزی اور ساخت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کاربن کے ذخیرے میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
کور کراپنگ میں فصلیں بنیادی طور پر مٹی کو ڈھانپنے اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے اگائی جاتی ہیں۔ اس سے مٹی کا کٹاؤ رکنے، زمین میں حیاتیاتی کاربن برقرار رکھنے اور غذائی اجزا کے چکر کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ملچنگ کے تحت مٹی کی سطح کو پتوں، بھوسے اور دیگر نامیاتی باقیات سے ڈھانپا جاتا ہے۔ اس سے مٹی میں نمی برقرار رکھنے اور اس کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ملچنگ جڑی بوٹیوں کی افزائش کو بھی روکتی ہے، مفید خرد نامیوں کی سرگرمی کو فروغ دیتی ہے اور فصل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
مربوط اور موسمیاتی موافق زرعی نظام
مربوط زرعی نظام (آئی ایف ایس) کاشتکاری کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر ہے، جس میں مختلف زرعی سرگرمیوں کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس میں فصلوں کی کاشت، مویشی پالنا، ماہی پروری اور اس سے وابستہ سرگرمیاں، جیسے باغبانی، زرعی جنگلات اور شہد کی مکھیوں کی پرورش شامل ہیں۔
یہ طریقۂ کار بین الفصل کاشت، فصلوں کی گردش، کثیر فصلی کاشت اور مخلوط کاشتکاری جیسے طریقوں کو فروغ دیتا ہے، جن سے وسائل کا زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوتا ہے۔ یہ فصلوں کی ناکامی کے خطرے کو بھی کم کرتا، روزگار اور آمدنی کے ذرائع کو متنوع بناتا اور سیلاب اور خشک سالی جیسے شدید موسمی حالات کے مقابلے میں لچک پیدا کرتا ہے۔
زرعی جنگلات میں بارہماسی درختوں کو پھلوں اور دیگر فصلوں کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے، جس سے زیادہ پائیدار اور منافع بخش کاشتکاری کا نظام تشکیل پاتا ہے۔ اس سے مٹی میں نمی برقرار رکھنے، مقامی درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے اور زیادہ مقدار میں کاربن ذخیرہ کرنے میں مدد ملتی ہے، جبکہ کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
بارانی علاقوں میں زرعی جنگلات بنجر زمینوں کی بحالیمیں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ نظام غیر متوقع بارشوں کے اثرات کو کم کرنے، زرعی پیداوار بڑھانے اور وقت کے ساتھ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
موسمیاتی موافق زراعت
موسمیاتی موافق زراعت (سی آر اے) میں بدلتی ہوئی آب و ہوا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے زرعی نظام کو مضبوط بنانے کی مختلف حکمت عملیوں اور تکنیکوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے اہم اجزا میں شامل ہیں:
- غذائی اجزا اور کھادوں کا متوازن استعمال
- کیڑوں کا مؤثر انتظام
- پانی کا مؤثر اور محتاط استعمال
- کھیت کی سطح پر مٹی میں نمی کا تحفظ
- زمین کی تیاری کے ایسے مناسب طریقے جو مٹی کی صحت کا تحفظ کریں اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کریں
اس کے علاوہ، سی آر اے میں پانی کی تقسیم کے گروپ، بیج اور چارہ بینک، کمیونٹی نرسریاں اور اجتماعی مارکیٹنگ کے طریقۂ کار جیسی اختراعات بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ طریقے اور اقدامات زرعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور انہیں موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجوں اور اچانک آنے والے جھٹکوں کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
تجدیدی زراعت کے کثیر جہتی فوائد
تجدیدی زراعت ماحولیاتی، اقتصادی اور سماجی سطح پر متعدد فوائد فراہم کرتی ہے۔ یہ صحت مند ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پائیدار کاشتکاری کو بھی فروغ دیتی ہے۔
ماحولیاتی نتائج
مٹی کی بحالی: تجدیدی طریقۂ کاشت مٹی میں نامیاتی مادے کی بحالی، مٹی کی ساخت میں بہتری اور طویل مدتی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس سے زرعی پیداوار کی پائیداری کو فروغ ملتا ہے۔
حیاتیاتی تنوع میں اضافہ: تجدیدی طریقۂ کاشت مختلف انواع، بشمول زرگل افشاں جانداروں، مفید حشرات اور مٹی میں موجود خوردبینی جانداروں کے لیے سازگار حالات پیدا کرتا ہے۔ اس سے ماحولیاتی نظام کے مجموعی توازن کو مستحکم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام: یہ نظام اپنے ذریعے خارج ہونے والے کاربن کی مقدار کے مقابلے میں زیادہ کاربن جذب اور ذخیرہ کرتے ہیں، جس سے زرعی شعبے سے ہونے والے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔
پانی کے مؤثر استعمال میں بہتری: صحت مند مٹی پانی کو زیادہ مقدار میں جذب اور محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سطحی بہاؤ کو کم کرتی ہے۔ اس سے مٹی کے کٹاؤ کے ساتھ ساتھ ندیوں اور جھیلوں میں تلچھٹ اور آلودگی کے بہاؤ کو محدود کیا جا سکتا ہے، جس سے آبی وسائل کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔
معاشی اور سماجی نتائج
منافع: صحت مند مٹی مصنوعی کھادوں، کیڑے مار ادویات اور آبپاشی پر انحصار کو کم کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کاشت کاری کے اخراجات کم ہوتے ہیں، زرعی پیداوار میں استحکام آتا ہے اور کسانوں کی خالص آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
روزگار کے مواقع کی تخلیق: تجدیدی زراعت کے فروغ سے کاشت کاری، مشاورتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی انتظام کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
بہتر صلاحیت: تجدیدی طریقۂ کاشت اپنانے والے کسان موسمیاتی تبدیلیوں اور منڈی میں اتار چڑھاؤ سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹنے کے قابل ہوتے ہیں۔
تجدیدی زراعت کے ذریعے پائیدار ترقی کا فروغ
تجدیدی زراعت کا پائیدار ترقی کے ہدف ایس ڈی جی 13(موسمیاتی اقدامات)سے گہرا تعلق ہے۔ اس ہدف کا ذیلی ہدف 13.1 آب و ہوا سے متعلق خطرات اور قدرتی آفات کے مقابلے میں لچک اور موافقت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ چونکہ تجدیدی طریقۂ کاشت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں مدد کرتا ہے، اس لیے یہ زرعی سطح پر موسمیاتی خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ نتیجتاً، اس سے کھیتوں کی موسمیاتی لچک میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے موافقت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔
ہدفی اقدامات کے ذریعے تجدیدی زراعت کا فروغ
حکومت تجدیدی زرعی طریقوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔ ان میں سے بعض اہم اقدامات قدرتی اور نامیاتی کاشت کاری، زرعی جنگلات، خرد آبپاشی، مربوط کاشت کاری کے نظام اور سائنسی بنیادوں پر مٹی کی صحت کے انتظام کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔
قومی مشن برائے قدرتی کاشت کاری
2024 میں شروع کیا گیا قومی مشن برائے قدرتی کاشت کاری (این ایم این ایف) کسانوں کو قدرتی کاشت کاری کی طرف بتدریج منتقلی میں مدد فراہم کرنے کے لیے ایک سازگار اور معاون ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو دو سال تک فی ایکڑ، فی سال 4,000 روپے کی پیداوار پر مبنی ترغیب فراہم کی جاتی ہے۔ کسانوں کو جیوامرت اور بیجامرت جیسے حیاتیاتی زرعی اِن پُٹس تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے مشن کے تحت ضرورت کے مطابق 10,000 حیاتیاتی اِن پُٹ وسائل مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، قدرتی کاشت کاری کو فروغ دینے کے لیے کلسٹر بھی قائم کیے جائیں گے۔ ہر کلسٹر میں دو کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پیز) ہوں گے، جو کسانوں کو قدرتی کاشت کاری کے طریقوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں گے۔
5 مارچ 2026 تک ملک بھر میں 18,786 کلسٹرز قائم کیے جا چکے ہیں۔ یہ کلسٹرز 8.80 لاکھ ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں اور قدرتی کاشت کاری کو فروغ دینے کے لیے 18.19 لاکھ کسانوں کو اپنے ساتھ شامل کر چکے ہیں۔ مزید برآں، 33,676 کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پیز) کو کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے)، زرعی یونیورسٹیوں (اے یوز) اور مقامی قدرتی کاشت کاری کے اداروں میں تربیت دی جا چکی ہے۔
پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا
2015 میں شروع کی گئی پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) ملک میں نامیاتی کاشت کاری کے فروغ کی ایک اہم پہل بن چکی ہے۔ یہ اسکیم کسانوں کو ماحول دوست طریقے اپنانے، نامیاتی سرٹیفیکیشن حاصل کرنے اور پائیدار پیداوار کے لیے بہتر قیمتیں فراہم کرنے والی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت نامیاتی کسانوں کو تین سال کی مدت میں 31,500 روپے فی ہیکٹر مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
31 اکتوبر 2025 تک، پی کے وی وائی کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 16.90 لاکھ ہیکٹر رقبے کو اس کے دائرے میں لایا جا چکا ہے۔
فی قطرہ، زیادہ فصل(فی ڈراپ مور کراپ )
’فی قطرہ، زیادہ فصل۔فی ڈراپ مور کراپ‘ (پی ڈی ایم سی) اسکیم 2015-16 سے پورے ملک میں نافذ کی جا رہی ہے۔ خرد آبپاشی کے نظام، بالخصوص ڈرِپ اور اسپرنکلر آبپاشی، کھیتوں میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ ڈرِپ آبپاشی میں پائپوں اور اخراجی نلکیوں کے ذریعے پانی براہِ راست پودوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی کے ضیاع میں کمی آتی ہے۔ اسپرنکلر آبپاشی میں پائپوں اور نوزلز کے ذریعے پورے کھیت میں پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے، جس سے پانی یکساں طور پر فراہم ہوتا ہے۔
پی ڈی ایم سی کے تحت حکومت چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کو 55 فیصد اور دیگر کسانوں کو 45 فیصد مالی امداد فراہم کرتی ہے تاکہ وہ خرد آبپاشی کے یہ نظام نصب کر سکیں۔ اس کے علاوہ، بعض ریاستیں اپنے بجٹ سے اضافی سبسڈی بھی فراہم کرتی ہیں۔
2015-16 سے نافذ اس اسکیم کے تحت مئی 2026 تک تقریباً 109 لاکھ ہیکٹر رقبے کو شامل کیا جا چکا ہے۔ مرکزی امداد کے طور پر مجموعی طور پر 26,325 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جس سے پانی کے استعمال کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بارانی علاقوں کی ترقی کا پروگرام
بارانی علاقوں کی ترقی کا پروگرام (آر اے ڈی) 2014-15 سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام خطے پر مبنی کلسٹر طریقۂ کار کے ذریعے مربوط کاشت کاری کے نظام (آئی ایف ایس) کو فروغ دیتا ہے۔ اس کے تحت کثیر فصلی کاشت، فصلوں کی گردش، بین فصلی کاشت اور مخلوط فصل جیسے طریقوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان طریقوں کو باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری اور شہد کی مکھیوں کے پالنے جیسی معاون سرگرمیوں کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے، تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو، ان کے ذرائع معاش کو مضبوط بنایا جا سکے اور شدید موسمی حالات کے مقابلے میں لچک پیدا کی جا سکے۔
آر اے ڈی کے تحت ایک یا ایک سے زیادہ متصل دیہات میں تقریباً 20 ہیکٹر رقبے پر مشتمل کلسٹر تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طریقۂ کار مختلف اسکیموں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے، کمیونٹی کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کامیاب ماڈلز کو بڑے پیمانے پر اپنانے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ کسانوں کو آئی ایف ایس اپنانے کے لیے فی خاندان 30,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، تربیت اور صلاحیت سازی کی سرگرمیوں کے لیے ہر کلسٹر کو 10,000 روپے اضافی فراہم کیے جاتے ہیں۔
قیام کے بعد سے مربوط کاشت کاری کے نظام (آئی ایف ایس) کو اپنانے کے لیے ریاستوں کو 2,251.98 کروڑ روپے کی مرکزی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 9.53 لاکھ ہیکٹر رقبے کو شامل کیا گیا ہے اور 15.73 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے (دسمبر 2025 تک)۔
کرشی وگیان کیندرز (کے وی کے) مقام کے لحاظ سے موزوں مربوط کاشت کاری کے نظام کے ماڈلز کے مظاہروں اور تربیت کے ذریعے اس پروگرام کو مزید تقویت فراہم کرتے ہیں۔ 2024-25 کے دوران کے وی کے نے مختلف آئی ایف ایس ماڈلز پر 4,416 مظاہرے کیے اور 96,013 کسانوں کو تربیت فراہم کی۔
مالی سال 2025-26 کے دوران آر اے ڈی کے نفاذ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 343.86 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت 96,013 کسانوں کو تربیت فراہم کی گئی ۔
زرعی جنگلات سے متعلق ذیلی مشن
پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی) کے تحت زرعی جنگلات سے متعلق سابق ذیلی مشن (ایس ایم اے ایف) کو 2023-24 سے زرعی جنگلات کے جزو کے طور پر ازسرنو منظم کیا گیا ہے۔ یہ کسانوں کو معیاری پودا لگانے کے مواد (کیو پی ایم) کی فراہمی کے لیے زرعی جنگلات کی نرسریوں کے قیام میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
اس اسکیم کے اہم اجزا میں شامل ہیں:
- نئی نرسریوں کا قیام؛
- موجودہ نرسریوں میں پودوں کی افزائش؛
- ٹشو کلچر یونٹس کا قیام؛
- مہارتوں کی ترقی اور بیداری پیدا کرنا؛
- تحقیق و ترقی؛
- نگرانی اور تشخیص؛
- مخصوص تکنیکی سرگرمیاں؛
- زرعی شعبے میں رضاکارانہ کاربن مارکیٹ کے لیے منصوبوں کی تیاری؛ اور
- مقامی اقدامات۔
اس اسکیم کے تحت سرکاری اداروں کو 100 فیصد مالی امداد اور نجی مستفیدین کو 50 فیصد بیک اینڈ کریڈٹ سے منسلک مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران، 31 اکتوبر 2025 تک، 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 78.31 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ مجموعی طور پر 135 نئی نرسریاں قائم کی گئیں، جبکہ 614 موجودہ نرسریوں میں پودوں کی افزائش کی گئی۔ ان نرسریوں میں تقریباً 176.59 لاکھ پودے تیار کیے گئے، جس سے تقریباً 25,693 کسانوں کو فائدہ پہنچا۔
مٹی کی صحت کارڈ اسکیم(سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم)
2015 میں شروع کی گئی مٹی کی صحت کارڈ اسکیم (ایس ایچ سی) کے تحت کسانوں کو ان کی ہر قطعۂ زمین کے لیے سائنسی بنیادوں پر کی گئی، قطعہ وار مٹی کی جانچ کی رپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ یہ کارڈ 12 اہم اشاریوں کی بنیاد پر مٹی کی صحت کا جائزہ لیتا ہے، جن میں بڑے غذائی اجزا، خرد غذائی اجزا اور مٹی کی اہم طبعی و کیمیائی خصوصیات شامل ہیں۔
مٹی کی صحت کا کارڈ ہر دو سال بعد جاری کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے کسان اپنی مٹی میں غذائی اجزا کی صورت حال اور طبعی و کیمیائی خصوصیات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اس میں کیمیائی کھادوں، حیاتیاتی کھادوں، نامیاتی کھادوں اور مٹی کی اصلاح کے لیے مناسب اقدامات کے استعمال سے متعلق فصل مخصوص سفارشات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
اس اسکیم کے آغاز سے اب تک 25.89 کروڑ مٹی کی صحت کے کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں (13 مارچ 2026 تک)۔ کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دینے کے لیے تقریباً 7.17 لاکھ مظاہرے کیے گئے ہیں۔ یہ مظاہرے زرعی ٹیکنالوجی مینجمنٹ ایجنسیوں (اے ٹی ایم اے) اور کرشی وگیان کیندرز (کے وی کے) کے تعاون اور مشاورت سے منعقد کیے گئے۔
مزید برآں، 70,002 کرشی سکھیوں کو تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ نچلی سطح پر کسانوں اور عوام کو مٹی کی صحت سے متعلق مشورے اور رہنمائی فراہم کرنے میں مدد کر سکیں۔
انتہائی مضبوط مستقبل کی جانب قدم
تجدیدی زراعت بتدریج ہندوستانی زراعت کے مستقبل کی تشکیل کر رہی ہے۔ یہ مٹی کی صحت کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوطی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنا رہی ہے۔ قدرتی کاشت کاری، زرعی جنگلات، خرد آبپاشی اور مربوط کاشت کاری جیسے طریقۂ کار وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال پر مبنی زرعی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
مختلف حکومتی اقدامات کے ذریعے کسانوں کو بڑے پیمانے پر ان طریقوں کو اپنانے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ سے زیادہ کسان تجدیدی زرعی طریقۂ کار اختیار کریں گے، زرعی شعبہ ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ پائیدار اور معاشی اعتبار سے زیادہ منافع بخش بنے گا۔ یہ سفر صحت مند مٹی سے شروع ہوتا ہے اور زیادہ مضبوط کھیتوں اور محفوظ ذرائعٔ معاش کی جانب لے جاتا ہے۔
حوالہ جات
وزارت خزانہ
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf \
زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت
https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2197692®=6&lang=1
https://naturalfarming.dac.gov.in/NaturalFarming/Concept
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244625®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2201002®=3&lang=2
https://agriwelfare.gov.in/sites/default/files/RAD_Operational_Guidelines.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201000®=3&lang=1
https://agriwelfare.gov.in/Documents/AR_Eng_2024_25.pdf
https://agriwelfare.gov.in/Documents/DAFW_AnnualReport_2025_26_En.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2239789®=3&lang=2
وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی
https://climate-resilience.vikaspedia.in/viewcontent/climate-resilience/agriculture/what-is-climate-resilient-agriculture?lgn=en
عالمی اقتصادی فورم
https://www.weforum.org/stories/2022/10/what-is-regenerative-agriculture/
اقوام متحدہ
https://www.fao.org/family-farming/d%09etail/en/c/1512632/
https://sdgs.un.org/goals/goal13#targets_and_indicators
حکومت تامل ناڈو
https://agritech.tnau.ac.in/agriculture/agri_irrigationmgt_microirrigation.html
حکومت اوڈیشہ
https://agri.odisha.gov.in/sites/default/files/2025-03/RAD%20Operational%20Guidelines%20%28Revised%29.pdf
پی آئی بی بیک گراؤنڈرز
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155019&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2175205®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/FaqDetails.aspx?id=155374&NoteId=155374&ModuleId=4®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221117®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2259279®=3&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
Click here to see pdf
***
UR-2489
(ش ح۔اس ک )
(Explainer ID: 159693)
आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments