Economy
ہتھ کرگھے کا قومی دن 2026
بُنکروں کا جشن، روایات کی تجدید، نئے امکانات کی توسیع
Posted On:
06 AUG 2026 1:30PM
7 اگست کو منایا جانے والا ہتھ کرگھے کا قومی دن بھارت کے بُنائی کے ورثے کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ دن 35.22 لاکھ بُنکروں اور اس شعبے سے وابستہ کارکنوں کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے، جن میں 72 فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔ 2026 میں یہ موقع ایک ایسے شعبے کی عکاسی کرتا ہے جو علاقائی علم اور روایتی مہارتوں سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ ہتھ کرگھے کی مصنوعات کو ڈیزائن، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں اور عالمی مارکیٹوں کے ذریعے بھی نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی معاونت، اعزازات، مارکیٹ تک رسائی اور اصلیت کے تحفظ کے اقدامات ان روایات کو دیہی برادریوں سے نکال کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر وسیع تر حلقوں تک پہنچا رہے ہیں۔
بدلتے ہوئے ٹیکسٹائل کے منظرنامے میں ہتھ کرگھے کا قومی دن 2026
بھارت کی ہتھ کرگھے کی روایت کی جڑیں گہری تاریخی ہیں، جن کے ابتدائی آثار وادیٔ سندھ کی تہذیب سے ملتے ہیں۔ رگ وید، رامائن اور مہابھارت میں بھی سوت کاتنے اور کپڑا بُننے کا ذکر ملتا ہے۔ بھارتی کپاس اور ریشم کے عمدہ معیار کا ذکر ان متون کے علاوہ کوٹلیہ کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔
صدیوں سے بُنائی کی مہارتیں اور طریقے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے آئے ہیں۔ یہ روایات بھارت کے مختلف علاقوں کے منفرد طریقۂ کار کے ذریعے وقت کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوئی ہیں۔ 2015 میں قومی ہتھ کرگھا دن منانے کا آغاز اس دیرینہ ورثے کو ایک مخصوص قومی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
ہتھ کرگھے کاقومی دن
ہتھ کرگھے کا قومی دن ہر سال 7 اگست کو منایا جاتا ہے۔ یہ 1905 میں شروع کی گئی سودیشی تحریک کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس نے مقامی مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیا اور خود انحصاری کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ دن بھارت کی بُنائی کی روایات کا جشن منانے کے ساتھ ساتھ ہتھ کرگھے سے وابستہ کارکنوں کی سماجی، اقتصادی اور ثقافتی خدمات کا اعتراف بھی کرتا ہے۔2026 میں اس دن کا انعقاد اس سفر میں ایک اہم مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ موجودہ دور کے صارفین میں ہتھ کرگھے کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عالمی منڈیوں میں اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ہتھ کرگھے کی بُنائی آج بھی دستی ہنرمندی اور گھریلو سطح پر قائم کاروباری اداروں سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اس کی شناخت بُنکر، علاقے اور ہر کپڑے کو تیار کرنے میں استعمال ہونے والے روایتی علم و ہنر سے مضبوطی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہتھ کرگھے کے شعبے کا منظرنامہ بھی مسلسل بدل رہا ہے۔ جدید ڈیزائن، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور قومی و بین الاقوامی نمائشیں بھارتی بُنائی کو نئے صارفین سے جوڑ رہی ہیں اور اس کی مقبولیت اور رسائی میں اضافہ کر رہی ہیں۔
بھارت کے ہتھ کرگھے کے پیچھے کارفرما لوگ
چوتھی آل انڈیا ہینڈلوم مردم شماری 2019-20، جو اس شعبے کی جامع سرکاری مردم شماری ہے، کے مطابق ملک میں تقریباً 31.45 لاکھ ہتھ کرگھا گھرانے ہیں۔ اس مردم شماری میں ملک بھر میں 35.22 لاکھ ہتھ کرگھا بُنکروں اور اس سے وابستہ کارکنوں کو بھی شمار کیا گیا۔ ان میں سے 8.48 لاکھ کارکن بُنائی سے پہلے اور بُنائی کے بعد کی سرگرمیوں، جیسے سوت لپیٹنے، تانا تیار کرنے، رنگائی اور کیلنڈرنگ سے وابستہ تھے۔ مزید برآں، سماجی اور جغرافیائی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھ کرگھا دیہی ذرائع معاش سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
ہتھ کرگھا مردم شماری
- بھارت میں اب تک چار ہتھ کرگھا مردم شماریاں کرائی جا چکی ہیں: 1987-88، 1995-96، 2009-10 اور 2019-20۔
- یہ مردم شماریاں عموماً 8 سے 12 سال کے وقفے سے کرائی جاتی ہیں۔
ہتھ کرگھا کارکنوں کی پہچان اور رجسٹریشن
مردم شماری کے دوران شمار کیے گئے کارکنوں کو پہچان/ای-پہچان کارڈ فراہم کیے گئے ہیں۔ اس دائرۂ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے جنوری 2025 میں ای-پہچان پورٹل شروع کیا گیا۔ اس پورٹل کے ذریعے نئے اور پہلے رہ جانے والے کارکن رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، جبکہ پہلے سے رجسٹرڈ کارکن اپنی تفصیلات میں ترمیم کر کے اپنے کارڈ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
جولائی 2026 تک تقریباً 84,000 مزید کارکنوں کو ای-پہچان کارڈ جاری کرنے کی منظوری دی جا چکی تھی۔
خواتین کے زیر انتظام شعبہ
بھارت کے ہتھ کرگھا شعبے کی افرادی قوت میں خواتین کی اکثریت ہے۔ بُنائی اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف کل کارکنوں میں 25.46 لاکھ خواتین شامل ہیں، جو کل افرادی قوت کا 72 فیصد سے زیادہ ہیں۔
متنوع برادریوں کو سہارا دینے والا شعبہ
ہتھ کرگھا شعبے کی افرادی قوت میں درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے 4.84 لاکھ، درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے 6.28 لاکھ اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے 12.67 لاکھ کارکن شامل تھے۔
مزید برآں، مردم شماری میں ملک بھر میں 28.20 لاکھ ہتھ کرگھوں کا اندراج کیا گیا۔ ان میں سے 25.30 لاکھ دیہی علاقوں اور 2.90 لاکھ شہری علاقوں میں قائم تھے۔ اس طرح بھارت کے تقریباً ہر دس میں سے نو ہتھ کرگھے دیہی علاقوں میں واقع ہیں۔
ہتھ کرگھا بُنکروں کے لیے معاونت کا ایک جامع نظام
نیشنل ہینڈلوم ڈیولپمنٹ پروگرام اور خام مال کی فراہمی کی اسکیم اس شعبے کے بنیادی عملی معاونتی نظام کا حصہ ہیں۔
نیشنل ہینڈلوم ڈیولپمنٹ پروگرام (این ایچ ڈی پی)

این ایچ ڈی پی کو 2021-22 سے 2025-26 تک نافذ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ ہتھ کرگھا شعبے کی مربوط ترقی کے لیے ضرورت پر مبنی طریقۂ کار اختیار کرتا ہے اور ہتھ کرگھا بُنکروں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
قومی ہتھ کرگھا ترقیاتی پروگرام کے مختلف اجزا سرکاری ہتھ کرگھا تنظیموں کے علاوہ قومی اور ریاستی سطح کی ہتھ کرگھا کارپوریشنوں کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔ اس کے نفاذ میں بُنکروں کی کوآپریٹو سوسائٹیاں، فیڈریشنز، ہتھ کرگھا پروڈیوسر کمپنیاں اور شریک بینک بھی شامل ہیں۔
ہتھ کرگھا پروڈیوسر کمپنیاں بُنکروں کو پیشہ ورانہ طور پر منظم اور ارکان کی ملکیت والے کاروباری اداروں میں منظم کرتی ہیں۔ این ایچ ڈی پی کے تحت 2020-21 سے 2026-27 کے دوران 200 ہتھ کرگھا پروڈیوسر کمپنیاں قائم کی گئیں۔
اس پروگرام کے تحت درج ذیل اہم اجزا کے ذریعے وسیع پیمانے پر مدد فراہم کی جاتی ہے:
- 1۔ چھوٹے کلسٹر کی ترقی کا پروگرام (ایس سی ڈی پی)
ایس سی ڈی پی مخصوص ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چھوٹے ہتھ کرگھا کلسٹروں کو 2 کروڑ روپے تک کی مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اس مدد میں بہتر ہتھ کرگھے، روشنی اور کام کرنے کے لیے شیڈز کے ساتھ ساتھ ڈیزائن، مصنوعات کی تیاری اور مارکیٹنگ بھی شامل ہے۔
- 2021-22 سے 2026-27 تک (جون تک) اس پروگرام کے تحت 357 کلسٹروں کی منظوری دی گئی۔
- اس کے علاوہ، 2025-26 کے دوران کام کرنے کے لیے شیڈز، ہتھ کرگھوں اور لوازمات، نیز الیکٹرانک جیکوارڈز جیسے اہم اقدامات کے لیے 94 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
کام کرنے کے لیے شیڈز کی تعمیر: پروگرام کے تحت کام کرنے کے لیے شیڈز کی تعمیر سے ہتھ کرگھا مستفیدین کو کام کرنے کی بہتر بنیادی سہولتیں فراہم ہوتی ہیں۔ بُنکروں کو ایسے شیڈز کی تعمیر کے لیے 100 فیصد تک سبسڈی دی جاتی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں درج ذیل نتائج سامنے آئے ہیں:
- اوسط یومیہ پیداوار میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔
- اوسط یومیہ کام کے اوقات میں 60 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ماہانہ کام کے دنوں میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔
- اوسط یومیہ آمدنی میں 42 فیصد اضافہ ہوا، جو 328 روپے سے بڑھ کر 465 روپے ہو گئی۔
الیکٹرانک جیکوارڈ: الیکٹرانک جیکوارڈ ڈیجیٹل کنٹرول کے ذریعے تانے کے دھاگوں کو الگ الگ حرکت دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس سے زیادہ تیز، لچک دار اور پیچیدہ بُنائی ممکن ہوتی ہے۔ اس کے استعمال سے ہتھ کرگھا بُنکروں کی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
- اوسط یومیہ پیداوار میں 55 فیصد اضافہ ہوا۔
- 96 فیصد مستفیدین نے پیداوار میں اضافے کی اطلاع دی۔
- اوسط یومیہ اجرت میں 56 فیصد اضافہ ہوا، جو 360 روپے سے بڑھ کر 560 روپے ہو گئی۔
- اوسط ماہانہ آمدنی 9,600 روپے سے بڑھ کر 15,000 روپے ہو گئی۔
2۔ ہینڈلوم مارکیٹنگ اسسٹنس (ایچ ایم اے)
ہینڈلوم مارکیٹنگ اسسٹنس (ایچ ایم اے) بُنکروں اور ہتھ کرگھا تنظیموں کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے براہِ راست پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس کے تحت ملکی اور برآمدی فروغ، شہری ہاٹ قائم کرنے اور مارکیٹنگ کے لیے مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ مختلف اجزا کے تحت اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:
- 2021-22 سے 2026-27 تک (جون تک) ضلعی، ریاستی اور قومی سطح پر ہتھ کرگھا مصنوعات کی فروخت کو آسان بنانے کے لیے 960 سے زائد پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان میں قومی، ریاستی اور ضلعی ہتھ کرگھا نمائشیں، دستکاری میلے اور مارکیٹنگ سے متعلق دیگر پروگرام شامل تھے۔
- ہتھ کرگھا مارکیٹنگ معاونت کے تحت دو قومی سطح کے اعزازات، سنت کبیر ہینڈ لوم ایوارڈ اور نیشنل ہینڈلوم ایوارڈ، ہتھ کرگھا شعبے میں نمایاں خدمات اور غیر معمولی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ حالیہ مکمل اعزازی دور میں 2024 کے ایوارڈز شامل تھے، جو ہتھ کرگھا کے قومی دن 2025 کے موقع پر پیش کیے گئے۔ مجموعی طور پر 24 افراد کو اعزاز سے نوازا گیا، جن میں 5 سنت کبیر ہینڈ لوم ایوارڈ یافتگان اور 19 نیشنل ہیند لوم ایوارڈ یافتگان شامل تھے۔ اعزاز حاصل کرنے والوں میں چھ خواتین اور ایک معذور( دیویانگ) بُنکر بھی شامل تھے۔
|
سنت کبیر ہینڈلوم ایوارڈ غیر معمولی مہارت اور بُنائی کی روایات، برادری کی فلاح و بہبود اور ہتھ کرگھا شعبے کی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ممتاز بُنکروں کو دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کے ساتھ 3.5 لاکھ روپے، سونے کا تمغہ، تامرا پتر، شال اور سند اعزاز پیش کی جاتی ہے۔
نیشنل ہیند لوم ایوارڈ ہنرمندی، لگن اور اختراع کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ 2 لاکھ روپے، تامرا پتر، شال اور سند اعزاز پیش کی جاتی ہے۔
|
3۔ رعایتی قرض / بُنکر مدرا اسکیم
اس اسکیم کے تحت ہتھ کرگھا شعبے سے وابستہ افراد کو تین سال کے لیے 6 فیصد کی رعایتی شرحِ سود پر قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے 7 فیصد تک سود میں رعایت بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مارجن منی کے لیے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے اور قرض کی ضمانت کی فیس بھی اس کے تحت شامل ہوتی ہے۔ ہتھ کرگھا بُنکر مدرا پورٹل مالی مدد کی بروقت منتقلی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
- 2021-22 سے 2026-27 تک (جون تک) مجموعی طور پر تقریباً 40,000 سے زائد قرضے، جن کی مالیت تقریباً 280 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، منظور کیے گئے۔
- 2026-27 تک مجموعی طور پر 967 قرضے، جن کی مالیت 7.45 کروڑ روپے ہے، منظور کیے گئے۔
4۔ ہتھ کرگھا بُنکروں کی فلاح و بہبود (سماجی تحفظ کے اقدامات)
بُنکروں کی فلاح و بہبود کے اقدامات ہتھ کرگھا بُنکروں اور کارکنوں کو سماجی تحفظ فراہم کرتے ہیں، ساتھ ہی ان کے بچوں کے لیے وظائف بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان اقدامات میں شامل ہیں:
- پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا (پی ایم جے جے بی وائی): اس اسکیم کے تحت 18 سے 50 سال کی عمر کے ہتھ کرگھا بُنکروں اور کارکنوں کو سالانہ قابل تجدید زندگی بیمہ(لائف انشورنس) فراہم کیا جاتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے موت کی صورت میں 2 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔
- پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا (پی ایم ایس بی وائی): اس اسکیم کے تحت 18 سے 70 سال کی عمر کے ہتھ کرگھا بُنکروں اور کارکنوں کو سالانہ قابلِ تجدید حادثاتی بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔ حادثاتی موت یا مکمل مستقل معذوری کی صورت میں 2 لاکھ روپے، جبکہ جزوی مستقل معذوری کی صورت میں 1 لاکھ روپے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔
|
پی ایم جے جے بی وائی اور پی ایم ایس بی وائی کی کارکردگی
- اندراج 2021-22 میں 1,11,957 ہتھ کرگھا بُنکروں اور کارکنوں سے بڑھ کر 2026-27 میں (مئی تک) 2,02,393 ہو گیا ہے، جو 80.8 فیصد کا اضافہ ہے۔
- اسی مدت کے دوران جاری کیے گئے فنڈز 204.83 لاکھ روپے سے بڑھ کر 335 لاکھ روپے ہو گئے، جو 63.6 فیصد کا اضافہ ہے۔
|
- وظائف: ہتھ کرگھا کارکن کے زیادہ سے زیادہ دو بچوں کو تسلیم شدہ ٹیکسٹائل ڈپلومہ، گریجویشن یا پوسٹ گریجویشن کورسز کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سالانہ 2 لاکھ روپے تک کے وظائف فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسکیم کے آغاز سے جون 2026 تک 531 درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
5۔ میگا کلسٹر ترقیاتی پروگرام
میگا کلسٹر ترقیاتی پروگرام کے تحت ہر میگا ہتھ کرگھا کلسٹر میں کم از کم 10,000 ہتھ کرگھے/کلسٹر شامل ہوتے ہیں اور اسے پانچ سال کے دوران 30 کروڑ روپے تک کی مرکزی مالی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔
- آٹھ میگا کلسٹر مکمل ہو چکے ہیں اور فعال ہیں، جبکہ چار میگا کلسٹر زیرعمل ہیں۔
- اس پروگرام کے تحت 370.72 کروڑ روپے کی مالی مدد جاری کی گئی، جس سے مجموعی طور پر 1,62,682 ہتھ کرگھا بُنکروں کو فائدہ پہنچا۔
6۔ ضرورت پر مبنی خصوصی بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ
اس پروگرام کے تحت مصنوعات کی تیاری، پیداوار میں بہتری، معیار میں اضافہ، قدر میں اضافہ اور مارکیٹنگ کے لیے 12 کروڑ روپے تک کی مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔
- چھ دستکاری ہتھ کرگھا گاؤں فعال ہیں، جبکہ تین زیرعمل ہیں۔
2۔ خام مال کی فراہمی کی اسکیم (آر ایم ایس ایس)
اس اسکیم کے تحت ہر قسم کے سوت کی نقل و حمل کے اخراجات کی واپسی کے ذریعے بُنکروں کو سوت تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مقررہ مقدار کی حد کے تحت مخصوص اقسام کے سوت پر 15 فیصد قیمت کی رعایت بھی دی جاتی ہے۔

|
قومی ہتھ کرگھا ترقیاتی پروگرام اور خام مال کی فراہمی کی اسکیم 2026-27 میں بھی جاری ہیں، جن کے لیے بالترتیب 205 کروڑ روپے اور 200 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
|
3۔ ہتھ کرگھے اور روایتی دستکاری کے لیے جی ایس ٹی میں رعایت
ستمبر 2025 میں جی ایس ٹی کونسل کے 56ویں اجلاس میں تجویز کردہ نئی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات میں ہتھ کرگھا شعبے کی مدد کے لیے متعدد اقدامات شامل تھے۔
- جی ایس ٹی کی شرحوں کو معقول بنانے کے تحت 36 دستکاری اشیا پر ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دی گئی۔
- سوتی ہتھ کرگھا قالینوں اور ہاتھ سے بُنے ہوئے قالینوں کو بھی 5 فیصد جی ایس ٹی کی شرح کے دائرے میں لایا گیا۔
- گھریلو اور صنعتی سلائی مشینوں پر بھی ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دی گئی، جس سے سلائی کے یونٹوں کے اخراجات کم کرنے اور ملکی پیداوار کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
4۔ مرکزی بجٹ 2026-27: بھارت کے ہتھ کرگھے کے لیے نئی پالیسی پر زور
مرکزی بجٹ 2026-27 میں کئی نئے اقدامات کے ذریعے ٹیکسٹائل کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے:
- نیشنل فائبر اسکیم کا مقصد ٹیکسٹائل کے لیے خام مال کی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت قدرتی، مصنوعی اور جدید دور کے ریشوں میں خود انحصاری کو فروغ دیا جائے گا۔
- ٹیکسٹائل توسیع اور روزگار اسکیم کے تحت روایتی کلسٹروں کو جدید بنایا جائے گا۔ اس کے ذریعے مشینری، ٹیکنالوجی کی جدید کاری اور مشترکہ جانچ و تصدیق کے مراکز کے لیے سرمایہ جاتی مدد فراہم کی جائے گی۔
- قومی ہتھ کرگھا اور دستکاری پروگرام کے تحت موجودہ اسکیموں کو یکجا کرکے انہیں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اس سے دونوں شعبوں کو ہدفی مدد یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
- مہاتما گاندھی گرام سوراج پہل کے ذریعے کھادی، ہتھ کرگھے اور دستکاری کے شعبوں کو مضبوط بنایا جائے گا، جس سے بُنکروں، دیہی صنعتوں، دیہی نوجوانوں اور ایک ضلع ایک مصنوعات (او ڈی او پی) پہل کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کا مقصد عالمی بازاروں سے روابط، برانڈ سازی، تربیت، ہنرمندی اور پیداوار کے طریقۂ کار اور معیار میں بہتری لانا ہے۔
|
او ڈی او پی پہل ہر ضلع کی منفرد مصنوعات کو فروغ دیتی ہے، متوازن علاقائی ترقی کو تقویت دیتی ہے اور مقامی دستکاروں اور کاروباری افراد کو وسیع تر بازاروں تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: ایک ضلع ایک مصنوعات (او ڈی او پی): مقامی گلیوں سے عالمی منڈیوں تک کا سفر
|
ڈیزائن اور اختراع کے ذریعے ہتھ کرگھے کو نئے انداز میں پیش کرنا
بھارت کی ہتھ کرگھا روایات علاقائی ریشوں، بُنائی کی تکنیکوں، نقش و نگار اور نسل در نسل منتقل ہونے والے بُنائی کے علم سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان ٹیکسٹائل مصنوعات کو پیش کرنے کے پلیٹ فارم بھی مسلسل وسیع ہو رہے ہیں۔ حکومت کے اداروں اور مختلف اقدامات کی مدد سے علاقائی بُنائی کی روایات نئے پلیٹ فارموں تک پہنچ رہی ہیں۔
حالیہ کئی نمائشیں اس بات کی مثال پیش کرتی ہیں کہ روایتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو جدید ڈیزائن اور وسیع تر ثقافتی پلیٹ فارموں کے ذریعے کس طرح پیش کیا جا رہا ہے۔
|
ڈی سی ہتھ کرگھا اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی نے اپریل 2026 میں 61ویں فیمینا مس انڈیا کے موقع پر وشو سُوتر پیش کیا۔ بھوبنیشور میں پیش کیے گئے اس مجموعے میں بھارت بھر کے 30 ہتھ کرگھا کپڑےاور بُنائی کی روایات کو شامل کیا گیا۔ ہر بُنائی کو 30 مختلف ممالک سے حاصل ہونے والے ڈیزائن کے تصورات سے متاثر ہو کر نئے انداز میں پیش کیا گیا، جس میں بھارتی ٹیکسٹائل کو بین الاقوامی ملبوساتی انداز اور اثرات کے ساتھ یکجا کیا گیا۔ ان امتزاجات نے بھارتی ہتھ کرگھے کو عالمی ڈیزائن کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے اس کی اصلیت اور علاقائی شناخت کو برقرار رکھا۔

’بریتھنگ تھریڈز’ نے بھارت ٹیکس 2025 میں ہتھ کرگھے کی مصنوعات کو عصری فیشن سے جوڑا۔ اس میں پانچ ریاستوں میں بُنے گئے کپڑوں سے تیار کردہ 30 ملبوسات پیش کیے گئے۔ یہ کپڑے مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، کرناٹک اور راجستھان سے حاصل کیے گئے تھے۔ چندیری، مہیشوری، جامدانی، خُن، بنارسی، کوٹا ڈوریا اور مرشدآباد کی بُنائی کو مختلف بناوٹوں اور ڈوری کے کام کے ذریعے جدید انداز میں پیش کیا گیا۔

گوا میں منعقدہ آئی ایف ایف آئی 2025 میں ڈی سی ہتھ کرگھا نے ہتھ کرگھا ساڑیاں اِن موشن: 70 ایم ایم آن رَن وے کے ذریعے ملبوسات، ثقافت اور سنیما کو یکجا کیا۔ اس فیشن شو میں بھارتی سنیما کے بدلتے ہوئے ملبوساتی انداز کا سفر پیش کیا گیا، جس میں 1940 کی دہائی کے باوقار انداز میں لپٹی ہوئی ساڑیوں سے لے کر 2020 کی دہائی کے تجرباتی ملبوساتی انداز تک کا احاطہ کیا گیا۔ اس میں 40 سے زائد ساڑیاں پیش کی گئیں، جن میں تسّر، اِکات پشمینہ، بنارسی، چندیری، وینکٹ گیری اور کُتھم پُلّی سمیت مختلف علاقائی بُنائی کی روایات کی نمائندگی کی گئی۔ ان میں سے کئی ساڑیوں پر ایوارڈ یافتہ فن کاروں نے پچوائی، پٹّچترا، وارلی، کلام کاری، مدھوبنی، گونڈ اور بھیل فنون سے متاثر ہو کر ہاتھ سے نقش و نگار بنائے تھے۔

|
ان نمائشوں کے ساتھ ساتھ، باہمی تعاون پر مبنی پلیٹ فارم ہتھ کرگھا شعبے میں نئے تجربات کے لیے نئی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔
ڈیزائن کے مفہوم کو وسعت دینا
- ویو دی فیوچر 4.0: اس تقریب کا اپ سائیکلنگ ایڈیشن 12 سے 17 جولائی 2026 تک نئی دہلی کے دِلی ہاٹ میں منعقد ہوا۔ اس نمائش میں 100 سے زائد برانڈز، دستکار، ری سائیکلنگ سے وابستہ افراد اور ڈیزائن کے شعبے میں کام کرنے والے اختراع کار ایک جگہ جمع ہوئے۔ اس کا مقصد پرانی اشیا کو نئے اور کارآمد انداز میں دوبارہ استعمال کرنے، مرمت، پائیدار پیداوار اور ذمہ دارانہ کھپت کو فروغ دینا تھا۔
- ہینڈلوم ہیکاتھون 2026: ٹیکسٹائل کی وزرات نے قومی ہتھ کرگھا کے قومی دن 2026 کے لیے ہتھ کرگھا ہیکاتھون 2026 - بُنائی میں اختراع کا آغاز کیا۔ اس چیلنج میں طلبہ، بُنکروں، دستکاروں، محققین، اسٹارٹ اپس اور پیشہ ور افراد کو اس شعبے کے لیے عملی حل تیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے موضوعات میں ڈیزائن، پائیداری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی، برانڈ سازی، پیداوار میں اضافہ اور کاروباری صلاحیت شامل ہیں۔
یہ پیشکشیں بھارتی ہتھ کرگھے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور وسیع تر رسائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ فیشن شوز، حس پیجنٹس، سنیما، ٹیکسٹائل نمائشوں اور باہمی تعاون پر مبنی ڈیزائن پلیٹ فارموں کے ذریعے علاقائی بُنائی کی روایات وسیع تر ثقافتی اور تخلیقی میدانوں میں جگہ بنا رہی ہیں۔ یہ بڑھتی ہوئی مقبولیت ایک وسیع تر منظرنامے کا حصہ ہے، جس میں منڈی تک رسائی اور بھارت کی ہتھ کرگھا مصنوعات کی برآمدی موجودگی بھی شامل ہے۔
منڈی تک رسائی اور خریداروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا
منفرد ڈیزائن، محدود پیمانے پر پیداوار اور ماحول دوست طریقۂ کار نے ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں ہتھ کرگھا مصنوعات کی بھرپور مانگ پیدا کی ہے۔
2025-26 میں بھارت کی ہتھ کرگھا مصنوعات کی برآمدات تقریباً 1,330.96 کروڑ روپے رہیں۔ اس عرصے کے دوران ہتھ کرگھا مصنوعات کی بڑی برآمدی مارکیٹوں میں متحدہ عرب امارات، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور اسپین شامل رہے۔
جیسے جیسے ہتھ کرگھا مصنوعات وسیع تر اور متنوع مارکیتوں تک پہنچ رہی ہیں، ان کی اصلیت، معیار اور پیدائش کے مقام کی تصدیق پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ حکومت کی معاونت سے فراہم کردہ نشانِ تصدیق، برانڈنگ کے نظام، جغرافیائی شناخت (جی آئی) رجسٹریشن اور قانونی تحفظات اصلی ہتھ کرگھا مصنوعات کو ممتاز کرنے اور تسلیم شدہ بُنائی کی روایات کے تحفظ میں مدد دیتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی منڈی تک رسائی کو وسعت دے رہے ہیں۔
- تقریباً 1.50 لاکھ بُنکروں اور ہتھ کرگھا اداروں نے سرکاری خریداروں کو مصنوعات فراہم کرنے کے لیے جی ای ایم پر شمولیت اختیار کی ہے۔
- انڈیا ہینڈ میڈ پلیٹ فارم تصدیق شدہ بُنکروں اور پروڈیوسر گروپوں کو جی آئی نشان والی مصنوعات سمیت مستند اشیا براہ راست صارفین کو فروخت کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر 2023-24 سے جون 2026 تک 4,186 بُنکروں اور دستکاروں کو شامل کیا گیا۔

ہینڈ لوم مارک: مصنوعات کے ہاتھ سے بُنے ہونے کی تصدیق
2006 میں شروع کی گئی ہتھ کرگھا نشان(مارک) اسکیم ہتھ کرگھا مصنوعات کو ایک مشترکہ اور منفرد شناخت فراہم کرتی ہے۔ یہ ہاتھ سے بُنی ہوئی مصنوعات کو فروغ دینے کے ساتھ خریداروں کو اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ ان کی خریدی ہوئی مصنوعات واقعی ہاتھ سے بُنی ہوئی ہیں، اور مصنوعات یا ان کے تیار کنندہ کی آسانی سے پہچاننے میں بھی مدد دیتی ہے۔
- 30 جون 2026 تک ہتھ کرگھا نشان کی 29,402 رجسٹریشن جاری کی جا چکی ہیں؛ اور
- مجموعی طور پر 815 خوردہ مراکز اس نشان(مارک) سے لیبل شدہ مصنوعات فروخت کر رہے تھے۔
انڈیا ہیند لوم برانڈ: معیار کی یقین دہانی میں اضافہ
انڈیا ہینڈ لوم برانڈ کا آغاز 7 اگست 2015 کو پہلے ہتھ کرگھا کے قومی دن کے موقع پر کیا گیا تھا۔ یہ اعلیٰ معیار، مستند روایتی ڈیزائن، صفر نقائص اور ماحول پر صفر منفی اثرات رکھنے والی مخصوص ہتھ کرگھا مصنوعات کو فروغ دیتا ہے۔ اس تصدیق کے دائرے میں قدرتی ریشوں سے تیار کردہ ایسی مصنوعات شامل ہیں جن میں پکے رنگوں، جلد کے لیے محفوظ رنگوں اور سماجی ذمہ داری کے معیارات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔
- جون 2026 تک 184 زمروں میں 2,305 رجسٹریشن جاری کی جا چکی تھیں۔
جی آئی ٹیگ: علاقائی بُنائی کی شناخت کا تحفظ
جی آئی ایکٹ، 1999 رجسٹر شدہ جغرافیائی شناختوں کو غیر مجاز استعمال سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ رجسٹر شدہ صارفین غیر قانونی طور پر مصنوعات تیار کرنے یا ان کی مارکیٹنگ کرنے کے خلاف پولیس حکام سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ ریاستی ہتھ کرگھا اور ٹیکسٹائل محکموں کو بھی تحفظ کے اقدامات مزید مضبوط بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
- اگست 2026 میں دستیاب معلومات کے مطابق، 106 ہتھ کرگھا مصنوعات، 6 مصنوعات کے لوگو اور 227 دستکاری مصنوعات جغرافیائی شناخت کے تحت رجسٹرڈ تھیں۔
|
جی آئی ٹیگ کسی مخصوص علاقے سے تعلق رکھنے والی ایسی مصنوعات کی شناخت کرتا ہے جن کا معیار، شہرت یا خصوصیات ان کے جغرافیائی مقام سے وابستہ ہوتی ہیں۔
|
محفوظ ہتھ کرگھا مصنوعات کے لیے قانونی تحفظ
ہینڈلوم ایکٹ، 1985 بُنکروں اور بھارت کے ثقافتی ورثے کو پاور لومز اور ملوں کی مداخلت سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت 11 مخصوص ٹیکسٹائل مصنوعات کی تیاری صرف ہتھ کرگھے کے لیے مختص کی گئی ہے۔
حکومتی ادارے پاور لوم یونٹوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ ہتھ کرگھے کے لیے خصوصی طور پر مختص مصنوعات کی تیاری کو روکا جا سکے۔
مستقبل ہاتھ سے بُنا ہوا ہے
ہتھ کرگھا کے قومی دن 2026 ہمیں اس روایت کی پائیداری سے آگے بڑھ کر اس کے مستقبل کے امکانات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
بھارت کے ہتھ کرگھے اپنے اندر مقام، برادری اور ہنرمندی کی یادیں سمیٹے ہوئے ہیں، تاہم ان کی کہانی ہر نسل کے ساتھ نئے انداز میں سامنے آتی رہتی ہے۔ موجودہ زندگی میں ہتھ کرگھے کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی ورثہ اپنی پہچان کھوئے بغیر بھی دورحاضر میں اپنی اہمیت برقرار رکھ سکتا ہے۔
جیسے جیسے دنیا بھارت کو اس کی بُنائی کے ذریعے مزید جان رہی ہے، ہتھ کرگھا نسل در نسل منتقل ہونے والے علم کو نئی امنگوں سے جوڑ رہا ہے۔ یہ علاقائی شناختوں کو بُنکر کے ہاتھوں سے نکال کر وسیع تر دنیا تک پہنچا رہا ہے۔
حوالہ جات:
ٹیکسٹائل کی وزرات:
https://handlooms.nic.in/assets/img/Statistics/3736.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2153746®=48&lang=2
https://sansad.in/getFile/annex/265/AS135_suGmAI.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2148300®=48&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU4300_zg5b8v.pdf?source=pqals
https://handlooms.nic.in/assets/img/Statistics/Background_note_on_handloom_sector.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2146379&lang=2®=48
https://www.texmin.gov.in/static/uploads/2026/05/5c48e80d2180ca3194b9e9b01340696d.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2290320®=48&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286966&lang=1®=1
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU5220_ml9Xxl.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253525®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2103763®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2194154®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2283412®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2152924®=48&lang=2
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU2558_zikFcF.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2152551&lang=2®=48
https://handlooms.nic.in/assets/img/Final%20Revised%20%20Guidelines%20NHDP%2012.04.2023.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2163905®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1812498®=48&lang=2
وزارتِ خزانہ:
https://www.indiabudget.gov.in/doc/eb/sbe98.pdf
تجارت و صنعت کی وزرات:
https://ipindia.gov.in/gi-introduction
ایم ایس ایم ای کی وزرات:
https://www.coek.in/events
حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کا دفتر:
https://www.psa.gov.in/livelihood/10117
ہتھ کرگھا برآمدات کے فروغ کی کونسل:
https://www.hepcindia.com/img/HS%20Code%20Wise%20Handloom%20Data%20from%202009-10%20to%202025-26.pdf
https://www.hepcindia.com/top_20_countries
پی آئی بی کا محفوظ شدہ ریکارڈ:
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=154978®=48&lang=2
دیگر
https://www.esquireindia.co.in/style/just-landed/fdci-khadi-samant-chauhan-shows-at-moscow-fashion-week
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
***********
ش ح۔ ش آ ۔ رب
U. No-2270
(Explainer ID: 159600)
आगंतुक पटल : 28
Provide suggestions / comments