Economy
کنٹینر سازی ترغیبی اسکیم: ہندوستان کے بحری مستقبل کی تعمیر
Posted On:
11 AUG 2026 10:47AM
ہندوستان کی بڑھتی ہوئی تجارتی اور صنعتی ترقی کی امنگوں کےپیش نظر ملک میں کنٹینر سازی کا ایک مضبوط داخلی نظام قائم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ 10,000 کروڑ روپے کے مالی حجم سے مدد یافتہ مجوزہ کنٹینر سازی ترغیبی اسکیم (سی ایم اے ایس) کا مقصد کنٹینر کے پورے ماحولیاتی نظام میں تیاری، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جہاز رانی، بندرگاہوں اور نقل و حمل و رسد کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی اصلاحات کے ساتھ اس اقدام سے ہندوستان کی بحری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور طویل مدت میں ہندوستان کی تجارتی مسابقتی صلاحیت کو مستحکم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
ملک میں کنٹینر سازی کی ضرورت
آج عالمی تجارت میں کنٹینر کے ذریعے نقل و حمل پر مبنی رسدی نظام کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی)کے مطابق حجم کے اعتبار سے عالمی پیمانے پر اشیائی تجارت کا تقریباً 80 فیصد سمندری راستے سے منتقل ہوتا ہے۔ بحری نقل و حمل بین الاقوامی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی دوران کنٹینر کے ذریعے منتقل ہونے والا مال بین الاقوامی تجارت کی مجموعی مالیت کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے۔ یہ رجحانات عالمی رسدی زنجیروں کو سہارا دینے میں مؤثر کنٹینر رسدی نظام کی تزویراتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، رسدی زنجیروں میں خلل اور بحری جہازوں کے راستوں میں تبدیلیوں نے عالمی سطح پر اشیا کی نقل و حرکت میں موجود کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ یو این سی ٹی اے ڈی کے مشاہدے کے مطابق ان رکاوٹوں کے باعث مال برداری کی شرحوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا ہے اور بحری نقل و حمل کے نظام پر دباؤ بڑھا ہے۔ نتیجتاً بہت سے ممالک اہم رسدی اثاثوں، بشمول بحری کنٹینروں کے لیے اپنی مقامی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
عالمی سطح پر ہندوستان کے بڑھتے ہوئے صنعتی کردار اور بین الاقوامی تجارت میں اضافے کے باعث کنٹینروں کے ذریعے مال کی نقل و حرکت کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم برآمدات و درآمدات ( ای ایکس آئی ایم)کی تجارت میں وسعت اور رسدی نظام کی تیز رفتار ترقی کے باوجود ہندوستان بڑی حد تک خالی کنٹینروں کے لیے درآمدات پر منحصر ہے۔ ہندوستان اپنی داخلی ضروریات اور کنٹینروں کی ر ی پوزیشن(منتقلی) کے لیے ہر سال تقریباً 20 لاکھ خالی کنٹینر درآمد کرتا ہے۔ اس صورت حال نے کنٹینروں کی دستیابی کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ، مال برداری کی شرحوں میں عدم استحکام اور رسدی زنجیروں میں خلل کے لیے حساس بنا دیا ہے۔
ان ابھرتے ہوئے چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کنٹینر سازی ترغیبی اسکیم (سی ایم اے ایس) کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد ملک میں مقامی کنٹینر سازی کو فروغ دے کر اور پوری قدر افزا زنجیر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ہندوستان میں عالمی سطح پر مسابقتی کنٹینر سازی کا ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔ اس اقدام کا مقصد درآمدات پر انحصار کم کرنا اور رسدی زنجیر کی لچک کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اسکیم حکومت کی ’میک اِن انڈیا‘، میری ٹائم امرت کال وژن 2047 اور کثیروسائلی رسدی نظام کی ترقی سے متعلق کوششوں کی تکمیل کرتی ہے اور ہندوستان کے طویل مدتی بحری اور تجارتی اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔
|
کنٹینر کیا ہیں؟
شپنگ کنٹینر معیاری فولادی مال بردار ڈبے ہوتے ہیں، جنہیں بحری جہازوں، ریلوے اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی مدد سے دوران نقل و حمل سامان کو اتارنے اور دوبارہ پیک کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ کنٹینر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہبین الاقوامی ادارہ برائے معیار بندی(آئی ایس او ) کے مقرر کردہ معیار کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں، جس سے نقل و حمل کے مختلف ذرائع کےدرمیان سامان کی بلارکاوٹ منتقلی اور عالمی تجارت کو مؤثر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ عام طور پر استعمال ہونے والے کنٹینروں کے سائز 20 فٹ اور 40 فٹ ہوتے ہیں، جن کی پیمائش بیس فٹ مساوی اکائی (ٹی ای یو) میں کی جاتی ہے۔ ٹی ای یو کنٹینروں کی گنجائش کی پیمائش کی ایک معیاری یونٹ ہے۔
|
کنٹینر سازی ترغیبی اسکیم (سی ایم اے ایس) کیا ہے؟
سی ایم اے ایس کا اعلان مرکزی بجٹ27-2026میں کیا گیا تھا۔ یہ ایک ہدف پر مبنی اقدام ہے ،جس کا مقصد مالی اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے ملک میں ایک مسابقتی کنٹینر سازی کی صنعت قائم کرنا ہے۔
پانچ سال کے دوران 10,000 کروڑ روپے کے مالی حجم کے ساتھ مجوزہ اسکیم نئی پیداواری سہولتیں قائم کرنے اور موجودہ یونٹوں کی توسیع میں معاونت فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد ہندوستان میں بحری کنٹینروں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔
اس اقدام کے تحت سالانہ تقریباً 7.5 لاکھ بیس فٹ مساوی اکائیوں (ٹی ای یوز) تک ملکی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف ہے، جو موجودہ کنٹینر پیداواری صلاحیت سے تقریباً 10 گنا زیادہ ہوگی۔ توقع ہے کہ اس سے تقریباً 80,000 کروڑ روپے کی مارکیٹ کے مواقع پیدا ہوں گے اور ہندوستان کو بین الاقوامی معیار کے مسابقتی بحری کنٹینروں کے ایک قابلِ اعتماد تیار کنندہ کے طور پر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
کنٹینر سازی کی قدر افزا زنجیر کو مضبوط بنانے کے لیے اسکیم کے تحت درج ذیل سہولتیں فراہم کی جائیں گی:
- نئی گرین فیلڈ پیداواری سہولتیں قائم کرنے کے لیے سرمایہ جاتی معاونت۔
- موجودہ براؤن فیلڈ پیداواری یونٹوں کی توسیع کے لیے مدد۔
- ملکی کنٹینر سازی کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے عملیاتی معاونت۔
- آزمائشی بنیادی ڈھانچے، ہنرمندی کے فروغ اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے لیے ترغیب۔
ایک مربوط بحری ماحولیاتی نظام کا قیام
سی ایم اے ایس ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں مضبوط بنیاد رکھنے والا ایک مربوط کنٹینر ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔ فروری 2026 میں بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے بھارت کنٹینر شپنگ لائن (بی سی ایس ایل) کے قیام کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس اقدام کے تحت شپنگ کارپوریشن آف انڈیا (ایس سی آئی)، کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا (سی او این سی او آر)، جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی (وی او سی پی اے) اور ساگرمالا فنانس کارپوریشن لمیٹڈ (ایس ایف ایم سی ایل) کو ایک ساتھ لایا گیا۔
اس اقدام کے تحت مختلف سائز کے 51 کنٹینر بحری جہازوں پر مشتمل بیڑے کی تیاری اور ملکی سطح پر کنٹینروں کی خریداری کے لیے تقریباً 99,149 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔
یہ مربوط حکمت عملی حکومت کے وسیع تر رسدی نظام سے متعلق اقدامات کی تکمیل کرتی ہے۔ ان میں درج ذیل شامل ہیں:
- پی ایم گتی شکتی، جو بندرگاہوں، ریلوے، شاہراہوں اور صنعتی مراکز کے درمیان رابطے کو بہتر بناتی ہے؛
- قومی رسدی پالیسی، جو عملیاتی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ہے؛ اور
- ساگرمالا پروگرام، جو بندرگاہوں پر مبنی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔
یہ تمام اقدامات ہندوستان میں بڑھتے ہوئے تجارتی حجم کے لیے ایک مضبوط، مربوط اور لچک دار رسدی نیٹ ورک کے قیام میں معاون ہیں۔
روزگار اور صنعتی پیداوار کے مواقع
رسدی نظام کی لچک اور مضبوطی بہتر بنانے کے علاوہ سی ایم اے ایس سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور صنعتی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اس اسکیم کے تحت کنٹینر سازی اور اس سے وابستہ صنعتوں میں تقریباً 3,000 براہ راست روزگار اور 50,000 سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اس اقدام سے متعدد معاون صنعتوں کی ترقی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے، جن میں شامل ہیں:
- کونر کاسٹنگز
- لکڑی کے فریم
- کارٹن اسٹیل
حالیہ پیش رفت اور صنعتی شعبے کا ردعمل
جولائی 2026 میں ہندوستان نے عالمی شپنگ کمپنی اے پی مولر–میئرسک (A.P. Moller–Maersk) کے لیے اپنے پہلےہندوستان میں تیار کردہ درآمد و برآمدی (ای ایکس آئی ایم) شپنگ کنٹینر کی تیاری اور فراہمی کے آغاز کے ساتھ بحری تعمیرات کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا۔ اس کنٹینر کی رونمائی اتر پردیش کے دادری میں واقع میئرسک–کونکور اندرون ملک کنٹینر ڈپو میں کی گئی۔
یہ کنٹینر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آئی ایس او معیارات اور محفوظ کنٹینروں سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (سی ایس سی)کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس کے باعث یہ عالمی بحری نقل و حمل کے نیٹ ورک میں استعمال کے لیے موزوں ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان عالمی معیار کے مطابق بحری کنٹینر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک اور اہم پیش رفت میئرسک کی جانب سے ڈی سی ایم شری رام گروپ سے مزید 1,000 ہندوستان میں تیار کردہ بحری کنٹینروں کا آرڈر دیا جانا ہے۔ یہ آرڈرہندوستان کی ابھرتی ہوئی کنٹینر سازی کی صلاحیت کی ابتدائی تجارتی توثیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے عالمی شپنگ کمپنیوں کے درمیان اعلیٰ معیار کے بحری کنٹینر تیار کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کی پالیسی سے متعلق اقدامات اب تجارتی نتائج میں تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ اقدامات عالمی بحری قدر افزا زنجیر میں ایک اہم صنعتی مرکز کے طور پر ابھرنے کے ہندوستان کے عزم کو بھی مزید مضبوط کرتے ہیں۔
وسیع تر بحری شعبے میں تبدیلی کا حصہ
سی ایم اے ایس ان وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے جو ہندوستان کے بحری شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ملک میں کنٹینر سازی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ حکومت نے قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔ مجموعی طور پر ان اقدامات کا مقصد کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بناتے ہوئے ہندوستان کے بحری ماحولیاتی نظام کو جدید بنانا ہے۔
ان اقدامات میں مرچنٹ شپنگ ایکٹ 2025، کوسٹل شپنگ ایکٹ، 2025 اور انڈین پورٹس ایکٹ، 2025 کا نفاذ شامل ہے۔ ان قوانین کے ذریعے جہاز رانی، ساحلی تجارت اور بندرگاہوں کے انتظام و انصرام کے لیے ایک جدید قانونی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے۔ ان اصلاحات کے ساتھ ون نیشن ون پورٹ پراسیس (او این او پی)، میری ٹائم سنگل ونڈو اور ای-سمندرا جیسے ڈیجیٹل اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے ضابطہ جاتی طریقۂ کار آسان بنانے، دستاویزات میں کمی لانے اور بندرگاہوں و جہاز رانی کی خدمات میں عملیاتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
حکومت نے 70,000 کروڑ روپے کے جہاز سازی کے لیے مالی معاونتی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پیکیج کا مقصد ملک میں جہاز سازی کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور بحری صنعت کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ مجوزہ بھارت کنٹینر شپنگ لائن (بی سی ایس ایل) کے ساتھ مل کر ان اقدامات کا مقصد جہاز سازی، کنٹینر سازی، جہاز رانی کی خدمات، بندرگاہوں اور کثیرالوسائلی رسدی نظام پر مشتمل ایک مربوط بحری ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔
وادھاون بندرگاہ، گالیتھیا بے میں بین الاقوامی کنٹینر منتقلی بندرگاہ، ٹونا ٹیکرا کنٹینر ٹرمینل اور وی او چدمبرانار بندرگاہ پر بیرونی بندرگاہ کنٹینر ٹرمینل سمیت بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد ہندوستان کے بحری بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا اور مال برداری کو سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس (سی پی پی آئی) 2025 میں ہندوستان کی تین بندرگاہیں اب دنیا کی 30 بہترین بندرگاہوں میں شامل ہیں، جو بندرگاہوں کی کارکردگی میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتی ہیں اور عالمی بحری تجارت میں ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
آگے کا لائحۂ عمل
سی ایم اے ایس عالمی سطح پر مسابقتی بحری صنعتی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ کنٹینر سازی کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے ذریعے اس اسکیم سے سپلائی چینز کی مضبوطی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی تجارت میں ہندوستان کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ وسیع تر بحری اصلاحات کے ساتھ مل کر سی ایم اے ایس میں ہندوستان کو بحری صنعت اور رسدی خدمات کے ایک نمایاں عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Ports, Shipping and Waterways
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU2875_nAmH3t.pdf?source=pqars&utm
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221817®=48&lang=2
https://dgma.gov.in/download/1775649151_69d6417f46b3f_dgs-nmdc-address-01042026.pdf?utm
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2222805&lang=1®=3&utm
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2280831&lang=1®=3&utm
UNCTAD
https://unctad.org/topic/transport-and-trade-logistics/review-of-maritime-transport?utm
https://unctad.org/publication/review-maritime-transport-2025?utm
Click here to see pdf
*******
UR-1793
(ش ح۔ م ع ن ۔ ج)
(Explainer ID: 159513)
आगंतुक पटल : 11
Provide suggestions / comments