• Sitemap
  • Advance Search
Economy

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی)

رسمی روزگار میں توسیع ، ہندوستان کی افرادی قوت کو تحفظ

Posted On: 01 AUG 2026 10:53AM

ہندوستان کی افرادی قوت وکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل کی جانب اس کے سفر میں ایک اہم محرک کی حیثیت رکھتی ہے۔ معیاری روزگار جامع اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ اسی وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) متعارف کرائی گئی ہے، جو پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور آجروں کو نئی رسمی ملازمتیں پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) سے منسلک ٹیکنالوجی پر مبنی فریم ورک کے ذریعے یہ اسکیم افرادی قوت کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے، سماجی تحفظ کی رسائی کو وسعت دینے اور کارکنوں کے مالی تحفظ کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ہے۔

روزگار کے مواقع میں اضافے، مالی شمولیت اور شفاف عمل درآمد کو یکجا کرتے ہوئے پی ایم-وی بی آر وائی ایک ہنر مند، محفوظ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تشکیل کر رہی ہے، جو ہندوستان کی طویل مدتی اقتصادی ترقی کو رفتار بخشنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ہندوستان کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کی صلاحیتیں اور امکانات

ہندوستان کی نوجوان اور متحرک افرادی قوت اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ملک کو اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور وکست بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت کی شکل دینے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان لیبر مارکیٹ میں قدم رکھتے ہیں۔ اس ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو پائیدار اور جامع ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ رسمی روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے اور سماجی تحفظ کی رسائی کو مزید وسعت دی جائے۔

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ترغیب دے کر اس قومی ترجیح کو تقویت فراہم کرتی ہے۔ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے ذریعے شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے تحت نافذ کی جانے والی یہ اسکیم افرادی قوت کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے میں معاون ہے، جس سے ملازمین اور آجروں دونوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

مواقع کو روزگار میں تبدیل کرنا

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) کا اعلان اگست 2025 میں کیا گیا تھا۔ یہ اسکیم یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2027 تک دو برس کی مدت کے لیے تقریباً 99,446 کروڑ روپے کی لاگت سے نافذ کی جا رہی ہے۔ یکم اگست 2026 کو اس اسکیم کے نفاذ کا ایک سال مکمل ہو رہا ہے، جو رسمی روزگار اور سماجی تحفظ کے دائرے  میں  توسیع کے لیے ہندوستان کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

اس اسکیم کا مقصد 3.5 کروڑ سے زیادہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، جن میں 1.92 کروڑ پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے شامل ہیں۔ یہ اسکیم نوجوانوں کو ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) میں رجسٹریشن کے ذریعے منظم افرادی قوت کا حصہ بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ مختلف شعبوں، خصوصاً محنت پر مبنی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سماجی تحفظ کی کوریج (کے دائرے) کو وسعت دیتی ہے۔ نئی اور توسیع پذیر صنعتوں میں روزگار کے فروغ کے ذریعے یہ اسکیم قومی مینوفیکچرنگ مشن کی تکمیل بھی کرتی ہے۔

ملازمین اور آجروں، دونوں کے لیے فائدہ مند اسکیم

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) دو حصوں پر مشتمل ترغیبی ڈھانچے پر مبنی ہے، جس کے تحت ملازمین اور آجروں دونوں کے لیے الگ الگ مراعات فراہم کی گئی ہیں۔

حصہ اے: پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والوں کے لیے مراعات

  • وہ پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے افراد، جن کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے تک ہو، اس حصے کے تحت مراعات حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
  • ایسے ملازمین کو ایک ماہ کی ای پی ایف تنخواہ کے مساوی یکمشت ترغیبی رقم فراہم کی جاتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 15,000 روپے ہے۔
  • یہ ترغیبی رقم دو قسطوں میں ادا کی جاتی ہے: پہلی قسط چھ ماہ کی مسلسل ملازمت مکمل کرنے کے بعد، جبکہ دوسری قسط مالی خواندگی کے پروگرام کی تکمیل اور بارہ ماہ کی مسلسل ملازمت مکمل ہونے کے بعد ادا کی جاتی ہے۔
  • ترغیبی رقم کا ایک حصہ ایک مخصوص بچت اسکیم میں جمع کیا جاتا ہے تاکہ مالی تحفظ اور بچت کی عادت کو فروغ دیا جا سکے۔ ملازم مقررہ مدت پوری ہونے پر یہ رقم نکال سکتا ہے۔

حصہ ب: آجروں کے لیے مراعات

  • وہ آجر، جو ماہانہ ایک لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والے اہل ملازمین کو روزگار فراہم کرتے ہیں، اس حصے کے تحت مراعات کے مستحق ہیں۔
  • آجروں کو ہر ایسے اضافی اہل ملازم کے لیے، جو کم از کم چھ ماہ تک ملازمت میں برقرار رہے، دو برس تک ہر ماہ 3,000 روپے تک کی ترغیبی رقم فراہم کی جاتی ہے۔
  • یہ مالی معاونت بھرتی کے اخراجات میں کمی لاتی ہے اور پائیدار روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
  • مینوفیکچرنگ شعبے میں روزگار پیدا کرنے کی بلند صلاحیت کے پیشِ نظر، اس شعبے کے لیے یہ مراعات تیسرے اور چوتھے سال تک بھی جاری رکھی گئی ہیں۔

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) کے اثرات

اپنے نفاذ کے پہلے سال کے دوران پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) نے پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور سماجی تحفظ کی کوریج میں توسیع کے ذریعے افرادی قوت کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے کے عمل کو مزید مستحکم کیا ہے۔ یہ اسکیم زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو منظم شعبے میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف صنعتوں میں آجروں کو نئی رسمی ملازمتیں پیدا کرنے کی ترغیب بھی دے رہی ہے۔

  • اگست 2025 سے اب تک 72 لاکھ سے زیادہ پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے افراد رسمی افرادی قوت کا حصہ بن چکے ہیں۔
  • اسکیم سے مستفید ہونے والوں میں تقریباً 30 فیصد خواتین شامل ہیں، جو رسمی روزگار میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔
  • اسکیم کے تحت 15 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کو روزگار سے منسلک ترغیبی رقم فراہم کی جا چکی ہیں۔
  • روزگار کو ای پی ایف او میں رجسٹریشن اور ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) سے مربوط کرتے ہوئے پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) ہندوستان کی منظم لیبر مارکیٹ کو مزید مستحکم کر رہی ہے اور زیادہ محفوظ افرادی قوت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) کا ڈیجیٹل گورننس اور مؤثر نفاذ

پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) شفاف، مؤثر اور جوابدہ عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتی ہے۔ یہ اسکیم استفادہ کنندگان کی بلا رکاوٹ تصدیق، ترغیبی رقوم کی بروقت منتقلی اور حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

  • یہ اسکیم مکمل طور پر ای پی ایف او سے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہے، جو مستحقین کی ہموار تصدیق اور مراعات کی مؤثر تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔
  • اس اسکیم کے تحت آدھار پر مبنی تصدیق، یونیورسل اکاؤنٹ نمبر (یو اے این) اور الیکٹرانک چالان-کم-ریٹرن (ای سی آر) کی باقاعدہ فائلنگ کا نظام اپنایا گیا ہے۔ ترغیبی مراعات صرف اسی صورت میں فراہم کی جاتی ہیں جب یو اے این کی توثیق اُمنگ ایپ پر چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل ہو۔ اس سے ضابطوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کی رسائی کو بھی وسعت ملتی ہے۔
  • ترغیبی رقوم ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے براہِ راست آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہیں، جس سے شفافیت، بروقت ادائیگی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
  • پی ایم-وی بی آر وائی پورٹل اسکیم کے مجموعی نفاذ میں معاونت فراہم کرتا ہے اور مختلف شعبوں میں استفادہ کنندگان کی تعداد اور پیش رفت کی حقیقی وقت میں نگرانی کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے۔

اسکیم اور اس کی مختلف دفعات سے متعلق معلومات ملک بھر میں عوامی بیداری کی وسیع مہمات کے ذریعے عام کی جا رہی ہیں۔ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او)، ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) اور چیف لیبر کمشنر (سی ایل سی) کے عہدیداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں نچلی سطح پر شراکت داری کو فروغ دے کر ان کوششوں کو مؤثر بناتی ہیں۔

ہندوستان کی افرادی قوت کو بااختیار بنانا

جیسے جیسے ہندوستان پائیدار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن ہے، معیاری روزگار بہتر ذریعۂ معاش اور مضبوط معیشت کی تشکیل کا ایک بنیادی ستون بنتا جا رہا ہے۔ پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ترغیب دے کر پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) ملک کے رسمی روزگار کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سماجی تحفظ کے دائرۂ کار کو وسعت دے رہی ہے۔

اس اسکیم کے نفاذ کا پہلا سال مکمل ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت ہندوستان کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور اسے پائیدار اقتصادی ترقی میں تبدیل کرنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔

حوالہ جات

وزارتِ محنت و روزگار

https://pmvbry.epfindia.gov.in/

https://pmvbry.epfindia.gov.in/pmvbry-scheme/

https://pmvbry.epfindia.gov.in/wp-content/themes/epfo-child/assets/images/PMVBRY-Final.pdf

https://sansad.in/getFile/annex/270/AU1536_GzvOyc.pdf?source=pqars

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU1392_4I7wJ2.pdf?source=pqals

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2275419&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2148270&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2275547&reg=48&lang=2

دیگر ذرائع

http://pmindia.gov.in/hi/news_updates/%E0%A4%AA%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A4%A7%E0%A4%BE%E0%A4%A8%E0%A4%AE%E0%A4%82%E0%A4%A4%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A5%80-%E0%A4%B6%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A5%80-%E0%A4%A8%E0%A4%B0%E0%A5%87%E0%A4%A8%E0%A5%8D-1154/

https://www.youtube.com/shorts/UMSneQm7H90

https://www.youtube.com/watch?v=GQt75TsuzBI&list=PLNLJCvbS5aqS4h_BsqW9UboJ2N9a5RGKk&index=11

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

***

 

UR-1096

(ش ح۔اس ک  )

 

(Explainer ID: 159389) आगंतुक पटल : 8
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Malayalam