Farmer's Welfare
سفید سونا: ہندوستان کی کپاس کی کہانی
بیج سے قمیص تک
Posted On:
20 JUL 2026 12:52PM
کپاس ہندوستان کی زرعی اور صنعتی معیشت میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ہندوستان واحد ملک ہے جو کپاس کی چاروں تسلیم شدہ اقسام کی کاشت کرتا ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے عالمی سطح پر پہلے اور پیداوار و کھپت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔ کپاس کی پیداوار 2025-26 (عارضی) میں 290.91 لاکھ گانٹھوں پر رہی۔ اسی عرصے کے دوران گھریلو کھپت 328 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی۔ یہ شعبہ فائبر کی عالمی پیداوار میں تقریباً 19 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔ حالیہ کوششوں نے پیداواریت، معیار، بازار تک رسائی اور قدر میں اضافے پر توجہ دی گئی ہے۔ مارکیٹ میں گراوٹ کے دوران ایم ایس پی آپریشنز قیمتوں میں معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔ کپاس کی پیداوار کے مشن کا مقصد 2031 تک پیداوار کو 498 لاکھ گانٹھوں تک بڑھانا ہے۔ ٹیکنالوجی کے مظاہرے، ڈیجیٹل خریداری اور ٹریس ایبلٹی اقدامات مسابقت کو مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ کوششیں پیداواریت میں اضافہ، معیار میں بہتری اور کپاس کی عالمی معیشت میں ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔
وہ دھاگہ جو لاکھوں لوگوں کو جوڑتا ہے
پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے کھیتوں کا تصور کریں، جہاں چھوٹے سفید پھول آہستہ آہستہ سورج کی روشنی میں ریشے کے نرم بادلوں میں بدل جاتے ہیں۔ ان کھیتوں سے ایک سفر شروع ہوتا ہے، جو کتائی کی ملوں اور ہینڈلوموں سے گزرتا ہوا آخرکار دنیا بھر کی الماریوں تک پہنچتا ہے۔ کپاس محض ایک فصل نہیں، بلکہ ایک ایسا دھاگہ ہے جو زراعت، صنعت اور تجارت کو ایک مسلسل کہانی میں پرو دیتا ہے۔
کپاس ہندوستان میں کاشت کی جانے والی سب سے اہم تجارتی فصلوں میں سے ایک ہے۔ یہ عالمی فائبر پیداوار کا تقریباً 23 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے۔ یہ فصل تقریباً 60 لاکھ کپاس کے کاشتکاروں کی روزی روٹی کا سہارا ہے۔ اس کے علاوہ، کپاس کی پروسیسنگ اور تجارت جیسی متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف مزید 4 سے 5 کروڑ افراد کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ ہے۔ کپڑوں کے علاوہ، کپاس فائبر، سوت، کپڑے اور ملبوسات کی برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ کمانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہندوستان میں اپنی معاشی اہمیت کی وجہ سے اسے "وائٹ گولڈ" (سفید سونا )بھی کہا جاتا ہے۔
ہندوستان کا کپاس کا شعبہ گہرائی اور وسعت، دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کی طاقت حیاتیاتی تنوع، وسیع پیمانے پر کاشت کاری اور ایک مضبوط ٹیکسٹائل ماحولیاتی نظام میں مضمر ہے۔ ایم ایس پی آپریشنز، کپاس کی پیداوار کے لیے مشن، اور کستوری کاٹن بھارت جیسی پالیسی مداخلتیں اس بنیاد کو مضبوط کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کو اپنانا، بازار کی اصلاحات اور معیار میں بہتری کی کوششیں اس شعبے کے مستقبل کی سمت کو مزید متعین کر رہی ہیں۔
سودیشی سے آتم نربھر بھارت تک
کپاس کے ساتھ ہندوستان کا تعلق ہزاروں سال پرانا ہے۔ برصغیر کسی زمانے میں سوتی کپڑوں کا عالمی مرکز تھا، جہاں سے مشرقی اور یورپی منڈیوں میں کپڑوں کی تجارت کی جاتی تھی۔ قدیم زمانے میں سوتی کپڑا تبادلے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا، جو اس کی معاشی اہمیت اور وسیع پیمانے پر قبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
جدید کپاس کی صنعت نے 19ویں صدی میں کولکتہ، ممبئی اور احمد آباد میں ٹیکسٹائل ملوں کے قیام کے ساتھ شکل اختیار کرنا شروع کی۔ احمد آباد نے "مانچسٹر آف انڈیا" کا خطاب حاصل کیا۔ 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں اس صنعت کی توسیع میں تیزی آئی۔ سودیشی تحریک نے برطانوی اشیا کے مقابلے میں سودیشی ملوں کے قیام کو فروغ دیا۔ عالمی جنگوں کے دوران بڑھتی ہوئی عالمی طلب نے گھریلو صنعت کو مزید تقویت دی۔ 20ویں صدی کے وسط تک ملک بھر میں ٹیکسٹائل ملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں آزادی سے قبل سوتی کپڑے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ ہندوستان کی کپاس کی صنعت کے بڑھتے ہوئے پیمانے اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستان کے کپاس کے شعبے کی کئی جہتیں
ہندوستان واحد ملک ہے جو کپاس کی چاروں تسلیم شدہ اقسام کی کاشت کرتا ہے۔ ان میں جی اربوریم اور جی ہربیسیم شامل ہیں، جنہیں عام طور پر ایشیائی کپاس کہا جاتا ہے۔ دوسری اقسام جی بارباڈینس، جسے مصری کپاس کہا جاتا ہے، اور جی ہرسوٹم، جسے امریکی اپ لینڈ کپاس کہا جاتا ہے، ہیں۔ ان میں سے جی ہرسوٹم ہندوستان میں ہائبرڈ کپاس کی پیداوار کا تقریباً 90 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ ملک میں اس وقت کاشت کیے جانے والے تمام بی ٹی کاٹن ہائبرڈ اسی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔
بی ٹی سے مراد بیسیلس تھورنجینسس (Bacillus thuringiensis) ہے، جو قدرتی طور پر مٹی میں پایا جانے والا ایک جرثومہ ہے۔ بی ٹی کپاس ایک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصل ہے، جس میں اس جرثومے کے جین شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ جین بول ورم کے خلاف مزاحمت فراہم کرتے ہیں، جو کپاس کی فصل کو متاثر کرنے والا ایک بڑا کیڑا ہے۔ 2002 میں ہندوستان میں تجارتی طور پر متعارف کرائی جانے والی بی ٹی کپاس نے بول ورم کے حملوں کو نمایاں طور پر کم کیا اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کی ضرورت بھی گھٹا دی۔ زیادہ پیداوار اور کیڑوں پر قابو پانے کے کم اخراجات کے مشترکہ اثرات نے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بعد کاشتکاروں کی آمدنی میں نمایاں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نباتاتی تنوع کے علاوہ، ہندوستان میں کپاس کی درجہ بندی بنیادی طور پر ریشے کی لمبائی کی بنیاد پر بھی کی جاتی ہے۔ ریشے کی یہی لمبائی اس کے معیار اور آخری استعمال کا تعین کرتی ہے۔ ملک کپاس کی تمام اہم اقسام پیدا کرتا ہے۔
|
اہم زمرہ جات
|
اسٹیپل کی لمبائی (ریشے کی لمبائی) (ملی میٹر میں)
|
|
چھوٹے اسٹیپلز
|
20 اور اس سے کم
|
|
درمیانی اسٹیپل
|
20.5 سے 24.5 تک
|
|
درمیانے لمبے اسٹیپل
|
25.0 سے 27.0 تک
|
|
طویل اسٹیپلز
|
27.5 سے 32.0 تک
|
|
اضافی لمبے اسٹیپلز
|
32.5 اور اس سے اوپر
|
کپاس کی کاشت کا جغرافیائی پھیلاؤ

ہندوستان میں کپاس کی پیداوار بڑی حد تک 9 بڑی ریاستوں میں مرکوز ہے، جنہیں 3 الگ الگ زرعی ماحولیاتی علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
- شمالی زون، جس میں پنجاب، ہریانہ اور راجستھان شامل ہیں۔
- وسطی زون، جس میں گجرات، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش شامل ہیں۔
- جنوبی زون، جس میں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک شامل ہیں۔
ان ریاستوں کے علاوہ اوڈیشہ اور تمل ناڈو میں بھی کپاس کی کاشت کی جاتی ہے۔
ہندوستان میں کپاس کا شعبہ رقبہ، پیداوار اور کھپت کے لحاظ سے ایک مضبوط مقام رکھتا ہے
کپاس کی کاشت کے رقبے (ہیکٹر میں) کے لحاظ سے ہندوستان 114.84 لاکھ ہیکٹر کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ 304.08 لاکھ ہیکٹر کے عالمی کپاس کے رقبے کا تقریباً 38 فیصد ہے۔ ملک کی کپاس کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ بارش پر منحصر ہے، جس میں تقریباً 62 فیصد فصل بارش پر منحصر علاقوں میں اگائی جاتی ہے، جبکہ باقی 38 فیصد کی کاشت آبپاشی کے تحت کی جاتی ہے۔
کپاس کی پیداوار اور کھپت، دونوں میں ہندوستان عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ اس کی کاشت کے وسیع رقبے اور اس کی مضبوط ٹیکسٹائل صنعت کی عکاسی کرتا ہے۔ کپاس کی پیداوار عام طور پر گانٹھوں میں رپورٹ کی جاتی ہے، جو کپاس کی تجارت میں استعمال ہونے والی معیاری اکائی ہے۔ ایک گانٹھ 170 کلوگرام کے برابر ہوتی ہے۔ کپاس کے 2024-25 کے سیزن کے دوران پیداوار 297.24 لاکھ گانٹھیں (5.06 ملین ٹن) رہی، جو عالمی کپاس کی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے۔
2025-26 (عارضی) کے لیے کپاس کی پیداوار 290.91 لاکھ گانٹھوں (4.95 ملین ٹن) رہی۔ مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای)، نان-ایم ایس ایم ای، اور نان ٹیکسٹائل سیگمنٹ سمیت گھریلو کھپت 328 لاکھ گانٹھوں (5.58 ملین ٹن) رہی۔ یہ اعداد و شمار کپاس کی عالمی معیشت میں ہندوستان کی نمایاں پوزیشن کی عکاسی کرتے ہیں۔

کپاس کی برآمدات اور ہندوستان کا تجارتی اثر و رسوخ
کپاس کی عالمی تجارت میں ہندوستان کی مضبوط موجودگی برقرار ہے۔ 2024-25 میں ملک نے تخمینہً 18 لاکھ گانٹھوں کی برآمد کی، جو 0.31 ملین میٹرک ٹن کے برابر ہے۔ یہ کل عالمی برآمدات کا تقریباً 3.37 فیصد ہے، جو 541.69 لاکھ گانٹھیں (9.21 ملین میٹرک ٹن) ہیں۔ یہ کپاس کی بین الاقوامی منڈی میں ایک اہم برآمد کنندہ کے طور پر ہندوستان کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، ہندوستان کئی بڑی عالمی منڈیوں کو کپاس برآمد کرتا ہے، جو مضبوط اور متنوع بین الاقوامی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ قیمت کے لحاظ سے کپاس کی برآمدات مالی سال 2024-25 میں 11.49 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ ہندوستانی کپاس کے کپڑوں اور میڈ اَپس کی برآمدات کے لیے سب سے بڑی منزل کے طور پر ابھرا، جہاں کل برآمدات کا 26.35 فیصد گیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش 19.81 فیصد اور سری لنکا 5.11 فیصد کے ساتھ رہے۔ دیگر اہم منازل میں برطانیہ کا حصہ 2.38 فیصد اور متحدہ عرب امارات کا حصہ 2.32 فیصد تھا۔

یہ برآمدی رجحانات ہندوستانی کپاس کی متنوع عالمی طلب کو اجاگر کرتے ہیں اور ملک کی زرعی و ٹیکسٹائل معیشت میں اس کی اہمیت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
مسابقتی کپاس کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر
ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی نے کپاس کے شعبے کی ترقی کو آگے بڑھایا ہے۔ کلیدی ترجیحات میں قیمتوں کی معاونت، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، ٹیکنالوجی کو اپنانا اور مارکیٹ کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔ کسانوں کی آمدنی کے تحفظ اور ہندوستانی کپاس کی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے کئی ہدفی اقدامات کیے گئے ہیں، جیسا کہ ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔
کم از کم سپورٹ پرائس آپریشن
کپاس کی کاشت کو برقرار رکھنے کے لیے مستحکم منافع ضروری ہے۔ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا نظام کپاس کے کاشتکاروں کے لیے ایک اہم حفاظتی انتظام کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ اس وقت منافع بخش قیمتوں کو یقینی بناتا ہے جب بازار کی قیمتیں اعلان کردہ امدادی سطح سے نیچے گر جاتی ہیں۔ ہر کپاسی سال (اکتوبر تا ستمبر) سے پہلے ایم ایس پی کی سفارش زرعی لاگت و قیمتوں کے کمیشن (سی اے سی پی) کی جانب سے کی جاتی ہے۔ اس کا اعلان درمیانے ریشے (میڈیم اسٹیپل) اور لمبے ریشے (لانگ اسٹیپل) والی کپاس کی اقسام کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسانوں کو پیداواری لاگت پر کم از کم 50 فیصد منافع حاصل ہو۔
کپاس کے ایم ایس پی آپریشنز اور سی سی آئی کا کردار
حکومت نے کپاس کی خریداری کے لیے ایم ایس پی آپریشنز انجام دینے کی ذمہ داری کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) کو سونپی ہے۔ یہ اس وقت مداخلت کرتی ہے جب کپاس کے بیج (کپاس) کی قیمتیں ایم ایس پی کی سطح سے نیچے آ جاتی ہیں۔ مرکزی نوڈل خریداری ایجنسی کے طور پر سی سی آئی نے اپنے آپریشنل نیٹ ورک کو مسلسل وسعت دی ہے۔ خریداری مراکز کی تعداد 2024-25 میں 508 سے بڑھ کر 2025-26 میں 571 ہو گئی۔ یہ مراکز کپاس پیدا کرنے والی 11 ریاستوں کے 152 اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں۔
ایم ایس پی کے ذریعے کپاس کے کاشتکاروں کو مضبوط بنانا

2025-26 کے لیے کپاس کی ایم ایس پی درمیانے ریشے والی کپاس کے لیے 7,710 روپے فی کوئنٹل اور لمبے ریشے والی کپاس کے لیے 8,110 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی تھی۔ 2026-27 کے لیے اس میں اضافہ کرتے ہوئے درمیانے ریشے والی کپاس کی ایم ایس پی 8,267 روپے فی کوئنٹل اور لمبے ریشے والی کپاس کی ایم ایس پی 8,667 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی۔ اس طرح دونوں اقسام کے لیے 557 روپے فی کوئنٹل کا اضافہ کیا گیا۔
کپاس کے سیزن 2025-26 کے دوران کاٹن کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (سی سی آئی) نے ایم ایس پی آپریشنز کے تحت کپاس کے کاشتکاروں سے 24 لاکھ خریداری کے لین دین کے ذریعے 105.09 لاکھ گانٹھوں کی خریداری کی، جس کی مالیت 41,530 کروڑ روپے رہی۔

کپاس کی پیداوار کے لیے مشن
کپاس کے شعبے میں پائیدار ترقی کا انحصار نہ صرف منافع بخش قیمتوں پر بلکہ اعلیٰ پیداواریت پر بھی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ملک بھر میں کپاس کی پیداوار کو مضبوط بنانے کی غرض سے 2025-26 میں کپاس کی پیداوار کے لیے پانچ سالہ مشن شروع کیا گیا۔
5,659.22 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیے گئے اس مشن میں تحقیق، اختراع اور فیلڈ سطح پر توسیعی معاونت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کا مقصد آب و ہوا کے مطابق ڈھلنے والی، کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور زیادہ پیداوار دینے والی کپاس کی اقسام تیار کرنا ہے۔ ایکسٹرا لانگ اسٹیپل (ای ایل ایس) کپاس پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ ان کوششوں کو جدید افزائشِ نسل اور بایوٹیکنالوجی کے آلات کی مدد حاصل ہوگی۔
فارم(زراعت)، فائبر(ریشہ)، فیکٹری(کارخانہ)، فیشن اور فارن (غیر ملکی یا بیرونی منڈیوں )کے '5 ایف' وژن سے ہم آہنگ اس پہل کا مقصد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور معیاری کپاس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ مشن کپاس پیدا کرنے والی 14 ریاستوں کے 140 اضلاع میں تقریباً 24 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کرے گا، جس سے تقریباً 32 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ مشن نے آئندہ برسوں کے لیے پیداواری اہداف بھی مقرر کیے ہیں۔ اس کے تحت 2031 تک کپاس کی پیداوار کو 297 لاکھ گانٹھوں سے بڑھا کر 498 لاکھ گانٹھوں تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ زیادہ پیداواریت سے ملک میں کپاس کی دستیابی بہتر ہونے، درآمدات پر انحصار کم ہونے اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو تقویت ملنے کی امید ہے۔
نیشنل فوڈ سیکیورٹی مشن کے تحت کپاس پر خصوصی پروجیکٹ
کپاس کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے میں زمینی سطح کے مظاہرے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 2023-24 سے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مشن (این ایف ایس ایم) کے تحت کپاس پر ایک خصوصی پروجیکٹ نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ مختلف زرعی ماحولیاتی علاقوں کے لیے موزوں ٹیکنالوجیز کے بڑے پیمانے پر مظاہروں پر مرکوز ہے۔ اس میں ملک بھر کی کپاس پیدا کرنے والی 8 بڑی ریاستیں شامل ہیں۔ یہ پائلٹ مداخلت تین اہم ٹیکنالوجیز پر مرکوز ہے، جن میں ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم، کلوزر اسپیسنگ پلانٹنگ سسٹم اور ایکسٹرا لانگ اسٹیپل (ای ایل ایس) کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ اس کا مقصد پیداواریت، فائبر کے معیار اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لانا ہے۔

2023-24 میں 41.87 کروڑ روپے کی لاگت سے 9,175 ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا۔ 2024-25 کے دوران 50.98 کروڑ روپے کی لاگت سے تقریباً 14,740 ہیکٹر رقبے کو معاونت فراہم کی گئی۔ فیلڈ مظاہروں میں ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم (ایچ ڈی پی ایس) کے تحت تقریباً 40 فیصد اور کلوزر اسپیسنگ پلانٹنگ سسٹم کے تحت 32 فیصد سے زیادہ پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان نتائج سے حوصلہ افزائی حاصل کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو 2025-26 تک توسیع دی گئی، جس کی کل لاگت 60.32 کروڑ روپے رکھی گئی، جس میں واجب الادا ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔ یہ حوصلہ افزا فیلڈ سطح کے نتائج کپاس کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی پر ہدفی ٹیکنالوجی مداخلتوں کے مثبت اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
کپاس پر خصوصی پروجیکٹ کی کامیابی کی کہانیاں
راجکوٹ میں ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم سے کپاس کی پیداوار میں بہتری

گجرات کے راجکوٹ میں کسانوں کے ذریعے اپنایا گیا ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم
گجرات کے راجکوٹ ضلع کے کپاس کے کاشتکار جناب ونود بھائی ورجی بھائی وڈودریا نے کپاس سے متعلق خصوصی پروجیکٹ کے تحت ہائی ڈینسٹی پلانٹنگ سسٹم کو اپنایا۔ انہوں نے پودوں کے درمیان 90 سینٹی میٹر × 15 سینٹی میٹر کے فاصلے پر کپاس کی کاشت کی۔ اس سے ان کے پہلے کے 135 سینٹی میٹر × 45 سینٹی میٹر کے فاصلے کے مقابلے میں فی ایکڑ پودوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس طریقے سے کپاس کی پیداوار 15 کوئنٹل فی ایکڑ تک بڑھ گئی ، جو روایتی طریقۂ کاشت کے مقابلے میں تقریباً 30 تا 35 فیصد زیادہ ہے۔ ابتدائی کٹائی نے گلابی سنڈی (بول ورم )سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں بھی مدد دی۔ ان فوائد سے زرعی آمدنی میں بہتری آئی اور پڑوسی کسانوں کو بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی ترغیب ملی۔
قریبی فاصلے پر کاشت نے جلگاؤں میں کپاس کی پیداواری صلاحیت کو تبدیل کر دیا

مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع میں کپاس کی قریبی فاصلے پر کاشت
مہاراشٹر کے جلگاؤں ضلع کے کپاس کے کاشتکار جناب بھاسکر تاپیرام چودھری نے کپاس سے متعلق خصوصی پروجیکٹ کے تحت 90 سینٹی میٹر × 30 سینٹی میٹر کے قریبی فاصلے پر کاشت کا طریقہ اپنایا۔ فصلوں کے بہتر انتظام، تجویز کردہ کھادوں کے استعمال، اور مربوط انسدادِ کیڑہ و غذائی اجزاء کے انتظام کو بھی اختیار کیا گیا۔ اس کوشش کی وجہ سے خشک موسمی حالات میں بھی فصل کی نشوونما کو مضبوط بنایا۔ اس مظاہرے میں کسانوں کے روایتی طریقۂ کاشت کے تحت 8 کوئنٹل فی ایکڑ کے مقابلے میں 11 کوئنٹل فی ایکڑ پیداوار ریکارڈ کی گئی، جو 37.5 فیصد اضافے کے ساتھ مجموعی منافع میں بھی بہتری کا سبب بنی۔
کپاس کسان ایپ
کپاس کی خریداری کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ کپاس کسان موبائل ایپلی کیشن ایم ایس پی نظام کے تحت خریداری کو ہموار بنانے اور کسانوں کو اس عمل کے مرکز میں رکھنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ پلیٹ فارم کپاس کے کاشتکاروں کو چار ہفتوں کی بنیاد پر خود رجسٹریشن مکمل کرنے اور خریداری کے لیے سلاٹ بک کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے انتظار کا وقت نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور خریداری مراکز پر طویل قطاریں ختم ہو گئی ہیں۔
اب تک 41 لاکھ سے زیادہ کسانوں کے اندراج کے ساتھ اس ایپلی کیشن نے ایم ایس پی آپریشنز میں شفافیت اور کارکردگی کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ پیشگی سلاٹ بکنگ، آدھار سے منسلک ادائیگیوں اور حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں ایس ایم ایس اپ ڈیٹس کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ سہولیات رجسٹریشن اور خریداری سے لے کر حتمی ادائیگی تک ہر مرحلے پر دستیاب ہیں۔ اس عمل کو ڈیجیٹل بنا کر اس ایپ نے کپاس کی خریداری کو کاغذ سے پاک اور کسان دوست نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔
ہندوستانی کپاس کی برانڈنگ — کستوری کاٹن بھارت
کستوری کاٹن بھارت حکومت کی ایک فلیگ شپ پہل ہے۔ اس کا مقصد ٹریس ایبلٹی، سرٹیفیکیشن اور برانڈنگ کے ذریعے ہندوستانی کپاس کی قدر اور عالمی سطح پر اس کی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ پروگرام وزارتِ ٹیکسٹائل، کاٹن کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ اور کاٹن ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پروموشن کونسل (ٹی ای ایکس پی آر او سی آئی ایل) کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 30 کروڑ روپے ہے، جس میں 15 کروڑ روپے تجارتی و صنعتی اداروں کی جانب سے اور اتنی ہی رقم وزارتِ ٹیکسٹائل کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔

اہم جھلکیاں
- کستوری کاٹن بھارت کی ویب سائٹ (https://www.kasturicotton.com/) کو معلومات، تازہ ترین اپ ڈیٹس اور جنر رجسٹریشن کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر شروع کیا گیا ہے۔ یہ ان منفرد طریقۂ کار کو بھی اجاگر کرتی ہے جو کستوری کاٹن بھارت کو ممتاز بناتے ہیں۔
- 41 جنرز اور 75 سپلائی چین کے اراکین سمیت 116 یونٹس نے اپنی رجسٹریشن کی تجدید کرائی ہے۔
- 30 جون 2026 تک 3,29,550 گانٹھوں کی تصدیق کی جا چکی ہے، جن میں سی سی آئی کی 3,22,400 گانٹھیں بھی شامل ہیں۔
- سرٹیفیکیشن میں 28 ملی میٹر یا اس سے زیادہ لمبائی والی لانگ اسٹیپل کپاس اور 35 ملی میٹر یا اس سے زیادہ لمبائی والی ایکسٹرا لانگ اسٹیپل (ای ایل ایس) کپاس شامل ہے۔ ان اقسام کی جانچ نیشنل ایکریڈیشن بورڈ فار ٹیسٹنگ اینڈ کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) سے تسلیم شدہ ایجنسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- کیو آر کوڈ پر مبنی سرٹیفیکیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی آغاز سے اختتام تک (اینڈ ٹو اینڈ) ٹریس ایبلٹی کو یقینی بناتی ہے۔
مزید اقدامات، جیسے کستوری گاؤں، بیداری ورکشاپس، برانڈنگ، ٹریس ایبلٹی اور پائیداری کے طریقے، اس پروگرام کو مزید مضبوط بناتے ہیں، اور ہندوستانی کپاس کو پاکیزگی، معیار اور پائیداری کی عالمی علامت کے طور پر قائم کرتے ہیں۔
کرگھے سے آگے: کپاس کے ہمہ جہت استعمال
کپاس کپڑوں کے لیے ریشے کا ذریعہ ہونے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ فصل متعدد قیمتی ضمنی مصنوعات بھی فراہم کرتی ہے، جو خوراک، چارے اور دیہی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ خام کپاس کا بیج تقریباً ایک تہائی لنٹ اور دو تہائی بیج پر مشتمل ہوتا ہے۔ بیج میں تقریباً 18 فیصد خوردنی تیل ہوتا ہے، جبکہ باقی ماندہ کھل بڑے پیمانے پر مویشیوں، مرغیوں اور مچھلیوں کے لیے غذائیت سے بھرپور چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔
کپاس کے بیج کے تیل کو اکثر "ہارٹ آئل" کہا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً 50 فیصد ضروری پولی اَن سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈ ہوتے ہیں، جبکہ بہت سے روایتی خوردنی تیلوں میں یہ مقدار تقریباً 30 فیصد ہوتی ہے۔ اس کی یہ ساخت دل کی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔ تیل نکالنے کے بعد باقی ماندہ مواد کو جانوروں کے چارے کے لیے ڈی آئلڈ کیک میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ دیگر ضمنی مصنوعات میں لنٹر اور ہل شامل ہیں، جبکہ خشک کپاس کے ڈنٹھل دیہی علاقوں میں بایو ماس ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
کپاس کے ریشوں کے طبی استعمال بھی ہیں۔ کتائی کے لیے غیر موزوں مختصر اسٹیپل ریشوں کو جاذب یا جراحی کپاس میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ان کا استعمال ان کی اعلیٰ جاذبیت اور پاکیزگی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
یہ متنوع استعمال غذائیت، مویشی پالنے، صنعت اور صحت کی دیکھ بھال میں کپاس کے کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کی وسیع افادیت زرعی معیشت اور روزمرہ زندگی میں اس فصل کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
تسلسل اور تبدیلی کے دھاگے
ہندوستان کی کپاس کی کہانی تسلسل اور تبدیلی کی کہانی ہے۔ صدیوں پر محیط کاشت کاری اور تجارت کی روایت رکھنے والا یہ شعبہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت اور ہدفی پالیسی معاونت کے ذریعے مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ پیداواریت میں بہتری، کسانوں کی آمدنی کو مستحکم بنانے، خریداری کے نظام کو جدید بنانے اور عالمی مسابقت میں اضافہ کرنے کی کوششیں کپاس کے ایک زیادہ مضبوط اور لچکدار ماحولیاتی نظام کی تشکیل کر رہی ہیں۔ کھیت سے لے کر عالمی بازار تک، کپاس ہندوستان کے زرعی اور صنعتی منظرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ جیسے جیسے نئے اقدامات معیار، پائیداری اور قدر میں اضافے کو فروغ دے رہے ہیں، یہ شعبہ آئندہ برسوں میں روزگار، صنعت اور معاشی ترقی کو مزید تقویت دینے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود
https://seednet.gov.in/cms/home/readyreckoner/Seed_4/19_Cotton_Seeds_Price_Control_Order_2015.PDF
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2042234®=3&lang=2
https://ecotton.dac.gov.in/HomeController/about_project
https://ecotton.dac.gov.in/high-density-planting-system
https://ecotton.dac.gov.in/closer-spacing-planting-system
https://ecotton.dac.gov.in/extra-long-staple
https://cotton.dac.gov.in/circular.aspx
https://cotton.dac.gov.in/Mis/Docs/636990420200358183-d6fe6a24-6bfd-463f-b1e3-f3505913aa8822.1._Publication-Status_Paper_of_Indian_Cotton-compressed.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258187®=3&lang=1
وزارتِ ٹیکسٹائل
https://www.texmin.gov.in/static/uploads/2025/07/db767d1d1501e27672906cd8c320c5f4.pdf
https://cotcorp.org.in/faq
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2227424®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2099411®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2146756®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2217001®=1&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241807®=3&lang=2#:~:text=In%20a%20significant%20step%20towards,of%20India%20(CCI)%20for%20the
https://www.texmin.gov.in/static/uploads/2026/05/5c48e80d2180ca3194b9e9b01340696d.pdf
وزارتِ ثقافت
https://www.indianculture.gov.in/digital-district-repository/district-repository/establishment-swadeshi-mill-or-model-mill-1890
وزارتِ تجارت و صنعت
https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/cotton-textile-industry-india
https://www.ibef.org/exports/cotton-industry-india
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
UR-163
(ش ح۔اس ک )
(Explainer ID: 159284)
आगंतुक पटल : 13
Provide suggestions / comments