Technology
بھارت کی بحری حدود کے محافظ
جنگی کارروائیوں، سروے اور ساحلی دفاع سے متعلق مقامی بحری جہازوں کے تین زمرے
Posted On:
13 JUL 2026 11:10AM
بھارت کی بحری طاقت کا انحصار ایک متوازن بحری بیڑے پر ہے، جو بحری کارروائیوں کے تمام شعبوں میں قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ نیل گری، سندھیاک اور ارنالا کلاسز اس صلاحیت کے تین اہم ستونوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حال ہی میں شامل کیے گئے آئی این ایس دُناگیری، آئی این ایس سنشودھک اور آئی این ایس اگَرے ان مقامی جنگی جہازوں کی کلاسز کی مسلسل توسیع کو ظاہر کرتے ہیں۔ آئی این ایس مہندرگیری نے بھی اس صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔اعلیٰ درجے کے مقامی اجزا کے ساتھ تیار کیے گئے یہ بحری پلیٹ فارم آتم نربھر بھارت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں اور بھارت کے دفاعی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ بحری جہاز سمندری سلامتی کو فروغ دیتے ہیں، نیلی معیشت) بلیو اکانومی( کی حمایت کرتے ہیں اور بھارت کے ایک سرکردہ بحری طاقت کے طور پر مقام کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
بھارت کی کثیر سطحی بحری صلاحیت
بھارتی بحریہ بحر ہند کے خطے میں ایک اہم سلامتی فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ تقریباً 11,098 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، قریباً 24 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط خصوصی اقتصادی زون اور ان سمندری راستوں کی حفاظت کرتی ہے جن کے ذریعے بھارت کی تقریباً 90 فیصد تجارت حجم کے اعتبار سے انجام پاتی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ایک متوازن بحری بیڑے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں جنگی جہازوں کی ہر قسم بحری سلامتی کی ایک مخصوص سطح کو مضبوط بنانے میں اپنا منفرد کردار ادا کرتی ہے۔ بھارت میں صرف ایک ماہ کے اندر شامل کیے گئے چار نئی نسل کے مقامی طور پر تیار کردہ بحری پلیٹ فارمز اب اس تہہ دار بحری سلامتی کے تصور کو عملی شکل دے رہے ہیں۔
سمندر کی سطح پر دشمن کو روکنے اور جنگی کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت اس بحری ڈھانچے کا اولین حصہ ہے۔ اس شعبے میں جدید ترین نیل گری کلاس کے اسٹیلتھ فریگیٹس شامل ہیں، جو پروجیکٹ 17 اے کے تحت تیار کیے گئے ہیں اور اعلیٰ شدت کی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ان کے کم ریڈار، حرارتی اور صوتی دستخط جنگی حالات میں ان کی بقا اور مؤثریت کو بہتر بناتے ہیں۔
بحری طاقت کا انحصار سمندروں کی گہری معلومات اور بہتر سمجھ بوجھ پر بھی ہوتا ہے۔ سندھیاک کلاس کے بڑے سروے جہاز بھارت کی ہائیڈروگرافک صلاحیت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ یہ سمندر کی تہہ کا نقشہ تیار کرتے ہیں، سمندری معلومات جمع کرتے ہیں اور محفوظ جہاز رانی کے لیے درست بحری نقشے تیار کرتے ہیں۔ یہ کام بحری کارروائیوں، سمندری تجارت اور نیلی معیشت کی مدد کرتا ہے، جبکہ بحرِ ہند کے خطے میں ایک قابلِ اعتماد ہائیڈروگرافک شراکت دار کے طور پر بھارت کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
ساحلی علاقوں کے قریب دفاع کی اگلی سطح آبدوز شکن جنگی صلاحیت پر مشتمل ہے۔ ارنالا کلاس کے آبدوز شکن جنگی کم گہرے پانیوں میں چلنے والے جہاز ساحلی پانیوں میں آبدوزوں کا سراغ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کے علاوہ یہ تینوں کلاسز انسانی امداد، آفات سے نمٹنے اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ بھارت کے مقامی بحری جہاز سازی کے پروگراموں کی کامیابی کی علامت ہیں۔ ان کی مسلسل پیداوار میں پیش رفت بحری سلامتی کو مضبوط بناتی ہے، آتم نربھر بھارت کے عزم کو آگے بڑھاتی ہے اور اس بات کا مظہر ہے کہ بھارت اپنے جنگی جہاز خود ڈیزائن کرنے اور تیار کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت رکھتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
اکیس جون 2026 کو کولکاتا میں تین مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے بحری پلیٹ فارم بیک وقت بحریہ میں شامل کیے گئے: آئی این ایس دُناگیری، جو نیل گری کلاس کا اسٹیلتھ فریگیٹ ہے؛ آئی این ایس سنشودھک، جو سندھیاک کلاس کا بڑا سروے جہاز ہے؛ اور آئی این ایس اگَرے، جو ارنالا کلاس کا آبدوز شکن جنگی کم گہرے پانیوں میں چلنے والا جہاز ہے۔ ان تینوں بحری جہازوں کو بھارتی بحریہ کے اپنے وار شپ ڈیزائن بیورو نے ڈیزائن کیا اور کولکاتا میں واقع دفاعی شعبے کے سرکاری ادارے گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ (جی آر ایس ای) نے تیار کیا۔
گیارہ جولائی 2026 کو وشاکھاپٹنم میں مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے نیل گری کلاس کے چھٹے اسٹیلتھ فریگیٹ آئی این ایس مہندرگیری کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا۔
اسٹیلتھ فریگیٹس: سطحی بحری طاقت کی جدید ترین صلاحیت
اسٹیلتھ فریگیٹس بھارتی بحریہ کی سطحی جنگی صلاحیت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ طیارہ بردار جہازوں کی حفاظت کرتے ہیں، اہم سمندری راستوں کو محفوظ بناتے ہیں اور دور دراز سمندری علاقوں میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ جدید بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق تیار کیے گئے یہ فریگیٹس جدید ہتھیاروں، سینسرز اور ہوابازی کی سہولیات سے لیس ہیں، جبکہ بہتر اسٹیلتھ صلاحیت کے لیے ریڈار، انفراریڈ (تھرمل) اور صوتی دستخطوں کو کم سے کم رکھنے پر توجہ دی گئی ہے۔یہ خصوصیات انہیں دشمن کی نظروں سے بچنے میں مدد دیتی ہیں، جس کے باعث یہ جارحانہ اور دفاعی دونوں طرح کی کارروائیاں مؤثر انداز میں انجام دینے کے قابل ہوتے ہیں۔

اس صلاحیت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، پروجیکٹ 17 اے مقامی طور پر تیار کیے گئے جدید ترین اسٹیلتھ فریگیٹس کی نمائندگی کرتا ہے۔ نیل گری کلاس میں آئی این ایس نیل گری، آئی این ایس ہِم گری، آئی این ایس تارگیری، آئی این ایس اُدیگیری، آئی این ایس دُناگیری، آئی این ایس مہندرگیری اور زیرتعمیر وِندھی گیری شامل ہیں۔ممبئی میں واقع مزاگون ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ نے ان میں سے چار بحری جہاز تیار کیے ہیں، جبکہ کولکاتا میں واقع گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ تین جہاز تیار کر رہا ہے۔ اس کلاس میں شامل جدید ترین بحری جہازوں میں پانچواں جہاز آئی این ایس دُناگیری حال ہی میں بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا، جبکہ اس کلاس کا چھٹا جہاز آئی این ایس مہندرگیری 11 جولائی 2026 کو وشاکھاپٹنم میں بحریہ میں شامل کیا گیا۔یہ جنگی جہاز بھارت کی بحری سلامتی کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور بحرہند میں اس کی موجودگی کو مستحکم کرتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
پروجیکٹ 17 اے بھارتی بحریہ کا جدید اسٹیلتھ فریگیٹ پروگرام ہے، جس کے تحت اگلی نسل کے سات گائیڈڈ میزائل جنگی جہاز تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ فریگیٹس متعدد نوعیت کی کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، جن میں طیارہ شکن جنگ، سطحی اہداف کے خلاف کارروائیاں اور آبدوز شکن جنگ شامل ہیں۔پروجیکٹ 17 اے خود انحصار جنگی جہازوں کے ڈیزائن اور تیاری کے شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
پروجیکٹ 17 اے نیل گری کلاس اسٹیلتھ فریگیٹس کی اہم خصوصیات
سائز: تقریباً 149 میٹر طویل، جن کا پانی میں وزن (ڈسپلیسمنٹ) تقریباً 6,670 ٹن ہے۔ ڈسپلیسمنٹ سے مراد جہاز کی جانب سے ہٹائے گئے پانی کے وزن کے برابر جہاز کا وزن ہوتا ہے۔
نظامِ حرکت: کمبائنڈ ڈیزل یا گیس (سی او ڈی او جی) نظام، یعنی ایسا نظام جس میں ڈیزل انجن اور گیس ٹربائن کو یکجا کرکے زیادہ فاصلے تک سفر اور تیز رفتاری حاصل کی جاتی ہے۔
رفتار: زیادہ سے زیادہ رفتار 28 ناٹ ہے۔ ایک ناٹ تقریباً 1.85 کلومیٹر فی گھنٹہ کے برابر ہوتا ہے۔
حملہ کرنے کی صلاحیت: سپر سونک سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائل، جو دور موجود بحری جہازوں اور ساحلی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فضائی دفاع: یہ فریگیٹس جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں، جن میں براہموس میزائل، درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی میزائل اور قریب سے دفاع کرنے والی توپیں شامل ہیں، جو طیاروں اور آنے والے میزائلوں کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔
سینسرز اور فضائی صلاحیت: جدید ریڈار، جہاز کے نچلے حصے میں نصب سونار اور ہیلی کاپٹر سے لیس ہیں۔ سونار آواز کی لہروں کے ذریعے پانی کے اندر موجود آبدوزوں کا سراغ لگانے کا کام کرتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
پروجیکٹ 17 اے فریگیٹس کے علاوہ بھارتی بحریہ کے پاس اسٹیلتھ بحری جہازوں کی مزید دو کلاسز بھی ہیں، جن کے نام تلور کلاس اور شیوالک کلاس ہیں۔ تلور کلاس (پروجیکٹ 1135.6/11356) کو روس میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا، یہ وہ دور تھا جب بھارتی بحریہ اپنے اہم جنگی جہاز بیرونِ ملک سے حاصل کرتی تھی۔یہ صورتحال شیوالک کلاس (پروجیکٹ 17) کے ساتھ تبدیل ہوئی، جو بھارت کا پہلا مقامی طور پر ڈیزائن کیا گیا اسٹیلتھ فریگیٹ تھا۔ اسے بھارتی بحریہ کے اپنے وار شپ ڈیزائن بیورو نے تیار کیا اور ممبئی میں واقع مزاگون ڈاک شپ بلڈرز نے تعمیر کیا۔پروجیکٹ 17 اے (نیل گری کلاس) اسی ورثے کو مزید آگے بڑھاتا ہے، جس میں بہتر سینسرز، جدید ہتھیار اور کہیں زیادہ مقامی اجزا شامل ہیں۔ یہ آتم نربھر بھارت کے وژن کے تحت بھارتی بحریہ کے ایک خریدار بحریہ سے خود جہاز تیار کرنے والی بحریہ کی جانب سفر کی عکاسی کرتا ہے۔
اسٹیلتھ حقیقت میں کیسے کام کرتا ہے؟

اسٹیلتھ ٹیکنالوجی جنگی جہاز کو دشمن کے لیے تلاش کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ یہ جہاز کو غائب نہیں کرتی بلکہ اسے حقیقی حجم کے مقابلے میں ریڈار پر بہت چھوٹا اور کم نمایاں ظاہر کرتی ہے اور اس کی آواز کو بھی کم کرتی ہے۔ جنگی جہاز چند اہم طریقوں سے یہ صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زاویہ دار سطحیں دشمن کی ریڈار لہروں کو واپس منعکس کرنے کے بجائے دوسری سمت موڑ دیتی ہیں، جبکہ خصوصی کوٹنگز ریڈار سگنلز کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے ان کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔
سروے جہاز: سلامتی اور خوشحالی کے لیے سمندروں کی نقشہ سازی
سروے جہاز سمندر کی تہہ اور ساحلی پانیوں کی نقشہ سازی کے ذریعے بھارتی بحریہ کی ہائیڈروگرافک صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ درست بحری نقشے جنگی جہازوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ جہاز رانی کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے ذریعے نیلی معیشت کی ترقی میں بھی مدد کرتے ہیں۔ یہ جہاز باقاعدگی سے انسانی امداد، آفات سے نمٹنے اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔

اس اہم صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے بھارتی بحریہ مقامی طور پر تیار کیے گئے سندھیاک کلاس کے سروے جہازوں کو شامل کر رہی ہے۔ اس کلاس میں آئی این ایس سندھیاک، آئی این ایس نردیشک، آئی این ایس ایکشک اور آئی این ایس سنشودھک شامل ہیں۔ یہ جہاز کولکاتا میں واقع گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔آئی این ایس سنشودھک کو حال ہی میں اس کلاس کے چوتھے اور آخری جہاز کے طور پر بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا۔ یہ جہاز بھارت کی بحری حدود سے متعلق معلوماتی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں اور بحرِ ہند کے خطے میں ہائیڈروگرافک تعاون کے شعبے میں بھارت کی قیادت کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
سندھیاک کلاس سروے جہازوں کی اہم خصوصیات
سائز: تقریباً 110 میٹر طویل، جن کا پانی میں وزن (ڈسپلیسمنٹ) تقریباً 3,400 ٹن ہے۔
رفتار اور حدِ سفر: یہ جہاز 18 ناٹ سے زیادہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتے ہیں اور ان کی عملیاتی حدِ سفر 6,500 بحری میل ہے۔ یہ جہاز بحرِ ہند اور اس سے آگے طویل فاصلے کی مہمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عملہ: ان جہازوں پر تقریباً 178 اہلکاروں کا عملہ تعینات ہوتا ہے۔
سروے نظام: ملٹی بیم ایکو ساؤنڈرز، سائیڈ اسکین سونار اور خودکار زیرِ آب گاڑیاں (اے یو وی) سے لیس ہیں، جو سمندر کی تہہ کی تفصیلی نقشہ سازی میں مدد دیتی ہیں۔
ثانوی کردار: یہ ہیلی کاپٹر چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہنگامی حالات میں اسپتال جہاز کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔
ہائیڈروگرافک خدمات: بھارت کے ہائیڈروگرافرز نے 2019 سے 2024 کے دوران 89,000 مربع کلومیٹر سمندری علاقے کا سروے کیا اور 96 بحری نقشے تیار کیے، جن سے کئی دوست ممالک کو بھی مدد ملی۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
21 جون کو دنیا بھر میں عالمی ہائیڈروگرافی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آئی این ایس سنشودھک، بھارت کا جدید ترین سروے جہازبھی اسی دن بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا۔
کم گہرے پانی میں آبدوز شکن جہاز:ساحلی علاقوں کے محافظ
آبدوز شکن جنگی کم گہرے پانیوں میں چلنے والے جہاز بھارتی بحریہ کی ساحلی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ ساحل کے قریب کم گہرے پانیوں میں سرگرم آبدوزوں کا سراغ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بڑے جنگی جہاز ان علاقوں میں مؤثر انداز میں نقل و حرکت نہیں کر سکتے، اس لیے یہ تیز رفتار اور پھرتیلے جہاز انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ جہاز انسانی امداد، آفات سے نمٹنے اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیوں میں بھی معاونت فراہم کرتے ہیں۔

سمندری سلامتی کی اس اہم سطح کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھارتی بحریہ مقامی طور پر تیار کیے گئے ارنالا کلاس کے جہازوں کو شامل کر رہی ہے۔ آٹھ جہازوں پر مشتمل اس کلاس میں ارنالا، اندروتھ، انجادیپ، امینی، ابھیے، اگَرے، اکشے اور اجے شامل ہیں۔یہ جہاز گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ نے ایل اینڈ ٹی شپ بلڈنگ کے اشتراک سے تیار کیے ہیں اور یہ پرانے ابھیے کلاس کارویٹس کی جگہ لے رہے ہیں۔ آئی این ایس اگَرے کو حال ہی میں اس کلاس کے چوتھے جہاز کے طور پر بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا۔اسی کے ساتھ کوچین شپ یارڈ میں ماہے کلاس کے جہاز بھی زیرتعمیر ہیں، جس سے آبدوز شکن جنگی کم گہرے پانیوں میں چلنے والے جہازوں کی منصوبہ بند تعداد 16 تک پہنچ جائے گی۔ یہ جہاز بھارت کے ساحلی پانیوں کی حفاظت کریں گے اور بڑے جنگی جہازوں کو کھلے سمندر میں کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل بنائیں گے۔
ارنالا کلاس جہازوں کی اہم خصوصیات
سائز: تقریباً 77.6 میٹر طویل، جن کا پانی میں وزن (ڈسپلیسمنٹ) تقریباً 900 ٹن ہے۔
نظامِ حرکت: واٹر جیٹس سے لیس، جو پروپیلر کے بجائے پانی کے دباؤ سے جہاز کو حرکت دیتے ہیں اور کم گہرے پانیوں میں زیادہ پھرتی اور بہتر نقل و حرکت فراہم کرتے ہیں۔
رفتار: زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 25 ناٹ ہے۔
ہتھیار: ہلکے وزن والے ٹارپیڈو اور آبدوز شکن راکٹ، جو پانی کی سطح کے نیچے موجود آبدوزوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
سینسرز: کم گہرے پانیوں کے لیے سونار اور جنگی انتظامی نظام، جو سینسرز کو ہتھیاروں سے مربوط کرتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
آئی این ایس ارنالا بھارتی بحریہ میں اب تک شامل کیا جانے والا واٹر جیٹ سے چلنے والا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے۔
جنگی صلاحیت سے آگے اسٹریٹجک اہمیت
نیل گری، سندھیاک اور ارنالا کلاسز صرف اگلے محاذ کی بحری صلاحیتوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے، خود انحصاری کو فروغ دینے اور بھارت کے بحری عزائم کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا اثر دفاعی مینوفیکچرنگ، روزگار، بحری سفارت کاری، نیلی معیشت اور دفاعی برآمدات کے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ذیل کی جدول میں دکھایا گیا ہے کہ یہ مقامی جنگی جہازوں کی کلاسز بھارت کے وسیع تر قومی اہداف میں کس طرح اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
|
مقصد
|
یہ بحری جہاز کس طرح اپنا کردار ادا کرتے ہیں
|
|
آتم نربھرتا (مقامی خود انحصاری)
|
تینوں کلاسز کو بھارتی بحریہ کے وار شپ ڈیزائن بیورو (نیل گری اور سندھیاک کلاس) اور بھارتی شپ یارڈز (ارنالا اور ماہے کلاس) نے ڈیزائن کیا ہے، جبکہ انہیں بھارتی شپ یارڈز میں ہی تیار کیا جا رہا ہے۔ پروجیکٹ 17 اے فریگیٹس میں مقامی اجزا کا تناسب 75 فیصد ہے، جبکہ سندھیاک سروے جہازوں میں یہ 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ بھارتی بحریہ کے لیے زیرِ تعمیر 66 جہازوں اور آبدوزوں میں سے 64 بھارت میں ہی تیار کیے جا رہے ہیں۔
|
|
ملازمتوں کی تخلیق
|
ان کلاسز کی مسلسل تیاری سے شپ یارڈز اور وسیع سپلائر نیٹ ورک کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ پروجیکٹ 17 اے فریگیٹس کی تیاری میں 200 سے زیادہ ایم ایس ایم ایز شامل رہے اور اس سے تقریباً 4,000 براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ اس کے علاوہ 10,000 سے زیادہ بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے، جبکہ ارنالا کلاس کی تیاری میں جی آر ایس ای اور ایل اینڈ ٹی کٹوپلی کے درمیان شراکت داری شامل ہے۔
|
|
سمندری سلامتی (ترجیحی سلامتی شراکت دار)
|
یہ کلاسز بحری طاقت کی مختلف سطحوں کو مضبوط بناتی ہیں: فریگیٹس سمندری کنٹرول کے لیے، سروے جہاز محفوظ جہاز رانی کے لیے، جبکہ آبدوز شکن جنگی جہاز ساحلی علاقوں کے دفاع کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خطے میں اولین ردِعمل دینے والی قوت کے طور پر بھارتی بحریہ خلیجِ عدن جیسے اہم سمندری راستوں پر قزاقی کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ تمام ممالک کے لیے جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔
|
|
نیلی معیشت
|
سروے کلاس کے جہاز بندرگاہوں، سمندری گزرگاہوں اور خصوصی اقتصادی زون کی نقشہ سازی کرتے ہیں۔ اس سے ماہی گیری، سمندر میں توانائی کے منصوبوں اور محفوظ جہاز رانی کو فروغ ملتا ہے، جن کا تحفظ فریگیٹ اور آبدوز شکن جنگی جہازوں کی کلاسز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بھارت کی نیلی معیشت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 4 فیصد کا حصہ ڈالتی ہے۔
|
|
جنگی جہازوں کی سمندری برآمدات
|
بھارت بحری پلیٹ فارمز کے درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ ملک کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سروے اور آبدوز شکن جنگی جہازوں کی کلاسز تیار کرنے والا جی آر ایس ای بیرونِ ملک کے لیے بھی بحری جہازوں کے آرڈرز مکمل کر رہا ہے۔ قومی دفاعی برآمدات مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ 23,622 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2023-24 کی 21,083 کروڑ روپے کی دفاعی برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں۔
|
|
ساگر اور مہاساگر وژن
|
سندھیاک کلاس کے سروے جہاز محفوظ جہاز رانی کے لیے سمندروں کی نقشہ سازی کرتے ہیں۔ یہ بھارت کے بحری مفادات اور دوست ممالک کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ یہ ساگر (2015) اور مہاساگر (2025) کے وژن کو آگے بڑھاتے ہیں، جس کے تحت جنگی جہاز شراکت دار ممالک میں تعینات کیے جاتے ہیں۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
بھارت نے اپنے قریبی بحرِ ہند کے خطے کو محفوظ بنانے کے لیے 2015 میں ساگر (خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) کا آغاز کیا۔ بعد ازاں 2025 میں مہاساگر (تمام خطوں میں سلامتی اور ترقی کے لیے باہمی اور جامع پیش رفت) کے آغاز کے ذریعے اسے مزید وسعت دی گئی اور وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے لیے اس کا دائرہ عالمی سطح تک بڑھایا گیا۔یہ دونوں نظریات علاقائی سلامتی کو بہتر بنانے، سمندری معیشت کو فروغ دینے اور قدرتی آفات کے دوران مؤثر ردِعمل فراہم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
بھارت کے بحری مستقبل کا تحفظ
نیل گری، سندھیاک اور ارنالا کلاسز بھارت کی بحری صلاحیت کے مسلسل ارتقا کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ تینوں مل کر سطحی جنگی صلاحیت، ہائیڈروگرافی اور ساحلی آبدوز شکن جنگی صلاحیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ ہر کلاس کو بھارتی بحریہ کے وار شپ ڈیزائن بیورو نے ڈیزائن کیا ہے اور انہیں بھارتی شپ یارڈز میں تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ بحری جہاز پیچیدہ نوعیت کے جدید ترین جنگی جہازوں کو ڈیزائن کرنے اور تیار کرنے کے شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مہارت کا مظہر ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی پیداوار دفاعی مینوفیکچرنگ میں خود انحصاری کو بھی مزید مستحکم کرتی ہے۔
ان کا تعاون صرف بحری کارروائیوں تک محدود نہیں ہے۔ یہ بھارتی شپ یارڈز کو فعال رکھتے ہیں، سیکڑوں ایم ایس ایم ایز کو معاونت فراہم کرتے ہیں اور ہزاروں ہنرمند روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ یہ مضبوط بحری سلامتی اور علاقائی تعاون کے ذریعے ساگر اور مہاساگر وژن کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔ بھارت کے بحری مفادات کے دائرے میں وسعت کے ساتھ، یہ مقامی جنگی جہازوں کی کلاسز قومی مفادات کا تحفظ کریں گی اور بحرِ ہند کے خطے میں بھارت کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنائیں گی۔
حوالہ جات
Prime Minister's Office
Ministry of Defence
Ministry of External Affairs
Ministry of Fisheries, Animal Husbandry & Dairying
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
***
) ش ح ۔ ش آ۔ م ش)
U.No. 9874
(Explainer ID: 159193)
आगंतुक पटल : 8
Provide suggestions / comments