Infrastructure
اشٹ لکشمی: ہندوستان کی ترقی کی کہانی کے مرکز میں شمال مشرق
Posted On:
20 JUN 2026 8:53AM
پچھلے بارہ برسوں میں شمال مشرق کے ترقیاتی منظرنامے میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی پائیدار پالیسی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جامع ترقیاتی اقدامات کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔ بہتر سڑک، ریل، ہوائی اور ڈیجیٹل رابطوں نے جغرافیائی فاصلے کم کر دیے ہیں۔ اس سے علاقائی انضمام اور اقتصادی رسائی کو بھی تقویت ملی ہے۔ مزید برآں، پانی، صفائی، رہائش، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی میں نمایاں پیش رفت نے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا ہے۔ یہ بہتری شہری اور دیہی دونوں برادریوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ یہ خطہ ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی اور ایکٹ ایسٹ وژن کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھرا ہے۔ اس تبدیلی کو پن بجلی، گیس کے بنیادی ڈھانچے اور سرحد پار رابطوں میں سرمایہ کاری سے تعاون حاصل ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کوششیں اشٹ لکشمی کو وکست بھارت کے اندر پائیدار اور جامع ترقی کے ایک نمونے کے طور پر قائم کرتی ہیں۔
تبدیلی کے مرکز میں شمال مشرق
جہاں پہاڑ بادلوں کو چھوتے ہیں اور دریا موسیقی، فن اور ادب کو متاثر کرتے ہیں، ہندوستان کا شمال مشرقی خطہ امکانات کی ایک منفرد کہانی سناتا ہے۔ آٹھ الگ الگ ریاستوں پر مشتمل یہ خطہ اجتماعی طور پر "اشٹ لکشمی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہندوستانی روایت میں دیوی لکشمی خوشی، صحت، خوشحالی اور نیک بختی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کی آٹھ مختلف شکلیں یا مظاہر ہیں، جو خوشحالی کے مختلف پہلوؤں اور ذرائع کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اجتماعی طور پر انہیں اشٹ لکشمی کہا جاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت شمال مشرقی ریاستوں میں سے ہر ایک اپنی منفرد دولت اور تنوع کی حامل ہے۔ یہ تمام ریاستیں مل کر "اشٹ لکشمی" کی تشکیل کرتی ہیں، جو ملک کی خوشحالی اور بہبود کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آسام، اروناچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، تریپورہ اور سکم مل کر اس متحرک خطے کو تشکیل دیتے ہیں۔ اپنے تزویراتی محلِ وقوع اور بھرپور ثقافتی ورثے کی بدولت شمال مشرقی خطہ ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
گزشتہ بارہ برسوں میں اس خطے میں ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ جو خطہ کبھی دور افتادہ اور الگ تھلگ سمجھا جاتا تھا، آج وہ بہتر رسائی، مضبوط رابطوں اور بڑھتے ہوئے مواقع سے آراستہ ہے۔ سڑکوں کا جال پھیل رہا ہے، ریل لائنوں میں توسیع ہو رہی ہے اور ہوائی اڈے و آبی گزرگاہیں نئے راستے کھول رہی ہیں۔ بہتر نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے نے پانی، رہائش، صفائی، توانائی، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنایا ہے۔ ہدفی معاونت اور منڈیوں سے مضبوط روابط نے زراعت اور دیہی معیشت کو فروغ دیا ہے۔ ہر مرحلے پر ترقی جامع، جواب دہ اور مقامی حقائق سے ہم آہنگ رہی ہے۔
2014ء سے مسلسل پالیسی معاونت کی رہنمائی میں یہ سفر ایک واضح اور متوازن نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ ترقی کو ماحولیاتی حساسیت، وسائل کے مؤثر استعمال اور طویل مدتی پائیداری کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا گیا ہے۔ آج اشٹ لکشمی ایک زیادہ مربوط، باصلاحیت اور جامع وکست بھارت کے مرکز میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
شمال مشرق کے لیے وقف پالیسی اقدامات
گزشتہ دہائی کے دوران شمال مشرق میں ترقی کو ہدفی پالیسی فریم ورک کی مضبوط معاونت حاصل رہی ہے۔ یہ نقطۂ نظر مخصوص اسکیموں اور مالی امداد کو یکجا کرتا ہے، تاکہ ترقی نہ صرف خطے کی ضروریات کے مطابق ہو بلکہ نتائج پر بھی مبنی ہو۔ شمال مشرقی خطے کی ترقی کی وزارت (ایم ڈی او این ای آر)شمال مشرق کی آٹھ ریاستوں کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یہ معاونت پانچ مرکزی سیکٹر اسکیموں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر 3,746 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 2,730 منصوبے 27,963 کروڑ روپے سے زائد کی منظور شدہ لاگت کے ساتھ مکمل کیے جا چکے ہیں۔
پی ایم ڈیوائن: ہدفی بنیادی ڈھانچہ اور سماجی ترقی
شمال مشرقی خطے کے لیے وزیرِ اعظم کا ترقیاتی اقدام (پی ایم-ڈیوائن) ایک اہم پالیسی پروگرام ہے، جس کا مقصد اعلیٰ اثر والے منصوبوں کے ذریعے ترقی کو تیز رفتار بنانا ہے۔ یہ 2022-23 سے 2025-26 تک 6,600 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ مکمل طور پر مرکزی حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والی اسکیم ہے۔ پی ایم-ڈیوائن اسکیم کے تحت بنیادی ڈھانچے، روزگار و معاش، سماجی ترقی اور ترقیاتی خلا کو پُر کرنے سے متعلق 48 منصوبے زیرِ عمل ہیں۔ ان میں سے تین منصوبے پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں، جن میں ایک سینٹر آف ایکسی لینس اور مسافروں کے لیے روپ وے نظام شامل ہے۔
این ای ایس آئی ڈی ایس – سڑکیں
شمال مشرقی خصوصی بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی اسکیم (این ای ایس آئی ڈی ایس) – سڑکیں، 2017-18 میں شروع کی گئی تھی اور اسے مارچ 2026 تک توسیع دی گئی ہے۔ یہ اسکیم دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر بنانے اور منڈیوں سے رابطوں کو مضبوط کرنے والے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ یہ تزویراتی اور سلامتی کے اعتبار سے اہم منصوبوں کی بھی معاونت کرتی ہے۔ صرف وہ تجاویز مالی معاونت کے لیے اہل ہیں جو سڑکوں، پلوں اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے جیسے مادی اثاثے تخلیق کرتی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کے 70 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ 57 منصوبے زیرِ عمل ہیں۔
این ای ایس آئی ڈی ایس – سڑکوں کے علاوہ بنیادی ڈھانچہ (او ٹی آر آئی)
سڑکوں کے علاوہ بنیادی ڈھانچہ (او ٹی آر آئی)، این ای ایس آئی ڈی ایس کی مرکزی سیکٹر اسکیم کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ اسکیم شمال مشرق کی تمام آٹھ ریاستوں کو بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ ابتدائی اور ثانوی صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، بجلی، پانی کی فراہمی، سڑکوں اور پلوں سمیت مختلف شعبوں میں 1,234 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ این ای ایس آئی ڈی ایس کے تحت سڑکوں کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کے 376 منصوبے زیرِ عمل ہیں۔
شمال مشرقی کونسل کی اسکیمیں (این ای سی)
شمال مشرقی کونسل (این ای سی)شمال مشرقی خطے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے مرکزی ادارہ ہے۔ این ای سی کے تحت چلنے والی اسکیموں کا مقصد جامع ترقی کو فروغ دینا ہے۔ منصوبوں کا انتخاب متعلقہ ریاستی حکومتوں کے تعاون سے کیا جاتا ہے، جبکہ ان کا نفاذ ریاستی یا مرکزی ایجنسیاں کرتی ہیں۔ این ای سی کی اسکیموں کے تحت 495 منصوبے زیرِ عمل ہیں۔ این ای سی بانس اور سور پالنے سے متعلق معاشی سرگرمیوں، سیاحت کے فروغ، اعلیٰ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال جیسے علاقائی اہمیت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ آبپاشی، سیلاب پر قابو پانے، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے متعلق 1,344 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
آسام اور تریپورہ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیجز(ایس ڈی پیز)
آسام اور تریپورہ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیجز (ایس ڈی پیز) کا مقصد جامع ترقی کو فروغ دینا اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ ان کا بنیادی ہدف بنیادی ڈھانچے اور روزگار سے متعلق منصوبوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے اقدامات سے نوجوانوں اور خواتین کو فائدہ پہنچے گا۔ اس وقت 40 منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔ یہ منصوبے پسماندہ برادریوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور سماجی شمولیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ سیاحت اور مقامی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ مکمل ہونے والے 79 منصوبوں میں مربوط ہنرمندی ترقی مراکز، کنکریٹ پل اور سڑکوں جیسے منصوبے شامل ہیں۔
ایکٹ ایسٹ پالیسی اور تزویراتی انضمام
ایکٹ ایسٹ پالیسی 2014 سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون رہی ہے۔ یہ پالیسی جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے مرکز میں شمال مشرقی خطے کو رکھتی ہے۔ یہ اس کے تزویراتی محلِ وقوع اور اقتصادی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران اس پالیسی نے رابطوں، تجارت، ثقافتی تعلقات اور سرحدی بنیادی ڈھانچے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ خطے کو ہندوستان اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے درمیان ایک پل میں تبدیل کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی شمال مشرق کو محض ایک سرحدی علاقے کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے علاقائی انضمام اور ترقی کے دروازے کے طور پر دیکھنے کی عکاسی کرتی ہے۔
سرحد پار رابطوں کو مضبوط بنانا
ایکٹ ایسٹ پالیسی کا ایک اہم مقصد سرحد پار رابطوں کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ یہ شمال مشرقی خطے کو پڑوسی ممالک سے جوڑتی ہے۔ بھارت-میانمار-تھائی لینڈ سہ فریقی شاہراہ اس پالیسی کے تحت ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد منی پور کے مورے کو میانمار کے راستے تھائی لینڈ کے مائے سوت سے جوڑنا ہے۔ یہ منصوبہ سرحد پار تجارت اور نقل و حرکت کے لیے ایک اہم زمینی راہداری کی ترقی کو مسلسل تیز کر رہا ہے۔
کالادن ملٹی ماڈل ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ ایک اور اہم اقدام ہے۔ اس کا مقصد شمال مشرقی خطے اور میانمار کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ منصوبہ میانمار کی سیتوے بندرگاہ کو اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے پیلیٹوا سے جوڑتا ہے۔ اس سے نقل و حمل کے وقت اور لاگت میں کمی آتی ہے، جس سے تریپورہ کو خاص طور پر فائدہ پہنچتا ہے۔ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد یہ منصوبہ چاول، لکڑی، سمندری غذا، پیٹرولیم مصنوعات اور ٹیکسٹائل سمیت اہم اشیاء کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ تعمیراتی سامان کی درآمد کو بھی آسان بنائے گا۔
تجارتی اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینا
ایکٹ ایسٹ پالیسی نے شمال مشرقی خطے اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ سامان کی آسان نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے سرحدی تجارتی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جا رہی ہے۔ مورے جیسے مقامات پر انٹیگریٹڈ چیک پوسٹس (آئی سی پیز) کی تعمیر و ترقی نے کسٹم، امیگریشن اور کارگو ہینڈلنگ کی سہولیات کو بہتر بنایا ہے۔ یہ پالیسی سرحدی ہاٹوں کی ترقی کی بھی حمایت کرتی ہے، جس سے سرحدی برادریوں میں مقامی تجارت اور ذرائعِ معاش کو فروغ ملتا ہے۔ یہ منڈیاں عوامی روابط کو مستحکم کرتی ہیں اور خرد معاشی سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہیں۔ ان میں تریپورہ کا کملا ساگر اور میگھالیہ کا بھولا گنج جیسے سرحدی ہاٹ شامل ہیں۔
رابطہ کاری کا انقلاب: جغرافیائی حدود کو کم کرنا، ترقی کو ممکن بنانا
رابطہ کاری شمال مشرق میں تبدیلی کے سب سے اہم محرکات میں سے ایک رہی ہے۔ کئی دہائیوں تک خطے کی اقتصادی صلاحیت دشوار گزار جغرافیے، محدود بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس کی بلند لاگت کی وجہ سے محدود رہی۔ 2014 سے نقل و حمل کے مختلف ذرائع میں مربوط کوششوں کا مقصد ان ساختی رکاوٹوں کو دور کرنا رہا ہے۔
سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ: آخری میل کی رسائی سے اقتصادی راہداریوں تک
اقتصادی راہداریوں تک آخری میل کی رسائی فراہم کرنے میں شمال مشرق کا سڑک رابطہ نظام نقل و حمل کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تبدیلی قومی شاہراہوں کی توسیع میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کی مجموعی لمبائی 2014 میں 10,905 کلومیٹر سے بڑھ کر یکم اپریل 2025 تک 16,207 کلومیٹر ہو گئی ہے۔ اس توسیع سے بین الریاستی رابطوں میں بہتری آئی ہے اور بڑے اقتصادی مراکز کے درمیان سفر کے وقت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
- اس تبدیلی کا ایک اہم محرک بھارت مالا پروجیکٹ ہے، جو مرکزی حکومت کا ایک پروگرام ہے اور جس کا مقصد راہداری پر مبنی شاہراہی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ سابقہ طریقۂ کار کے برعکس، بھارت مالا اقتصادی راہداریوں، سرحدی سڑکوں اور بندرگاہوں و تجارتی راستوں سے رابطے کو ترجیح دیتا ہے۔ شمال مشرق میں 2,100 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 1,800 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں دسمبر 2025 تک مکمل ہو جائیں گی۔
- نچلی سطح پر پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی )نے دیہی علاقوں میں نقل و حرکت کا منظرنامہ یکسر بدل دیا ہے۔ یہ اسکیم ان بستیوں کو ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں سے جوڑتی ہے جو پہلے رابطے سے محروم تھیں۔ شمال مشرق میں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران پی ایم جی ایس وائی کے تحت 50,850 کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔ ان سڑکوں نے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور منڈیوں تک رسائی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے، خصوصاً دور دراز علاقوں میں آباد آبادیوں کے لیے۔
ریل رابطہ: خطے کو قومی نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کرنا
ریل شمال مشرق میں رابطے کے ایک انقلابی ذریعے کے طور پر ابھری ہے۔ تاریخی طور پر یہ نظام آسام کے چند حصوں تک محدود تھا، لیکن اب یہ ہندوستان کے پیچیدہ ترین انجینئرنگ منصوبوں کے ذریعے پہاڑی ریاستوں تک پھیل رہا ہے۔ ریلوے کے لیے سالانہ اوسط بجٹ مختص میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2009-14 کے دوران 2,122 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 11,486 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ یہ شمال مشرق میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جدید کاری پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔
ریل پٹریوں کی تعمیر میں اس توسیع کا وسیع اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ 2009-14 کے دوران 333 کلومیٹر کے مقابلے میں 2014-26 کے دوران 1,900 کلومیٹر سے زیادہ نئی ریل پٹریاں بچھائی گئی ہیں۔ یہ دشوار گزار علاقوں میں ریل رابطے کو وسعت دینے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں شمال مشرقی ریاستوں کو پہلی بار براڈ گیج ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا گیا ہے۔ شمال مشرق میں ریلوے کی برقی کاری نے بھی حالیہ برسوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اروناچل پردیش، میگھالیہ، ناگالینڈ، تریپورہ اور میزورم نے سو فیصد برقی کاری حاصل کر لی ہے، جبکہ آسام مکمل برقی کاری کے آخری مرحلے میں ہے۔ یہ توسیع آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے اور پورے خطے میں ڈیزل انجنوں پر انحصار کم کر رہی ہے۔
نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ ساتھ خدمات کی جدید کاری میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ گوہاٹی اور نیو جلپائی گوڑی کے درمیان چلنے والی وندے بھارت ایکسپریس خطے میں نیم تیز رفتار اور توانائی کی بچت والی ٹرینوں کے آغاز کی علامت ہے۔ امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کا آغاز مسافروں کے لیے کم لاگت والے طویل فاصلے کے سفر کو مزید بہتر بنا رہا ہے۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ریلوے اسٹیشنوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی جدید بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت شمال مشرق میں تقریباً 60 اسٹیشنوں کی ازسرِنو ترقی کے لیے نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں آسام کے 50 اسٹیشن، تریپورہ کے چار اور دیگر ریاستوں کے متعدد اسٹیشن شامل ہیں۔ ان ترقیاتی اقدامات کا بنیادی مقصد مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، رسائی کو آسان بنانا اور نقل و حمل کے دیگر ذرائع کے ساتھ مؤثر انضمام کو یقینی بنانا ہے۔
پل اور سرنگیں: قدرتی رکاوٹوں پر قابو پا کر رابطوں کو فروغ دینے کے لیے انجینئرنگ
شمال مشرق کا جغرافیہ بڑے دریائی نظاموں اور پہاڑی خطوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ دہائی میں پلوں اور سرنگوں کی صورت میں پائیدار اور اعلیٰ صلاحیت کے حامل انجینئرنگ حل اپنانے کی سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان میں سے چند اہم منصوبے درج ذیل ہیں:
بوگی بیل پل: 2018 میں افتتاح کیا گیا بوگی بیل پل دریائے برہم پترا پر تعمیر کیا گیا ایک مشترکہ سڑک اور ریل پل ہے۔ یہ آسام کے ڈبرو گڑھ اور دھیماجی اضلاع کو آپس میں جوڑتا ہے، جس سے سفر تیز، آسان اور زیادہ قابلِ اعتماد ہو گیا ہے۔ ڈبرو گڑھ صحت، تعلیم اور تجارت کا ایک اہم مرکز ہے، لہٰذا یہ پل خاص طور پر برہم پترا کے شمالی کنارے پر آباد برادریوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ نقل و حمل کے علاوہ بوگی بیل پل اور اس سے ملحق بوگی بیل گھاٹ دریائی سیاحت کو بھی فروغ دیتے ہیں، جن میں دریائی سیر اور ہاؤس بوٹ کی سرگرمیاں شامل ہیں۔
دھولا-سادیہ پل: بھوپین ہزاریکا سیٹو کے نام سے بھی معروف، دھولا-سدیہ پل کا افتتاح 2017 میں کیا گیا تھا۔ یہ شمالی آسام اور مشرقی اروناچل پردیش کے درمیان پہلا مستقل سڑک رابطہ فراہم کرتا ہے۔ بیم پل کی طرز پر تعمیر کیا گیا یہ پل دریائے لوہت پر قائم ہے، جو دریائے برہم پترا کی ایک بڑی معاون ندی ہے۔ یہ تینسوکیا ضلع کے دھولا کو شمال میں واقع سدیہ سے جوڑتا ہے۔ 9.15 کلومیٹر طویل اس پل کو 60 ٹن تک وزنی فوجی ٹینکوں کے بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جن میں بھارتی فوج کے ارجن اور ٹی-72 ماڈل کے ٹینک بھی شامل ہیں۔
نونی پل: منی پور میں نونی پل، 111 کلومیٹر طویل جیریبام-امپھال ریلوے منصوبے کا حصہ ہے، جو شمال مشرق کے دور دراز علاقوں میں رابطے کے نظام میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔ دریائے ایلنگ کی وادی پر تعمیر کیا جانے والا یہ پل 141 میٹر بلند ہے، جس کے باعث اسے دنیا کا بلند ترین ریلوے ویاڈکٹ (ستونی پل) قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مونٹی نیگرو کے مالا–ریجیکا ویاڈکٹ توڑ دے گا، جس کی بلندی 139 میٹر ہے۔ 703 میٹر طویل یہ پل اپنے عظیم ستونوں کی تعمیر کے لیے جدید ہائیڈرولک اوجر ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ بلند ہدفی ریلوے منصوبہ تقریباً 374 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے تیار کیا جا رہا ہے۔
سیلا سرنگ: سیلا سرنگ کو مارچ 2024 میں اٹانگر، اروناچل پردیش میں منعقدہ "ڈیولپ انڈیا، ڈیولپ نارتھ ایسٹ" پروگرام کے دوران قوم کے نام وقف کیا گیا۔ اسے بارڈر روڈز آرگنائزیشن(بی آر او) نے تیز پور-توانگ شاہراہ پر تقریباً 13,000 فٹ کی بلندی پر تعمیر کیا ہے۔ اس سرنگ کی تعمیر پر 825 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔ یہ تزویراتی لحاظ سے اہم سرحدی علاقے میں ہر موسم میں رابطے کو یقینی بناتی ہے۔ یہ منصوبہ مسلح افواج کے لیے غیر معمولی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے اور خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آسٹریائی نیو ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم )کے تحت تعمیر کی گئی یہ سرنگ اس بات کی مثال ہے کہ انجینئرنگ کی مسلسل کوششیں دور دراز پہاڑی برادریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔
ان بڑے منصوبوں کے علاوہ متعدد پلوں نے بین العلاقائی رابطوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ 2014 سے اب تک 500 سے زائد ریلوے فلائی اوورز اور انڈر پاسز تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ یہ منصوبے مؤثر، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست بنیادی ڈھانچے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
فضائی رابطہ: دور دراز علاقوں تک رسائی میں توسیع
شمال مشرق میں دشوار گزار جغرافیے اور منتشر آبادی کی وجہ سے فضائی رابطہ نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اڑان ۔(یو ڈی اے این) اُڑے دیش کا عام شہری) اسکیم نے علاقائی ہوابازی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ہوائی سفر کو عام آدمی کی دسترس میں لانا اور کم استعمال شدہ یا غیر فعال ہوائی اڈوں کو فضائی نیٹ ورک سے جوڑنا ہے۔ شمال مشرق میں پاکیونگ، جورہاٹ اور تیزو سمیت آٹھ نئے ہوائی اڈے تیار کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 90 علاقائی فضائی راستے فعال کیے گئے ہیں، جو چھوٹے شہروں کو علاقائی مراکز اور بڑے شہری مراکز سے جوڑ رہے ہیں
شمال مشرق میں ہوائی اڈوں کی تعداد 2014 میں 9 سے بڑھ کر 2026 میں 17 ہو جائے گی، جو 78 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ فضائی رابطوں نے سفر کے اوقات میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ جو سفر پہلے سڑک کے ذریعے کئی گھنٹے یا حتیٰ کہ کئی دن لیتے تھے، اب چند گھنٹوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ یہ سہولت طبی ہنگامی حالات، آفات سے نمٹنے اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے نہایت اہم ہے۔ علاقائی ہوابازی کی توسیع نے سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماحولیاتی لحاظ سے حساس مقامات تک بہتر رسائی نے روزگار اور معاش کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جبکہ ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھا ہے۔
اندرونِ ملک آبی گزرگاہیں: پائیدار نقل و حمل کے لیے دریاؤں کا احیا
شمال مشرق کو ایک وسیع آبی نقل و حمل کے نیٹ ورک کا قدرتی فائدہ حاصل ہے۔ دریائے برہم پترا، جسے قومی آبی گزرگاہ نمبر 2 قرار دیا گیا ہے، خطے کی اہم اندرونِ ملک نقل و حمل کی راہداری کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ آسام کے اہم مقامات کو آپس میں جوڑتا ہے اور بھارت-بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ کے ذریعے شمال مشرق کو برِاعظم ہندوستان سے مربوط کرتا ہے۔ یہ ایک اندرونِ ملک آبی ٹرانزٹ نیٹ ورک ہے، جو ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان نامزد دریائی راستوں کے ذریعے مال برداری کو ممکن بناتا ہے۔ گوہاٹی، نیامتی، بسوناتھ گھاٹ، سلگھاٹ اور گیجان میں مخصوص ٹرمینلز کے ذریعے دریائی کروز سیاحت کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ دریائے بارک پر قومی آبی گزرگاہ نمبر 16 بھی ترقی کے مراحل میں ہے۔ اہم منصوبوں میں بدرپور اور کریم گنج کے ٹرمینلز کی اپ گریڈیشن، آبی گزرگاہوں کی ترقی، نیوی گیشن معاونات کی فراہمی اور ایمفیبیئس ڈریجرز کی تعیناتی شامل ہیں۔ اس شعبے پر بڑھتی ہوئی توجہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمال مشرق میں قومی آبی گزرگاہوں کی تعداد 2014 میں ایک سے بڑھ کر 2024 تک 20 ہو گئی ہے۔
ڈیجیٹل رابطہ کاری: اگلے مرحلے کی ترقی کو ممکن بنانا
شمال مشرق میں رابطوں کا دائرہ اب صرف جسمانی بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہا۔ بھارت نیٹ اور ڈیجیٹل انڈیا فنڈ کے تعاون سے متعدد سرکاری منصوبوں نے خطے میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی (رابطہ کاری )کو فروغ دیا ہے۔ دسمبر 2025 تک 6,355 گرام پنچایتوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات سے منسلک کرنے کے لیے تیار کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے کے دوران 3,718 موبائل ٹاورز نصب کیے گئے ہیں، جو خطے کے 5,366 گاؤں اور دیگر مقامات کا احاطہ کرتے ہیں۔ یوں یہ خطہ محدود بنیادی ڈھانچے کی رسائی کے مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔ نقل و حمل کے مختلف ذرائع میں سرمایہ کاری نے جغرافیائی تنہائی کو کم کیا ہے اور معاشی مواقع میں اضافہ کیا ہے۔ آج یہ خطہ زیادہ مربوط، زیادہ قابلِ رسائی اور طویل مدتی ترقی و علاقائی انضمام کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔
توانائی کا تحفظ اور سبز ترقی
شمال مشرق میں توانائی کا شعبہ صاف ستھرے اور زیادہ پائیدار نظاموں کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ خطے کے قدرتی وسائل اس توانائیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہدفی عوامی سرمایہ کاری توانائی کے خسارے پر قابو پانے اور محفوظ و پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ یہ اقدامات گرڈ سے منسلک اور دور دراز دونوں طرح کے علاقوں کے لیے قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ توانائی کی دستیابی اور استطاعت میں بہتری کے ساتھ ساتھ کاربن کے اخراج میں کمی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
پن بجلی کی ترقی: پائیداری کے ساتھ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ
پن بجلی شمال مشرق کی توانائیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے۔ یہ خطہ ہندوستان کی پن بجلی کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس شعبے میں ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور متعدد منصوبے زیرِ عمل یا زیرِ تعمیر ہیں۔
- مارچ 2024 میں اروناچل پردیش کے اٹانگر میں 2,880 میگاواٹ صلاحیت کے دیبانگ کثیر المقاصد پن بجلی منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ یہ منصوبہ بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ مؤثر سیلابی کنٹرول کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں ملک کا بلند ترین ڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ سالانہ تقریباً 11,223 ملین یونٹ پن بجلی پیدا کرے گا، جس سے صاف اور سبز توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی ممکن ہوگی۔
- 2,000 میگاواٹ صلاحیت کا سبانسیری لوئر پن بجلی منصوبہ آسام اور اروناچل پردیش کی سرحد پر واقع ہے۔ اسے ہندوستان کے سب سے بڑے رن آف دی ریور پن بجلی منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے آٹھ یونٹس مرحلہ وار کام کر رہے ہیں اور یہ سالانہ تقریباً 7,422 ملین یونٹ قابلِ تجدید بجلی پیدا کرے گا۔
- شمال مشرقی ہندوستان میں وسیع امکانات کے باعث چھوٹے پن بجلی منصوبوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک کی مدت کے لیے 2,584.60 کروڑ روپے کے اخراجات سے چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم کی منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد شمال مشرقی ہندوستان میں تقریباً 1,500 میگاواٹ نئی صلاحیت کا اضافہ کرنا ہے۔
نارتھ ایسٹ گیس گرڈ: صاف توانائی تک رسائی اور علاقائی انضمام
نارتھ ایسٹ گیس گرڈ پورے خطے میں صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبہ 2020 میں شروع کیا گیا تھا اور اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ ایک مربوط پائپ لائن نیٹ ورک کے طور پر ڈیزائن کیا گیا یہ منصوبہ شمال مشرقی خطے کی تمام آٹھ ریاستوں کو آپس میں جوڑنے اور انہیں قومی گیس گرڈ سے مربوط کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس کے تحت تقریباً 1,656 کلومیٹر طویل پائپ لائن نیٹ ورک تعمیر کیا جا رہا ہے، جو دشوار گزار علاقوں میں گیس کی ترسیل کے لیے ایک مربوط نظام فراہم کرے گا۔
اس منصوبے کے تحت ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا گیا ہے، جس میں افقی سمت میں ڈرلنگ (ایچ ڈی ڈی )کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے دریائے برہم پترا کے نیچے 24 انچ قطر کی قدرتی گیس پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔ یہ ایشیا میں ہائیڈروکاربن پائپ لائن کی سب سے طویل دریائی کراسنگ اور دنیا کی دوسری طویل ترین پائپ لائن کراسنگ شمار کی جاتی ہے۔ جدید انجینئرنگ تکنیکوں نے اس منصوبے کو جغرافیائی چیلنجوں پر قابو پانے اور اس منفرد کارنامے کو ممکن بنانے میں مدد دی ہے۔
شمال مشرقی ہندوستان میں شمسی اور غیر مرکزی توانائی
شمسی اور غیر مرکزی توانائی کے نظام شمال مشرقی ہندوستان کے بدلتے ہوئے توانائیاتی منظرنامے کا ایک اہم ستون بن کر ابھر رہے ہیں۔ اس شعبے کو نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی جانب سے نمایاں پالیسی معاونت حاصل ہے، جس میں سالانہ اسکیم بجٹ کا 10 فیصد حصہ بھی شامل ہے۔ میزورم کے چمپائی ضلع میں 20 میگاواٹ صلاحیت کا ایک سولر پارک قائم کیا گیا ہے، جو گرڈ سے منسلک شمسی توانائی کے شعبے میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
پی ایم سوریہ گھر اسکیم جیسی اسکیموں کے تحت روف ٹاپ سولر نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ گھریلو سطح پر شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ ہو۔ اسی طرح دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بجلی کی رسائی بہتر بنانے کے لیے آف گرڈ شمسی حل بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
زرعی اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پی ایم-کُسُم (پی ایم ۔ کے یو ایس یو اے ایم) اسکیم کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے پمپوں سمیت مختلف غیر مرکزی قابلِ تجدید توانائی کے نظام نصب کیے جا رہے ہیں۔ منی گرڈ اور اسٹینڈ الون نظام ڈیزل سے چلنے والی بجلی پر انحصار کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ آسام میں 25 میگاواٹ صلاحیت کے گرین ہائیڈروجن پلانٹ کی تعمیر جاری ہے، جو اس ابھرتی ہوئی صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہنرمندی کی ترقی کے اقدامات کے تحت سوریہ مترا، ورون مترا اور جل اُرجا مترا جیسے پروگراموں کے ذریعے 2,000 سے زائد افراد کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
پانی، صفائی اور شہری تبدیلی
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران شمال مشرق میں بنیادی خدمات اور شہری بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں نے صحتِ عامہ کے نظام کو مضبوط بنایا ہے اور معیارِ زندگی کو بہتر کیا ہے۔ جل جیون مشن، سوچھ بھارت مشن اور پی ایم آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) جیسے اقدامات کے ذریعے دیہی علاقوں میں نل کے پانی کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے، صفائی ستھرائی اور فضلہ کے انتظام میں بہتری آئی ہے اور گھریلو سہولتوں تک رسائی میں توسیع ہوئی ہے۔ صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نے بھی مقامی برادریوں کو زیادہ مضبوط اور جامع بنایا ہے۔
جل جیون مشن : (جے جے ایم )گھر گھر پانی
اگست 2019 میں شروع کیے گئے جل جیون مشن کا مقصد ہر دیہی گھرانے کو فعال گھریلو نل کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) فراہم کرنا ہے۔ شمال مشرق کی آٹھ ریاستوں میں سے اروناچل پردیش اور میزورم نے 100 فیصد کوریج حاصل کر لی ہے۔
جل جیون مشن: شمال مشرقی ہندوستان میں نل کے پانی کی فراہمی (17 جون 2026 تک)
|
ریاست
|
احاطہ (کوریج) (فی صد)
|
|
ارونچل پردیش
|
100فی صد
|
|
آسام
|
81.80فی صد
|
|
منی پور
|
79.63فی صد
|
|
میگھالیہ
|
83.95فی صد
|
|
میزورم
|
100فی صد
|
|
ناگا لینڈ
|
95.08فی صد
|
|
سکّم
|
92.09فی صد
|
|
تریپورہ
|
86.4فی صد
|
| |
|
جے جے ایم 2.0 کو مارچ 2026 میں منظوری دی گئی۔ اس مشن کی مدت دسمبر 2028 تک بڑھا دی گئی ہے اور اس کی مجموعی لاگت 8.69 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محض سابقہ مشن کی توسیع نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر ہر دیہی گھرانے کو قابلِ اعتماد اور پائیدار آبی خدمات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
صاف گاؤں، صحت مند زندگی: سوچھ بھارت مشن
ماضی میں صفائی کی سہولیات تک محدود رسائی شمال مشرقی ہندوستان کے دیہی علاقوں میں روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی تھی۔ سوچھ بھارت مشن (دیہی)، جو اکتوبر 2014 میں شروع کیا گیا تھا، ہندوستان کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (او ڈی ایف)بنانے کے مقصد سے متعارف کرایا گیا۔ شمال مشرق کی تمام آٹھ ریاستوں کو او ڈی ایف قرار دیا جا چکا ہے۔ 2014 سے 2026 کے درمیان پورے خطے میں تقریباً 57 لاکھ انفرادی گھریلو بیت الخلا (آئی ایچ ایچ ایل ایس) تعمیر کیے گئے۔
سوچھ بھارت مشن فیز دوم (2020 سے) بیت الخلا کی تعمیر سے آگے بڑھ کر ان کے مستقل استعمال اور کچرے کے مؤثر انتظام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس کے تحت او ڈی ایف پلس گاؤں کا تصور متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ٹھوس اور مائع فضلہ کا انتظام، پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ اور فیکل سلج ٹریٹمنٹ شامل ہیں۔ نمایاں کارکردگی دکھانے والی ریاستوں میں سکم اور تریپورہ شامل ہیں، جنہوں نے 100 فیصد او ڈی ایف پلس گاؤں کا ہدف حاصل کیا ہے۔ میزورم اور سکم گھریلو سطح پر کچرے کی علیحدگی میں پیش پیش ہیں۔ تریپورہ اور آسام میں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس اب گاؤں کی سطح پر کچرا جمع کرنے کا انتظام سنبھال رہے ہیں اور صارف فیس اور قابلِ کمپوسٹ کچرے کی فروخت کے ذریعے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔
لوگوں کے لیے بنیادی ڈھانچہ: صحت اور تعلیم
صحت کے بنیادی ڈھانچے
گزشتہ بارہ برسوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پردھان منتری سوستھیا سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) نے گزشتہ دہائی کے دوران پورے شمال مشرق میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) گوہاٹی، جو اب مکمل طور پر فعال ہے، خطے کا ایک اہم تخصصی طبی ادارہ بن چکا ہے۔ اس خطے میں نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کے لیے مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت بارہ میڈیکل کالجوں کو منظوری دی گئی ہے۔
آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم ۔ جے اے وائی) کے تحت اپریل 2026 تک خطے میں 2.43 کروڑ سے زیادہ آیوشمان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جن کی بدولت 900 سے زائد فہرست شدہ اسپتالوں میں 46 لاکھ سے زیادہ افراد کو علاج اور اسپتال میں داخلے کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ 8,200 سے زائد ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹرز بنیادی صحت کی خدمات، تشخیصی سہولیات اور زچگی کی نگہداشت فراہم کر رہے ہیں۔ ای-سنجیوانی ٹیلی میڈیسن سروس تمام آٹھ ریاستوں میں فعال ہے اور موبائل پر مبنی ویڈیو مشاورت کے ذریعے دور دراز گاؤں کو ڈاکٹروں سے جوڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ 388 جن اوشدھی کیندر سستی ادویات فراہم کر کے مریضوں کے ذاتی اخراجات میں کمی لا رہے ہیں۔
تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ
سماگرا شکشا اور دیگر قومی پروگراموں کے تحت شمال مشرق میں اسکولی اور اعلیٰ تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں مسلسل توسیع کی جا رہی ہے۔ اس خطے میں اب 96,496 اسکول، 79 یونیورسٹیاں، 1,001 کالج، 224 آزاد تکنیکی ادارے، 11 مرکزی یونیورسٹیاں اور 110 صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئیز) موجود ہیں۔ 2026 تک تقریباً 48 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول دور دراز اور قبائلی اضلاع میں قائم کیے جا چکے ہیں، جن کے ساتھ متعدد کیندریہ ودیالیہ اور نوودیہ ودیالیہ بھی کام کر رہے ہیں۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی )گوہاٹی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی )سکم اور این آئی ٹی ناگالینڈ علاقائی اختراع اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کا داخلہ 2014-15 میں 9.36 لاکھ سے بڑھ کر 2021-22 میں 12.02 لاکھ ہو گیا۔ نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم کے تحت 47,116 اپرنٹس کو تربیت کے لیے شامل کیا گیا، جن میں سے 33,849 افراد مارچ 2026 تک اپنی تربیت مکمل کر چکے تھے۔ پورے خطے کے اسکولوں میں 622 اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کی گئی ہیں، جو اختراع اور سائنسی تعلیم کے فروغ میں معاون ہیں۔
ہر سر پر چھت: شمال مشرق کے لیے رہائش
پردھان منتری آواس یوجنا (گرامین)، جو 2016 میں شروع کی گئی، اہل دیہی گھرانوں کو پائیدار مکانات کی تعمیر کے لیے مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ شمال مشرق کی پہاڑی ریاستوں میں تعمیراتی لاگت نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مارچ 2026 تک شمال مشرقی آٹھ ریاستوں میں پی ایم آواس یوجنا (گرامین) کے تحت 28 لاکھ سے زائد مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
مستفید افراد کو سوچھ بھارت مشن کے تحت بیت الخلا، جل جیون مشن کے تحت نل کا پانی، اجولا اسکیم کے تحت ایل پی جی کنکشن اور سوبھاگیہ اسکیم کے تحت بجلی کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ سوبھاگیہ اسکیم کے تحت شمال مشرق کی تمام آٹھ ریاستوں میں سو فیصد بجلی کی فراہمی کا ہدف حاصل کیا جا چکا ہے، جس سے تقریباً ہر گھر تک بجلی پہنچ چکی ہے۔
شہری علاقوں میں پی ایم آواس یوجنا (شہری) کے تحت اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) اور کم آمدنی والے گروپ (ایل آئی جی )کے لیے 3.24 لاکھ مکانات فراہم کیے گئے ہیں۔ بینیفشری لیڈ کنسٹرکشن (بی ایل سی) جزو کے تحت گھرانوں کو اپنے مکانات تعمیر کرنے یا اپ گریڈ کرنے کے لیے براہِ راست مالی معاونت دی جاتی ہے۔ اس طریقۂ کار میں شمال مشرق کے مخصوص تعمیراتی انداز، مقامی ڈیزائن اور تعمیراتی مواد سے متعلق ترجیحات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ 2024 میں شروع کی گئی پی ایم آواس یوجنا (شہری) 2.0 کے تحت شمال مشرقی شہروں میں مزید شہری گھرانوں کو اس اسکیم کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
|
ریاست
|
پی ایم اے وائی ۔ گرامین (دیہی علاقے) (03.02.2026 تک)
|
پی ایم اے وائی ۔اربن (02.02.2026 تک)
|
|
ہدف کا تعین
|
مکانات مکمل ہوئے
|
مکانات منظور ہوئے
|
مکانات مکمل ہوئے
|
|
ارونچل پردیش
|
35,937
|
35,591
|
13,346
|
8,471
|
|
آسام
|
29,87,868
|
21,22,269
|
1,87,028
|
1,44,107
|
|
منی پور
|
1,08,550
|
56,724
|
56,047
|
22,466
|
|
میگھالیہ
|
1,88,034
|
1,55,930
|
7,072
|
2,841
|
|
میزورم
|
29,967
|
25,303
|
39,616
|
33,946
|
|
ناگا لینڈ
|
48,830
|
36,298
|
31,067
|
30,147
|
|
سکّم
|
1,399
|
1,393
|
299
|
219
|
|
تریپورہ
|
3,76,913
|
3,73,794
|
90,315
|
81,921
|
|
کل (شمال مشرق)
|
37,77,498
|
28,07,302
|
4,24,790
|
3,24,118
|
شمال مشرق میں زراعت اور اس سے منسلک شعبے
زراعت اور اس سے وابستہ سرگرمیاں ہندوستان کے شمال مشرقی خطے (این ای آر )کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ خطہ زرعی فصلوں کی متنوع اقسام، وافر قدرتی وسائل، بھرپور بارشوں اور غیر معمولی حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ہے۔ یہ خصوصیات متنوع اور پائیدار زرعی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ باغبانی، ماہی پروری، مویشی پروری، نامیاتی کاشتکاری، بانس کی کاشت اور جنگلات سے وابستہ ذرائعِ معاش شمال مشرقی ریاستوں کی دیہی معیشت کے اہم ستون ہیں۔
ماہی پروری کے ذریعے دیہی ترقی
شمال مشرقی خطے میں اندرونِ ملک مچھلی کی پیداوار 2014-15 میں 40.3 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 67.8 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 68 فیصد سے زیادہ اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ آسام اس شعبے میں سب سے بڑا حصہ دار رہا ہے اور خطے کی مجموعی اندرونِ ملک مچھلی کی پیداوار میں اس کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ اسی عرصے کے دوران آسام کی اندرونِ ملک مچھلی کی پیداوار 28.3 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 52.9 لاکھ ٹن ہو گئی۔
ماہی پروری کی ترقی کو فروغ دینے اور ماہی گیروں کے ذرائعِ معاش کو بہتر بنانے کے لیے محکمۂ ماہی پروری نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
● ماہی گیروں کے لیے 3,823 کسان کریڈٹ کارڈز کی منظوری۔
● پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی )کے تحت 70 تفریحی ماہی پروری یونٹس کی منظوری۔
● 501 فِش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی اوز)کی منظوری، جن کی مجموعی لاگت 122.40 کروڑ روپے ہے۔
● پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا کے تحت 644 آرائشی ماہی پروری یونٹس کی منظوری، تاکہ ماہی پروری کے شعبے میں تنوع اور آمدنی کے اضافی مواقع کو فروغ دیا جا سکے
ڈیری اور مویشی پروری کے نظام میں تبدیلی
راشٹریہ گوکل مشن کے تحت شمال مشرقی خطے(این ای آر) میں پہلی اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف )لیبارٹری 28.93 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے گوہاٹی، آسام میں قائم کی گئی ہے۔ یہ سہولت، جس کے اکتوبر 2025 میں شروع ہونے کی توقع ہے، شمال مشرقی ریاستوں میں ڈیری کی ترقی کو فروغ دینے اور مویشیوں کی نسل کشی اور جینیاتی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔خطے میں مویشی پروری اور ڈیری کے شعبے میں بھی مسلسل پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ شمال مشرقی خطے میں انڈوں کی مجموعی پیداوار 2014-15 میں 10,098 لاکھ سے بڑھ کر 2021-22 میں 12,145 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی طرح دودھ کی پیداوار 2014-15 میں 1,293.5 ہزار ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 1,739.9 ہزار ٹن ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار ڈیری پیداوار اور مویشی پروری سے وابستہ سرگرمیوں میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اگرووڈ معیشت اور برآمدات میں اضافہ
جنوری 2026 تک ہندوستان میں اگرووڈ کے تقریباً 15 کروڑ درخت موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 90 فیصد شمال مشرقی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ اگرووڈ کی کاشت کو شجرکاری اور زرعی جنگلاتی پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے۔ صرف تریپورہ میں اگرووڈ کی منڈی کا سالانہ کاروبار تقریباً 2,000 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اگرووڈ چپس کے برآمدی کوٹے میں چھ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو 25,000 کلوگرام سے بڑھ کر 1.51 لاکھ کلوگرام تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح اگروووڈ آئل کا برآمدی کوٹہ جنوری 2025 میں 1,050 کلوگرام سے بڑھ کر 7,050 کلوگرام ہو گیا ہے۔
حکومتی اقدامات کے ذریعے زرعی تبدیلی
حکومت نے شمال مشرقی خطے میں زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد خصوصی اسکیمیں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نافذ کیے ہیں۔ یہ اقدامات کسانوں کی فلاح و بہبود، زرعی پیداوار میں اضافے، پائیداری کے فروغ، منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانے اور دیہی ذرائعِ معاش کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہیں۔
خوردنی تیل پر قومی مشن (این ایم ای او)
خوردنی تیل کے قومی مشن (این ایم ای او) کے تحت شمال مشرقی آٹھ ریاستوں کے لیے بجٹ مختص میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رقم مالی سال 2021-22 میں تقریباً 170 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2024-25 میں تقریباً 475 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ تیل دار بیجوں کی پیداوار بڑھانے اور علاقائی ضروریات کے مطابق زرعی ترقی کے ذریعے خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم ۔ کے آئی ایس اے این)
پردھان منتری کسان سمان ندھی شمال مشرقی خطے کے کسانوں کے لیے آمدنی میں معاونت فراہم کرنے والی ایک اہم اسکیم کے طور پر ابھری ہے۔ مئی 2026 تک اس اسکیم کے تحت پورے خطے میں 26.98 لاکھ مستفیدین کا اندراج کیا جا چکا تھا۔ فروری 2025 میں جاری کی گئی 19ویں قسط کے دوران خواتین کسانوں کی نمایاں شمولیت دیکھنے میں آئی۔ مجموعی رجسٹرڈ مستفیدین میں سے 10.08 لاکھ سے زائد خواتین مستفیدین کو 19ویں قسط کے تحت مالی امداد فراہم کی گئی۔ آسام میں خواتین مستفیدین کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ رہی، جو رسمی زرعی امدادی نظام میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کی عکاسی کرتی ہے۔
|
ریاست
|
اہل مستفید (مئی 2026 تک)
|
19ویں قسط کے تحت خواتین استفادہ کنندگان (فروری 2025)
|
|
اروناچل پردیش
|
84,298
|
50,154
|
|
آسام
|
18,59,652
|
5,03,528
|
|
منی پور
|
1,10,867
|
98,797
|
|
میگھالیہ
|
1,80,183
|
1,34,372
|
|
میزورم
|
1,22,463
|
55,396
|
|
ناگا لینڈ
|
1,88,721
|
1,03,313
|
|
سکّم
|
35,796
|
8,300
|
|
تریپورہ
|
2,16,695
|
54,793
|
|
کل
|
26,98,675
|
10,08,653
|
پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا و اُتھان مہابھیان (پی ایم ۔ کے یو ایس ایو ایم ، پی ایم کسُم)
پی ایم-کُسُم اسکیم نے شمال مشرقی خطے میں قابلِ تجدید توانائی پر مبنی زرعی بنیادی ڈھانچے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دسمبر 2025 تک شمال مشرقی ریاستوں کو اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 582 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے تھے۔ تریپورہ کو اس اسکیم کے تحت جاری کیے گئے فنڈز میں سب سے بڑا حصہ حاصل ہوا۔
|
ریاست
|
جاری کردہ فنڈز (کروڑ روپے)
|
|
اروناچل پردیش
|
4.84
|
|
آسام
|
1.41
|
|
منی پور
|
1.71
|
|
میگھالیہ
|
0.59
|
|
میزورم
|
2.57
|
|
ناگا لینڈ
|
1.04
|
|
تریپورہ
|
46.04
|
|
کل
|
58.20
|
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی )
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی )نے شمال مشرقی خطے میں زرعی خطرات کو کم کرنے اور فصل بیمہ کی کوریج کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2025 کے خریف اور ربیع سیزن کے دوران اس اسکیم کے تحت شمال مشرقی خطے میں 11.44 لاکھ سے زائد مستفیدین کا احاطہ کیا گیا۔ دسمبر 2025 تک خطے کے 78 لاکھ سے زیادہ کسانوں کا بیمہ کیا جا چکا تھا۔ یہ اعداد و شمار فصل بیمہ کے نظام کی بڑھتی ہوئی رسائی اور اس کے وسیع پیمانے پر اختیار کیے جانے کی عکاسی کرتے ہیں۔
شمال مشرق کے لیے مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ (ایم او وی سی ڈی ۔ این ای آر )
شمال مشرق کے لیے مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ نے نامیاتی کاشتکاری اور ویلیو چین کے انضمام کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ مئی 2026 تک تقریباً 2.36 لاکھ ہیکٹر اراضی کو اس اسکیم کے تحت شامل کیا جا چکا تھا، جس سے تقریباً 2.70 لاکھ کسان مستفید ہوئے۔ 1,492 کروڑ روپے کی مجموعی مالی معاونت نے 479 فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)کے قیام میں مدد دی، جس سے اجتماعی مارکیٹنگ، پروسیسنگ اور منڈیوں سے روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
کرشی اُڑان اسکیم
کرشی اُڑان اسکیم نے خطے کی جلد خراب ہونے والی زرعی پیداوار کے لیے فضائی نقل و حمل اور منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنایا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں منسلک 58 ہوائی اڈوں میں سے 25 ہوائی اڈے شمال مشرقی خطے میں واقع ہیں۔ مزید برآں، خطے کے دو ہوائی اڈوں پر کولڈ اسٹوریج کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جس سے نقل و حمل کے نظام میں بہتری آئی ہے اور فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ون دھن وکاس یوجنا
ون دھن وکاس یوجنا نے شمال مشرقی خطے میں جنگلاتی وسائل سے وابستہ ذرائعِ معاش اور قبائلی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے۔ مئی 2026 تک اس اسکیم سے تقریباً 3.3 لاکھ افراد مستفید ہوئے، جبکہ 19,155 سیلف ہیلپ گروپس (SHGs) کو اس کے تحت معاونت فراہم کی گئی۔
اختراع، جی آئی ٹیگنگ اور شمال مشرق میں زرعی کاروباری شخصیت
مارچ 2026 تک شمال مشرقی خطے میں 89 جغرافیائی اشاریہ (جی آئی )رجسٹرڈ مصنوعات موجود تھیں۔ اس کے علاوہ، آئندہ دو برسوں میں جی آئی ٹیگنگ کے لیے مزید 150 مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ خطہ متعدد جی آئی ٹیگ یافتہ پھلوں اور مصالحہ جات کے لیے معروف ہے، جن میں ملکہ انناس، لکادونگ ہلدی، کنگ مرچ اور بڑی الائچی شامل ہیں۔ یہ خطے کے بھرپور زرعی حیاتیاتی تنوع اور منفرد زرعی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔
2014 سے نارتھ ایسٹرن ریجنل ایگریکلچرل مارکیٹنگ کارپوریشن (این ای آر اے ایم اے سی) نے خطے کی 13 زرعی اور باغبانی مصنوعات کے لیے جغرافیائی اشاریہ (جی آئی) ٹیگ کے اندراج میں سہولت فراہم کی ہے۔
2021 تک این ای آر اے ایم اے سی کے ذریعے مارکیٹ کی جانے والی پروسیس شدہ زرعی مصنوعات کی تعداد 38 سے بڑھ کر 75 ہو گئی، جو خطے میں تنوع اور ویلیو ایڈیشن کی عکاس ہے۔ دسمبر 2024 تک این ای آر اے ایم اے سی نے 220 فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)کی معاونت کی، جن سے شمال مشرقی خطے کے 37,000 سے زائد کسان وابستہ تھے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران این ای آر اے ایم اے سی نے خطے کی 600 میٹرک ٹن سے زائد زرعی اور باغبانی پیداوار کی مارکیٹنگ کی۔
مزید برآں، این ای آر اے ایم اے سی نے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 (پی ایم کے وی وائی 4.0) کے تحت 14,675 امیدواروں کو تربیت فراہم کی۔ فصل کے بعد کے بنیادی ڈھانچے اور منڈی سے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والی کولڈ اسٹوریج کی تین سہولیات بھی قائم کی گئیں۔
2025 میں شمال مشرقی کونسل نے مختلف علاقائی ترقیاتی اسکیموں کے تحت 236.53 کروڑ روپے مالیت کے بانس کے شعبے سے متعلق 25 منصوبوں کی منظوری دی۔ یہ اقدامات پورے شمال مشرق میں بانس پر مبنی ذرائعِ معاش، ویلیو ایڈیشن اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔
موبائل پر مبنی زرعی مشاورتی خدمات نے شمال مشرقی خطے کی چھ ریاستوں کے 2,027 گاؤں کے 35,509 کسانوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی کاشتکاری اپنانے میں مدد فراہم کی۔ اس کے علاوہ، مرکزی زرعی یونیورسٹی کے تحت منی پور کے تمام کالجوں میں قدرتی کاشتکاری کے چھ یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔
یہ تمام کوششیں مل کر دیہی ذرائعِ معاش کو مضبوط بنا رہی ہیں، پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دے رہی ہیں اور پورے خطے میں جامع ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ایک مضبوط اور مربوط شمال مشرق کی جانب
بارہ برسوں کی مسلسل اور مخلصانہ کوششوں نے شمال مشرق کے ترقیاتی منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ رابطہ کاری، توانائی، بنیادی سہولیات اور ذرائعِ معاش میں بہتری نے مل کر ایک مضبوط، زیادہ مربوط اور ترقی پذیر خطے کی بنیاد رکھی ہے۔ پالیسی سطح پر مسلسل تعاون اور پائیدار سرمایہ کاری نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ ترقی کے ثمرات تمام شعبوں اور طبقات تک یکساں طور پر پہنچیں۔
مزید برآں، یہ ترقی متوازن اور جامع رہی ہے۔ ترقیاتی اقدامات کو ماحولیاتی تحفظ اور مقامی برادریوں کے احترام کے ساتھ ہم آہنگ رکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے ثمرات حاصل ہوئے ہیں جو نہ صرف مؤثر ہیں بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر پائیدار بھی ہیں۔
جوں جوں یہ خطہ ہندوستان اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنے روابط کو مضبوط بنا رہا ہے، تجارت، سفر اور باہمی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ شمال مشرق مسلسل خود کو مواقع، روابط اور علاقائی شمولیت کے ایک اہم دروازے کے طور پر منوا رہا ہے۔
اشٹ لکشمی آج ایک ایسے خطے کی نمائندگی کرتی ہے جو پہلے سے زیادہ مربوط، مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔ اس کی مسلسل ترقی ایک متوازن، جامع اور دور اندیش ترقی یافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کی تعمیر کے لیے ناگزیر اہمیت رکھتی ہے۔
حوالہ جات
وزیرِ اعظم کا دفتر
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2081659®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1927894®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1557286®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1919772®=3&lang=2
وزارتِ ترقیِ شمال مشرقی خطہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238832®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226314®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247696®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209534®=3&lang=2
https://risingnortheast.in/wp-content/uploads/2023/05/Sector-Profile_Agri_Low-Res.pdf
https://risingnortheast.in/wp-content/uploads/2025/05/Edu.pdf
https://nesetu.mdoner.gov.in/projects/project-list?scheme=pmdevine&status=Completed
https://nesetu.mdoner.gov.in/projects/project-list?scheme=NesidsR&status=Completed
https://nesetu.mdoner.gov.in/projects/project-list?scheme=NesidsO&status=Completed
https://nesetu.mdoner.gov.in/projects/project-list?scheme=schemesofnec&status=Completed
https://nesetu.mdoner.gov.in/projects/project-list?scheme=specialpackage&status=Completed
وزارتِ ریلوے
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2222767®=3&lang=2
وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=1795821®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2142948®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2205166®=3&lang=1
https://iwai.nic.in/sites/default/files/indo-inward-outward/2464640048sam_Part1-61841935_1.pdf
https://shipmin.gov.in/sites/default/files/IWT%202022%2023%20APPROVED.pdf
وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہیں
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=162117®=3&lang=2
وزارتِ توانائی
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2013022®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2207797®=3&lang=1
وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2130793®=3&lang=2
وزارتِ جل شکتی
https://sansad.in/getFile/annex/260/AU2007.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1630399®=3&lang=2
https://ejalshakti.gov.in/jjmreport/jjmindia.aspx
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1959918®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226996®=3&lang=2
وزارتِ دیہی ترقی
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU473_bCgMMw.pdf?source=pqals
اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی(سی سی ای اے)
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1598709®=3&lang=2
وزارتِ خارجہ
https://www.mea.gov.in/rajya-sabha.htm?dtl/30799/QUESTION+NO1127+STATUS+OF+TRILATERAL+HIGHWAY+PROJECT
https://www.pib.gov.in/newsite/printrelease.aspx?relid=133837®=3&lang=2
وزارتِ زراعت و کسان بہبود
https://pmfby.gov.in/adminStatistics/dashboard
https://agriwelfare.gov.in/Documents/AR_Eng_2024_25.pdf
https://www.icfa.org.in/assets/img/souvenirs/ner-untapped-potential.pdf
https://www.manage.gov.in/publications/eBooks/Agri-Allied%20Sector%20Entrepreneurship%20Opportunities%20in%20North%20East.pdf
وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری
https://sansad.in/getFile/annex/270/AS355_qctvv9.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2212290®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225760®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1988232®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AS258_n1BiQ1.pdf?source=pqals
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/1715/AU1320.pdf?source=pqals
https://dashboard.nha.gov.in/public/
https://nhsrcindia.org/AB-HWCs-map-table
وزارتِ کیمیکل و کھاد
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2203000®=3&lang=1
وزارتِ تعلیم
https://sansad.in/getFile/annex/267/AU3550_veZhIN.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1999713®=3&lang=2
وزارتِ قبائلی امور
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238355®=3&lang=2
وزارتِ منصوبہ بندی
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU2908_9qeAFp.pdf?source=pqals
پریس انفارمیشن بیورو
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=155194&id=155194®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215690®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2214640®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=152025&ModuleId=3®=3&lang=2
دیگر
https://tcp.assam.gov.in/portlets/north-eastern-council-nec-scheme-0
https://dibrugarh.assam.gov.in/tourist-place-detail/276
https://tinsukia.assam.gov.in/tourist-place-detail/275
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255609®=3&lang=2
https://aimapp2.aim.gov.in/aic/files/List%20of%20selected%20Smart%20Cities.pdf
https://noney.nic.in/tourist-place/world-highest-railway-bridge-noney/
https://indiainvestmentgrid.gov.in/opportunities/nip-project/701346
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
Click here to see pdf
***
UR-8927
(ش ح۔اس ک )
(Explainer ID: 158965)
आगंतुक पटल : 5
Provide suggestions / comments