• Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

 ہندوستان میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کو فروغ دینا

بجٹ 2026–2027  سیریز

Posted On: 11 FEB 2026 2:27PM

 

اہم نکات

  • مرکزی بجٹ 2026–2027 میں شمالی ہندوستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی ایم ایچ اے این ایس - 2) کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • این آئی ایم ایچ اے این ایس - 2کو بنگلورمیں قائم موجودہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی ایم ایچ اے این ایس) کی طرز پر تیار کیا جائے گا، جہاں اعصابی علوم (نیورو سائنسز) اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں میں معیاری علاج، تربیت اور تحقیق پر توجہ جاری رکھی جائے گی۔
  • مرکزی بجٹ 2026–2027 میں رانچی اورتیز پورکے ممتاز ذہنی صحت کے اداروں کوعلاقائی اعلیٰ (ریجنل ایپکس) اداروں کے طور پر ترقی دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
  • بجٹ میں ضلعی اسپتالوں میں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر مراکز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

تعارف

مرکزی بجٹ 2026–27  ہندوستان کی ذہنی صحت کی پالیسی میں ایک اہم اور فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت عوامی صحت کی منصوبہ بندی میں ادارہ جاتی توسیع اور علاقائی مساوات کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ذہنی صحت اور ٹراما کیئر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر یہ بجٹ حکومت ہند کے‘‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’’ کے ویژن اور‘‘وکست بھارت’’ کے ہدف کو آگے بڑھاتا ہے، تاکہ ملک میں جامع اور ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

شمالی  ہندوستان  میں قومی سطح کے ذہنی صحت کے اداروں کی دیرینہ کمی کا ازالہ

 

شمالی  ہندوستان  میں قومی سطح کے ذہنی صحت کے اداروں کی طویل عرصے سے موجود کمی اور خصوصی طبی خدمات کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئےمرکزی بجٹ 2026–27 نے ذہنی صحت کو عوامی صحت کی ایک بنیادی ترجیح قرار دیا ہے۔ بجٹ میں ہدف پر مبنی اقدامات، افرادی قوت کی استعداد میں اضافہ، اور ٹراما کیئر کی معاونت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ کمزور اور محروم خاندانوں پر پڑنے والے غیر متناسب بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ یہ اقدام ذہنی صحت اور ٹراما کیئر تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے واضح اور دیرپا عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

ذہنی صحت کیا ہے؟

ذہنی صحت ایک ایسی کیفیتِ فلاح ہے جس میں انسان زندگی کے معمول کے دباؤ کا مؤثر انداز میں سامنا کر سکتا ہے۔ یہ اسے سیکھنے بہتر انداز میں کام کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔

اچھی ذہنی صحت میں جذباتی، نفسیاتی اور سماجی فلاح و بہبود شامل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، کمزور ذہنی صحت اضطراب (انزائٹی)، ڈپریشن اور دیگر سنگین ذہنی عوارض کا باعث بن سکتی ہے، جن کے اثرات جسمانی صحت، باہمی تعلقات اور روزمرہ زندگی کی مجموعی کارکردگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

 ہندوستان  میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، تیز رفتار شہر کاری اور کووڈ-19 وبا کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز نے ذہنی صحت کی خدمات کی ضرورت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ بروقت رہنمائی، معاونت اور علاج نہ صرف سنگین بحرانوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ زندگی کے معیار کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت ذہنی صحت کوجامع ترقی، سماجی استحکام اور پیداواری صلاحیت کے فروغ کے لیے ایک بنیادی ستون کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

مرکزی بجٹ 2026–2027: ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے عزم کو مزید مضبوط بنانا

مرکزی بجٹ 2026–27 میں حکومت نے ذہنی صحت اور ٹراما کیئر کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔ یہ اقدام تیسرے کرتویہ (فرض) کے تحت کمزور اور محروم طبقات کو وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ ہر خاندان، ہر برادری، ہر خطے اور ہر شعبے کو ضروری سہولیات میسر آ سکیں۔

 این آئی ایم ایچ اے این ایس کی توسیع

  • شمالی ہندوستان میں قومی سطح کا کوئی ذہنی صحت کا ادارہ موجود نہیں ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مرکزی بجٹ 2026–27 میں شمالی  ہندوستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی ایم ایچ اے این ایس - 2) کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • یہ ادارہ بنگلورو میں قائم موجودہ این آئی ایم ایچ اے این ایس  کی طرز پر قائم کیا جائے گا، جہاں جدید علاج، تربیت، تحقیق اور نیورو سائنسز کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

موجودہ اداروں کی اپ گریڈیشن

  • رانچی اورتیزپورکے قومی ذہنی صحت کے اداروں کو علاقائی اعلیٰ (ریجنل ایپکس) اداروں میں ترقی دی جائے گی۔
  • اس اقدام سے ان علاقوں میں خصوصی ذہنی صحت کی خدمات، طبی تعلیم اور ٹراما کیئر کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

ایمرجنسی اور ٹراما کیئر مراکز کا قیام

  • مرکزی بجٹ 2026–27 میں ملک کے ہر ضلع اسپتال میںایمرجنسی اور ٹراما کیئر مراکز قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
  • یہ مراکز تمام شہریوں کو چوبیس گھنٹے، کم لاگت پر ہنگامی طبی خدمات اور ذہنی صحت کی نگہداشت فراہم کریں گے۔

یہ اقدامات علاقائی عدم مساوات کو کم کرنے غریب اور کمزور طبقات کی رسائی بہتر بنانے اور مختلف عمر کے افراد، خواتین و مرد اور مختلف خطوں میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض کے بوجھ سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ذہنی فلاح و بہبود کی جانب پیش قدمی: بھارت کا اب تک کا سفر

 ہندوستان  نے ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک مضبوط بنیاد قائم کی ہے، جہاں بنگلور میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی ایم ایچ اے این ایس) تحقیق، تربیت اور علاج کا اعلیٰ ترین قومی ادارہ ہے۔ اس ادارے کو  سن 2024 میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سےنیلسن منڈیلا ایوارڈ برائے صحت کے فروغ سے نوازا گیا۔

اس قیادت کو آگے بڑھاتے ہوئے،  ہندوستان  کا ذہنی صحت کا شعبہ ذہنی بیماریوں سے وابستہ سماجی بدنامی (اسٹیگما) میں کمی، خدمات تک رسائی میں اضافہ اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دے رہا ہے۔ اس ضمن میں بحالی کے مراکز (ری ہیبلیٹیشن ہومز) کا قیام، کمیونٹی سطح پر روابط کو مضبوط بنانا اور ملک بھر میں معیاری، کم خرچ اور مساوی ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرنے کی کوششیں نمایاں پیش رفت ہیں۔

قومی ذہنی صحت نگہداشت ایکٹ، 2017

  • یہ تاریخی قانون 1987 کے ذہنی صحت ایکٹ کی جگہ نافذ کیا گیا، جس کے تحت ہر شہری کو معیاری اور کم خرچ ذہنی صحت کی خدمات حاصل کرنے کا قانونی حق دیا گیا۔
  • اس قانون کا مقصد ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے وقار اور حقوق کا تحفظ کرنا اور بھارت کے قانونی نظام کو اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ معذور افراد ( یو این سی آر پی ڈی) کے مطابق ہم آہنگ بنانا ہے۔
  • اس ایکٹ کی ایک اہم خصوصیت خودکشی کی کوشش کو جرم کے دائرے سے خارج کرنا ہے، تاکہ سزا کے بجائے بحالی اور علاج کو ترجیح دی جا سکے۔

قومی صحت پالیسی، 2017

  • اس اہم پالیسی نے ذہنی صحت کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے اس شعبے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کی۔
  • پالیسی کے تحت سرکاری مالی معاونت میں اضافہ کر کے ذہنی صحت کے ماہرین کی تربیت کو فروغ دینا اور ایسے پیشہ ور افراد کو سرکاری نظام صحت میں خدمات انجام دینے کے لیے ترجیح دینا شامل ہے، تاکہ ماہرین کی کمی دور ہو اور ان کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔
  • اس کے علاوہ کمیونٹی اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے بنیادی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔

آیوشمان بھارت اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے ذریعے انضمام

  • ملک بھر میں1.75 لاکھ سے زائد سب ہیلتھ سینٹرز ( ایس ایچ سیز) اورپرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سیز) کو آیوشمان آروگیہ مندروں میں اپ گریڈ کیا جا چکا ہے، جہاںجامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال (کمپری ہینسیو پرائمری ہیلتھ کیئر) کے حصے کے طور پر ذہنی صحت کی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم-جے اے وائے)

  • آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم –جے اے وائے) کے تحت ذہنی امراض،جن میں ذہنی معذوری، شیزوفرینیا، آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر اور دیگر ذہنی بیماریاں شامل ہیں جو علاج کے دائرۂ کار میں شامل ہیں۔
  • اس اسکیم کے تحت ذہنی صحت سے متعلق22 مخصوص طبی طریق علاج  کے لیے کیش لیس  علاج کی سہولت دستیاب ہے۔

قومی ذہنی صحت پروگرام(این ایم ایچ پی)- 1982

  • قومی ذہنی صحت پروگرام(ایم این ایچ پی) کا آغاز1982 میں ملک میں ذہنی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور مناسب ذہنی صحت کی خدمات کی کمی سے نمٹنے کے لیے کیا گیا۔
  • اس پروگرام کا بنیادی مقصد ذہنی صحت کی خدمات کو عمومی نظامِ صحت کا حصہ بنانا ہے، تاکہ یہ سہولیات ہر شہری کو آسانی سے  خصوصاً کمزور اور محروم طبقات کو دستیاب ہوں۔

ضلع ذہنی صحت پروگرام (ڈی ایم ایچ پی)

  • ضلع ذہنی صحت پروگرام( ڈی ایم ایچ پی) کا آغاز1996 میں کیا گیا، جسے بعد میںقومی ذہنی صحت پروگرام ( این ایم ایچ پی) میں ضم کر دیا گیا۔
  • یہ پروگرام کرناٹک کے کامیاب ‘بیلاری ماڈل’ پر مبنی ہے اور کمیونٹی کی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔
  • اس کا دائرۂ کار1996 میں ابتدائی4 اضلاع سے بڑھ کرنویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران 27 اضلاع تک پہنچا، جبکہ اب وزارت صحت و خاندانی بہبود اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ بھارت کے 767 اضلاع تک پھیل چکا ہے۔
  • اس پروگرام کے تحت درج ذیل خدمات فراہم کی جاتی ہیں: مشاورت (کونسلنگ) اور بیرونی مریضوں ( آؤٹ پیشنٹ) کا علاج۔ ضلع سطح پر10 بستروں پر مشتمل داخلہ وارڈ ۔  خودکشی کی روک تھام کے اقدامات۔عوامی آگاہی پروگرام۔ہر ضلع میں ایک مخصوص ماہر ٹیم تعینات کی جاتی ہے، جس میں: ماہرِ نفسیات، کلینیکل سائیکولوجسٹ، نفسیاتی سماجی کارکن، نفسیاتی یا کمیونٹی نرس، مانیٹرنگ و جائزہ افسر،  کیس رجسٹری اسسٹنٹ اوروارڈ اسسٹنٹ / وارڈ اٹینڈنٹ     شامل ہوتے ہیں۔پروگرام کے اہم اجزا میں ذہنی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج، جنرل معالجین کی مختصر مدت کی تربیت، صحت کارکنوں کو ذہنی امراض کی شناخت کی تربیت، عوامی آگاہی، معلومات، تعلیم و ابلاغ (آئی ایسی) مہمات، اور نگرانی کے لیے سادہ ریکارڈ رکھنے کا نظام شامل ہے۔

قومی خودکشی کی روک تھام کی حکمت عملی ( این ایس پی ایس)

  • وزارت صحت و خاندانی بہبودنے 2022 میں قومی خودکشی کی روک تھام کی حکمتِ عملی (این ایس پی ایس) کا آغاز کیا۔
  • اس حکمت عملی کا بنیادی ہدف 2030 تک  ہندوستان  میں خودکشی سے ہونے والی اموات میں10 فیصد کمی لانا ہے۔
  • اس کے اہم اقدامات میں شامل ہیں:
  • اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت کی اسکریننگ۔
  • بحرانی حالات کے لیے ہیلپ لائنز اور نفسیاتی معاونت مراکز کا قیام۔
  • ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی (اسٹیگما) کو کم کرنے کے لیے کمیونٹی آگاہی پروگرام۔
  • کام کی جگہوں پر ذہنی صحت کے پروگرام تاکہ بروقت شناخت اور معاونت ممکن ہو سکے۔
  • اس حکمت عملی میں طلبہ، کسانوں، نوجوانوں اور دیگر حساس و کمزور طبقات کو خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ ان کے لیے مؤثر روک تھام اور بروقت مداخلت کو یقینی بنایا جا سکے۔

قومی ٹیلی ذہنی صحت پروگرام(ایم اے این اے ایس)

  • قومی ٹیلی ذہنی صحت پروگرام( ایم اے این اے ایس) کا آغاز10 اکتوبر 2022 کو24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن دستیاب ٹول فری ہیلپ لائن (14416 یا 1-800-891-4416)** کے طور پر کیا گیا۔
  • اس کے ذریعے ذہنی صحت سے متعلق مفت ٹیلی مشاورت( ٹیلی- کونسلنگ) فراہم کی جاتی ہے، جبکہ پیچیدہ یا خصوصی نوعیت کے معاملات کو ماہرنفسیات، کلینیکل سائیکولوجسٹ، نفسیاتی سماجی کارکن اور نفسیاتی نرسوں کے پاس بھیجا جاتا ہے۔
  • ضرورت پڑنے پر افراد کو ضلع ذہنی صحت پروگرام (ڈی ایم ایچ پی) سے منسلک اداروں کے ذریعے بالمشافہ علاج کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ایم اے این اے ایس -ٹیلی کو  ڈی ایم ایچ پی کاڈجیٹل بازوتصور کیا جاتا ہے۔
  • یہ خدمات ریاستوں کے انتخاب کے مطابق 20  ہندوستانی زبانوں میں دستیاب ہیں۔
  • اب تک اس ہیلپ لائن پر **33 لاکھ 2 ہزار (33,02,000)** سے زائد کالز موصول ہو چکی ہیں، جنہیں کامیابی سے نمٹایا گیا ہے۔

 

ٹیلی-مانس (ایم اے این اے ایس -ٹیلی) کی جدید سہولیات

  • ٹیلی-مانس موبائل ایپ (اکتوبر 2024 میں شروع کی گئی) کوعالمی یوم ذہنی صحت 2025 کے موقع پر مزید بہتر بنایا گیا۔ نئی خصوصیات میں شامل ہیں:
  • 10 علاقائی زبانوں میں کثیر لسانی یوزر انٹرفیس ( ایم یو آئی)
  • بصارت سے محروم افراد کے لیے قابل رسائی  سہولیات
  • ہنگامی حالات سے متعلق رہنمائی اور معلومات
  • اس پروگرام کو23 مینٹرنگ اداروں اور5 علاقائی رابطہ مراکز (آر سی سی) کی معاونت حاصل ہے۔
  • فوری معلومات اور صارفین کی مؤثر رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹ ‘اسمی ’ متعارف کرایا گیا ہے۔
  • ویڈیو مشاورت کی سہولت ابتدا میں کرناٹک، تمل ناڈو اور جموں و کشمیر میں آزمائشی طور پر شروع کی گئی، جسےجون 2025 سے پورے ملک تک توسیع دے دی گئی۔
  • 5 فروری 2026 تک اس سہولت کے ذریعے مجموعی طور پر2,065 ویڈیو مشاورتی کالز انجام دی جا چکی ہیں۔

ذہنی صحت کی دیکھ بھال کا بنیادی ڈھانچہ

  • ہندوستان میں حکومت کے زیرانتظام 47 ذہنی امراض کے اسپتال موجود ہیں، جن میں:
  • 3 مرکزی ادارے: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز ( این آئی ایم ایچ اے این ایس)، بنگلور، لوک پریہ گوپی ناتھ بوردولوئی ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (ایل جی بی آر آئی ایم ایچ)، تیزپور،سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری (سی آئی پی)، رانچی،  اور 44 ریاستی سرکاری اسپتال شامل ہیں۔اس کے علاوہ، ملک کے تمام آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس-ایمس) میں بھی جدید اور خصوصی ذہنی صحت کی خدمات دستیاب ہیں۔

افرادی قوت کی ترقی کی اسکیم (اسکیم-اے) — مراکزِ امتیاز (سی ای)

نفسیات، کلینیکل سائیکولوجی، نفسیاتی سماجی خدمت اور نفسیاتی نرسنگ کی تربیت کو مضبوط بنانے کے لیے مجموعی طور پر25 مراکزامتیاز(سی ای) کی منظوری دی گئی ہے۔ان میں:

  • گیارہویں پانچ سالہ منصوبے (2007–2012) کے دوران11 مراکز،بارہویں پانچ سالہ منصوبے (2012–2017) کے دوران 10 مراکز اوربارہویں منصوبے کے بعد (2017–2018) مزید4 مراکز شامل کیے گئے۔
  • ان مراکز کو فراہم کی جانے والی گرانٹس کے ذریعے: عمارتوں کی بہتری، طبی آلات کی خریداری، کتب اور جرائد کے ذریعے لائبریریوں کی تقویت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، اساتذہ کی خدمات برقرار رکھنے، اعلیٰ درجے کی طبی خدمات،پوسٹ گریجویٹ نشستوں میں اضافہ، تحقیق اور ضلعی ذہنی صحت پروگرام ( ڈی ایم ایچ پی) کے مؤثر نفاذ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

افرادی قوت کی ترقی کی اسکیم (اسکیم B) — پوسٹ گریجویٹ شعبوں کی اپ گریڈیشن

انیس (19 )سرکاری اداروں کے47 پوسٹ گریجویٹ شعبوں کو جدید بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ان میں:گیارہویں منصوبے (2009–2011) کے دوران **11 اداروں کے 27 شعبے،بارہویں منصوبے (2015–2016)** میں 5 اداروں کے 13 شعبے، اور 2017–2018 کے دوران 3 اداروں کے مزید 7 شعبے شامل ہیں۔ان اپ گریڈیشنز کا مقصد ذہنی صحت کے ماہرین کی تربیت کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

صلاحیت سازی کے لیے ڈیجیٹل تربیتی اقدامات

سن 2018 سے ایل جی آر آئی ایم ایچ، این آئی ایم ایچ اے این ایس اور سی آئی پی رانچی میں قائم ڈجیٹل اکیڈمیوں کے ذریعے اب تک ایک لاکھ چھہتر ہزار چھ سو چون(1,76,454) صحت کے پیشہ ور افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔

‘آئی گوٹ-دکشا’  پلیٹ فارم، جس کا آغاز 2020 میں ہوا، کے ذریعے صحت کارکنوں، صف اول کے عملے اور کمیونٹی رضاکاروں کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ نچلی سطح پر ذہنی صحت کی خدمات کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

 نتائج

مرکزی بجٹ 2026–27بھارت کے ذہنی صحت کے شعبے میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ حکومت کے اس دیرینہ عزم کو مزید تقویت دیتا ہے کہ ملک میں ذہنی صحت کی ایسی جامع، قابل رسائی اور مساوی نظام نگہداشت قائم کیا جائے جو ہر شہری تک پہنچ سکے۔

شمالی  ہندوستان  میں  این آئی ایم ایچ اے این ایس-2 کے قیام اوررانچی و تیزپور کے اہم اداروں کو اپ گریڈ کرنے کے اعلانات کے ذریعے بجٹ نے علاقائی عدم توازن کو دور کرنے خصوصی طبی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، تربیت یافتہ افرادی قوت میں اضافہ کرنے اور ٹراما کیئر کی سہولیات کو بہتر بنانے کی سمت اہم قدم اٹھایا ہے۔یہ ہدفی اقدامات گزشتہ کئی دہائیوں میں رکھی گئی مضبوط بنیاد کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت ذہنی بیماریوں سے وابستہ سماجی بدنامی (اسٹیگما) میں کمی، علاج تک رسائی کے خلا کو پُر کرنے اور ذہنی فلاح و بہبود کو قومی پیداواری صلاحیت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جامع ترقی کے لیے ناگزیر عنصر کے طور پر ترجیح دینے کے لیے مسلسل پُرعزم ہے۔ ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد اور مسلسل نگرانی ہی اس پیش رفت کو ملک بھر میں لاکھوں افراد کے لیے حقیقی اور دیرپا فوائد میں تبدیل کرنے کی کلید ثابت ہوگی۔

 

حوالہ جات

پریس انفارمیشن بیورو


https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221455

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221458

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221410

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2026/feb/doc202621775901.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2022303&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2100706&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2100706&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=153277&lang=1&reg=3

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2188003&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2221458&reg=3&lang=1

وزارت صحت و خاندانی بہبود


https://www.mohfw.gov.in/?q=en/pressrelease-206

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU1019_QSxLwa.pdf?source=pqals#:~:text=(a):%20Under%20Ayushman%20Bharat,through%20the%20National%20Health%20Mission.

https://indianmhs.nimhans.ac.in/phase1/Docs/Summary.pdf

https://dghs.mohfw.gov.in/national-mental-health-programme.php

https://mohfw.gov.in/sites/default/files/9147562941489753121.pdf

وزارت مالیات

https://www.indiabudget.gov.in/doc/bh1.pdf

Advancing India’s Mental Healthcare and Well-Being

 

********

ش ح- ظ الف- ر ب

UR- 8692

(Explainer ID: 158916) आगंतुक पटल : 7
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Manipuri , Gujarati , Kannada , Malayalam