• Sitemap
  • Advance Search
Infrastructure

زندگی میں آسانی: ہندوستان کی جامع ترقی کا سفر

Posted On: 15 JUN 2026 4:05PM

2014 اور 2026 کے درمیان، گڈ گورننس (اچھی حکمرانی) کے ایک فیصلہ کن سفر نے ہندوستانی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بدل دیا۔ محفوظ رہائش، صاف ایندھن، پینے کے صاف پانی اور بہتر صفائی جیسی سہولتوں کے ذریعے لوگوں کو نئے مواقع حاصل ہوئے۔ قابلِ اعتماد بجلی، سستی روشنی اور بہتر نقل و حمل کے نیٹ ورک نے لاکھوں افراد کو سہولت اور رابطے کی بہتر سہولت فراہم کی۔ سڑکوں، جدید ریلوے، میٹرو نظام اور علاقائی فضائی راستوں نے سفری تھکاوٹ کو کم کیا اور بین العلاقائی سفر کو آسان بنایا۔

جن دھن اور مدرا جیسی اسکیموں کے ذریعے مالی شمولیت نے اُن شہریوں کے لیے بھی بینکاری اور قرض تک رسائی ممکن بنائی جو پہلے ان سہولتوں سے محروم تھے۔ اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمین (امرت)نے شہری بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا۔ ڈیجیٹل اصلاحات اور شراکتی پلیٹ فارمز، جیسے مائی گو، نے جوابدہی اور شہری شمولیت کو فروغ دیا۔

مجموعی طور پر، ان اقدامات نے ملک بھر کے خاندانوں کے لیے بااختیاری، وقار اور نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہندوستان کا بارہ سالہ سفر جامع ترقی کی ایک نمایاں مثال پیش کرتا ہے، جہاں اچھی حکمرانی نے روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا کر لاکھوں افراد کے لیے ترقی کی بنیادوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

تبدیلی کے بارہ سال: ہندوستان میں زندگی گزارنے میں آسانی کی کہانی

2014 کے بعد سے ہندوستان کا سفر وقار، مواقع اور جامع ترقی کی جانب ایک فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ بارہ سال حکمرانی میں بامقصد تبدیلی کے حامل رہے ہیں، جو مختلف مہتواکانکشی پروگراموں اور اصلاحات کے ذریعے ممکن ہوئی۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت محفوظ مکانات، پردھان منتری اجولا یوجنا کے ذریعے صاف ایندھن، اور جل جیون مشن کے تحت پینے کے صاف پانی نے روزمرہ زندگی کو نئی شکل دی۔ سوچھ بھارت مشن کے ذریعے ملک بھر میں صفائی ستھرائی میں بہتری آئی، جبکہ سوبھاگیہ یوجنا کے ذریعے لاکھوں گھروں تک قابلِ اعتماد بجلی پہنچی۔ نئی شاہراہوں، سرنگوں، پلوں، میٹرو نیٹ ورکس اور علاقائی فضائی راستوں کے ساتھ نقل و حمل اور رابطے کے نظام میں تاریخی رفتار سے توسیع ہوئی۔

پردھان منتری جن دھن یوجنا اور پردھان منتری مدرا یوجنا کے ذریعے مالی شمولیت نے شہریوں کو بینکاری، قرض اور مالی تحفظ کے ذریعے بااختیار بنایا۔ اٹل مشن برائے احیا و شہری تبدیلی کے تحت شہری ترقی نے ہزاروں قصبوں میں بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو مضبوط کیا۔ ڈیجیٹل اصلاحات اور مائی گو جیسے شہری پلیٹ فارمز نے شراکت داری، جوابدہی اور حکمرانی پر اعتماد کو مزید گہرا کیا۔ ان اقدامات نے مل کر سکون، سلامتی اور مواقع کا ایک نیا ماحول پیدا کیا۔

رہائش اور بنیادی سہولیات

ایک محفوظ اور پکے (مستقل) گھر تک رسائی باوقار زندگی کی بنیاد ہے۔ 2014 سے پہلے شہری اور دیہی ہندوستان دونوں میں سرکاری رہائش کی فراہمی کا پیمانہ اور رفتار ضرورت کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) 2015 میں شہری علاقوں کے لیے شروع کی گئی۔ بعد ازاں 2016 میں اسے دیہی علاقوں تک توسیع دیتے ہوئے پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین (پی ایم اے وائی-جی) کا آغاز کیا گیا، جس نے سستی رہائش کی فراہمی کے تصور کو نئی جہت دی۔

پردھان منتری آواس یوجنا اربن (پی ایم اے وائی-یو)

2015 میں شروع کی گئی پی ایم اے وائی-یو ہر اہل شہری گھرانے کو پکے مکانات فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیم ہندوستان کے تمام شہری علاقوں میں اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس)، کم آمدنی والے گروہوں (ایل آئی جی) اور متوسط آمدنی والے گروہوں (ایم آئی جی) کو خدمات فراہم کرتی ہے۔

پی ایم اے وائی-یو 2.0، جو 2024 میں شروع کی گئی، کے تحت اہل خاندانوں کو مستفید کی زیرِ قیادت تعمیر (بی ایل سی) کے لیے 2.50 لاکھ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت خاندان کی خاتون رکن کا مالک یا شریک مالک ہونا ضروری ہے۔

اس کے آغاز سے اب تک پی ایم اے وائی-یو کے تحت 1.25 کروڑ سے زائد مکانات کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 98 لاکھ سے زیادہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 2005 سے 2014 کے درمیان سابقہ اسکیموں کے تحت صرف 8 لاکھ شہری مکانات مکمل ہوئے تھے۔

پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین (پی ایم اے وائی-جی)

پی ایم اے وائی-جی، جو 2016 میں شروع کی گئی، کے تحت میدانی علاقوں میں فی گھر 1.20 لاکھ روپے اور پہاڑی و دشوار گزار علاقوں میں فی گھر 1.30 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

2016 اور 2026 کے درمیان 3.98 کروڑ مکانات کی تعمیر کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان میں سے 3.91 کروڑ مکانات کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 3.05 کروڑ مکانات مکمل ہو چکے ہیں۔ منظور شدہ مکانات میں سے 75 فیصد خواتین کی ملکیت یا مشترکہ ملکیت میں ہیں۔ تمام مکانات کو بیت الخلا، پینے کے پانی اور بجلی کے کنکشن جیسی بنیادی سہولتوں سے مربوط کیا گیا ہے۔

اٹل مشن برائے احیا و شہری تبدیلی (امرت)

2015 میں شروع کیے گئے اٹل مشن فار ریجوونیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن (امرت) نے شہری مراکز میں بنیادی خدمات کی کمی کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امرت کے پہلے مرحلے میں 500 شہروں کا احاطہ کیا گیا، جس میں پانی کی فراہمی، سیوریج، سبز مقامات اور شہری نقل و حمل پر توجہ دی گئی۔

اکتوبر 2021 میں امرت 2.0 کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت 2.99 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت سے ملک کے تمام 4,800 قانونی قصبوں کو شامل کیا گیا۔ یہ مختص رقم اصل مشن کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھی۔ 2015 سے پہلے جے این این یو آر ایم کے تحت 62,983 کروڑ روپے کے منصوبوں کے مقابلے میں امرت اور امرت 2.0 کے تحت 2.79 لاکھ کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

ضروری اشیا تک عالمگیر رسائی

2014 سے پہلے بہت سے شہری باوقار زندگی کے لیے درکار بنیادی سہولتوں سے محروم تھے۔ دیہی خواتین کو بالخصوص صاف ایندھن، پینے کے صاف پانی اور صفائی کی مناسب سہولتوں کے فقدان کے باعث متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان خلا کو منظم انداز میں پُر کرنے کے لیے ملک گیر سطح پر ہدفی مشن شروع کیے گئے۔ ان کے نتائج نہایت انقلابی ثابت ہوئے اور ملک کے ہر خطے میں کروڑوں مستفیدین تک ان کے فوائد پہنچے۔ یہ اقدامات آزاد ہندوستان میں معیارِ زندگی میں آنے والی سب سے بڑی بہتریوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی)

مئی 2016 میں شروع کی گئی پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) نے صاف ایل پی جی کنکشن تک رسائی فراہم کرکے دیہی علاقوں میں کھانا پکانے کے طریقوں کو بدل کر رکھ دیا۔ اس اسکیم نے تیزی سے توسیع کرتے ہوئے ستمبر 2019 تک 8 کروڑ کنکشن فراہم کرنے کا اپنا ابتدائی ہدف حاصل کر لیا۔ باقی ماندہ گھرانوں کا احاطہ کرنے کے لیے اگست 2021 میں اجولا 2.0 کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت مزید 1 کروڑ کنکشن فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ یہ ہدف جنوری 2022 تک حاصل کر لیا گیا۔

اس کے بعد حکومت نے مزید 60 لاکھ کنکشنوں کی منظوری دی، جس سے مستفیدین کی تعداد دسمبر 2022 تک 9.60 کروڑ تک پہنچ گئی۔ جولائی 2024 تک مزید 75 لاکھ کنکشن فراہم کیے گئے۔ بعد ازاں مالی سال 2025-26 میں مزید 25 لاکھ کنکشنوں کی منظوری دی گئی، جس سے ایل پی جی تک رسائی مزید مضبوط ہوئی۔ مجموعی طور پر 10.57 کروڑ سے زائد صاف ایندھن کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں، جس سے وسیع پیمانے پر سہولت اور وقار کو فروغ ملا ہے۔

قومی ایل پی جی کوریج اپریل 2014 میں 55.9 فیصد سے بڑھ کر اپریل 2026 میں 107.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو وسیع تر رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی عرصے میں صارفین کی تعداد 14.51 کروڑ سے بڑھ کر 33.39 کروڑ ہو گئی۔ مارچ 2026 تک تقسیم کاروں اور بوٹلنگ کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے ذریعے دیہی علاقوں میں رسائی مزید بہتر بنائی گئی۔

جل جیون مشن (جے جے ایم)

جل جیون مشن (جے جے ایم) نے ’’ہر گھر جل‘‘ کے اپنے ہدف کے تحت نل کے ذریعے پانی کی فراہمی میں نمایاں توسیع کی ہے۔ 2019 میں جے جے ایم کے آغاز کے وقت صرف 3.23 کروڑ (16.72 فیصد) دیہی گھرانوں کے پاس نل کے پانی کا کنکشن موجود تھا۔ جون 2026 تک 15.86 کروڑ (81.94 فیصد) سے زائد دیہی گھرانوں کو صاف پائپ والے پانی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔ صرف چھ برسوں میں 2.08 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ذریعے تقریباً 12 کروڑ نئے کنکشن فراہم کیے گئے۔

جل جیون مشن نے دیہی ہندوستان میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ 9 کروڑ سے زائد خواتین کو پانی لانے کی مشقت سے نجات ملی، جس سے ان کا وقت بچا اور صحت میں بہتری آئی۔ 1.81 لاکھ سے زائد دیہاتوں کو گرام سبھاؤں کی جانب سے ’’ہر گھر جل‘‘ کے طور پر تصدیق کیا جا چکا ہے، جس سے عالمگیر رسائی کو یقینی بنایا گیا۔ مزید برآں، 11 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے دیہی گھرانوں کی مکمل کوریج حاصل کر لی، جو پانی کے تحفظ اور فراہمی کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

اس مشن میں پانی کے معیار کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مالی سال 2025-26 تک 2,843 تجربہ گاہوں میں 38.78 لاکھ نمونوں کی جانچ کی گئی۔ 24.80 لاکھ سے زائد خواتین کو فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس کے استعمال کی تربیت دی گئی، جس سے گاؤں کی سطح پر شمولیت، نگرانی اور اعتماد کو فروغ ملا۔

مارچ 2026 میں جے جے ایم 2.0 کے تحت اس مشن کی مدت دسمبر 2028 تک بڑھا دی گئی۔ اس توسیع شدہ مرحلے میں 8.69 لاکھ کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں 3.59 لاکھ کروڑ روپے کی مرکزی معاونت شامل ہے۔

سوچھ بھارت مشن (ایس بی ایم)

سوچھ بھارت مشن-گرامین (ایس بی ایم-جی)، جو 2014 میں شروع کیا گیا تھا، نے دیہی گھرانوں کو بیت الخلا کی سہولت فراہم کرکے دیہات میں وقار اور حفظانِ صحت کو فروغ دیا۔ صفائی ستھرائی کی کوریج میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ 2014 میں 39 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 100 فیصد تک پہنچ گئی، جس سے ملک بھر میں نمایاں تبدیلی آئی۔

ایس بی ایم-جی کی کامیابیاں قابلِ ذکر ہیں۔ جون 2026 تک مجموعی طور پر 12.14 کروڑ سے زائد گھریلو بیت الخلا اور 2.76 لاکھ کمیونٹی سینیٹری کمپلیکس تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ 5.69 لاکھ سے زائد گاؤں کو او ڈی ایف پلس قرار دیا گیا ہے۔ 5.34 لاکھ گاؤں میں ٹھوس کچرے کے انتظام کے انتظامات موجود ہیں، جبکہ 5.55 لاکھ گاؤں میں مائع کچرے کے انتظام کے انتظامات قائم کیے جا چکے ہیں۔

سوچھ بھارت مشن-اربن (ایس بی ایم-یو): 2014 میں شروع کیے گئے اس مشن نے شہروں اور قصبوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنایا۔ 2014 سے 2026 کے درمیان 63 لاکھ سے زائد گھریلو بیت الخلا اور 6 لاکھ سے زائد کمیونٹی بیت الخلا تعمیر کیے گئے۔ شہری فضلے کی پروسیسنگ 2014 میں 16 فیصد کے مقابلے میں 2026 میں بڑھ کر 82 فیصد ہو گئی۔ گھر گھر کچرا جمع کرنے کی شرح 2014 میں 43 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 98 فیصد تک پہنچ گئی۔

سوچھ بھارت مشن کا مجموعی اثر بھی نمایاں رہا۔ تمام 35 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے شہری مقامی اداروں (یو ایل بی) نے اکتوبر 2019 میں خود کو او ڈی ایف قرار دیا۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازے کے مطابق 2019 میں 2014 کے مقابلے میں اسہال سے ہونے والی اموات میں تقریباً 3 لاکھ کی کمی واقع ہوئی۔

سب کے لیے بجلی: قابلِ اعتماد، سستی اور صاف توانائی

قابلِ اعتماد بجلی روزمرہ زندگی کے آرام اور سہولت کی بنیادی ضرورت ہے۔ گزشتہ بارہ سالوں میں ہندوستان نے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور آخری صارف تک رسائی کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ اس کے نتیجے میں گھروں میں زیادہ روشنی، زیادہ سہولت اور بہتر معیارِ زندگی ممکن ہوا ہے۔

پیداواری صلاحیت اور قابلِ اعتماد، صاف گرڈ

گزشتہ بارہ برسوں میں بجلی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ مالی سال 2013-14 میں 248 گیگاواٹ سے بڑھ کر مارچ 2026 تک 532 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی۔

قابلِ تجدید ذرائع اب اس مجموعی صلاحیت کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتے ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت 2014 میں 76.38 گیگاواٹ سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 274.69 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ ہندوستان کے پاس اب دنیا کی تیسری سب سے بڑی صاف توانائی کی صلاحیت موجود ہے۔

شمسی توانائی کی صلاحیت 2014 میں 2.82 گیگاواٹ کے مقابلے میں بڑھ کر 150.26 گیگاواٹ ہو چکی ہے۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت مارچ 2014 کے 21.04 گیگاواٹ سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 56.09 گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو تقریباً 2.66 گنا اضافہ ہے۔ جوہری توانائی کی صلاحیت میں 84 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مارچ 2014 کے 4.78 گیگاواٹ کے مقابلے میں مارچ 2026 میں 8.78 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ پن بجلی کی صلاحیت مارچ 2026 میں 51.4 گیگاواٹ رہی، جبکہ بایو ماس اور دیگر ذرائع سے 11.74 گیگاواٹ صلاحیت حاصل ہوئی۔

شہریوں کے لیے بجلی اب تقریباً چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اوسط دیہی بجلی فراہمی 2014 میں 12.5 گھنٹے سے بڑھ کر 2026 میں 22.6 گھنٹے ہو گئی، جبکہ شہری علاقوں میں اوسطاً 23.4 گھنٹے روزانہ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

قومی سطح پر توانائی کی کمی 2013-14 میں 4.2 فیصد سے کم ہو کر 2025-26 میں صرف 0.03 فیصد رہ گئی۔ اسی طرح فی کس بجلی کی کھپت 2013-14 میں 957 کلو واٹ گھنٹے سے بڑھ کر 2024-25 میں 1,460 کلو واٹ گھنٹے تک پہنچ گئی۔

اعلیٰ بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے ریکارڈ صلاحیت

ہندوستان نے 25 اپریل 2026 کو 256.1 گیگاواٹ کی اپنی تاریخ کی بلند ترین بجلی طلب کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس طلب کو بغیر کسی کمی کے پورا کیا گیا، جبکہ پڑوسی ممالک کو بجلی کی برآمدات بھی جاری رہیں۔ اس سنگِ میل نے مئی 2024 میں ریکارڈ کی گئی 250 گیگاواٹ کی سابقہ بلند ترین سطح کو پیچھے چھوڑ دیا۔ موسمِ گرما کے باعث طلب میں اضافے کے نتیجے میں اپریل 2026 میں 8.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 65 گیگاواٹ کی ریکارڈ اضافی صلاحیت نے مستقبل کی طلب کو پورا کرنے کی تیاری کو مزید مضبوط بنایا۔ شمسی، پن بجلی، جوہری اور تھرمل توانائی سمیت مختلف ذرائعِ پیداوار نے نظام کی پائیداری اور گرڈ کے استحکام کو یقینی بنایا۔

220 کے وی اور اس سے زیادہ صلاحیت کی ٹرانسمیشن لائنوں کا نیٹ ورک جنوری 2026 تک بڑھ کر 5 لاکھ سرکٹ کلومیٹر سے تجاوز کر گیا۔ ٹرانسفارمیشن کی صلاحیت 1,407 جی وی اے (220 کے وی اور اس سے زیادہ) تک پہنچ گئی، جبکہ بین العلاقائی ترسیلی صلاحیت جنوری 2026 میں 120 جی ڈبلیو تک پہنچ گئی۔ ہندوستان اب ایک ہی فریکوئنسی پر چلنے والے دنیا کے سب سے بڑے ہم آہنگ قومی گرڈ کا حامل ہے۔

سوبھاگیہ: ہر گھر تک بجلی کی رسائی

2017 میں شروع کی گئی پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا (سوبھاگیہ) کے تحت بجلی سے محروم دیہی اور شہری گھرانوں کو آخری مرحلے تک مفت بجلی کنکشن فراہم کیے گئے۔ مارچ 2022 تک تقریباً 2.86 کروڑ گھرانوں کو بجلی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے تھے۔ تمام اہداف کی تکمیل کے ساتھ ہی اس اسکیم کا کامیاب اختتام ہوا۔

پی ایم سوریہ گھر: گھروں کو بجلی پیدا کرنے والوں میں تبدیل کرنا

فروری 2024 میں شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت گھرانوں کو مرکزی حکومت کی فراخ دلانہ سبسڈی کے ساتھ چھتوں پر شمسی پینل نصب کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ہر گھرانہ ماہانہ 300 یونٹ تک مفت بجلی حاصل کرنے کا اہل ہے۔ اس اسکیم کے تحت 78,000 روپے تک کی سبسڈی براہِ راست مستفیدین کے کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔

مئی 2026 تک 40 لاکھ سے زائد گھروں میں روف ٹاپ سولر سسٹم نصب کیے جا چکے تھے۔ اس اسکیم کے تحت مالی سال 2026-27 تک ایک کروڑ گھروں میں سولر سسٹم نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے لیے 75,021 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خاندان نہ صرف اپنے بجلی کے بلوں میں کمی لا رہے ہیں بلکہ اضافی بجلی فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر رہے ہیں۔

اجالا: سب کے لیے سستی اور توانائی مؤثر روشنی

اُنّت جیوتی بائے افورڈیبل ایل ای ڈی فار آل (اجالا) اسکیم کے تحت گزشتہ بارہ برسوں میں 37 کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کیے گئے، جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین کو سالانہ 19,153 کروڑ روپے کی بچت حاصل ہوئی۔

قابلِ اعتماد بجلی اب دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں تعلیم، صنعت اور گھریلو آسائشوں کو تقویت فراہم کر رہی ہے۔ صاف توانائی کے ذرائع میں تیزی سے توسیع ہوئی ہے، جس سے پائیدار ترقی کو فروغ ملا ہے اور جیواشم ایندھن پر انحصار میں کمی آئی ہے۔

مالیاتی شمولیت اور بااختیار بنانا

2014 کے بعد سے ہندوستان نے مالیاتی شمولیت کے متعدد باہم مربوط پروگرام متعارف کرائے ہیں، جنہوں نے بچت، قرض، بیمہ اور پنشن سمیت مالیاتی خدمات کا ایک جامع نظام تشکیل دیا ہے۔ ان اقدامات نے مواقع میں اضافہ کیا، مالی تحفظ کو مضبوط بنایا اور لاکھوں افراد کو جدید مالیاتی نظام میں اعتماد کے ساتھ شرکت کے قابل بنایا۔

پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی)

جن دھن، آدھار اور موبائل پر مشتمل جے اے ایم تثلیث ہندوستان کے فلاحی نظام کی فراہمی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی) اس کا پہلا ستون تھی، جس نے مالیاتی نظام سے محروم کروڑوں شہریوں کے لیے بینکاری تک رسائی کا دروازہ کھول دیا۔ اس نے براہِ راست فوائد کی منتقلی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی، جس کے ذریعے حکومتی فوائد شفاف، محفوظ اور بغیر کسی رساو کے مستحقین تک پہنچنے لگے۔

اگست 2014 میں شروع کی گئی پی ایم جے ڈی وائی دنیا کی سب سے بڑی مالیاتی شمولیت کی مہم ہے۔ اس کے تحت کھاتوں کی تعداد 2015 میں 14.72 کروڑ سے بڑھ کر جون 2026 تک 58 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ جون 2026 تک ان کھاتوں میں جمع شدہ رقوم 3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئیں، جو عوام کے اعتماد اور فعال استعمال کی عکاسی کرتی ہیں۔

پی ایم جے ڈی وائی کے کھاتے فلاحی فوائد کی فراہمی کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئے ہیں۔ صرف مالی سال 2024-25 میں براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) اسکیموں کے تحت 6.9 لاکھ کروڑ روپے مستفیدین کے کھاتوں میں براہِ راست منتقل کیے گئے۔ ڈی بی ٹی کے تحت 327 اسکیمیں شامل ہیں، جس سے ملک بھر میں حکمرانی زیادہ جامع، شفاف اور جوابدہ بنی ہے۔

جون 2026 تک 40.60 کروڑ ڈیبٹ کارڈ جاری کیے جا چکے تھے، جن کے ساتھ حادثاتی بیمہ تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔ اس اقدام نے لاکھوں نئے بینک کھاتہ داروں کو مالی تحفظ اور سلامتی فراہم کی، جس سے ان کی روزمرہ زندگی بہتر ہوئی اور مالی خطرات میں کمی آئی۔

پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی)

طویل عرصے تک چھوٹے اور خرد کاروباری افراد کو رسمی قرضوں تک محدود رسائی حاصل تھی۔ نتیجتاً وہ غیر رسمی قرض دہندگان پر انحصار کرتے تھے، جو اکثر زیادہ شرحِ سود وصول کرتے تھے۔ 2015 میں شروع کی گئی پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) نے خرد کاروباروں کو ترقی کا اہم ذریعہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں ضمانت سے پاک ادارہ جاتی قرضے فراہم کیے۔

اس کے آغاز سے اب تک پی ایم ایم وائی کے تحت 57.7 کروڑ سے زائد قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کی مجموعی مالیت 40 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ خواتین کو منظور کیے گئے مدرا قرضوں کا 66 فیصد حصہ ملا، جس کی مجموعی مالیت 16.88 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ تقریباً نصف مستفیدین درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے تعلق رکھتے تھے، جو سماجی انصاف اور مالی شمولیت کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

مالی سال 2024-25 میں ’’ترون پلس‘‘ کے نام سے ایک نیا زمرہ متعارف کرایا گیا، جس کے تحت قرض کی حد بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی۔ یہ سہولت ان کاروباری افراد کے لیے متعارف کرائی گئی جو پہلے حاصل کیے گئے قرضوں کی کامیابی سے ادائیگی کر چکے تھے۔

لیبر بیورو کے ایک مطالعے کے مطابق، پی ایم ایم وائی کے تحت فراہم کیے گئے قرضوں نے 2015 سے 2018 کے درمیان تقریباً 1.12 کروڑ روزگار کے مواقع پیدا کیے۔

نقل و حمل اور رابطہ کاری

رابطہ کاری ترقی، مواقع کی فراہمی اور ملک بھر میں زندگی گزارنے میں آسانی پیدا کرنے کی بنیادی قوت ہے۔ 2014 میں ہندوستان کا نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ شاہراہوں کی سست رفتار تعمیر، محدود میٹرو کوریج اور محدود علاقائی فضائی رابطے کی عکاسی کرتا تھا۔ جدید بین المدن ریلوے خدمات بھی دستیاب نہیں تھیں، جس کے باعث عام مسافروں کے پاس محدود اور غیر مؤثر سفری اختیارات موجود تھے۔ 2014 سے 2026 کے درمیان ہندوستان نے سڑکوں، ریلوے، شہری نقل و حمل اور ہوا بازی کے شعبوں میں غیر معمولی رفتار سے ترقی کی۔

سڑکیں اور قومی شاہراہیں

2014 سے 2026 کے درمیان ہندوستان کے سڑک نیٹ ورک میں نمایاں توسیع ہوئی، جس نے رابطہ کاری اور روزمرہ نقل و حرکت کو نئی شکل دی۔ 63.73 لاکھ کلومیٹر کے ساتھ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سڑک نیٹ ورک بن چکا ہے۔

قومی شاہراہوں کی لمبائی تقریباً 61 فیصد بڑھ کر مالی سال 2013-14 کے 91,287 کلومیٹر سے مارچ 2026 تک 1,46,572 کلومیٹر ہو گئی۔ چار لین یا اس سے زیادہ چوڑائی والی شاہراہوں کی لمبائی 2014 میں 18,371 کلومیٹر سے بڑھ کر 45,516 کلومیٹر تک پہنچ گئی۔ ملک بھر میں 3,644 کلومیٹر طویل رسائی پر قابو پانے والے ایکسپریس ویز اور تیز رفتار راہداریوں کا نیٹ ورک فعال ہے، جس سے سفر کا وقت اور ٹریفک کا دباؤ کم ہوا ہے۔ مارچ 2026 تک بھارت مالا پروجیکٹ کے تحت 22,590 کلومیٹر سڑکیں مکمل کی جا چکی تھیں۔

رابطہ کاری کے بارہ سال: اہم سنگِ میل

  • زیڈ مور/سون مرگ ٹنل (2025) نے لداخ تک رسائی کو بہتر بنایا، جس سے سیاحت اور مقامی معیشت کو تقویت ملی۔
  • سدرشن سیتو (2024) اوکھا کو بیت دوارکا سے جوڑتا ہے، جس سے زیارتی اور ساحلی سرگرمیوں کو فروغ ملا۔
  • میتری سیتو (2021) نے تریپورہ کو بنگلہ دیش سے جوڑا، جس سے تجارت اور مسافروں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا۔
  • اٹل ٹنل (2020) نے منالی اور لاہول-اسپیتی کے درمیان ہر موسم میں رابطہ ممکن بنایا اور فاصلہ 46 کلومیٹر کم کر دیا۔
  • ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی ٹنل (سابقہ چینانی-نشری ٹنل، 2017) نے جموں-سری نگر سفر کے وقت میں تقریباً دو گھنٹے کی کمی کی۔
  • دھولا-سادیا پل (2017) نے آسام اور اروناچل پردیش کو جوڑ کر شمال مشرقی خطے تک رسائی کو بہتر بنایا۔

حالیہ بڑے منصوبے

  • دہلی-دہرادون اکنامک کوریڈور (2026) نے سفر کا وقت چھ گھنٹے سے کم کرکے تقریباً ڈھائی گھنٹے کر دیا، جبکہ اس میں ایشیا کا طویل ترین ایلیویٹڈ وائلڈ لائف کوریڈور بھی شامل ہے۔
  • احمد آباد-دھولیرا ایکسپریس وے (2026) نے لاجسٹکس کو مضبوط بنایا اور سفر کا وقت کم کیا۔
  • بہار میں دریائے گنگا پر این ایچ-31 پل (2025) نے بھاری گاڑیوں کے سفر کے راستے کو 100 کلومیٹر سے زیادہ کم کر دیا۔
  • اربن ایکسٹینشن روڈ-II (2025)، جو دہلی کی تیسری رنگ روڈ ہے، نے مال برداری کی نقل و حرکت کو تیز کیا۔
  • دوارکا ایکسپریس وے (2025) کے دہلی سیکشن نے دہلی اور این سی آر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا۔

پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی)

پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی) کا آغاز پائیدار اور ہر موسم میں قابلِ استعمال دیہی سڑک رابطہ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس اسکیم نے دیہاتوں کو بازاروں، اسکولوں اور اسپتالوں سے جوڑ کر سفر کو آسان اور روزمرہ زندگی کو بہتر بنایا۔

اس منصوبے کے لیے بجٹ امداد 2014-15 میں 386 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 19,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ 2014 سے 2026 کے دوران 4.11 لاکھ کلومیٹر سڑکیں مکمل کی گئیں، جبکہ 2000 سے 2014 کے درمیان یہ تعداد 3.86 لاکھ کلومیٹر تھی۔ اب تک 99.6 فیصد اہل بستیوں کو سڑک رابطے سے جوڑا جا چکا ہے۔

اسی عرصے میں تعمیر شدہ پلوں کی تعداد 484 سے بڑھ کر 10,293 ہو گئی، جس سے دور دراز علاقوں کی تنہائی کم ہوئی اور دیہی ترقی کو فروغ ملا۔

2014 سے 2026 کے درمیان سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے شعبے کے لیے بجٹ مختص میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوا۔ شاہراہوں کی توسیع نے ملک کے مختلف خطوں میں تجارت، سیاحت، رسد اور علاقائی ترقی کو نئی رفتار دی۔

ریلوے

ہندوستانی ریلوے ملک کی لائف لائن ہے، جو روزانہ کروڑوں مسافروں اور لاکھوں ٹن مال کی نقل و حمل کرتی ہے۔ 2014 کے بعد سے توجہ فیصلہ کن طور پر رفتار، سہولت، حفاظت اور صلاحیت میں اضافے پر مرکوز رہی ہے۔

ریلوے نیٹ ورک کی برق کاری میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ مارچ 2026 تک ریلوے نیٹ ورک کا 99.6 فیصد حصہ برقی بنایا جا چکا ہے، جبکہ 2014 سے پہلے یہ شرح صرف 20 فیصد تھی۔ اس کے تحت 69,873 روٹ کلومیٹر کا احاطہ کیا گیا ہے، جس سے کارکردگی میں اضافہ اور جیواشم ایندھن پر انحصار میں کمی آئی ہے۔

کاوچ، جو ہندوستان کا مقامی خودکار ٹرین تحفظ نظام ہے، ٹرینوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا ہے اور تصادم سے بچاؤ کے لیے خودکار بریکنگ کا نظام فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام 3,103 روٹ کلومیٹر پر نافذ کیا جا چکا ہے، جبکہ 24,427 کلومیٹر پر اس پر عمل درآمد جاری ہے۔ اسے 4,277 انجنوں میں نصب کیا جا چکا ہے اور مزید 8,979 انجنوں میں تنصیب کا عمل جاری ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں ٹرین حادثات کی تعداد 2014-15 میں 135 سے کم ہو کر 2025-26 میں صرف 16 رہ گئی۔

ترقی کے اس عزم کا اندازہ ریلوے کے بجٹ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اس عرصے کے دوران ریلوے کے لیے مجموعی بجٹ مختص تقریباً نو گنا بڑھ گیا، جو 2014-15 میں تقریباً 32,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں تقریباً 2.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس مسلسل سرمایہ کاری نے مسافروں کے لیے سفر کو زیادہ محفوظ، آرام دہ اور سہل بنا دیا ہے۔

وندے بھارت

پہلی وندے بھارت ایکسپریس 15 فروری 2019 کو ہندوستان کی مقامی طور پر ڈیزائن کی گئی نیم تیز رفتار ٹرین کے طور پر شروع کی گئی تھی۔ مارچ 2026 تک ملک بھر میں 162 خدمات چل رہی تھیں، جو ہندوستانی ریلوے میں اس سروس کی تیز رفتار توسیع کی عکاسی کرتی ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں ان ٹرینوں نے 3.98 کروڑ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اپنے آغاز کے بعد سے 9.1 کروڑ سے زائد مسافروں نے تقریباً ایک لاکھ سفروں کے ذریعے اس خدمت سے استفادہ کیا، جو عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔

وندے بھارت سلیپر سروس جنوری 2026 میں متعارف کرائی گئی، جس نے ہاوڑہ اور گوہاٹی کو جوڑا۔ اپنے پہلے تین ماہ کے دوران اس سروس نے 119 سفروں میں 1.21 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی۔

امرت بھارت ٹرینیں

امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں نے طویل فاصلے کے سفر میں سستی اور آرام دہ سہولت فراہم کی ہے۔ مکمل طور پر نان اے سی پر مشتمل 60 فعال امرت بھارت ٹرین خدمات ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں اور قصبوں کے مسافروں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ یہ ٹرینیں جدید نشستوں اور حفاظتی خصوصیات کے ساتھ کم خرچ، نان اے سی اور زیادہ گنجائش والا سفر فراہم کرتی ہیں۔ اس سے کم آمدنی اور نچلے متوسط طبقے کے مسافروں کے لیے آرام دہ اور کم لاگت نقل و حرکت ممکن ہوئی ہے، جبکہ طویل فاصلے تک رسائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم

2023 میں شروع کی گئی امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت 1,338 ریلوے اسٹیشنوں کو طویل مدتی ترقی اور جدیدکاری کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں سے 157 اسٹیشن امنگوں والے اضلاع میں واقع ہیں، جو جامع بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بناتے ہیں۔

یکم اپریل 2026 تک 208 اسٹیشنوں کو جدید سہولتوں اور بہتر مسافر خدمات کے ساتھ اپ گریڈ کیا جا چکا تھا۔ ان سہولتوں میں پارکنگ، ویٹنگ لاؤنجز، لفٹیں، ایسکلیٹرز، بہتر بیت الخلا اور حقیقی وقت پر مبنی معلوماتی نظام شامل ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں 119 جدید اور ازسرِنو تعمیر شدہ اسٹیشنوں کا افتتاح کیا گیا، جو اس منصوبے کی نمایاں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور

احمد آباد-ممبئی بلٹ ٹرین منصوبہ زیرِ تعمیر ہے، جبکہ اس کا سورت-بلمورا سیکشن 2027 میں آپریشنل (زیر عمل )ہونے کی توقع ہے۔ 508 کلومیٹر طویل اس راہداری کو 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

مرکزی بجٹ 2026-27 میں سات اضافی بلٹ ٹرین راہداریوں کا اعلان کیا گیا، جن کا مقصد بڑے شہروں کو زیادہ تیز اور مؤثر طریقے سے جوڑنا ہے۔ ان مجوزہ راستوں میں شامل ہیں:

  • ممبئی–پونے
  • پونے–حیدرآباد
  • حیدرآباد–بنگلورو
  • حیدرآباد–چنئی
  • چنئی–بنگلورو
  • دہلی–وارانسی
  • وارانسی–سلی گوڑی

یہ اعلانات ہندوستان کی ترقی، قومی یکجہتی اور پائیدار ترقی میں تیز رفتار ریل کے اسٹریٹجک کردار کو اجاگر کرتے ہیں۔

شہری ہوابازی — اڑان

2014 میں صرف 74 ہوائی اڈے فعال تھے، جس کے باعث چھوٹے شہر فضائی رابطے سے محروم تھے۔ اکتوبر 2016 میں شروع کی گئی علاقائی رابطہ کاری اسکیم ’’اُڑے دیش کا عام شہری‘‘ (اڑان) نے اس صورتحال کو تبدیل کر دیا۔

2026 تک اڑان کے تحت 95 ہوائی اڈوں، ہیلی پورٹس اور واٹر ایروڈرومز پر 665 فضائی راستے فعال کیے جا چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اپریل 2026 تک ہندوستان میں ہوائی اڈوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 165 ہو گئی۔

اس توسیع کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) کی معاونت جاری رکھی، جس کے ذریعے ایئر لائنز نئے راستوں پر مؤثر طریقے سے خدمات فراہم کر سکیں۔ اس امداد نے سستے کرایوں کو یقینی بنایا اور علاقائی رابطے کو مضبوط کیا، جس سے لاکھوں شہریوں کے لیے ہوائی سفر قابلِ رسائی بنا۔

اپنے آغاز کے بعد سے اڑان اسکیم کے تحت 3.45 لاکھ پروازوں کے ذریعے 1.64 کروڑ سے زائد مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ شمال مشرقی خطے، پہاڑی ریاستوں اور جزیرہ جاتی علاقوں سمیت دور دراز علاقوں کو پہلی مرتبہ قومی فضائی نیٹ ورک سے جوڑا گیا۔

4,800 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کے ذریعے غیر استعمال شدہ ہوائی اڈوں کو فعال بنایا گیا، جبکہ 2014 کے بعد 25 گرین فیلڈ ہوائی اڈوں کی منظوری دی گئی، جن میں نوی ممبئی، نوئیڈا، موپا، کنور اور ہولونگی شامل ہیں۔

مارچ 2026 میں ترمیم شدہ اڑان اسکیم کی منظوری دی گئی، جس کے تحت 120 نئے مقامات کو شامل کرنے اور مزید 4 کروڑ مسافروں کو خدمات فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس منصوبے میں 100 ہوائی اڈوں، 200 جدید ہیلی پیڈز اور امنگوں والے اضلاع میں چھوٹی ہوائی پٹیوں کی ترقی شامل ہے۔

دسمبر 2022 میں شروع کی گئی ڈیجی یاترا جیسی پہلوں کے ذریعے مسافروں کی سہولت میں بھی نمایاں بہتری آئی، جس کے تحت بغیر رکاوٹ اور کاغذ سے پاک سفر کی سہولت فراہم کی گئی۔ مئی 2026 تک 38 ہوائی اڈوں پر 9.3 کروڑ سے زائد مسافر اس سہولت سے استفادہ کر چکے تھے۔ 2024 میں شروع کیے گئے اڑان یاتری کیفے اور شکایات کے ازالے کے نظام نے بھی مسافروں کے آرام اور اطمینان میں اضافہ کیا۔ ان تمام اقدامات نے مل کر ہوائی سفر کو مزید قابلِ رسائی، سستا اور قابلِ اعتماد بنایا، اور لاکھوں شہریوں کی نقل و حرکت کو نئی جہت دی۔

میٹرو ریل

میٹرو ریل بڑے پیمانے پر شہری نقل و حرکت کا سب سے مؤثر ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس نے ملک بھر میں شہری آمد و رفت کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ 2014 میں میٹرو ریل صرف پانچ شہروں میں 248 کلومیٹر طویل نیٹ ورک کے ساتھ چل رہی تھی۔ مارچ 2026 تک ہندوستان کے 26 شہروں میں 1,155 کلومیٹر طویل میٹرو نیٹ ورک(میٹرو نظام) فعال ہو چکا تھا۔ اس توسیع نے ہندوستان کو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا میٹرو نیٹ ورک رکھنے والا ملک بنا دیا۔

روزانہ مسافروں کی تعداد 2013-14 میں 28 لاکھ سے بڑھ کر 2026 میں 1.15 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ میٹرو لائنوں کی تعمیر اور کمیشننگ کی رفتار تقریباً نو گنا بڑھ گئی، جو 2014 سے پہلے اوسطاً 0.68 کلومیٹر ماہانہ تھی اور بڑھ کر تقریباً 6 کلومیٹر ماہانہ ہو گئی۔ بجٹ امداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جو 2013-14 میں 5,798 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 29,550 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

ہندوستان کی میٹرو توسیع نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔ کولکاتا میں 2024 کے دوران دریائے ہگلی کے نیچے ملک کی پہلی زیرِ آب میٹرو سرنگ کا افتتاح کیا گیا۔ کوچی واٹر میٹرو سروس چلانے والا پہلا شہر بن گیا، جہاں 10 جزیروں کو برقی ہائبرڈ کشتیوں کے ذریعے جوڑا گیا۔

جنوری 2026 میں وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی-پی ایم) نے ’’ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی سنہری دہائی‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ اس مطالعے میں بتایا گیا کہ میٹرو ریل تک بہتر رسائی گھریلو قرضوں کی ادائیگی کے نظم و ضبط کو مضبوط بناتی ہے اور مالی دباؤ میں کمی لاتی ہے۔

یہ سنگِ میل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ میٹرو ریل نے شہری نقل و حرکت کو کس طرح نئی شکل دی ہے، سفر کی تھکاوٹ کو کم کیا ہے اور لاکھوں شہریوں کو جدید، محفوظ اور مؤثر نقل و حمل کی سہولت فراہم کی ہے۔

نمو بھارت — علاقائی ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس)

دہلی-میرٹھ آر آر ٹی ایس راہداری پر نمو بھارت ٹرین سروس 2023 میں شروع ہوئی اور فروری 2026 میں مکمل طور پر آپریشنل ہو گئی۔ یہ نظام 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ڈیزائن رفتار کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا ہے، جس سے تیز اور آرام دہ سفر ممکن ہوتا ہے۔

اس نظام میں ایل ٹی ای ریڈیو بیک بون پر مبنی ہائبرڈ لیول-III سگنلنگ کے ساتھ دنیا کا پہلا یورپی ٹرین کنٹرول سسٹم (ای ٹی سی ایس) لیول-II استعمال کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر پہلی مرتبہ ہائبرڈ لیول-III ریڈیو پر مبنی سگنلنگ کو ایل ٹی ای ریڑھ کی ہڈی پر اس راہداری میں نافذ کیا گیا ہے۔

یہ جدید ٹیکنالوجی ٹرینوں کے آپریشن کو زیادہ ذہین، محفوظ اور مؤثر بناتی ہے، جس سے مسافروں کا اعتماد بڑھتا ہے اور پورے سفر کے دوران ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

حکمرانی  کی اصلاحات (گورننس ریفورمس)

حکمرانی کی اصلاحات نے شہریوں اور اداروں کے درمیان تعامل کو نئی شکل دی ہے۔ توجہ تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے، جوابدہی کو مضبوط بنانے اور خدمات کو زیادہ شفاف بنانے پر مرکوز رہی ہے۔ قانون سازی میں تبدیلیوں اور شہریوں کے لیے قائم کیے گئے پلیٹ فارموں نے روزمرہ ضروریات کے لیے زیادہ تیز، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی نظام تشکیل دیے ہیں۔

قانون سازی کو آسان بنانا: جن وشواس ایکٹ

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) ایکٹ، 2023 نے تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی۔ اس کے ذریعے متعدد مرکزی قوانین کی مختلف دفعات میں ترمیم کی گئی اور معمولی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ سزاؤں کے بجائے سول نوعیت کے تدارکی اقدامات کے دائرے میں لایا گیا۔ اس کے نتیجے میں شہریوں اور کاروباری اداروں کو معمولی کوتاہیوں پر قید جیسی سزاؤں کے خدشات سے نجات ملی، جس سے خوف میں کمی اور رضاکارانہ تعمیل میں اضافہ ہوا۔

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) ایکٹ، 2026 نے اس دائرۂ کار کو مزید وسعت دی۔ اس کے تحت 79 مرکزی قوانین کی 784 دفعات کا احاطہ کیا گیا، جن میں سے 717 دفعات کو غیر مجرمانہ قرار دیا گیا، جبکہ شہریوں کو براہِ راست متاثر کرنے والی 67 دفعات میں ترمیم کی گئی۔

  • قید کی سزاؤں کو مالی جرمانوں یا تنبیہی کارروائیوں سے تبدیل کیا گیا، جس سے معمولی ضابطہ جاتی خامیوں پر پیدا ہونے والی بے چینی میں کمی آئی۔
  • پہلی مرتبہ ہونے والی خلاف ورزیوں کے لیے مشاورتی نوٹس کا نظام متعارف کرایا گیا، تاکہ سزا سے پہلے اصلاح کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
  • جرمانوں کو خلاف ورزی کی نوعیت اور شدت کے مطابق معقول بنایا گیا، جس سے نفاذ کا نظام زیادہ متوازن اور قابلِ پیش گوئی بنا۔
  • تعمیل سے متعلق معاملات کے فوری تصفیے اور تاخیر میں کمی کے لیے عدالتی افسران کی تقرری کا انتظام کیا گیا۔
  • بروقت ازالہ اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے تحفظ کے لیے اپیلیٹ حکام کے تقرر کا بھی التزام کیا گیا۔
  • جرمانوں اور تعزیری اقدامات کو وقتاً فوقتاً نظرِ ثانی کے تابع رکھا گیا، تاکہ نفاذ کا نظام مؤثر اور حالات کے مطابق رہے۔

شہریوں کے لیے پلیٹ فارم

شہریوں پر مبنی پلیٹ فارم ذمہ دار حکمرانی کا اہم حصہ بن چکے ہیں، جو شکایات کے فوری ازالے اور عوامی شرکت کے مؤثر ذرائع فراہم کرتے ہیں۔

سنٹرلائزڈ پبلک گریوینس ریڈریسل اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی پی جی آر اے ایم ایس):
یہ وزارتوں، محکموں، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں شکایات کے ازالے سے متعلق شہریوں کے اطمینان کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص فیڈ بیک پورٹل ہے۔ جنوری 2025 سے فروری 2026 کے درمیان تقریباً 6 لاکھ شکایات کا ازالہ کیا گیا، جن میں سے 69.8 فیصد کو شکایت کنندگان نے تسلی بخش قرار دیا۔ یہ خدمات کی فراہمی میں زیادہ جوابدہی اور مؤثریت کی جانب ایک اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

مائی گو:
2014 میں شروع کیا گیا مائی گو پلیٹ فارم حکمرانی میں شہریوں کی شرکت کو فروغ دیتا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے عوامی رائے کو پالیسی سازی کا حصہ بنا کر باہمی اور شراکتی جمہوریت کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ 6 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین کے ساتھ یہ پلیٹ فارم شہریوں اور حکومت کے درمیان ایک فعال رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے۔

مائی گو نے 28 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ریاستی سطح کے پلیٹ فارم بھی قائم کیے ہیں، جس سے عوامی شرکت کا دائرہ مزید وسیع ہوا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مقامی ضروریات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ مائی گو مشاورت، پالیسی آگاہی اور سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں معاونت کرتا ہے، تاکہ حکمرانی عوامی آرا اور اجتماعی دانش کی عکاس بن سکے۔

ان پلیٹ فارموں نے شہریوں کو براہِ راست آواز فراہم کی اور شکایات کے تیز تر ازالے کو ممکن بنایا، جس سے عوام کا اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔

پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان

2021 میں شروع کی گئی پی ایم گتی شکتی اسکیم نے مربوط منصوبہ بندی کے لیے 58 وزارتوں اور محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ ان اداروں کے ڈیٹا کو قومی ماسٹر پلان کے تحت یکجا کیا گیا، جس سے مختلف شعبوں میں مربوط بنیادی ڈھانچے کی ترقی ممکن ہوئی۔

جی آئی ایس پر مبنی پورٹل پر مرکزی وزارتوں اور ریاستوں کی 3,204 ڈیٹا پرتوں (Data Layers) کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم روایتی بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور دیگر سماجی شعبوں کو بھی شامل کرتا ہے، تاکہ جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کو سرکاری اور نجی اداروں دونوں کے لیے دستیاب بنایا گیا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبہ بندی میں وسیع تر شرکت اور بہتر ہم آہنگی ممکن ہوئی ہے۔

ان اصلاحات اور پلیٹ فارموں نے تعمیل کے بوجھ کو کم کیا، شفافیت کو مضبوط بنایا اور شہریوں کے روزمرہ کے تجربات کو بہتر کیا۔ شہریوں نے زیادہ تیز خدمات، زیادہ منصفانہ نفاذ اور فیصلہ سازی میں بڑھتی ہوئی شرکت کا تجربہ کیا۔ معمول کے انتظامی عمل کم دباؤ والے، زیادہ قابلِ پیش گوئی اور زیادہ بااختیار بنانے والے بن گئے، جو اعتماد اور سہولت پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

وِکست بھارت کی بنیاد کے طور پر زندگی گزارنے میں آسانی

2014 سے 2026 تک ہندوستان کا حکمرانی کا سفر زندگی کو زیادہ باوقار اور بااختیار بنانے کی داستان ہے۔ پی ایم آواس یوجنا کے تحت فراہم کیے گئے ہر گھر نے خاندانوں کو عدمِ تحفظ سے نجات دلائی، جبکہ نل کے پانی کے ہر کنکشن نے روزانہ کی مشقت کے گھنٹوں کو کم کیا۔ خواتین نے بالخصوص تعلیم، روزگار اور دیگر تعمیری سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت حاصل کیا۔ ہر جن دھن اکاؤنٹ نے گھرانوں کو مالیاتی نظام سے جوڑا اور انہیں بچت، قرض اور دیگر مالی خدمات تک رسائی فراہم کی۔ سڑکوں، میٹرو ریل اور ہوائی اڈوں نے کمیونٹیوں کو مواقع سے جوڑا، تنہائی کو کم کیا اور ترقی کے نئے دروازے کھولے۔ یہ کامیابیاں محض اعداد و شمار نہیں بلکہ دیہات، قصبوں اور شہروں میں روزمرہ زندگی میں رونما ہونے والی حقیقی اور نمایاں تبدیلیوں کی عکاس ہیں۔

جیسے جیسے ہندوستان 2047 تک وِکست بھارت کے ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، یہ بنیاد قومی ترقی کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ ہر شہری کے لیے جامع ترقی، پائیداری اور وقار ایک دوسرے کے تکمیلی اہداف ہیں، نہ کہ باہم متصادم ترجیحات۔ 2014 سے 2026 تک کے ان بارہ برسوں نے ثابت کیا ہے کہ شہریوں پر مرکوز، مشن پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ حکمرانی بڑے پیمانے پر مؤثر نتائج فراہم کر سکتی ہے۔

ان نتائج نے زندگی کو رفتار اور گہرائی دونوں کے ساتھ نئی شکل دی ہے اور تبدیلی و ترقی کے ایسے اسباق پیش کیے ہیں جن سے دنیا سیکھ سکتی ہے۔

آپ کے متن میں صرف معمولی املا اور اسلوبی اصلاحات درکار ہیں۔ درست شدہ متن:

حوالہ جات

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت:

https://pmaymis.gov.in/pmaymis2_2024/PMAY_SURVEY/EligiblityCheck.aspx

https://www.pib.gov.in/pressreleasepage.aspx?prid=1777284&reg=3&lang=2

https://amrut.mohua.gov.in/uploads/AMRUT_2.0_Operational_Guidelines.pdf

https://sbmurban.org/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220345&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2066736&reg=3&lang=2

دیہی ترقی کی وزارت:

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1944744&reg=3&lang=2

https://pmayg.dord.gov.in/netiayHome/Home.aspx

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2075171&reg=3&lang=2

وزارتِ بجلی:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256313&reg=3&lang=1

https://newsonair.gov.in/pm-surya-ghar-scheme-achieves-major-milestone-as-40-lakh-households-embrace-rooftop-solar/

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2111106&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2217216&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2090639&reg=3&lang=2#:~:text=36.87%20crore%20LED%20bulbs%20distributed,Introduction

پریس انفارمیشن بیورو:

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154355&ModuleId=3&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2182568&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2191618&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155102&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241822&reg=3&lang=2

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2021/oct/doc202110101.pdf

کابینہ:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237548&reg=3&lang=1

وزارتِ جل شکتی:

https://ejalshakti.gov.in/jjmreport/jjmindia.aspx

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226993&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114291&reg=6&lang=1

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/about_sbm

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2040171&reg=3&lang=2

https://sbm.gov.in/sbmgdashboard/statesdashboard.aspx

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248393&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2237010&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247224&reg=3&lang=1

وزیرِ اعظم کا دفتر:

https://www.pmindia.gov.in/en/government_tr_rec/leveraging-the-power-of-jam-jan-dhan-aadhar-and-mobile/

وزارتِ خزانہ:

https://www.pmjdy.gov.in/account

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2069170&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249915&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1896725&reg=3&lang=2

وزارتِ تجارت و صنعت:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2246226&reg=3&lang=1

عملہ، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت:

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU6033_XP4G1y.pdf?source=pqals

مائی گو:

https://www.mygov.in/overview

شہری ہوابازی کی وزارت:

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1657813&reg=48&lang=2

وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس:

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3352_6sijmI.pdf?source=pqals

https://www.facebook.com/PetroleumMinIndia/videos/iea-applauds-india-for-pm-ujjwala-yojanadr-fatih-birol-executive-director-of-iea/378453946154485/

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی):

https://www.adb.org/publications/energy-resilience-social-protection-india

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-8640

(Explainer ID: 158907) आगंतुक पटल : 9
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam