Social Welfare
انتودیا کا عملی نفاذ
سب کیلئےعزت ، مواقع اور ترقی کو یقینی بنانا
Posted On:
12 JUN 2026 12:13PM
نسلوں سے محرومی کا شکار بھارت کے انتہائی پسماندہ طبقات طویل عرصے تک بنیادی سہولیات سے محروم رہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں یہ صورتحال بدلی، جب حکومت نے‘انتیودے’’ کو اپنا بنیادی نصب العین بنایا۔سب کو ساتھ لے کر چلنے کے عزم کے تحت معیاری تعلیم، ہنر مندی کی تربیت، روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ جیسے اقدامات ان طبقات تک بڑے پیمانے پر پہنچائے گئے ہیں۔اس کا واضح مقصد یہ ہے کہ جو لوگ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے، انہیں مواقع اور ترقی کے سفر میں سب سے آگے رکھا جائے۔
انتیودیا بطور گورننس فریم ورک
مہاتما گاندھی نے ایک بار مشورہ دیا تھا:‘‘اس سب سے غریب اور کمزور شخص کا چہرہ یاد کرو جسے تم نے دیکھا ہو، پھر اپنے آپ سے پوچھو کہ جو قدم تم اٹھانے جا رہے ہو، کیا اس سے اس شخص کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟’’ کئی دہائیوں تک یہ طاقتور تصور زیادہ تر کتابوں تک محدود رہا، جبکہ لاکھوں بھارتی ملک کی ترقی کے ثمرات سے محروم رہے۔
تاہم، گزشتہ بارہ برسوں میں اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ بھارت نے اس نظریے کو محض ایک تصور کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے حکمرانی کے عملی اصول کے طور پر اپنایا تاکہ ترقی کی آخری صف میں کھڑے افراد کو بھی مواقع، عزت اور ترقی میں اولین ترجیح دی جا سکے۔ توجہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ترقی کے دائرے میں شامل کرنے پر مرکوز کی گئی۔
اس کے نتیجے میں قبائلی بستیوں میں بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی گئی، پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لیے تعلیم تک رسائی بہتر بنائی گئی، صفائی کارکنوں کو مضبوط ادارہ جاتی شناخت اور حفاظتی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ پسماندہ اور خانہ بدوش برادریوں کو فلاحی اسکیموں کا مرکز بنایا گیا۔
یہ تبدیلی جغرافیائی سطح پر بھی نمایاں ہے۔ قبائلی علاقے، امنگوں والے اضلاع اور دور دراز بستیاں ترقیاتی منصوبہ بندی اور نگرانی کے مرکزی محور بن چکی ہیں۔ مختلف وزارتوں کے باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کے ذریعے ان علاقوں تک بھی سرکاری خدمات کی مؤثر رسائی ممکن بنائی گئی ہے، جہاں پہلے پہنچنا انتہائی دشوار سمجھا جاتا تھا۔
ترقی کے مرکز میں قبائلی برادریاں
بھارت کی قبائلی برادریاں ہمیشہ سے اپنی ثقافت، روایتی علم اور ثابت قدمی کی دولت سے مالا مال رہی ہیں۔ تاہم، انہیں طویل عرصے تک بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات، جیسے نقل و حمل، تعلیم، صحت کی سہولیات، صاف پانی، بجلی اور روزگار کے مواقع تک مساوی رسائی حاصل نہیں تھی۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران اس فرق کو کم کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی، وسیع پیمانے پر اقدامات اور خاطر خواہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
یہ تبدیلی خاص طور پر دور دراز قبائلی بستیوں میں نمایاں طور پر دیکھی گئی ہے، جن میں خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں کی آبادیاں بھی شامل ہیں۔ وہ علاقے جن تک کبھی رسائی مشکل سمجھی جاتی تھی، آج ترقیاتی منصوبہ بندی اور آخری فرد تک خدمات کی مؤثر فراہمی کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔
پردھان منتری جنجاتی آدیواسی نیا ئےمہا ابھیان (پی ایم جن من)
|
جھارکھنڈ: جنگل کی زمین سے لے کر بازار کی دوکانوں تک
جھارکھنڈ کے گریابند ضلع میں کمار پی وی ٹی جی برادری کی خواتین اپنے بزرگوں کو جنگلی جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے دیکھتے ہوئے بڑی ہوئیں۔ یہ روایتی علم نسل در نسل، ماؤں سے بیٹیوں تک منتقل ہوتا رہا۔ برسوں تک وہ انہی جڑی بوٹیوں کو خام شکل میں بازار میں دستیاب معمولی قیمت پر فروخت کرتی رہیں۔ علم ان کا اپنا تھا، مگر اس سے حاصل ہونے والی آمدنی نہایت محدود تھی۔
پی ایم جن من (پی ایم جن من) نے اس صورتحال کو بدل دیا۔ اس پروگرام کے تحت ون دھن وکاس کیندر پہل کے ذریعے اسی برادری کی 87 خواتین ایک مشترکہ مقصد کے لئے متحد ہوئیں۔ انہوں نے ‘‘چھتیس گڑھ ہربلز’’ برانڈ کے تحت آیورویدک تیل، پاؤڈر اور ادویات تیار کرنے کے لیے ایک پیداواری یونٹ قائم کیا، جسے آیوش کی منظوری اور لائسنس حاصل ہے۔
خواتین کو کاروباری صلاحیتوں اور ڈیجیٹل خواندگی کی تربیت فراہم کر کے ان کی مہارتوں میں اضافہ کیا گیا۔ اس منصوبے کے آغاز سے اب تک مصنوعات کی مجموعی فروخت 159.59 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ آج یہ خواتین اپنے گاؤں سے باہر جائے بغیر مصنوعات کی تیاری، پیکجنگ اور مارکیٹنگ کی ذمہ داریاں خود سنبھال رہی ہیں۔ جو روایتی علم کبھی نسل در نسل منتقل ہوتا تھا، وہ اب ایک کامیاب اور پائیدار کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
|
اس پروگرام کے تحت 11 اہم اقدامات میں پکے مکانات، سڑک رابطہ، نل کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی، موبائل میڈیکل یونٹس، آنگن واڑی مراکز، طلبہ کے لیے ہاسٹل، بجلی، موبائل ٹاورز، کثیر المقاصد مراکز، ون دھن وکاس کیندر اور پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت شامل ہیں۔
ون دھن وکاس کیندروں (وی ڈی وی کے) کے ذریعے مہارت اور روزگار کے مواقع
پی ایم جن من کا ایک اہم جزو ون دھن وکاس کیندر (وی ڈی وی کے)کا قیام ہے، جو خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں(پی وی ٹی جی) کو جنگلاتی پیداوار جمع کرنے، اس کی پروسیسنگ اور مارکیٹنگ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس اقدام سے مقامی سطح پر روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انٹرپرینیورشپ اینڈ اسمال بزنس ڈیولپمنٹ اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹرپرینیورشپ، ٹرائبل کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا کے اشتراک سے 15 ریاستوں میں ہنرمندی اور کاروباری تربیت کے پروگرام چلا رہے ہیں۔
اپریل 2026 تک کی پیش رفت:
- اس میں500 کے ہدف کے مقابلے میں 491 ون دھن وکاس کیندر فعال ہو چکے ہیں۔
- انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 38,391 افراد، جو پی وی ٹی جی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں، کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
پی ایم-جے یو جی اے / دھرتی آبا جنجاتی گرام اتکرش ابھیان
دھرتی آبا جن جاتی گرام اتکرش ابھیان (ڈی اے جےجی یو اے)، جسے اب پی ایم-جے یو جی اے (پردھان منتری جن جاتی اُنت گرام ابھیان) کے نام سے جانا جاتا ہے، کا آغاز اکتوبر 2024 میں کیا گیا۔ یہ پروگرام 17 وزارتوں کی مشترکہ کاوشوں کو یکجا کرتا ہے اور قبائلی اکثریتی دیہات اور قبائلی بستیوں میں طویل عرصے سے موجود بنیادی سہولیات کی کمی کو دور کرنے پر مرکوز ہے۔
پی ایم –جے یو جی اے کے تحت حکومت نے مختلف اسکیموں کو الگ الگ نافذ کرنے کے بجائے متعدد وزارتوں اور محکموں کی کوششوں کو ایک مشترکہ مشن کی صورت میں مربوط کیا ہے، تاکہ قبائلی علاقوں کی ہمہ جہت اور مربوط ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس)
ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) درج فہرست قبائل کے طلباء میں تعلیمی مواقع کو بڑھانے کے لیے ایک اہم پہل کے طور پر ابھرا ہے ۔ قبائلی اکثریتی علاقوں میں قائم یہ رہائشی اسکول چھٹی سے بارہویں جماعت تک معیاری تعلیم ، جدید بنیادی ڈھانچہ اور مجموعی ترقیاتی مدد فراہم کرتے ہیں ۔

گزشتہ 12 برسوں کے دوران ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کے قیام اور توسیع نے دور دراز اضلاع میں قبائلی طلبہ کے لیے تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔ 2018 کے بعد اس نیٹ ورک میں تیزی سے توسیع کی گئی، جس کے نتیجے میں جدید رہائشی تعلیم اور معیاری تدریس اُن درج فہرست قبائلی برادریوں تک پہنچ سکی جو نسلوں سے تعلیمی سہولیات سے محروم تھیں۔
سال2026 تک ملک بھر میں 499 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں میں 1.56 لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ مزید 323 اسکول تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں۔
ان اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ اپنے خاندانوں میں منظم ثانوی تعلیمی نظام تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی نسل بنے ہیں۔
نئے کیمپسوں میں ایسی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں جو پہلے بہت سے دور افتادہ علاقوں میں دستیاب نہیں تھیں، جن میں اسمارٹ کلاس رومز، سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹریاں، لائبریریاں، کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ، ڈیجیٹل تدریسی سہولیات اور طلبہ و طالبات کے لیے علیحدہ رہائشی ہاسٹل شامل ہیں۔
|
ہمالیائی گاؤں سے آئی آئی ٹی تک: جتین نیگی کی کہانی
ہماچل پردیش کے کنّور ضلع میں واقع سانگلا گاؤں تبت کی سرحد سے متصل ہے۔ سردیوں کے موسم میں یہاں تقریباً دو ماہ تک بجلی دستیاب نہیں رہتی اور شدید برف باری کے باعث سڑکیں بھی بند ہو جاتی ہیں۔ جتن نیگی کی پرورش اسی گاؤں میں ہوئی۔
انہوں نے چھٹی جماعت میں ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس)میں داخلہ لیا۔ منظم تعلیمی ماحول، باقاعدہ امتحانات اور اساتذہ کی رہنمائی، جنہوں نے انہیں نصابی کتابوں سے آگے بڑھ کر سیکھنے کی ترغیب دی، نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ بارہویں جماعت کے دوران ان کے والد کا انتقال ہو گیا، مگر اساتذہ نے ہر قدم پر ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کا ساتھ دیا۔
جتن نے ایک سال کا وقفہ لے کر انتھک محنت سے تیاری کی اور جے ای ای ایڈوانسڈ امتحان میں 421ویں آل انڈیا رینک حاصل کی۔ آج وہ آئی آئی ٹی جودھ پور میں زیرِ تعلیم ہیں۔
ان کے گاؤں میں اس سے پہلے کسی نے آئی آئی ٹی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ جتن کی کہانی ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کے ان 597 طلبہ میں سے ایک ہے جنہوں نے 2025-2024 کے دوران جے ای ای اور نیٹ کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی، جبکہ 2023-2022 میں یہ تعداد صرف 2 تھی۔
|
قبائلی تحقیقاتی اداروں (ٹی آر آئی) کو معاونت
قبائلی تحقیقاتی ادارے (ٹی آر آئی) قبائلی زبانوں، ثقافت، روایات اور مقامی علمی ورثے کی دستاویز بندی، تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان اداروں کو ملک بھر میں حکومتی تعاون حاصل ہے۔ملک کی 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم یہ ادارے قبائلی برادریوں پر تحقیق کرتے ہیں، ان کی زبانی تاریخ محفوظ کرتے ہیں، ثقافتی روایات کی دستاویز بندی کرتے ہیں، اور عجائب گھروں، آرکائیوز، مطبوعات، ثقافتی میلوں اور عوامی آگاہی پروگراموں کے ذریعے قبائلی ورثے کے بارے میں شعور اجاگر کرتے ہیں۔یہ ادارے اس امر کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ قبائلی علم و دانش نہ صرف علمی تحقیق بلکہ پالیسی سازی اور حکمرانی کے عمل میں بھی مؤثر کردار ادا کرے۔ اسی مقصد کے تحت وہ پالیسی سازی، صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی ترقی میں بھی تعاون فراہم کرتے ہیں۔
ان کوششوں کو قبائلی تحقیق، اطلاعات، تعلیم، ابلاغ اور تقریبات (ٹی آر آئی-ای سی ای) اسکیم کے تحت مزید تقویت دی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، ایمس، ٹی ای آر آئی اور مختلف لسانی تحقیقی اداروں سمیت متعدد ممتاز اداروں میں ایسے تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے، جو معدوم ہوتی قبائلی زبانوں، روایتی طب، اجتماعی جنگلاتی حقوق، اور خصوصی طور پر کمزور قبائلی گروہوں کے ذریعۂ معاش جیسے اہم موضوعات سے متعلق ہوتے ہیں۔
قبائلی ورثے اور مجاہدینِ آزادی کو خراجِ تحسین
|
گزشتہ 12 برسوں کے دوران حکومت نے نوآبادیاتی دور کے خلاف جدوجہد کرنے والے قبائلی رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے 10 ریاستوں میں 11 قبائلی مجاہدینِ آزادی عجائب گھروں کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش (2 عجائب گھر) اور چھتیس گڑھ میں مجموعی طور پر چار عجائب گھروں کا افتتاح کیا جا چکا ہے، جبکہ میزورم، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کیرالہ، گجرات، گوا اور منی پور میں مزید سات منصوبے زیرِ تعمیر ہیں۔
ہر سال 15 نومبر کو جنجاتیہ گورو دیوس (قبائلی فخر کا دن) بھگوان برسا منڈا کی یومِ پیدائش کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف ایک عظیم قبائلی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع نہیں، بلکہ نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف قبائلی مزاحمت کی اس پوری تاریخ کو بھی یاد کرنے کا ذریعہ ہے، جسے طویل عرصے تک قومی دھارے میں مناسب مقام نہیں مل سکا۔15 نومبر 2024 سے 15 نومبر 2025 تک بھگوان برسا منڈا کی 150ویں یومِ پیدائش کے موقع پر پورے سال کو "جنجاتیہ گورو ورش" (قبائلی فخر کا سال) کے طور پر منایا گیا، تاکہ ان کی خدمات اور قبائلی برادریوں کی تاریخی جدوجہد کو وسیع پیمانے پر اجاگر کیا جا سکے۔
|
درج فہرست ذات کیلئے انصاف اور وقار
گزشتہ 12 برسوں کے دوران درج فہرست ذاتوں کو ہدفی ترقیاتی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنایا گیا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں اقتصادی بااختیار بنانا، تعلیم تک بہتر رسائی اور مخصوص بجٹ کی فراہمی کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ محض علامتی شمولیت سے آگے بڑھ کر حقیقی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دیا جا سکے۔
پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیودے یوجنا (پی ایم-اجے)
سال2021 میں شروع کی گئی پی ایم-اجے اسکیم ایس سی اکثریتی دیہاتوں کی مربوط ترقی پر مرکوز ہے ۔ یہ اسکیم پسماندہ ایس سی برادریوں کے درمیان بنیادی ڈھانچے کی تخلیق ، ہنر مندی کے فروغ اور روزی روٹی کے مواقع کو فروغ دیتی ہے ۔
پی ایم-اجے اسکیم کے تحت ، ماڈل ولیج کمپونینٹ پلان ، ولیج ڈیولپمنٹ پلان اور اہم مقامی ضروریات کے لیے انٹر فلنگ اسسٹنس کے ذریعے ایس سی اکثریتی دیہاتوں کی ترقی کے لیے سیکٹر پر مبنی نقطہ نظر اپنایا جاتا ہے ۔
اس میں 26 ریاستوں کے 597 اضلاع کے 47,334 گاؤں شامل ہیں ۔ یہ پروگرام 4 کروڑ سے زیادہ درج فہرست ذاتوں اور 83 لاکھ خاندانوں تک پہنچتا ہے ۔

اس پروگرام نے گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کو بھی مضبوط کیا ہے ۔ 25, 000 سے زیادہ دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچے کی تشخیص کا کام مکمل ہو چکا ہے ۔ اس سے سڑکوں ، پانی کی فراہمی ، تعلیم ، صفائی ستھرائی اور رابطے میں موجود خامیوں کی زیادہ منظم طریقے سے نشاندہی کرنے میں مدد ملی ہے ۔ نوجوانوں کی شرکت اور روزی روٹی پیدا کرنے پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے ۔ ہنرمندی کی ترقی ، سیلف ہیلپ گروپوں کی شرکت اور دیہی بنیادی ڈھانچے کی تخلیق طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کی طرف وسیع تر کوششوں کا لازمی حصہ بن گئی ہے ۔
درج فہرست ذاتوں کے لیے ترقیاتی ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس سی)
درج فہرست ذاتوں کے لیے ترقیاتی ایکشن پلان (ڈی اے پی ایس سی) ملک بھر میں درج فہرست ذاتوں پر مرکوز اخراجات کے لیے ایک مخصوص فریم ورک تیار کیا گیا ہے ۔ ڈی اے پی ایس سی ایک آزاد اسکیم نہیں ہے ۔ یہ ایس سی برادریوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے مختلف وزارتوں اور محکموں کے ذریعے نافذ کردہ اسکیموں اور اقدامات کو مربوط کرتا ہے ۔ یہ فریم ورک اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وزارتیں ایس سی برادریوں کو فائدہ پہنچانے والی اسکیموں کے لیے مخصوص فنڈز مختص کریں ۔

موجودہ فریم ورک میں 38 وزارتیں اور محکمے شامل ہیں ۔ یہ 239 اسکیمیں تعلیم ، ہاؤسنگ ، صحت کی دیکھ بھال ، ہنر مندی ، روزی روٹی ، بجلی کاری اور سماجی انصاف سمیت مختلف شعبوں کی مدد کرتی ہیں ۔
درج فہرست ذاتوں اور دیگر کے لےا اسکالرشپ کی امداد
ہائر ایجوکشن اسکالرشپ اسکیم فار ینگ اچویرز (شرییاس)
فروری 2019 میں شروع کی گئی شریاس اسکیم، درج فہرست ذات ، دیگر پسماندہ طبقات اور ذیلی پسماندہ طبقات کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم، تحقیق، مسابقتی امتحانات کی تیاری اور بیرونِ ملک تعلیم کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد مالی رکاوٹوں کو کم کرنا اور معیاری تعلیمی مواقع تک رسائی کو وسعت دینا ہے، جس کے لیے متعدد اقدامات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔صرف 2025-26 کے دوران، ٹاپ کلاس ایجوکیشن جزو کے تحت 4,156 درج فہرست ذات طلبہ کو معاونت فراہم کی گئی، جن میں طالبات کے لیے 30 فیصد نشستیں محفوظ رکھی گئیں۔ ان طلبہ نے آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم، ایمس اور این آئی ٹی جیسے ممتاز تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کیا۔اسی مدت میں 990 طلبہ کو مفت کوچنگ اسکیم کے تحت معاونت فراہم کی گئی، جبکہ 72 طلبہ کو قومی بیرونِ ملک اسکالرشپ کے ذریعے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدد دی گئی، ساتھ ہی انہیں مسابقتی امتحانات کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کی گئی۔تحقیقی سطح پر، 2026-2025 کے دوران 4,153 درج فہرست ذات اسکالرز اور 1,969 دیگر پسماندہ طبقات کے اسکالرز کو مختلف فیلوشپ اسکیموں سے فائدہ پہنچا۔


ہدفی علاقوں میں ہائی اسکول کے طلبہ کے لیے رہائشی تعلیمی اسکیم (شریشٹھ)
کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے درج فہرست ذات (SC) طلبہ کے لیے معیاری رہائشی تعلیم تک رسائی انتہائی اہم ہے۔ جون 2022 میں شروع کی گئی شریشٹھ اسکیم اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کلاس 9 سے 12 تک تعلیم کے مواقع فراہم کرتی ہے۔
اس اسکیم کے دو طریقہ کار ہیں:
● موڈ-I: اس میں ذہین اور قابل SC طلبہ کو قومی شریشٹھ داخلہ امتحان (این ای ٹی ایس) کے ذریعے نجی رہائشی اسکولوں میں داخلہ دلانے میں مدد دی جاتی ہے۔
● موڈ-II: اس کے تحت وہ رہائشی اسکول معاونت حاصل کرتے ہیں جو رضاکارانہ تنظیموں اور اداروں کے زیر انتظام چل رہے ہوتے ہیں۔
اس اسکیم سے وہ SC طلبہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کی سالانہ خاندانی آمدنی 2.5 لاکھ روپے تک ہو۔ ایسے امیدوار این ای ٹی ایس امتحان میں شرکت کے اہل ہوتے ہیں، جس کے ذریعے انہیں معیاری رہائشی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

سال2025-26 میں شریشٹھ سے 288 اسکولوں اور اداروں میں 19,754 درج فہرست ذات کے طلباء کی مدد ہوئی ۔ اس اسکیم نے رہائشی تعلیم کے دو راستوں کے ذریعے کام کیا ۔
|
دو بچیاں ، ایک اسکیم ، ایک حل
دو بچیاں، دو خاندان، ایک ہی چٹان کے دو مختلف کنارے — ایک ہی اسکیم کے سہارے مگر الگ الگ راستوں پر آگے بڑھتے ہوئے۔وہ بچے جنہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خاندان ان کی ناکامی برداشت نہیں کر سکتے، ان کے اندر ایک خاص قسم کا عزم پیدا ہوتا ہے۔ ڈولی اور اُرمِلا کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ایک کا تعلق ہماچل پردیش سے ہے اور دوسری کا راجستھان سے۔ جغرافیائی فاصلے نے انہیں الگ رکھا، مگر ان کی کہانیاں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔
ڈولی کے والد ایک یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں۔ اس کے لیے تعلیم جاری رکھنا انتہائی مشکل تھا اور اسکول چھوڑنے کا خطرہ بھی بہت زیادہ تھا۔ بغیر کسی سہارا کے اس کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنا تقریباً ناممکن تھا۔ شریشٹھ کے موڈ-I کے تحت، جو مستحق طلبہ کو معیاری نجی رہائشی اسکولوں میں براہِ راست مالی مدد فراہم کرتا ہے، ڈولی کو اپنے اہم تعلیمی سالوں میں ڈلہوزی پبلک اسکول میں داخلہ ملا۔ بعد میں اس نے آئی آئی ٹی دہلی میں داخلہ حاصل کیا اور آج وہ سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شریشٹھ نے مجھے حدود کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے تعاون، حوصلہ اور اعتماد دیا۔
اُرمِلا کے والد راجستھان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ اُرمِلا کو موڈ-II کے ذریعے مالی معاونت حاصل ہوئی، جس کے تحت معیاری رہائشی اسکولوں کو درج فہرست ذات کے طلبہ کے داخلے اور تعلیم کے لیے منتخب اور مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ جب اس نے بارہویں جماعت کا امتحان دیا تو اس نے 99.60 فیصد نمبر حاصل کیے اور پورے راجستھان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
یہ دونوں لڑکیاں، دو خاندان، ایک ہی چٹان کے دو مختلف کنارے—مگر ایک ہی اسکیم کے سہارے مختلف راستوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ شریشٹھ نے ان کی صلاحیت کو پیدا نہیں کیا، اس نے صرف یہ یقینی بنایا کہ حالات اسے ختم نہ کر سکیں۔
|
اسکول اور اعلی تعلیم کیلئے وظائف
پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیمیں درج فہرست ذات کے طلبہ کو تعلیم کے مختلف مراحل پر مالی معاونت فراہم کرتی ہیں۔پری میٹرک اسکالرشپ کلاس 9 اور 10 کے طلبہ کو اسکول میں برقرار رہنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ اسکیم خاص طور پر کمزور اور محروم خاندانوں کے بچوں کی معاونت کرتی ہے، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو ہاتھ سے صفائی یا خطرناک صفائی جیسے کاموں سے وابستہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔پوسٹ میٹرک اسکالرشپ طلبہ کو ثانوی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے، کیونکہ یہ ان کے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے میں معاون ہوتی ہے اور انہیں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔یہ دونوں اسکیمیں مکمل طور پر ڈیجیٹل براہِ راست فائدہ منتقلی نظام کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں، جس سے شفافیت اور تیز تر مالی معاونت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
حالیہ پیش رفت
- 2026-2025 میں پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت ڈی بی ٹی کے ذریعے 359.47 کروڑروپےجاری کیے گئے، جس سے 17.14 لاکھ طلبہ کو فائدہ پہنچا۔
- سال 2015-2014 کے بعد سے، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت کی گئی کوششوں کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم میں 66.23 لاکھ درج فہرست ذات طلبہ کا داخلہ بڑھا ہے، جو 44 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔اسی عرصے میں ایس سی طالبات کا داخلہ بڑھ کر 31.71 لاکھ تک پہنچ گیا، جو 51 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
- ایس سی طالبات کا اندراج بڑھ کر 31.71 لاکھ ہو گیا ، جو 2014-15 سے 51فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے ۔
- اعلی تعلیم میں ایس سی طلبا کے مجموعی اندراج کا تناسب (جی ای آر) 2015-2014 میں 18.9 فیصد سے بڑھ کر 2022-2021 میں 25.9 فیصد ہو گیا ۔
- اسی عرصے کے دوران ایس سی طالبات کا جی ای آر 18.1 فیصد سے بڑھ کر 26فیصد ہو گیا ۔
- گیارہویں سے بارہویں جماعت کے ایس سی طلبا کا جی ای آر 2019-20 میں 52.9 فیصد سے بڑھ کر 2021-22 میں 61.5 فیصد ہو گیا ۔
ان اسکیموں نے مل کر ملک بھر میں درج فہرست ذات کے طلبا کے لیے تعلیم کے حصول کوبرقرار رکھنے کو بہتر بنانے ، اعلی تعلیم تک رسائی کو بڑھانے اور تعلیمی نتائج کو مستحکم کرنے میں مدد کی ہے ۔
سال2021-22 سے یہ اسکیم اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل موڈ بن گئی ہے ۔ فنڈز براہ راست تصدیق شدہ طلباء تک پہنچتے ہیں ۔
پسماندہ اور خانہ بدوش برادریوں کی ترقی
دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) معاشی طور پر پسماندہ طبقات (ای بی سی) اور غیر اطلاع یافتہ اور خانہ بدوش قبائل (ڈی این ٹی) بھی باضابطہ ترقی کے کنارے پر رہے تھے ۔ پچھلے 12 سالوں میں یہ منظر نامہ بدل گیا ہے ۔ اسکالرشپس ، ہنر مندی ، معاش اور قانونی شناخت ان کمیونٹیز تک پہنچ چکی ہیں جنہوں نے سب سے طویل انتظار کیا تھا ۔
پی ایم-یاسسوی-پی ایم ینگ اچیورز اسکالرشپ ایوارڈ اسکیم برائے وائبرینٹ انڈیا
سال2021-22 میں شروع کیا گیا پی ایم-یاسسوی پانچ کمپوننٹ کے ذریعے او بی سی ، ای بی سی اور ڈی این ٹی طلبا کی مدد کرتا ہے: پری میٹرک اسکالرشپ ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ ، ٹاپ کلاس اسکول ایجوکیشن ، ٹاپ کلاس کالج ایجوکیشن اور او بی سی ہاسٹل، تمام فوائد براہ راست آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کیے جاتے ہیں ۔ تمام کمپوننٹ میں کم از کم 30فیصد نشستیں طالبات کے لیے مخصوص ہیں ۔

پرائم منسٹر دکشتا اور کشلتاسمپن ہِت گرہی اسکیم (پی ایم-دکش)
پی ایم-دکش ، جو 2021-2020 میں شروع کیا گیا تھا ، پسماندہ برادریوں کو مفت ، تصدیق شدہ ہنر کی تربیت فراہم کرتا ہے ۔ یہ اسکیم انہیں تنخواہ دار روزگار اور خود روزگار سے براہ راست جوڑتی ہے ۔
کون کون شامل ہیں:
- شیڈولڈ کاسٹ-آمدنی کی کوئی حد نہیں ۔
- او بی سی-خاندان کی آمدنی 3 لاکھ روپے تک
- ای بی سی-1 لاکھ روپے تک کی خاندانی آمدنی
- غیر مطلع شدہ اور خانہ بدوش قبائل - آمدنی کی کوئی حد نہیں ہے
- صفائی کارکنان اور کچرا چننے والے-آمدنی کی کوئی حد نہیں
پی ایم-دکش اسکیم نے اپنے آغاز سے اب تک 2.08 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کو کامیابی کے ساتھ تربیت دی ہے ۔
ونچت ایکائی سموہ اور ورگوں کو آرتھک سہائتا (وشواس) یوجنا
وشواس اسکیم آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے لیے درج فہرست ذاتوں ، دیگر پسماندہ طبقات اور صفائی کرمچاریوں کو سستی قرضے فراہم کرنے میں مدد کرتی ہے ۔ اہل قرضوں پر سالانہ 5% تک کی سود سبسڈی فراہم کی جاتی ہے ، جس کا فائدہ براہ راست ڈی بی ٹی کے ذریعے مستفیدین کو منتقل کیا جاتا ہے ۔ قرض لینے کی لاگت کو کم کرکے ، یہ صنعت کاری ، خود روزگار اور روزی روٹی کے مواقع کو فروغ دیتا ہے ۔
اہم کامیابیاں (2025-2024 اور 2026-2025)

ڈی این ٹیز کو اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کی اسکیم (سیڈ)
سیڈ ، فروری 2022 میں شروع کی گئی ، ایک اسکیم ہے جو غیر مطلع شدہ ، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل (ڈی این ٹی/این ٹی/ایس این ٹی) کی فلاح و بہبود کے لیے وقف ہے ۔ یہ منصوبہ چار کلیدی مداخلتوں کی حمایت کرتا ہے: مسابقتی امتحانات کے لیے مفت کوچنگ ، صحت بیمہ ، کمیونٹی کی سطح پر روزی روٹی کے اقدامات اور رہائش کے لیے مالی مدد ۔
صرف 2026-2025 کے دوران 4,485 ڈی این ٹی طلبا کو مفت کوچنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لیے 26.75 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ۔ اس کے علاوہ نچلی سطح پر مالی آزادی کو فروغ دینے کے لیے 64,701 افراد کو براہ راست 16 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ۔ اسی عرصے کے دوران ان کی روزی روٹی چلانے کے لیے معاشی اور تعلیمی بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے سماجی تحفظ کو ترجیح دی ۔ 2025-26 میں ہی ڈی این ٹی گھرانوں کو 73569 آیوشمان بھارت ہیلتھ انشورنس کارڈ جاری کیے گئے ہیں ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ انہیں سب سے زیادہ ضرورت کے وقت مفت اور معیاری صحت کی دیکھ بھال ملے ۔
پسماندہ اقلیتی برادریوں کو بااختیار بنانا
پردھان منتری وراثت کا سموردھن (پی ایم وکاس)
پی ایم وکاس ، جو 2025 میں شروع کیا گیا تھا ، اقلیتی برادری کی تعلیمی ، اقتصادی اور سماجی ترقی کی ضروریات کے لیے ایک ٹھوس ردعمل لاتا ہے ۔ پانچ موجودہ اسکیمیں-لرن اینڈ ارن ، یو ایس ٹی ٹی اے ڈی ، ہماری دھروہر ، نئی روشنی اور نئی منزل-کو ایک مربوط فریم ورک میں ضم کر دیا گیا ہے ۔
وزیر اعظم کی ترقی کا ایک اہم مقصد صنعت پر مبنی ہنرمندی کی ترقی ہے جس میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ تربیت موجودہ مارکیٹ کی طلب اور روزگار کے مواقع کے مطابق ہو ۔ تربیت میں مختلف قسم کے کرداروں کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں ایئر لائن کیبن عملہ ، باغبانی اور نرسری مینجمنٹ ، روایتی ہاتھ کڑھائی ، گرافک ڈیزائن ، الیکٹریشن اور جونیئر انجینئر ڈرون (آر اینڈ ڈی) شامل ہیں ۔ ہنر مندی کی ترقی کو صنعت کاری ، قیادت اور ثقافتی سرپرستی کے ساتھ جوڑ کر ، یہ اسکیم روزگار کو بڑھانے اور اقلیتی برادریوں کے لیے روزی روٹی کے پائیدار مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔
پیش رفت (10 جون 2026 تک):
- اس اسکیم کے لیے 73,200 امیدواروں نے اندراج کرایا ہے ۔
- 31 تربیتی شراکت داروں اور 353 تربیتی مراکز کے ذریعے 12,429 امیدواروں کو مختلف مہارتوں کی تربیت دی گئی ۔
- 2,557 بیچوں میں 1,405 امیدواروں کو جاب لسٹنگ ، ایئر لائن کیبن کریو ، کثیر ہنر مند تکنیکی ماہرین ، روایتی ہاتھ کڑھائی وغیرہ میں تصدیق شدہ کیا گیا ۔
- اس میں انتظامیہ ، میڈیا اور تفریح ، صحت کی دیکھ بھال ، زراعت اور دیگر شعبوں کے طلباء شامل ہیں ۔
صفائی کارکنوں کے وقار کی بحالی
صفائی ستھرائی کے کارکنوں نے اکثر اپنی صحت ، حفاظت اور وقار کی قیمت پر ہندوستان کے شہروں کو آسانی سے چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ نمستے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے مالی سال 2024-2023 میں ایک اسکیم (میکانائزڈ سینی ٹیشن ایکوسسٹم کے لیے نیشنل ایکشن پلان) شروع کی گئی تھی ۔ یہ ایک ساختی اصلاح ہے جو خطرناک دستی صفائی کو میکانائزڈ سسٹم سے بدل دیتی ہے اور وقار اور حفاظت کے ساتھ معاش کی تعمیر کرتی ہے ۔

اس اسکیم میں اصل میں سیوریج اور سیپٹک ٹینک ورکرز (ایس ایس ڈبلیو) کا احاطہ کیا گیا تھا لیکن جون 2024 سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کچرا چننے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔
محروم علاقوں کی تبدیلی-امنگوں والے اضلاع کا نقطہ نظر
حکومت نے ایک عام فہم یقین کی بنیاد پر امنگوں والے اضلاع کا پروگرام قائم کیا تھا-کہ جغرافیہ کو تقدیر کا تعین نہیں کرنا چاہیے ۔ 2018 میں شروع کیا گیا ، اسے صحت ، غذائیت ، تعلیم ، زراعت اور مالی شمولیت کے شعبوں میں ہندوستان کے 112 انتہائی پسماندہ اضلاع میں نافذ کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا ۔ 2023 میں ، اس کے ساتھ ، 329 اضلاع کے 500 بلاکوں تک پہنچنے کے خواہش مند بلاک پروگرام کا ہدف بڑھا دیا گیا ۔
نتائج مقامی ، مخصوص اور قابل پیمائش رہے ہیں ۔ ہر ضلع نے اپنی سب سے بڑی رکاوٹ کی نشاندہی کی اور اس کی بنیاد پر ردعمل تیار کیا ۔
|
امنگوں والے اضلاع کا پروگرام-آخری میل تک حکمرانی
آسام کے لکھیم پور میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دریا کے وسیع پھیلاؤ کی وجہ سے کئی کمیونٹیز برسوں تک صحت کی سہولیات سے محروم رہی تھیں۔ انتظامیہ نے اپریل 2023 سے دسمبر 2024 کے درمیان 1,176 مقامات پر موبائل میڈیکل یونٹس اور کشتی کلینکس تعینات کیے۔ اس مہم کے نتیجے میں 25,308 افراد کی ہدف آبادی میں ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر دونوں کی 100 فیصد اسکریننگ کو یقینی بنایا گیا۔
تمل ناڈو کے ضلع وِرودھنگر میں ناقص رابطہ کاری اور زیادہ خطرے والی حمل کی مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث طویل عرصے سے زچگی کی اموات ہو رہی تھیں۔ ضلع نے ایک خصوصی ڈیجیٹل پورٹل تیار کیا جسے "Virucare" کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے میں خون کی کمی (انیمیا) میں مبتلا ماؤں کے لیے ہدف شدہ غذائی معاونت کے ساتھ ساتھ حقیقی وقت میں قبل از ولادت نگرانی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اپریل 2023 سے مارچ 2024 کے دوران ضلع میں زچگی کی اموات کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
|
امیدوار اضلاع اور بلاک پروگرام نے یہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کے کچھ انتہائی پیچیدہ ترقیاتی چیلنجز کا حل اس وقت ممکن ہے جب زمینی سطح پر درست نظام، جوابدہی کے ڈھانچے اور فعال لوگ موجود ہوں۔
مساوات کی طرف مسلسل پیش رفت
سال2014 سے پہلے، بھارت کے کئی سب سے محروم طبقات اور سرکاری پالیسیوں کے درمیان ایک نمایاں خلیج موجود تھی۔ فلاحی اسکیمیں اصولی طور پر موجود تھیں، لیکن ان پر عمل درآمد غیر مساوی تھا اور رسائی محدود تھی۔ قبائلی برادریاں، شیڈولڈ کاسٹس، دیگر پسماندہ طبقات، خانہ بدوش گروہ اور اقلیتوں کا بڑا حصہ رسمی ترقی کے عمل سے محروم رہا۔
اس کے بعد کے برسوں میں اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔ کسی ایک ہی پالیسی پر انحصار کرنے کے بجائے حکومت نے مختلف برادریوں کو درپیش مخصوص چیلنجز کے حل کے لیے ہدفی مداخلتوں کا ایک جامع نظام تیار کیا۔ تعلیم، ہنر مندی کی ترقی، روزگار، مالی شمولیت، شناخت، بنیادی ڈھانچہ، ثقافتی تحفظ اور سماجی وقار کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
پورے ملک میں محروم طبقات پر اس کے اثرات تیزی سے ظاہر ہونے لگے—شیڈولڈ ٹرائب کے طلبہ کا یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے اور پی ایچ ڈی کرنے میں اضافہ، شیڈولڈ کاسٹ کے کاروباری افراد کا انٹرپرائزز قائم کرنا، سڑکوں اور بجلی سے جڑے ہوئے دیہات، اور اقلیتی برادری کی خواتین کا اپنے گھروں سے مستقل روزگار پیدا کرنا۔
ترقی کا یہ سفر مسلسل جاری ہے اور ایک زیادہ جامع ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ آج بھارت کے محروم طبقات کو قومی ترقی کی کہانی میں حاشیے پر نہیں دیکھا جاتا۔ وہ اس کے مرکز میں کھڑے ہیں۔ وہ 2047 کے “وِکست بھارت” کے تصور میں خود کو شامل محسوس کرتے ہیں۔
حوالہ جات
Press Information Bureau
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2236972®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248357®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154915&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238355®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238355®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2189515®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2159087®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=154377&NoteId=154377&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1784229®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2209488®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2247766®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253348®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2146466®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2255017®=3&lang=1
Ministry of Tribal Affairs
https://tribal.nic.in/downloads/pm-janman/pm/index.html
https://nests.tribal.gov.in/
https://nests.tribal.gov.in/backend/web/dashboard/index
https://tribal.nic.in/downloads/Statistics/AnnualReport/AnnualReport2014-15.pdf
Parliament Questions
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU6227_bkLVA3.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU3814_fWJmb3.pdf?source=pqars
Ministry of Social Justice
https://pmagy.gov.in/
https://e-utthaan.gov.in/home/eyJpdiI6IlJsWkJzNDdDcjU5Q3YxMmYvTzZyZnc9PSIsInZhbHVlIjoiTHFaNmtaTlJZOWJpcERPTUsrRXJIak9DQ1pOcmpHcHQ0Z0lsVWNFeDBPQT0iLCJtYWMiOiI5NWI5ZWEwNGNmZDkyNmNlN2FlMDI5MGE1YWVjYWEwZTczMmUxMDI0YzQwNDg0OWFkNzdiYTdhMzFmZWFiYzJjIiwidGFnIjoiIn0=
https://socialjustice.gov.in/writereaddata/UploadFile/71441776233188.pdf
https://visvas.dosje.gov.in/visvas/home
Others
https://pmvikas.minorityaffairs.gov.in/page/about-us
https://app.powerbi.com/view?r=eyJrIjoiZTgxY2RjNTktMTNkZi00NjlmLTkyZGYtMDViNTRlZWVkZDhkIiwidCI6IjcyNGI4ZWQxLTgxODMtNGNiOS1iNWIwLTFlZDY3YWZlYWNmMSIsImMiOjEwfQ%3D%3D
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2025-08/stories-of-chnage-aspirational-districts-and-blocks.pdf
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
*****
) ش ح –ک ا - ش ب ن )
U.No. 8535
(Explainer ID: 158886)
आगंतुक पटल : 15
Provide suggestions / comments