Rural Prosperity
غریبوں کو بااختیار بنانا: شمولیتی تبدیلی کا ایک عشرہ
Posted On:
08 JUN 2026 11:22AM
|
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت کی مسلسل عوام سے متعلق سرکاری اقدامات نے بنیادی سہولیات تک رسائی کو وسیع کیا ہے اور جس سے محروم طبقات کے درمیان محرومی اور مایوسی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ توسیع شدہ فلاحی ترسیل اور سماجی تحفظ کے اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 25 کروڑ افراد کثیر جہتی غربت سے باہر آئے ہیں۔
دیہی علاقوں میں نل سے پانی کی فراہمی 2019 میں 3.23 کروڑ گھروں سے بڑھ کر مئی 2026 تک 15.84 کروڑ گھروں تک پہنچ گئی ہے۔ 12.11 کروڑ سے زائد گھروں میں بیت الخلا تعمیر کیے گئے، جس کے نتیجے میں دیہی صفائی ستھرا ئی کی شرح 2014 میں 39 فیصد سے بڑھ کر تقریباً مکمل کوریج تک پہنچ گئی۔
پی ایم اجولا یوجنا کے تحت 10.57 کروڑ سے زائد مفت ایل پی جی کنکشن فراہم کیے گئے، جس سے خواتین کی صحت میں بہتری اور گھریلو آلودگی میں کمی واقع ہوئی۔ آیوشمان بھارت کے تحت 43.93 کروڑ ہیلتھ کارڈ جاری کیے گئے، جس سے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو سستی صحت سہولیات تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پی ایم جی کے اے وائی کے ذریعے 81 کروڑ سے زائد مستفیدین کو مفت اناج فراہم کیا گیا، جس سے ملک بھر میں غذائی تحفظ کو تقویت ملی۔ خواتین کے پرائمری اسکول ڈراپ آؤٹ کی شرح 2013-14 کے 4.6 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 0.3 فیصد ہوگئی۔
ڈیجیٹل گورننس اصلاحات کے ذریعے آدھار پر مبنی راشن کی تقسیم کو مؤثر بنایا گیا۔ اسی طرح ٹارگٹڈ اقدامات کے ذریعے امنگوں والے اضلاع اور قبائلی علاقوں میں پانی کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے۔
|
غربت کے خاتمے اور کثیر شعبہ جاتی فلاحی نظام میں اسٹریٹجک حکمت عملی
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں غربت کے خاتمے، سماجی تحفظ اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے نظام میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ عوامی پالیسی کی بنیاد شمولیت، رسائی اور آخری فرد تک خدمات کی ترسیل کے اصولوں پر رکھی گئی ہے، جس نے یہ یقینی بنایا ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوسط مہنگائی کی شرح 2004–2014 کے دوران 8.1 فیصد سے کم ہو کر 2014–2025 کے دوران 5.1 فیصد رہ گئی، جس سے قیمتوں میں استحکام اور گھریلو قوتِ خرید میں بہتری آئی ہے۔ اسی عرصے میں بھارت میں کثیر جہتی غربت 2013–14 کے 29.17 فیصد سے کم ہو کر 2022–23 میں 11.28 فیصد رہ گئی، یعنی 17.89 فیصد پوائنٹس کی نمایاں کمی واقع ہوئی۔ اس دوران تقریباً 25 کروڑ افراد کو کثیر جہتی غربت سے باہر نکالا گیا۔
یہ پیش رفت بڑے پیمانے پر فلاحی اسکیموں اور سماجی تحفظ کے اقدامات کے توسیع سے ممکن ہوئی ہے۔ اہم اقدامات میں مالی شمولیت، سستی صحت سہولیات، غذائی تحفظ، رہائش، روزگار کے مواقع اور ڈیجیٹل گورننس اصلاحات شامل ہیں۔ بہتر بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی نے بھی ان کوششوں کو مزید تقویت دی ہے، جس کے نتیجے میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں لاکھوں غریب خاندانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئی ہے۔
عزت اوروقار کی بنیادیں: بنیادی ضروریات تک سب کی رسائی
حکومتی اقدامات نے دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں نل کے پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، ایل پی جی تک رسائی اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ یہ اقدامات معیارِ زندگی میں بہتری، انسانی ترقی اور بنیادی سہولیات کی وسیع پیمانے پر فراہمی کی جانب ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
I. پانی کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت (ڈبلیو اے ایس ایچ) تک سب کی رسائی
گزشتہ دہائی کے دوران صاف توانائی، محفوظ پینے کے پانی اور بہتر صفائی ستھرائی تک رسائی بھارت کی فلاحی اور صحت عامہ کی حکمت عملی کا ایک مرکزی ستون بن چکی ہے۔ بڑے پیمانے پر کیے گئے اقدامات نے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا ہے اور صحت سے متعلق خطرات کو کم کیا ہے، جس سے خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں انسانی وقار کو تقویت ملی ہے۔
جل جیون مشن
جل جیون مشن (جے جے ایم)، جو 2019 میں شروع کیا گیا، ایک انقلابی بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے جس کا مقصد دیہی گھریلو سطح پر پینے کے صاف پانی تک سب کی رسائی کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔

یہ مشن دیہی علاقوں میں خواتین پر پانی لانے کے لیے دستی مشقت کے طویل عرصے سے موجود بوجھ کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام دیہی آبادی کے لیے صحت، تعلیمی حصول اور سماجی و اقتصادی حیثیت میں نمایاں بہتری کو فروغ دیتا ہے۔
اپنی اسٹریٹجک ترجیحات کی عکاسی کرتے ہوئے اس مشن کے لیے مالی تخصیص میں 2020-21 سے 2026-27 کے درمیان تقریباً 488 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 67,670 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ عملی طور پر اس مشن نے وسیع پیمانے پر نتائج حاصل کیے ہیں، جس کے تحت گھریلو نل کے پانی کی رسائی اگست 2019 میں 3.23 کروڑ گھروں سے بڑھ کر مئی 2026 تک 15.84 کروڑ گھروں تک پہنچ گئی۔ اس طرح 19.35 کروڑ کل گھروں میں سے 81.87 فیصد کو نل کے پانی کی سہولت حاصل ہو چکی ہے۔مزید برآں،‘‘ہر گھر جل’’مہم کے تحت 2.77 لاکھ دیہی علاقوں میں مکمل طور پر نل کے پانی کی سہولت حاصل کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، اس اقدام نے امتیازی ترقیاتی فرق کو دور کرنے کے لیے نشان زد اقدامات بھی کی ہیں، خصوصاً امنگوں والے اضلاع اور بلاکس میں۔ ان اضلاع میں گھریلو نل کے پانی کی رسائی اگست 2019 کے 23.62 لاکھ گھروں سے بڑھ کر مئی 2026 تک 2.20 کروڑ گھروں تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امنگوں والے بلاکس میں 1.11 کروڑ گھرانوں کو نل کے پانی تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ یہ توسیع شدہ نظام صحتِ عامہ اور دیہی وقار کو مضبوط بنانے کے عزم کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
جل جیون مشن کے عملی رہنما اصول ‘‘ہر گھر جل‘‘ فریم ورک کے تحت دیہی علاقوں کی سرٹیفکیشن کے لیے مخصوص تقاضے طے کرتے ہیں۔ اس ادارہ جاتی توجہ کے نتیجے میں پینے کے صاف پانی تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور کسی بھی گاؤں کو تب ہی تصدیق دی جاتی ہے جب وہ گھروں اور اہم اجتماعی اداروں میں نل کے پانی کی مکمل فراہمی حاصل کر لیتا ہے۔

اس تناظر میں نل کے پانی کی سہولت رکھنے والے اسکولوں کی تعداد اگست 2019 میں 29,711 سے بڑھ کر مئی 2026 تک 9.23 لاکھ ہو گئی۔ اسی طرح آنگن واڑی مراکز میں نل کے پانی کی رسائی 15,464 سے بڑھ کر 9.66 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے علاوہ، گرام پنچایتوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز میں نل کے پانی کی سہولت 3.93 لاکھ اداروں تک پہنچ گئی ہے، جو ان اداروں کا 77.27 فیصد بنتا ہے۔ صاف پینے کے پانی تک بہتر رسائی نے آبی امراض میں کمی، صفائی ستھرائی و حفظانِ صحت کے نظام میں بہتری اور تعلیمی نتائج میں بہتری کو خاص طور پر بچوں اور نوعمر لڑکیوں کے لیے فروغ دیا ہے۔

سوچھ بھارت ابھیان (شہری(
سوچھ بھارت مشن(شہری)، جس کا آغاز 2014 میں کیا گیا تھا، ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی ہے جو نہ صرف بنیادی ڈھانچہ بلکہ رویوں میں تبدیلی کو بھی ہدف بناتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کھلے میں رفع حاجت کے خاتمے اور غیر انسانی صفائی کے طریقوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ناکافی صفائی سہولیات کی بہتری اور میونسپل کے ٹھوس فضلہ کے مؤثر انتظام کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ یہ فلیگ شپ تحریک سماجی رویوں میں بنیادی تبدیلی لانے میں کامیاب رہی ہے، جس کے نتیجے میں صفائی ستھرائی کے نظام کی مانگ اور استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس مشن کے لیے بجٹ مختص رقم ایس بی ایم -یو فیز 1 (2014–2021) کے تحت 62,009 کروڑ روپے سے بڑھا کر ایس بی ایم -یو 2.0 (2021–2026) کے تحت 1.41 لاکھ کروڑ روپےکر دیا گیا، جو تقریباً 128.3 فیصد اضافہ ہے۔
اس مشن کے تحت گھر گھر سے کچرا جمع کرنے کی سہولت جو 2014 میں 43 فیصد تھی سے بڑھ کر 2026 میں 98 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی طرح مختلف کلیکشن اینڈ میٹریل ریکوری سینٹرز میں فضلہ کے پراسیسنگ کی شرح 2014 کے 16 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 82 فیصد ہو گئی۔

انفرادی طور پر گھروں میں بیت الخلا کی تعمیر مقررہ اہداف سے بڑھ کر مکمل کی گئی، جس کے تحت 63.74 لاکھ یونٹس تعمیر ہوئے اور 108.62 فیصد ہدف حاصل کیا گیا۔ اسی طرح کمیونٹی اور پبلک ٹوائلٹ کے انفراسٹرکچر میں بھی نمایاں توسیع ہوئی، جس کے تحت 6.36 لاکھ یونٹس مکمل کیے گئے، جو ہدف کا 125.46 فیصد بنتا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں 4,692 شہروں کو کھلے میں رفع حاجت سے پاک (اوڈی ایف) قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، 4,314 شہر وں کو او ڈی ایف پلس اور 1,973 شہروں کو اوڈی ایف پلس پلس کے طور پر تصدیق شدہ قراردیا گیاہیں، جو شہری صفائی اور فضلہ کے انتظام میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
|
اوڈی ایف پلس اور اوڈی ایف پلس پلس کیا ہیں؟
او ڈی ایف سے مراد ‘‘اوپن ڈیفیکیشن فری’’ یعنی کھلے میں رفع حاجت سے پاک علاقہ ہے، جہاں کوئی بھی شخص کھلے میں رفع حاجت نہیں کرتا اور ہر کوئی بیت الخلا کا استعمال کرتا ہے۔او ڈی ایف پلس سے مراد ایسا علاقہ ہے جو نہ صرف کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہو بلکہ جہاں ٹھوس اور مائع فضلہ کے مؤثر انتظام کا بندوبست بھی موجود ہو۔ اس کے نتیجے میں اس علاقے میں مجموعی صفائی کی واضح اور نمایاں بہتری نظر آتی ہے۔او ڈی ایف پلس پلس اس سے آگے کی سطح ہے، جس میں تمام بیت الخلا فعال اور مناسب دیکھ بھال کے ساتھ استعمال میں ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فضلہ اور سیوریج کو محفوظ طریقے سے بندوبست کیا جاتا ہےاور اسے براہِ راست نالیوں یا آبی ذخائر میں خارج نہیں کیا جاتا۔
|
سوچھ بھارت ابھیان (گرامین)
2014 سے قبل دیہی بھارت میں تقریباً 55 کروڑ افراد کو مناسب صفائی کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں تھی، جس کے نتیجے میں صحتِ عامہ کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے تھے اور بالخصوص خواتین اور بچوں کے لیے سماجی وقار متاثر ہو رہا تھا۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر اکتوبر 2014 میں سوچھ بھارت مشن (دیہی) کا آغاز کیا گیا۔اس ترجیحی پروگرام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے لیے مالی مختص میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ مختص رقم 2014–15 میں 3,929 کروڑ روپےسے بڑھ کر 2026-27 میں 7,192 کروڑ روپےتک پہنچ گئی ہے، جو 83 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

اس مشن کے تحت اب تک 12.11 کروڑ سے زائد انفرادی طور پرگھروں میں بیت الخلا تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ فیز I کے دوران صفائی ستھرائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2014 میں 39 فیصد سے بڑھ کر 2019 میں 100 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد بھارت کو 2019 میں کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دیا گیا۔
مارچ 2026 تک 5 لاکھ سے زائد دیہاتوں نے اوڈی ایف پلس (ماڈل) کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اوڈی ایف پلس میں دیہی علاقوں میں ٹھوس اور مائع فضلہ کے مؤثر انتظام کے ذریعے جامع صفائی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ پیش رفت بنیادی سہولت تک رسائی سے آگے بڑھ کر مکمل ماحولیاتی صفائی کے ایک منظم نظام کی طرف ایک واضح اور مربوط تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

دیہی بھارت میں فضلہ کے جامع انتظام کے پروٹوکول کو ادارہ جاتی شکل دی جا چکی ہے۔ ٹھوس فضلہ کے انتظام کے نظام 5.31 لاکھ دیہی علاقوں میں فعال ہیں، جبکہ مائع اور گندے پانی کے انتظام کےبندوبست 5.50 لاکھ دیہی علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔ اس بنیادی ڈھانچے کو مزید تقویت 2,415 پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ یونٹس کے ذریعے حاصل ہے، جو 5,482 بلاکس پر محیط ہیں۔ سوچھ بھارت مشن کی ان کامیابیوں کو بیماری اور اموات کی شرح میں نمایاں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ گوبردھن اقدام نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ یہ پروگرام مالی سال 2018–19 میں 14 فعال بایوگیس پلانٹس سے بڑھ کر مئی 2026 تک 1,213 سے زائد پلانٹس تک پہنچ گیا ہے۔ فضلہ کے انتظام کے اس مربوط نظام اور بایو انرجی کی پیداوار کے امتزاج نے سرکلر اکانومی کی طرف ایک مضبوط اور منظم منتقلی کی عکاسی کی ہے۔
II صاف ایندھن، قابل تجدید توانائی اور دیہی بجلی کی فراہمی کی سمت میں پیش رفت
بھارت کی جامع حکمتِ عملی کا مقصد صاف ایندھن، چھتوں پر سولر توانائی کے فروغ اور دیہی علاقوں میں مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
پردھان منتری اجولا یوجنا

پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی)، جو 2016 میں شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد معاشی طور پر کمزور گھرانوں میں روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت غریب گھرانوں کی بالغ خواتین کو مفت ایل پی جی کنکشن اور ریفل سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
یہ پروگرام دیہی صحت اور معیارِ زندگی میں بہتری کا باعث بنا ہے، کیونکہ اس سے گھروں کے اندر آلودگی میں کمی آئی ہے اور لکڑی و بایوماس پر انحصار کم ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اسکیم نے خواتین کی مشقت میں کمی، ماحولیاتی تحفظ اور بہتر غذائی نتائج کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
مئی 2026 تک اس اسکیم کے تحت 10.57 کروڑ سے زائد مفت ایل پی جی کنکشن بی پی ایل گھرانوں کی خواتین کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ نتیجتاً ملک میں ایل پی جی کنکشنز کی مجموعی تعداد 2014 میں 14.52 کروڑ سے بڑھ کر 2026 میں 33.39 کروڑ تک پہنچ گئی، جس میں گزشتہ 12 سالوں میں تقریبا 129.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پردھان منتری سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا

2024 میں شروع کی گئی ‘‘پردھان منتری سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا’’کا مقصد چھتوں پر سولر سسٹمز کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت گھریلو سولر تنصیبات کے لیے سبسڈی فراہم کی جاتی ہے اور ہر ماہ 300 یونٹس تک مفت بجلی دی جاتی ہے۔ اس سے غریب اور متوسط طبقے کے گھرانوں کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ اضافی بجلی کی فروخت کے ذریعے آمدنی کا موقع بھی فراہم ہوتا ہے۔ یہ ایک فلاحی اقدام کے طور پر توانائی میں خود کفالت کو فروغ دیتا ہے اور فوسل فیول پر مبنی بجلی پر انحصار کم کرتا ہے۔
اس اسکیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر 2026-27 کے مرکزی بجٹ میں اس کے لیے مختص رقم 22,000 کروڑ روپےتک بڑھا دی گئی، جبکہ ابتدائی مختص رقم 2024-25 میں 6,250 کروڑ روپےتک تھی۔
اپریل 2026 تک اس اسکیم سے 36.8 لاکھ گھرانے مستفید ہو چکے تھے، جبکہ چھتوں پر سولر تنصیبات کی تعداد دسمبر 2024 میں 6.3 لاکھ سے بڑھ کر اپریل 2026 تک 30 لاکھ تک پہنچ گئی۔
یونیورسل ولیج الیکٹریفیکیشن
پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا(ایس اے یو بی ایچ اے جی وائی اے)، جو 2017 میں شروع کی گئی تھی، کا مقصد ملک بھر میں تمام خواہشمند گھروں کو بجلی فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم نے صحت اور تعلیم کے معیار میں بہتری، مٹی کے تیل (کیروسین) پر انحصار میں کمی، اور بالخصوص خواتین کے لیے بہتر معیارِ زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مارچ 2019 تک ملک بھر میں 100 فیصد خواہشمند گھروں کی بجلی کاری مکمل کر لی گئی۔
دیہی بجلی کاری کے عمل کو گھروں سے آگے بڑھا کر سڑکوں اور کمیونٹی انفراسٹرکچر تک وسعت دی گئی۔ 2014 میں شروع کی گئی دین دیال اپادھیائے گرام جیوتی یوجنا نے دیہی بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دی اور زرعی سرگرمیوں کے لیے قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ اس اسکیم کے تحت 2025 تک 100 فیصد دیہات کی بجلی کاری مکمل ہو چکی تھی۔
ان ہدفی اقدامات کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کی رسائی اور دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دیہی علاقوں میں اوسط یومیہ بجلی کی فراہمی 2014 کے مالی سال میں 12.5 گھنٹے سے بڑھ کر 2025 میں 22.6 گھنٹے تک پہنچ گئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ 22.1 گھنٹے سے بڑھ کر 23.4 گھنٹے ہو گئی۔ بجلی کی بہتر دستیابی نے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر برقی آبپاشی کے نظام کے ذریعے، اور صنعتی و شہری انفراسٹرکچر کو بھی مضبوط کیا۔

III . صحتِ عامہ اور غذائی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا
بھارت نے صحت کی سہولیات تک رسائی، ان کی استطاعت اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات نافذ کی ہیں۔ توسیع شدہ فلیگ شپ پروگرام لاکھوں افراد کے لیے مضبوط غذائیت اور جامع سماجی تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
آیوشمان بھارت

آیوشمان بھارت - پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم -جے اے وائی) ستمبر 2018 میں بھارت میں جامع صحت تحفظ کے حصول کے لیے شروع کی گئی ہے۔ اسے دنیا کی سب سے بڑی عوامی مالی اعانت یافتہ صحت بیمہ اسکیم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جو ہر مستحق خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپےتک تک کا صحت بیمہ فراہم کرتی ہے۔ یہ اسکیم تقریباً 12.37 کروڑ معاشی طور پر کمزور خاندانوں، یعنی آبادی کے نچلے 40 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہے۔ مارچ 2024 میں اس کے دائرہ کار میں مزید توسیع کرتے ہوئے تقریباً 37 لاکھ آشاورکرز، آنگن واڑی ورکرز، ہیلپرز اور ان کے خاندانوں کو بھی شامل کیا گیا۔
مئی 2026 تک اس اسکیم کے تحت 43.93 کروڑ آیوشمان کارڈ جاری کیے جا چکے تھے۔ اسپتال میں داخلے کی شرح 2019 میں 29.96 لاکھ سے بڑھ کر مئی 2026 تک 12.03 کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ مجموعی طور پر علاج کے اخراجات 1.80 لاکھ کروڑ روپےتک ہے۔ اسی دوران آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم)نے صحت کے ڈیجیٹل نظم و نسق کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ اس کے تحت آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹس (اے بی ایچ اے) متعارف کرائے گئے، جو 14 ہندسوں پر مشتمل منفرد ڈیجیٹل شناختی نظام ہے اور صحت کے ریکارڈز کے مؤثر اور مربوط انتظام کو ممکن بناتا ہے۔ مئی 2026 تک 88.33 کروڑ اے بی ایچ اے اکاؤنٹس بنائے جا چکےہے، جبکہ تقریباً 97.81 کروڑ صحت ریکارڈز ان سے منسلک کیے گئے، جس سے ایک پیپر لیس صحت نظام کو فروغ ملا ہے۔
بنیادی صحت ڈھانچے میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے، جہاں 1.85 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندر نے 540 کروڑ مریضوں کے دوروں کی سہولت فراہم کی۔ سستی ادویات تک رسائی کے لیے اے ایم آر آئی ٹی آؤٹ لیٹس کے ذریعے 7.41 کروڑ شہری مستفید ہوئے۔
اس کے علاوہ، آیوشمان بھارت وے وندنا یوجنا کے تحت 1.20 کروڑ سے زائد بزرگ شہریوں کو رجسٹرڈ کیا گیا، اور تقریباً 13.84 لاکھ علاج فراہم کیے گئے جن پر 3,000 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی۔ اسی عرصے میں صحت کے بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جہاں اے آئی آئی ایم ایس اداروں کی تعداد 2014 سے قبل 8 تھی جو 2014–2026 کے دوران بڑھ کر 15 ہو گئی۔ اس طرح اے آئی آئی ایم ایس اداروں کی عملی توسیع تقریباً دوگنی ہو گئی، جو کمزور معاشی طبقوں کو سستی اور معیاری صحت سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
زچہ و بچہ کی صحت کے لیے اقدامات
حکومت نے زچہ وبچہ کی صحت کے نظام کو مختلف اسٹریٹجک اقدامات کے ذریعے مضبوط بنایا ہے، جن میں جننی سرکشا یوجنا، جننی شِشو سرکشا کاریہ کرم، اور پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان(پی ایم ایس ایم اے)شامل ہیں۔پی ایم ایس ایم اے کے تحت 7 کروڑ سے زائد قبل از ولادت معائنے کیے گئے، جن کے ذریعے ہائی رسک حمل کی بروقت تشخیص اور نگرانی ممکن ہوئی۔ اسی طرح مشن اندر دھنش کے تحت 5.46 کروڑ بچوں اور 1.32 کروڑ حاملہ خواتین کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے، جس سے مجموعی صحت کے نتائج میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں زچہ و بچہ صحت کے اشاریوں میں قابلِ ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح (ایم ایم آر)2014–16 میں 130 فی ایک لاکھ زندہ پیدائش سے کم ہو کر 2021–23 میں 88 فی ایک لاکھ رہ گئی۔ این ایف ایچ ایس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پہلے سہ ماہی میں قبل از ولادت معائنے کی شرح 59 فیصد سے بڑھ کر 76.2 فیصد ہو گئی، جبکہ کم از کم چار قبل از ولادت معائنے کی شرح 51 فیصد سے بڑھ کر 65.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو ادارہ جاتی زچہ و بچہ کی صحت خدمات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، نیشنل اسٹیٹسٹیکل آفس (این ایس او)کی جانب سے جاری کردہ گھریلو سماجی استعمال کے سروے (80واں دور) کے مطابق:
- دیہی علاقوں میں تقریباً دو تہائی (66.8 فیصد) ادارہ جاتی زچگیاں سرکاری صحت مراکز میں انجام پاتی ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 47 فیصد ہے۔
- طولانی تجزیے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ آؤٹ پیشنٹ خدمات کے لیے سرکاری صحت مراکز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جس میں دیہی شرکت 2014 کے 28 فیصد سے بڑھ کر 2025 تک 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اشاریے صحت کے نظام میں اس تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جس کے تحت ماڈل محض ردِعمل پر مبنی بحران مینجمنٹ سے نکل کر ایک پیشگی، منصفانہ اور احتیاطی حکمتِ عملی کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔
سب کے لیے غذائی تحفظ

پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا(پی ایم جی کے اے وائی)، جو 2020 میں شروع کی گئی، ایک اہم سماجی تحفظی نظام کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ اسکیم وبائی امراض کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی اور اس کے تحت 81 کروڑ سے زائد مستفیدین کو مفت غذائی اجناس فراہم کی جاتی ہیں۔ جنوری 2024 میں اس اسکیم کو مزید پانچ سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔
پی ایم جی کے اے وائی موجودہ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس ) کے ڈھانچے کو استعمال کرتی ہے، جس میں وقت کے ساتھ نمایاں جدید کاری کی گئی ہے۔ پی ڈی ایس کے تحت 5.51 لاکھ فیئر پرائس شاپس میں سے 5.50 لاکھ (99.8 فیصد) کو آدھار پر مبنی تقسیم کے لیے خودکار بنایا جا چکا ہے، جبکہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں راشن کارڈز 100 فیصد ڈیجیٹائز ہو چکے ہیں۔
غذائی اجناس کی تقسیم کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے مئی 2026 میں ایس اے آر ٹی ایچ کے-پی ڈی ایس اسکیم کی منظوری دی، جس کے لیے 25,530 کروڑ روپےکا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے لاجسٹکس اور آخری سطح تک ترسیل کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
مزید برآں، ون نیشن ون راشن کارڈ(او این او آر سی)نے قومی سطح پر راشن کی پورٹیبلٹی کو ادارہ جاتی شکل دی ہے، جس کے تحت 2.07 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز انجام دی جا چکی ہیں۔ اس نظام نے مہاجر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہونے والی آبادیوں کے لیے سبسڈی والے اناج تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں غذائی معیار میں بھی قابلِ ذکر بہتری دیکھی گئی ہے۔ این ایف ایچ ایس-6 (2023–24) کے مطابق بچوں میں نشوونما کی کمی کی شرح 2015–16 کے 38.4 فیصد سے کم ہو کر 29.3 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح ضائع ہونے کی شرح 21 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد اور کم وزن بچوں کی شرح 35.8 فیصد سے کم ہو کر 31.8 فیصد رہ گئی ہے، جو بچوں کی غذائی صورتحال میں بتدریج بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
IV .تعلیمی رسائی اور تعلیمی نتائج کو مضبوط بنانا
بھارت کا ترقیاتی سفر ایک کثیر شعبہ جاتی حکمتِ عملی پر مبنی ہے جو صنفی نمائندگی اور ادارہ جاتی رسائی میں تاریخی خلا کو پُر کر رہا ہے۔ جدید انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل تدریسی نظام کے انضمام نے پسماندہ طبقات کے لیے تعلیمی مواقع میں نمایاں توسیع کی ہے۔
سمگرا شکشا ابھیان

سمگرا شکشا ابھیان 2018-19 میں شروع کیا گیا، جس کے تحت سرو شکشا ابھیان، راشٹریہ مادھیمک شکشا ابھیان اور ٹیچر ایجوکیشن اسکیموں کو یکجا کیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی تعلیمی رسائی اور شمولیت کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کی جدید کاری، ڈیجیٹل لرننگ کے فروغ اور پیشہ ورانہ (ووکیشنل) تعلیم کی بہتری پر توجہ دی گئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت 4,073 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جبکہ 1.49 لاکھ آئی سی ٹی اور ڈیجیٹل اقدامات (جن میں اسمارٹ کلاس رومز شامل ہیں) نافذ کیے گئے ہیں۔ 25,000 اسکولوں میں اسکل ایجوکیشن یعنی ہنرمندی کی تعلیم متعارف کرائی گئی ہے (2018-19 سے 2025-26 کے دوران)۔
اس کے علاوہ، صنفی بنیاد پر تعلیمی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے تحت 97.3 فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے فعال اور قابلِ استعمال بیت الخلا موجود ہیں۔ لڑکیوں کے لیے علیحدہ بیت الخلا والے اسکولوں کی تعداد 2013-14 میں 13.5 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں 14.2 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ 2014-15 کے بعد سے اب تک 1.39 لاکھ سے زائد علیحدہ بیت الخلا تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ اس صنفی حساس انفراسٹرکچر نے طالبات کی اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی اور ان کی تعلیمی تسلسل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پرائمری سطح پر طالبات کی ڈراپ آؤٹ شرح 2013-14 کے 4.6 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 0.3 فیصد رہ گئی، جبکہ سیکنڈری سطح پر یہ شرح 14.5 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے لیے ریزرویشن
آئین (ایک سو تیسری ترمیم) ایکٹ 2019 کے تحت تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں اقتصادی طور پر کمزور طبقات(ای ڈبلیو ایس)کے لیے 10 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا۔ اس اقدام سے عام زمرے کے معاشی طور پر کمزور افراد کو بھی مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ای ڈبلیو ایس کے لیے سالانہ طور پر کنبے کی آمدنی کی حد 8 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں بھارت نے 2024-25 میں ابتدائی سطح پر تقریباً عالمی سطح کی شمولیت حاصل کر لی ہے۔ گراس انرولمنٹ رییشو (جی ای آر) پرائمری سطح پر 90.9 فیصد اور اپر پرائمری سطح پر 90.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر جی ای آر 2014-15 کے 46.4 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 58.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ

2015 میں شروع کی گئی ‘‘بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’’ مہم ایک جامع اور کثیر شعبہ جاتی اقدام ہے۔ اس کا مقصد کم ہوتے ہوئے بچوں کے صنفی تناسب کو بہتر بنانا اور صنفی تعصب پر مبنی جنس کے انتخاب کے رجحانات کا خاتمہ کرنا ہے۔ صحت، تعلیم اور سماجی ترقی کے نظاموں کو یکجا کرتے ہوئے اس پروگرام کا بنیادی ہدف بچیوں کی بقا، تحفظ اور تعلیم کو یقینی بنانا ہے۔
اس اسکیم کے مسلسل نفاذ کے نتیجے میں صنفی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ صنفی تناسب 2011 کی مردم شماری کے مطابق 943 سے بہتر ہو کر 2021 تک 1,020 خواتین فی 1,000 مرد تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول میں داخلہ کی شرح 2014-15 میں 75.51 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 تک 80.2 فیصد ہو گئی ہے، جو تعلیم میں صنفی مساوات کی طرف واضح پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔
کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (کے جی بی وی) اور پی ایم ای-ودیا

کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ (کے جی بی وی) اسکیم گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں طور پر وسعت پذیر ہوئی ہے۔ 2014-15 میں منظور شدہ کے جی بی وی کی تعداد 3,609 تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 5,639 ہو گئی۔ اس دوران رہائشی گنجائش بڑھ کر 8.07 لاکھ لڑکیوں تک پہنچ گئی۔ 2024-25 تک ملک بھر میں 5,133 کے جی بی وی فعال ہیں۔ داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد 2014-15 میں 3.52 لاکھ سے بڑھ کر 2024 میں 7.11 لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ ادارے پسماندہ طبقات کی لڑکیوں کے لیے رہائشی تعلیمی سہولیات فراہم کرتے ہیں، جن میں خاص طور پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طبقات کی طالبات شامل ہیں۔
سمگرا شکشا کے تحت کے جی بی وی کو اب اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ بارہویں جماعت تک رہائشی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ مارچ 2024 تک 2,616 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا، جن میں 313 کو دسویں جماعت اور 2,303 کو بارہویں جماعت تک اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ اس سے تعلیمی تسلسل مضبوط ہوا ہے اور کمزور طبقات کی لڑکیوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔
روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے بھی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ پی ایم ای-ودیا کے تحت سوائم پربھا 280 پلس سے زائد چینلز چلا رہا ہے، جس کے ذریعے ہر ماہ 3 لاکھ سے زائد شائقین تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں سوائم پورٹل، جو بھارت کا خود ساختہ ایم او او سی پلیٹ فارم ہے، معیاری تعلیمی وسائل تک عالمی سطح کی رسائی کو ادارہ جاتی شکل دے چکا ہے، اور جنوری 2026 تک اس پر 5.80 کروڑ سے زائد انرولمنٹس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
اسی طرح دیکشاپلیٹ فارم ایک ڈیجیٹل لرننگ سسٹم کے طور پر کام کر رہا ہے، جس پر 2.17 کروڑ رجسٹرڈ صارفین ہیں اور 1.68 لاکھ یومیہ فعال صارفین موجود ہیں۔ یہ ڈیجیٹل اقدامات تعلیمی نتائج میں بہتری، شمولیت اور انسانی سرمائے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بنیادی ڈھانچہ اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانا
مضبوط ٹرانسپورٹ رابطہ کاری جامع ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ مختلف خطوں کے درمیان لوگوں، اشیاء اور خدمات کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت کو ممکن بناتی ہے۔ دیہی سڑکوں، پلوں، ریلوے کی جدید کاری اور مالی ادائیگیوں کے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری نے جسمانی اور مالی بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس سے منڈیوں تک رسائی بہتر ہوئی ہے اور پورے بھارت میں سماجی و اقتصادی انضمام میں اضافہ ہوا ہے۔
I. گھروں کی تعمیر کرنا اور کمیونٹیز کو مضبوط بنانا
2011 کی سماجی و اقتصادی اور ذات پات کی مردم شماری کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 4 کروڑ گھرانے مناسب رہائش یا بنیادی گھریلو سہولیات سے محروم تھے۔ بھارت کے رہائشی اور یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر کی توسیع ایک بڑے مالیاتی ترجیحی تبدیلی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی )اور اے ایم آر یو ٹی جیسے فلیگ شپ پروگراموں نے رہائش کی دستیابی، بنیادی سہولیات اور معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ ان اقدامات نے خواتین کی جائیداد میں ملکیت کو بھی بڑھایا ہے اور سب کے لیے رہائش کے ہدف کو آگے بڑھایا ہے۔
پردھان منتری آواس یوجنا – شہری اور دیہی
پردھان منتری آواس یوجنا–شہری(پی ایم اے وائی-یو)کے لیے مالی معاونت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس اسکیم کے بجٹ میں 2015–16 میں 4,175 کروڑ روپےسے بڑھ کر 2026–27 میں 18,625.05 کروڑ روپے تک اضافہ ہوا، جو تقریباً 346.1 فیصد اضافہ ہے۔ اس اسکیم نے شہری رہائش کی فراہمی کو تیز کیا ہے، جس کے تحت 2015 سے 2026 کے دوران 98.10 لاکھ سے زائد مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 2005–2014 کے دوران صرف 8.04 لاکھ مکانات مکمل ہوئے تھے۔
مئی 2026 تک 1.25 کروڑ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں، جن پر مجموعی طور پر 8.77 لاکھ کروڑ روپے کا خرچ متوقع ہے۔ کریڈٹ لنکڈ سبسڈی اسکیم کے تحت تقریباً 59,318 کروڑ روپے کی شرح سود سبسڈی فراہم کی جا چکی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پی ایم اے وائی-یو کے تحت تقریباً 96 فیصد مکانات خواتین کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، جو خواتین کی معاشی خودمختاری کو مضبوط بناتا ہے۔
پردھان منتری آواس یوجنا–دیہی (پی ایم اے وائی-جی) کے لیے مرکزی بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2015–16 میں 21 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026–27 میں 54,916.70 کروڑ روپےتک پہنچ گیا ہے، یعنی تقریباً 2.61 لاکھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس اسکیم نے دیہی رہائش تک رسائی کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے، جس کے تحت مئی 2026 تک 3.91 کروڑ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں اور 3.03 کروڑ مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً 75 فیصد مستفیدین خواتین ہیں، جو اس پروگرام کے دیہی بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے اور جائیداد کی ملکیت بڑھانے کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
اٹل مشن برائے شہری تجدید و شہری تبدیلی (اے ایم آر یو ٹی)
اے ایم آر یو ٹی اور اے ایم آر یو ٹی 2.0 کے تحت شہری بحالی اور ترقی میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری 2015 سے 2026 کے دوران 2.79 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں 2015 سے قبل جواہر لال نہرو نیشنل اربن ری نیوول مشن (جے این این یو آر ایم)کے تحت صرف 62,983 کروڑ روپےمالیت کے منصوبے منظور کیے گئے تھے۔ یہ سابقہ فریم ورک کے مقابلے میں تقریباً 343 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اس مشن کے تحت دیگر اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے 2.53 کروڑ سے زائد نل کے پانی کے کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 7,943 شہری انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
شہری ترقی پر اس اسٹریٹجک توجہ کی عکاسی کرتے ہوئے مرکزی بجٹ میں مختص رقم 2014–15 میں 1,630 کروڑ روپےسے بڑھ کر 2026–27 میں 8,000 کروڑروپے تک پہنچ گئی، جو 390.8 فیصد اضافہ ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں مسلسل کوششوں کے ساتھ مل کر یہ اقدامات بھارت کے سب کے لیے سستی رہائش کے ہدف کی طرف پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔

II .اقتصادی اور سماجی شمولیت کے لیے رابطہ کاری کو مضبوط بنانا
سڑک اور ریلوے کا مضبوط نظام بھارت میں نقل و حرکت، اقتصادی انضمام اور بنیادی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ دیہی سڑکوں، پلوں، ریلوے کی جدید کاری اور اسٹیشنوں کی دوبارہ ترقی میں کی گئی سرمایہ کاری نے دیہات، قصبات اور شہری مراکز کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
پردھان منتری گرام سڑک یوجنا
پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (پی ایم جی ایس وائی )دیہی سماجی و اقتصادی انضمام کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر کام کرتی ہے، جس کے تحت ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں کی عالمگیر رسائی کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ یہ اسکیم زرعی ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی اور غربت میں کمی کے لیے ایک کلیدی ذریعہ بن چکی ہے۔
اس اسکیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی بجٹ میں اس کے لیے مختص رقم 2014–15 میں 386 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2026–27 میں 19,000 کروڑ روپے تک کر دی گئی ہے۔

پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت اب تک 99.6 فیصد اہل آبادیوں کو ہر موسم میں قابلِ استعمال سڑکوں کے ذریعے جوڑا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 6.96 لاکھ سہولیات کو سڑک رابطے سے منسلک کیا گیا ہے، جن میں زرعی منڈیاں (1.38 لاکھ)، تعلیمی مراکز (1.46 لاکھ) اور طبی مراکز (82,806) شامل ہیں۔
مکمل شدہ سڑکوں کی مجموعی لمبائی 2000–2014 کے دوران 3.86 لاکھ کلومیٹر سے بڑھ کر 2014–2026 کے دوران 4.11 لاکھ کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح مکمل شدہ پلوں کی تعداد 484 سے بڑھ کر 10,256 ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت ملک بھر میں دیہی رابطہ کاری کے بنیادی ڈھانچے کی مسلسل توسیع کو ظاہر کرتی ہے۔
امرت بھارت ٹرینیں
امرت بھارت ایکسپریس کو ایک جدید، نان اے سی طویل فاصلے کی سلیپر ٹرین سروس کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جو سستی اور قابلِ اعتماد سفری سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ سروس خاص طور پر تہواروں کے موسم اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے دوران بڑھتی ہوئی مسافروں کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ مئی 2026 تک مجموعی طور پر 60 امرت بھارت ٹرین سروسز فعال تھیں۔
یہ رابطہ کاری میں بہتری کم آمدنی والے گھرانوں کی سماجی و اقتصادی نقل و حرکت کو نمایاں طور پر بہتر بناتی ہے اور انہیں منڈیوں، بنیادی خدمات اور روزگار کے مواقع تک مساوی رسائی فراہم کرتی ہے۔
III .ڈیجیٹل رابطہ کاری اور عوامی خدمات کی فراہمی میں پیش رفت
بھارت کا ڈیجیٹل انقلاب دیہی براڈ بینڈ انفراسٹرکچر اور عالمی سطح کے مالی ادائیگیوں کے نظام کے اسٹریٹجک انضمام پر مبنی ہے۔ یہ پیش رفت شفافیت کو ادارہ جاتی شکل دے رہی ہے۔
گرام پنچایتوں کی ڈیجیٹلائزیشن
ڈیجیٹل تبدیلی بھارت کے ابلاغی، تعلیمی اور سماجی و اقتصادی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کے لیے 2015 میں بھارت نیٹ اقدام شروع کیا گیا۔ یہ انفراسٹرکچر دیہی غریبوں کے لیے صحت، تعلیم، روزگار، ای-ایگریکلچر اور ای-کامرس جیسے شعبوں میں ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔ مئی 2026 تک یہ منصوبہ 2.19 لاکھ گرام پنچایتوں تک ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ انفراسٹرکچر فراہم کر چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ 2020 میں شروع کی گئی ای-گرام سوراج ایپلیکیشن نے پنچایتی راج اداروں میں شفاف مالیاتی نظم و نسق کو ادارہ جاتی شکل دی ہے۔ اب تک اس پلیٹ فارم کے ذریعے مجموعی طور پر 3 لاکھ کروڑ روپےسے زائد ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔ مالی سال 2025-26 میں53,342 کروڑ روپےتقسیم کیے گئے، جبکہ 2.59 لاکھ پی آر آئیز اس نظام سے منسلک ہیں اور 2.50 لاکھ پی آر آئیز آن لائن ادائیگیوں کا نظام استعمال کر رہی ہیں۔ 2.55 لاکھ گرام پنچایتوں نے اپنے ترقیاتی منصوبے ڈیجیٹل طور پر اپ لوڈ کیے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ وینڈر نیٹ ورک 1.60 کروڑ سے زائد تک پہنچ چکا ہے۔
اس کے علاوہ، 2025 میں شروع کیا گیا ‘‘سبھا سار’’ ایک اے آئی پر مبنی کثیر لسانی سمرائزیشن ٹول ہے، جس نے 1.11 لاکھ مقامی اداروں میں انتظامی دستاویزات کو جدید بنایا ہے۔ یہ اقدام مقامی سطح کی حکمرانی میں کارکردگی اور شمولیت کو مزید بہتر بناتا ہے۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کی توسیع
بھارت کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام، جس کی قیادت یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) کر رہا ہے، غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ نظام سالانہ 100 کروڑ سے کم ٹرانزیکشنز سے بڑھ کر 2,100 کروڑ ماہانہ ٹرانزیکشنز تک پہنچ چکا ہے۔ مالی سال 2026 میں اب تک 86 فیصد پرسن ٹو مرچینٹ ٹرانزیکشن 500 روپےسے کم ہیں، جو روزمرہ کی چھوٹی ادائیگیوں میں اس نظام کے وسیع استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔
2016 سے 2026 کے دوران اس کے معاون بینکاری نیٹ ورک میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 21 اداروں سے بڑھ کر 705 اداروں تک پہنچ گیا۔ اسی عرصے میں ٹرانزیکشن ویلیو 0.38 کروڑ روپےسے بڑھ کر 29.52 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
یہ ڈیجیٹل اقدامات فلاحی اسکیموں کی بہتر فراہمی، مالی شمولیت اور کمزور طبقات کی ادارہ جاتی رسائی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ ڈیجیٹل نظام نے لیکیجز، تاخیر اور درمیانی افراد پر انحصار میں کمی کی ہے، جبکہ معاشی شرکت اور ادارہ جاتی شمولیت کو مضبوط کیا ہے۔
خوشحالی کی سمت: روزگار، ہنر مندی اور مالی تحفظ
بھارت نے فلاحی امداد سے آگے بڑھ کر اقتصادی بااختیاری اور پائیدار روزگار کے ماڈل کی طرف پیش رفت کی ہے۔ سیلف ہیلپ گروپس(ایس ایچ جی ) ، اسکل ڈیولپمنٹ اور روزگار کے مواقع کے ذریعے حکومت نے آمدنی کے ذرائع کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمزور گھرانوں کی مالی لچک کو بڑھایا گیا ہے۔
یہ اقدامات خاص طور پر خواتین کی قیادت میں ترقی،زمینی سطح کی کاروباری سرگرمیوں، ڈیجیٹل مالی شمولیت اور غیر رسمی محنت کشوں، دیہی گھرانوں، نوجوانوں، ہنرمندوں اور پسماندہ طبقات کی معاشی شمولیت کو فروغ دیتے ہیں۔
دیہی بھارت میں شعبہ وار روزگار کی تقسیم
2025 میں دیہی افرادی قوت کا تقریباً 57 فیصد حصہ زراعت میں مصروف تھا، جو دیہی معاش میں اس شعبے کی مسلسل برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ ثانوی شعبہ، جس میں مینوفیکچرنگ اور تعمیرات شامل ہیں، تقریباً 21.7 فیصد دیہی آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ بقیہ تقریباً 21 فیصد افرادی قوت تیسری شعبہ (خدمات) اور متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
I .خواتین کی قیادت میں معاشی بااختیاری اور بہتر روزگار کے مواقع
سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی )اور ٹیکنالوجی پر مبنی اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعے مختلف مشن پورے ملک میں ایک مضبوط زمینی سطح کے کاروباری ماحولیاتی نظام کو فروغ دے رہے ہیں۔
دیین دیال انتیودیا یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن
دیین دیال انتیودیہ یوجنا - نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن(ڈے اے وائی –این آر ایل ایم )دیہی گھرانوں کو پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کر کے غربت میں کمی لانے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس مشن کے تحت خواتین کی قیادت میں روزگار کے مواقع میں نمایاں توسیع دیکھی گئی ہے۔
مالی سال 2011–14 سے مئی 2026 تک خواتین کی سیلف ہیلپ گروپس میں شمولیت 2.37 کروڑ سے بڑھ کر 10 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ ایس ایچ جیز کی تعداد 21.31 لاکھ سے بڑھ کر 91.75 لاکھ ہو گئی۔ قرض کی تقسیم 22,944 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1.2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ کیپیٹلائزیشن سپورٹ 1,501 کروڑ روپے سے بڑھ کر 42,098 کروڑ روپے تک ہو گئی۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ مشن دیہی معیشت میں خواتین کی بااختیاری اور روزگار کے تنوع کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈی اے وائی –این آر ایل ایم کے تحت خصوصی اقدامات
ڈی اے وائی –این آر ایل ایم کے تحت متعدد خصوصی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں:
- لکھپتی دیدی، جو 2023 میں شروع کیا گیا، مئی 2026 تک 3.07 کروڑ دیہی خواتین کو کاروباری سطح پر بااختیار بنا چکا ہے۔ اس اقدام کے تحت سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ خواتین کو سالانہ ایک لاکھ روپے سے زائد آمدنی حاصل کرنے میں مدد دی جاتی ہے، جس سے وہ معاشی طور پر خود کفیل بن رہی ہیں۔
- اسی طرح نامو ڈرون دیدی، جو 2023 میں شروع کیا گیا، کے تحت 2023-24 میں 500 ڈرون تقسیم کیے گئے۔ یہ پروگرام خواتین کو ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید زرعی طریقوں کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
کمیونٹی ریسورس پرسنز کا آخری سطح تک خدمات کی فراہمی میں کردار
دیہی ترقی میں مقامی سطح کے وسائل فراہم کرنے والے افراد ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جو مسلسل کمیونٹی سے رابطے میں رہ کر سرکاری اسکیموں کی مؤثر ترسیل کو یقینی بناتے ہیں۔ فرنٹ لائن ورکرز کا ایک مضبوط نیٹ ورک، جس میں آشا ورکرز، آنگن واڑی ورکرز، سوچھ گرہیاں اور کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آرپی ایس )شامل ہیں، جوآخری سطح تک خدمات کی فراہمی کو مضبوط بناتے ہیں۔
اس وقت 9 لاکھ سے زائد سی آر پی ایس صحت، غذائیت، تعلیم، زراعت، کاروبار، بینکاری اور انشورنس جیسے شعبوں میں فعال ہیں۔ اس کے علاوہ 50,548 بینک سکھیاں خواتین کو بینکاری خدمات، لین دین اور قرض تک رسائی میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ زرعی اور دیہی معیشت میں معاونت کے لیے 1.91 لاکھ کرشی سکھیاں، 2,012 متسیہ سکھیاں اور 1.70 لاکھ پشو سکھیاں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں، جو زمینی سطح پر کمزور طبقات کی مدد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سیلف ہیلپ انٹرپرینیور مارٹ (ایس ایچ ای- ایم اے آر ٹی) کا آغاز
(ایس ایچ ای- ایم اے آر ٹی) کا اعلان یونین بجٹ 2026-27 میں کیا گیا، جس کا مقصد ایس ایچ جی نظام کے تحت خواتین کے لیے مخصوص ریٹیل مراکز قائم کرنا ہے۔ یہ مراکز کمیونٹی کی ملکیت ہوں گے اور ایس ایچ جی فیڈریشنز کے ذریعے چلائے جائیں گے۔ اس کے ذریعے خواتین کو اپنی مصنوعات براہِ راست صارفین تک پہنچانے، ان کی مارکیٹ ویلیو بڑھانے اور درمیانی افراد پر انحصار کم کرنے کا موقع ملے گا۔
حکومت نے اس اقدام کے تحت 1 کروڑ خواتین کو فائدہ پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس سے وہ چھوٹے کاروبار سے آگے بڑھ کر پائیدار انٹرپرائزز کی مالکہ بن سکیں گی۔
دیین دیال انتیودیا یوجنا - نیشنل اربن لائیولی ہڈ مشن (ڈی اے وائی – این یو ایل ایم)
ڈی اے وائی – این یو ایل ایم (2013–2024) نے شہری آبادی کے لیے سماجی و اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع کو ادارہ جاتی شکل دی۔ اپریل 2014 سے جولائی 2024 کے دوران اس مشن کے تحت 9.55 لاکھ سیلف ہیلپ گروپس قائم کیے گئے اور 6.58 لاکھ گروپس کو ریوالونگ فنڈ فراہم کیا گیا۔ 15.39 لاکھ افراد کو تربیت دی گئی جبکہ 8.62 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔
یہ مشن 30 ستمبر 2024 کو مکمل ہوا۔ اس نے کمزور شہری گھرانوں کے لیے روزگار کے تحفظ اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنایا۔
II .اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعے روزگار کی صلاحیت میں اضافہ
بھارت کی افرادی قوت کی ترقی کی حکمتِ عملی بڑی سطح پر صنعت سے منسلک مہارتوں کی تربیت پر مبنی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں خود کفیل بنانا ہے۔
دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا
2014 میں شروع کی گئی دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا کا مقصد دیہی نوجوانوں کو “آتم نربھر” بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تربیت یافتہ افراد کی تعداد 2014-15 میں 43,038 سے بڑھ کر 2025-26 میں 17.71 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد 21,446 سے بڑھ کر 11.51 لاکھ ہو گئی، جو دیہی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع کو ظاہر کرتی ہے۔

پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)
پردھان منتری کاؤشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کا آغاز 2015 میں کیا گیا تھا، اور 2025 میں اسے اسکل انڈیا پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس اسکیم کا مقصد نوجوانوں کو قلیل مدتی تربیت کے ذریعے روزگار کے قابل مہارتیں فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے سے حاصل شدہ مہارتوں کی شناخت پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔
اس اسکیم کے تحت اب تک 1.64 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو ہنر کی تربیت دی جا چکی ہے۔ اپریل 2024 سے مارچ 2026 کے دوران 10.91 لاکھ امیدواروں کو تربیت فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ 69 مخصوص کورسز اور 154 مستقبل کی مہارتوں پر مبنی جاب رولز متعارف کرائے گئے ہیں۔
پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت 38 شعبوں میں 27.43 لاکھ امیدواروں کو تربیت دی گئی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انڈسٹری 4.0 جیسے جدید شعبے شامل ہیں۔ اس پروگرام کو 16,900 سے زائد ادارے نافذ کر رہے ہیں، جن میں 6,800 سے زیادہ اسکل ہبز شامل ہیں جو اسکولوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور آئی ٹی آئی میں قائم کیے گئے ہیں۔
یہ تمام اقدامات صنعت سے ہم آہنگ تربیت کے ذریعے افرادی قوت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
III .روزگار کی ضمانت اور محنت کشوں کو بااختیار بنانا
روزگار کی ضمانت اور لیبر سے متعلق اقدامات نے آمدنی کے تحفظ، دیہی لچک اور سماجی تحفظ کو مضبوط کیا ہے۔
وکست بھارت - روزگار اور معاشی ذریعۂ معاش مشن (دیہی)
وکست بھارت - روزگار اور معاشی ذریعۂ معاش مشن (دیہی)، جو پہلے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ(ایم جی این آر ای جی اے) کے نام سے جانا جاتا تھا، دیہی گھرانوں کو قانونی طور پر روزگار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر مالی سال میں ہر دیہی گھرانے کو 125 دن روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔
اس اسکیم کے تحت پیدا ہونے والے شخص ڈیز ڈے 2006–14 میں 1,660 کروڑ سے بڑھ کر 2014–25 میں 3,036.7 کروڑ تک پہنچ گئے۔ اسی عرصے میں مرکزی فنڈز کی تقسیم 2,13,220 کروڑ روپے سے بڑھ کر 7,81,635.65 کروڑ روپےتک ہو گئی۔ مکمل شدہ کاموں کی تعداد 153 لاکھ سے بڑھ کر 809.05 لاکھ ہو گئی۔ خواتین کی شمولیت 2013–14 میں 48 فیصد سے بڑھ کر 2024–25 میں 58.19 فیصد تک پہنچ گئی۔

مالی سال 2026–27 کے دوران اب تک 41.07 کروڑ شخص-دن کی منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے 9.76 کروڑ شخص-دن پیدا کیے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 78.99 لاکھ گھرانوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 98.83 لاکھ افراد مستفید ہوئے ہیں۔
ای- شرم پوٹل

ای-شرم پورٹل کا آغاز 2021 میں غیر منظم مزدوروں کا ایک جامع قومی ڈیٹا بیس تیار کرنے کے لیے کیا گیا تھا، جو آدھار سے منسلک ہوتا ہے۔ اس نظام کے تحت غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو خود اعلانیہ کی بنیاد پر رجسٹریشن کر کے یونیورسل اکاؤنٹ نمبر (یو اے این )جاری کیا جاتا ہے۔
اس پورٹل پر رجسٹریشن کرنے والوں کی تعداد دسمبر 2021 میں 14.40 کروڑ سے بڑھ کر مئی 2026 تک 31.64 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ ان اقدامات نے روزگار کے تحفظ کو مضبوط بنایا، خواتین کی شمولیت میں اضافہ کیا اور بھارت کی غیر منظم افرادی قوت کی باضابطہ رجسٹریشن کو ممکن بنایا۔
IV .خود روزگار اور جامع کاروباری ترقی کو فروغ دینا
مائیکرو انٹرپرینیورشپ کے اقدامات نے چھوٹے کاروباریوں اور غیر رسمی محنت کشوں کے لیے کریڈٹ تک رسائی، مارکیٹ مواقع اور روزگار کے تحفظ کو مضبوط کیا ہے۔
پی ایم وشوکرما یوجنا
2023 میں شروع کی گئی پی ایم وشوکرما اسکیم روایتی ہنرمندوں اور دستکاروں کے لیے ایک جامع معاونت کا نظام فراہم کرتی ہے۔ اس کا مقصد پیشہ ورانہ ورثے اور دستکاری مہارتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اس اسکیم نے ستمبر 2025 تک 30 لاکھ مستفیدین کا ہدف حاصل کر لیا۔ مئی 2026 تک 30 لاکھ سے زائد دستکار رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے 23.97 لاکھ کو خصوصی مہارت کی تربیت دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، 5.92 لاکھ دستکاروں کو قرض کی سہولت کے ذریعے رسمی مالی نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ 16 لاکھ کو جدید ٹول کٹس فراہم کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات روایتی دستکاری شعبے کی معاشی مضبوطی اور پائیداری کو بڑھا رہے ہیں۔
پی ایم سوانِدھی

پردھان منتری اسٹریٹ وینڈر آتم نربھر نِدھی( پی ایم ایس وی اے این آئی نیدھی اسک)یم کا آغاز 2020 میں کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت اسٹریٹ وینڈرز کو بغیر ضمانت کے ورکنگ کیپیٹل قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت مستفیدین کی تعداد نومبر 2021 میں 26.37 لاکھ سے بڑھ کر مئی 2026 تک 75.27 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 17,710.55 کروڑ روپے کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں 46 فیصد خواتین مستفیدین شامل ہیں۔ یہ پیش رفت مالی شمولیت میں صنفی توازن اور معاشی بااختیاری کی جانب ایک اہم قدم کو ظاہر کرتی ہے۔
اسٹینڈ اَپ انڈیا اسکیم
اسٹینڈ اَپ انڈیا اسکیم کا آغاز 2016 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد خواتین، شیڈول کاسٹ (ایس سی)اور شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) طبقات میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپےسے 1 کروڑ روپے تک کے بغیر ضمانت کے جامع کاروباری قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔
اکتوبر 2025 تک اس اسکیم کے تحت 62,807.46 کروڑ روپے کی رقم 2.75 لاکھ مستفیدین کو منظور کی جا چکی ہے۔ یہ اقدامات پسماندہ طبقات میں مالی شمولیت کو بڑھانے اور اقتصادی خود کفالت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
VI جامع فلاح وبہبود کے لیے سماجی تحفظ کے دائرہ کار میں توسیع
سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے مختلف پنشن، انشورنس اور فلاحی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔ یہ اقدامات بنیادی طور پر غیر منظم شعبے کے مزدوروں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو ہدف بناتے ہیں۔
ان اسکیموں میں درج ذیل شامل ہیں:
- نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس):یہ نظام شہریوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد آمدنی فراہم کرتا ہے اور طویل مدتی بچت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کے تحت مستفیدین کی تعداد 2016–17 میں 1.05 کروڑ سے بڑھ کر 2025–26 میں 2.17 کروڑ تک پہنچ گئی۔
- اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی):2015 میں شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو باقاعدہ پنشن فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے مستفیدین 2016–17 میں 48.80 لاکھ سے بڑھ کر 2025–26 میں 8.96 کروڑ تک پہنچ گئے۔
- پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا( پی ایم جے جے بی وائی):یہ اسکیم کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے سستی زندگی بیمہ سہولت فراہم کرتی ہے۔ مئی 2026 تک اس کے تحت 27.33 کروڑ افراد کو کور کیا جا چکا ہے۔
- پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا (پی ایم ایس بی آئی):یہ اسکیم کمزور طبقوں کو سستا حادثاتی بیمہ فراہم کرتی ہے۔ مئی 2026 تک اس کے تحت 57.92 کروڑ افراد کو تحفظ حاصل ہو چکا ہے۔
- پردھان منتری شرم یوگی مان-دھن (پی ایم –ایس وائی):2019 میں شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت غیر منظم شعبے کے مزدوروں کو رضاکارانہ اور شراکتی پنشن نظام کے ذریعے بڑھاپے کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ مئی 2026 تک 52.99 لاکھ مزدور اس اسکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔
یہ تمام اقدامات بھارت کے سماجی تحفظ کے نظام کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی رجسٹریشن اور شمولیت مالی تحفظ، پنشن اور بیمہ تک بہتر رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔
VII جامع ترقی کے لیے رسمی مالیات میں توسیع
مالی شمولیت کے اقدامات نے ملک بھر میں کمزور اور پسماندہ طبقات کے لیے سستے قرضوں، بینکاری خدمات اور کاروباری مواقع تک رسائی کو وسیع کیا ہے۔
پردھان منتری مُدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی)

پردھان منتری مُدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کا مقصد غیر کارپوریٹ اور غیر زرعی چھوٹے و مائیکرو کاروباروں کو 10 لاکھ روپےتک قرض فراہم کر کے مالی شمولیت کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس اسکیم نے غیر معمولی توسیع حاصل کی ہے، جس کے تحت قرض اکاؤنٹس کی تعداد 2016 میں 3.49 کروڑ سے بڑھ کر 2026 تک 57 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔
اس ترقی میں سماجی مساوات پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ تقریباً 49 فیصد قرضے شیڈول کاسٹ ، شیڈول ٹرائب اور او بی سی طبقات کے کاروباری افراد کو دیے گئے ہیں۔ اسی طرح 66 فیصد قرضے (38.29 کروڑ)، جن کی مالیت 16.88 لاکھ کروڑ روپے ہے، خواتین کاروباری افراد کو فراہم کیے گئے ہیں۔
پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی وائی)
پردھان منتری جن دھن یوجنا کا آغاز 2014 میں ملک گیر مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کے تحت غیر بینکڈ اور کم خدمات یافتہ گھرانوں کو بینکاری سہولت، مالی تحفظ اور کریڈٹ تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
اس اسکیم کے تحت مستفیدین کی تعداد اگست 2015 میں 17.9 کروڑ سے بڑھ کر مئی 2026 تک 58.16 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جو تقریباً 224.9 فیصد اضافہ ہے۔ ان کھاتوں میں مجموعی بیلنس 3.02 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ملک بھر میں 13.55 لاکھ بینک متربرانچ لیس بینکنگ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
یہ اسکیم غریب طبقات کے لیے بنیادی بینکاری ڈھانچہ فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر(ڈی بی ٹی)اسکیموں جیسےپی ایم اجولا، پی ایم جے وائی، آیوشمان بھارت، ایس بی ایم۔ جی اور پی ایم وشوکرما کی مؤثر عمل آوری ممکن ہوئی ہے۔

یہ تمام اقدامات کا مجموعی اثر
یہ تمام اقدامات مل کر ملک بھر میں انٹرپرینیورشپ کو مضبوط بنا رہے ہیں، رسمی بینکاری میں شرکت کو بڑھا رہے ہیں اور کمزور طبقات کو معاشی طور پر بااختیار بنا رہے ہیں۔
قبائلی ترقی کو تیز کرنے کے لیے مربوط اقدامات
حکومت نے بھارت میں قبائلی برادریوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لیے جامع اور مربوط ترقیاتی اقدامات کیے ہیں۔ جدید بنیادی ڈھانچے تک رسائی، خصوصی رہائشی تعلیم اور پائیدار کاروباری فریم ورک کو ادارہ جاتی شکل دے کر شمولیتی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
پردھان منتری جنجاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم –جے اے این ایم اے این)
2023 میں شروع کیا گیا پی ایم-جَنمن (پی ایم –جے اے این ایم اے این)مشن 75 انتہائی کمزور قبائلی گروہوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس مشن کے تحت رہائش، پانی، تعلیم، صحت، رابطہ کاری، بجلی اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
فروری 2026 تک اس مشن کے تحت 2.66 لاکھ مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں، 1,949 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، اور 750 موبائل میڈیکل یونٹس فعال کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 8,473 دیہات میں پائپ کے ذریعے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے، 1.36 لاکھ گھروں کو بجلی سے منسلک کیا گیا ہے، 2,390 آنگن واڑی مراکز فعال کیے گئے ہیں، اور 3,037 قبائلی بستیوں میں موبائل کنیکٹیویٹی بہتر بنائی گئی ہے۔

پردھان منتری جنجاتی اُنت گرام ابھیان
2024 میں شروع کیا گیا پردھان منتری جنجاتی اُنت گرام ابھیان، جسے دھرتی آبا جنجاتی گرام اُتکرش ابھیان بھی کہا جاتا ہے، ایک کثیر شعبہ جاتی اور مربوط فریم ورک کے تحت قبائلی ترقی کو تیز کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
اپریل 2026 تک اس مشن کے تحت 12.89 لاکھ مکانات منظور کیے جا چکے ہیں اور 2,411 کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 2.87 لاکھ گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی ہے جبکہ 6,305 دیہات کو جل جیون مشن کے تحت پائپ کے ذریعے پینے کے پانی کی سہولت دی گئی ہے۔ مزید برآں 5,252 دیہات میں ٹیلی کام کنیکٹیویٹی کی منظوری دی گئی ہے، جس سے قبائلی علاقوں میں بنیادی خدمات کی فراہمی کو تقویت ملی ہے۔
پردھان منتری جنجاتی وکاس مشن (پی ایم –جے وی ایم)
پردھان منتری جنجاتی وکاس مشن (پی ایم –جے وی ایم) 2021 میں شروع کیا گیا، جس کا مقصدٹی آر آئی ایف ای ڈی کے ذریعے قبائلی انٹرپرینیورشپ اور جنگلاتی وسائل پر مبنی روزگار کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔
2022 سے 2025 کے دوران ٹی آر آئی ایف ای ڈی نے اپنی مارکیٹ رسائی کو 79 آرٹسٹ میلے اور 50 نمائشوں کے ذریعے وسعت دی۔ اسی عرصے میں اس کے فروغی اخراجات 145 لاکھ روپےسے بڑھ کر 289 لاکھ روپے تک پہنچ گئے۔
پی ایم-جے وی ایم اورپی ایم –جے ایے این ایم اے این)کے تحت مجموعی طور پر 1,146 وان دھن وکاس کیندر منظور کیے جا چکے ہیں۔ ان اسکیموں کے لیے مالی سال 2023-24 سے 2025-26 کے دوران 11,288.70 لاکھ روپے کی مجموعی رقم مختص کی گئی۔ یہ اقدامات قبائلی روزگار اور جنگلاتی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولز (ای ایم آر ایس)
ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول (ای ایم آر ایس) اسکیم کا مقصد دور دراز قبائلی علاقوں میں رہنے والے شیڈول ٹرائب طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ ان اسکولوں کی تعداد 2014–15 میں 129 سے بڑھ کر مئی 2026 تک 499 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی مدت میں ان اسکولوں میں 1.54 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
یہ تمام اقدامات قبائلی برادریوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے، تعلیم، روزگار اور ضروری خدمات کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
انتیودیہ سے سرودیہ تک: ایک دہائی کی جامع ترقی
بھارت کا فلاحی نظام اب صرف حقوق کی فراہمی سے آگے بڑھ کر مکمل کوریج کے ماڈل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مسلسل عوامی سرمایہ کاری، ہدف شدہ فلاحی اقدامات اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی نے بنیادی سہولیات اور بہتر روزگار تک رسائی کو وسیع کیا ہے۔
خواتین کی قیادت میں ترقی، نچلی سطح کی کاروباری سرگرمیاں اور سیلف ہیلپ گروپس پر مبنی معاشی شمولیت اس تبدیلی کے اہم ستون بن چکے ہیں۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور براہِ راست بینیفٹ ٹرانسفر نے شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کو مزید مضبوط کیا ہے۔
جیسے جیسے بھارت اپنے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کی طرف بڑھ رہا ہے، یہ اقدامات ایک زیادہ مضبوط، مساوی اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پورا سفر “انتیودیہ سے سرودیہ” کی سمت ایک بڑی قومی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے، جو سب سے کمزور طبقات کو بااختیار بناتے ہوئے قومی ترقی کو آگے بڑھا رہا ہے۔
حوالہ جات:
Ministry of New & Renewable Energy
https://www.myscheme.gov.in/schemes/pmsgmb
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2110283®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2081250®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2081250®=3&lang=2
Ministry of Power
https://www.pib.gov.in/newsite/printrelease.aspx?relid=171101®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2036987®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215187®=3&lang=1
Ministry of Jal Shakti
https://gobardhan.sbm.gov.in/
https://ejalshakti.gov.in/jjmreport/JJMIndia.aspx
https://sbm.gov.in/sbmgdashboard/statesdashboard.aspx
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223841®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2114291®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=1941122®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114291®=3&lang=2
https://jaljeevanmission.gov.in/sites/default/files/guideline/JJM_Operational_Guidelines.pdf
Ministry of Housing & Urban Affairs
https://sbmurban.org/
https://sbmurban.org/back-to-beginning
https://pmsvanidhi.mohua.gov.in/Home/PMSDashboard
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220345®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2037057®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1946307®=3&lang=2
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2021/dec/doc2021121451.pdf
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU6273_GjXZtC.pdf?source=pqals
https://www.niua.in/sites/default/files/2025-07/2020_2_Energy%20Infrastructure%20and.pdf
Ministry of Health & Family Welfare
https://dashboard.nha.gov.in/public/
https://dashboard.abdm.gov.in/abdm/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256956®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1576128®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2256538®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2017129®=3&lang=2
https://www.nfhsiips.in/nfhsuser/assets/National%20Family%20Health%20Survey%20(NFHS-6)%202023-2024%20Fact%20Sheets.pdf
Ministry of Consumer Affairs, Food & Public Distribution
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU6175_USX1ip.pdf?source=pqals
Ministry of Finance
https://www.pmjdy.gov.in/
https://www.indiabudget.gov.in/
https://www.mudra.org.in/
https://www.myscheme.gov.in/schemes/pmjdy
https://www.npci.org.in/product/upi/product-statistics
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1564084®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1854909®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257087®=3&lang=2
Ministry of Education
https://www.swayamprabha.gov.in/
https://diksha.gov.in/data/
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=67313®=3&lang=2
https://pmevidya.education.gov.in/swayam-portal.html
https://www.pib.gov.in/pressreleaseiframepage.aspx?prid=1606557®=3&lang=2
https://www.education.gov.in/sites/upload_files/mhrd/files/document-reports/Part1.pdf
https://www.education.gov.in/sites/upload_files/mhrd/files/document-reports/MoE_AR_En.pdf
Ministry of Women & Child Development
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1777719
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=1781673®=3&lang=2
PIB Backgrounders
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2113800®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237471®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257197®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258761®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2182568®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=148579®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154355&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158391&ModuleId=3®=44&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2170998®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2185049®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2208381®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2094929®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2181702®=3&lang=2
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2023/aug/doc2023811236901.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156972&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154432&ModuleId=3®=3&lang=2
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/aug/doc202588603001.pdf
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158738&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156090&ModuleId=3®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=157897&NoteId=157897&ModuleId=3®=3&lang=2
Ministry of Rural Development
https://namodronedidi.da.gov.in/about-scheme
https://lakhpatididi.gov.in/
https://pmgsy.dord.gov.in/dbweb
https://dashboard.dord.gov.in/dashboardnew/mgnrega.aspx
https://dashboard.dord.gov.in/dashboardnew/ddugky.aspx
https://pmayg.gov.in/netiay/PBIDashboard/PMAYGDashboard.aspx
https://nrlm.gov.in/dashboardForOuter.do?methodName=dashboard
https://nrlm.gov.in/outerReportAction.do?methodName=showIndex#gsc.tab=0
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1935711®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204496®=3&lang=2
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3d69116f8b0140cdeb1f99a4d5096ffe4/uploads/2026/04/202604211510022943.pdf
Ministry of Panchayati Raj
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247156®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1845366®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223107®=3&lang=1
Ministry of Communications
https://usof.gov.in/en/home
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1515906®=3&lang=2
Ministry of Skill Development and Entrepreneurship
https://www.skillindiadigital.gov.in/pmkvy-dashboard
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2003662®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2222122®=3&lang=2
Ministry of Labour & Employment
https://eshram.gov.in//dashboard
https://sansad.in/getFile/annex/266/AU2811_N7VJM7.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2099153®=3&lang=2
Ministry of MSMEs
https://pmvishwakarma.gov.in/
Ministry of Statistics & Programme Implementation
https://www.mospi.gov.in/uploads/publications_reports/publications_reports1780040415321_0624fb13-fb47-40bc-b470-7c7e9635c3ef_PLFS_2025_F_REV_29052026.pdf
Ministry of Commerce
https://www.ibef.org/government-schemes/stand-up-india
https://www.cgca.gov.in/ccadl/nps
https://www.ibef.org/government-schemes/pradhan-mantri-awas-yojana
https://www.ibef.org/government-schemes/swachh-bharat-mission
https://www.ibef.org/government-schemes/pm-surya-ghar-yojana
https://www.ibef.org/government-schemes/pm-vishwakarma-yojana
https://www.ibef.org/news/pradhan-mantri-suraksha-bima-yojana-a-decade-of-insurance-inclusion
https://www.ibef.org/government-schemes/pradhan-mantri-garib-kalyan-yojana
https://www.ibef.org/blogs/bharatnet-unplugged-transforming-rural-connectivity-in-india
Ministry of Tribal Affairs
https://pmagy.gov.in/
https://pmagy.gov.in/about
https://tribal.nic.in/EMRS.aspx
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU3820_wEkEtr.pdf?source=pqars
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247601®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248491®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2198862®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=200303®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3367_If5ZGQ.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154915&ModuleId=3®=3&lang=2
https://tribal.nic.in/downloads/Statistics/AnnualReport/AnnualReport2014-15.pdf
Ministry of Electronics and Information Technology
https://socialwelfare.vikaspedia.in/viewcontent/social-welfare/women-and-child-development/women-development-1/lakhpati-didi?lgn=en
Ministry of Social Justice & Empowerment
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1781643®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1602081®=3&lang=2
Government of Arunachal Pradesh
https://udarunachal.gov.in/daynulm.html
Niti Aayog
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1996271®=3&lang=2
https://niti.gov.in/sites/default/files/2026-05/School-Education-System-in-India.pdf
Cabinet Committee on Economic Affairs
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2265788®=3&lang=1
United Nations
https://www.unicef.org/india/faqs-open-defecation-free-plus-odf-and-sanitation
Click here to see pdf
*****
(ش ح ۔م م ع ۔م ذ)
U. No.8107
(Explainer ID: 158824)
आगंतुक पटल : 3
Provide suggestions / comments