Energy & Environment
ہندوستان کا حیاتیاتی تنوع: عزم اور کامیابیاں
قانونی فریم ورک سے لے کر مقامی کارروائی تک
Posted On:
05 JUN 2026 9:50AM
ہندوستان میں حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق کا ڈھانچہ تین سطحوں پر مشتمل ہے، جو قومی پالیسی کو ریاستی اقدامات اور مقامی نفاذ سے جوڑتا ہے۔ قومی سطح پرنیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی کام کرتی ہے، جبکہ ریاستی سطح پر ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اورمرکزی زیرِ انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلز رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مقامی سطح پر دیہی اور شہری اداروں میں قائم حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیاں (بی ایم سیز) عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹرز (پی بی آر) تیار کرتی ہیں اور کمیونٹی کی قیادت میں تحفظ کے اقدامات کو فروغ دیتی ہیں۔ ہندوستان میں اب تک 2,76,653 سے زائد حیاتیاتی تنوع انتظامی کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ 2,72,648 سے زیادہ عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹرز تیار کیے گئے ہیں، جن میں ملک بھر کی مقامی انواع، ماحولیاتی نظاموں اور روایتی علم کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ یہ ادارے اور عمل اجتماعی طور پر ماحولیاتی استحکام، مقامی سطح پر تحفظ کے جذبے اورحیاتیاتی تنوع کے کنونشن (سی بی ڈی) کے تحت عالمی اہداف کے ساتھ ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہیں۔
ایک پائیدار مستقبل کے لیے قدرتی سرمایہ کا تحفظ
حیاتیاتی تنوع بھارت کی ماحولیاتی اور ترقیاتی ترجیحات کا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ غذائی تحفظ، روزگار، موسمیاتی لچک اور ماحولیاتی توازن کو سہارا دیتا ہے۔ بھارت کے جنگلات، آبی ذخائر، پہاڑ، ساحلی علاقے، صحرا، گھاس زار اور سمندری ماحولیاتی نظام بے شمار انواع اور انسانی برادریوں کی بقا کا ذریعہ ہیں۔ لاکھوں مقامی افراد اپنی روزمرہ زندگی کے لیے ان قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔بھارت عالمی فریم ورک کے مطابق پالیسیوں، ادارہ جاتی ڈھانچوں اور عوامی شمولیت کے ذریعے اپنے قدرتی سرمائے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عہد کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔ ان کوششوں کے ذریعے بھارت نہ صرف عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہداف میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ قومی اور مقامی سطح پر تحفظ کے اقدامات کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ بھارت کا نقطۂ نظر مقامی سرپرستی اور کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والے اقدامات کو مرکزی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ وسیع تر حیاتیاتی تنوع کے اہداف کے حصول کے لیے مقامی شرکت ناگزیر ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں سائنسی انتظام، قدرتی مساکن کی بحالی، انواع کے تحفظ کے پروگرام اور عوامی شمولیت شامل ہیں۔ محفوظ علاقوں کے دائرے کو وسیع کرنے، جنگلی حیات کی نگرانی کو مضبوط بنانے، تباہ شدہ ماحولیاتی نظاموں کی بحالی اور حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات نے ماحولیاتی لچک میں اضافہ کیا ہے، مقامی روزگار کو سہارا دیا ہے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھارت کی عالمی قیادت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ تحفظ کے اہداف کو پائیدار ترقی کے مقاصد سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بھارت اپنی قدرتی وراثت کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانے اور جامع و ماحول دوست ترقی کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔
حیاتیاتی تنوع اور اس کی اہمیت
حیاتیاتی تنوع سے مراد زمین پر موجود زندگی کی گوناگونی ہے، جس میں پودے، جانور، خرد نامیہ (مائیکرو آرگینزمز) اور وہ ماحولیاتی نظام شامل ہیں جو ان سے تشکیل پاتے ہیں۔ یہ ماحولیاتی توازن کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور اہم ماحولیاتی خدمات مثلاً گردہ افشانی، مٹی کی تشکیل، غذائی اجزاء کی گردش، پانی کی صفائی اور موسمیاتی نظم و ضبط میں معاون ہوتا ہے۔حیاتیاتی تنوع ان قدرتی نظاموں کو برقرار رکھتا ہے جو زندگی کو ممکن اور مختلف خطوں میں پیداواری بناتے ہیں۔حیاتیاتی تنوع ماحول اور انسانی معاشروں دونوں کی صحت کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔عملی طور پر یہی وہ عنصر ہے جو ماحولیاتی نظاموں کو فعال، مضبوط اور انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بناتا ہے۔ لہٰذا حیاتیاتی تنوع کا تحفظ صرف ایک ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ بھارت جیسے حیاتیاتی لحاظ سے متنوع ملک کے لیے ایک اہم ترقیاتی ترجیح بھی ہے۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
- جین (Gene) کو وراثت کی بنیادی اکائی سمجھا جاتا ہے۔ جین والدین سے اولاد میں منتقل ہوتے ہیں اور جسمانی و حیاتیاتی خصوصیات کے تعین کے لیے ضروری معلومات اپنے اندر رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پرریڈ ایپل، گرینی اسمتھ ایپل اورگولڈن ایپل کی مختلف جینیاتی اقسام ہیں۔
- نوع ایسے جانداروں کے گروہ کو کہا جاتا ہے جو باہم افزائشِ نسل کر کے بارآور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ نوع کی یہ تعریف جانوروں، پودوں اور دیگر جانداروں کو ان کی تولیدی خصوصیات کی بنیاد پر مختلف گروہوں میں تقسیم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ببر شیر، شیر ، گینڈا اور مختلف حیوانی انواع ہیں۔
- ماحولیاتی نظام ایک جغرافیائی علاقہ ہوتا ہے جہاں پودے، جانور، دیگر جاندار، موسم اور زمینی خدوخال باہم تعامل کرتے ہوئے زندگی کا ایک مربوط نظام تشکیل دیتے ہیں۔ ماحولیاتی نظام میں جاندار عوامل ( لیونگ فیکٹرز) اور غیر جاندار عوامل (نن لیونگ فیکٹرز) دونوں شامل ہوتے ہیں۔
|
بھارت کا حیاتیاتی تنوع کا فریم ورک
بھارت کا حیاتیاتی تنوع کا فریم ورک قوانین، پالیسیوں، اداروں اور پروگراموں پر مشتمل ہے جو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کے پائیدار استعمال کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ فریم ورک فوائد کی منصفانہ تقسیم کو بھی فروغ دیتا ہے اور قومی ترجیحات کو حیاتیاتی تنوع سے متعلق عالمی عہد و پیمانوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔
حیاتیاتی تنوع ایکٹ- 2002 (2023 میں ترمیم شدہ)
حیاتیاتی تنوع ایکٹ-2002 بھارت میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، اس کے پائیدار استعمال کے فروغ اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ یہ قانون قومی، ریاستی اور مقامی سطح پر قائم اداروں کے ذریعہ حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔یہ قانون حیاتیاتی وسائل اور ان سے وابستہ روایتی علم کی دستاویز بندی اور تحفظ کی بھی حمایت کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) کا نظام فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد ان وسائل کے فراہم کنندگان تک منصفانہ طور پر پہنچیں۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے فریم ورک کے تحت‘روایتی علم’ (ٹریڈیشنل نالج) سے مراد وہ اجتماعی اور مقامی علم ہے جو حیاتیاتی وسائل اور ان کے استعمال سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ علم نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے اور مقامی ماحولیاتی نظاموں، روایتی طرززندگی اور معاشرتی رسوم و رواج سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
|
حیاتیاتی تنوع (ترمیمی) ایکٹ- 2023 نے اس فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا ہے اور اس کے نفاذ کو موجودہ ضروریات کے مطابق زیادہ سہل اور مؤثر بنایا ہے۔ یہ ترمیم تحقیق، اختراع اور روایتی علم پر مبنی طریق کار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جبکہ ضابطہ جاتی تعمیل اور نظم و نسق کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ترمیم عوامی شرکت اور مقامی سطح پر حیاتیاتی تنوع کی دستاویز بندی کو مزید تقویت دیتی ہے، جو مؤثر تحفظ کے لیے نہایت اہم ہیں۔
حیاتیاتی تنوع ایکٹ-2002 اور اس کی 2023 کی ترمیم مل کر بھارت میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک متوازن اور مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس کے اہم ستون درج ذیل ہیں:
- تین سطحی طرزِ حکمرانی کا ڈھانچہ
حیاتیاتی تنوع ایکٹ-2002 کے تحت حیاتیاتی تنوع کے انتظام کے لیےتین سطحی طرزِ حکمرانی(تھری ٹیئر گورننس اسٹرکچر) کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
قومی سطح پر،نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار استعمال اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے مشاورت اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
ریاستی اور مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کی سطح پر، اسٹیٹ بایو ڈائیورسٹی بورڈز ( ایس بی بی ایس) اوریونین ٹیریٹری بایو ڈائیورسٹی کونسلز (یو ٹی بی سیز) قومی ترجیحات کو مقامی اور علاقائی ضروریات کے مطابق نافذ کرتے ہیں۔
مقامی سطح پر،بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیاں ( بی ایم سیز) عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹرز (پی بی آر ایس) تیار کرتی ہیں اور کمیونٹی کی سطح پر تحفظ سے متعلق سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔یہ تین سطحی نظام عالمی اور قومی حیاتیاتی تنوع کے اہداف کو دیہات، قصبوں اور شہروں تک پہنچانے اور ان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
|
حیاتیاتی تنوع ایکٹ- 2002 کی دفعہ 39
حیاتیاتی تنوع ایکٹ، 2002 کی دفعہ 39 مرکزی حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ مختلف اقسام کے حیاتیاتی وسائل کے لیے مخصوص اداروں کوذخیرہ گاہوں کے طور پر نامزد کرے۔
یہ ذخیرہ گاہیں حیاتیاتی مواد، جس میں ووچر نمونوں محفوظ تحفظ اور نگہداشت کو یقینی بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ نئے دریافت ہونے والے انواع کی دستاویز بندی اور تحقیق یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے حیاتیاتی وسائل کے ریکارڈ کو مضبوط بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔مزید برآں، اگر کوئی شخص کسی نئے حیاتیاتی زمرے یا ٹیکسن کو دریافت کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس دریافت کی اطلاع نامزد ذخیرہ گاہ کو دے اور متعلقہ ووچر نمونے وہاں جمع کرائے۔اس عمل کو آسان بنانے کے لیےنیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے رہنما خطوط جاری کیے ہیں، جن میں ان اداروں کے لیے معیار اور شرائط بیان کی گئی ہیں جو ذخیرہ گاہ کے طور پر نامزد ہونے کے خواہش مند ہوں۔
|
سائنسی اور تکنیکی معاونت
خصوصی سائنسی ادارے حیاتیاتی تنوع کے اس انتظامی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ زولوجیکل سروے آف انڈیا (زیڈایس آئی) اور بوٹینیکل سروے آف انڈیا (بی ایس آئی) بالترتیب حیوانی اور نباتاتی تنوع کی دستاویز بندی کرتے ہیں۔فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی) اپنی متواتر اسٹیٹ آف فاریسٹ رپورٹس کے ذریعے جنگلات اور درختوں کے احاطے کا نقشہ تیار کرتا ہے۔ نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی (این ٹی سی اے) اور ریاستی محکمۂ جنگلات شیروں اور ان کے قدرتی مساکن کے تحفظ میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔
کمیونٹی سطح کے ادارے
مقامی ادارے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی حیاتیاتی تنوع کے اہداف کے حصول میں کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والے اقدامات کس قدر اہم ہیں۔ ملک بھر میںبایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیاں (بی ایم سیز) عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹرز ( پی بی آر ایس) کی تیاری اور تجدید کا کام انجام دے رہی ہیں۔
یہ رجسٹرز مقامی سطح پر موجود انواع، قدرتی مساکن اور روایتی علم کا ریکارڈ محفوظ کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے تحفظ اور حیاتیاتی وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے مقامی ترجیحات کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔ ان رجسٹرز کی تجدید اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے قومی مہمات اس مقامی بنیاد کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔
نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی فنڈ ( این بی اے ایف
نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی فنڈ (این بی اے ایف) ایک قانونی فنڈ ہے جو حیاتیاتی تنوع ایکٹ- 2002 کی دفعہ 27 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔یہ فنڈ حیاتیاتی تنوع کے انتظامی نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے اور فوائد کی منصفانہ تقسیم اور تحفظ سے متعلق سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کو تحفظ اور مقامی برادریوں کی فلاح کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔
|
ناگویا پروٹوکول
ناگویا پروٹوکول- حیاتیاتی تنوع کے کنونشن(سی بی ڈی) کی دسویں کانفرنس فریقین(سی او پی-10) کے دوران جاپان کے شہر ناگویا میں اکتوبر 2010 میں منظور کیا گیا ایک قانونی طور پر پابند تکمیلی معاہدہ ہے۔اس پروٹوکول کا مقصد جینیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد اور مقامی و مقامی النسل برادریوں کے پاس موجود متعلقہ روایتی علم سے حاصل شدہ فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔
وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی(ایم او ای ایف سی سی )نےنیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) کے تعاون سے ناگویا پروٹوکول کے نفاذ سے متعلق بھارت کی پہلی قومی رپورٹ(این آر آئی) پیش کی ہے۔اس رپورٹ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ بھارت جینیاتی وسائل تک رسائی اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ضوابط کو کس طرح نافذ کر رہا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ باضابطہ معاہدوں اور متعلقہ اقدامات کے ذریعے مقامی برادریوں اور روایتی علم رکھنے والوں تک فوائد کی منتقلی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حیاتیاتی تنوع مالیاتی اقدام(بی آئی او ایف آئی این)
بایو ڈائیورسٹی فنانس انڈیا (بی آئی او ایف آئی این-انڈیا) کا آغاز 2015 میں ایک مالیاتی منصوبہ بندی کے اقدام کے طور پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مالی ضروریات کی نشاندہی کرنا اور مطلوبہ وسائل کو متحرک کرنا ہے۔
یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے وسیع تر بی آئی او ایف آئی این فریم ورک سے منسلک ہے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو مالی اعتبار سے پائیدار بنانے کے لیے بھارت کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
|
عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹر (پی بی آر)
عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹر (پی بی آر) ایک مقامی حیاتیاتی تنوع کا ڈیٹا بیس ہے جو کمیونٹی کی شمولیت سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں حیاتیاتی وسائل، قدرتی مساکن، مقامی زرعی اقسام، روایتی اقسام ، کاشت شدہ اقسام ، پالتو ذخائر، نسلیں ، خرد نامیےاور ان سے وابستہ روایتی علم کا اندراج کیا جاتا ہے۔حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 کے تحت بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹی (بی ایم سی) مقامی لوگوں کے ساتھ مشاورت سے یہ رجسٹر تیار کرتی ہے۔ پی بی آر دستاویز بندی، تحفظِ حیاتیاتی تنوع اور فوائد کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ ملک بھر میں اب تک تقریباً2,72,648 ایسے رجسٹر تیار کیے جا چکے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نظام بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق میں عملی طور پر نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔یہ رجسٹر اس امر کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارت حیاتیاتی تنوع کے مؤثر تحفظ کے لیے مقامی سطح پر دستاویز بندی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے، تاکہ مضبوط اور مؤثر تحفظی اقدامات کی بنیاد فراہم کی جا سکے۔
قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی اور عملی منصوبہ (این بی ایس اے پی- 2024-2030)
قومی حیاتیاتی تنوع حکمتِ عملی اور عملی منصوبہ (این بی ایس اے پی) بھارت کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور اس کے پائیدار استعمال کے لیے ایک طویل مدتی پالیسی سمت فراہم کرتا ہے۔یہ منصوبہ عالمی حیاتیاتی تنوع کے وعدوں اور اہداف کو بھارت کے ماحولیاتی اور ترقیاتی تناظر کے مطابق قومی ترجیحات میں تبدیل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مختلف وزارتوں، اداروں اور مقامی تنظیموں کے درمیان مربوط اور ہم آہنگ اقدامات کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔یہ منصوبہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ‘مکمل حکومتی’ اور ‘مکمل سماجی’ نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں حکومت، ادارے، مقامی برادریاں اور دیگر فریقین مشترکہ طور پر کردار ادا کرتے ہیں۔
تازہ ترین منصوبہ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (کے ایم جی بی ایف) کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کی بدولت اسے عالمی سطح پر بھی نمایاں اہمیت حاصل ہے۔
|
کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (کے ایم جی بی ایف)
کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (کے ایم جی بی ایف) حیاتیاتی تنوع کے کنونشن (سی بی ڈی) کی پندرہویں کانفرنسِ فریقین (سی او پی15) کے دوران کینیڈا کے شہر مونٹریال میں منظور کیا گیا ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی مشترکہ صدارت چین اور کینیڈا نے کی۔ یہ معاہدہ دسمبر 2022 میں 196 ممالک نے اختیار کیا، جس کا مقصد2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنا اور اس کا ازالہ کرنا اور2050 تک ‘فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی’کے ویژن کو حقیقت بنانا ہے۔
حال ہی میں وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او ایف ایف سی سی) نے حیاتیاتی تنوع کے کنونشن ( سی بی ڈی) کو بھارت کی ساتویں قومی رپورٹ (این آر- 7) پیش کی ہے، جس کے ذریعے کنونشن کے مقاصد کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
این آر-7 ایک جامع اور اشاریہ جاتی قومی جائزہ پیش کرتی ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھارت کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پر کس طرح عمل درآمد کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں حیاتیاتی تنوع کی موجودہ صورتحال، پالیسیوں اور اہداف کے ساتھ ساتھ حکومت کے مختلف شعبوں اور سطحوں پر کیے گئے اہم اقدامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
|
قومی ریڈ لسٹ روڈ میپ (2025-2030)
قومی ریڈ لسٹ روڈ میپ (2025-2030) بھارت کے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اس کے بین الاقوامی عہد و پیمانوں کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔یہ روڈ میپ زولوجیکل سروے آف انڈیا (زیڈ ایس آئی) اور بوٹینیکل سروے آف انڈیا ( بی ایس آئی) کی قیادت میں آئی یو سی این-انڈیا اورسینٹر فار اسپیشیز سروائیول، انڈیا کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت خطرے سے دوچار انواع کے جائزے کے لیے ایک قومی سطح پر مربوط اور سائنسی بنیادوں پر قائم نظام تشکیل دیا جائے گا۔
یہ اقدام بھارت کو تحفظِ حیاتیاتی تنوع کی ترجیحات کا زیادہ مؤثر انداز میں تعین کرنے اور پالیسی سازی و عملی اقدامات کے لیے مضبوط سائنسی شواہد فراہم کرنے میں مدد دے گا۔یہ روڈ میپ کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (کے ایم جی بی ایف) کے تحت بھارت کے وسیع تر حیاتیاتی تنوع کے عہد و پیمانوں سے ہم آہنگ ہے، خصوصاً اس ہدف کے ساتھ جو2030 تک انواع کی حالت کے جائزوں کو بہتر بنانے اور تحفظی اقدامات کی رہنمائی سے متعلق ہے۔
اہم کامیابیاں
بھارت نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے شعبے میں مسلسل پیش رفت کی ہے، جس کے نتیجے میں زمینی سطح پر نمایاں اور مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
جنگلات اور محفوظ علاقوں کا توسیعی تحفظ
بھارت میں جنگلات اور درختوں کا مجموعی رقبہ تقریباً 8.27 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، جو ملک کے کل جغرافیائی رقبے کا 25.17 فیصد بنتا ہے۔ ملک کادرج شدہ جنگلاتی رقبہ تقریباً 7.75 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، جس میں سے 5.20 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد حقیقی جنگلاتی احاطہ پر مشتمل ہے۔بھارت میں 1,134 سے زائد محفوظ علاقے بھی موجود ہیں، جو مجموعی طور پر1.88 لاکھ مربع کلومیٹر (1,87,592 مربع کلومیٹر) سے زیادہ رقبے پر محیط ہیں۔ یہ علاقے ملک بھر میں اہم قدرتی مساکن اور ماحولیاتی خدمات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انواع کے تحفظ کو مضبوط بنانا
بھارت نے نمایاں اور علامتی انواع کے تحفظ کے میدان میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک میں شیروں کی تعداد 2014 میں 2,226 سے بڑھ کر تازہ ترین تخمینوں کے مطابق3,682 تک پہنچ گئی ہے۔انواع سے متعلق ڈیٹا بیس اور نگرانی کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، جس میں وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی)،زولوجیکل سروے آف انڈیا (زیڈ ایس آئی) اوربوٹینیکل سروے آف انڈیا (بی ایس آئی) جیسے ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کمیونٹی اور نظم و نسق کے نتائج کو مزید مستحکم بنانا
بھارت نے دیہی اور شہری مقامی اداروں میں 2,76,653 سے زائد بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیاں (بی ایم سیز) قائم کی ہیں۔ ان کمیٹیوں نے ملک بھر میں 2,72,648 سے زیادہ عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹرز(پی ی آر ایس) تیار کیے ہیں۔ان رجسٹرز کی تجدید، تصدیق اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ایک قومی مہم بھی جاری ہے، جس کے تحت انہیں الیکٹرانک عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹرز (ای- پی بی آر ایس) میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔یہ اقدام مقامی انواع، قدرتی مساکن اور روایتی علم کی منظم دستاویز بندی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ حکومت کے اس عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی برادریوں کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی وسائل کی نگہداشت میں کلیدی شراکت دار کے طور پر بااختیار بنایا جائے۔
اے بی ایس میکانزم
|
اے بی ایس ای-فائلنگ پورٹل
رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس ) ای-فائلنگ پورٹل حیاتیاتی تنوع کے نظم و نسق اور شفافیت کو مؤثر بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ پورٹل30 مارچ 2017 کو شروع کیا گیا تھا۔بعد ازاں حیاتیاتی تنوع قواعد- 2014 کے مطابق اور بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے جاری کوششوں کے تحت اس پورٹل کو مزید اپ گریڈ کیا گیا۔ اس کا مقصد درخواستوں کے عمل کو آسان، تیز اور زیادہ شفاف بنانا ہے۔یہ پورٹل درج ذیل فوائد فراہم کرتا ہے:
- آن لائن درخواست جمع کرانے کی سہولت
- شفاف اور مؤثر کارروائی
- منظوریوں کے عمل میں تیزی
- فوائد کی منصفانہ تقسیم
|
رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) کے نفاذ کی بنیادحیاتیاتی تنوع ایکٹ ( بی ڈی ایکٹ) میں فراہم کردہ قانونی فریم ورک پر ہے، جو حیاتیاتی وسائل اور ان سے وابستہ روایتی علم تک رسائی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی برادریوں سمیت فوائد کے حق دار افراد اور اداروں کے ساتھ فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔2017 سے 2026 کے دوران، بھارت نے حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق 12,830 منظوریاں جاری کیں۔ یہ منظوریات ان مخصوص فنڈز کے ذریعے دی گئیں جو فوائد کی تقسیم اور تحفظِ حیاتیاتی تنوع سے متعلق سرگرمیوں کی معاونت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔مئی 2026 تک ملک بھر کے مستحقین کو تقریباً 145 کروڑ روپےجاری کیے جا چکے ہیں، جس سے تقریباً 11,000 بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں ( بی ایم سیز) کو فائدہ پہنچا ہے۔
|
بین الاقوامی یومِ حیاتیاتی تنوع- 2026: ایک جھلک
22 مئی 2026 کو ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر نے بھارتی ادارہ برائے جنگلاتی انتظام)، بھوپال میں بین الاقوامی یومِ حیاتیاتی تنوع کی قومی سطح کی تقریب اور چیتا تحفظ سے متعلق ایک خصوصی پروگرام کی صدارت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے حیاتیاتی تنوع کے کنونشن (سی بی ڈی) اور‘کنمنگ-مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک’ (کے ایم جی بی ایف) کے نفاذ کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب کے دوران حیاتیاتی تنوع سے متعلق متعدد مطبوعات، ڈجیٹل ٹولز اور عوامی آگاہی کے مواد جاری کیے گئے، جن میں شامل ہیں:
- کسٹمائزڈ مائے اسٹیمپ ( سی ایم ایس ) — ذاتی نوعیت کے ڈاک ٹکٹوں کی شیٹ
- بھارت کی حیاتیاتی تنوع رپورٹ 2026: سی بی ڈی کو پیش کی گئی ساتویں قومی رپورٹ سے حاصل شدہ اہم نکات 7th National Report to CBD
- اے بی ایس کے نفاذ میں بھارت کی پیش رفت: ناگویا پروٹوکول سے متعلق بھارت کی پہلی قومی رپورٹ سے حاصل شدہ معلومات India’s First National Report on the Nagoya Protocol
- اے بی ایس اینڈ ٹو اینڈ پورٹل**
- رسائی اور فوائد کی تقسیم (اے بی ایس) پر مبنی دستاویزی فلم
- امرکنٹک حیاتیاتی ورثہ مقام (اے بی ایچ ایس) پر مبنی فلم
- مدھیہ پردیش کے دیولَوَک وَن (مقدس جنگلات) کے تحفظ پر مبنی فلم
2026 کی یہ تقریب حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور پائیدار ترقی کے لیے بھارت کے مضبوط عزم کی عکاس تھی۔ اس موقع پر ملک کے اس ویژن کو بھی اجاگر کیا گیا جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، جامع ترقی اور ماحولیاتی لچک کے درمیان متوازن ہم آہنگی قائم کرنا ہے۔
|
آج کی کامیابیوں سے کل کے اہداف تک
بھارت کی حیاتیاتی تنوع سے متعلق کوششیں اب قوانین، اداروں اور کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والے اقدامات کے ایک مضبوط امتزاج پر استوار ہیں، جوحیاتیاتی تنوع کے کنونشن (سی بی ڈی) کے تحت عالمی فریم ورک سے ہم آہنگ ہیں۔ بھارت مربوط انداز میں جنگلات اور درختوں کے احاطے کو بڑھانے، محفوظ علاقوں میں توسیع، انواع کے تحفظ کو بہتر بنانے اور مقامی سطح پر قدرتی وسائل کی نگہداشت کو مزید مضبوط کرنے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔
مستقبل کے تناظر میں، جدید حکمت عملیوں، مخصوص مالی وسائل اور شفاف قومی رپورٹنگ کے ذریعے حیاتیاتی تنوع کو پائیدار اور جامع ترقی کے مرکز میں رکھا جا رہا ہے۔ حکومت 2030 اور اس کے بعد بھی تحفظِ حیاتیاتی تنوع کے نتائج کو مزید بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ صحت مند ماحولیاتی نظام، محفوظ روزگار کے ذرائع اور قومی ترقی ایک مثبت اور باہمی طور پر مضبوط کرنے والے سلسلے کی صورت میں آگے بڑھ سکیں۔
حوالہ جات
وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی
حیاتیاتی تنوع پر کنونشن
دیگر
Click here to see PDF
********
ش ح- ظ الف- ش ہ ب
UR- 7998
(Explainer ID: 158779)
आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments