• Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

پی ایم سواندھی: روزگار کے تحفظ سے خود کفالت کے سفر تک

Posted On: 30 MAY 2026 12:05PM

پی ایم سواندھی بھارت کی غیر منظم شہری معیشت سے وابستہ اسٹریٹ وینڈرز (ریہڑی اور پٹری فروشوں) کی معاونت کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر ابھری ہے۔ ضمانت سے پاک قرضوں کی فراہمی کے علاوہ، اس اسکیم نے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیا ہے، ادارہ جاتی قرضوں تک رسائی بہتر بنائی ہے اور سماجی تحفظ کے دائرۂ کار کو بھی وسعت دی ہے۔ 2020 میں آغاز کے بعد سے اب تک اس اسکیم کے تحت 1.12 کروڑ سے زائد قرضے دیے جا چکے ہیں۔ اس اقدام سے ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں75 لاکھ سے زیادہ مستفیدین فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسکیم کے تحت 17,800 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے قرضے فراہم کیے گئے ہیں۔اس اسکیم کے اثرات صرف سرکاری اعداد و شمار تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان لاکھوں ریہڑی پٹری فروشوں کی روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہیں، جو اس کی بدولت زیادہ مضبوط، مستحکم اور پائیدار ذریعۂ معاش قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

 

ہندوستان کے ریہڑی پٹری والوں کی بدلتی ہوئی کہانی

 

شہروں کی مصروف منڈیوں میں سبزیاں فروخت کرنے والاریہڑی فروش، یا کسی دفتر کے باہر چائے بیچنے والا خوانچہ فروش، ہندوستانی شہری زندگی کے روزمرہ کے مناظر ہیں۔ اسی طرح گلی کوچوں میں پھل فروخت کرنے والے اور سڑک کنارے بیٹھ کر جوتے مرمت کرنے والے کاریگر بھی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ لاکھوں ریہڑی پٹری فروش ہر روز ملک کی شہری معیشت کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ عوام کو مناسب قیمت پر ضروری اشیاء اور خدمات فراہم کرتے ہیں اور مقامی بازاروں اور محلے کے کھانے پینے کی اشیاء کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔تاہم، طویل عرصے تک ان فروخت کنندگان کو باقاعدہ مالی سہولتوں تک محدود رسائی حاصل تھی، جس کے باعث انہیں اکثر غیر منظم ذرائع سے بھاری سود پر قرض لینے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔ ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے جون 2020 میں پردھان منتری اسٹریٹ وینڈر آتم نربھر ندھی (پی ایم سواندھی) اسکیم شروع کی گئی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا خرد قرضہ پروگرام تھا، جو خاص طور پر ریہڑی پٹری فروشوں کے لیے تیار کیا گیا اور جس میں حکومت کی جانب سے قرض کی ضمانت کا انتظام بھی کیا گیا۔ اس اسکیم  کا مقصد ریہڑی پٹری فروشوں کو خود روزگاری، خود انحصاری اور خود اعتمادی فراہم کرنا تھا۔ آج پی ایم سواندھی محض قرض فراہم کرنے کی ایک اسکیم نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے جو غیرمنظم معیشت سے وابستہ لاکھوں افراد کے مالی استحکام، ڈیجیٹل شمولیت اور سماجی تحفظ کو فروغ دے رہی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران اس  اسکیم  نے ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ اب تک 75.5 لاکھ سے زائد مستفیدین اس اسکیم کے تحت 1.12 کروڑ سے زیادہ قرضے حاصل کر چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 17,800 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ اس اسکیم کے تحت 55 لاکھ سے زیادہ مستفیدین کو ڈیجیٹل نظام سے جوڑا جا چکا ہے۔ ان افراد نے مجموعی طور پر 841 کروڑ سے زائد ڈیجیٹل لین دین انجام دیے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 8.96 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ پی ایم سواندھی کے مستفیدین کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے دی جانے والی ترغیبات اور سود میں رعایت کی صورت میں تقریباً 800 کروڑ روپے کا فائدہ بھی حاصل ہوا ہے۔ اس اسکیم کی نمایاں کامیابیوں اور اس کے مثبت و قابلِ پیمائش اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اس کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے مارچ 2030 تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ایم سواندھی اسکیم کی اہم خصوصیات

  1. کاروباری سرمائے کے لیے قرض: اس اسکیم کے تحت بغیر کسی ضمانت کے مرحلہ وار تین قسطوں میں15,000 روپے، 25,000 روپے اور 50,000 روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان قرضوں پر سود میں رعایت اور حکومتی قرض ضمانت کی سہولت بھی دستیاب ہوتی ہے، تاکہ مستفیدین اپنے کاروبار کو مزید مستحکم اور وسعت دے سکیں۔
  2. یو پی آئی سے منسلک روپے کریڈٹ کارڈ: جو ریہڑی پٹری فروش قرض کی دوسری قسط کامیابی کے ساتھ واپس ادا کرتے ہیں، وہ یو پی آئی سے منسلک روپے کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے کے اہل بن جاتے ہیں۔ اس کارڈ کے ذریعے انہیں 30,000 روپے تک کی قرضی حد کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جس سے روزمرہ کاروباری ضروریات پوری کرنے اور ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔
  • III. ڈیجیٹل لین دین کا فروغ: ریہڑی پٹری فروشوں کو خوردہ اور تھوک سطح پر ڈیجیٹل لین دین کی حوصلہ افزائی اور مالیاتی خواندگی کو فروغ دینے کے لیے 1,600 روپے تک کی نقد ترغیبی رقم (کیش بیک) فراہم کی جاتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فروخت کنندگان کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کی طرف راغب کرنا اور انہیں جدید مالیاتی نظام سے جوڑنا ہے۔
  1. سواندھی سے سمردھی (ایس ایس ایس ): اس اقدام کے تحت مستفیدین اور ان کے خاندانوں کی سماجی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ انہیں مرکزی حکومت کی منتخب آٹھ فلاحی اسکیموں سے جوڑا جا سکے۔ اس کا مقصد مستحق خاندانوں کو مختلف سرکاری سہولتوں تک رسائی فراہم کرنا اور ان کے لیے جامع سماجی تحفظ کا ایک مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔
  2. صلاحیت سازی اور کاروباری ترقی: ریہڑی پٹری فروشوں کو اپنی کاروباری صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے مالیاتی خواندگی، ڈیجیٹل خواندگی اور خوراک کے تحفظ و صفائی کے اصولوں سے متعلق تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ تربیتی پروگرام فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے تعاون سے منعقد کیے جاتے ہیں، تاکہ فروخت کنندگان بہتر کاروباری طریقوں کو اپناتے ہوئے اپنی آمدنی اور خدمات کے معیار میں بہتری لا سکیں۔

پی ایم سواندھی اسکیم کے اثرات

پی ایم سواندھی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 2023 اور 2025 میں غیر جانبدارانہ مطالعات کیے گئے۔ ان مطالعات میں درج ذیل نمایاں بہتریوں کی نشاندہی کی گئی:

معاشی خودمختاری

اس اسکیم نے ملک بھر میں دکانداروں کے لیے کاروباری استحکام اور آمدنی کو بہتر بنایا ہے ۔  تقریباً 95 فیصد مستفیدین نے پی ایم سواندھی کے تحت پہلی بار باضابطہ ادارہ جاتی قرض حاصل کیا ۔  تقریباً 30 فیصد بعد میں سواندھی قرضوں سے آگے اضافی کریڈٹ تک رسائی حاصل کی ، جو بہتر کریڈٹ کی اہلیت اور مالی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے ۔  مستفید ہونے والوں کی آمدنی میں بھی تقریباً 20 فیصد کا اوسط سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گھریلو فلاح و بہبود میں بہتری

پی ایم سواندھی کے تحت حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد نے مستفیدین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔  اس اسکیم نے زیادہ سے زیادہ ہاؤسنگ استحکام اور غذائیت سے بھرپور خوراک ، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک بہتر رسائی کی حمایت کی۔

پی ایم سواندھی نے کمزور شہری برادریوں کی سماجی شمولیت کو بھی  فروغ دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مستفید ہونے والوں میں تقریباً 46 فیصد خواتین ہیں، جو مضبوط صنفی شمولیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ تقریبا 70 فیصد کا تعلق پسماندہ برادریوں سے ہے، جو اسکیم کی جامع رسائی کو اجاگر کرتا ہے۔

استقامت اور با اختیاری کی داستانیں

تعداد اور قرض کی ادائیگی کے پیچھے استقامت ، ہمت اور نئی امنگوں کی کہانیاں ہیں ۔  بہت سے دکانداروں کے لیے ، پی ایم سواندھی نے استحکام ، ترقی اور مواقع کے دروازے کھول دیے ہیں جنہیں ایک بار پہنچ سے باہر سمجھا جاتا تھا۔  ملک کے مختلف حصوں کے یہ تجربات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ کس طرح بروقت سہولت کے نظام چھوٹے کاروباروں کی بحالی ، موافقت اور زیادہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد کر رہی ہے۔

ایک چھوٹے اسٹال سے ایک دکان بننےتک  کا سفر

غازی آباد کے نند گرام کی ببیتا شرما ایک مقامی مندر کے قریب پوجا کے سامان فروخت کرنے والی ایک چھوٹی سی دکان چلاتی ہیں۔  ہر روز ، عقیدت مند اگر بتی، دیا ، پھول ، ناریل اور پوجا کے لیے درکار دیگر سامان خریدنے کے لیے ان کے اسٹال پر جاتے ہیں۔  اگرچہ کاروبار نے اس کے خاندان کی مدد کی، لیکن محدود رقم اکثر ان کے لیے صارفین کی مانگ  کو پوراکرنے  میں مشکل پیدا کرتے تھے ۔  جولائی 2020 میں ، ببیتا کو  شہری بلدیاتی ادارے (یو ایل بی) کے عہدیداروں کے ذریعے پی ایم سواندھی اسکیم کے بارے میں معلوم ہوا ۔  اسے اپنی روزی روٹی کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر دیکھتے ہوئے ، اس نے اسکیم کے تحت قرض کے لیے درخواست دی ۔  پہلا پی ایم سواندھی قرض حاصل کرنے کے بعد  ببیتا نے اضافی اسٹاک خریدنے اور اپنے اسٹال پر مزید مصنوعات متعارف کرانے میں رقم کی سرمایہ کاری کی ۔  وسیع تر تنوع نے زیادہ  خریداروں  کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اس کی روزانہ کی فروخت اور آمدنی میں اضافہ کرنے میں مدد کی۔  اپنے کاروبار میں بہتری آنے سے انہیں حوصلہ ملا  اور انہوں نے وقت پر قرض ادا کیا اور دوسری قسط کے لیے اہل ہو گئیں۔  انہوں نے اس قرض کا استعمال ریہڑی خریدنے اور اپنے وینڈنگ سیٹ اپ کو بہتر بنانے کے لیے کیا۔

کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے ترقی کی نئی بلندی

ترواننت پورم کی رہنے والی سانتھی آر گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے خشک مچھلی کے کاروبار کے ذریعے اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں۔ پی ایم سواندھی سے قبل وہ چھوٹے مالیاتی اداروں سے زیادہ شرحِ سود پر قرض لینے پر مجبور تھیں، جن کی ہفتہ وار قسطوں کی ادائیگی ان کے لیے ایک بڑا بوجھ تھی۔ اس مالی دباؤ نے نہ صرف ان کے کاروبار کی ترقی کو محدود کر رکھا تھا بلکہ روزمرہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا تھا۔ پی ایم سواندھی کے تحت آسان شرائط پر دستیاب باقاعدہ قرضوں نے سانتھی کو اپنے کاروبار کو بتدریج مضبوط بنانے میں مدد فراہم کی۔ کاروبار مستحکم ہونے کے بعد انہوں نے صرف ریہڑی پر فروخت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ خشک مچھلی کی پیکنگ اور مقامی دکانوں کو سپلائی کا کام بھی شروع کر دیا۔ اس اسکیم کے تحت سانتھی کو پہلے مرحلے میں10,000 روپے کا قرض ملا اور بعد ازاں وہ ترقی کرتے ہوئے تیسرے مرحلے کے 50,000 روپے کے قرض تک پہنچ گئیں۔ اس مالی معاونت سے ان کے نقد سرمائے میں بہتری آئی اور وہ اپنے مالِ تجارت کا انتظام زیادہ مؤثر انداز میں کرنے لگیں۔ جنوری 2026 میں انہیں سواندھی کریڈٹ کارڈ بھی فراہم کیا گیا، جس نے ان کے بڑھتے ہوئے کاروبار کو مزید تقویت بخشی۔ سانتھی آر کی کامیابی اس بات کی روشن مثال ہے کہ پی ایم سواندھی کس طرح خواتین کاروباری شخصیات کو اپنے کاروبار میں تنوع پیدا کرنے، اسے وسعت دینے اور پائیدار ذریعۂ معاش قائم کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

چیلنج کو موقع میں بدلنے کی کامیاب داستان

گوہاٹی کے علاقے نونمتی کی مصروف گلیوں میں سیوالی کلیتا اپنے چار افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کے لیے ایک چھوٹا سا پان کا کھوکھا چلاتی تھیں۔ معاشی مشکلات کے دنوں میں انہیں گزر بسر کے لیے اپنے پڑوسیوں سے بھی قرض لینا پڑتا تھا۔ بعد ازاں گوہاٹی میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران انہیں پی ایم سواندھی اسکیم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ اسکیم کے تحت 10,000 روپے کا قرض ملنے کے بعد سیوالی نے اپنی کاروباری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔ کورونا وبا کے دوران انہوں نے نامیاتی سبزیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پہچانا  اور مقامی سطح پر تازہ سبزیاں حاصل کرکے اپنے پان کے کھوکھے کے ساتھ فروخت کرنا شروع کر دیں۔ کاروبار میں بہتری آنے کے بعد سیوالی نے اپنے بچوں کو دوبارہ اسکول میں داخل کرایا اور بتدریج اپنے کاروبار کو وسعت دیں۔ بعد میں انہوں نے 20,000 روپے اور پھر 50,000 روپے کے اضافی قرضے بھی حاصل کیے۔ اس مالی معاونت کی بدولت وہ اپنے قرضے ادا کرنے، مالِ تجارت میں اضافہ کرنے اور سبزیوں کے لیے ایک الگ اسٹال قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ آج سیوالی اپنے شوہر کے ساتھ مل کر گوہاٹی میں ایک کامیاب اور فروغ پاتا ہوا کاروبار چلا رہی ہیں۔ ان کے کاروبار سے انہیں ماہانہ تقریباً8,000 روپے کا خالص منافع حاصل ہو رہا ہے۔سیوالی کلیتا کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ عزم، محنت اور مناسب مواقع میسر ہوں تو مشکلات کو ترقی اور خوشحالی کے راستے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی داستان پی ایم سواندھی کے مثبت اثرات اور اس کی بدولت پیدا ہونے والے نئے امکانات کی ایک روشن مثال ہے۔

چھوٹا قرض، بڑی تبدیلی: ایک ریہڑی فروش کی زندگی کا انقلابی سفر

گاندھی نگر کے 30 سالہ بی کام کے طالب علم یوگراج مالی سڑک کنارے چولافلی فروخت کرکے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے چھوٹا سا کھانے کا کاروبار چلاتے تھے۔ تاہم کووڈ-19 کی وبا نے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا اور آمدنی تقریباً ختم ہو گئی۔ اسی مشکل وقت میں انہیں پی ایم سواندھی اسکیم کے تحت قرض کی سہولت حاصل ہوئی، جس نے نہ صرف ان کے کاروبار کو دوبارہ زندگی بخشی بلکہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے مالی مشکلات میں بھی نمایاں کمی کی۔ قرض کی مدد سے یوگراج نے اپنے کاروبار کو دوبارہ منظم کیا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنایا، جس کے نتیجے میں انہیں کیش بیک جیسی ترغیبات بھی حاصل ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دیگر سرکاری اسکیموں جیسے پردھان منتری سورکشا بیمہ یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا اور شرم یوگی مان دھن یوجنا سے بھی استفادہ کیا۔ یوگراج کے مطابق حکومت کی یہ معاونت مشکل حالات میں ایک مضبوط سہارا ثابت ہوئی، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ ان کی کہانی اس بات کی روشن مثال ہے کہ بروقت مالی مدد اور فلاحی اسکیمیں کس طرح ایک عام شہری کی زندگی میں امید، استحکام اور خود انحصاری لا سکتی ہیں۔

قرض کے علاوہ: بدلتا ہوا شہری منظر نامہ

بھیڑ بھاڑ والے بازاروں سے لے کر سڑک کے کنارے تنگ گلیوں تک ، پی ایم سواندھی نے خاموشی سے ملک بھر میں بے شمار روزمرہ کی زندگی کو تبدیل کر دیا ہے۔  اس اسکیم نے دکانداروں کو کام پر واپس آنے اور چھوٹے کاروبار کو بڑھانے کے قابل بنایا ہے۔  اس نے ڈیجیٹل لین دین کی حوصلہ افزائی کی ہے اور محفوظ، زیادہ منظم کاروباری طریقوں کو فروغ دیا ہے۔  اس نے کم خدمات حاصل کرنے والی برادریوں کے لیے ادارہ جاتی مدد تک رسائی کو بھی وسیع کیا ہے۔

اس اسکیم کی توسیع پذیر رسائی ترقی اور شمولیت میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔  غیرمنظم معیشت میں کام کرنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے پی ایم سواندھی نے ایسے مواقع کی راہ ہموار کی ہے جن تک رسائی کبھی مشکل تھی ۔  کئی طریقوں سے یہ پہل شہری حکمرانی کے بدلتے ہوئے نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے ۔  چھوٹے دکانداروں کو اب سماج کے پسماندہ کے حصے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ بلکہ، انہیں تیزی سے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی کہانی میں معاون کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

حوالہ جات

ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت

https://www.pmsvanidhi.mohua.gov.in/Home/PMSDashboard

https://www.facebook.com/pmsvanidhi/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225510&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2006580&reg=3&lang=2

 

وزارت اطلاعات و نشریات

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1984414&reg=3&lang=2

 

وزیر اعظم آفس

https://www.pmindia.gov.in/en/news_updates/cabinet-approves-restructuring-extension-of-lending-period-beyond-31-12-2024-of-pm-street-vendors-atmanirbhar-nidhi-pm-svanidhi-scheme

 

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں۔

************

ش ح۔ت ف۔ش ت

 (U: 7901)      

(Explainer ID: 158752) आगंतुक पटल : 9
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Manipuri , Bengali , Assamese , Gujarati , Tamil , Telugu_Vw , Telugu , Kannada , Malayalam