• Sitemap
  • Advance Search
Rural Prosperity

بھارت کے دیہی علاقوں میں آبی وسائل کاانتظام

“شراکت داری پر مبنی آبی بجٹ سازی کے ذریعے سماج کو بااختیار بنانا”

Posted On: 27 MAY 2026 11:36AM

 

بھارت کے دیہی علاقوں میں آبی وسائل کے انتظام کو بہتر بنانا بڑھتی ہوئی مانگ، غیر مساوی تقسیم اور موسمیاتی تغیرات کے باعث تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر بوند کا حساب رکھ کر بھارت آبی تحفظ، موسمیاتی لچک اور ایک پائیدار مستقبل تشکیل دے سکتا ہے۔ آبی بجٹ کمیونیٹیز کو پانی کی دستیابی اور مانگ کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے، جس سے زراعت، گھریلو اور مویشیوں کے استعمال میں باخبر فیصلوں کی حمایت ہوتی ہے۔ حکومتی پروگراموں میں اٹل بھوجل یوجنا، نیشنل واٹر مشن، اور راجستھان و مہاراشٹر جیسے ریاستی اقدامات شامل ہیں، جو شراکتی طریقۂ کار کی افادیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ورونی ویب ایپلی کیشن کا استعمال ٹیکنالوجی ان کوششوں کو مزید مضبوط بناتی ہے کیونکہ یہ مقامی سطح پر ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتی ہے۔ منصوبہ بندی میں آبی بجٹ کو شامل کرنا، کمیونٹی کی شمولیت اور پالیسی معاونت کے ساتھ، پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔

 

 

بھارت میں آبی وسائل کی حرکیات: ڈیمانڈ مینجمنٹ اور پالیسی اقدامات کا انضمام

 

پانی ماحولیاتی پائیداری اور انسانی فلاح و بہبود کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ آبی وسائل کی دستیابی، تقسیم اور انتظام مختلف شعبوں میں ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ مرکزی آبی کمیشن کے زیرِ اہتمام کیے گئے مطالعے “اسپیس ان پٹ کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں پانی کی دستیابی کا دوبارہ جائزہ ، 2019’’ کے مطابق، بھارت کو سالانہ اوسطاً تقریباً 3,880 ارب بلین کیوبک میٹر (بی سی ایم) بارش حاصل ہوتی ہے۔ قدرتی نقصانات جیسے بخارات بننے اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد، ملک میں دستیاب پانی کی سالانہ اوسط مقدار کا اندازہ 1,999.20 بی سی ایم لگایا گیا ہے۔

کسی ملک میں پانی کی سالانہ اوسط دستیابی زیادہ تر ہائیڈرو میٹرولوجیکل اور ارضیاتی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔ تاہم فی کس پانی کی دستیابی آبادی کے حجم پر منحصر ہوتی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کے ساتھ بھارت میں فی کس پانی کی دستیابی میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے، جس سے موجودہ آبی وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ہندوستان میں عالمی آبادی کا 17.5 فیصد اور دنیا کے 11.6 فیصد مویشی ہیں ۔  اس سے آبی وسائل کی کافی مانگ پیدا ہوتی ہے ۔  دیہی علاقوں میں 80 سے 90 فیصد پانی زراعت کے ذریعے استعمال ہوتا ہے ۔

محدود آبی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، موسمی پانی کی قلت، اور پانی کی تقسیم سے متعلق تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تمام چیلنجوں اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ سپلائی پر مبنی نقطۂ نظر سے ہٹ کر طلب پر مبنی اور منصوبہ بند آبی انتظامی نظام کی طرف منتقل ہونا ضروری ہے۔ اس تناظر میں، آبی بجٹ پانی کی کمی کے شکار علاقوں میں پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ کے طور پر سامنے آئی ہے، جہاں قلت اور غیر مساوی تقسیم معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور موسمیاتی لچک کو خطرے میں ڈالتی ہے۔

ہر قطرے کا حساب: آبی بجٹنگ کو سمجھنا

 

آبی بجٹ سازی کسی مخصوص جغرافیائی اکائی کے اندر پانی کی دستیابی اور مانگ کا منظم انداز میں جائزہ لینے کا عمل ہے۔ ان اکائیوں میں گاؤں، واٹرشیڈ، بلاک یا ضلع شامل ہو سکتے ہیں، جس کا مقصد پانی کے استعمال کو قابلِ تجدید دستیابی کے ساتھ متوازن بنانا ہوتا ہے۔

image00392D5.jpg

اس کے بنیادی تصور میں آبی بجٹ سازی پانی کے تمام ذرائعِ آمد کا حساب شامل کرتی ہے، جن میں بارش، سطحی پانی کی آمد، اور زیرِ زمین پانی کی تجدید شامل ہیں، اور ان کا موازنہ بخارات بننے کے عمل، سطحی بہاؤ ، اور زیرِ زمین پانی کے اخراج سے کیا جاتا ہے۔ بنیادی حساب کتاب سے آگے بڑھ کر، ایک جامع آبی بجٹ قدرتی ماحول میں پانی کی حرکت اور تقسیم کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں سطحی پانی اور زیرِ زمین پانی کے نظام کے درمیان باہمی تعلق، بارش اور تجدید میں موسمی تبدیلیاں، اور انسانی سرگرمیوں جیسے زراعت، شہری کاری اور صنعتی استعمال کے اثرات شامل ہوتے ہیں۔

اس کا اطلاق مختلف پیمانوں پر کیا جا سکتا ہے، جن میں انفرادی کھیت، دیہات، واٹرشیڈ اور پورے دریا کے طاس شامل ہیں۔ اس سے مقامی حالات، وسائل کی دستیابی اورمانگ کے نمونوں کی بنیاد پر مخصوص جگہ کے مطابق آبی انتظامی منصوبے تیار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ایسی منصوبہ بندی خاص طور پر ان علاقوں میں اہم ہوتی ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی کمی، موسمی قلت، سیلاب یا موسمیاتی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

حکمرانی کے نقطۂ نظر سے، آبی بجٹ سازی اخبر اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ اضافی( سرپلس) اور خسارے والے علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے اور زراعت، گھریلو استعمال، مویشیوں اور صنعت کے درمیان پانی کی مؤثر تقسیم کو ممکن بناتی ہے۔

آبی بجٹ سازی کے ذریعے زرعی اور مویشیوں کی پانی کی مانگ کو ہم آہنگ کرنا

 

مربوط آبی وسائل کی ترقی سے متعلق قومی کمیشن کا تخمینہ ہے کہ ہندوستان میں آبپاشی کے پانی کی مانگ 2050 تک 807 بی سی ایم تک پہنچ سکتی ہے ۔  یہ تخمینے آبی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں اور بہتر منصوبہ بندی اور مانگ کے انتظام کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں ۔

image0040OO9.jpg

آبی بجٹ سازی  دستیاب وسائل کے ساتھ زرعی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ باخبر فصلوں کی منصوبہ بندی کو ممکن بناتی ہے، جس کے تحت مقامی آبی حالات کے مطابق فصلوں کے انتخاب اور آبپاشی و بوائی کے بہتر انتظام کے ذریعے دباؤ کو کم کیا جاتا ہے۔این اے بی اے آر ڈی کی معددسے کیے گئے شراکتی آبی بجٹ سازی  اقدامات سے حاصل شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ پانی کے مطابق فصلوں کا انتخاب پیداوار میں اضافہ کرتا ہے اور خطرات کو کم کرتا ہے۔

2019 کی مویشیوں کی مردم شماری کے مطابق، مویشیوں کی تعداد 2012 کے 51.2 کروڑ سے بڑھ کر تقریباً 53.6 کروڑ تک پہنچ گئی، یعنی 4.6 فیصد اضافہ ہوا۔ گائے کی تعداد میں 2012 کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ مویشیوں کی آبادی میں اس اضافے کا مطلب ہے کہ پینے کے پانی، چارے کی پیداوار اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے پانی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

آبی بجٹ سازی ایک جامع نقطۂ نظر اختیار کرتی ہے جس میں مویشیوں اور ماہی گیری جیسے ذیلی شعبوں کی آبی ضروریات کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ معیاری اصولوں کے مطابق مویشیوں کی پانی کی طلب کا تخمینہ لگانا اور اسے مجموعی آبی جائزوں میں شامل کرنا پانی کی زیادہ متوازن تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ اس طرح یہ دیہی علاقوں میں متنوع اور پائیدار روزگار کی حمایت کرتا ہے۔

آبی بجٹ سازی کو ادارہ جاتی شکل دینا: قومی مشن اور نچلی سطح کی کارروائیاں

 

حکومتی پروگراموں، جن میں اٹل بھوجل یوجنا اور نیشنل واٹر مشن شامل ہیں، آبی بجٹ سازی کو پائیدار آبی انتظام کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر اجاگر کرتے ہیں۔

اٹل بھوجل یوجنا

 

2019 میں شروع کی گئی اٹل بھوجل یوجنا آبی بجٹ سازی کو گرام پنچایت (جی پی) کی سطح پر غیر مرکزی آبی وسائل کے انتظام کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر فروغ دیتی ہے۔ یہ پروگرام سات زیرِ زمین پانی کی کمی کے شکار ریاستوں کے 229 بلاکس میں پائلٹ بنیادوں پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ ان ریاستوں اور گرام پنچایتوں کا انتخاب زیرِ زمین پانی کی کمی کی سطح، ادارہ جاتی تیاری، موجودہ آبی انتظامی نظام، زیرِ زمین پانی کے تحفظ میں سابقہ تجربے اور شرکت کی آمادگی کی بنیاد پر کیا گیا۔ جی پی کا حتمی انتخاب متعلقہ ریاستی حکومتوں نے کیا تاکہ مؤثر نفاذ اور بہتر نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔ 2023-24 اور 2024-25 میں کیے گئے جائزوں کے دوران 229 میں سے 180 بلاکوں  میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں قابلِ پیمائش بہتری دیکھی گئی۔

 

یہ اسکیم روایتی آبی تحفظ کے نظاموں کی بحالی اور مضبوطی کو فروغ دیتی ہے، جن میں گوکٹے، باوڑی، جوہڑ، ٹانکا، کلیانی اور ڈِگگی شامل ہیں، جنہیں مقامی حالات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ مارچ 2026 تک تقریباً 81,700 آبی تحفظ اور ری چارج ڈھانچے تیار یا بحال کیے جا چکے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال آبی بجٹ کی تیاری اور اس کی تازہ کاری لازمی قرار دی گئی ہے، اور شریک گرام پنچایتوں میں 8,203 آبی بجٹ مکمل کیے جا چکے ہیں۔

نمبر شمار

ریاست

آبی بجٹ سازی والے گرام پنچایت (جی پی)

1

گجرات

1,873

2

ہریانہ

1,647

3

کرناٹک

1,199

4

مدھیہ پردیش

670

5

مہاراشٹر

1,133

6

راجستھان

1,132

7

اتر پردیش

549

 

کل

8203

اس عمل کی حمایت کے لیے صلاحیت سازی کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ مختلف سطحوں پر 1.25 لاکھ سے زائد تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ طلب کے پہلو سے متعلق مداخلتوں کو تقریباً 9 لاکھ ہیکٹر رقبے میں فعال طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کے مؤثر استعمال کے طریقوں جیسے ڈرِپ اور اسپرنکلر آبپاشی، ملچنگ، اور فصلوں کی تنوع کو اپنانے میں اضافہ ہوا ہے۔

آبی بجٹنگ کو ادارہ جاتی شکل دینا: ہی ویئربازار سے حاصل ہونے والے اسباق

مہاراشٹر کا خشک سالی سے متاثرہ گاؤں ہی ویئر  بازار یہ ظاہر کرتا ہے کہ شراکتی آبی وسائل کا انتظام کس طرح پانی کی کمی کے شکار علاقوں کو لچکدار ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر سکتی ہے۔ 1970 کی دہائی سے شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے اس گاؤں نے کمیونٹی کی قیادت میں واٹرشیڈ مینجمنٹ کو اپنایا۔ اس طریقۂ کار میں روایتی علم اور ادارہ جاتی اختراع کو یکجا کیا گیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ، گاؤں نے جامع اقدامات نافذ کیے، جن میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، واٹرشیڈ کی ترقی، اور زیرِ زمین پانی کی تجدید شامل ہیں۔ ایک اہم اقدام گرام سبھا کی سطح پر آبی بجٹ سازی  تھا، جس کے تحت سالانہ آبی دستیابی کا جائزہ لے کر زرعی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ان جائزوں کی بنیاد پر کسانوں کو ایسے فصلی نمونے اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے جو دستیاب پانی کے مطابق ہوں۔ اس کے علاوہ، زیرِ زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال کو روکنے کے لیے گہرے بورویلز پر پابندی جیسے ضوابط بھی نافذ کیے گئے۔

یہ مربوط اور مستقبل بین طریقۂ کار ہی ویئر  بازار کو کم بارش والے سالوں میں بھی آبی تحفظ حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس ماڈل نے ریاستی سطح کی پالیسی کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے تحت مہاراشٹر نے اپنی خشک سالی سے بچاؤ کی حکمتِ عملی میں آبی بجٹ سازی کو شامل کرتے ہوئے ہر سال 5,000 دیہات کو پانی کے لحاظ سے محفوظ بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

 

نیشنل واٹر مشن (این ڈبلیو ایم)

 

نیشنل واٹر مشن آبی بجٹ سازی کو مربوط آبی وسائل کے انتظام (آئی ڈبلیو آر ایم ) کے ایک بنیادی جزو کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ مشن کے تحت آبی بجٹ سازی قومی ترجیحات جیسے آبی تحفظ، پائیداری اور طویل مدتی آبی سلامتی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

مزید برآں، “ناری شکتی سے جل شکتی” کے تحت این ڈبلیو ایم خواتین کی قیادت والے اداروں کو فروغ دیتا ہے، جن میں سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی)، واٹر یوزرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو یو اے) اور کمیونٹی گروپس شامل ہیں، جو آبی تحفظ اور انتظام میں فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اتراکھنڈ کے اودھم سنگھ نگر ضلع میں جل جیون مشن کے تحت تقریباً 1,645 خواتین کو تربیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 300 خواتین کی قیادت میں گاؤں کی پانی اور صفائی کمیٹیاں فعال ہیں، اور خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے 105 بیداری مہمات بھی چلائی گئی ہیں۔

راجستھان میں کمیونٹی کی قیادت میں منصوبہ بندی کے ذریعے آبی تحفظ

راجستھان کی انتہائی غیر یقینی بارش اور بار بار آنے والی خشک سالیوں کے باعث سطحی بہاؤ میں نقصان، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی اور غیر مستحکم زراعت جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ان چیلنجوں  سے نمٹنے کے لیے ریاست نے 2016 میں “مکھیہ منتری جل سواولمبن ابھیان” شروع کیا، جو “چار پانیوں کے تصور” پر مبنی ہے۔ اس میں بارش کے پانی، زیرِ زمین پانی، زیرِ زمین ذخیرہ شدہ پانی اور مٹی کی نمی کے تحفظ کو واٹرشیڈ ٹریٹمنٹ اور روایتی آبی ڈھانچوں کی بحالی کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے۔

اس حکمتِ عملی کی ایک اہم خصوصیت گرام سبھا کی سطح پر آبی بجٹ سازی کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے۔ اس کے تحت کمیونٹیز منظم طریقے سے پانی کی دستیابی کا اندازہ لگاتی ہیں اور اسے مختلف ضروریات جیسے پینے کا پانی، آبپاشی، مویشیوں اور دیگر روزگار سے متعلق استعمالات کے درمیان تقسیم کرتی ہیں۔

اہم نتائج:

  • زیرِ زمین پانی کی سطح میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا۔
  • مٹی کی زرخیزی میں بہتری آئی اور کٹاؤ میں کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
  • 4.1 ملین افراد اور 4.5 ملین مویشیوں کے لیے پانی تک رسائی میں بہتری آئی۔

یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح کمیونٹی کی قیادت میں آبی بجٹ سازی اور آبی تحفظ کے اقدامات خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں آبی تحفظ کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

 

 

اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے آبی بجٹ سازی کو آسان بنانا: ورونی ویب ایپلی کیشن

 

ورونی ویب ایپلی کیشن ایک سائنسی طور پر مضبوط مگر صارف دوست طریقہ کار استعمال کرتی ہے تاکہ بلاک سطح پر آبی بجٹ تیار کیے جا سکیں۔ یہ خودکار طور پر سرکاری معتبر پورٹلز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا کرتی ہے، جس میں بارش، زمین کا استعمال، فصلوں کے پیٹرن، آبادی اور آبی وسائل شامل ہیں۔ اس کے بعد اس ڈیٹا کو ایک اندرونی کمپیوٹیشنل فریم ورک کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے تاکہ منظم آبی بجٹ کے تجزیے تیار کیے جا سکیں۔

ورونی ویب ایپلی کیشن ( https://wasca.in/index) کو ہند-جرمن دوطرفہ منصوبے “واٹر سیکیورٹی اینڈ کلائمیٹ ایڈاپٹیشن ان رورل انڈیا (ڈبلیو اے ایس سی اے)” کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ وزارتِ جل شکتی اور وزارتِ دیہی ترقی کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے، جبکہ اس میں نیتی آیوگ (نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ٹرانسفارمنگ انڈیا) تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

image0050R8U.jpg

ورونی ویب ایپلی کیشن ایک سائیکل پر مبنی نقطہ نظر کا استعمال کرتی ہے۔ یہ منظم انداز میں پانی کی دستیابی (سپلائی) کا پانی کی ماگ(ڈیمانڈ) سے موازنہ کرتی ہے تاکہ ایک جامع آبی بجٹ تیار کیا جا سکے۔ یہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ کسی مخصوص بلاک میں پانی کی کمی (خسارہ) ہے یا فراوانی (سرپلس)ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مقامی جغرافیہ اور آبی وسائل کی صورتحال کے حوالے سے سیاق و سباق پر مبنی معلومات بھی فراہم کرتی ہے۔

 

تمام حسابات ایک خودکار نظام کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں، جس سے دستی مداخلت کم ہوتی ہے اور غلطیوں کے امکانات میں کمی آتی ہے۔ اس سے مقامی حکام کو آبی صورتحال کا درست اندازہ لگانے اور مخصوص حالات کے مطابق اقدامات کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان اقدامات میں آبی تحفظ، زیرِ زمین پانی کی تجدید، اور مؤثر آبپاشی کے طریقوں کو اپنانا شامل ہے۔

جلیکت شیور ابھیان (جے ایس اے)

جلیکت شیور ابھیان (جی ایس اے) جو 2014 میں شروع کیا گیا، حکومتِ مہاراشٹر کا ایک فلیگ شپ پروگرام ہے۔ اسے دیہی علاقوں میں پانی کی کمی کے پائیدار اور طویل مدتی حل فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں جیو ٹیگنگ اور مہاراشٹر ریموٹ سینسنگ ایپلی کیشن سینٹر (ایم آر ایس اے سی) کے ذریعے تیار کردہ ایک موبائل ایپلی کیشن شامل ہے، جو اقدامات کی ریئل ٹائم، ویب بیسڈ نگرانی کو ممکن بناتی ہے۔ یہ پروگرام ایک مربوط منصوبہ بندی کے طریقہ کار کو اپناتا ہے، جس میں آبی تحفظ، زیرِ زمین پانی کی تجدید، اور گاؤں کی سطح پر آبی بجٹ سازی پر توجہ دی جاتی ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں 11,000 سے زائدگاوں کو خشک سالی سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، زیرِ زمین پانی کی سطح میں تقریباً 1.5 سے 2 میٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے اور زرعی پیداوار میں اندازاً 30 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 

 

باخبر انتخاب اور مقامی اقدامات کے ذریعے آبی تحفظ کو مضبوط بنانا

 

پانی، ایک محدود وسیلہ ہونے کے ناطے، بہتر انتظام، مؤثریت اور حکمرانی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، زرعی طلب اور موسمیاتی تغیرات کے دباؤ کے باعث یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ منتشر طریقۂ کار سے ہٹ کر مربوط اور ڈیٹا پر مبنی آبی انتظام کی طرف منتقل ہوا جائے۔ اس تناظر میں آبی بجٹ سازی ایک انقلابی ذریعہ کے طور پر سامنے آتی ہے۔

مقامی آبی دستیابی کے ساتھ زرعی طریقوں کو ہم آہنگ کرکے بھارت شواہد پر مبنی اور شراکتی آبی وسائل کے انتظام کی طرف پیش رفت کر رہا ہے۔ اس عمل کو کمیونٹی کی قیادت والے اداروں کو مضبوط بنانے اور ورونی جیسے ڈیجیٹل آلات کے استعمال سے تقویت ملتی ہے۔ ہِوَرے بازار جیسے کامیاب ماڈلز سے لے کر اٹل بھوجل یوجنا اور نیشنل واٹر مشن جیسے بڑے پروگراموں تک، یہ تمام اقدامات مضبوط نتائج ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پالیسی، ٹیکنالوجی اور اجتماعی عمل کے امتزاج سے پانی کے دباؤ والے علاقوں میں لچک کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ آبی بجٹ سازی کو ہر سطح کی منصوبہ بندی کے عمل میں ادارہ جاتی طور پر شامل کرنا طویل مدتی آبی تحفظ، زرعی پائیداری اور جامع اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہوگا۔

حوالہ جات

 

NITI Aayog

Ministry of Jal Shakti

Ministry of Finance

United Nations

پی ڈی ایف کے لئے یہاں کلک کریں۔

Click here to see pdf

*****

(ش ح-ش آ-خ م)

U-7612

 

(Explainer ID: 158703) आगंतुक पटल : 8
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Kannada