Farmer's Welfare
سپر فوڈ سویٹنر
ہندوستان میں گڑ کی پیداوار اور پروسیسنگ
Posted On:
16 MAY 2026 10:40AM
گڑ کی عالمی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہے، جو قدرتی مٹھاس کے شعبے میں اسے عالمی رہنما کے طور پر مضبوطی سے قائم کرتا ہے۔ ملک کی گنے کی پیداوار کا تقریباً 20 تا 30 فیصد حصہ گڑ کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے تقریباً 25 لاکھ دیہی افراد کے روزگار کو سہارا ملتا ہے۔ اس شعبے میں برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2015-16 اور 2024-25 کے درمیان گڑ کی برآمدات کی مالیت میں 106.5 فیصد اضافہ ہوا، جو بین الاقوامی مانگ میں اضافے کی واضح علامت ہے۔ آئرن، معدنیات اور ضروری مائیکرو نیوٹرینٹس سے بھرپور گڑ، بہتر چینی کے مقابلے میں ایک صحت بخش متبادل سمجھا جاتا ہے۔ اس ترقی کو مزید تقویت دینے کے لیے پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا، پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم، اور ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ جیسے حکومتی اقدامات، نیز جی آئی ٹیگنگ، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے، دیہی کاروبار کو مضبوط بنانے اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہندوستان میں گڑ کا شعبہ: پیداوار، اہمیت اور روزی روٹی
گڑ، جسے عام طور پر ’’گُڑ‘‘ کہا جاتا ہے، ایک روایتی، غیر صاف شدہ اور قدرتی مٹھاس ہے۔ یہ گنے کے رس کو بغیر کیمیائی عمل کے گاڑھا کرکے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے اکثر ’’ادویاتی(شفائی) شکر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اور غذائیت کے اعتبار سے اس کا موازنہ شہد سے کیا جاتا ہے۔ گڑ ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور کیریبین کے مختلف ممالک میں مختلف مقامی ناموں سے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ اس کی قدرتی تیاری، روایتی پروسیسنگ کے طریقے، اور کیمیائی اجزا سے پاک مٹھاس کے لیے صارفین کی بڑھتی ہوئی ترجیح ہے۔

گڑ کی عالمی پیداوار میں ہندوستان کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس طرح ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا گڑ پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ ملک کی گنے کی پیداوار کا تقریباً 20 تا 30 فیصد حصہ گڑ کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ دیہی ہندوستان کی زرعی پروسیسنگ صنعتوں میں سے ایک بڑی صنعت ہے۔ اس شعبے کی نمایاں خصوصیات میں وکندریقرت پروسیسنگ، کم نقل و حملی اخراجات، چھوٹے پیمانے کے کاروبار اور گھریلو (دیہی )صنعتیں شامل ہیں۔ یہ شعبہ تقریباً 25 لاکھ افراد کے معاش کا سہارا بنتا ہے۔
میٹھی ترقی: ہندوستان کی گڑ کی معیشت میں توسیع
ہندوستان کے گڑ کے شعبے کو گنے کی وافر پیداوار سے مضبوط حمایت حاصل ہے۔ 2024-25 میں گنے کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ 444.9 ملین ٹن (ایم ٹی) لگایا گیا۔ اتر پردیش نے کل پیداوار میں 48.5 فیصد حصہ ڈالا، جب کہ مہاراشٹر (24.1 فیصد) اور کرناٹک (10.5 فیصد) بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ دیگر اہم پیداوار کرنے والی ریاستوں میں گجرات، تمل ناڈو، بہار، اتراکھنڈ، پنجاب، مدھیہ پردیش اور ہریانہ شامل ہیں۔ [1]

ہندوستان گڑ اور کنفیکشنری مصنوعات (بشمول روایتی ہندوستانی مٹھائیاں اور کینڈی) کے نمایاں برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ 2015-16 میں ان برآمدات کا حجم 292.8 میٹرک ٹن تھا، جن کی مالیت 197 ملین امریکی ڈالر رہی۔ 2024-25 تک برآمدات بڑھ کر 471.9 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جبکہ ان کی مالیت 406.8 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح اس عرصے کے دوران قدر میں تقریباً 106.5 فیصد اور حجم میں 61.2 فیصد اضافہ ہوا۔ 2024-25 میں اہم برآمدی منڈیوں میں انڈونیشیا، امریکہ، متحدہ عرب امارات، نائیجیریا اور نیپال شامل تھے۔ [3]
اگر سال بہ سال نمو کا جائزہ لیا جائے تو اپریل تا جنوری (2025-26) کے دوران برآمدات 450.1 ایم ٹی تک پہنچ گئیں، جن کی مالیت 384.4 میٹرک امریکی ڈالر رہی۔ یہ 2024-25 کی اسی مدت کے مقابلے میں حجم میں تقریباً 16.5 فیصد اور قدر میں 15.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جب برآمدات 386.2 ایم ٹی تھیں اور ان کی مالیت 331.4 میٹرک امریکی ڈالر تھی۔
قدرتی مٹھائیوں کی گھریلو مانگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میٹھے اشیا کے شعبے میں گڑ اور شہد نے 2021 تا 2024 کے دوران 15 تا 20 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو (سی اے جی آر) درج کی۔ اگست 2024 تک گھریلو منڈیوں میں گڑ کی فروخت سالانہ تقریباً 5000 میٹرک ٹن تک پہنچ گئی تھی۔ یہ صورتِ حال روایتی اور قدرتی مٹھاس رکھنے والی مصنوعات کے لیے صارفین کی بڑھتی ہوئی ترجیح کی عکاسی کرتی ہے۔
ہندوستان کی گڑ کی روایت کی قدیم جڑیں
گڑ کو وسیع پیمانے پر ہندوستان کی مقامی اور روایتی پیداوار تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ گنے کی کاشت اور اس کی پروسیسنگ سے گہرا تعلق رکھتی ہے، جس کی جڑیں ویدک دور تک پہنچتی ہیں۔ گنے کی کاشت کے ابتدائی حوالہ جات تقریباً 1400 تا 1000 قبل مسیح کے ہندوستانی متون میں ملتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گنے کی ابتدائی باریک اقسام شمال مشرقی ہندوستان کے مرطوب علاقوں میں تیار ہوئیں۔ وقت کے ساتھ گنے کی کاشت اشنکٹبندیی اور ذیلی اشنکٹبندیی خطوں تک پھیل گئی، اور یوں یہ ایک اہم عالمی فصل بن گئی۔
لفظ ’’شوگر‘‘ سنسکرت کے لفظ ’’شرکرا‘‘ سے ماخوذ ہے، جو برصغیر میں مٹھاس کی پیداوار کی گہری ثقافتی روایت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق 647 عیسوی میں ایک چینی وفد نے گنے کی پروسیسنگ کی تکنیک سیکھنے کے لیے مگدھ کا سفر کیا تھا۔ یہ امر مٹھاس کی تیاری کے سلسلے میں ہندوستانی علم کے ابتدائی عالمی پھیلاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ کاشت، پروسیسنگ اور فنی مہارت کی منتقلی کی اس طویل روایت نے گڑ کی پیداوار میں ہندوستان کی پائیدار اہمیت کی بنیاد مضبوط کی۔
غذائیت اور صحتِ عامہ کے لیے گڑ
بعض ماہرین کے مطابق گڑ کو صحت بخش قدرتی مٹھاس (سپر فوڈ )کے طور پر بڑھتی ہوئی توجہ حاصل ہو رہی ہے، جو بہتر چینی کا قدرتی اور غذائیت سے بھرپور متبادل ہے۔ گڑ گنے کے مرتکز رس سے بغیر کسی کیمیائی ریفائننگ کے تیار کیا جاتا ہے، اسی لیے اس میں وہ ضروری معدنیات اور مائیکرو نیوٹرینٹس محفوظ رہتے ہیں جو عام طور پر چینی صاف کرنے کے عمل کے دوران ختم ہو جاتے ہیں۔
ہندوستان میں گنے کو مختلف طریقوں سے گڑ، کھنڈسری اور چینی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ان تینوں میں گڑ سب سے کم پراسیس شدہ اور غذائیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔ گڑ روایتی کھانوں، مٹھائیوں اور مائع شکل میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ صحت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شعور اور قدرتی مٹھاس کی جانب صارفین کے رجحان کے باعث اس کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

روایتی استعمال کے علاوہ، گڑ کو اب بیکری اور کنفیکشنری جیسی پراسیس شدہ غذائی مصنوعات میں ایک صحت بخش قدرتی مٹھاس کے طور پر بھی تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس شعبے کی مسلسل توسیع کے ساتھ گڑ کی مختلف اقسام، جیسے گنے کا گڑ، پالمیرا گڑ اور خام گڑ(غیر صاف شدہ گڑ)، بتدریج مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہی ہیں۔ یہ تبدیلی قدرتی اور کم سے کم پراسیس شدہ غذاؤں کے لیے صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔
گڑ کی غذائی اہمیت
گڑ گنے کے رس میں موجود بیشتر غذائی اجزا کو برقرار رکھتا ہے، جس کے باعث یہ غذائیت سے بھرپور قدرتی مٹھاس میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم، فاسفورس، سوڈیم، آئرن، زنک، تانبا اور مینگنیز جیسے معدنیات موجود رہتے ہیں، جو سفید چینی کی شدید ریفائننگ کے دوران ختم ہو جاتے ہیں۔ معیاری گڑ میں عموماً 70 فیصد سے زیادہ قدرتی شکر، معمولی مقدار میں گلوکوز اور فرکٹوز، اور تقریباً 5 فیصد معدنیات پائے جاتے ہیں، جبکہ اس میں نمی کی مقدار کم ہوتی ہے۔
گڑ میں آئرن کی مقدار (تقریباً 10 تا 13 ملی گرام فی 100 گرام) ہیموگلوبن کی سطح بہتر بنانے میں مددگار سمجھی جاتی ہے، جبکہ پوٹاشیم اور میگنیشیم دل اور پٹھوں کی کارکردگی کی حمایت کرتے ہیں۔
گڑ میں فولک ایسڈ اور بی کمپلیکس وٹامنز کے ساتھ ساتھ وٹامن اے، سی، ڈی اور ای کی معمولی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ مائیکرو نیوٹرینٹس گڑ کو توانائی بخش غذا بناتے ہیں، جو غذائی اجزا کی کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں معدنی نمکیات کی مقدار بہتر چینی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث یہ غذائی سپلیمنٹ کے طور پر ایک موزوں متبادل سمجھا جاتا ہے، خصوصاً اُن آبادیوں میں جہاں غذائی قلت پائی جاتی ہو۔

گڑ کو غذائی اقدامات میں شامل کرنا
تمل ناڈو میں بچوں کی غذائی کمی دور کرنے اور اسکولوں میں حاضری بڑھانے کے لیے گڑ کو مختلف غذائی مداخلتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ریاست اپنے غذائیت سے بھرپور خوراک پروگرام اور انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز (آئی سی ڈی ایس) فریم ورک کے تحت تکمیلی دودھ چھڑانے والی غذائیں فراہم کرتی ہے۔ یہ غذائیں ہر سال 300 دنوں تک اہل مستفیدین کو ’’ٹیک ہوم راشن‘‘ کے طور پر تقسیم کی جاتی ہیں۔
گڑ اس تکمیلی غذائی مرکب کا تقریباً 27 فیصد حصہ بنتا ہے، جس سے اس کی توانائی بخش خصوصیات اور مائیکرو نیوٹرینٹس کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس اضافی غذا کو ’’ساتوماؤ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ خوراک خواتین کے زیر انتظام 25 دودھ چھڑانے والی غذائی مینوفیکچرنگ کوآپریٹو سوسائٹیوں اور دو نجی مینوفیکچررز سے 65:35 کے تناسب سے حاصل کی جاتی ہے۔
ان کوآپریٹو اداروں میں مجموعی طور پر تقریباً 1,450 اراکین شامل ہیں، جن میں قابلِ ذکر تعداد بیوہ، بے سہارا یا معاشی طور پر کمزور خواتین کی ہے۔ اس طرح گڑ غذائی امداد کو روزگار کے مواقع سے بھی جوڑتا ہے۔ نیتی آیوگ کے مطابق یہ پروگرام پورے تمل ناڈو میں تقریباً 32.75 لاکھ مستفیدین کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرتا ہے۔ غذائی قلت میں کمی کے ساتھ ساتھ یہ پروگرام گڑ جیسے روایتی اور غذائیت سے بھرپور اجزا کے استعمال کو بھی فروغ دیتا ہے۔
گڑ کے صحت بخش فوائد
گڑ دیرپا توانائی فراہم کرتا ہے کیونکہ اس میں موجود پیچیدہ شکر آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ خون میں گلوکوز کی سطح میں اچانک اضافے کے بجائے بتدریج توانائی فراہم کرتا ہے۔ روایتی لوہے کی کڑاہیوں میں تیاری کے دوران اس میں آئرن جذب ہو جاتا ہے، جس کے باعث یہ خون کی کمی دور کرنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود معدنی نمکیات اور مائیکرو نیوٹرینٹس مجموعی صحت کی حمایت کرتے ہیں اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

آیوروید جیسے روایتی طریقۂ علاج میں گڑ کو طویل عرصے سے دواؤں میں بطور قدرتی مٹھاس استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آیورویدک معالجات کے مطابق یہ گلے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مفید سمجھا جاتا ہے اور ہاضمے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کی صفائی بخش خصوصیات سانس کی نالی اور نظامِ ہضم کو صاف رکھنے میں معاون مانی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دھول اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے دوچار افراد کے لیے خاص طور پر فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ اس کا حرارت پیدا کرنے والا اثر کھانسی، نزلہ، بندش اور سانس کی تکالیف میں راحت پہنچانے سے بھی منسوب کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، گڑ کو ایک قدرتی جراثیم کش عنصر بھی تصور کیا جاتا ہے،جسے روایتی طب میں اسے جسمانی یا خون کی صفائی میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ گڑ تھکاوٹ کم کرتا ہے، پٹھوں اور اعصاب کو سکون پہنچاتا ہے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس میں موجود کیلشیم، فاسفورس اور زنک جیسے ضروری معدنیات ہڈیوں کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ اس کی بیان کردہ اینٹی ٹاکسک اور ممکنہ اینٹی کارسنجینک(کینسر سے بچاؤ کی ممکنہ خصوصیات) خصوصیات مجموعی جسمانی صحت اور تندرستی میں معاون مانی جاتی ہیں۔
گنے سے روزی روٹی تک: دیہی ترقی میں گڑ کا کردار
ہندوستان میں گڑ کی پیداوار غیر منظم زرعی پروسیسنگ شعبے کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ دیہی روزگار اور مقامی معیشت کی مضبوطی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا کے بڑے پیدا کنندگان اور برآمد کنندگان میں شامل ہونے کے باعث یہ شعبہ کسانوں کی آمدنی کو سہارا دیتا ہے اور گھریلو استعمال کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی کی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔
صارفین کی ترجیحات میں تبدیلی اور عالمی طلب میں اضافے کے پیشِ نظر گنے کی ویلیو چین میں تنوع پیدا کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اس کا مقصد زرعی آمدنی میں اضافہ اور ماحولیاتی و اقتصادی اعتبار سے پائیدار پیداواری نظام کو فروغ دینا ہے۔ گڑ کی تیاری کے ذریعے ویلیو ایڈیشن کسانوں اور مل مالکان کو خام گنا فروخت کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع فراہم کرتا ہے۔ عملی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ گڑ کی پیداوار کو فصلوں کے تنوع اور بین الفصلی کاشت جیسے طریقوں کے ساتھ جوڑنے سے فی یونٹ رقبہ خالص منافع میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
گڑ کی پروسیسنگ دیہی صنعت کاری کو فروغ دینے، مقامی روزگار پیدا کرنے اور علاقائی معیشتوں کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس صنعت کے ذریعے سال بھر روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور مہاجر مزدوروں کو بھی کام کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کے گڑ کی پیداوار کسانوں کو پریمیم منڈیوں تک رسائی فراہم کرتی ہے، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح گڑ پر مبنی گھریلو (دیہی )صنعت کو مضبوط بنانا ویلیو ایڈیشن، روزگار میں اضافے اور جامع زرعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک منافع بخش ویلیو ایڈیشن انٹرپرائز کے طور پر نامیاتی گڑ پاؤڈر
تمل ناڈو کے ترونیل ویلی ضلع کے ایک کسان انتھونی سوامی نے ویلیو ایڈڈ انٹرپرائز کے طور پر گڑ کی پیداوار کے قابلِ عمل ہونے کا کامیاب مظاہرہ کیا ہے۔ وہ نامیاتی گڑ پاؤڈر تیار کرتے ہیں، جو اپنی خالصیت اور عمدہ ذائقے کے لیے معروف ہے۔ ان کی مصنوعات نے مقامی منڈیوں، پڑوسی ریاستوں اور حتیٰ کہ برآمدی منڈیوں میں بھی مضبوط طلب حاصل کی ہے۔ نامیاتی کاشت کاری کے طریقے اختیار کرتے ہوئے اور گنے کی مقامی اقسام کی پروسیسنگ کے ذریعے انہوں نے ایک روایتی سرگرمی کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔
ویلیو ایڈڈ طریقۂ کار سے منافع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کسان کے مطابق نامیاتی گڑ پاؤڈر تقریباً 75 روپے فی کلو فروخت ہوتا ہے، جبکہ روایتی گڑ کی قیمت تقریباً 50 روپے فی کلو ہے۔ دونوں کی پیداواری لاگت تقریباً 30 روپے فی کلو رہتی ہے۔
اگرچہ پیداوار موسمی ہوتی ہے، لیکن گڑ کی مارکیٹ میں مانگ سال بھر برقرار رہتی ہے، جس سے آمدنی کے مستحکم مواقع میسر آتے ہیں۔ اس کامیابی کی بنیاد پر گڑ سے تیار کردہ ذائقہ دار چاکلیٹ اور ناریل جیسی متنوع مصنوعات بھی متعارف کرائی جا رہی ہیں، جو مارکیٹ تک رسائی کو مزید وسعت دے رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کی حمایت کے ساتھ یہ انٹرپرائز اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ کس طرح چھوٹے پیمانے کی پروسیسنگ آمدنی میں اضافہ، دیہی صنعت کاری کے فروغ اور زرعی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
گڑ کی قدرکی زنجیر (ویلیو چین )کو مضبوط بنانا: ہندوستان کے گڑ کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے والی پالیسی اقدامات
خوراک کی پروسیسنگ کی صنعتوں کی وزارت (ایم او ایف پی آئی) مختلف مرکزی شعبہ جاتی اسکیموں کے ذریعے فوڈ پروسیسنگ سیکٹر میں بنیادی ڈھانچے اور کاروباری ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔ ان میں پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی)، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی ایس ایف پی آئی)، اور پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز (پی ایم ایف ایم ای) اسکیم شامل ہیں۔
یہ مانگ پر مبنی اقدامات ملک بھر میں نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے فوڈ پروسیسنگ یونٹس کے قیام اور توسیع کو فروغ دینا ہے۔ مستفید ہونے والی اکائیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے ضوابط پر عمل کریں۔ برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے انہیں بین الاقوامی غذائی تحفظ کے معیارات سے ہم آہنگ ہونے کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔
پی ایم کے ایس وائی کے ایک جزو ’’فوڈ پروسیسنگ اور تحفظ کی صلاحیتوں کی تخلیق/توسیع‘‘ (سی ای ایف پی پی سی) کے تحت 31 دسمبر 2025 تک پانچ گڑ پروسیسنگ یونٹس کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کے لیے مجموعی طور پر 17.07 کروڑ روپے کی گرانٹ اِن ایڈ فراہم کی گئی۔ اسی طرح پی ایم ایف ایم ای اسکیم کے تحت گڑ پر مبنی مائیکرو فوڈ پروسیسنگ یونٹس کو 102.31 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ یہ اسکیم اجتماعی اداروں کو برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے لیے 50 فیصد تک مالی معاونت بھی دیتی ہے۔ ان اداروں میں فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز)، سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز)، کوآپریٹیوز اور مائیکرو انٹرپرائزز کی خصوصی مقاصد کی کمپنیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
’’ون ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ‘‘ (او ڈی او پی) پروگرام مقامی زرعی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے خام مال کی خریداری، مشترکہ خدمات اور مارکیٹ تک رسائی میں پیمانے کی معیشت کو ممکن بناتا ہے۔ 19 اضلاع میں گڑ اور اس سے متعلقہ مصنوعات کو او ڈی او پی اشیا کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، جس سے ویلیو چین کی ترقی اور معاون بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔
معیار کی یقین دہانی اور معیاری کاری کو ڈائریکٹوریٹ آف مارکیٹنگ اینڈ انسپیکشن (ڈی ایم آئی) کے ذریعے تقویت دی جاتی ہے۔ جو زرعی مصنوعات مقررہ معیارات پر پورا اترتی ہیں، انہیں اے جی ایم اے آرک نظام کے تحت تصدیق دی جاتی ہے۔ یہ معیارات مختلف معیار کے درجات کی وضاحت کرتے ہیں اور صارفین کو قابلِ اعتماد مصنوعات تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ کسانوں کو بہتر معیار کے خام مال کے عوض منافع بخش قیمتیں دلانے میں مدد دیتے ہیں۔ گڑ بھی اُن نوٹیفائیڈ اجناس میں شامل ہے جنہیں اے جی ایم اے آرک سرٹیفیکیشن کے تحت لایا گیا ہے، جس سے معیار کی یقین دہانی، مارکیٹ میں اعتماد اور برآمدی تیاری کو مزید مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔

جغرافیائی اشارہ (جی آئی) ٹیگ شدہ بھارت میں گڑ کی اقسام
جغرافیائی اشارہ (جی آئی) ایک ایسا نام یا نشان ہے جو اُن مصنوعات کو دیا جاتا ہے جو کسی مخصوص جغرافیائی مقام یا خطے سے تعلق رکھتی ہوں۔ یہ مقام کوئی علاقہ، شہر یا ملک ہو سکتا ہے۔ گڑ کے شعبے میں جی آئی شناخت علاقائی برانڈنگ کو مضبوط بناتی ہے، روایتی پروسیسنگ طریقوں کو فروغ دیتی ہے، اور دیہی پروڈیوسروں کے لیے بازار تک رسائی کو بہتر بناتی ہے۔
ہندوستان میں گڑ کی کئی اقسام کو جی آئی ٹیگ حاصل ہے، جن میں سے ہر ایک اپنی منفرد علاقائی خصوصیات اور روایتی تیاری کے طریقوں کے لیے مشہور ہے۔ کولہاپور گڑ (مہاراشٹر) اپنے سنہری رنگ اور زیادہ شکر کی مقدار کے باعث خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مظفر نگر گڑ (اتر پردیش) برآمدی معیار کے لیے معروف ہے اور اعلیٰ درجے کے گنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کیرالہ میں مریور گڑ اور وسطی ٹراوانکور گڑ اپنی خالصیت، ادویاتی اہمیت، روایتی پروسیسنگ اور علاقائی شناخت کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔

ایک مضبوط اور قدر پر مبنی گڑ کے شعبے کی طرف
گڑ کی پیداوار اور پروسیسنگ ہندوستان کی زرعی پروسیسنگ معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ زراعت، غذائیت، دیہی روزگار اور برآمدی امکانات کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے گڑ پیدا کرنے والے ملک کے طور پر ہندوستان کو گنے کی مضبوط پیداوار، روایتی پروسیسنگ کے علم، اور قدرتی مٹھائیوں کی بڑھتی ہوئی مقامی و عالمی مانگ سے نمایاں فائدہ حاصل ہے۔ یہ شعبہ وکندریقرت(غیر مرکزی ) گھریلو(دیہی ) صنعتوں کے ذریعے لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے اور ویلیو ایڈیشن، دیہی صنعت کاری اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔
معاشی اہمیت کے علاوہ، گڑ اپنے معدنی اجزا اور روایتی شفائی خصوصیات کی وجہ سے بہتر چینی کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش متبادل سمجھا جاتا ہے۔ یہ مائیکرو نیوٹرینٹس کی کمی دور کرنے کے لیے ایک مفید غذائی ضمیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ فوڈ پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے، مائیکرو انٹرپرائزز، معیار کی تصدیق، جی آئی ٹیگنگ، اور ویلیو چین کی ترقی کو فروغ دینے والے حکومتی اقدامات مارکیٹ تک رسائی اور مصنوعات کی ساکھ کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ مسلسل پالیسی معاونت، بہتر پروسیسنگ طریقوں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تنوع کے ذریعے گڑ کا شعبہ جامع اور پائیدار دیہی ترقی کو آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ تجارت و صنعت
https://apeda.gov.in/JaggeryAndConfectionery
https://apeda.gov.in/Food_Agri_Products_Registered_GI
https://agriexchange.apeda.gov.in/production/India/index
https://agriexchange.apeda.gov.in/India/ExportSummary/Index
https://agriexchange.apeda.gov.in/India/ExportAnalyticalReport/Index
https://agriexchange.apeda.gov.in/India/ComparativeStatement/Index
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2113966®=3&lang=2
https://apeda.gov.in/sites/default/files/study_reports/Report_Indian_Organic_Market_and_Export_Promotion_Strategy.pdf
وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود
https://www.agriwelfare.gov.in/Documents/AR_Eng_2024_25.pdf
وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز
https://niftem-t.ac.in/pmfme/DPR-Jaggery.pdf
https://www.mofpi.gov.in/mediapr/enewsfeb4.html
https://niftem.ac.in/newsite/pmfme/wp-content/uploads/2022/08/jaggeryprocessing.pdf
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU116_pneN8S.pdf?source=pqals
نیتی آیوگ
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2024-07/Report-on-Promoting-Best-practices-on-Millet-26_4_23.pdf
حکومتِ تمل ناڈو
https://cuddalore.nic.in/geographical-indications/
https://agritech.tnau.ac.in/success_stories/sstories_farm_enter_2015_organic_jaggery.html
سپر فوڈ سویٹنر
***
(ش ح۔اس ک )
UR-7145
(Explainer ID: 158636)
आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments