• Sitemap
  • Advance Search
Farmer's Welfare

پائیدار زراعت کے لیے قومی مشن

ہندوستان میں موسمیاتی لچکدار زراعت کی تشکیل

Posted On: 09 MAY 2026 11:22AM

کلیدی نکات

  • سال 2014-15 سے بارش پر منحصر علاقوں کی ترقی کے تحت 2,119.84 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جس کے تحت 8.50 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا اور انٹیگریٹڈ فارمنگ سسٹم کے ذریعے 14.35 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
  • 2015-16 سے نافذ پی ڈی ایم سی اسکیم کے تحت تقریباً 109 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا گیا ہے، جس کے لیے 26,325 کروڑ روپے مرکزی امداد کے طور پر جاری کیے گئے ہیں۔
  • سوائل ہیلتھ مینجمنٹ کے تحت 2025-26 میں 97.53 لاکھ مٹی کے نمونے جمع کیے گئے اور 92.87 لاکھ نمونوں کی جانچ کی گئی، جبکہ متوازن غذائیت کے انتظام کی رہنمائی کے لیے 2015 سے اب تک 25.79 کروڑ سوائل ہیلتھ کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں۔
  • 2014 سے 2025 کے درمیان قومی زرعی تحقیقی نظام کے تحت موسمیاتی لچکدار فصلوں کی 2,996 اقسام جاری کی گئیں۔

تعارف

ہندوستان میں بارش پر مبنی زراعت، جو خالص بوئے گئے رقبے کا تقریباً 60 فیصد ہے، ملک کی زرعی معیشت کا سنگِ بنیاد ہے اور خوراک کی مجموعی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد کا حصہ ڈالتی ہے۔ اس کے اہم کردار کے پیشِ نظر، قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے ساتھ ساتھ لچکدار بارش پر مبنی کاشتکاری کے نظام کی منظم ترقی، غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس تناظر میں حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قومی ایکشن پلان کے فریم ورک کے تحت 2014-15 میں پائیدار زراعت کے لیے قومی مشن (این ایم ایس اے) کا آغاز کیا۔ اس مشن کو زراعت پر موسمیاتی تغیرات کے منفی اثرات کو کم کرنے اور طویل مدتی غذائی و معاشی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔

بعد ازاں 2018-19 سے این ایم ایس اے کو ’’ سبز انقلاب-کرشونّتی یوجنا ‘‘ کی امبریلا اسکیم کے تحت ایک ذیلی مشن کے طور پر نافذ کیا گیا۔ مزید برآں، 2022-23 سے ادارہ جاتی تنظیمِ نو کے نتیجے میں اسے پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم آر کے وی وائی) کی چھتری کے تحت شامل کر دیا گیا، جو پائیدار اور موسمیاتی لچکدار زرعی ترقی کے لیے ایک مربوط نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

این ایم ایس اے کے تحت آب و ہوا کے موافق زراعت کے لیے مربوط پالیسی مداخلت

نیشنل مشن فار سسٹین ایبل ایگریکلچر (این ایم ایس اے) ہدف شدہ اور مربوط مداخلتوں کے ذریعے موسمیاتی لچکدار کاشتکاری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ پانی کے استعمال کی کارکردگی میں اضافہ، مٹی کی صحت میں بہتری اور  موسمیاتی لچکدار زراعت کو فروغ دے کرپائیدار زرعی ترقی کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔

این ایم ایس اے کے تحت کلیدی اقدامات میں رینفیڈ ایریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی) جزو شامل ہے، جو متنوع اور خطرات سے نمٹنے والی زراعت کے لیے انٹیگریٹڈ فارمنگ سسٹم (آئی ایف ایس) کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی طرح ’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ (پی ڈی ایم سی) پہل پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے مائیکرو آبپاشی کو فروغ دیتی ہے۔ ان کوششوں کو سوائل ہیلتھ مینجمنٹ (ایس ایچ ایم) جزو کے تحت سوائل ہیلتھ کارڈ (ایس ایچ سی) اسکیم مزید تقویت فراہم کرتی ہے، جو متوازن غذائی اجزا کے استعمال کو فروغ دینے اور مٹی کی طویل مدتی زرخیزی برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔

رینفیڈ ایریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی): انٹیگریٹڈ فارمنگ سسٹم (آئی ایف ایس) کو مضبوط بنانا

رینفیڈ ایریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی) جزو 2014-15 سے این ایم ایس اے کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے تیار کردہ زرعی و موسمیاتی حالات سے ہم آہنگ انٹیگریٹڈ فارمنگ سسٹم (آئی ایف ایس) ماڈلز کے ذریعے پائیدار زرعی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔

یہ جزو کسانوں کی آمدنی اور موسمیاتی لچک میں اضافہ کرنے کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر اپناتا ہے، جس کے تحت باغبانی، مویشی پروری اور ماہی گیری جیسی متعلقہ سرگرمیوں کو کثیر فصلی، باری باری، بین الفصلی اور مخلوط کاشتکاری کے نظام کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے۔

مالی سال 2025-26 میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو آر اے ڈی کے نفاذ کے لیے 343.86 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن کے تحت 96,013 کسانوں کو تربیت فراہم کی گئی۔

نیشنل رینفیڈ ایریا اتھارٹی (این آر اے اے)

این آر اے اے ملک میں خشک زمین اور بارش پر مبنی زراعت کی منظم ترقی اور مؤثر انتظام کے لیے ایک ماہر ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ علم پر مبنی مداخلتوں اور مختلف ایجنسیوں کے ساتھ مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے بارش پر مبنی زراعت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

مائیکرو آبپاشی ٹیکنالوجیز کے ذریعے پانی کے استعمال کی کارکردگی میں بہتری

’’پر ڈراپ مور کراپ(فی قطرہ زیادہ فصل )‘‘ (پی ڈی ایم سی) پہل درست آبپاشی اور پانی کی بچت سے متعلق دیگر ٹیکنالوجیز کو فروغ دے کر پانی کے استعمال کی کارکردگی بڑھانے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ مائیکرو آبپاشی کے نظام کی توسیع کے لیے مستفیدین کو سبسڈی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

پی ڈی ایم سی بنیادی طور پر مائیکرو آبپاشی کی تکنیکوں، خصوصاً ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی کے ذریعے فارم کی سطح پر پانی کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ڈرپ آبپاشی میں لیٹرل پائپوں سے منسلک ایمیٹرز کے ذریعے پودوں کی جڑوں تک پانی کی ہدفی ترسیل شامل ہوتی ہے، جس سے پانی کے ضیاع میں کمی اور وسائل کے استعمال میں بہتری آتی ہے۔

اس کے برعکس، اسپرنکلر آبپاشی میں پائپوں اور نوزلز کے نیٹ ورک کے ذریعے دباؤ کے ساتھ پانی کی تقسیم کی جاتی ہے، جو بارش جیسا نظام پیدا کرتی ہے اور پورے کھیت میں یکساں آبپاشی کو یقینی بناتی ہے۔

2015-16 سے نافذ اس اسکیم کے تحت تقریباً 109 لاکھ ہیکٹر رقبے کا احاطہ کیا جا چکا ہے، جس کے لیے 26,325 کروڑ روپے مرکزی امداد کے طور پر جاری کیے گئے ہیں، اور اس کے نتیجے میں پانی کے استعمال کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں، حکومت نے 2025-26 سے 2029-30 تک پانچ سالہ مدت کے دوران 100 لاکھ ہیکٹر رقبے کو مائیکرو آبپاشی کے دائرے میں لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے ’’فی قطرہ زیادہ فصل‘‘ (پی ڈی ایم سی) اسکیم کے تحت ہر سال کم از کم 20 لاکھ ہیکٹر رقبے کو مائیکرو آبپاشی کے تحت لانا ضروری ہوگا۔

مٹی کی صحت کا انتظام (ایس ایچ ایم): مربوط غذائی انتظام کے ذریعے مٹی کی صحت اور پیداواری صلاحیت میں بہتری

مٹی کی صحت کا انتظام (ایس ایچ ایم) بقیہ فصلوں کے انتظام اور نامیاتی کاشتکاری سمیت مقام اور فصل سے متعلق پائیدار مٹی کے انتظام کے طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔ یہ منظم مٹی کی زرخیزی کی نقشہ سازی، میکرو اور مائیکرو غذائی اجزا کے متوازن استعمال، اور زمین کے مناسب استعمال کے طریقوں کی حمایت کرتا ہے۔

مزید برآں، ایس ایچ ایم کھادوں کے معقول استعمال اور مٹی کے کٹاؤ و زمین کے انحطاط کو کم کرنے کے اقدامات پر زور دیتا ہے، جس کے ذریعے مٹی کی طویل مدتی صحت اور پیداواری صلاحیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

سوائل ہیلتھ کارڈ (ایس ایچ سی) اسکیم: سائنسی معلومات کو کسانوں کی رہنمائی میں تبدیل کرنا

2015 میں شروع کی گئی سوائل ہیلتھ کارڈ (ایس ایچ سی) اسکیم نیشنل مشن فار سسٹین ایبل ایگریکلچر (این ایم ایس اے) کے تحت کسانوں کے لیے ایک اہم مشاورتی آلے کے طور پر کام کرتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران مٹی کے 97.53 لاکھ نمونے جمع کیے گئے، جن میں سے 92.87 لاکھ نمونوں کی جانچ کی گئی۔ مجموعی طور پر فروری 2026 تک 25.79 کروڑ سوائل ہیلتھ کارڈ تیار کیے جا چکے ہیں۔

یہ کارڈ فصل سے متعلق مخصوص غذائی اجزا کی سفارشات فراہم کرتے ہیں، جس سے کسان کھادوں کے استعمال کو معقول بنا سکتے ہیں اور مٹی کی صحت کو بہتر طریقے سے برقرار رکھ سکتے ہیں۔

2025 میں نیتی آیوگ کی جانب سے کیے گئے ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ اس اسکیم نے غذائی عدم توازن کو درست کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، خصوصاً یوریا کے ضرورت سے زیادہ استعمال میں کمی لا کر، اور زرعی پیداوار میں بہتری پیدا کی ہے۔ اس نے انٹیگریٹڈ نیوٹریئنٹ مینجمنٹ (آئی این ایم) کے وسیع تر مقاصد کی تکمیل میں بھی مدد فراہم کی ہے۔

خاص طور پر، سروے میں شامل 68.5 فیصد کسانوں نے تجویز کردہ طریقوں کو اپنانے کے بعد مٹی کی صحت میں نمایاں بہتری کی اطلاع دی، جبکہ 25.7 فیصد کسانوں نے معمولی بہتری کا مشاہدہ کیا۔

مٹی کی زرخیزی کے نقشوں کے ذریعے کسانوں کی فیصلہ سازی کو مضبوط بنانا

سوائل اینڈ لینڈ یوز سروے آف انڈیا (ایس ایل یو ایس آئی) کو گاؤں کی سطح پر مٹی کی زرخیزی کے نقشے تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، تاکہ ملک بھر میں پہلے سے تیار کردہ ضلعی سطح کے نقشوں کی بنیاد پر کیڈسٹرل سطح (کھیت یا اراضی کی سطح) پر غذائی اجزا کی کیفیت میں موجود مقامی تغیرات کی وضاحت کی جا سکے۔

اس پہل کے تحت 6,954 شناخت شدہ ماڈل دیہاتوں میں مٹی کی زرخیزی کی نقشہ سازی کی گئی ہے، تاکہ کسانوں کو متوازن کھاد کے استعمال کے لیے کھیت کی سطح پر مقام سے متعلق مخصوص غذائی معلومات فراہم کی جا سکیں۔

ان نقشوں کو عوامی طور پر دیہات میں آویزاں کیا جاتا ہے تاکہ عوامی بیداری میں اضافہ ہو اور غذائی اجزا کے انتظام سے متعلق باخبر فیصلے کو فروغ دیا جا سکے۔ اب تک 2,023 ماڈل دیہاتوں میں مٹی کی زرخیزی کی نقشہ سازی مکمل کی جا چکی ہے۔

آئی سی اے آر کے زیرِ قیادت تحقیقی نظام کے ذریعے زرعی لچک کو مضبوط بنانا

انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) نے موسمیاتی لچکدار زرعی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور ترویج کے لیے 2011 میں اپنے فلیگ شپ پروگرام ’’نیشنل انوویشنز آن کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر‘‘ (این آئی سی آر اے) کا آغاز کیا۔ این آئی سی آر اے نے موسمیاتی تبدیلی سے موافقت اور تخفیف کے اقدامات کے شعبے میں  کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی صلاحیت سازی کے ذریعے این ایم ایس اے میں نمایاں تعاون کیا ہے۔

یہ پہل قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں نوعیت کی تحقیق کی حمایت کرتی ہے، جس کا مقصد خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہروں سمیت شدید موسمی واقعات  کا مقابلہ کرنے کے لیے زرعی نظام کی موافقتی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

این آئی سی آر اے کے تحت بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (آئی پی سی سی) کے پروٹوکول کے مطابق 651 زرعی اضلاع میں خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 310 اضلاع کو انتہائی یا بہت زیادہ کمزور قرار دیا گیا۔ بعد ازاں ان اضلاع کے لیے ضلعی زرعی ہنگامی منصوبہ جات تیار کیے گئے، جن میں مقام سے متعلق موسمیاتی لچکدار فصلوں اور انتظامی طریقوں کو شامل کیا گیا۔

کسانوں کی لچک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 28 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے 151 کمزور اضلاع کے 448 دیہاتوں میں موسمیاتی لچکدار گاؤں قائم کیے گئے ہیں، جہاں وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے موزوں ٹیکنالوجیز کا عملی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

مزید برآں، آئی سی اے آر کی قیادت میں قومی زرعی تحقیقی نظام کے تحت 2014 سے 2025 کے دوران موسمیاتی لچکدار فصلوں کی 2,996 اقسام جاری کی گئیں۔ موسمیاتی خطرات کو کم کرنے اور زرعی پائیداری کو فروغ دینے کے لیے براہِ راست بوئے جانے والے چاول، زیرو ٹِل گندم، تناؤ برداشت کرنے والی فصلوں کو اپنانے، اور فصل کی باقیات کے مؤثر انتظام جیسے تکمیلی زرعی طریقوں کو بھی فروغ دیا گیا ہے۔

این ایم ایس اے مداخلتوں کے ذریعے خوراک، پانی اور آب و ہوا کے باہمی تعلق سے نمٹنا

این ایم ایس اے اقوامِ متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کی حمایت کرتا ہے، خصوصاً ایس ڈی جی 2 (صفر بھوک)، ایس ڈی جی 6 (صاف پانی اور صفائی) اور ایس ڈی جی 13 (موسمیاتی اقدام) کی۔

ایس ڈی جی 2 کے تحت این ایم ایس اے، رینفیڈ ایریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی) کے ذریعے پائیدار غذائی پیداوار کو فروغ دیتا ہے، جو انٹیگریٹڈ فارمنگ سسٹم (آئی ایف ایس) کی مدد سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم بنانے میں معاون ہے۔ مٹی کی صحت کا انتظام (ایس ایچ ایم) جزو متوازن غذائی اجزا کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور مٹی کی طویل مدتی زرخیزی کو برقرار رکھتا ہے، جس سے غذائی تحفظ کو تقویت ملتی ہے۔

ایس ڈی جی 6 کے مطابق ’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ (پی ڈی ایم سی) جزو مائیکرو آبپاشی، پانی کے درست استعمال اور مٹی میں نمی کے تحفظ کے ذریعے پانی کے استعمال کی کارکردگی (پانی کے مؤثر استعمال) کو بہتر بناتا ہے، اور زراعت میں پائیدار آبی انتظام کی حمایت کرتا ہے۔

ایس ڈی جی 13 کے حوالے سے نیشنل مشن فار سسٹین ایبل ایگریکلچر (این ایم ایس اے) موسمیاتی لچکدار فصلوں کے نظام، قدرتی وسائل کے تحفظ اور خطرات میں کمی کی حکمت عملیوں کو فروغ دیتا ہے، جس سے کسانوں کو خشک سالی، سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دیگر دباؤ کا مقابلہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ان کوششوں کے ذریعے این ایم ایس اے، ایس ڈی جی فریم ورک کے مطابق پائیدار زراعت، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی لچک کو فروغ دے رہا ہے۔

نتیجہ

پائیدار زراعت کے لیے قومی مشن (این ایم ایس اے) پانی کے استعمال کی کارکردگی(پانی کے مؤثر استعمال)، مٹی کی صحت کے انتظام اور موسمیاتی لچکدار کاشتکاری کے نظام کو مربوط کرکے پائیدار اور موسمیاتی لچکدار زرعی ترقی کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ رینفیڈ ایریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی)، ’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ (پی ڈی ایم سی) اور سوائل ہیلتھ مینجمنٹ (ایس ایچ ایم) جیسے ہدف شدہ اقدامات کے ذریعے یہ مشن پائیدار زرعی پیداوار اور قدرتی وسائل کےپائیدار اور مؤثر استعمال کو فروغ دیتا ہے۔

نیشنل انوویشنز آن کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر (این آئی سی آر اے) کے تحت فراہم کردہ علمی آدانوں (تکنیکی معلومات )اور موسمیاتی لچکدار زرعی ٹیکنالوجیز کی مدد سے  یہ کوششیں زرعی پیداوار میں بہتری، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور ان کی استعدادِ کارکو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

ایس ڈی جی 2، ایس ڈی جی 6 اور ایس ڈی جی 13 کے  اہداف کے مطابق این ایم ایس اے ہندوستان میں پائیدار زراعت کو فروغ دیتے ہوئے طویل مدتی غذائی اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

حوالہ جات

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت

وزارتِ خزانہ

اقوامِ متحدہ

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پی آئی بی ریسرچ

***

UR-6846

(ش ح۔اس ک  )

(Explainer ID: 158502) आगंतुक पटल : 5
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati