Industries
بھارت کا اسٹیل کا شعبہ خود انحصاری کی طرف پیش رفت کر رہا ہے
اسٹیل ویلیو چین میں ملکی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ
Posted On:
05 MAY 2026 3:51PM
|
بھارت کا اسٹیل کا شعبہ ایک اہم ’’ مستقل ترقی پذیر شعبہ‘‘ ہے جو مسلسل اور مستحکم ترقی کی طرف گامزن ہے۔ سال 2018 میں بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹیل پیدا کرنے والا ملک بن گیا اور آج تک اس مقام پر قائم ہے۔ اسی دوران گزشتہ 12 سال میں اسٹیل کی کھپت دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ مانگ میں اضافے کے ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں کمی آئی، جس سے ملک کی خود انحصاری مزید مضبوط ہوئی۔ اس ترقی کو سہارا دینے کے لیے حکومت نے خام مال کی دستیابی کو یقینی بنایا اور پیداواری لاگت کو کم کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی اسٹیل مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بھی بہتر بنائی گئی۔پی ایل آئی اسکیم کے تحت 23,022 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری نے اسپیشلٹی اسٹیل کی پیداوار اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں 24 لاکھ ٹن پیداوار ہوئی اور 13,000 سے زائد نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔بھارت نے قومی اسٹیل پالیسی کے پیداواری ہدف کا تقریباً 66 فیصد حاصل کر لیا ہے۔ مستقبل میں ’’گرین اسٹیل‘‘کا تصور سامنے آ رہا ہے، جس کا مقصد حیاتیاتی ایندھن کے استعمال کو کم کر کے کاربن اخراج میں کمی لانا ہے۔ بھارت اس شعبے کو کاربن سے پاک کرنے اور 2070 تک خالص صفر اخراج حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
|
اسٹیل کے شعبہ کی ترقی کی رفتار
بھارت کا اسٹیل سیکٹر، جو ملک کی ترقی میں بنیادی ستون کی حیثیت کا حامل ہے ، مسلسل مستحکم بن رہا ہے اور ملکی سطح پر خود انحصاری کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ بھارت 2018 میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹیل پیدا کرنے والا ملک بنا اور تب سے یہ مقام برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عالمی خام اسٹیل پیداوار میں بھارت کا حصہ 2014 میں 5.2 فیصد تھا جو بڑھ کر 2024 میں 7.9 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ اضافہ بھارت کو ایک مسابقتی اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے عالمی شراکت دار کے طور پر مضبوط کرتا ہے۔
ورلڈ اسٹیل ایسوسی ایشن کے مطابق بھارت تیار شدہ اسٹیل کا دوسرا سب سے بڑا صارف بھی ہے۔ ملک میں تیار شدہ اسٹیل کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو15-2014 میں 77 ملین ٹن سے بڑھ کر 2025–26 میں 163.7 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی، شہری آبادی میں اضافہ، مضبوط مینوفیکچرنگ سیکٹر، اور اندرونی مانگ میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔
یہ تمام رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کا اسٹیل سیکٹر ایک مضبوط صنعتی ترقی اور معاشی پیش رفت کے کلیدی ستون کے طور پر مسلسل ارتقا پذیر ہے۔
آتم نربھر بھارت کے وسیع وژن کے مطابق، بھارت غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کرنے کی سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ اسٹیل کے شعبہ میں ایک مضبوط ملکی ایکو نظام نہ صرف نئے کاروباری مواقع پیدا کرے گا بلکہ صنعتی ترقی کو فروغ دے گا اور ملک کی بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی مہم میں بھی تعاون دے گا ۔ اسی سمت میں بھارت 2047 تک 500 ملین ٹن اسٹیل پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ ساتھ ہی، اسٹیل سیکٹر کو کاربن سے پاک اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے ہدف کو حاصل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اسٹیل کے شعبہ کی مستحکم کارکردگی
اسٹیل، جو دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا انجینئرنگ اور تعمیراتی مواد ہے، بھارت میں ایک ’’مستقل ترقی پذیر شعبہ‘‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ ملکی کھپت اور صنعتی ترقی کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔بھارت میں اسٹیل کی پیداوار مسلسل مضبوط اور مستحکم رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ مارچ 2026 میں اسٹیل کی پیداوار میں مارچ 2025 کے مقابلے میں 2.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مالی سال 2025–26 کے دوران مجموعی انڈیکس میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 9.1 فیصد کی مضبوط نمو دیکھی گئی، جو پیداوار اور مانگ دونوں میں توسیع کی عکاسی کرتی ہے۔یہ تمام رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کا اسٹیل سیکٹر نہ صرف مضبوط ہو رہا ہے بلکہ ملکی معیشت اور صنعتی ترقی کے لیے ایک کلیدی محرک کے طور پر اپنی اہمیت مزید اضافہ کر رہا ہے۔
|
اسٹیل ایک مرکب ہے جو بنیادی طور پر لوہے ، کاربن (<2%) اور مینگنیز (تقریباً 1 فیصد) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں تھوڑی مقدار میں سلکان، فاسفورس ، سلفراور آکسیجن بھی موجود ہوتے ہیں۔
اسٹیل سیکٹر کے لیے لوہے اور اسٹیل کی مختلف اقسام انتہائی اہم ہیں۔ ان میں چند اہم درج ذیل ہیں:
- خام اسٹیل: یہ وہ پہلا ٹھوس اسٹیل ہوتا ہے جو مائع اسٹیل کے جم جانے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔
- تیار اسٹیل: یہ نیم تیار شدہ اسٹیل کو گرم رولنگ یا فورجنگ کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔
- ہاٹ میٹل، پگ آئرن اور اسپنج آئرن: یہ لوہے کی اہم اقسام ہیں جو اسٹیل انڈسٹری میں بنیادی خام مال اور مختلف مراحل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ تمام اقسام مل کر اسٹیل صنعت کے پیداواری عمل کی بنیاد بنتی ہیں اور مختلف صنعتی و تعمیراتی استعمالات کے لیے ضروری مواد فراہم کرتی ہیں۔
|
خام اسٹیل
خام اسٹیل وہ بنیادی خام مال ہے جس سے دیگر اسٹیل مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔ یہ اسٹیل صنعت کی بنیادی پیداوار سمجھی جاتی ہے اور پورے ویلیو چین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔بھارت میں خام اسٹیل کی پیداوار میں نمایاں اور مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ پیداوار05-2004 میں 43.44 ملین ٹن تھی، جو بڑھ کر 2014–15 میں 88.98 ملین ٹن اور 2025–26 میں 168.4 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ یہ ترقی عالمی اسٹیل مارکیٹ میں بھارت کی مضبوطی اور مسلسل وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔22-2021 سے 26-2025کے دوران خام اسٹیل کی پیداوار میں تقریباً 9فیصد کی مجموعی سالاہ شرح ترقی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح مالی سال 26-2025میں گزشتہ سال کے مقابلے میں پیداوار میں 10.7فیصداضافہ بھی دیکھا گیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کا اسٹیل سیکٹر نہ صرف مستحکم ہے بلکہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر رہا ہے۔
|
خام اسٹیل (میٹر ک ٹن میں)
|
|
|
مالی سال 2022-23
|
مالی سال 2023-24
|
مالی سال 2024-25
|
مالی سال 2025-26
|
|
پیداوار
|
127.2
|
144.3
|
152.2
|
168.4
|
ہاٹ میٹل، پگ آئرن اور اسپنج آئرن
ہاٹ میٹل وہ مائع لوہا ہے جو بلاسٹ فرنس میں تیار کیا جاتا ہے۔ اپریل تا ستمبر 26-2025کے دوران اس کی پیداوار میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 7.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بلاسٹ فرنس سے حاصل ہونے والی ایک اور اہم پیداوار پگ آئرن ہے۔ اس کی پیداوار میں بھی اسی مدت کے دوران 6.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو صنعت کی مسلسل ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح اسپنج آئرن ، جسے براہ راست کم شدہ آئرن بھی کہا جاتا ہے، نے بھی مضبوط کارکردگی دکھائی اور اپریل تا ستمبر 26-2025 میں اس کی پیداوار میں 9.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔یہ تمام اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسٹیل صنعت کے بنیادی شعبوں میں وسیع پیمانے پر ترقی ہو رہی ہے، جو مجموعی طور پر اس صنعت کی مضبوطی اور مسلسل وسعت کی عکاسی کرتی ہے۔
|
اسٹیل کے زمرے کی پیداوار
|
|
زمرے
|
اپریل-ستمبر
(میٹر ک ٹن)25-2024
|
اپریل-ستمبر
(میٹر ک ٹن)26-2025
|
نمو ( فیصد)
|
|
ہاٹ میٹل
|
43.99
|
47.21
|
7.3
|
|
پگ آئرن
|
4.04
|
4.31
|
6.6
|
|
اسپنج آئرن
|
27.00
|
29.46
|
9.1
|
تیار شدہ اسٹیل
تیار شدہ اسٹیل جدید انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ کے لیے ایک بنیادی اور اہم خام مال ہے۔ مالی سال 26-2025 کے دوران اس کی پیداوار 160.9 ملین ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 9.7 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ تیار شدہ اسٹیل کی کھپت بھی مضبوط رہی۔ اس دوران اس کی مجموعی کھپت 163.7 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی، جو 7.6 فیصد کی نمو کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ مسلسل اضافہ ملک میں مضبوط اندرونی مانگ اور صنعتی سرگرمیوں کی توسیع کو واضح کرتا ہے۔یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کا اسٹیل کا شعبہ نہ صرف پیداوار میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ کھپت کے لحاظ سے بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جو اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
|
تیاری شدہ اسٹیل (میٹرک ٹن ) میں
|
|
|
مالی سال 2022-23
|
مالی سال 2023-24
|
مالی سال 2024-25
|
مالی سال 2025-26
|
|
پیداوار
|
123.2
|
139.2
|
146.7
|
160.9
|
|
کھپت
|
119.9
|
136.3
|
152.1
|
163.7
|
اسٹیل کی تجارت کی داستان
بھارت کی اسٹیل تجارت کی کارکردگی ایک مضبوط اور زیادہ مسابقتی گھریلو صنعت کی عکاسی کرتی ہے۔ مارچ 2026 میں اسٹیل کی برآمدات میں سال بہ سال 29.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی دوران درآمدات میں 9.5 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی اندرون ملک پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور غیر ملکی سپلائی پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ مثبت تبدیلی بھارت کو ایک قابلِ اعتماد عالمی اسٹیل سپلائر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ساتھ ہی یہ پیش رفت اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت اب اپنی بڑھتی ہوئی گھریلو مانگ کو بہتر طریقے سے پورا کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جو اسٹیل سیکٹر کی مجموعی مضبوطی اور خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
بھارت نے خود کو لوہے اور اسٹیل کے مرکبات کے ایک نمایاں برآمد کنندہ کے طور پر بھی قائم کیا ہے۔ اسٹیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی برآمدات ملک کے لیے زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔یہ اضافہ مجموعی تجارتی توازن کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور بھارت کی معیشت کو زیادہ مستحکم بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت آتم نربھر بھارت کے اس وسیع وژن کو بھی تقویت دیتی ہے جس کا مقصد ایک خود کفیل اور مضبوط صنعتی نظام قائم کرنا ہے۔
|
مارچ 2026 میں ہندوستان کی تیار شدہ اسٹیل کی برآمدات کے لیے سرفہرست ممالک ویتنام، بیلجیم اور تائیوان تھے۔ ہندوستان کی کل تیار شدہ اسٹیل کا 50 فیصد سے زیادہ ان ممالک کو برآمد کیا جا تا ہے ۔
|
اس کے علاوہ، مالی سال 26-2025 میں تیار شدہ اسٹیل کی برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 35.80 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت کے دوران درآمدات میں 46.47 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ رجحان ملکی صنعت کی مضبوطی اور خود کفالت کی طرف واضح پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسٹیل سیکٹر کی ترقی کے لیے حکومتی اصلاحات
حکومت نے اسٹیل سیکٹر کو مستحکم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں خام مال کی دستیابی کو بہتر بنانا، عالمی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنانا، اور درآمدات پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں کمی آئی ہے، اسٹیل صنعت کی ترقی کو فروغ ملا ہے، اور خاص طور پر چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور چھوٹے اسٹیل پروڈیوسرز کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔یہ تمام اصلاحات مجموعی طور پر بھارت کے اسٹیل سیکٹر کو زیادہ مسابقتی، مضبوط اور آتم نربھر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
|
اسٹیل ایک غیر منضبط شعبہ ہے ، جس کی ترقی اور تقویت کے لیے حکومت ایک سازگار پالیسی فریم ورک کو فروغ دے کر سہولت کار کاکردار ادا کر رہی ہے۔
|
اسپیشلٹی اسٹیل کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی)
|
پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی ) ایک حکومتی پہل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اہل کمپنیوں کو ان کی بڑھتی ہوئی فروخت کی بنیاد پر مالی مراعات کی پیشکش کرکے ہندوستان کی پیدواری صلاحیتوں کو مضبوط کرناہے۔
|
اسپیشلٹی اسٹیل، اسٹیل بنانے کے عمل کی ایک بنیادی سطح پر تیار ہونے والی ویلیو ایڈڈ مصنوعات ہے۔ یہ ان 14 شعبوں میں سے ایک ہے جنہیں پی ایل آئی اسکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد اعلیٰ معیار کے اسٹیل کی ملکی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ اسے 2021 میں 6,322 کروڑ روپے کے مالی بجٹ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ یہ تجارتی توازن کو بہتر بنانے اور برآمدات کی قدر میں اضافہ کرنے میں مدد دے گی۔ یہ بھارتی اسٹیل صنعت کو ٹیکنالوجی میں ترقی کرنے اور ویلیو چین کو بلند سطح پر لے جانے میں بھی مدد دے گی۔
یہ اسکیم 5 سال (مالی سال 25-2024 سے 31-2030 تک) کے لیے ان کمپنیوں کو مراعات فراہم کرتی ہے جو مقررہ سرمایہ کاری اور پیداواری اہداف پورے کرتی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت برآمدی حجم کے تین گنا سے زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔ جبکہ درآمدی حجم 24-2023سے 30-2030 کے دوران تقریباً چار گنا کم ہونے کی توقع ہے۔
اسٹیل وزارت کی پی ایل آئی 1.0 اور پی ایل آئی 1.1 اسکیم میں 44,106 کروڑ روپےکی سرمایہ کاری کا عہد کیا گیا تھا۔ یہ 33,460 افراد کو براہِ راست روزگار کی ضمانت بھی دیتی ہے اور 14,340 ہزار ٹن اضافی پیداوار کا ہدف رکھتی ہے۔
پی ایل آئی اسکیم کی اہم حصولیابیاں اس طرح ہیں:
- 23,022 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی
- 2.4 ملین ٹن اسپیشلٹی اسٹیل کی پیداوار
- 13,264 براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوئے
- 236 کروڑ روپے کی مراعات تقسیم کی گئیں
- 24 ملین ٹن اسپیشلٹی اسٹیل کی صلاحیت پیدا کی گئی
- 6,000 کروڑ روپےکی درآمدی متبادل حاصل کی گئی
تیسرا مرحلہ (پی ایل آئی 1.2)، جو نومبر 2025 میں اعلان کیا گیا، جدید اور ابھرتی ہوئی اسٹیل مصنوعات میں سرمایہ کاری کو ہدف بناتا ہے۔ PLI 1.2 کے تحت 4 مصنوعات کے زمرے میں 85 درخواستیں شامل ہیں، یعنی
- اسٹریٹجک سیکٹر کے لیے اسٹیل گریڈز،
- کمرشل گریڈز – زمرہ 1،
- کمرشل گریڈز –زمرہ 2، اور
- کوٹیڈاور وائر پروڈکٹس۔
یہ اسکیم پانچ سال کے لیے 4 فیصد سے 15 فیصد تک کی مراعاتی شرحیں پیش کرتی ہے، جو مالی سال 26-2025 سے شروع ہوں گی۔ تاہم مراعات کی ادائیگی مالی سال 27-2026 سے شروع ہوگی۔
حکومت نے حال ہی میں پی ایل آئی 1.2 کے تحت 55 کمپنیوں کے 85 اسپیشلٹی اسٹیل منصوبوں کے لیے مفاہمت ناموں پربھی دستخط کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں 11,887 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے اور تقریباً 8.29 ملین ٹن اضافی پیداواری صلاحیت کا عہد کیا گیا ہے۔
مقامی پیداوار کو فروغ دینا
حکومت ملکی اسٹیل مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور طویل مدتی شعبہ جاتی مضبوطی کے لیے پالیسی پر مبنی طریقہ کار پر عمل کرتی ہے
ملکی طور پر تیار کردہ لوہے اور اسٹیل کی مصنوعات (ڈی ایم آئی اینڈ ایس پی) سے متعلق پالیسی:اس پالیسی پر مئی 2025 میں نظرِ ثانی کی گئی، جس کے تحت سرکاری خریداری میں مقامی طور پر تیار شدہ لوہے اور اسٹیل مصنوعات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس میں نوٹیفائیڈ لوہے اور اسٹیل مصنوعات شامل ہیں، جن کے لیے کم از کم مقامی مواد کی شرط مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اسٹیل مصنوعات کی تیاری کے لیے کچھ کیپیٹل گڈز کو درآمد کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اس میں دیسی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ مسلسل نگرانی اور فیڈبیک کے نظام کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور پالیسی کے طویل مدتی نتائج کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے’’دھات پگھلانے سے لے کراسٹیل تیار کرنے تک‘ ‘اصول متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت تمام اسٹیل بھارت میں ہی مکمل طور پر تیار کیا جائے گا، یعنی خام اسٹیل کو پگھلانے اور ڈالنے کا پورا عمل ملک کے اندر ہوگا۔ دیسی ٹیکنالوجی کے فروغ اور درآمدی انحصار میں کمی کے ذریعے یہ خود انحصاری کو مضبوط بناتا ہے۔
قومی اسٹیل پالیسی:
قومی اسٹیل پالیسی 2017 کا ہدف ہے کہ 31-2030تک خام اسٹیل کی پیداواری صلاحیت 300 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) تک اور پیداوار 255 ملین ٹن تک پہنچائی جائے۔ اس کے علاوہ فی کس تیار شدہ اسٹیل کی کھپت کو موجودہ 61 کلوگرام سے بڑھا کر 158 کلوگرام کرنا بھی مقصد ہے۔ یہ پالیسی اعلیٰ معیار کے آٹوموٹیو، الیکٹریکل اور اسپیشل اسٹیل کی گھریلو مانگ پوری کرنے کا بھی ہدف رکھتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کوکنگ کوئلہ کی درآمدی وابستگی کو 85 فیصد سے کم کر کے 65 فیصد تک لانے کا مقصد بھی رکھتی ہے۔
بھارت نے مالی سال 26-2025 میں پہلے ہی 168 ملین ٹن خام اسٹیل کی پیداوار حاصل کر لی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نیشنل اسٹیل پالیسی 2017 کے تحت تقریباً 66 فیصد پیداواری صلاحیت حاصل کر لی گئی ہے، جو طویل مدتی ہدف کی طرف نمایاں پیش رفت ہے۔
بنیادی ڈھانچہ سے متعلق منصوبے
مالی سال 24-2023میں تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کا شعبہ اسٹیل کی طلب کا بنیادی محرک رہا، جو کل کھپت کا تقریباً 68 فیصد تھا۔ اس دوران انجینئرنگ اور پیکیجنگ شعبے کی جانب سے تعاون تقریباً 22 فیصد اور آٹوموبائل صنعت کی طرف سے تعاون تقریباً 9 فیصدرہا۔
|
کیا آپ جانتے ہیں؟
کلینگا نگر، انگول، رورکیلا، جھارسوگوڑا، نگرنار، بھیلائی، رائے پور، جمشید پور، بوکارو، درگاپور، کولکاتہ اور ویزاگ میں بڑے اسٹیل زون واقع ہیں۔
|
اسٹیل زونز کی نشاندہی: حکومت 12 بڑے اسٹیل زونز میں اہم لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیزی سے ترقی دے رہی ہے۔ ترجیحی بنیادوں پر ریلوے، سڑک اور بندرگاہوں کی توسیع کے منصوبے جاری ہیں تاکہ رکاوٹیں کم کی جا سکیں اور عالمی معیار کی کثیر موڈل پر مبنی کنیکٹیویٹی تیار کی جا سکے جو اس شعبے کی ترقی کو تعاون فراہم کرے۔
پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان (اکتوبر 2021): وزارتِ اسٹیل نے 2,100 سے زائد فعال اسٹیل یونٹس کا جغرافیائی ڈیٹا پی ایم گتی شکتی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا ہے۔ اس میں ان یونٹس کی مصنوعات اور پیداواری صلاحیت بھی شامل ہے تاکہ اس شعبے میں مربوط اور ڈیٹا پر مبنی لاجسٹکس منصوبہ بندی کو فروغ دیا جا سکے۔
درآمدی انحصار میں کمی
حکومت نے اسٹیل سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے خام مال کی یقینی فراہمی، معیار کے تقاضوں اور مسابقت کو بہتر بنانے کے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
- مالی بل25-2024 میں فیرو نکل اور مولبڈینم ایسک پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا ہے۔ یہ مواد اسٹیل انڈسٹری کے اہم خام اجزاء ہیں۔
- اسٹیل اسکریپ ری سائیکلنگ پالیسی (2019) کو نافذ کیا گیا ہے تاکہ ملکی سطح پر اسکریپ کی دستیابی بڑھائی جا سکے۔ اس کا مقصد اعلیٰ معیار کے فیرس اسکریپ کی پیداوار کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ معیاری اسٹیل بنایا جا سکے اور درآمدات پر انحصار کم ہو۔
- اسٹیل کوالٹی کنٹرول آرڈرز اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صرف بی آئی ایس سے منظور شدہ اسٹیل ہی صارفین تک پہنچے۔ یہ ملک میں اور درآمدی سطح پر غیر معیاری یا خراب اسٹیل مصنوعات پر پابندی لگاتے ہیں، جس سے صنعت اور صارف دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو تا ہے۔ حکومت نے 31 دسمبر 2025 تک 723 مصنوعات کے 143 کیو سی او نافذ کیے ہیں۔ یہ معیار کی پابندی کو یقینی بناتے ہیں اور مارکیٹ میں بگاڑ کو روکتے ہیں۔
- وزارتِ کوئلہ نے 2024 میں شروع ہونے والے ’’مشن کوکنگ کول‘‘ کو آگے بڑھایا ہے، جس کا مقصد ملکی سطح پر کوکنگ کوئلے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو۔ یہ مشن 2029-30 تک 140 ملین ٹن خام کوکنگ کوئلے کی ملکی پیداوار کا ہدف رکھتا ہے۔
- اپریل 2025 میں حکومت نے کچھ مخصوص غیر مرکب اور مرکب اسٹیل فلیٹ مصنوعات پر 12فیصد سیف گارڈ ڈیوٹی عائد کی۔ اس کا مقصد ملکی صنعت کو درآمدی دباؤ سے بچانا اور منصفانہ مسابقت کو برقرار رکھنا ہے۔
- مزید برآں، نومبر 2025 میں ایس اے آر اے ایل- ایس آئی ایم ایس نظام متعارف کرایا گیا جو اسٹیل کی برآمد سے متعلق نگرانی کا نظام (ایس اائی ایم ایس ) کے تحت اندراج کا ایک آسان عمل ہے۔ یہ درآمدات کی نگرانی کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور زیادہ مؤثر نگرانی کے ذریعے اسٹیل کی گھریلو صنعت کے تحفظ سے متعل خدشات کو دور کرتا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی
حکومت کی طرف سے غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)پالیسیوں میں اصلاحات نے سرمایہ کاری کی آمد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں 2014 سے 2024 کے دوران ایف ڈی آئی میں 120 فیصد اضافہ ہوا، جو 2004–2014 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ایف ڈی آئی ایکویٹی انفلوز میں بھی 69 فیصد اضافہ ہوا۔
- حکومت نے آٹو میٹک روٹ کے تحت 100 ایف ڈی آئی فیصد کی اجازت فراہم کی، جس کے نتیجے میں اپریل 2000 سے جون 2025 کے درمیان دھات سازی کی صنعتوں میں 1,60,000 کروڑروپے( 18.67 ارب امریکی ڈالر)کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی۔
- مزید برآں، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اس شعبے کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو مزید وسیع کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اسٹیل صنعت کو کاربن سے پاک بنانا: آگے کا راستہ
|
بھارت میں اسٹیل سیکٹر کو کاربن سے پاک کرنے کے لیے وزارتِ اسٹیل کا عزم
مختصر مدت (مالی سال 2030 تک) میں توجہ اسٹیل صنعت میں کاربن اخراج میں کمی پر مرکوز ہے۔ اس کے لیے توانائی اور وسائل کی مؤثر استعمال کو فروغ دیا جائے گا اور قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ استعمال کو بڑھایا جائے گا۔
درمیانی مدت (2030 سے 2047 تک) میں گرین ہائیڈروجن پر مبنی اسٹیل سازی اور کاربن کیپچر، استعمال اور ذخیرہ پر توجہ دی جائے گی۔
طویل مدت (2047 سے 2070 تک) میں ایسے انقلابی اور متبادل تکنیکی حل اپنانے کا ہدف ہے جو مکمل طور پر خالص صفر اخراج حاصل کرنے میں مدد دیں۔
|
کاربن سے پاک کرنے کے تحت کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج (یا اس کے مساوی گیسوں) کو کم کیا جاتا ہے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کی مجموعی مقدار میں کمی لائی جا سکے۔ پیرس معاہدے کے مطابق، نقل و حمل اور بجلی پیدا کرنے کے شعبوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈمیں کمی عالمی درجہ حرارت کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔
گرین اسٹیل سے مراد ایسی اسٹیل کی پیداوار ہے جس میں حیاتیاتی ایندھن کا استعمال نہ کیا جائے۔ ’’گرین ہائیڈروجن‘‘ایک ایسا حل ہے جو اسٹیل صنعت کے کاربن کی موجودگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
بھارت کی اسٹیل صنعت کا مستقبل کم کاربن اور پائیدار پیداوار کی جانب مضبوط پیش رفت سے تشکیل پا رہا ہے۔ 2024 میں بھارت پہلا ملک بنا جس نے باضابطہ طور پر گرین اسٹیل ٹیکسانومی متعارف کرائی۔ اس کے مطابق گرین اسٹیل کی تعریف اس کی ’’ماحولیات کے لیے سازگار ہونے‘‘ کی شرح سے کی جاتی ہے۔ گرین اسٹیل وہ ہے جو ایسے اسٹیل پلانٹ میں تیار کیا جائے جس کی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج کی شدت 2.2 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فی ٹن تیار شدہ اسٹیل سے کم ہو۔ 31 مارچ 2026 تک 89 اسٹیل یونٹس کو گرین اسٹیل سرٹیفکیشن دیا جا چکا ہے، جس کے تحت 12.34 ملین ٹن پیداوار شامل ہے۔
کاربن سے پاک بڑے اہداف کے تحت کچھ اہم اقدامات مندرجہ ذیل ہیں:
معیارات اور خریداری:گرین اسٹیل کے معیارات طے کرنا، اسٹیل پلانٹس کے اخراج کی نگرانی کرنا، اور سرکاری خریداری میں گرین پروکیورمنٹ اپنانا۔
ٹیکنالوجی اور کارکردگی:بہترین دستیاب ٹیکنالوجیز کا استعمال، پیلٹس کے استعمال میں اضافہ، اور اسکریپ کے زیادہ استعمال کے ذریعے سرکولر اکانومی کو فروغ دینا۔
صاف توانائی کی طرف منتقلی:2030 تک 45 فیصد قابلِ تجدید توانائی کا استعمال حاصل کرنا، قابلِ تجدید توانائی کے لیے ایگریگیٹر ماڈل بنانا، قدرتی گیس کی دستیابی بڑھانا، اور بائیوچر کو فروغ دینا۔
گرین ہائیڈروجن اور کاربن کیپچر، استعمال و ذخیرہ:ڈی آر آئی اور بلاسٹ فرنس کے عمل میں گرین ہائیڈروجن کے استعمال کے پائلٹ منصوبے اور 2030 تک سی سی یو ایس پائلٹ پلانٹس قائم کرنا۔
تحقیق و ترقی اور جدت:اسٹیل ڈی کاربنائزیشن کے لیے قومی آر اینڈ ڈی روڈ میپ اور ترجیحی منصوبے شروع کرنا۔
مالی وسائل اور عالمی روابط:سرمایہ، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون تک رسائی بہتر بنانا۔
منصفانہ منتقلی:کم کاربن نظام کے لیے اسٹیل شعبے کے ورکرز کی مہارتوں کو اپ گریڈ اور دوبارہ تربیت دینا۔
کم کاربن والے اسٹیل کے لیے حکومتی اقدامات
کم کاربن والے اسٹیل کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔
- مرکزی بجٹ 27-2026 میں اسٹیل اور دیگر صنعتوں کے لیے سی سی یو ایس ٹیکنالوجیز کی تجویز دی گئی ہے، جس کے لیے 5 سال کے دوران 20,000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
|
کاربن کیپچر، یوزلائزیشن اینڈ اسٹوریج ( سی سی یو ایس) ایسی ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہے جو بڑے اور مستقل ذرائع سے خارج ہونے والے کار بن ڈائی آکسائیڈ کو قابو کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ اس میں حیاتیاتی اینڈھن پر مبنی بجلی گھر اور دیگر صنعتی تنصیبات شامل ہیں۔
اس عمل میں قابو میں کیے گئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو منتقل بھی کیا جاتا ہے، عموماً پائپ لائنوں کے ذریعے، اور بعض صورتوں میں شپنگ، ریل یا ٹرکوں کے ذریعے۔ اس کے بعد کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مخصوص مقامات تک پہنچایا جاتا ہے جہاں اسے مختلف قسم کے استعمال میں لایا جا سکتا ہے، یا پھر اسے زمین کی گہری تہوں میں، جیسے ارضیاتی ساختوں اور ختم شدہ تیل و گیس کے ذخائر میں داخل کیا جاتا ہے۔
اس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو مستقل طور پر محفوظ کر کے فضا میں اس کے اخراج کو روکا جا سکتا ہے۔
|
- اسٹیل اسکریپ ری سائیکلنگ پالیسی 2019 ملکی سطح پر اسکریپ کی دستیابی میں اضافہ کر رہی ہے۔ بھارت میں مجموعی اسٹیل اسکریپ کی کھپت تقریباً 30 ملین ٹن ہے، جس میں سے تقریباً 5 ملین ٹن درآمد کیا جاتا ہے۔ اس لیے اعلیٰ معیار کے ملکی اسکریپ کی دستیابی گرین اسٹیل کی طرف منتقلی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسکریپ کے زیادہ استعمال سے مخصوص توانائی کی ضرورت کم ہوتی ہے، پانی کی کھپت میں 40 فیصد کمی آتی ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 58 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔ اس طرح بھارت کی کاربن سے پاک کوششوں کو تقویت فراہم ہوتی ہے (جنوری 2025)۔
- وزارتِ اسٹیل نے فروری 2025 میں 14 ٹاسک فورسز قائم کیں تاکہ اسٹیل کی صنعت کاربن کے اخراج سے پاک کر کے مختلف پہلوؤں پر سفارشات دی جا سکیں۔
- نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت وزارتِ اسٹیل نے اسٹیل سیکٹر میں ہائیڈروجن کے استعمال کے لیے 4 پائلٹ منصوبے منظور کیے ہیں۔ یہ منصوبے تین شعبوں میں نافذ کیے جا رہے ہیں، جن میں عمودی شافٹ پر مبنی ڈی آر آئی میں جزوی ہائیڈروجن انجیکشن شامل ہے تاکہ اسے قدرتی گیس کی جگہ استعمال کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ موجودہ بلاسٹ فرنس میں ہائیڈروجن کے استعمال کے ذریعے کوئلہ اور کوک کی کھپت کم کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے۔
- اخراج میں کمی کے لیے موٹر وہیکلز (رجسٹریشن اور اسکریپنگ سہولیات) قواعد 2021 بھی مددگار ہیں۔ اسی طرح قومی شمسی مشن 2010 اور عمل آوری ،حصولیابی اور تجارت(پی اے ٹی ) توانائی بچت اسکیم 2012 بھی توانائی کی کارکردگی بہتر بناتے ہیں۔
- اسٹیل سیکٹر نے جدید کاری اور توسیعی منصوبوں میں عالمی سطح پر دستیاب بہترین ٹیکنالوجیز کو اپنایا ہے۔
- جاپان کی جدید توانائی اور صنعتی ٹکنالوجی کی ترقی کی تنظیم (این ای ڈی او) کے توانائی مؤثریت بڑھانے والے ماڈل منصوبے بھی اسٹیل پلانٹس میں نافذ کیے گئے ہیں۔
یہ تمام اقدامات بھارت کے اسٹیل سیکٹر کو کاربن کے اخراج سے پاک کرنے اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے ہدف کے عزم کو مضبوط بناتے ہیں۔ مستقبل کے لیے تیار اسٹیل سیکٹر کے وژن کے مطابق حکومت نے جدید ٹیکنالوجیز کو مربوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
|
اسٹیل پویلین میں اے آئی ، اپنی نوعیت کا پہلا باہمی تعاون کا پلیٹ فارم ہے جسے مسائل سے حل کرنے والے بازار کے طور پر وضع کیا گیا ہے ۔ یہ حقیقی وقت کی صنعت کے چیلنجوں کو یکجا کرتا ہے اور انہیں اے آئی حل فراہم کرنے والوں ، اسٹارٹ اپس ، ٹیکنالوجی فرموں اور تحقیقی اداروں سے جوڑتا ہے ۔ یہ عملی ، توسیع پذیر حل تیار کرنے میں مدد کرتا ہے ۔
یہ اسٹیل پروڈیوسروں اور کان کنی کمپنیوں کو درپیش مخصوص آپریشنل ، لاجسٹک ، سیفٹی ، کوالٹی کنٹرول ، پائیداری اور مارکیٹنگ کے چیلنجز پیش کرتا ہے ۔ یہ پہل پورے اسٹیل ویلیو چین میں بتدریج ڈیجیٹائزیشن سے اے آئی کے مشن موڈ کو اپنانے کی طرف ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ اس میں کان کنی ، لاجسٹکس ، پیداوار ، کوالٹی اشورینس ، مارکیٹنگ اور کارپوریٹ حکمرانی شامل ہیں ۔
|
اسٹیل سیکٹر کا منظرنامہ
بھارت کا اسٹیل سیکٹر اپنی صلاحیت، مسابقت اور خود انحصاری کو تیزی سے مضبوط کر رہا ہے۔ خام مال کی سلامتی، لاجسٹکس، کوالٹی کنٹرول اور پی ایل آئی مراعات جیسے حکومتی اصلاحاتی اقدامات پیداوار میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار میں کمی لا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی برآمدات اور اسپیشلٹی اسٹیل کی توسیع بھارت کی عالمی سطح پر پوزیشن کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
ماحول دوست اسٹیل اور کاربن سے پاک کرنے کے واضح طریقوں کے ساتھ یہ صنعت طویل مدتی پائیداری کے اہداف کے مطابق خود کو ہم آہنگ کر رہی ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار اسٹیل نظام تشکیل دے رہے ہیں جو بھارت کی آئندہ ترقی میں اہم رول ادا کرے گا۔
حوالہ: وزارتِ اسٹیل
Ministry of Steel
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2039000
https://steel.gov.in/sites/default/files/PLI%20Steel%20Report_Final.pdf
https://steel.gov.in/sites/default/files/lu%204034.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2123294®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2192033®=3&lang=2
https://steel.gov.in/sites/default/files/2025-04/Steel_English_AR_2024%20%281%29.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2186206®=3&lang=2
https://sims.steel.gov.in/DMISP/About.aspx
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2083839
https://content.trade.gov.in/News_Letter/Issue+24_1_Ministry+of+Steel+Introduces+SARAL+SIMS+Facility+to+Simplify+Steel+Import+Registration.pdf
https://steel.gov.in/glossary-of-terms-definitions-commonly-used-in-iron-steel-industry
https://steel.gov.in/sites/default/files/2025-08/ru%202392_0.pdf
https://steel.gov.in/sites/default/files/2025-07/DMISP%2026.05.2025.pdf?utm
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2186129®=3&lang=2
https://steel.gov.in/sites/default/files/2025-12/lu%20323.pdf
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU426_Dl4aU5.pdf?source=pqals
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2229764®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225496®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1896882®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1738126®=3&lang=2
https://steel.gov.in/sites/default/files/2026-04/Monthly%20Economic%20Report-%20March%202026%20%285%29.pdf
https://steel.gov.in/sites/default/files/2025-04/Monthly%20Summary%20for%20March-2024.pdf
World Steel Association
https://worldsteel.org/data/world-steel-in-figures/world-steel-in-figures-2025/
https://worldsteel.org/about-steel/what-is-steel/
Ministry of Coal
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2083140®=3&lang=2
Ministry of Commerce & Industry
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2165093
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2192137
https://www.dpiit.gov.in/static/uploads/2025/06/3d9c9c2daeefb97bb9ce964370938b71.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2086347®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1945155®=3&lang=2
https://pmgatishakti.gov.in/pmgatishakti/faq
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2230777®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2243014®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253812®=3&lang=2
Ministry of New and Renewable Energy
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2002034®=3&lang=2
Joint Plant Committee
https://jpcindiansteel.nic.in/writereaddata/files/Trend%20Report%20October%202025.pdf
Ministry of Finance
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf
IBEF
https://www.ibef.org/states/steel-presentation
Cabinet
https://www.pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=161491
Ministry of Coal
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2124513®=3&lang=2
Niti Aayog
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2022-12/CCUS-Report.pdf
World Economic Forum
https://www.weforum.org/stories/2022/07/green-steel-emissions-net-zero/
PIB Headquarters
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155082&ModuleId=3®=3&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں
******
ش ح۔ ش ب۔ ش ب ن
U-NO. 6819
(Explainer ID: 158476)
आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments