• Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

ہندوستان میں طبی اور فلاح و بہبود کی سیاحت

Posted On: 02 MAY 2026 10:10AM

آیوش جیسے روایتی نظامِ صحت کے ساتھ جدید طبی بنیادی ڈھانچے کو مربوط کرکے ہندوستان میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی)کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مضبوط پالیسی تعاون، ڈیجیٹل سہولت اور آیوش ویزا اور علاقائی طبی مراکز جیسے اقدامات اس ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور جامع نگہداشت کی طلب بین الاقوامی مریضوں کو ہندوستان میں سستی، اعلیٰ معیار کے علاج اور احتیاطی صحت کے حل تلاش کرنے کی طرف راغب کر رہی ہے۔

ہندوستان ایک عالمی علاج کی منزل کے طور پر

دنیا بھر میں صحت کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات، طویل انتظار کے اوقات اور طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کی طرف راغب کر رہا ہے۔ اس عالمی تبدیلی کے نتیجے میں کثیر ارب ڈالر کی میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی) صنعت کا ظہور ہوا ہے۔

2022 میں عالمی میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی) مارکیٹ کی مالیت تقریباً 115.6 بلین امریکی ڈالر تھی، جو 2030 تک بڑھ کر تقریباً 286.1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ مارکیٹ تقریباً 10.8 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو (سی اے جی آر) سے بڑھ رہی ہے۔

اس ابھرتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ہندوستان ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ صنعت کے تخمینوں کے مطابق 2025 میں طبی سیاحت کی مارکیٹ تقریباً 8.7 بلین امریکی ڈالر ہوگی، جو 2030 تک بڑھ کر 16.2 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

صدیوں سے ہندوستان کو شفا، توازن اور بیماری سے نجات کے متلاشی افراد کے لیے ایک اہم منزل سمجھا جاتا رہا ہے۔ آج یہ قدیم ورثہ ایک متحرک میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی) ماحولیاتی نظام میں ڈھل چکا ہے، جو جدید طبی سائنس کو روایتی نظاموں کی لازوال حکمت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔

فلیگ شپ "ہیل اِن انڈیا" پہل کے ذریعے حکومت ملک کو مربوط اور جامع صحت کی دیکھ بھال کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

اس منظرنامے کی وسعت کو سمجھنے کے لیے اس کے دو متحرک ستونوں میں فرق کرنا ضروری ہے:

طبی سیاحت: یہ علاج و معالجہ پر مرکوز ہوتی ہے، جیسے پیچیدہ سرجریاں، اعضاء کی پیوند کاری اور خصوصی ہسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال کے اداروں کے ذریعے فراہم کردہ جدید تشخیصی نگہداشت۔

فلاح و بہبود کی سیاحت: یہ یوگا، آیوروید، نیچروپیتھی اور دیگر آیوش طریقوں جیسے روایتی نظاموں کے ذریعے احتیاطی اور جامع صحت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ ایسے علاج پیش کرتی ہے جو جسمانی، ذہنی اور روحانی تندرستی کو فروغ دیتے ہیں۔

یہ دونوں ستون مل کر ہندوستان کے میڈیکل ویلیو ٹریول ماحولیاتی نظام کی بنیاد بناتے ہیں۔ یہ جدید تشخیصی علاج کی ضروریات اور احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب—دونوں—کو پورا کرتے ہیں۔

میڈیکل ٹورازم انڈیکس 2020-21 کے مطابق:

  • ہندوستان عالمی سطح پر 46 طبی سیاحتی مقامات میں 10ویں نمبر پر ہے۔
  • عالمی سطح پر فلاح و بہبود کی سیاحت کی سرفہرست 20 مارکیٹوں میں 12ویں نمبر پر ہے۔
  • ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں صحت کی دیکھ بھال کے سرفہرست 10 مقامات میں 5ویں نمبر پر ہے۔

2025-26 ۔شماریاتی جائزہ

وزارتِ سیاحت کے تخمینوں کے مطابق، مالی سال 2024 میں سفر و سیاحت نے جی ڈی پی میں 5.22 فیصد حصہ ڈالا، جو وبائی امراض سے پہلے کی سطح کے قریب تھا۔ اس شعبے نے اندازاً 84.6 ملین براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتوں کی بھی حمایت کی، جو کل روزگار کا تقریباً 13.3 فیصد بنتی ہیں۔

2025 کے تازہ ترین اعداد و شمار اس شعبے کی رفتار کو نمایاں کرتے ہیں:

  • غیر ملکی سیاحوں کی آمد (ایف ٹی اے): ہندوستان نے 2025 میں 9.15 ملین ایف ٹی اے ریکارڈ کیے۔
  • طبی مقاصد کے لیے آمد: تخمینوں کے مطابق دو ہزار پچیس میں 507,244 غیر ملکی شہری خاص طور پر طبی علاج کے لیے آئے۔
  • شعبہ جاتی حصہ: 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق میڈیکل ٹورزم کا کل ایف ٹی اے میں تقریباً 5.5 فیصد حصہ ہے۔

معروف منڈیاں:دو ہزار پچیس  کے مطابق طبی سیاحت کے لیے سرفہرست ممالک میں بنگلہ دیش (325,127 آمد)، اس کے بعد عراق (30,989)، ازبکستان (13,699)، صومالیہ (11,506)، ترکمانستان (10,231)، عمان (9,738) اور کینیا (9,738) شامل ہیں۔

دیگر ممالک کے مریض بنیادی طور پر خصوصی علاج کے لیے ہندوستان آتے ہیں، جیسے:

  • قلبی سرجری
  • آرتھوپیڈک طریقۂ کار
  • کینسر کا علاج
  • اعضاء کی پیوند کاری
  • اعصابی امراض کا علاج
  • کاسمیٹک سرجری
  • دندان سازی (دانتوں کی دیکھ بھال)
  • زرخیزی کا علاج
  • آیوش پر مبنی فلاح و بہبود کے علاج

ہندوستان کا مسابقتی فائدہ: معیار، مہارت اور قابلِ برداشت لاگت

ہندوستان کو ایک منفرد برتری حاصل ہے جو اسے میڈیکل ٹورازم انڈیکس (ایم ٹی آئی) میں عالمی سطح پر 10ویں نمبر پر رکھتی ہے۔ حکومت اس مسابقتی برتری کے متعدد ستونوں کی نشاندہی کرتی ہے:

مضبوط طبی وسائل

ہندوستان کے نظامِ صحت کو تربیت یافتہ طبی پیشہ ور افراد کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک کی حمایت حاصل ہے۔

ہندوستان میں 69,364 اسپتال ہیں (جن میں 43,486 نجی اور 25,778 سرکاری اسپتال شامل ہیں) اور 1.2 ملین رجسٹرڈ ڈاکٹر موجود ہیں، جس سے ملک عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تجویز کردہ ڈاکٹر بہ مقابلہ آبادی کے تناسب کے قریب پہنچ گیا ہے۔

مزید برآں، انگریزی ہندوستان میں طبی تعلیم اور کلینیکل پریکٹس کی بنیادی زبان ہے، جس سے بین الاقوامی مریضوں کے ساتھ مؤثر ابلاغ ممکن ہوتا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان نے اپنی طبی تعلیم کی صلاحیت اور صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے خصوصی شعبوں میں ماہر طبی پیشہ ور افراد کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔

اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی اور سرٹیفیکیشن

ہندوستان کے نظامِ صحت کو مضبوط معیار کی یقین دہانی کے طریقۂ کار اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایکریڈیٹیشن معیارات کی حمایت حاصل ہے۔ ملک بھر کے ہسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کو نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ برائے ہسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے (این اے بی ایچ) کے ذریعے تسلیم کیا جاتا ہے۔

این اے بی ایچ مریضوں کی حفاظت اور نگہداشت کے معیار کے لیے سخت معیارات مقرر کرتا ہے۔ توقع ہے کہ 2026 تک این اے بی ایچ 600 سے زائد حفاظتی پیمانوں کی بنیاد پر 1,299 ہسپتالوں کو تسلیم کر چکا ہوگا۔ دریں اثنا، انڈین کوالٹی کونسل منظم معیار میں بہتری کی نگرانی کرتی ہے۔

این اے بی ایچ کی ایکریڈیشن کو بین الاقوامی سطح پر اس کی وابستگی برائے انٹرنیشنل سوسائٹی فار کوالٹی اِن ہیلتھ کیئر (آئی ایس کیو یو اے) کے ذریعے تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، متعدد ہندوستانی ہسپتالوں کو جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی) سے بھی منظوری حاصل ہے، جو انہیں صحت کی دیکھ بھال کے ایسے اداروں میں شامل کرتی ہے جو طبی فضیلت کے عالمی طور پر تسلیم شدہ معیارات پر پورا اترتے ہیں۔

میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی) کے سروس فراہم کنندگان بنیادی طور پر ہندوستان کی جنوبی اور مغربی ریاستوں میں مرتکز ہیں۔ 2022 تک ان بڑے شہروں میں، جہاں جے سی آئی سے منظور شدہ ہسپتال موجود ہیں:

شہر

جے سی آئی تسلیم شدہ ہسپتالوں کی تعداد

دہلی

9

ممبئی

6

بنگلور

3

چنئی

2

حیدرآباد

2

احمد آباد

2

کولکتہ

1

ناگپور

1

کوچین(کوچی)

1

مرتکز خدمات فراہم کرنے والے دیگر قابلِ ذکر شہروں میں پونے اور ناسک شامل ہیں۔

لاگت کے لحاظ سے مؤثر طبی علاج

ہندوستان کی طبی سیاحت کی کشش اس کی لاگت کے لحاظ سے مسابقتی ہونے کی وجہ سے نمایاں طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ ہندوستان میں اعلیٰ معیار کا طبی علاج اکثر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم قیمت پر دستیاب ہوتا ہے، جبکہ طبی معیارات کا تقابلی معیار برقرار رکھا جاتا ہے۔

اس برتری کو جدید طبی ٹیکنالوجی اور ہنر مند پیشہ ور افراد کی معاونت حاصل ہے۔ یہ بین الاقوامی مریضوں کو طویل انتظار کے بغیر خصوصی علاج تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

آیوش کی قیادت میں میڈیکل ویلیو ٹریول کو مضبوط بنانا

ہندوستان کو اپنے صدیوں پرانے روایتی طبی نظاموں کے ذریعےفلاح و بہبود کی سیاحت میں ایک منفرد برتری حاصل ہے، جنہیں مجموعی طور پر آیوش—آیوروید، یوگا، نیچروپیتھی، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی—کے نام سے جانا جاتا ہے۔

یوگا اور آیوروید کی جائے پیدائش کے طور پر، ہندوستان ان نظاموں کو جامع صحت اور احتیاطی نگہداشت کے لازمی اجزاء کے طور پر فروغ دیتا ہے۔

  • آیوش ویزا کی سہولت: بین الاقوامی مریضوں تک رسائی کو ہموار بنانے کے لیے حکومتِ ہند نے 27 جولائی 2023 کو ایک مخصوص آیوش ویزا متعارف کرایا۔ یہ غیر ملکی شہریوں اور ان کے معاونین کو تسلیم شدہ آیوش نظاموں کے تحت علاج کے لیے خصوصی طور پر ہندوستان آنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • معیاری معیارات: اس شعبے میں اعتبار اور معیاری کاری کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے آئی ایس او 22525 کو اپنایا ہے، جو طبی اور فلاح و بہبود کی سیاحت کی خدمات سے متعلق ایک بین الاقوامی معیار ہے۔
  • انشورنس کوریج: آیوش کے علاج کے لیے بیمہ کی کوریج میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا (آئی آر ڈی اے آئی) کے ہیلتھ انشورنس ضوابط کے تحت بیمہ کنندگان کو آیوش کے تحت علاج کا احاطہ کرنے کی اجازت ہے۔ نتیجتاً تقریباً 27 انشورنس کمپنیاں اب 140 سے زائد پالیسی مصنوعات پیش کرتی ہیں جو آیوش علاج کا احاطہ کرتی ہیں۔
  • عالمی مشغولیت اور ماحولیاتی نظام کی ترقی: میڈیکل ویلیو ٹریول، آیوش کے اہم اقدامات میں ایک نمایاں موضوع ہے۔ اس میں ممبئی (2024) اور چنئی (مئی 2025) میں منعقدہ "آیوش میں عالمی ہم آہنگی: میڈیکل ویلیو ٹریول کے ذریعے صحت و تندرستی کی تبدیلی" سمٹ شامل ہیں۔
  • ہیلتھ سیکٹر اسکلز کونسل کے تحت آیوش سب کونسل جیسے اقدامات کے ذریعے صلاحیت سازی کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔
  • عالمی سطح پر رسائی کو ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی فروغ دیا جا رہا ہے جیسے ڈبلیو ایچ او گلوبل ٹریڈیشنل میڈیسن سمٹ، نو انڈیا پروگرام، اور مہا کمبھ میلہ 2025 کے دوران پیش کیے گئے آیوش اقدامات۔

اسٹریٹجک اقدامات: مرکزی بجٹ 2026-27 کی جھلکیاں

حکومتِ ہند نے مرکزی بجٹ 2026-27 کے ذریعے عالمی طبی مرکز کے طور پر ملک کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بصیرت افروز لائحۂ عمل پیش کیا ہے۔

علاقائی طبی مراکز

ایک اہم تجویز میں ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت کے تحت ملک بھر میں پانچ علاقائی طبی مراکز کے قیام کو شامل کیا گیا ہے۔ ان مراکز کو صحت کی دیکھ بھال کے مربوط کمپلیکس کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو ایک ہی چھت کے نیچے طبی، تعلیمی اور تحقیقی سہولیات فراہم کریں گے۔

علاج کے جامع تجربے کو یقینی بنانے کے لیے ان مراکز میں درج ذیل خصوصیات شامل ہوں گی:

  • خصوصی مراکز: ہر مرکز میں ایک آیوش مرکز اور ایک مخصوص میڈیکل ویلیو ٹورزم (ایم وی ٹی) سہولت شامل ہوگی۔
  • اینڈ ٹو اینڈ (کمل مربوط) نگہداشت: جدید تشخیص، بعد از علاج نگہداشت اور بحالی کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا۔
  • روزگار کی تخلیق: توقع ہے کہ ان کمپلیکسز سے معالجین اور متعلقہ صحت کے پیشہ ور افراد (اے ایچ پیز) کے لیے روزگار کے متنوع مواقع پیدا ہوں گے۔

ہیلتھ انفراسٹرکچر

صحت کی دیکھ بھال کے جدید بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت ادویات کے روایتی نظاموں میں ملک کی صلاحیت کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

  • آیوروید میں تعلیم، تحقیق اور طبی خدمات کو وسعت دینے کے لیے تین نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔
  • اس کے علاوہ، جام نگر میں ڈبلیو ایچ او گلوبل سینٹر فار ٹریڈیشنل میڈیسن کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ روایتی ادویات کے نظام میں شواہد پر مبنی تحقیق اور عالمی تعاون کو مضبوط کیا جا سکے۔

یہ اقدامات ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کے ماحولیاتی نظام کے تکمیلی ستون کے طور پر طبی علاج کی خدمات اور صحت پر مبنی شفا یابی کی روایات دونوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے مربوط نقطۂ نظر کی عکاسی کرتے ہیں۔

معیار اور حکمرانی کے لیے لائحۂ عمل

ہندوستان کے مسابقتی فائدے کو برقرار رکھنے کے لیے وزارتِ سیاحت نے طبی اور فلاح و  بہبود کی سیاحت کے لیے ایک قومی حکمتِ عملی اور لائحۂ عمل تیار کیا ہے۔

یہ لائحۂ عمل حکمرانی کے تین اہم شعبوں پر مرکوز ہے:

ادارہ جاتی فریم ورک: نیشنل میڈیکل اینڈ ویلنس ٹورازم پروموشن بورڈ (این ایم ڈبلیو ٹی بی) وزارتوں، ریاستی حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک چھتری تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے۔

معیار کی یقین دہانی: حکومت ہسپتالوں، فلاحی مراکز اور دندان سازی کے کلینکس کے لیے این اے بی ایچ ایکریڈیشن کو مضبوط بنا رہی ہے۔ یہ بین الاقوامی اعتماد کے فروغ کے لیے میڈیکل ویلیو ٹریول (ایم وی ٹی) سہولت کاروں کی رجسٹریشن اور درجہ بندی کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

ہنر اور صلاحیت سازی: مرکزی بجٹ 2026-27 میں 12 ہفتوں کے تربیتی کورس کے ذریعے 20 ممتاز سیاحتی مقامات پر 10,000 گائیڈز کو ہنرمند بنانے کی ایک پائلٹ اسکیم تجویز کی گئی ہے۔ مزید برآں، پیرامیڈیکل اور غیر طبی عملے کو بین الاقوامی مریضوں کی بہتر خدمت کے لیے ثقافتی حساسیت اور غیر ملکی زبانوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔

ان نظم و نسق اور معیار سے متعلق اقدامات کو یکجا کرکے حکومت کا مقصد ہندوستان کو مکمل شفا یابی کے لیے سال بھر کی منزل کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اس مربوط ابلاغی حکمتِ عملی کو "انکریڈیبل انڈیا" کے ذیلی برانڈ کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے ہندوستان ایک زیادہ منظم، ضابطہ بند اور قابلِ اعتماد عالمی مرکز کے طور پر "جامع صحت کی دیکھ بھال کے انقلاب" کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

حکومتی سہولت کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی

حکومت نے مضبوط ڈیجیٹل اور پالیسی اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی مریضوں کے سفر کو ہموار بنایا ہے۔ اس کی بنیاد آزادانہ ویزا نظام ہے، جہاں ای میڈیکل ویزا اور ای میڈیکل اٹینڈنٹ ویزا کی سہولتیں 172 ممالک کے شہریوں تک فراہم کی گئی ہیں۔

مزید برآں، روایتی ہندوستانی علاج کے خواہاں افراد کی سہولت کے لیے نئے زمرے جیسے ای-آیوش ویزا اور ای-آیوش اٹینڈنٹ ویزا بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔

ڈیجیٹل اقدامات "ہیل اِن انڈیا" کے تجربے کو مزید بہتر بنا رہے ہیں:

نظرِ ثانی شدہ ایم وی ٹی پورٹل: حکومت ایک "اینڈ ٹو اینڈ" (کمل مربوط) حل فراہم کرنے کے لیے ون اسٹاپ میڈیکل ویلیو ٹریول پورٹل کو اپ گریڈ کر رہی ہے۔ یہ مریضوں کو خدمات تلاش کرنے، منصوبہ بندی کرنے اور بکنگ کے ساتھ ساتھ ادائیگی کرنے اور بعد از علاج نگہداشت تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ہوائی اڈوں کی سہولت: منصوبوں میں اہم ہوائی اڈوں پر ایم وی ٹی دربان اور لاؤنجز کا قیام شامل ہے۔ اس کا مقصد ایرو برج پر مسافروں کا استقبال کرنا اور امیگریشن، کسٹمز اور سامان کی وصولی کے مراحل میں ان کی رہنمائی کرنا ہے۔

طبی اور فلاح و بہبود کی سیاحت کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار

میڈیکل ویلیو ٹریول کی مربوط ترقی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ایک ادارہ جاتی فریم ورک قائم کیا ہے۔

نیشنل میڈیکل اینڈ ویلنس ٹورازم پروموشن بورڈ (این ایم ڈبلیو ٹی بی): دو ہزار پندرہ میں  وزارتِ سیاحت کے ذریعے تشکیل دیا گیا، جس کی صدارت مرکزی وزیرِ سیاحت کرتے ہیں۔ یہ بورڈ ہندوستان میں طبی اور فلاح و بہبود کی سیاحت کو فروغ دینے اور سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

ملٹی اسٹیک ہولڈر پلیٹ فارم: یہ بورڈ وزارتوں، ریاستی حکومتوں، ہسپتالوں، فلاحی مراکز، ایکریڈیٹیشن اداروں اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کرتا ہے۔ یہ تمام عناصر مل کر میڈیکل ویلیو ٹریول کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

ریاستی سطح پر رابطہ کاری: ریاستوں کو علاقائی ترقی اور فروغ کے لیے وقف طبی اور فلاح و بہبود سیاحتی فروغ بورڈ یا سیل قائم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

صحت اور ثقافتی انضمام کو فروغ دینا

فلاح و بہبود کی سیاحت ہندوستان کی جامع صحت سیاحت کی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ہے۔ یوگا، مراقبہ، آیوروید اور روحانی علاج میں ملک کی بھرپور روایات ثقافتی سیاحت کے ساتھ تندرستی کو مربوط کرنے کے منفرد مواقع فراہم کرتی ہیں۔

یوگا بطور عالمی برانڈ برائے جامع صحت

یوگا قدیم ہندوستانی روایت کا ایک انمول تحفہ ہے، جو سنسکرت کے لفظ 'یوج' (جس کا مطلب ہے "جوڑنا" یا "متحد کرنا") سے ماخوذ ہے۔ یہ ہندوستان کی عالمی نرم طاقت کا ایک بنیادی ستون بن چکا ہے۔ یہ ذہن، جسم، فکر اور عمل کے اتحاد کی علامت ہے اور تندرستی کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر کو فروغ دیتا ہے۔

2025 میں یوگا کا 11 واں بین الاقوامی دن (آئی ڈی وائی) قومی اور عالمی شعور میں تندرستی کو مربوط کرنے کے لیے ایک بنیادی ذریعہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ "یوگا فار ون ارتھ، ون ہیلتھ" کے موضوع کے تحت اس ایونٹ نے یوگا کو پائیداری اور عالمی بہبود سے جوڑا۔

غیر ملکی سیاحوں کی آمد (ایف ٹی اے) کو متوجہ کرتے ہوئے، ہندوستان نے یوگا اور روایتی علاج کے لیے خود کو ایک ترجیحی منزل کے طور پر قائم کیا ہے۔ لوگ خاص طور پر اپنے صحت مند طرزِ زندگی کو برقرار رکھنے یا احتیاطی صحت کی دیکھ بھال کے لیے سفر کرتے ہیں۔ یہ سفر اب حکومت کی مخصوص ای-آیوش ویزا سہولت کے ذریعے نمایاں طور پر ہموار ہو گیا ہے۔

عالمی شفا یابی کے مرکز کی طرف

ہندوستان کا طبی اور فلاح و بہبود کا سیاحتی ماحولیاتی نظام مربوط صحت کی دیکھ بھال کے ایک عالمی سطح پر قابلِ اعتماد ماڈل کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔ یہ جدید طبی بنیادی ڈھانچے کو روایتی نظاموں جیسے آیوش کے ساتھ جوڑتا ہے، جس سے علاج اور احتیاطی نگہداشت دونوں ممکن ہوتی ہیں۔

مضبوط حکومتی پالیسی، ڈیجیٹل سہولت اور بین الاقوامی معیار اس ترقی کی معاونت کر رہے ہیں۔ عالمی رسائی کو بڑھانا میڈیکل ویلیو ٹریول کے لیے ایک جامع منزل کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

جیسے جیسے عالمی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، ہندوستان عالمی صحت کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کے سفر کے مستقبل کی تشکیل میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

حوالہ جات

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی):

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2222142®=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225423®=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2153611®=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221403®=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221485®=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2217203®=3&lang=2

سیاحت کی وزارت:
https://tourism.gov.in/wellness-medical-tourism

https://tourism.gov.in/sites/default/files/2022-05/National%20Strategy%20and%20Roadmap%20for%20Medical%20and%20Wellness%20Tourism.pdf

https://tourism.gov.in/sites/default/files/2026-02/Ministry%20of%20Tourism%20Annual%20Report_2025-26_english.pdf

ہسپتالوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے نیشنل ایکریڈیشن بورڈ:

https://nabh-portal-live.s3.ap-south-1.amazonaws.com/wp-content/uploads/2026/01/21163729/NABH-Newletter-Issue-12-1.pdf

آیوش کی وزارت:

https://ayush.gov.in/assets/pdf/annualReport/DecadeAyushReport.pdf

ایف آئی سی سی آئی:

https://www.ficci.in/sector/medical-value-travel-mvt?utm_

پی ڈی ایف میں دیکھیں

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-6566

(Explainer ID: 158429) आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments