• Sitemap
  • Advance Search
Infrastructure

مینوفیکچرنگ ہبز: مربوط صنعتی ماحولیاتی نظام کی تعمیر

Posted On: 28 APR 2026 11:56AM

 

کلیدی نکات

  • مینوفیکچرنگ پالیسی اب بنیادی ڈھانچے پر مبنی، مربوط ہبز کی ترقی کی طرف منتقل ہو چکی ہے تاکہ بڑے پیمانے، قابلِ اعتماد سسٹم  اور طویل مدتی صنعتی مسابقت کو ممکن بنایا جا سکے۔
  • مرکزی بجٹ میں 3 کیمیکل پارکس، 7 پی ایم متر پارکس، ایم ایس ایم ای کلسٹرز اور 10,000 (دس ہزار) کروڑ روپے کے بایوفارما شکتی پروگرام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
  • سرکاری سرمایہ جاتی اخراجات مالی سال 2014-15 میں 2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2026-27 (بجٹ تخمینہ) میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں، جو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں معاون ہیں۔
  • ایم ایس ایم ایز، جو 7.47 کروڑ انٹر پرائززپر مشتمل ہیں،مینوفیکچرنگ پیداوار کا 35.4 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور ملک بھر میں مینوفیکچرنگ ہبز کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

تعارف

مینوفیکچرنگ  ہندوستان  کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے، جو مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 16–17 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 27 ملین سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ جیسے جیسے ملک 2047 تک 3.7 ٹریلین ڈالر کی معیشت سے بڑھ کر 30–35 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، مینوفیکچرنگ سے توقع ہے کہ وہ  کلیدی  کردار ادا کرے گا، اور اس کا جی ڈی پی میں حصہ بڑھ کر کم از کم 25 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

اس تناظر میں،  ہندوستان  کی مینوفیکچرنگ حکمتِ عملی کا بڑھتا ہوا زور مربوط مینوفیکچرنگ ہبز کی ترقی پر ہے- ایسے جغرافیائی ماحولیاتی نظام جو فزیکل انفراسٹرکچر، ضابطہ جاتی معاونت، مشترکہ سہولیات اور رابطہ کاری کو یکجا کرتے ہیں۔ یہ ہبز بڑے پیمانے پر پیداوار کی حمایت، لین دین کے اخراجات میں کمی اور طویل مدتی صنعتی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جس سے ہندوستان  کی گھریلو اور عالمی پیداوار کے نیٹ ورکس میں پوزیشن مضبوط ہوتی ہے۔

بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں مینوفیکچرنگ ہبز

اقتصادی سروے 2025–26 کے مطابق، عالمی مینوفیکچرنگ ایک ساختی تبدیلی سے گزر رہی ہے، جہاں مسابقت کا انحصار اب کم لاگت پیداوار پر کم اور قابلِ اعتمادیت، مضبوطی  اور اسٹریٹجک اہمیت پر زیادہ ہو گیا ہے۔ جیسے جیسے پیداواری عمل زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی اور نظامی نوعیت کے ہو رہے ہیں، مستحکم اور مربوط مینوفیکچرنگ ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت طویل مدتی صنعتی مسابقت کے لیے ایک اہم عنصر بن گئی ہے۔

وہ ممالک جو مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر لاجسٹکس، مہارت یافتہ افرادی قوت اور مؤثر ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے مستحکم پیداواری ماحول فراہم کرتے ہیں، وہ مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو برقرار رکھنے اور طویل مدتی پیداوار کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔

 

یہ عالمی تبدیلی اور جاری صنعتی رفتار اس رجحان سے تقویت پا رہی ہے جس میں اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ اور گلوبل ویلیو چینز (جی وی سیز) میں اسٹریٹجک ناگزیر حیثیت پر بڑھتا ہوا زور شامل ہے۔ جیسے جیسے مینوفیکچرنگ زیادہ ٹیکنالوجی پر منحصر اور نظامی (سسٹم -ڈپینڈنٹ) ہوتی جا رہی ہے، یہ تیاری، پیداواری صلاحیت (پروڈکٹی وٹی) اور بڑے پیمانے پر توسیع کی استعداد کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

اس تناظر میں، مینوفیکچرنگ ہبز ایسے مربوط ماحولیاتی نظام فراہم کرتے ہیں جن میں مشترکہ بنیادی ڈھانچہ، سپلائی چین کے مضبوط روابط اور لاجسٹکس کنکٹی وٹی شامل ہوتی ہے۔ یہ سہولتیں اداروں کو بڑے پیمانے پر پیداوار کرنے، ویلیو چین میں اوپر جانے اور عالمی پیداواری نیٹ ورکس میں زیادہ مؤثر انداز میں ضم ہونے کے قابل بناتی ہیں۔

 

گلوبلویلیو چین(جی وی سی ) سامان یا خدمات کی پیداوار میں شامل مراحل کی ایک سیریز پر مشتمل ہے، جس میں ہر مرحلہ میں قیمت کا اضافہ ہوتا ہے اور مختلف ممالک میں کم از کم دو مراحل ہوتے ہیں۔

 

بھارت کا صنعتی مینوفیکچرنگ سفر

 ہندوستان  کے بنیادی ڈھانچے کے نقطۂ نظر میں ایک ساختی تبدیلی آئی ہے، جس میں اب منصوبہ جاتی سطح پر عملدرآمد سے ہٹ کر نظامی (سسٹم –لیول) منصوبہ بندی پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی نظامی منصوبہ بندی مینوفیکچرنگ ہبز کی مؤثریت کو براہِ راست بڑھاتی ہے، کیونکہ یہ رکاوٹوں ( بوٹل نیکس) کو کم کرتی ہے، لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور بروقت عملدرآمد کو ممکن بناتی ہے۔

عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات بھی ہندوستان  کو ایک ترجیحی مینوفیکچرنگ منزل کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔  ہندوستا ن  اس وقت دنیا میں تیسری سب سے زیادہ مطلوب مینوفیکچرنگ لوکیشن کے طور پر درجہ بندی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی، پیداوار کی ساخت میں بھی تبدیلی آ رہی ہے، جہاں درمیانی اور اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی سرگرمیاں مجموعی مینوفیکچرنگ ویلیو ایڈڈ کا 46.3 فیصد حصہ بن چکی ہیں، جو صنعتی ڈھانچے میں بتدریج زیادہ جدید اور پیچیدہ تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

منظر نامہ- ہندوستان  کا مینوفیکچرنگ ہب

 

ملک بھر میں مینوفیکچرنگ ہبز کا منظرنامہ ایک کثیر سطحی (ملٹی - لیئرڈ) نظام میں تبدیل ہو چکا ہے، جو پیمانے، شعبہ جاتی ضروریات اور جغرافیائی منصوبہ بندی میں موجود فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اب ایک واحد ماڈل کے بجائے پالیسی سطح پر مختلف اقسام کے مینوفیکچرنگ ہبز کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ آج کا صنعتی منظرنامہ بڑے مربوط پارکس، مخصوص شعبہ جاتی ایکو سسٹمز، ایم ایس ایم ای کلسٹرز اور کوریڈور سے منسلک صنعتی نوڈز پر مشتمل ہے—ہر ایک کا مقصد مختلف پیداواری، لاجسٹکس اور ویلیو چین کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

بڑے مربوط مینوفیکچرنگ ہبز

یہ ایسے ماسٹر پلانڈ صنعتی زونز ہیں جن میں پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر موجود ہوتا ہے۔ ان میں مرکزی ( اینکر) مینوفیکچررز اور ان کے سپلائرز کے پورے نظام کو ایک ہی مقام پر رکھا جاتا ہے۔ یہ ہبز مشترکہ یوٹیلیٹیز، لاجسٹکس سہولیات اور معاون بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں، جس سے منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل اور پیمانے کی معیشت (اکنومکس آف اسکیل) حاصل ہوتی ہے۔ یہ پارکس یا تو متعدد شعبوں پر مبنی ہو سکتے ہیں یا کسی مخصوص شعبے کے گرد تشکیل دیے جاتے ہیں اور انہیں صنعتی کوریڈورز کے اندر یا آزادانہ طور پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔

پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر: استعمال کے لیے تیار سہولیات جو سیٹ اپ کے وقت اور اخراجات کو کم کرتی ہیں، صنعتوں کو تیزی سے کام کرنے اور سرمایہ کاری پر تیزی سے منافع حاصل کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام (این آئی سی ڈی پی)

نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام (این آئی سی ڈی پی) ایک انقلابی اقدام ہے جس کا مقصد  ہندوستان  بھر میں گرین فیلڈ انڈسٹریل اسمارٹ سٹیز قائم کرنا ہے، تاکہ ملک کو عالمی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر مضبوط مقام دلایا جا سکے۔ اب تک حکومت ہند نے 7 صنعتی کوریڈورز اور 13 ریاستوں میں 20 انڈسٹریل اسمارٹ سٹیز کی منظوری دی ہے۔

ان میں سے 4 صنعتی اسمارٹ سٹیز مکمل ہو چکی ہیں، جن میں دھولیرہ (گجرات)، شینڈرا-بڈکن (مہاراشٹر)، انٹیگریٹیڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ گریٹر نوئیڈا (اتر پردیش)، اور انٹیگریٹیڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ وکرم ادیوگ پوری (اجین کے قریب، مدھیہ پردیش) شامل ہیں۔ باقی 16 مختلف مراحل میں ترقی کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

یہ صنعتی نوڈز پلگ اینڈ پلے انفراسٹرکچر اور ملٹی ماڈل کنکٹی وٹی کے ساتھ تیار کیے جا رہے ہیں، تاکہ صنعتوں کو تیز رفتار آغاز، بہتر لاجسٹکس اور مؤثر سپلائی چین سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

پی ایم مترا (پردھان منتری میگا انٹیگریٹیڈ ٹیکسٹائل ریجن اینڈ اپیرل) بڑے مربوط مینوفیکچرنگ ہبز ہیں جو خاص طور پر ٹیکسٹائل ویلیو چین کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان پارکس میں پروسیسنگ، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور مشترکہ سہولیات کو ایک ہی مربوط صنعتی نظام کے تحت رکھا جاتا ہے۔یہ پارکس سات ریاستوں میں منظور کیے گئے ہیں، جن میں تمل ناڈو، تلنگانہ، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور مہاراشٹر شامل ہیں۔

شعبہ جاتی ( سیکٹر-اسپیسیفک) مینوفیکچرنگ ایکو سسٹمز

  • کچھ مینوفیکچرنگ شعبے ایسے ہوتے ہیں جنہیں خصوصی اور زیادہ سرمایہ درکار انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ان کے لیے ایکو سسٹم پر مبنی مینوفیکچرنگ ہبز ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ یہ ہبز پیداواری یونٹس کو سپلائر نیٹ ورکس، ٹیسٹنگ، ریگولیٹری اور اسکل ڈیولپمنٹ انفراسٹرکچر کے ساتھ مربوط کرتے ہیں تاکہ مکمل ویلیو چین کو سہارا دیا جا سکے۔
  • بلک ڈرگ پارک اسکیم:
  • اس اسکیم کے تحت گجرات، ہماچل پردیش اور آندھرا پردیش میں تین بلک ڈرگ پارکس کے قیام کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ عالمی معیار کے مشترکہ انفراسٹرکچر کے ذریعے بلک ڈرگ کی تیاری کی لاگت کم کی جا سکے۔ یہ پارکس مشترکہ سہولیات فراہم کرتے ہیں، جن میں سالوینٹ ریکوری پلانٹس اور مشترکہ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ سسٹمز شامل ہیں، تاکہ کارکردگی بہتر ہو اور ماحولیاتی ضوابط کی پابندی یقینی بنائی جا سکے۔
  • سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس ایکو سسٹمز کو‘سیمی کن انڈیا پروگرام’ اور ‘الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم(ای سی ایم ایس) 2.0 کے تحت سپورٹ کیا جا رہا ہے، جس میں فیبریکیشن، اسمبلی، پیکیجنگ اور ٹسٹنگ شامل ہیں۔ یہ ہبز اہم شعبوں میں ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط بنانے اور عالمی ویلیو چینز کے ساتھ بہتر انضمام کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
  • بایو فارما شکتی(اسٹریٹجی فار ہیلتھ کیئر ایڈوانسمنٹ تھرونالج ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن):اس اقدام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت آئندہ 5  برسوں  میں 10,000 (دس ہزار)کروڑ روپے کے اخراجات سے  ہندوستان  کو ایک عالمی بایو فارما مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر  فروغ دیا جائے گا۔

مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز(ایم ایس ایم ای) مینوفیکچرنگ کلسٹرز

مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز(ایم ایس ایم ایز ) ہندوستان  کے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کا ایک بنیادی ستون ہیں، جن کے علاقائی سطح پر مینوفیکچرنگ ہبز پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایم ایس ایم ایز مجموعی مینوفیکچرنگ پیداوار کا 35.4 فیصد، برآمدات کا 48.58 فیصد اور جی ڈی پی کا 31.1 فیصد حصہ رکھتے ہیں، جو ملک کی صنعتی معیشت میں ان کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ شعبہ 7.47 کروڑ سے زائد اداروں پر مشتمل ہے اور 32.82 کروڑ سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، جس کے باعث یہ زرعی شعبے کے بعد روزگار کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس وسیع پیمانے کی وجہ سے ایم ایس ایم ایز خاص طور پر ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں مینوفیکچرنگ ہبز کی ترقی میں  کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جہاں کلسٹرز عموماً مشترکہ مہارت، مقامی سپلائی نیٹ ورکس اور لاگت کے فوائد کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔

  • مائیکرو اینڈ اسمال انٹرپرائزز – کلسٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایم ایس ای-سی ڈی پی)
  • یہ پروگرام ایم ایس ایم ای کلسٹرز میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، مشترکہ سہولتی مراکز (سی ایف سیز) اور ٹیکنالوجی کی بہتری کو سپورٹ کرتا ہے۔ ایم ایس ای-سی ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر 580 منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جن میں 227 مشترکہ سہولتی مراکز(سی ایف سیز) اور 353 انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ(آئی ڈی) منصوبے شامل ہیں۔
  • انڈیا انڈسٹریل لینڈ بینک(آئی آئی ایل بی)
  • یہ پلیٹ فارم ملک بھر میں صنعتی اسٹیٹس، کلسٹرز، پارکس اور زونز کی میپنگ فراہم کرتا ہے تاکہ صنعتی زمین اور مواقع کی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔
  • اسٹیٹ انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشنز
  • ریاستی صنعتی ترقیاتی ادارے ایم ایس ایم ایز کے لیے صنعتی اسٹیٹس کی ترقی اور انتظام کے ذمہ دار ہوتے ہیں، جو مقامی سطح پر صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔

کوریڈور سے منسلک صنعتی نوڈز

ان ماڈلز کے ساتھ ساتھ کوریڈور پر مبنی صنعتی خطے بھی مینوفیکچرنگ نظام کا اہم حصہ ہیں۔ یہ خطے صنعتی نظام میں جغرافیائی انضمام اور لاجسٹکس کی مؤثریت کو بڑھاتے ہیں اور انہیں صرف علیحدہ پیداواری یونٹس کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے صنعتی ایکو سسٹم کے حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔یہ کوریڈورز بنیادی انفراسٹرکچر، فریٹ کنکٹی وٹی اور ملٹی ماڈل لاجسٹکس فراہم کرتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر صنعتی ارتکاز (اندسٹریل کنسنٹریشن ) سےممکن ہوتا ہے۔

 

ٹرنک انفراسٹرکچر اعلیٰ درجے کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی ہے جس کا بنیادی مقصد ‘کیچمنٹ’ علاقوں کو پیشرفت کے درمیان اشتراک کرنا ہے، جو عام طور پر مقامی حکومتوں کے ذریعہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچے کی مین لائن کی ترقی شامل ہے، جیسے پانی کی فراہمی، نکاسی آب، سیوریج/سیپٹیج، سڑکیں، اسٹریٹ لائٹ، بجلی وغیرہ۔

 

انفراسٹرکچر ہبز کے لیے پالیسی سپورٹ اور بجٹ اعلان

منصوبوں کی تیاری  اور عملدرآمد کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کئی ادارہ جاتی  میکانزم بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ انڈیا انفراسٹرکچر پروجیکٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (آئی آئی پی ڈی ایف) مرکزی اور ریاستی حکام کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے تاکہ ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کے ذریعے قابلِ بینکاری انفراسٹرکچر منصوبے تیار کیے جا سکیں اور ایک مضبوط منصوبہ جاتی پائپ لائن تشکیل دی جا سکے۔ اسی کے ساتھ نیشنل انفراسٹرکچر اینیبلمنٹ انڈیکس (این آئی ای آئی) تیار کیا گیا ہے، جو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں/محکموں کی انفراسٹرکچر فراہمی کے لیے ادارہ جاتی تیاری کا جائزہ لیتا ہے۔

ان اقدامات نے مینوفیکچرنگ ہبز کے لیے سازگار ماحول کو بہتر بنایا ہے۔ ملک بھر میں ریاستی سطح کے اقدامات مختلف شعبوں اور خطوں میں مینوفیکچرنگ ہبز کی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں:

  • اتر پردیش میں چھ مراکز—علی گڑھ، آگرہ، چترکوٹ، جھانسی، کانپور اور لکھنؤ—پر مشتمل ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور تیار کیا جا رہا ہے، جو دفاعی اور ایرو اسپیس مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گا۔
  • تمل ناڈو، جسے “ایشیا کا ڈیٹرائٹ” بھی کہا جاتا ہے، نے الیکٹرانکس اور آٹوموبائل مینوفیکچرنگ کلسٹرز کو وسعت دی ہے، جنہیں مخصوص صنعتی پارکس اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی مدد حاصل ہے۔
  • گجرات اپنی صنعتی اسٹیٹس اور بندرگاہوں سے منسلک مینوفیکچرنگ ہبز کے ذریعے بڑے پیمانے پر صنعتی سرمایہ کاری کو مسلسل راغب کر رہا ہے۔

اسی طرح، دہلی–ممبئی انڈسٹریل کوریڈور اور چنئی–بنگلور انڈسٹریل کوریڈور جیسے منصوبے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مربوط عملدرآمد کی مثال ہیں، جہاں صنعتی نوڈز مشترکہ ادارہ جاتی فریم ورک اور مرحلہ وار انفراسٹرکچر فراہمی کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں۔

احالیہ برسوں میں پالیسی فریم ورک نے انفراسٹرکچر پر مبنی مربوط مینوفیکچرنگ کی تشکیل پر زور دیا ہے، جس سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ صنعتی مسابقت صرف کمپنی سطح کی پالیسیوں سے نہیں بلکہ انفراسٹرکچر، ہم آہنگی اور مؤثر عملدرآمد سے برقرار رہتی ہے۔

یہ حکمت عملی نیشنل مینوفیکچرنگ مشن، پی ایم مترا پارکس، پی ایم گتی شکتی، ڈجیٹل پبلک پلیٹ فارمز (جیسےیوایل آئی پی)، شعبہ جاتی صلاحیت سازی کے اقدامات اور صنعتی کوریڈورز، پارکس اور کلسٹرز جیسے اقدامات میں نظر آتی ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر لاجسٹکس کی رکاوٹوں، مالیاتی تاخیر اور ہم آہنگی کی کمی کو کم کرنے کا مقصد رکھتے ہیں، جو پہلے صنعتی مسابقت کو متاثر کرتے تھے۔

مرکزی بجٹ 2026-27 اس سمت میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے، جس میں مینوفیکچرنگ پارکس، مشترکہ سہولیات اور بہتر کنکٹی وٹی کے ذریعے انفراسٹرکچر پر مبنی مینوفیکچرنگ کو مزید فروغ دیا گیا ہے۔ بجٹ مینوفیکچرنگ کے ہب بیسڈ ماڈل کو مزید مستحکم کرتا ہے، جس میں پیمانہ (اسکیل)، قابلِ اعتمادیت اور ویلیو چینز کے درمیان مضبوط روابط پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

ہے۔

2026-27 کے اہم بجٹ کے اعلانات: مینوفیکچرنگ کے مرکز

سیکٹر/علاقہ

اعلان

 

کیمیکل

مشترکہ یوٹیلیٹیز، حفاظتی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کنکٹی وٹی کے ساتھ کلسٹر پر مبنی کیمیکل مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے کے لیے تین نئے کیمیکل پارکس قائم کیے جائیں گے۔

 

ٹیکسٹائل

7پی ایم –مترا(میگا انٹیگریٹیڈ ٹیکسٹائل ریجن اینڈ اپیرل) پارکس پر عمل درآمد کو پہلے منظور کیا گیا، جس کا مقصد بڑے، مربوط ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ ہبز بنانا ہے۔

ایم ایس ایم ای( مائیکرو،ا سمال اور میڈیم انٹرپرائزز)) مینوفیکچرنگ کلسٹر

مشترکہ پیداوار، جانچ اور معیاری انفراسٹرکچر تک ایم ایس ایم ای کی رسائی میں مدد کے لیے کلسٹر پر مبنی مینوفیکچرنگ اور مشترکہ سہولت مراکز(سی ایف سیز) کو مضبوط بنانا ۔

 

کیپٹل گڈز/ انڈسٹریل سپورٹ انفراسٹرکچر

ڈومیسٹک کیپٹل گڈز اور صنعتی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹول رومز، ٹسٹنگ، اور سہولیات کے لیے معاونت ۔

 

مینوفیکچرنگ سے منسلک انفراسٹرکچر پلاننگ

صنعتی اور مینوفیکچرنگ مقامات سے جڑے انفراسٹرکچر کی مربوط، ملٹی ماڈل منصوبہ بندی کے لیے پی ایم گتی شکتی کا مسلسل رول آؤٹ ۔

 

عالمی بایوفارما اور مینوفیکچرنگ ہب: بایو فارما شکتی

بایو فارما فوکسڈ مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کی تعمیر کے لیے پانچ برسوں میں10,000 (دس ہزار)کروڑ کا خرچ ، جس میں تین نئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ(این آئی پی ای آر ایس ) اور 1,000 سے زیادہ تسلیم شدہ کلینیکل ٹرائل سائٹس کا ملک گیر نیٹ ورک شامل ہے ۔

خلاصہ

جیسے جیسے ہندوستان  2047 تک ‘وکست بھارت’ بننے کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے، مینوفیکچرنگ مسلسل اقتصادی ترقی اور روزگار پیدا کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ اقتصادی سروے اور مرکزی بجٹ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پالیسی سپورٹ اور عوامی سرمایہ کاری کے ذریعے انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی اور مربوط صنعتی ایکو سسٹمز کو مضبوط بنانا کس قدر اہم ہے۔

اس حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں پر بڑھتا ہوا توجہ ہے، جہاں مینوفیکچرنگ ہبز کو لاگت کے فوائد، مقامی مہارتوں اور بہتر کنکٹی وٹی کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ ان خطوں پر مسلسل توجہ، مربوط حکومتی پالیسیوں اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ اس بات کے لیے ضروری ہوگی کہ مینوفیکچرنگ پر مبنی ترقی وسیع البنیاد(بورڈ-بیسڈ) ، مضبوط اور ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی اہداف کے مطابق ہو۔

حوالہ جات

اقتصادی سروے

https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf

یونائٹیڈ

https://www.unido.org/sites/default/files/unido-publications/2024-11/IID%20Policy%20Brief%2015%20-%20Manufacturing-led%20growth.pdf

Ministry of Commerce & Industry

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114840&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1734169&reg=3&lang=2

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/183/AU3656_lSj6wd.pdf?source=pqals#:~:text=1.97%20lakh%20crore%20to%20enhance,been%20placed%20at%20Annexure%20I

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2081537&reg=3&lang=2

Ministry of Finance:

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219990&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221443

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2219991&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2221458&reg=1&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219992&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219984&reg=20&lang=1

DPIIT

https://www.dpiit.gov.in/offerings/schemes-and-services/details/industrial-corridors-YjM2UDNtQWa

https://pmgatishakti.gov.in/pmgatishakti/login#:~:text=The%20National%20Master%20Plan%20will,terms%20of%20time%20and%20cost.&text=Individual%20Ministries%20and%20Departments%20often,coordination%20of%20work%20between%20them.&text=The%20plan%20will%20provide%20the,visibility%20to%20the%20executing%20agency.&text=All%20Ministries%20and%20Departments%20will,and%20updating%20the%20master%20plan.

Ministry of Education, NIOS

https://nios.ac.in/media/documents/SrSec318NEW/318_Learner_guide_eng/318_LG_E_L29.pdf

Gujarat State Government

https://www.vibrantgujarat.com/invest-gujarat

Tamil Nadu State Government

https://spc.tn.gov.in/wp-content/uploads/TN_AUTOMOTIVE_FUTURE.pdf

Uttar Pradesh State Government

https://invest.up.gov.in/defence-aerospace-sector/

IBEF

https://www.ibef.org/industry/manufacturing-sector-india

https://www.ibef.org/government-schemes/pm-gati-shakti-yojana

https://www.ibef.org/blogs/changing-india-s-industrial-environment-an-overview-of-the-national-industrial-corridor-development-programme-nicdp

Ministry of Housing and Urban Affairs

https://pmay-urban.gov.in/uploads/guidelines/Operational-Guidelines-of-PMAY-U-2.pdf#:~:text=(SLNA)%20Nodal%20Agency%20designated%20by%20the%20State/UT,between%20developments%2C%20commonly%20provided%20by%20local%20governments

Ministry of Electronics & IT

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221522&reg=3&lang=1

Ministry of Micro,Small & Medium Enterprises

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1982305&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1911134&reg=3&lang=2

Indian Industrial Land Bank

https://indiaindustriallandbank.gov.in/exploreParkReport

NITI Aayog

https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2025-04/India_Hand_Power_Tools_Sector_Report.pdf

NICDC

https://www.nicdc.in/projects/4-projects-developed/integrated-industrial-township-vikram-udyogpuri

Ministry of Textiles

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2117663&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2205530&reg=3&lang=2

Ministry of Chemicals and Fertilizers

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224376&reg=3&lang=2

Council of State Industrial Development and Investment Corporations of India (COSIDICI)

https://www.cosidici.com/

 

See In PDF

***

ش ح- ظ الف

UR-6395

(Explainer ID: 158390) आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati