Social Welfare
حاشیے سے مرکزی دھارے تک
کس طرح ملک میں اسمائل ( ایس ایم آئی ایل ای) زندگیاں بدل رہی ہے
Posted On:
20 APR 2026 10:33AM
اہم نکات
- 2021 سے 2026 کے لیے حکومت کی طرف سے اسمائل اسکیم کے لئے 390 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
- مارچ 2026 تک بھیک مانگنے سے متعلق ذیلی اسکیم کے تحت 31,055 افراد کی نشاندہی کی گئی اور 9,935 افراد کی بحالی مکمل کی گئی۔ یہ اعداد و شمار زمینی سطح پر اس اسکیم کے وسیع پیمانے پر نفاذ اور عملی پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔
- اس وقت 17 ریاستوں میں 21 گرِیما گرہ فعال ہیں، جبکہ اگست 2025 میں مزید 3 کی منظوری دی گئی ہے۔
- آیوشمان بھارت ٹی جی پلس کے تحت ہر ٹرانسجینڈر فرد کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک صحت کوریج فراہم کیا جاتا ہے، جس میں صنفی تصدیقی علاج، ہارمون تھراپی اور جنس کی تبدیلی سے متعلق سرجریاں شامل ہیں، اور یہ سہولت پینل میں شامل (منظور شدہ) اسپتالوں میں دستیاب ہوتی ہے۔
اسمائل (ایس ایم آئی ایل ای )کیا ہے؟ تعلق اور شمولیت کا ایک پل
بھارت ایک ارب کہانیوں کا ملک ہے اور ایک ایسی حکومت جو اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ ان میں سے ہر کہانی سنی جائے۔ سب سے اہم کہانیاں ان برادریوں کی ہیں جو طویل عرصے سے مواقع کے حاشیے پر رہی ہیں۔ ان میں دو نمایاں گروہ ٹرانسجینڈر افراد ہیں، جو ایک ایسی دنیا میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں جو ہمیشہ ان کی ضروریات کے مطابق نہیں ہوتی؛ اور بھیک مانگنے میں مصروف افراد، جن کی حالاتِ زندگی اکثر حمایت اور مواقع کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

ان برادریوں کی شناخت ان بے پناہ صلاحیتوں سے ہوتی ہے جنہیں درست معاونت اور مداخلت کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
بھارت کے پاس صحت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں فلاحی پروگراموں کا ایک مضبوط نظام پہلے سے موجود ہے۔ جو چیز پہلے موجود نہیں تھی وہ ایک مخصوص پل تھا ۔ ایسا پل جو پسماندہ طبقات کو ان موجودہ مواقع سے جوڑ سکے، اور ان رکاوٹوں کو دور کرے جن کاجیسے دستاویزات کی کمی، محدود بیداری اور رسائی کی پابندیاں کا وہ سامنا کرتے ہیں۔
ایس ایم آئی ایل سی (سپورٹ فار مارجنلائزڈ انفرٲدیز فار لائیولی ہڈ اینڈ انٹرپرائز اسکیم)اس پل کا کام کرتی ہے ۔ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت[1]کے ذریعہ 12 فروری 2022 کو شروع کیا گیا ، یہ ہندوستان کا پہلا متحد قومی فریم ورک ہے جو ہر مرحلے پر ان برادریوں کی مدد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے: شناخت اور بچاؤ سے لے کر ، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی کے ذریعے ، مشاورت ، ہنر مندی کی ترقی اور طویل مدتی معاشی آزادی تک ۔
سرمایہ کاری اور ارادے کا رشتہ
اسمائل اسکیم کا مجموعی بجٹ 2021-22 سے 2025-26 کے دوران 365 کروڑ روپے ہے، جس میں سے 265 کروڑ روپے ٹرانس جینڈر فلاح و بہبود کے لیے اور100 کروڑ روپےبھکاریوں کی بازآبادکاری کے لیے مختص کیے گئے ہیں[2]۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال بجٹ میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے، جو حکومت کی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ دونوں ذیلی اسکیموں کو مرحلہ وار طور پر وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
s.
|
Year
|
Transgender Welfare (₹ Cr)
|
Beggary Rehabilitation (₹ Cr)
|
Total (₹ Cr)
|
|
2021–22
|
25
|
10
|
35.00
|
|
2022–23
|
46.31
|
15
|
61.31
|
|
2023–24
|
52.91
|
30
|
82.91
|
|
2024–25
|
63.90
|
33
|
96.90
|
|
2025–26
|
76.88
|
37
|
113.88
|
|
TOTAL
|
265
|
125
|
390
|
بھارت کی ٹرانسجینڈر برادری کے ساتھ کھڑا ہونا

بھارت نے ٹرانسجینڈر برادری کی تاریخی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے جامع قانونی تحفظات، فلاحی اسکیموں اور ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے اہم پیش رفت کی ہے۔ یہ تبدیلی معاشرے میں شمولیت اور مساوات کو فروغ دینے کے بڑھتے ہوئے شعور اور کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ برادری ریاست کی طرف سے تحفظ اور معاونت کی مستحق ہے، حکومتِ ہند نے ٹرانسجینڈر افراد (حقوق کا تحفظ) ایکٹ، 2019 نافذ کیا، جو امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے اور تعلیم، روزگار، صحت اور دیگر عوامی خدمات تک رسائی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی ایکٹ کے مطابق اسمائل (ایس ایم آئی ایل ای ) اسکیم کے تحت ٹرانسجینڈر افراد کی جامع بحالی کا ذیلی منصوبہ نافذ کیا گیا ہے[3]۔
اہم اجزاء[4]:
ٹرانسجینڈر طلبہ کے لیے اسکالرشپس
یہ اسکیم کلاس 9 سے لے کر پوسٹ گریجویشن تک ٹرانسجینڈر طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے، جس میں سیکنڈری، ہائر سیکنڈری، انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور یو جی سی ، اے آئی ٹی سی سی یا این سی وی ٹی کے تحت منظور شدہ تکنیکی/ووکیشنل کورسز شامل ہیں۔
اس کے لیے نیشنل پورٹل سے جاری شدہ درست ٹرانسجینڈر سرٹیفکیٹ، تسلیم شدہ ادارے میں فل ٹائم داخلہ (یا منظور شدہ فاصلاتی/کوریسپانڈنس پروگرام) اور کسی بھی دیگر مرکزی یا ریاستی اسکالرشپ کا نہ ملنا ضروری ہے۔ یہ ہر تعلیمی سال کے لیے صرف ایک بار فراہم کی جاتی ہے (اور ریپیٹ کیے گئے سالوں کے لیے نہیں)
ہنر مندی کی ترقی اور روزگار
پی ایم -دکش (پردھان منتری دکشتا اور کوشلتا سمپن ہِت گراہِی یوجنا) ایک قومی اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام ہے جو پسماندہ طبقات بشمول شیڈول کاسٹ، او بی سی، اقتصادی طور پر کمزور طبقات، صفائی کرمچاریوں اور ٹرانسجینڈر افراد کو پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے تاکہ ان کی روزگار کی صلاحیت اور آمدنی میں اضافہ ہو۔
یہ تربیت انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) اور سیکٹر اسکل کونسلوں کے ذریعے دی جاتی ہے، جبکہ انٹرپرینیورشپ پروگرامز آئی آئی ای اور این آئی ای ایس بی یو ڈیکے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کا انضمام پی ایم -دکش آئی ٹی پلیٹ فارم اور نیشنل ٹرانسجینڈر پورٹل سے کیا گیا ہے تاکہ شفاف نگرانی ممکن ہو۔ پائلٹ بنیاد پر ملک بھر میں 18 انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جن کے تحت 1800 ٹرانسجینڈر افراد کو کاروباری منصوبہ بندی (بزنس پلاننگ)، بازار کی تشخیص( مارکیٹ اسیسمنٹ)، ضابطوں کی تعمیل (ریگولیٹری کمپلائنس)، مالی رسائی اور انکیوبیشن مراکز/بینکوں سے رابطے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
جامع طبی صحت سہولتیں
پی ایم-جے اے وائی (پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا/آیوشمان بھارت) کے ساتھ مل کر ایک جامع صحت پیکج فراہم کیا گیا ہے جس میں عام صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ پینل میں شامل اسپتالوں کے ذریعے صنفی تصدیق کے طریقہ کار کا احاطہ کیا گیا ہے ۔

اور سخت غیر امتیازی پالیسیاں بھی اس پورے نظام کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔
گریما گرہ (شیلٹر ہومز)
2021 میں شروع کیے گئے یہ شیلٹر ہومز ٹرانسجینڈر افراد کو محفوظ اور باعزت رہائش فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر اُن لوگوں کو جو خاندانی ردّ عمل یا سماجی بدنامی کی وجہ سے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ہر مرکز میں خوراک، طبی سہولیات، تفریحی سرگرمیاں اور موقع پر ہنر سکھانے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ یہ مراکز کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن (سی بی او) کے ذریعے چلائے جاتے ہیں اور ان کے لیے مالی معاونت محکمۂ سماجی انصاف اور تفویض اختیارات (ڈی او ایس جے ای)فراہم کرتا ہے۔
ٹرانسجینڈر پروٹیکشن سیلز
ہر ریاست میں ایک خصوصی ٹرانسجینڈر تحفظ سیل قائم کرنا لازم ہے، جو ٹرانسجینڈر افراد کے خلاف جرائم کی نگرانی کرے اور ان مقدمات کی فوری ایف آئی آر، تفتیش اور قانونی کارروائی کو یقینی بنائے۔ یہ سیلز ٹرانسجینڈر افراد (حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2019 کے تحت حقوق کو عملی طور پر نافذ کرنے کا اہم ادارہ جاتی نظام ہیں، جو قانونی دفعات کو زمینی سطح پر مؤثر انصاف میں بدلتے ہیں۔
نیشنل پورٹل اور ہیلپ لائن
نیشنل پورٹل برائے ٹرانسجینڈر افراد (transgender.dosje.gov.in) ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جہاں سے ٹرانسجینڈر سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ دستاویزات اسمائل (ایس ایم آئی ایل ای ) اسکیم اور دیگر سرکاری مراعات تک رسائی کے لیے لازمی ہیں۔
اسمائل (ایس ایم آئی ایل ای) اسکیم کے تحت مالی معاونت سے چلنے والے تمام گریما گرہ کو جیو-ٹیگ کیا گیا ہے تاکہ نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے[5]۔


قانونی اور پالیسی بنیاد:بھارت میں ٹرانسجینڈر افراد کے لیے دیگر اہم مرکزی حکومتی اقدامات درج ذیل ہیں[6]:
ٹرانسجینڈر افراد (حقوق کا تحفظ) ایکٹ، 2019:یہ بنیادی قانون ٹرانسجینڈر شناخت کو قانونی طور پر تسلیم کرتا ہے، اور تعلیم، روزگار، صحت اور عوامی خدمات میں ہر قسم کے امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس میں حکومت پر فلاحی ذمہ داریاں بھی عائد کی گئی ہیں، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں 2 سال تک قید کی سزا مقرر ہے۔
ٹرانسجینڈر افراد (حقوق کا تحفظ) قواعد، 2020:یہ قواعد اس ایکٹ کے نفاذ کو عملی شکل دیتے ہیں۔ ان کے تحت ٹرانسجینڈر پروٹیکشن سیل (20 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم) اور ٹرانسجینڈر ویلفیئر بورڈز (25 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم) کا قیام لازمی قرار دیا گیا ہے، جو جرائم کی نگرانی، حقوق کے تحفظ اور سرکاری اسکیموں تک رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔
نیشنل کونسل برائے ٹرانسجینڈر افراد:یہ ایک قانونی ادارہ ہے جو مرکزی حکومت کو پالیسی سازی اور قانون سازی میں مشورہ دیتا ہے، فلاحی اسکیموں کے نفاذ کی نگرانی کرتا ہے، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ قائم کرتا ہے اور ٹرانسجینڈر افراد کی شکایات کے ازالے کو یقینی بناتا ہے۔
پی ایم - دکش:یہ نیشنل بیک ورڈ کلاسز فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این بی سی ایف ڈی سی) کا اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام ہے، جسے ٹرانسجینڈر افراد تک بھی بڑھایا گیا ہے۔ اس کے تحت پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے اور 80 فیصد یا اس سے زیادہ حاضری رکھنے والے مستفید افراد کو ماہانہ ایک ہزار روپےوظیفہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
بھیک سے آگے: بحالی کا راستہ
بھکاریوں کی جامع بحالی کے لیے اسمائل ذیلی اسکیم کا مقصد حکومت کے اس ہدف کو حاصل کرنا ہے جسے “بھکشا وِرِتی مکت بھارت” (بھیک سے پاک بھارت) کہا جاتا ہے۔ یہ اسکیم متاثرہ افراد کی مکمل بحالی کے لیے جامع اقدامات پر مشتمل ہے۔

یہ اسکیم کیسے کام کرتی ہے؟
یہ اسکیم مختلف سطحوں پر چلائی جاتی ہےیعنی عملی ادارے جیسے ضلعی انتظامیہ، شہری مقامی ادارے ،میونسپل کارپوریشنز اور دیگر وہ ادارے جو بھیک مانگنے کے خاتمے کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مدد لوگوں تک اُن کی اپنی جگہ اور مقامی ضروریات کے مطابق پہنچ سکے۔
اسکیم کیا کرتی ہے؟
سروے اور شناخت :سب سے پہلے مقامی ٹیمیں اپنے علاقوں میں جا کر بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
متحرک کرنا اور مشاورت: اس مرحلے میں بھیک مانگنے میں مصروف افراد کی نشاندہی کے بعد انہیں موقع پر ہی مشاورت کے ذریعے متحرک کیا جاتا ہے، اور اس عمل میں شامل عملے کو تربیت دی جاتی ہے۔ اس عمل میں پولیس، رضاکاروں اور دیگر اداروں کی اہم معاونت حاصل ہوتی ہے۔
پناہ گاہ اور دیکھ بھال :افراد کو بچا کر شیلٹر ہومز میں لایا جاتا ہے، جہاں انہیں خوراک، تحفظ اور بنیادی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے۔
ہنر مندی کی تربیت: اس کے بعد انہیں مختلف ہنر کی تربیت دی جاتی ہے، جیسے بڑھئی کا کام، سلائی، کھانا پکانا، باغبانی، سیکیورٹی کا کام، صفائی ستھرائی، اور یہاں تک کہ ای رکشہ چلانا، تاکہ وہ اپنی روزی خود کما سکیں۔ اس کے ساتھ سیلف ہیلپ گروپس تشکیل دیے جاتے ہیں اور افراد کو بینکوں سے جوڑا جاتا ہے تاکہ وہ مالی مدد حاصل کر سکیں اور اپنا چھوٹا کاروبار شروع کر سکیں۔
مثبت تبدیلی اور بحالی: ان افراد کے لیے جنہیں خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے بزرگ یا نشے کی لت سے صحت یاب ہونے والے افراد، اس اسکیم کے تحت انہیں اولڈ ایج ہومز، ڈی ایڈکشن سینٹرز اور دیگر سرکاری پروگراموں سے جوڑا جاتا ہے۔بحالی کے بعد بھی اس اسکیم کے ذریعے فالو اپ کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افراد بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور دوبارہ سابقہ حالات کی طرف نہ لوٹ جائیں۔ اس میں انفرادی مشاورت، گروپ تھراپی، تعلیمی و اصلاحی نشستیں اور خاندانی کلاسز کا بھی انتظام شامل ہے۔

اسمائل بھکاری ذیلی اسکیم فی الحال ملک بھر کے 181 منتخب شہروں میں کام کر رہی ہے ۔ [7] بحالی مراکز اور شیلٹر ہومز کی تفصیلات اسمائل-بیگری نیشنل پورٹل کے ذریعے اکٹھا ، رجسٹرڈ اور نگرانی کی جاتی ہیں ۔
بچاؤ اور بحالی کی کہانیاں
اسمائل اسکیم اپنی پیش رفت کا اندازہ ان شہروں کی تعداد، شناخت شدہ افراد کی تعداد، اور بحال کیے گئے افراد کی بنیاد پر لگاتی ہے۔ لیکن ہر ایک عدد کے پیچھے ایک مکمل سفر چھپا ہوتا ہے - سڑکوں سے خود کفالت تک، مایوسی سے وقار تک۔ جیوتی اور سنیل ایسے ہی دو سفر کی مثالیں ہیں۔

آگے کا راستہ
اسمائل(ایس ایم آئی ایل ای ) اسکیم بھارت میں اپنے انتہائی پسماندہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ انفرادی اور الگ الگ مسائل کو حل کرنے والی محدود اسکیموں کے بجائے ایک مربوط نظام کے ذریعے کام کرتی ہے، جو شناخت، صحت، تعلیم، روزگار اور رہائش جیسے پہلوؤں کو ایک ہم آہنگ فریم ورک میں شامل کرتی ہے۔ اس کا منطق واضح ہے: چونکہ محرومی کئی جہتی ہوتی ہے، اس لیے اس کا حل بھی جامع اور کثیر الجہتی ہونا چاہیے۔
اسمال کو پہلے کے فلاحی اقدامات سے جو چیز ممتاز بناتی ہے وہ اس کا ساختی تبدیلی پر زور ہے۔ اس کے ہر جزو کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صرف فوری ریلیف نہ دے بلکہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں اس ریلیف کی ضرورت ہی کم سے کم رہ جائے۔ حتمی مقصد کسی اسکیم پر انحصار نہیں بلکہ معاشرے میں مکمل اور باوقار شمولیت ہے۔
یہ عزم اسکیم کے مسلسل بڑھتے ہوئے بجٹ، اس کے نفاذ کے لیے شراکت دار اداروں کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک، اور ہر سال بڑھنے والی ان زندگیاں میں جھلکتا ہے جن تک یہ پہنچ رہی ہے۔ اسمائل، اپنے نام کے حقیقی مفہوم کے مطابق، اس یقین پر مبنی ایک پروگرام ہے کہ وقار کوئی ایسا استحقاق نہیں جو منتخب طور پر دیا جائےبلکہ بغیر کسی استثنا کےیہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔
حوالہ جات:
Press Information Bureau:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2226198®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156087&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154411&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1797968®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1806161®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1854141®=3&lang=2
Ministry of Social Justice and Empowerment:
https://sansad.in/getFile/annex/270/AU1412_hQNZgG.pdf?source=pqars
https://grants-msje.gov.in/display-smile-guidelines
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU4151_fq0zUf.pdf?source=pqals#:~:text=(b):%20At%20present%2C%2018,supported%20by%20DOSJE%20is%20429.
https://transgender.dosje.gov.in/Applicant/Registration/DisplayForm4
https://transgender.dosje.gov.in/docs/Other%20Welfare%20Measures_SMILE%20Guidelines.pdf
PRS India:
https://prsindia.org/billtrack/the-transgender-persons-protection-of-rights-bill-2019
پی ڈی ایف دیکھیں
**********
ش ح۔ ش آ۔ش ب ن
U. No-6058
(Explainer ID: 158266)
आगंतुक पटल : 8
Provide suggestions / comments