• Sitemap
  • Advance Search
Farmer's Welfare

 ہندوستان کے ماہی گیری کے شعبے کی ترقی

ادارہ جاتی، سرمایہ کاری اور شمولیت

Posted On: 06 APR 2026 12:16PM

 

Key Takeawaysاہم نکات

مرکزی بجٹ27-2026 میں ماہی گیری کے شعبے کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ بجٹ سپورٹ یعنی 2,761.80 کروڑ روپے تجویز کی گئی ہے۔

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجناماہی گیری کی ترقی  میں کا مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کے لیے27-2026 میں 2,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کسان کریڈٹ کارڈ کے فوائد 4.39 لاکھ ماہی گیروں تک پہنچ چکے ہیں، 33 لاکھ افراد کو بیمہ کوریج دی گئی ہے، جبکہ تقریباً 7.44 لاکھ ماہی گیر خاندانوں کو روزگار کی معاونت فراہم کی گئی ہے۔

مچھلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 14-2013 میں 95.79 لاکھ ٹن سے بڑھ کر مالی سال25-2024 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی ہے، یعنی تقریباً 106 فیصد  کااضافہ ہوا ہے۔

تعارف

image004GR6Q.jpg

 ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 8 فیصد حصہ رکھتا ہے۔ ماہی گیری کا شعبہ خاص طور پر ساحلی اور دیہی معیشتوں میں قومی غذائی تحفظ، روزگار کی فراہمی اور آمدنی میں اضافے کے لیے نہایت اہم ہے ۔ اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ زرعی مجموعی قدر افزوده(جی وی اے) کا تقریباً 7.43 فیصد حصہ رکھتا ہے، جو زرعی اور متعلقہ شعبوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی اہمیت مسلسل پالیسی ترجیحات سے بھی مضبوط ہو رہی ہے۔

مسلسل حکومتی اقدامات کے نتیجے میں، مچھلی کی مجموعی پیداوار مالی سال14-2013 میں 95.79 لاکھ ٹن سے بڑھ کر مالی سال 25-2024 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی، جو کہ 106 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی دوران سمندری خوراک کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ مالی سال25-2024 میں 62,408 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔

منجمد جھینگا برآمدات میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور چین اس کے اہم بازار ہیں، جو اس شعبے کے بڑھتے ہوئے حجم اور عالمی سطح پر اس کی مسابقتی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

image005IUQG.jpg

ماہی گیری کے شعبے کے لیے مرکزی بجٹ

 مرکزی بجٹ27-2026میں ماہی گیری کے شعبے کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ رقم یعنی 2,761.80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی پالیسی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کل رقم میں سے 2,530 کروڑ روپے ہدفی حکومتی اسکیموں کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے، جن میں مالی امداد، سرمایہ جاتی سبسڈی، بیمہ کوریج، صلاحیت سازی کے اقدامات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور فلاحی معاونت شامل ہیں، تاکہ ماہی گیروں اور فش فارمرز کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکے۔

 ہندوستان کے ماہی گیری کے شعبے میں ادارہ جاتی ترقی

بھارت میں ماہی گیری کا شعبہ معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جو غذائی تحفظ، روزگار، برآمدات اور لاکھوں ماہی گیروں کی روزی روٹی میں خاص طور پر ساحلی اور دیہی علاقوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ بلیو ریولیوشن کے بعد اس شعبے میں روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک منظم، ٹیکنالوجی پر مبنی اور ویلیو چین پر مرکوز نظام کی طرف پیش رفت ہوئی ہے، جو پائیدار ترقی کے اہداف ( ایس ڈی جی) کے مطابق ہے۔پالیسی اقدامات کے تحت سمندری، اندرونی اور آبی زراعت  کے شعبوں میں مربوط ویلیو چین کی ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔ ماہی گیری کی بندرگاہوں، لینڈنگ سینٹرز، کولڈ چین لاجسٹکس، پروسیسنگ انفراسٹرکچر، گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں اور جدید آبی زراعتی نظاموں میں سرمایہ کاری کے ذریعے برآمدی مسابقت اور ویلیو ایڈیشن کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

بلیو ریوولوشن

بلیو ریوولوشن، جو 2015 میں شروع کی گئی ہے، کا مقصد اندرونی اور سمندری دونوں شعبوں میں مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا اور فشریز ویلیو چین کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت پیداواری صلاحیت بڑھانے، بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور جدید طریقوں کو فروغ دینے پر زور دیا جاتا ہے۔

ان کوششوں کو مزید آگے بڑھانے اور پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ ، ٹریس ایبلٹی، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود، اور منڈیوں سے روابط کو فروغ دینے کے لیے، حکومت نے 2020 میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی ) کا آغاز کیا ہے، تاکہ اس شعبے کی تیز رفتار ترقی اور تبدیلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اقتصادی جائزہ26-2025 کے مطابق، اجتماعی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے 2,195 فشریز فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز(ایف ایف پی او) قائم کی گئی ہیں، جنہیں 544 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے معاونت فراہم کی گئی، تاکہ منڈی تک رسائی اور مالی شمولیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید برآں، جنوری 2026 تک ماہی گیری پر پابندی اور کم سرگرمی کے ادوارکے دوران غذائی اور روزگار معاونت فراہم کی گئی ہے، جس سے تقریباً 4.33 لاکھ ماہی گیر خاندان مستفید ہوئے۔ اس مقصد کے لیے 1,681.21 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے آمدنی کے استحکام اور سماجی تحفظ کو تقویت ملی ہے۔مجموعی طور پر، 15-2014 سے نافذ کی گئی فشریز سے متعلق اسکیموں نے اندازاً 74.66 لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، جو جامع اور پائیدار معاشی ترقی میں اس شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

 ماہی گیری کےشعبے کے تبدیلی کے سفر کی رہنمائی

بھارت کے  ماہی گیری کے شعبے میں اہم پالیسی اقدامات کی زمانی ترتیب اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ شعبہ صرف پیداوار پر مبنی توسیع سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹلائزیشن اور پائیداری پر مبنی حکمرانی کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ بلیو ریوولوشن (2015) نے  ماہی گیری کو ایک اسٹریٹجک ترقیاتی شعبے کے طور پر دوبارہ متعارف کرایا ہے۔سال19-2018 میں فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ(ایف آئی ڈی ایف) کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد بندرگاہوں، لینڈنگ سینٹرز، کولڈ چینز اور پراسیسنگ یونٹس میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو پورا کرنا تھا۔

 سال 2019 میں کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی )کو ماہی گیری کے شعبے تک توسیع دی گئی ہے، جس سے ادارہ جاتی قرض تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔ اس کے بعد 2020 میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی) شروع کی گئی، جو پیداوار میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ویلیو چین کو مضبوط بنانے پر مرکوز ایک جامع اسکیم ہے۔

 اس کے علاوہ،  پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جدید ایکوا کلچر کے فروغ (22-2021) اور پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ-یوجنا(پی ایم-24-2023)(پی ایم –ایم کے ایس ایس وائی )نے شعبے کی باضابطہ تنظیم، انشورنس، اور مالی شمولیت پر زور دیا ہے۔ نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی) اور میرین فشریز شماریت نے شفافیت اور منصوبہ بندی کو مزید مستحکم کیا ہے۔

سال 2025 میں خصوصی اقتصادی زون( ای ای زیڈ) اور ہائی سیز کے لیے پائیدار ماہی گیری قواعد کے نفاذ نے ضابطہ جاتی پابندی، وسائل کے تحفظ اور طویل مدتی پائیداری کو مزید تقویت دی ہے۔

مجموعی طور پر، یہ شعبہ ایک ہمہ جہتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پیداوار میں اضافہ، ڈیجیٹل انضمام، مضبوط ادارے، اور پائیدار حکمرانی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت بھارت کے  ماہی گیری  کےشعبے کو زیادہ مستحکم اور عالمی سطح پر مسابقتی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

image006MSUX.jpg

پیداواری صلاحیت میں اضافہ، خطرات میں کمی اور ڈیجیٹل حکمرانی کے لیے حکومتی اقدامات

 ماہی گیری کا شعبہ تیزی سے دیہی روزگار، غذائی تحفظ اور برآمدات میں اضافے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہدفی عوامی پالیسی اقدامات کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، مالی شمولیت میں توسیع اور فشریز ویلیو چین میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے پالیسی اقدامات

حکومت نے جدید فارمنگ سسٹمز کو فروغ دینے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور پوسٹ ہارویسٹ  سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، تاکہ نقصانات میں کمی لائی جا سکے اور پیداوار کی بہتر قیمت حاصل ہو۔

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی)

image007V03Y.jpg

 پی ایم ایم ایس وائی کا مقصد مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا، معیار کے معیارات کو بہتر بنانا، تکنیکی جدید کاری کو فروغ دینا،  پوسٹ ہارویسٹ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور  ماہی گیری کی حکمرانی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ اسکیم ایک جامع ویلیو چین نقطۂ نظر اپناتی ہے، جس میں ٹریس ایبلٹی، ادارہ جاتی فشریز مینجمنٹ اور ماہی گیروں کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود پر خاص طور پر زور دیا جاتا ہے۔ مالی سال27-2026 میں 2,500 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ پی ایم ایم ایس وائی ماہی گیری  کے شعبے کی ترقی کا ایک اہم ستون بنی ہوئی ہے۔

مورخہ5 مارچ 2026 تک،پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور شدہ سرگرمیوں میں اندرونی آبی زراعت کے لیے 23,285 ہیکٹر تالابوں کا رقبہ، 52,058 ریزروائر کیجز، 27,189 مچھلی کی نقل و حمل اور ہینڈلنگ یونٹس، 634 ویلیو ایڈڈ انٹرپرائز یونٹس (جن میں آئس پلانٹس اور کولڈ اسٹوریج شامل ہیں)، اور 6,896 مچھلی کی ریٹیل مارکیٹس اور کیوسک شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ معاون بنیادی ڈھانچہ جیسے فشنگ ہاربرز، فش لینڈنگ سینٹرز، فیڈ ملز، کولڈ اسٹوریج، مارکیٹس اور دیگر ویلیو ایڈیشن سہولیات بھی قائم کی جا رہی ہیں، تاکہ فشریز ویلیو چین کو مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ اسکیم ٹیکنالوجی پر مبنی آبی زراعتی نظاموں کو ترجیح دیتی ہے، جو وسائل کے مؤثر استعمال کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے تحت ہائی ڈینسٹی اور پانی کی بچت کرنے والے ماڈلز جیسے ری سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹمز(آر اے ایس) اور بایو فلوک ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاتا ہے، جو پیداوار میں اضافہ، معیار کی بہتری، غذائی اجزاء کی ری سائیکلنگ اور ماحول دوست مچھلی کی فارمنگ کو ممکن بناتے ہیں۔

ری سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹم(آر اے ایس):یہ مچھلی پالنے کا ایک جدید طریقہ ہے جس میں پانی کو فلٹر کر کے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظام میں فضلہ اور آلودگی کو نکال دیا جاتا ہے، جس سے وہی پانی بار بار استعمال کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ کم زمین اور کم پانی میں زیادہ تعداد میں مچھلی پالنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔

بایو فلوک ٹیکنالوجی:بایو فلوک نظام میں مفید خرد جاندار نامیاتی فضلے کو خوراک میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے پانی کا معیار بہتر ہوتا ہے اور مچھلیوں کی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ یہ ماحول دوست اور کم لاگت طریقہ ہے، جو زیادہ کثافت والی فارمنگ کے لیے موزوں ہے اور پائیدار طریقہ کار کو فروغ دیتا ہے۔

مورخہ 5 مارچ 2026 تک،  پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 12,081 ری سرکولیٹری ایکوا کلچر سسٹم(آر اے ایس) یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن پر 902.97 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جبکہ 4,205 بایو فلوک یونٹس کو 523.30 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی آبی زراعتی نظاموں کو اپنانے میں نمایاں کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔

خطرات میں کمی اور مالی تحفظ کے لیے پالیسی اقدامات

حکومت نے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والوں کی مالی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف ہدفی اسکیموں پر توجہ دی ہے، جن کے ذریعے انہیں باقاعدہ نظام میں شامل کیا جا رہا ہے اور قرض، انشورنس اور آمدنی سے متعلق سہولیات تک رسائی کو وسعت دی جا رہی ہے۔

  1. پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ-یوجنا(پی ایم- ایم کے ایس ایس وائی)

پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ-یوجنا (پی ایم – ایم کے ایس ایس وائی ) کے تحت ایک مرکزی شعبہ کی ذیلی اسکیم ہے۔ یہ اسکیم ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کی جا رہی ہے، جس کی مدت چار سال (24-2023 سے27-2026 تک) مقرر ہے۔ اس اسکیم کے لیے تقریباً 6,000 کروڑ روپے کا مالیاتی تخمینہ رکھا گیا ہے۔

image00815AH.jpg

یہ اسکیم  ماہی گیری کے شعبے میں ساختی تبدیلی کو فروغ دیتی ہے، جس کے تحت باضابطہ نظام کو وسعت دی جاتی ہے، انشورنس کوریج میں اضافہ کیا جاتا ہے، ادارہ جاتی مالی وسائل تک رسائی کو مضبوط بنایا جاتا ہے، اور پوری فشریز ویلیو چین میں معیار کی یقین دہانی اور ٹریس ایبلٹی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ماہی گیروں، آبی زراعت کے کسانوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے مالی مضبوطی، خطرات میں کمی اور منڈیوں سے بہتر ربط پیدا کرنا ہے، تاکہ ایک زیادہ منظم، شفاف اور پائیدار ماہی گیری کاشعبہ تشکیل دیا جا سکے۔

  1. ماہی گیروں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی )

کسان کریڈٹ کارڈ(کے سی سی ) اسکیم بھارت کی زرعی معیشت میں مالی شمولیت کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ اسکیم بروقت اور کم لاگت ورکنگ کیپیٹل فراہم کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے، جس سے کسان اہم زرعی ضروریات پوری کرنے اور کاشتکاری و متعلقہ سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر سکتے ہیں۔

 سال 2019 سے اس اسکیم کا دائرہ کار مویشی پروری، ڈیری اور  ماہی گیری تک بڑھا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے زرعی شعبے سے وابستہ دیگر سرگرمیوں کو بھی ادارہ جاتی قرض تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور دیہی معیشت کو مزید مربوط بنایا گیا ہے۔ حکومت نے ماہی گیری  اور متعلقہ سرگرمیوں کے لیے کے سی سی کے تحت قرض کی حد 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی ہے، جس سے ماہی گیروں، کسانوں، پروسیسرز اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے مالی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

اقتصادی  جائزہ 25-2024 کے مطابق، مالی شمولیت اور فلاحی پروگراموں کے تحت 4.39 لاکھ ماہی گیروں کو کے سی سی کے فوائد فراہم کیے گئے ہیں، 33 لاکھ مستفیدین کو انشورنس کوریج دی گئی ہے اور کم سرگرمی کے ادوار میں اوسطاً 7.44 لاکھ ماہی گیر خاندانوں کو روزگار معاونت فراہم کی گئی ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ باضابطہ قرضہ نظام آمدنی کے استحکام، خطرات سے نمٹنے اور منظم منڈیوں سے بہتر ربط پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

  1. فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ(ایف آئی ڈی ایف)

ایف آئی ڈی ایف کو19-2018 میں سمندری اور اندرونی  ماہی گیری میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے اس اسکیم میں مزید تین سال (اپریل 2023 سے مارچ 2026 تک) کی توسیع کی ہے۔یہ اسکیم 12.50 کروڑ روپے تک کی کریڈٹ گارنٹی فراہم کرتی ہے، جس سے ماہی گیر اور کاروباری افراد کم مالی خطرے کے ساتھ قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایف آئی ڈی ایف کے تحت سالانہ 3 فیصد تک سود میں سبسڈی بھی فراہم کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں نوڈل قرض دہندہ ادارے کم از کم 5 فیصد سالانہ شرح سود پر رعایتی مالی سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔

جنوری 2026 تک ایف آئی ڈی ایف کے تحت اہم کامیابیاں درج ذیل ہیں:

  • فشریز اینڈ ایکوا کلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت 225 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن کی مجموعی مالیت 6,685.78 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں میں فشنگ ہاربرز، فش لینڈنگ سینٹرز اور مچھلی کی پراسیسنگ یونٹس شامل ہیں۔
  • ان منظور شدہ منصوبوں کے ذریعے ماہی گیری کے شعبے میں کل 6,685.78 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متحرک ہوئی، جس میں 754.50 کروڑ روپے نجی شعبے کی شراکت شامل ہے۔
  • مکمل ہونے والے منصوبوں کے نتیجے میں 8,100 سے زائد ماہی گیری کشتیوں کے لیے محفوظ لینڈنگ اور برتھنگ سہولیات فراہم کی گئی ہیں، مچھلی کی لینڈنگ میں 1.09 لاکھ ٹن اضافہ ہوا ہے، تقریباً 3.3 لاکھ ماہی گیر اور دیگر متعلقہ افراد مستفید ہوئے ہیں، اور تقریباً 2.5 لاکھ براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

ڈیجیٹل حکمرانی کے لیے پالیسی اقدامات

ڈیجیٹل حکمرانی کے وسیع تر پالیسی اقدامات کے تحت، حکومت  ماہی گیری کے شعبے کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل فریم ورک کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ قابلِ باہمی عمل ڈیٹا بیس کی تشکیل اور قرض، انشورنس، ٹریس ایبلٹی اور مراعات تک آسان رسائی کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم(این ایف ڈی پی)

 ماہی گیری کے محکمہ نے ستمبر 2024 میں  پی ایم – ایم کے ایس ایس وائی کے تحت نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم(این ایف ڈی پی ) کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد فشریز اور ایکوا کلچر کے شعبے میں ڈیجیٹل حکمرانی اور باضابطہ نظام کو فروغ دینا ہے۔

بنیادی سطح پر،  این ایف ڈی پی ماہی گیروں، مچھلی پالنے والوں، کوآپریٹیوز، کاروباری اداروں اور دیگر ویلیو چین سے وابستہ افراد کے لیے کام پر مبنی ڈیجیٹل شناخت فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مرکزی قومی ڈیٹا بیس بھی تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ شفافیت میں اضافہ، خدمات کی فراہمی میں بہتری اور ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کو ممکن بنایا جا سکے۔

عملی طور پر، این ایف ڈی پی ایک سنگل ونڈو ڈیجیٹل نظام کے طور پر کام کرتا ہے، جس کے ذریعے مستفیدین ادارہ جاتی قرض، ایکوا کلچر انشورنس، ٹریس ایبلٹی نظام اور کارکردگی سے منسلک مراعات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم فشریز کوآپریٹیوز کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تربیت اور صلاحیت سازی کے اقدامات میں بھی معاون ہے۔

مورخہ 5 مارچ 2026 تک، اس پلیٹ فارم پر 30.60 لاکھ سے زائد اسٹیک ہولڈرز رجسٹر ہو چکے ہیں، 12 بینک ایک مشترکہ ڈیجیٹل فریم ورک میں شامل کیے جا چکے ہیں، اور 217 قرضوں کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے، جس سے باضابطہ نظام، مالی شمولیت اور کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

میرین فشریز  شماریات 2025

نیشنل میرین فشریز  شماریات (ایم ایف سی 2025)، جو 31 اکتوبر 2025 کو شروع کی گئی، بھارت کے  ماہی گیر کے شعبے میں مکمل طور پر ڈیجیٹل اور جغرافیائی حوالہ جاتی ڈیٹا جمع کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔

image009SGAF.jpg

میرین فشریز  شماریات  (ایم ایف سی 2025)کی خصوصیات

 ایم ایف سی 2025 میں ایک جدید ڈیجیٹل نظام اپنایا گیا، جسے خصوصی موبائل ایپلی کیشنز—این اے وی- وی وائی اے ایس،بی ایچ اے آر اے ٹی- وی وائی اے ایس اور ایس یو ٹی آر اے- وی وائی اے ایس کی مدد حاصل ہے۔ ان ٹولز کے ذریعے حقیقی وقت میں جغرافیائی حوالہ جات کے ساتھ ڈیٹا جمع کرنا، فوری تصدیق اور فیلڈ سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی ممکن ہوئی ہے۔

پہلی بار اس  شماریات کے ذریعے ماہی گیر خاندانوں کے تفصیلی طور پر سماجی و معاشی پروفائلز تیار کیے گئے، جن میں آمدنی، انشورنس کی صورتحال، قرض تک رسائی اور حکومتی اسکیموں میں شمولیت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

مشن پر مبنی ریزروائر ترقی اور فشریز ویلیو چین کی توسیع

بھارت کے پاس دنیا کے بڑے اندرونی آبی ذخائر میں سے ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جو تقریباً 31.5 لاکھ ہیکٹر پر مشتمل ہے اور یہ اندرونی  ماہی گیری کے فروغ کے لیے بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔مشن امرت سروور کے تحت حکومت نے 68,827 امرت سروورز کی ترقی کو ممکن بنایا ہے، جن میں سے 1,222 آبی ذخائر کو ماہی گیری کے سرگرمیوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے (یکم فروری 2026 تک)۔ اس اقدام سے مچھلی کی پیداوار، روزگار کے مواقع میں تنوع اور آبی ماحولیاتی نظام کی بہتری کو فروغ ملا ہے۔ اس کے علاوہ، 500 ریزروائرز اور امرت سروورز کی ترقی کو مربوط کرنے کے لیے ہدفی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، تاکہ خاص طور پر ساحلی اور اندرونی علاقوں میں فشریز ویلیو چین کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

 

یہ اقدامات مارکیٹ روابط اور ویلیو ایڈیشن کو بہتر بنانے کے لیے اسٹارٹ اپس، خواتین کی قیادت میں کام کرنے والے گروپس اور فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز(ایف ایف پی او) کو شامل کرتے ہیں، جس سے شمولیاتی ترقی، کاروباری مواقع اور پائیدار روزگار کو فروغ ملتا ہے۔

میرین فشریز اور ای ای زیڈ وسائل کی پائیدار حکمرانی

اندرون ملک آبی ذخائر کے علاوہ ، ہندوستان کی 11,099 کلومیٹر سے زیادہ کی وسیع ساحلی پٹی اور تقریباً 24 لاکھ مربع کلومیٹر کا ایک خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) 13 سمندری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ماہی گیر برادری کے 50 لاکھ سے زیادہ اراکین کی روزی روٹی کو برقرار رکھتا ہے ۔  سمندری ماہی گیری نیل گومعیشت کا ایک اسٹریٹجک جزو ہے ، جو برآمدی آمدنی اور قومی غذائی تحفظ میں معاون  ثابت ہوتاہے ۔آبی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے 2025 میں ای ای زیڈ اور ہائی سیز میں  ماہی گیری کے پائیدار استعمال کے قواعد و ضوابط متعارف کرائے، جو پائیداری اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

 اس کے علاوہ، بیرونِ ملک اتاری گئی مچھلی کو ڈیوٹی فری حیثیت دے کر اسے برآمدات کے طور پر تسلیم کرنے جیسے پالیسی اقدامات قیمتوں میں بہتری اور عالمی مسابقت کو بڑھاتے ہیں، جبکہ ٹریس ایبلٹی، پائیداری اور ضابطہ جاتی تقاضے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ایم پی ای ڈی اے) معیار کی یقین دہانی، مارکیٹ سہولت، صلاحیت سازی اور ماحولیاتی تحفظ کے ذریعے پائیدار برآمدی ترقی کو فروغ دیتی ہے، جس سے طویل مدتی وسائل کے تحفظ اور روزگار کے استحکام کو تقویت ملتی ہے۔

اختتامیہ

 ماہی گیری کا شعبہ بھارت کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور تقریباً تین کروڑ افراد اور خاص طور پر ساحلی اور اندرونی علاقوں کی پسماندہ برادریوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے ۔ حالیہ برسوں میں اس شعبے  میں مسلسل ترقی  ہوئی ہے، جو پیداوار میں اضافے، برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور جدید و پائیدار ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے ہدفی پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

 مرکزی بجٹ27-2026 نے اس تبدیلی کو مزید مستحکم کیا ہے، جس میں سرمایہ کاری پر مبنی اقدامات، جدید ایکوا کلچر نظام، اسمارٹ اور پائیدار فشریز انفراسٹرکچر، اور برآمدات کے امکانات کو بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات (بشمول ہائی سیز فشنگ) شامل ہیں۔

یہ تبدیلی اہم اصلاحات کے ذریعے مزید تقویت پا رہی ہے، جیسے خصوصی اقتصادی زون(ای ای زیڈ) کے لیے پائیدار فشریز قواعد، میرین فشریز شماریات 2025، اور پی ایم ایم ایس وائی اور پی ایم – ایم کے ایس ایس وائی کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری۔ یہ اقدامات شواہد پر مبنی حکمرانی، وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال اور فلاحی خدمات کی مؤثر فراہمی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

مجموعی طور پر ، یہ اقدامات ایک زیادہ جامع اور لچکدار نیل گو معیشت کو آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ ماہی گیری اور آبی زراعت کے پائیدار انتظام کے ذریعے پائیدار ترقی کے ہدف 14: پانی کے نیچے زندگی کے حصول میں معنی خیز تعاون کر رہے ہیں ۔

حوالہ جات

ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری  کی وزارت

Ministry of Finance

National Fisheries Development Board

Lok Sabha

PIB

Click here to see pdf 

***

ش ح۔  م م ع۔ش ب ن

U-5435

(Explainer ID: 158034) आगंतुक पटल : 10
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Kannada
Visit National Portal of India (india.gov.in), the official Government of India web portal.
View STQC (Standardisation Testing and Quality Certification) certificate PDF for PIB website.