• Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026

قوانین کو آسان بنانا، اعتماد کو مضبوط کرنا

Posted On: 04 APR 2026 5:50PM

کلیدی نکات

  • جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 کے تحت 23 وزارتوں کے زیرِ انتظام 79 مرکزی قوانین میں ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے، جن میں مختلف شعبوں کی 784 دفعات شامل ہیں۔
  • یہ بل معمولی نوعیت کی طریقۂ کار کی خامیوں پر عائد مجرمانہ سزاؤں کو ختم کرکے ان کی جگہ سول جرمانے اور انتظامی طریقۂ کار متعارف کراتا ہے۔
  • اس میں زندگی گزارنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 اور نئی دہلی میونسپل کونسل ایکٹ 1994 سمیت دیگر قوانین میں اصلاحات شامل ہیں۔
  • یہ بل ایم ایس ایم ایز اور کاروباری اداروں کے لیے تعمیل کا بوجھ  کم کرتا ہے، جس کے تحت درجہ بندی کے  نفاذجیسے اقدامات،مشاورتی نوٹس اور جرمانے سے قبل انتباہ،متعارف کروائے گئے ہیں۔

تعارف: عدم اعتماد سے اعتماد تک کا سفر

کئی برسوں تک ہندوستان میں متعدد قوانین کے تحت معمولی نوعیت کی طریقۂ کار کی غلطیوں کو بھی مجرمانہ جرم تصور کیا جاتا رہا۔ فائل جمع کرانے میں تاخیر، فارم کو غلط طریقے سے پُر کرنا یا کاغذی کارروائی میں چھوٹی سی غلطی بھی بعض اوقات شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے سخت نتائج، حتیٰ کہ قید، کا باعث بن سکتی تھی۔ ان میں سے بیش تر دفعات قدیم ریگولیٹری نظاموں کی باقیات تھیں۔

قوانین کو زیادہ متوازن، معقول اور عملی بنانے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت نے ان دفعات پر نظرِ ثانی کا عمل شروع کیا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت جن وشواس (دفعات میں ترمیم) ایکٹ، 2023 کی صورت میں سامنے آئی، جس کے ذریعے متعدد مرکزی قوانین میں معمولی جرائم پر عائد مجرمانہ سزاؤں کو ختم کیا گیا۔

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 اسی اصلاحی عمل کا تسلسل ہے۔ اس کا مقصد معمولی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ دائرے سے نکال کر ان کی جگہ زیادہ متناسب سول جرمانے اور مؤثر انتظامی طریقۂ کار متعارف کرانا ہے۔

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 کے بنیادی ستون

یہ بل چار بنیادی ستونوں پر مبنی ہے، جن کا مقصد ایک ایسا ریگولیٹری ماحول قائم کرنا ہے جو قانون کے ساتھ روزمرہ تعامل کو آسان بناتے ہوئے تعمیل کی حوصلہ افزائی کرے:

  • سزا سے قبل انتباہ: پہلی بار اور معمولی نوعیت کی غلطیوں کو فوری جرمانے کے بجائے انتباہ کے ذریعے نمٹایا جاتا ہے، تاکہ شہریوں اور کاروباروں کو اپنی غلطی سدھارنے کا منصفانہ موقع مل سکے۔
  • متناسب سزائیں: سزاؤں کو خلاف ورزی کی نوعیت اور شدت کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ نظام انصاف میں توازن اور شفافیت برقرار رہے۔
  • تیز اور منصفانہ فیصلہ سازی: مقررہ فیصلہ کن افسران اور اپیلیٹ حکام کے ذریعے مقدمات کے فوری اور شفاف حل کو یقینی بنایا جاتا ہے، جس سے عدالتوں پر بوجھ بھی کم ہوتا ہے۔
  • متحرک جرمانہ نظام: جرمانوں کا ڈھانچہ وقتاً فوقتاً نظرِ ثانی کے تحت رہتا ہے، تاکہ نفاذ مؤثر، متعلقہ اور حالات کے مطابق برقرار رہے۔

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 قانونی نظام کو ایک نئے زاویے سے مرتب کرتا ہے، جس میں سخت سزاؤں کی جگہ زیادہ متوازن اور انسانی بنیادوں پر مبنی فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ بل سینکڑوں ایسی دفعات کو، جن میں جرمانے اور قید کی سزائیں شامل تھیں، سول جرمانوں میں تبدیل کرتا ہے اور متعدد کو مکمل طور پر ختم بھی کرتا ہے، جو ضرورت سے زیادہ مجرمانہ بنانے کے رجحان سے ایک واضح انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔

قید کی سزاؤں میں کمی اور جرائم کے دائرے کو محدود کرنے کے ذریعے یہ بل سزا کے بجائے تعمیل کو فروغ دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ مجرمانہ دفعات کو معقول اور متناسب بناتا ہے، تاکہ معمولی یا محض طریقۂ کار کی خامیاں اب سخت اور غیر متناسب نتائج کا باعث نہ بنیں۔

یہ تمام تبدیلیاں مل کر معمولی یا طریقۂ کار کی خلاف ورزیوں کے لیے مجرمانہ سزاؤں کے بجائے زیادہ عملی اور شہری دوست متبادل فراہم کرتی ہیں، جس سے زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی دونوں کے اہداف کو مزید تقویت ملتی ہے۔

قانون سازی کا سفر: غور و فکر اور اتفاقِ رائے پر مبنی اصلاحات

اس اصلاحاتی عمل کا آغاز جن وشواس (دفعات میں ترمیم) ایکٹ، 2023 کے نفاذ سے ہوا، جس کے تحت 42 مرکزی قوانین میں ترامیم کی گئیں اور 183 دفعات کو غیر مجرمانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں ان دفعات میں جیل کی سزاؤں کی جگہ مالی جرمانے اور دیگر انتظامی نفاذ کے طریقۂ کار متعارف کرائے گئے۔ یہ مختلف قوانین میں معمولی اور طریقۂ کار کی خلاف ورزیوں کو مجرمانہ دائرے سے نکالنے کی پہلی مربوط قانون سازی کوشش تھی۔

اسی بنیاد پر حکومت نے مختلف وزارتوں اور محکموں کے تحت آنے والی مرکزی قانون سازی میں مجرمانہ دفعات کا جامع جائزہ لیا۔ اس سلسلے کے اگلے مرحلے کے طور پر جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2025 کو 18 اگست 2025 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ اس بل میں 10 وزارتوں کے زیرِ انتظام 16 مرکزی قوانین میں ترامیم کی تجویز دی گئی، جن میں 355 دفعات شامل تھیں۔

بل کے پیش ہونے کے بعد اسے تفصیلی جانچ کے لیے پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔ اس کمیٹی نے 49 اجلاس منعقد کیے اور 13 مارچ 2026 کو اپنی رپورٹ لوک سبھا میں پیش کی، جس میں مزید اصلاحات اور مجوزہ دائرۂ کار میں توسیع کی سفارش کی گئی۔ کمیٹی نے 288 دفعات کا تفصیلی جائزہ لیا اور 62 مزید قوانین میں غیر مجرمانہ بنانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے مشاورت اور سفارشات کی روشنی میں اصلاحات کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دی گئی، تاکہ زندگی گزارنے اور کاروبار کرنے میں آسانی کے اہداف کو مؤثر طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔

نظرِ ثانی شدہ قانون سازی، یعنی جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026، اب 23 وزارتوں کے تحت 79 مرکزی قوانین میں ترامیم کی تجویز پیش کرتی ہے، جن میں مجموعی طور پر 784 دفعات شامل ہیں۔ ان میں سے 717 دفعات کو غیر مجرمانہ بنانے کی تجویز ہے، جبکہ 67 دفعات کا مقصد زندگی گزارنے میں آسانی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

شہری مرکوز اصلاحات: عام آدمی کے لیے فوائد

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 ایسی متعدد اصلاحات متعارف کراتا ہے جو براہِ راست عام شہریوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں، تاکہ روزمرہ کی معمولی غلطیاں یا چھوٹی کوتاہیاں مجرمانہ کارروائی کا سبب نہ بنیں۔

مثال کے طور پر، ریلویز ایکٹ 1989 کے تحت اگر کوئی مسافر کسی دوسرے مسافر کے لیے پہلے سے مختص برتھ خالی کرنے سے انکار کرتا تھا تو اسے پہلے مجرمانہ جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب اس شق کو بدل کر اسے زیادہ سے زیادہ 1,000 روپے کے سول جرمانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے ایسے تنازعات کو فوجداری کارروائی کے بجائے انتظامی سطح پر نمٹایا جائے گا۔

  • کورٹ فیس ایکٹ 1870 کے تحت کورٹ فیس اسٹامپ کی غیر مجاز فروخت یا قواعد کی عدم تعمیل پر پہلے چھ ماہ تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی تھی۔ اصلاح کے بعد غیر دھوکہ دہی والے معاملات میں قید کی سزا کو ختم کرکے صرف مالی جرمانہ نافذ کیا گیا ہے۔
  • صحت کے شعبے میں کلینیکل اسٹیبلش منٹس ایکٹ 2010 کے تحت پہلے معمولی خامیوں پر بھی کلینکس کے خلاف فوجداری کارروائی ممکن تھی، چاہے وہ آسانی سے درست کی جا سکتی ہوں۔ اب اس کی جگہ زیادہ سے زیادہ 10,000 روپے تک کا سول جرمانہ رکھا گیا ہے، تاکہ صحت کے ادارے بغیر فوجداری دباؤ کے اپنی خامیاں درست کر سکیں۔
  • اسی طرح کولکاتا میٹرو ریلوے ایکٹ 1985 کے تحت اگر کوئی مسافر میٹرو کوچ یا زیرِ زمین اسٹیشن میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے پکڑا جاتا تھا تو اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی جاتی تھی۔ اصلاح کے بعد اسے 2,000 روپے تک کے سول جرمانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، تاکہ عوامی جگہ پر معمولی خلاف ورزی کو فوجداری مقدمے میں نہ بدلا جائے۔

ان اصلاحات کے ذریعے بل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ہونے والی معمولی غلطیاں یا کوتاہیاں مجرمانہ کارروائی کا سبب نہ بنیں، اور قانونی نظام زیادہ سادہ، منصفانہ اور شہری دوست بن سکے۔

جن وشواس بل کے تحت زندگی گزارنے میں آسانی کے انتظامات

مجرمانہ دفعات میں کمی کے ساتھ ساتھ، جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 میں ایسے متعدد اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں جو ریگولیٹری تقاضوں کو آسان بناتے ہیں اور شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان روزمرہ کے تعامل کو مزید بہتر بناتے ہیں۔

عوامی پانی کے غیر قانونی استعمال پر سول جرمانہ

(نئی دہلی میونسپل کونسل ایکٹ 1994 ، سیکشن 295)

اس سے قبل ممانعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنوؤں یا ٹینکوں سے پانی نکالنے یا استعمال کرنے پر مجرمانہ کارروائی کی جاتی تھی۔ اس اصلاح کے تحت اسے ختم کرکے 1,000 روپے کے مقررہ سول جرمانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، تاکہ عوامی وسائل کے غلط استعمال پر جوابدہی برقرار رہے مگر معمولی خلاف ورزیوں پر فوجداری کارروائی نہ ہو۔

ڈرائیونگ لائسنس کی 30 دن کی توسیعی مہلت

(موٹر وہیکل ایکٹ 1988)

پہلے لائسنس کی میعاد ختم ہونے کے بعد ایک دن کی تاخیر بھی تکنیکی طور پر غیر تعمیل تصور کی جاتی تھی۔ اس اصلاح کے تحت 30 دن کی رعایتی مدت متعارف کرائی گئی ہے، جس دوران لائسنس بدستور قابلِ استعمال رہتا ہے۔ اس اقدام سے عام ڈرائیوروں کو اچانک جرمانوں سے تحفظ ملتا ہے اور تجدید کے لیے مناسب وقت فراہم ہوتا ہے۔

این ڈی ایم سی پراپرٹی ٹیکس نظام میں اصلاح

(نئی دہلی میونسپل کونسل ایکٹ 1994)

این ڈی ایم سی کے علاقے میں ایک غیر یکساں نظام رائج تھا، جس کے تحت تقریباً 5 فیصد جائیدادوں پر پرانے “ریٹ ایبل ویلیو” طریقۂ کار کے مطابق ٹیکس عائد ہوتا تھا، جبکہ باقی 95 فیصد جائیدادیں جدید “یونٹ ایریا میتھڈ” کے تحت ٹیکس ادا کر رہی تھیں۔ اس اصلاح کے ذریعے پورے علاقے میں ایک ہی “یونٹ ایریا” نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے شفافیت، یکسانیت اور پیش گوئی کو فروغ ملتا ہے اور شہریوں کے لیے نظام مزید آسان بنتا ہے۔

حادثے کے متاثرین کو معاوضہ حاصل کرنے کے لیے مزید وقت

(موٹر وہیکل ایکٹ 1988 ، سیکشن 166)

موٹر حادثات کے متاثرین، جو ابتدائی دعویٰ دائر کرنے کی مقررہ مدت پوری نہیں کر پاتے، اب مخصوص حالات میں کلیمز ٹریبونل سے بارہ ماہ تک اضافی مدت کے اندر رجوع کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ معقول وجہ پیش کریں۔

یہ اصلاح اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ متاثرہ خاندان اکثر صدمے، طبی علاج، معذوری یا مالی مشکلات کی وجہ سے فوری طور پر قانونی کارروائی نہیں کر سکتے۔ اس لیے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ تاخیر کی وجہ سے وہ اپنے معاوضے کے حق سے محروم نہ ہوں۔

رات کے وقت موجودگی اب شک کا جرم نہیں

دہلی پولیس ایکٹ 1978 ، سیکشن 102(سی)

اس سے قبل “تسلی بخش وضاحت” کے بغیر غروب آفتاب اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی گھر، عمارت یا گاڑی میں موجود ہونے پر تین ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی تھی۔ یہ شق نوآبادیاتی دور کے اس تصور کی عکاس تھی جس میں عام نقل و حرکت کو بھی مشکوک سمجھا جاتا تھا۔

یہ اصلاح اس شق کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے اور قانون کو جدید اصولوں سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ موجودہ فوجداری نظام، بشمول بھارتیہ نیا سنہیتا، اب شک کی مبہم بنیادوں کے بجائے ارادے، شواہد اور ذمہ داری پر زیادہ زور دیتا ہے۔ اس طرح شہریوں کو صرف رات کے وقت موجود ہونے کی بنیاد پر مجرمانہ ذمہ داری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ٹکٹ کے معاملات اب انتظامی خلاف ورزی کے طور پر

(موٹر وہیکل ایکٹ 1988 ، سیکشن 178)

اس سے قبل بغیر ٹکٹ سفر کرنا یا ٹکٹ پیش کرنے سے انکار کرنا 500 روپے تک کے مجرمانہ جرمانے کا باعث بن سکتا تھا۔ اصلاح کے بعد ان معاملات کو شہری خلاف ورزیوں کے طور پر دوبارہ درجہ بند کیا گیا ہے، جن پر زیادہ سے زیادہ 500 روپے تک کا جرمانہ عائد ہوگا۔

اس تبدیلی سے معمولی مسافرانہ غلطیوں کو جرم قرار دینے کے بجائے انہیں انتظامی سطح پر نمٹایا جاتا ہے، جس سے نفاذ کا نظام زیادہ تیز اور شہری دوست بنتا ہے۔

ان اصلاحات کے مجموعی اثر سے ریگولیٹری نظام زیادہ سادہ، عملی اور متناسب بنتا ہے، جبکہ نفاذ کی مؤثریت بھی برقرار رہتی ہے۔

جن وشواس بل کے تحت کاروبار کرنے میں آسانی کی دفعات

شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اثرات کے ساتھ ساتھ، جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 کاروباری اداروں کے لیے تعمیل کے عمل کو آسان بنانے کے لیے بھی متعدد اصلاحات متعارف کراتا ہے۔

مجرمانہ سزاؤں کی جگہ سول جرمانے

یہ بل قید کی دفعات کو سول جرمانوں سے تبدیل کرتا ہے تاکہ کاروباری اداروں کو معمولی تعمیل کی غلطیوں پر مجرمانہ کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مثال کے طور پر، سنٹرل سلک بورڈ ایکٹ، 1948 کے تحت غلط معلومات فراہم کرنا یا ریکارڈ جمع نہ کرانا پہلے قید کا باعث بن سکتا تھا۔ اس اصلاح کے تحت پہلی خلاف ورزی پر صرف انتباہ اور بار بار خلاف ورزیوں پر مالی جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، جس سے چھوٹے سیریکلچر کاروباروں اور ایم ایس ایم ایز کو تعمیل کی اصلاح کا موقع ملتا ہے۔

درجہ بند نفاذ کا نظام

بہت سے قوانین میں نفاذ کے لیے ایک مرحلہ وار نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت کاروباری اداروں کو جرمانے سے قبل اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر، ٹی ایکٹ، 1953 کے تحت ریٹرن جمع نہ کرانے یا غلط ریٹرن دینے پر پہلے براہِ راست جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ اب ترمیم شدہ نظام میں پہلی خلاف ورزی پر صرف انتباہ اور بعد کی خلاف ورزیوں پر جرمانے کا انتظام کیا گیا ہے۔

اسی طرح: کاپی رائٹ ایکٹ میں اصلاحات

کاپی رائٹ ایکٹ 1957کے تحت کاپی رائٹ کے رجسٹر میں غلط اندراج کرنے پر پہلے ایک سال تک قید کی سزا کا امکان موجود تھا۔ یہ اصلاح اس شق کو ختم کر دیتی ہے، تاکہ مصنفین، فنکاروں اور دیگر تخلیق کاروں کو محض انتظامی یا کاغذی غلطیوں کی بنیاد پر مجرمانہ ذمہ داری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

برآمدات اور تجارتی شعبوں میں تعمیل کو آسان بنانا

برآمد کنندگان پر تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تجارت اور برآمدات سے متعلق قوانین میں بھی اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔

زرعی اور پراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1985 کے تحت، ریٹرن جمع نہ کرانے جیسے طریقہ کار کے جرائم اب فوری تعزیری کارروائی کے بجائے انتباہ اور جرمانے کے نظام کے تحت آئیں گے۔ اس سے برآمد کنندگان کو اپنی حقیقی غلطیوں کی اصلاح کے لیے مناسب وقت ملے گا۔

پرانی یا غیر ضروری دفعات کا خاتمہ

کچھ ایسی دفعات جو پرانی ہو چکی تھیں یا غیر ضروری تعمیل کے بوجھ کا سبب بن رہی تھیں، انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر، کوئر انڈسٹری ایکٹ 1953 کے تحت لائسنس کے بغیر کوئر مصنوعات کی برآمد پر پہلے جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ اس شق کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا ہے، جس سے غیر ضروری اور متروک تعمیل تقاضے ختم ہو گئے ہیں اور چھوٹے کوئر ایم ایس ایم ای برآمد کنندگان کو سہولت حاصل ہوئی ہے۔

ان اقدامات کے ذریعے بل ایک ایسا ریگولیٹری ماحول تشکیل دیتا ہے جو زیادہ قابلِ پیش گوئی، عملی اور کاروبار دوست ہے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں پر مناسب اور مؤثر سزائیں برقرار رہیں۔

جن وشواس بل کے تحت ایم ایس ایم ای کے فوائد

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 میں متعدد ایسی اصلاحات شامل ہیں جو مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای )کے لیے تعمیل کے بوجھ کو کم کرتی ہیں۔ اس بل کے تحت چھوٹے کاروباروں کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ فوری تعزیری کارروائی کے بغیر اپنی غلطیوں کو درست کر سکیں۔

  • لیگل میٹرولوجی ایکٹ 2009 کے تحت پہلے مطلوبہ ریکارڈ محفوظ نہ رکھنے یا پیش نہ کرنے پر فوری جرمانے عائد کیے جاتے تھے۔ اس ترمیم کے بعد پہلی غلطی پر اصلاحی نوٹس متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے ایم ایس ایم ای درآمد کنندگان کو جرمانے سے پہلے اپنی تعمیل کی خامیوں کو دور کرنے کا موقع ملتا ہے۔

  • پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیاں (ریگولیشن) ایکٹ 2005

اس ایکٹ کے تحت کاروباری احاطے میں لائسنس ظاہر نہ کرنے پر پہلے 25,000 روپے تک کا مجرمانہ جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ اس شق کو اب ختم کر دیا گیا ہے، اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اس نوعیت کی معمولی طریقہ کار کی خامیوں پر چھوٹی سیکیورٹی ایجنسیوں کو مجرمانہ ذمہ داری کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

  • ڈلیوری آف بکس اینڈ نیوز پیپرز (کتب و اخبارات کی ترسیل )(پبلک لائبریریز) ایکٹ

اس قانون کے تحت جو ناشرین کاپیاں جمع کرانے میں ناکام رہتے تھے، ان کے خلاف پہلے جرمانے عائد کیے جاتے تھے۔ اصلاح کے بعد اب ایک انتباہی  نظام متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ چھوٹے ناشرین کو معمولی تاخیر یا طریقہ کار کی غلطیوں پر غیر متناسب سزاؤں سے بچایا جا سکے۔

  • مائنس اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 1957

اس ایکٹ کے تحت پہلے بعض خلاف ورزیوں پر دو سال تک قید یا جرمانہ ہو سکتا تھا۔ اصلاح کے بعد قید کی سزا کو ختم کرکے اس کی جگہ 50 لاکھ روپے تک کے مالی جرمانے کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ چھوٹے کان کنی اور معدنیاتی کاروباروں کو محض طریقہ کار کی خلاف ورزیوں پر مجرمانہ کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ انہیں متناسب مالی نتائج بھگتنا ہوں۔

ان اقدامات کے ذریعے یہ بل ایم ایس ایم ایز کے لیے تعمیل کو آسان بناتا ہے، ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کو کم کرتا ہے، اور رضاکارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں کے لیے مناسب سزائیں برقرار رہتی ہیں۔

کلیدی قانون سازی تبدیلیاں: اہم قوانین میں ترامیم

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 مختلف شعبوں اور ریگولیٹری ڈھانچوں میں وسیع پیمانے پر ترامیم تجویز کرتا ہے، جن کے تحت متعدد مرکزی قوانین میں متناسب سول جرمانے، انتباہات اور انتظامی اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔

  • ڈرگ اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت بعض ادویات (آیورویدک، سدھا اور یونانی) کی تیاری یا ذخیرہ کی جگہ ظاہر نہ کرنے پر پہلے چھ ماہ تک قید اور جرمانے کی سزا تھی۔ اصلاح کے بعد اس کی جگہ مالی جرمانے کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
  • دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1957 کے تحت ہاکنگ، میونسپل حکام میں رکاوٹ یا صفائی سے متعلق معمولی خلاف ورزیوں پر پہلے مجرمانہ سزائیں دی جاتی تھیں۔ اب ان کو سول جرمانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض متروک دفعات کو مکمل طور پر حذف کر دیا گیا ہے۔
  • اپرنٹس ایکٹ 1961 کے تحت طریقہ کار کی عدم تعمیل کے معاملات میں اب درجہ بند نفاذ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں پہلی خلاف ورزی پر ایڈوائزری، دوسری پر انتباہ، اور بعد کی خلاف ورزیوں پر مالی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ زرعی اور پراسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 1985، روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ایکٹ 1950 اور کوئر انڈسٹری ایکٹ 1953 جیسے قوانین میں بھی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت معمولی طریقہ کار کی خلاف ورزیوں پر قید یا مجرمانہ جرمانے کو یا تو سول جرمانوں سے تبدیل کیا گیا ہے یا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

نتیجہ

جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل، 2026 بھارت کے ریگولیٹری نظام کو جدید بنانے کی حکومتی کوششوں کا تسلسل ہے۔ اس بل کے ذریعے مجرمانہ سزاؤں کی جگہ درجہ بند نفاذ اور سول جرمانوں کو متعارف کرایا گیا ہے، جس سے قوانین زیادہ عملی اور متناسب بنتے ہیں۔

یہ اصلاحات شہریوں اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے غیر ضروری تعمیلی بوجھ کو کم کرتی ہیں، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر مناسب سزائیں برقرار رہتی ہیں۔ اس طرح یہ بل ایک متوازن، شفاف اور اعتماد پر مبنی ریگولیٹری نظام کو فروغ دیتا ہے جو زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی دونوں کے اہداف کی حمایت کرتا ہے۔

حوالہ جات

وزارت تجارت و صنعت
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1945263&reg=3&lang=2

پی آئی بی ریسرچ

See PDF

***


UR-5386

(ش ح۔اس ک  )

 

 

(Explainer ID: 158009) आगंतुक पटल : 17
Provide suggestions / comments
National Portal Of India
STQC Certificate