Economy
مرکزی بجٹ 2026-27: عالمی مسابقت اور ترقی کے لیے ایس ای زیڈز کا استحکام
Posted On:
28 MAR 2026 11:24AM
اہم نکات
مرکزی بجٹ27-2026 میں خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈ) کی اہل مینوفیکچرنگ یونٹس کو رعایتی شرح پر ’گھریلو محصول کے علاقے‘(ڈومیسٹک ٹیرف ایریا) میں فروخت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی یک وقتی اقدام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس طرح کی فروخت کی مقدار ان کی برآمدات کے ایک مقررہ تناسب تک محدود رہے گی۔
- مورخہ28؍ فروری 2026 تک ہندوستان میں 368 منظور شدہ خصوصی اقتصادی زونز(ایس ای زیڈز) موجود ہیں۔
- فعال ایس ای زیڈز سے برآمدات 26-2025 (دسمبر 2025 تک) میں 11.70 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئیں، جو25-2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 32.02 فیصد زیادہ ہے۔
خصوصی اقتصادی زونز: ہندوستان کے تجارتی اور سرمایہ کاری نظام کے ستون
ایس ای زیڈ ایک مخصوص طور پر متعین ڈیوٹی فری علاقہ ہوتا ہے اور مجاز سرگرمیوں کے لیے اسے ہندوستان کے کسٹمز علاقے سے باہر کی سرزمین تصور کیا جاتا ہے۔ ایس ای زیڈ یونٹس اشیاء کی تیاری، خدمات کی فراہمی اور فری ٹریڈ ویئرہاؤسنگ زونز کے ذریعے گودام کی خدمات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جاتے ہیں۔
خصوصی اقتصادی زونز(ایس ای زیڈز) کسی ملک کے اندر نامزد علاقے ہوتے ہیں، جو تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ایک منفرد ضابطہ جاتی اور مالیاتی نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ اضافی معاشی سرگرمی پیدا کرنے، برآمدات میں اضافہ کرنے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے مقاصد کے تحت قائم کیے گئے ایس ای زیڈز برآمدات پر مبنی ترقی کے محرک کے طور پر کام کرتے ہیں۔
ہندوستان میں خصوصی اقتصادی زونز(ایس ای زیڈز) نے معاشی منظرنامے کو مضبوط بنانے میں ایک انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ مئی 2005 میں ایس ای زیڈ ایکٹ کے نفاذ کے بعد سے ان زونز نے برآمدات کی رفتار کو نمایاں طور پر تیز کیا ہے، جس سے مختلف شعبوں میں صنعتی توسیع کو فروغ ملا ہے۔زر مبادلہ کمانے اور بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کے علاوہ ایس ای زیڈز نے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کر کے نئے کاروباری نظاموں کے فروغ اور سماجی و معاشی بہتری کے ذریعے مقامی معیشتوں کی ہمہ جہت ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
فی الحال 28 فروری 2026 تک پورےہندوستان میں 368 منظور شدہ خصوصی اقتصادی زونز(ایس ای زیڈ ز) موجود ہیں۔ مالیاتی مراعات، سادہ اور مؤثر ضابطہ جاتی عمل اور جدید بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے ذریعے ایس ای زیڈز نے ہندوستان کی عالمی سطح پرمسابقت کو مضبوط بنایا ہے۔اس سےمخصوص صنعتی کلسٹرز کی ترقی کو فروغ ملا، جدت طرازی اور تکنیکی پیش رفت کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ہندوستان کو عالمی منڈی میں ایک پرکشش اور قابل اعتماد سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر مستحکم کیا ہے۔

مرکزی بجٹ27-2026 میں ایس ای زیڈز پر توجہ
برآمدات کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی، زر مبادلہ کے حصول اور عالمی ویلیو چینز میں انضمام کا ایک اہم محرک تسلیم کرتے ہوئے، بجٹ میں جامع اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں عالمی تجارتی رکاوٹوں سے متاثرہ ایس ای زیڈز کے لیے ہدفی اصلاحات بھی شامل ہیں۔

یک مشت رعایتی ڈی ٹی اے فروخت: ایس ای زیڈ مینوفیکچرنگ یونٹس کے لیے ایک اسٹریٹجک ترغیب
گھریلو محصول کا علاقہ یعنی ڈومیسٹک ٹیریف ایریا (ڈی ٹی اے) سے مراد پورا ہندوستان ہے (جس میں علاقائی پانی اورجغرافیائی شیلف شامل ہیں)، لیکن اس میں ایس ای زیڈ کے علاقے شامل نہیں ہیں۔ایس ای زیڈ ایکٹ، 2005 کی دفعہ 30 کے تحت یہ حکم ہے کہ ایس ای زیڈ سے ڈی ٹی اے میں بھیجا گیا سامان اور خدمات ملک میں درآمد سمجھا جائے اور ان پر تمام متعلقہ محصول اور برآمداتی محصول(لیوی) عائد ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایس ای زیڈ ایکٹ، 2005 کی دفعہ 2(ایم) کے مطابق ڈی ٹی اے سے ایس ای زیڈ کو کی جانے والی سپلائی کو ایس ای زیڈ کے لیے کیا گیا برآمد سمجھا جائے گا اور وہ تمام متعلقہ برآمدی فوائد کے حقدار ہوں گے۔
ایک خصوصی یک وقتی اقدام کے طور پر یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اہل ایس ای زیڈ مینوفیکچرنگ یونٹس کو اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنی پیداوار کے ایک مقررہ حصے کو ڈومیسٹک ٹیرف ایریا (ڈی ٹی اے) میں معیاری کسٹمز ڈیوٹی کے بجائے رعایتی ڈیوٹی کی شرح پر فروخت کر سکیں۔ اس طرح کی فروخت کی مقدار کو ان کی برآمدات کے ایک طے شدہ تناسب تک محدود رکھا جائے گا۔ اس شق کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ضابطہ جاتی ترامیم کی جائیں گی، جبکہ ڈی ٹی اے میں کام کرنے والی یونٹس کے لیے مساوی مسابقتی ماحول کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ان اصلاحات کا مقصد ایس ای زیڈز کے برآمدات پر مبنی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے صلاحیت کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانا اور بڑے پیمانے کی معیشت حاصل کرنا، برآمداتی لاگت کو کم کرنا اور مجموعی طور پر ایس ای زیڈ نظام کی مضبوطی اور لچک میں اضافہ کرنا ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ اس کے علاوہ ایس ای زیڈز میں کلاؤڈ اور ڈیٹا سینٹر آپریشنز کے لیے ٹیکس مراعات میں توسیع عالمی مینوفیکچررز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو راغب کرے گی، جس سے ہندوستان کے سرمایہ کاری کے نظام کو مزید تقویت ملے گی۔
ہندوستان کے ایس ای زیڈ کی کارکردگی کا جائزہ
ہندوستان کے ایس ای زیڈز برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اہم محرک کے طور پر مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
- روزگار میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں دسمبر 2025 تک ایس ای زیڈز میں 31.73 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار حاصل ہوا۔
- دسمبر 2025 تک کل سرمایہ کاری 7.86 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ۔
- فعال ایس ای زیڈز سے برآمدات26-2025 (دسمبر 2025 تک) میں 11.70 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئیں، جو 25-2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 32.02 فیصدکا اضافہ ہے۔

ہندوستان میں ایس ای زیڈز کی شروعات اور پالیسی فریم ورک
ہندوستان ان ابتدائی ایشیائی ممالک میں شامل تھا، جس نے برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) ماڈل اپنایا اور 1965 میں کاندلا میں ایشیا کا پہلا ای پی زیڈ قائم کیا۔ تاہم متعدد ضابطہ جاتی کنٹرولز، طریقہ کار میں تاخیر، ناکافی بنیادی ڈھانچہ اور غیر مستحکم مالیاتی نظام جیسے مسائل نے اس کی مؤثریت کو محدود کر دیا۔ ان خامیوں کو دور کرنے اور زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے حکومت نے اپریل 2000 میں ایس ای زیڈ پالیسی کا اعلان کیا۔
ایس ای زیڈ پالیسی کا مقصد ان زونز کو عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے، مرکزی اور ریاستی سطح پر پرکشش مالیاتی نظام اور سادہ ضابطہ جاتی ماحول فراہم کر کے معاشی ترقی کے محرکات میں تبدیل کرنا تھا۔ نومبر 2000 سے فروری 2006 تک ایس ای زیڈز غیر ملکی تجارتی پالیسی کے تحت کام کرتے رہے، جبکہ مالیاتی مراعات متعلقہ قانونی دفعات کے ذریعے نافذ کی گئیں۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنے اور مستحکم ایس ای زیڈ پالیسی فریم ورک کے لیے حکومت کے عزم کو ظاہر کرنے کے لیے ایس ای زیڈ ایکٹ 2005 اور ایس ای زیڈ ضابطہ 2006 نافذ کیے گئے۔
ایس ای زیڈ ایکٹ 2005 اور ایس ای زیڈ ضابطہ 2006
خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ 2005 سن 2005 میں نافذ ہوا۔ وسیع مشاورت کے بعد اس ایکٹ کے ساتھ ایس ای زیڈ ضابطہ 2006 بھی 10 فروری 2006 کو نافذ کیے گئے۔ اس کے ذریعے ایک سادہ ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرایا گیا، جس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے متعلق امور کے لیے سنگل ونڈو منظوری کا نظام شامل ہے۔
یہ ایکٹ ایس ای زیڈز کے لیے واضح رہنما اصول فراہم کرتا ہے—جس میں معاشی سرگرمیوں کا فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔ اس میں ماحولیاتی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ایس ای زیڈ ڈویلپرز اور یونٹس کے لیے مخصوص دفعات اور رہنما خطوط بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ایس ای زیڈز کی کارکردگی اور اثرات کی باقاعدہ نگرانی ایکٹ اور ضابطے کے فریم ورک کے تحت کی جاتی ہے، جہاں حکومت ترقیاتی کمشنرز کی جانب سے پیش کردہ ماہانہ رپورٹس کی بنیاد پر نتائج کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ کمشنرز حکومت کی طرف سے ایس ای زیڈ یونٹس کے کام، منظوری اور ضابطہ جاتی تعمیل کی نگرانی کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے جون 2025 میں ایس ای زیڈ ضابطہ 2006 میں ترمیم کی گئی تاکہ سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک اجزاء کی تیاری کے لیے خصوصی طور پر ایس ای زیڈز کے قیام کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک اجزاء کی تیاری کے لیے ایس ای زیڈ
جون 2025 میں ، حکومت نے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانک اجزاء کی تیاری کے لیے بالترتیب دو نئے ایس ای زیڈ کو نوٹیفائی کیا–ایک گجرات کے سانند میں اور دوسراکرناٹک کے دھارواڑ میں۔
سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک اجزاء کے شعبے سرمایہ کثیف نوعیت کے ہوتے ہیں اور منافع حاصل کرنے سے پہلے طویل مدت درکار ہوتی ہے۔ اسی کے پیش نظر، سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک اجزاء کی تیاری کے لیے خصوصی طور پر ایس ای زیڈز کے قیام سے متعلق ضروری ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ ابتدائی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور پالیسی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ایس ای زیڈ ضابطہ میں ترامیم کم از کم اراضی کی ضرورت، ایسے علاقوں کو جو کسی سرکاری ادارے کے پاس رہن یا لیز پر ہوں انہیں ایس ای زیڈ کے قیام کے لیے قابل قبول بنانے، سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی ڈی ٹی اے کو فراہمی کی اجازت دینے اور نیٹ فارن ایکسچینج (این ایف ای) کے حساب میں مفت حاصل ہونے والی اشیاء کی قدر کو شامل کرنے سے متعلق کی گئی ہیں۔
مجموعی طور پر ان اقدامات کا مقصد اعلیٰ مہارت والے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اہم اعلیٰ ٹیکنالوجی شعبوں میں ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو بڑھانا اور سیمی کنڈکٹرز و الیکٹرانک اجزاء کی درآمدات پر ہندوستان کے انحصار کو کم کرنا ہے۔
ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایس ای زیڈ کی اہم مراعات اور سہولیات
ایس ای زیڈز ایک مسابقتی اور سرمایہ کاری کے موافق پالیسی فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جو برآمدات کو فروغ دینے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ مالیاتی مراعات، ٹیکس فوائد اور سادہ ضابطہ جاتی منظوریوں کے امتزاج کے ذریعے، ایس ای زیڈز کاروباروں کو مؤثر انداز میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ عالمی مسابقت کو برقرار رکھتے ہیں۔
ایس ای زیڈز میں یونٹس کو سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے فراہم کی جانے والی مراعات اور سہولیات میں شامل ہیں:
- ایس ای زیڈ یونٹس کی ترقی، آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے اشیاء کی ڈیوٹی فری درآمد یا ملکی سطح پر حصول۔
- مرکزی سیلز ٹیکس، سروس ٹیکس اور ریاستی سیلز ٹیکس سے استثنا۔ یہ اب جی ایس ٹی میں ضم ہو چکے ہیں اور ایس ای زیڈز کو فراہمی آئی جی ایس ٹی ایکٹ 2017 کے تحت زیرو ریٹڈ(ٹیکس فری) ہے۔
- دیگر محصولات، اگر متعلقہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے مستثنیٰ قرار دیے جائیں۔
- مرکزی اور ریاستی سطح کی منظوریوں کے لیے سنگل ونڈو کلیئرنس کا نظام۔
ایس ای زیڈ: ہندوستان کی ترقی کی سمت میں اگلا دروازہ:
گزشتہ چند دہائیوں میں ہندوستان میں ایس ای زیڈز دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی اور مواقع سے بھرپور معیشتوں میں داخل ہونے کے لیے طاقتور دروازوں کے طور پر ابھرے ہیں۔ مندرا پورٹ اور کاندلا پورٹ جیسے بندرگاہ پر مبنی مراکز سے لے کر سری سٹی اور گفٹ سٹی جیسے سیکٹر پر مرکوز ماحولیاتی نظام تک ، ہر ایس ای زیڈ عالمی اور گھریلو سرمایہ کاروں کے لیے یکساں طور پر ایک الگ قدر کی پیشکش کرتا ہے ۔
عالمی معیار کے انفراسٹرکچر، مستحکم پالیسی تعاون اور ملکی و بین الاقوامی بازاروں تک آسان رسائی کے ساتھ، ایس ای زیڈز پائیدار اور طویل مدتی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ مارکیٹ میں داخلے کو آسان بناتے ہیں، آپریشنل عمل کو تیز کرتے ہیں اور کاروبار کو ہندوستان کے وسیع تجارتی اور صنعتی نیٹ ورکس میں مربوط کرتے ہیں۔
جیسے جیسےہندوستان برآمدات، جدید مینوفیکچرنگ اور مالی قیادت پر توجہ مرکوز کر رہا ہے، ایس ای زیڈز کا فریم ورک ایک اسٹریٹجک ستون کے طور پر ابھرتا ہے — جو سرمایہ کاری کے مرحلے کو فروغ دینے اور ملک کی عالمی اقتصادی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔
References
Ministry of Finance
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/bh1.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/eb/sbe68.pdf
Ministry of Commerce & Industry
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221840®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2135116®=3&lang=2
https://sezindia.gov.in/sites/default/files/factsheet/New%20FACT%20SHEET%20ON%20SEZs%20as%20on%2031.12.2025.pdf
https://sezindia.gov.in/sites/default/files/factsheet/FACT_SHEET_ON_SEZs_as_on_30.04.2024.pdf
https://sezindia.gov.in/export-performances
https://sezindia.gov.in/introduction
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU2692_LndQWG.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/annex/268/AU1478_XNgI3m.pdf?source=pqars
https://sezindia.gov.in/facilities-and-incentives
https://nsez.gov.in/Resources/RTI/SEZ%20FAQs_EOU%20FAQs.pdf
https://www.investindia.gov.in/team-india-blogs/top-12-indian-sezs-global-investors#:~:text=SEZs%20are%20often%20established%20in,6
https://kasez.gov.in/wp-content/uploads/2017/07/Functions-and-duties-of-our-office..pdf#:~:text=The%20Development%20Commissioner%20is%20the%20Head%20of,deputation%20from%20Customs%20and%20Central%20Excise%20Department
India Brand Equity Foundation
https://www.ibef.org/blogs/special-economic-zones-in-india-catalysts-for-economic-growth-and-global-competitiveness#:~:text=After%20the%20SEZ%20rules%20implemented,in%20SEZs%20through%20automatic%20route
Facebook
https://www.facebook.com/DeptofCommerceIndia/posts/budget-202627-introduces-sez-reforms-to-enhance-capacity-utilisation-economies-o/1245794721062734/
Twitter
https://x.com/nsitharamanoffc/status/2021597030108516853
Others
https://ddnews.gov.in/en/union-budget-2026-27-puts-exports-at-core-of-growth-strategy/
Union Budget 2026–27: Strengthening SEZs for Global Competitiveness & Growth
Click here to see in pdf
***
(Explainer ID: 157967)
आगंतुक पटल : 20
Provide suggestions / comments