Energy & Environment
توانائی کے ذرائع کا ارتقا پذیرا سپیکٹرم(دائرہ)
Posted On:
28 FEB 2026 11:08AM
ہر روز جب گھروں، اسکولوں، کھیتوں، فیکٹریوں اور اسپتالوں میں روشنیاں جلتی ہیں تو ہم شاذ و نادر ہی اس بات پر غور کرتے ہیں کہ یہ توانائی کہاں سے آتی ہے۔ کلاس روم کو ٹھنڈا رکھنے والا پنکھا، کھیت کو سیراب کرنے والا پمپ اور مسافروں کو منزل تک پہنچانے والی ٹرین ، یہ سب ایک وسیع، منظم اور نہایت باریک بینی سے چلنے والے توانائی کے ایسے نظام پر منحصر ہوتے ہیں جو پس منظر میں خاموشی سے اپنا کام انجام دے رہا ہوتا ہے۔

آج ہندوستان میں توانائی کا نظام تیزی سے تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جیسے جیسے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، ہر گھر اور ہر کاروبار کے لیے قابلِ اعتماد، سستی، صاف ستھری اور زیادہ محفوظ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بجلی کی بہتر دستیابی جاری اصلاحات کا ایک نمایاں نتیجہ ہے۔ دیہی علاقوں میں بجلی کی اوسط دستیابی 2014 کے 12.5 گھنٹوں سے بڑھ کر 22.6 گھنٹے ہو چکی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں بجلی کی فراہمی 2014 کے 22.1 گھنٹوں کے مقابلے میں اب 23.4 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اصلاحات پورے ملک میں بجلی کی خدمات کی قابل اعتماد اور قابل رسائی ہونے میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہیں۔
آج ہندوستان دنیا کے توانائی کے تین بڑے صارفین میں شمار ہوتا ہے اور بجلی کی طلب میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی کی مجموعی پیداوار 2023-24 میں 1,739.09 بلین یونٹ سے بڑھ کر 2024-25 میں 1,829.69 بلین یونٹ ہو گئی، جو 5.21 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ 2025-26 کے لیے پیداوار کا ہدف 2,000.4 بلین یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کو حکومتی سطح پر کیے گئے واضح اور مربوط اقدامات سے تقویت مل رہی ہے، جن میں قابلِ تجدید توانائی کی توسیع، نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کا آغاز، ہندوستان کی تبدیلی کے لیے جوہری توانائی کے پائیدار استعمال و ترقی (شانتی) ایکٹ کے ذریعے جوہری قوانین کی جدید کاری، توانائی کی کارکردگی کا فروغ، بجلی کی تقسیم کے نظام میں اصلاحات اور ڈیجیٹل توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہیں۔
ہندوستان کا ابھرتا ہوا توانائی کا منظرنامہ پرانے نظام کو یکایک ترک کرنے کے بجائے بتدریج اور محتاط انداز میں ایک نئے نظام کی تشکیل کا عمل ہے، تاکہ ملک ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے روزگار و معاشی مواقع کو بہتر بنا سکے اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے اپنے طویل مدتی ہدف کی جانب مضبوطی سے پیش قدمی کر سکے۔
قابلِ تجدید توانائی کی پیمائش: توسیع سے عالمی قیادت تک
ہندوستان میں قابلِ تجدید توانائی کی توسیع ایک پالیسی پر مبنی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں پیمانہ، رفتار، مینوفیکچرنگ کی گہرائی اور عالمی روابط شامل ہیں۔ اسی دوران، بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آئی آر ای این اے) کے قابلِ تجدید توانائی کے اعداد و شمار 2025 کے مطابق، ہندوستان قابلِ تجدید توانائی کی کل نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔
شمسی توانائی کے شعبے میں خاص طور پر تیز رفتار اضافہ ہوا ہے۔ نصب شدہ شمسی صلاحیت 2014 میں 3 جی ڈبلیو سے بڑھ کر جنوری 2026 میں 140 جی ڈبلیو تک پہنچ گئی ہے۔ اس نمو نے غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی صلاحیت کو کل نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کے 50 فیصد سے زیادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی بھی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جنوری 2026 تک ہندوستان کی مجموعی نصب شدہ ونڈ پاور صلاحیت تقریباً 54.65 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو قابلِ تجدید توانائی کے مجموعے میں شمسی توانائی کے ساتھ مل کر گرڈ کے تنوع اور استحکام کو مضبوط بناتی ہے۔ شمسی اور ہوا کی توانائی مل کر ملک کی صاف توانائی کی صلاحیت میں غالب حصہ رکھتی ہیں۔
سرکاری پروگراموں نے گھریلو، زرعی، بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں اس توسیع کو رفتار دی ہے:
- پی ایم سوریا گھر یوجنا کے تحت 23.9 لاکھ گھروں میں چھتوں پر شمسی نظام نصب کیے گئے، جس سے تقسیم شدہ صاف توانائی کی صلاحیت میں 7 گیگاواٹ کا اضافہ ہوا۔
- پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا واتھان مہاابھیان (پی ایم-کُسم) زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے، ڈیزل پر انحصار کم کر رہی ہے اور زرعی توانائی کی فراہمی کو مستحکم بنا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 31 مارچ 2026 تک 14 لاکھ اسٹینڈ اَلون سولر پمپ نصب کرنے کا ہدف ہے تاکہ دیہی علاقوں میں صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
- تقریباً 40 گیگاواٹ کی منظور شدہ صلاحیت کے ساتھ 13 ریاستوں میں 55 شمسی پارکوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تنصیب میں تیزی آئی ہے۔
- 24,000 کروڑ روپے کی لاگت والی پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم مقامی شمسی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنا رہی ہے اور درآمدات پر انحصار کم کر رہی ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کی توسیع اب صرف صلاحیت بڑھانے تک محدود نہیں رہی بلکہ پیداوار، بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ اور عالمی شراکت داری تک پھیل چکی ہے۔ توجہ اب محض اضافۂ صلاحیت سے ہٹ کر ایک مسابقتی اور خود کفیل صاف توانائی کے ماحولیاتی نظام کی تعمیر پر مرکوز ہے۔
گرین ہائیڈروجن: توانائی کے اگلے محاذ کی تعمیر
سبز ہائیڈروجن ہندوستان کی صاف توانائی کی منتقلی کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، بالخصوص اُن شعبوں میں جہاں اخراج میں کمی لانا مشکل سمجھا جاتا ہے، جیسے فولاد، کھاد، ریفائننگ، جہاز رانی اور بھاری نقل و حمل۔
گرین (سبز) ہائیڈروجن کیا ہے؟
سبز ہائیڈروجن وہ ہائیڈروجن ہے جو جیواشم ایندھن کے بجائے قابلِ تجدید توانائی، مثلاً شمسی یا ہوا کی طاقت، کے ذریعے تیار کی جاتی ہے۔ اس عمل میں شمسی پینل یا ونڈ ٹربائنوں سے حاصل ہونے والی بجلی کو استعمال کرتے ہوئے برقی تجزیے کے ذریعے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
حکومتِ ہند کی جانب سے مطلع کردہ معیارات کے مطابق اس طریقے سے تیار کی جانے والی ہائیڈروجن اُس وقت “سبز” شمار کی جاتی ہے جب اس کے پورے پیداواری عمل کے دوران اخراج کی مقدار نہایت کم ہو،یعنی پیدا ہونے والی ہر ایک کلوگرام ہائیڈروجن کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی اخراج 2 کلوگرام سے زیادہ نہ ہو، جس کا حساب گزشتہ 12 ماہ کی اوسط کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔
گرین (سبز) ہائیڈروجن بایوماس (مثلاً زرعی فضلے) کو ہائیڈروجن میں تبدیل کرکے بھی تیار کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ اخراج اسی مقررہ حد سے کم رہے۔
ہندوستان نے 2023 میں شروع کیے گئے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن (این جی ایچ ایم) کے تحت 2030 تک سالانہ 5 ملین میٹرک ٹن (ایم ایم ٹی) سبز ہائیڈروجن پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مشن سے توقع ہے کہ:
- 8 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا
- جیواشم ایندھن کی درآمدات میں 1 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی لائے گا
- 2030 تک سالانہ تقریباً 50 ایم ایم ٹی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے بچاؤ ممکن بنائے گا

اس پیمانے کو بڑھانے کے لیے حکومت نے مالی سال 2029-30 تک 19,744 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کی منظوری دی ہے، جن میں سائٹ (ایس آئی جی ایچ ٹی)پروگرام کے تحت 17,490 کروڑ روپے شامل ہیں، جو گھریلو الیکٹرولائزر مینوفیکچرنگ اور سبز ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے ترغیبات فراہم کرتا ہے۔
عمل درآمد پہلے ہی شروع ہو چکا ہے:
- ہندوستان کا پہلا بندرگاہ پر مبنی سبز ہائیڈروجن پائلٹ کمیشن کیا جا چکا ہے۔
- ہائیڈروجن موبلٹی کے پائلٹ منصوبے 10 راستوں پر چل رہے ہیں، جن میں بسیں اور ٹرک شامل ہیں۔
- گرین ہائیڈروجن سرٹیفیکیشن اسکیم (2025) اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی ہائیڈروجن اخراج کے مقررہ معیارات پر پورا اترے، جس سے ملکی اور برآمدی منڈیوں میں اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔
سبز ہائیڈروجن قابلِ تجدید توانائی کی توسیع کو صنعتی ڈی کاربونائزیشن سے جوڑتی ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی حل ہی نہیں بلکہ توانائی کے تحفظ، مینوفیکچرنگ کی ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے ایک تزویراتی وسیلہ بن چکی ہے۔ جوہری، شمسی اور ہوا کی توانائی، سبز ہائیڈروجن، بیٹری ذخیرہ اندوزی اور اہم معدنیات،یہ سب مل کر توانائی کے تحفظ اور توانائی کی منتقلی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں معاون ہیں۔ یہ اقدامات مجموعی طور پر سبز ہائیڈروجن کو ہندوستان کے ابھرتے ہوئے توانائی منظرنامے کا اگلا اہم محاذ بناتے ہیں۔
جوہری توانائی: قانون سازی کی جدید کاری اور بیس لوڈ میں توسیع
جوہری توانائی نہایت کم گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے ساتھ مستحکم اور چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرتی ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے حصے کے ساتھ، جوہری توانائی گرڈ کے استحکام اور قابلِ اعتماد بیس لوڈ فراہمی کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستان کی موجودہ جوہری صلاحیت 8.78 گیگاواٹ ہے، اور زیرِ تعمیر نئے ری ایکٹروں کے ساتھ 2031-32 تک اس کے 22.38 گیگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت نے 2047 تک 100 گیگاواٹ کے حصول کے وژن کے ساتھ ایک طویل مدتی نیوکلیئر انرجی مشن کا اعلان کیا ہے، جو صاف توانائی اور توانائی کے تحفظ کے قومی اہداف کے ساتھ جوہری توسیع کو ہم آہنگ کرتا ہے۔
اس توسیع کی حمایت کرنے والی ایک بڑی ادارہ جاتی اصلاح پائیدار استعمال اور ترقی برائے جوہری توانائی برائے تبدیلیٔ ہند (شانتی) ایکٹ، 2025 ہے۔ یہ قانون ہندوستان کے جوہری قانونی ڈھانچے کو مستحکم اور جدید بناتا ہے۔ اس کے تحت:
- ریگولیٹری نگرانی میں نجی شعبے کی محدود شمولیت ممکن بنائی گئی ہے
- جوہری توانائی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کو قانونی حیثیت دی گئی ہے
- درجہ بند ذمہ داری کا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے
- سیفٹی، سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے
- حساس جوہری ایندھن کے چکر سے متعلق سرگرمیوں پر خود مختار کنٹرول برقرار رکھا گیا ہے
بڑے ری ایکٹروں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ، نیوکلیئر انرجی مشن نے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں (ایس ایم آر) کی ترقی کے لیے 20,000 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جن کے تحت 2033 تک کم از کم پانچ مقامی طور پر ڈیزائن کردہ ایس ایم آر نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ جدید ری ایکٹر زیادہ لچکدار، قابلِ توسیع اور متنوع توانائی کی ضروریات کے مطابق ڈھالے جانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
توانائی کی کارکردگی اور کاربن منڈیوں کا استحکام
توانائی کی کارکردگی صرف صاف توانائی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ توانائی کے دانشمندانہ استعمال سے بھی متعلق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم بجلی، ایندھن یا حرارت استعمال کرتے ہوئے وہی کام انجام دیا جائے۔ اس سے اخراجات کم ہوتے ہیں، نظام کی قابلِ اعتمادیت بہتر ہوتی ہے، جبکہ تحفظ کا مقصد توانائی کے ضیاع سے بچاؤ ہے۔
ہندوستان نے گزشتہ برسوں میں پالیسی اصلاحات اور بازار پر مبنی نظام کے ذریعے اپنے کارکردگی کے فریم ورک کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔
کارکردگی، حصول اور تجارت (پی اے ٹی) اسکیم سے کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم (سی سی ٹی ایس) کی طرف منتقلی ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔ سی سی ٹی ایس کے تحت:
- زیادہ اخراج کرنے والی صنعتوں کے لیے گرین ہاؤس گیس کی شدت کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔
- جو ادارے اپنے مقررہ اہداف سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں وہ قابلِ تجارت کاربن کریڈٹ حاصل کرتے ہیں۔
- یہ کریڈٹس خریدے اور فروخت کیے جا سکتے ہیں، جس سے کارکردگی میں بہتری کے لیے ایک مؤثر بازاری ترغیب پیدا ہوتی ہے۔
گھریلو سطح پر توانائی بچانے والے آلات اور مؤثر روشنی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے متعدد پروگرام نافذ کیے گئے ہیں۔ اجالا پروگرام کے تحت 36.87 کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں:
- سالانہ 47,883 ملین کلو واٹ گھنٹہ توانائی کی بچت
- سالانہ 3.88 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی
کیا آپ جانتے ہیں؟
اجالا کے ایل ای ڈی بلب کی تقسیم کا ماڈل اب ہندوستان سے باہر بھی اپنایا جا رہا ہے۔ ملائیشیا کی ریاست میلاکا نے انرجی ایفیشنسی سروسز لمیٹڈ (ای ای ایس ایل) کے ساتھ معاہدے کے تحت اجالا طرز کی اسکیم نافذ کی، جبکہ اس سے قبل مؤثر روشنی کے فروغ کے لیے اجالا–یو کے کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے ارجا دکشتا انفارمیشن ٹول (یو ڈی آئی ٹی) مختلف شعبوں میں شفافیت، نگرانی اور تعمیل کو مزید بہتر بناتے ہیں۔
توانائی کی کارکردگی قابلِ تجدید توانائی کی توسیع کی تکمیل کرتے ہوئے گرڈ پر طلب کے دباؤ کو کم کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بجلی تک رسائی میں اضافہ اخراج میں اسی تناسب سے اضافے کا سبب نہ بنے۔
بجلی کے شعبے کی اصلاحات اور تقسیم کے نظام کا استحکام
قابلِ اعتماد بجلی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتی کہ اسے کس طرح پیدا کیا جاتا ہے، بلکہ اس بات پر بھی کہ اسے کس قدر مؤثر طریقے سے منتقل، تقسیم، بل کیا اور منظم کیا جاتا ہے۔ اسی لیے تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانا اصلاحات کا مرکزی محور رہا ہے۔
دین دیال اُپادھیائے گرام جیوتی یوجنا (ڈی ڈی یو جی جے وائی)، انٹیگریٹڈ پاور ڈیولپمنٹ اسکیم (آئی پی ڈی ایس) اور پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا (سؤبھاگیہ) کے تحت تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 1.85 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ اس کے نتیجے میں 18,374 دیہاتوں تک بجلی پہنچائی گئی اور 2.86 کروڑ گھروں کو بجلی کے کنکشن فراہم کیے گئے، جس سے ملک بھر میں بجلی تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اصلاحات کے اگلے مرحلے میں ڈسکومز کی مالی اور عملیاتی صحت کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 2021 میں شروع کی گئی تجدید شدہ تقسیم کے شعبے کی اسکیم (آر ڈی ایس ایس)، جس کا مجموعی حجم 3.03 لاکھ کروڑ روپے ہے، کے تحت بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور اسمارٹ میٹرنگ کے نفاذ کے لیے 2.8 لاکھ کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔
اس ڈیجیٹل تبدیلی کے حصے کے طور پر مختلف اسکیموں کے تحت ملک بھر میں 5.62 کروڑ اسمارٹ بجلی میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔ یہ میٹر بلنگ کی درستگی میں اضافہ کرتے ہیں، تکنیکی و تجارتی نقصانات کو کم کرتے ہیں اور قریب حقیقی وقت کے ڈیٹا کے ذریعے طلب کے بہتر انتظام کو ممکن بناتے ہیں۔
قانون سازی کی اصلاحات ان ساختی بہتریوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ بجلی (ترمیمی) بل، 2026 کے مجوزہ مسودے کا مقصد اس شعبے کی مالی پائیداری کو مضبوط بنانا، ہندوستانی صنعت کی مسابقت میں اضافہ کرنا، تقسیم کے نیٹ ورک کے زیادہ مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور ریگولیٹری جوابدہی کو بہتر بنانا ہے۔
قومی بجلی پالیسی، 2026 کا مسودہ ایک ایسی حکمتِ عملی پیش کرتا ہے جس کے ذریعے مالی طور پر قابلِ عمل اور ماحولیاتی طور پر پائیدار بجلی کے شعبے کے ذریعے سستی قیمت پر توانائی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے معیاری اور بلا تعطل 24×7 بجلی فراہم کی جا سکے۔
توانائی تک رسائی سے توانائی کی خود اختیاری تک: انڈیا انرجی اسٹیک (آئی ای ایس)
انڈیا انرجی اسٹیک (آئی ای ایس) ایک ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) ہے، جسے صارفین، یوٹیلٹیز، ریگولیٹرز اور تقسیم شدہ توانائی کے اثاثوں کے درمیان قابلِ اعتماد ڈیجیٹل تعامل کو ممکن بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بکھرے ہوئے ڈیٹا نظام اور مہنگے انضمامی عمل کے مسائل کے حل کے طور پر تصور کیا گیا آئی ای ایس کھلے معیارات اور رضامندی پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ کے اصولوں پر مشترکہ ڈیجیٹل بنیاد فراہم کرے گا، جبکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ڈیٹا کی ملکیت اصل مالکان ہی کے پاس رہے۔
یہ اقدام ڈیٹا کے تبادلے کو معیاری بنا کر ایک ایسا ماحولیاتی نظام تشکیل دیتا ہے جو:
- باہمی طور پر مربوط (انٹرآپریبل) ہو
- مسابقت کو فروغ دے
- اور شرکت کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو

آئی ای ایس کا مقصد صارفین کو توانائی کے نظام میں فعال شراکت داروں میں تبدیل کرنا ہے:
- یوٹیلٹیز کے درمیان پورٹیبل اور آسان آن بورڈنگ
- رضامندی پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے صارفین کو بامعنی انتخاب
- بڑے پیمانے پر روف ٹاپ سولر، بیٹریوں، ای وی چارجرز اور لچکدار بوجھ کی قدر بندی (منیٹائزیشن)
"پالیسی بطور کوڈ" کو شامل کرتے ہوئے اور قریب حقیقی وقت میں تصفیے کو ممکن بنا کر آئی ای ایس شفافیت کو مضبوط کرتا ہے، تنازعات کو کم کرتا ہے اور گرڈ کے باہمی ربط کو بہتر بناتا ہے۔
نظام کی کارکردگی اور روزگار کے مواقع کے ساتھ کھلی اختراع کو ہم آہنگ کرتے ہوئے آئی ای ایس توانائی کی خود اختیاری کو مستحکم بناتا ہے اور صارفین کو وسیع پیمانے پر توانائی کی منتقلی سے انتخاب اور آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
عالمی قیادت اور اسٹریٹجک شراکت داریاں
جیسے جیسے ہندوستان اپنی داخلی توانائی کی منتقلی کو مضبوط بنا رہا ہے، ویسے ہی وہ صاف توانائی، سستی اور پائیداری کے حوالے سے عالمی مکالمے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بین الاقوامی شراکت داریاں قومی اصلاحات کی تکمیل کرتی ہیں اور ہندوستان کو عالمی توانائی کے حل میں ایک فعال شریک کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
ہندوستان جی 20 انرجی ٹرانزیشن ورکنگ گروپ جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، جہاں اس نے صاف ایندھن اور توانائی کی سلامتی پر اعلیٰ سطحی تعاون کو فروغ دیا ہے۔ اپنی جی 20 صدارت کے دوران ہندوستان نے گلوبل بائیوفیولز الائنس (جی بی اے) کا آغاز کیا، جس میں اب 25 ممالک اور 12 بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں، اور جو دنیا بھر میں کم لاگت اور کم کاربن بائیوفیولز کو فروغ دیتا ہے۔
ملک نے 2024 میں بین الاقوامی مرکز برائے توانائی کی کارکردگی میں شمولیت اختیار کر کے توانائی کی کارکردگی کے میدان میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس کے ذریعے داخلی اقدامات کو عالمی بہترین طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
یو این ایف سی سی سی کے فریم ورک کے تحت ہندوستان نے 2070 تک نیٹ زیرو حاصل کرنے کا عہد کیا ہے، جس کے تحت 2030 تک جی ڈی پی کے اخراج کی شدت میں 45 فیصد کمی لائی جائے گی۔ یہ اقدام ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے درمیان متوازن نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تمام اقدامات مل کر ہندوستان کو سستی صاف توانائی، منصفانہ آب و ہوا کی مالی اعانت اور ٹیکنالوجی تک رسائی کے معاملے میں عالمی جنوب کی ایک تعمیری آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
بین الاقوامی شمسی اتحاد اور انڈیا انرجی ویک
ہندوستان کی عالمی صاف توانائی تک رسائی دو بڑے اقدامات کے ذریعے نمایاں ہوتی ہے:
بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) اور انڈیا انرجی ویک (آئی ای ڈبلیو) ، جو مل کر عالمی سطح پر شمسی تعاون اور وسیع تر توانائی مکالمے کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ہندوستان کے اشتراک سے قائم کردہ آئی ایس اے شمسی مالیات کو متحرک کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں کم لاگت شمسی تنصیب کو وسعت دینے کے لیے 125 سے زائد رکن اور دستخط کنندہ ممالک کو یکجا کرتا ہے۔
ہندوستان کے زیرِ اہتمام انڈیا انرجی ویک حکومتوں، صنعت کے قائدین، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی فراہم کنندگان کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں توانائی کی سلامتی، صاف ایندھن، قابلِ تجدید ذرائع اور منتقلی کے راستوں پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔ اس سے عالمی توانائی کے منظرنامے میں ایک منتظم اور رابطہ کار کے طور پر ہندوستان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔
نتیجہ
ہندوستان کا توانائی کا سفر اب کسی ایک ذریعے تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ شمسی پارکوں، چھتوں پر نصب سولر نظام، گرین ہائیڈروجن کے پائلٹ منصوبوں، جدید جوہری فریم ورک، اسمارٹ میٹروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے تقویت حاصل کر رہا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافہ، نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کی پیش رفت، ڈسکومز کا استحکام اور انڈیا انرجی اسٹیک کی تعمیر جیسے سنگ میل ایک ایسی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جو منظم بھی ہے اور مستقبل نگر بھی۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آتی بلکہ منصوبہ بندی، مرحلہ وار عمل درآمد، پالیسی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، تکنیکی جدت اور عالمی تعاون کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔
جیسے جیسے ہندوستان اپنے نیٹ زیرو 2070 کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے، توانائی کے ذرائع کا یہ ارتقا ظاہر کرتا ہے کہ ترقی اور پائیداری ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ گھروں، کھیتوں، کارخانوں اور ڈیٹا سینٹروں کو توانائی فراہم کرنے والا نظام ایسا ہوگا جو لچکدار، جامع اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
ہندوستان صرف بجلی پیدا نہیں کر رہا، بلکہ ایک محفوظ، پائیدار اور خود کفیل مستقبل کے لیے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور اشتراک کے پورے نظام کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے۔
حوالہ جات
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس (ایم او پی این جی)
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2036867®=3&lang=2
https://mopng.gov.in/en/page/68
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1809204
وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی (ایم این آر ای)
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2071486
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2183434
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2208694
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2144627
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2117501
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2200441
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2156173
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2110283
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2042069
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1763712
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2183866
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2176518
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1943779
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2041641
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2111106
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2004187
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1795071
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1961797
https://mnre.gov.in/en/physical-progress/
https://mnre.gov.in/en/year-wise-achievement
https://mnre.gov.in/en/policies-and-regulations/schemes-and-guidelines/schemes/
https://mnre.gov.in/en/wind-policy-and-guidelines/
https://mnre.gov.in/en/national-green-hydrogen-mission
https://pmkusum.mnre.gov.in/#/landing
https://pmsuryaghar.gov.in/
https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3716e1b8c6cd17b771da77391355749f3/uploads/2025/11/202511061627678782.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2166110®=3&lang=2
https://mnre.gov.in/en/national-green-hydrogen-mission/
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2165811®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2039091®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2138051®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2023625®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2075049®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=2030686®=3&lang=2
انڈیا انرجی ویک
https://www.indiaenergyweek.com/
وزارتِ بجلی
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=155063
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=154717
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2215187®=3&lang=2
وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے)
https://ndmindia.mha.gov.in/ndmi/leadership-initiatives
وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی)
https://missionlife-moefcc.nic.in/
نیتی آیوگ
https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2022-11/Mission_LiFE_Brochure.pdf
https://niti.gov.in/key-initiatives/life
پارلیمنٹ آف انڈیا / سنسد(پارلیمان)
https://sansad.in/ls/legislation/bills
https://sansad.in/getFile/annex/269/AU1111_Djrfhp.pdf?source=pqars
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU491_lHmqAc.pdf?source=pqars
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU1638_Yolfxg.pdf?source=pqals
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AU490_gwc1C9.pdf?source=pqals
وزارتِ خزانہ
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/
کابینہ سیکریٹریٹ
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1847812®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1837898®=3&lang=2
پی آئی بی آرکائیو شدہ / جامد دستاویز
https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2022/nov/doc2022119122601.pdf
پی آئی بی آرکائیو
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=156593&NoteId=156593&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2199729®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156480&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219208®=3&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
UR-3188
(ش ح۔اس ک )
(Explainer ID: 157588)
आगंतुक पटल : 11
Provide suggestions / comments