Social Welfare
ہندوستان کو بایوفارما کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنا
بجٹ 27-2026 سیریز
Posted On:
02 FEB 2026 2:32PM
اہم نکات
- مرکزی بجٹ27-2026میں پانچ سال کے لئے 10,000 کروڑ روپے بایوفارما شکتی کے واسطےمختص کرنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد بایولوجکس اور بایوسمیلیئرز کی پیداوار کے لیے ہندوستان کے ایکو نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
- یہ پہل ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک نمایاں بایوفارما صنعت میں تبدیل کرنے اور عالمی بایوفارما مارکیٹ کی 5 فیصد حصہ داری حاصل کرنے کے ہدف سے ہم آہنگ ہے۔
- گزشتہ چند برسوں میں شروع کیے گئے نیشنل بایوفارما مشن اور دیگر سرکاری اسکیمیں بھی اسی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہی ہیں۔
تعارف
مرکزی بجٹ 27-2026 ہندوستان کی دواسازی پالیسی میں ایک اہم اور فیصلہ کن تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بایوفارما اور بایولوجک ادویات کو صحتِ عامہ اور مینوفیکچرنگ حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنایا گیا ہے۔ یہ قدم حکومتِ ہند کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصدہندوستان کو عالمی سطح پر ایک نمایاں بایوفارما صنعت میں تبدیل کرنا اور عالمی بایوفارماسیوٹیکل مارکیٹ میں 5 فیصد کی حصہ داری حاصل کرنا ہے۔
غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور عالمی سطح پر بایولوجکس اور بایوسمیلیئرز پر بڑھتے ہوئے انحصار کو تسلیم کرتے ہوئے، بجٹ میں بایوفارما کو ایک اعلیٰ قدر، مستقبل پر مبنی شعبہ قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف صحتِ عامہ بلکہ معاشی ترقی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
بایوفارما میں حیاتیاتی ذرائع ، جیسے انسانی خلیات ، فنگی ، یا جرثومہ کے ذریعے علاج کے طریقہ ٔ کار ، ان کی تیاری ، یا ان کے ذرائع تلاش کرنا شامل ہے ۔بایوفارماسیوٹیکلز کی کچھ مثالوں میں ویکسین ، اینٹی باڈی علاج ، جین تھیریپی ، سیل امپلانٹس ، جدید انسولین اور ریکومبیننٹ پروٹین دوائیں شامل ہیں ۔
مرکزی بجٹ 26-2025: بایو فارما شکتی پہل
بایوفارما کے لیے بجٹ کی اہم اعلانات
- بایوفارما شکتی کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے، جو ایک مخصوص قومی پہل ہے، جس کے لیے پانچ برس کے لئے 10,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بایولوجکس اور بایوسمیلیئرز کے لیے ہندوستان کے شروع سے آخر تک رسائی والے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
- یہ پہل اعلیٰ قدر کی بایوفارماسیوٹیکل مصنوعات اور ادویات کی ملکی سطح پر تحقیق، ترقی اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گی، درآمدات پر انحصار کم کرے گی اور عالمی بایولوجکس سپلائی چین میں بھارت کی مسابقتی حیثیت کو بہتر بنائے گی۔
- بایوفارما پر مرکوز تعلیمی و تحقیقی نیٹ ورک کی توسیع اور مضبوطی کے لیے تین نئے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ(این آئی پی ای آر ) کے قیام اور سات موجودہ این آئی پی ای آر کی اپ گریڈیشن کی تجویزہے۔ اس پہل کا مقصد بایوفارما تحقیق، ترقی، مینوفیکچرنگ اور ضابطہ کاری کے لیے درکار انتہائی مہارت یافتہ انسانی وسائل کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنا ہے۔
- ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کلینیکل ریسرچ ایکو نظام کی تشکیل کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت 1,000 سے زائد منظور شدہ کلینیکل ٹرائل کے مقامات قائم کئے جائیں گے۔ اس سے بایولوجکس اور بایوسمیلیئرز کے لیے اعلیٰ درجے کے کلینیکل ٹرائلز کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا،اختراع کو تیز رفتار ملے گی اور ہندوستان کو اخلاقی، معیاری اور مؤثر کلینیکل آزمائشوں کے لیے ایک ترجیحی عالمی مرکز کے طور پر مضبوط مقام حاصل ہوگا۔
- بایولوجکس کے لیے انضباطی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس کے تحت سنٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن(سی ڈی ایس سی او) کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی سائنسی اور تکنیکی ماہرین کی شمولیت کی جائے گی، تاکہ انضباطی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے، منظوری کے اوقات کو عالمی معیارات کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے اور پیچیدہ بایوفارماسیوٹیکل مصنوعات کی تیز رفتار جانچ اور منظوری ممکن ہو سکے۔
اس کی کیوں ضرورت ہے
بجٹ مینوفیکچرنگ پیمانے ، ہنر مند انسانی وسائل ، طبی تحقیق کی صلاحیت اور انضباطی ساکھ کو ایک ہی فریم ورک میں جوڑتا ہے ۔ یہ ہندوستان کو فارماسیوٹیکل ویلیو چین -جینرک ادویات کےکفایتی پروڈیوسر سے لے کر اعلی معیار ، اختراع پر مبنی بایو فارماسیوٹیکل مصنوعات کے عالمی مرکز تک میں آگے بڑھانے کے واضح ارادے کا اشارہ ہے ۔
یہ بجٹ ہندوستان کے لیے عالمی بایوفارما مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی کام کو مزید مضبوط کرتا ہے جبکہ جدید اور کفایتی حیاتیاتی علاج ومعالجے تک گھریلو رسائی کو بہتر بناتا ہے ۔
بایو فارما کیا ہے ؟
حالیہ برسوں میں ، ادویات تیزی سے روایتی کیمیائی ادویات سے آگے بڑھ کر ایسے طریقۂ علاج کی طرف بڑھ گئی ہیں جو خود حیاتیات کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ تبدیلی بایوفارما کو جدید صحت کی دیکھ بھال میں سب سے آگے لے آئی ہے ۔ بایوفارما ، یا بایوفرماسیوٹیکل ، دواسازی کی صنعت کا وہ حصہ ہے جو صرف کیمیائی ترکیب پر انحصار کرنے کے بجائے زندہ حیاتیاتی نظاموں کا استعمال کرتے ہوئے ادویات تیار کرنے اور تیار کرنے پر مرکوز ہے ۔

آسان زبان میں، بایوفارما ادویات خلیات، خردبین حیاتیات یا دیگر حیاتیاتی مواد کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔ ان میں انسانی یا جانوروں کی خلیات، بیکٹیریا، فنجائی اور دیگر حیاتیاتی پلیٹ فارم شامل ہو سکتے ہیں، جنہیں علاجی مادّوں کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بایوٹیکنالوجی پر مبنی تحقیقی طریقوں کے ذریعے ان جاندار نظاموں کو اس طرح رہنمائی دی جاتی ہے کہ وہ ایسی ادویات پیدا کریں جو بیماری کی روک تھام، تشخیص یا علاج میں مددگار ہوں۔چونکہ یہ ادویات حیاتیاتی عمل کے ذریعے تیار ہوتی ہیں، اس لیے یہ عام کیمیائی ادویات کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور مخصوص ہوتی ہیں اور جسم کے حیاتیاتی نظاموں کے ساتھ زیادہ درست اور مؤثر انداز میں کارگر ہوتی ہیں۔
جدید دور کی بہت سی اہم ادویات بایوفارما کے زمرے میں آتی ہیں، جن میں ویکسین، علاجی پروٹین، بایوسمیلیئرز اور دیگر جدید بایولوجک تھیرپیز شامل ہیں۔ یہ مصنوعات صحتِ عامہ کے پروگراموں اور طبی علاج میں خاص طور پر متعدی امراض، دائمی بیماریوں اور اُن امراض کے لیے نہایت ضروری ہو چکی ہیں جہاں روایتی ادویات کم مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ حکومت ہندنے اس صنعت کی ترقی کے لیے متعدد پروگرام اور اقدامات شروع کیے ہیں۔ تیزی سے ترقی کرتا ہوا بایوفارما ایکو نظام اور ہدف پر مبنی پالیسی معاونت ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک مسابقتی بایوفارما مرکز کے طور پر ابھرنے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
ہندوستان کے بایوفارما شعبے کو مضبوط بنانے والے سرکاری اقدامات
ہندوستانی دواسازی کی صنعت اب صرف کم لاگت کی جینرک ادویات تک محدود نہیں رہی، بلکہ تیزی سے تحقیق، ترقی اور اعلیٰ قدر کی پیچیدہ مصنوعات جیسے بایوفارماسیوٹیکلز اور بایوسمیلیئرز کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہندوستان اس وقت کفایتی اور معیاری ادویات کی عالمی سپلائی میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے، جہاں وہ پیداواری حجم کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے اور قدر کے لحاظ سے چودھویں نمبر پر ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومتِ ہند نے بایوفارما شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی اقدامات اور مختلف اسکیموں کا ایک جامع سلسلہ نافذ کیا ہے۔ یہ اقدامات ویلیو چین کے تمام مراحل پر محیط ہیں، جن میں تحقیق، ابتدائی سطح پر مصنوعات کی ترقی، مینوفیکچرنگ، اختراع اور تجارت کاری شامل ہیں۔

متعدد اقدامات کا مقصد حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت اور اسٹارٹ اپس کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ ان اقدامات کے تحت مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، اختراع کے فروغ اور گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ ہندوستان کو عالمی سطح پر بایوفارما اور بایو مینوفیکچرنگ کا مرکز بنایا جا سکے۔
نیشل بایوفارما مشن (این بی ایم) – “انوویٹ اِن انڈیا ( آئی3)”
نیشنل بایوفارما مشن(این بی ایم) – انوویٹ اِن انڈیا ( آئی3) کا آغاز مئی 2017 میں کیا گیا، جس کا مقصد ہندوستان کو 2025 تک 100 بلین ڈالر کی ایک نمایاں عالمی بایوٹیک صنعت میں تبدیل کرنا اور عالمی فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں 5 فیصد حصہ داری حاصل کرنا ہے۔ اس اسکیم کی کل لاگت 1,500 کروڑ روپے ہے۔ورلڈ بینک اس کا شریک بانی ہے اور اس کا نفاذ محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے تحت بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی)کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔اس مشن کی بنیادی توجہ نئی ویکسین، بایو تھیریپیوٹکس، تشخیصی آلات اور طبی آلات کی تیاری پر ہے، تاکہ ملک میں بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس کا مقصد ادویات کو زیادہ کفایتی اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنانا بھی ہے۔
این بی ایم 101 پروجیکٹوں کی حمایت کرتا ہے ، جس میں 150 سے زیادہ تنظیمیں اور 30 ایم ایس ایم ای شامل ہیں ۔اس نے 1,000 سے زیادہ ملازمتیں بھی پیدا کی ہیں ، جن میں 304 سائنسدان اور محققین شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ، جینوم انڈیا پروگرام ، جس میں 10,000 جینوم کی ترتیب شامل ہے ، سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ علاج اور روک تھام دونوں میں مستقبل کی عالمی صحت کی دیکھ بھال کی حکمت عملیوں کو تشکیل دے گا۔
یہ صنعت ، تعلیمی اداروں اور حکومت کو یکجا کرکے کام کرتا ہے ۔مشن کی ابتدائی توجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ڈینگی اور کینسر ، ذیابیطس اور ریومیٹائڈ گٹھیا اور طبی آلات اور تشخیص کے لیے بائیوسیمیلرز کے لیے ویکسین تیار کرنے پر ہے ۔
ہندوستان کے صحت سے متعلق اختراعی ایکو نظام میں نیشنل بایوفارما مشن کا کردار
مشن کا ایک اہم نتیجہ یہ رہا ہے کہ بایوٹیک صنعت کاروں کی ایک نئی نسل سامنے آئی ہے، جو سائنسی اختراعات کو کفایتی اور قابلِ رسائی صحت سے متعلق حل میں تبدیل کر رہی ہے۔
اس کی ایک نمایاں مثال ارجن اروناچلم ہیں، جن کا بنگلورو میں قائم اسٹارٹ اپ ووکسَل گرِڈز انوویشنز پرائوشیٹ لمیٹڈہندوستان کا پہلا ادارہ بن چکا ہے جس نے درآمد شدہ مشینوں کے مقابلے کافی کم لاگت پر عالمی معیار کے مطابق ایم آر آئی اسکینر مقامی طور پر تیار کیااور مارکٹ میں متعارف کرایا ہے۔یہ ہلکے وزن اور کم توانائی استعمال کرنے والے ایم آر آئی اسکینرز پہلے ہی ممبئی اور آسام کے کینسر اسپتالوں میں استعمال ہو رہے،جس سے جدید طبی جانچ کی سہولت تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس منصوبے کو ابتدائی مالی معاونت ٹاٹا ٹرسٹ کی جانب سے ملی، تاہم سب سے اہم اور فیصلہ کن فنڈنگ- 12.4 کروڑ روپے- بایوٹکنا،لوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی)کے ذریعے فراہم کی گئی۔

اسی طرح ، چنئی میں واقع لیویم لائف ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے جتن ومل نے ٹائپ 2 ذیابیطس کے لیے لیراگلوٹائیڈ کا ہندوستان کا پہلا بائیوسیملر تیار کیا ہے، جس کی قیمت درآمد شدہ ورژن کا تقریبا ایک تہائی ہے۔ اس مشن نے اس کے کلینیکل آزمائشی اخراجات کا 85فیصد احاطہ کیا۔
مشن کی حمایت یافتہ نجی ادارے یو ٹی آئی ، نمونیا ، ڈینگی ، چکنگنیا ، ملیریا اور ہیپاٹائٹس ای جیسی بیماریوں کے لیے اینٹی بائیوٹکس اور ویکسین تیار کر رہے ہیں۔ اس مشن نے زائیڈس کیڈیلا کے ذریعہ تیار کردہ دنیا کی پہلی ڈی این اے پر مبنی کووڈ-19 ویکسین، زائی کووی-ڈی کی بھی مدد کی ۔
نیشنل بائیوفرما مشن (این بی ایم) نے 2014 سے تقریبا 10,000 حیاتیات پر مبنی اسٹارٹ اپس میں سے بہت سے کو ابتدائی مرحلے کی فنڈنگ فراہم کی ہے ، جس میں بائیوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) نے تقریبا 100 انکیوبیشن مراکز قائم کیے ہیں ۔
عالمی انضباطی اور دانشورانہ املاک کے حقوق کے طریقوں میں 7, 000 سے زیادہ شرکاء (45فیصد خواتین) کو تربیت دی گئی ہے ۔ سات علاقائی ٹکنالوجی ٹرانسفر آفس نے 850سے زیادہ آئی پی فائلنگ اور تقریبا 120 ٹکنالوجی کی منتقلی کو سنبھالا ہے۔
این بی ایم نے کلینیکل ٹرائل سائٹس قائم کی ہیں ، جنہیں تقریبا 8 لاکھ رضاکاروں کے ڈیٹا بیس کی مدد حاصل ہے ، جو کینسر ، ریومیٹولوجی ، ذیابیطس اور اپتھلمولوجی میں ٹرائلز کو قابل بناتے ہیں ۔
این بی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راج کے شیرومالا نے کہا کہ ہندوستان کے پاس 1.1 ٹریلین ڈالر کی عالمی دوا سازی کی صنعت میں اپنی شناخت بنانے کی صلاحیت اور عزم ہے ۔
بی آئی آر اے سی کی قیادت والی بائیوٹیک اختراعی حمایت
محکمہ بائیوٹیکنالوجی کے تحت 2012 میں بی آئی آر اے سی قائم کیا گیا ،جو ملک بھر میں قائم 95 بائیو انکیوبیشن مراکز کے ساتھ مالی معاونت والی اسکیموں، انکیوبیشن بنیادی ڈھانچے اور سرپرستی کے ذریعے اختراع کی حمایت کرتا ہے۔اس کے پروگرام قومی بائیوٹیکنالوجی اور اختراعی پالیسیوں کے ساتھ منسلک ہیں اور قومی سطح پر متعلقہ مصنوعات کی ترقی کی ضروریات کو پورا کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔
اہم اسکیموں میں درج ذیل شامل ہیں۔
- بائیوٹیکنالوجی اگنیشن گرانٹ (بی آئی جی):ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس کے لیے 18 ماہ کے لیے 50 لاکھ روپے تک؛تقریباً 1,000 اختراع کاروں کا تعاون کیا گیا۔
- سیڈ فنڈ: اسٹارٹ اپس کے تصور کے ثبوت کے مرحلے کے آغاز کے لیے 30 لاکھ روپے ایکویٹی کی حمایت۔
- جن کیئر - امرت گرینڈ چیلنج: مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ٹیلی میڈیسن، اور بلاک چین میں 89 ڈیجیٹل ہیلتھ ٹیک ایجادات کی حمایت کی گئی، جس میں ٹیئر-II، -III شہروں اور دیہی علاقوں پر توجہ دی گئی ہے۔
مینو فیکچرنگ اور صنعتی مضبوطی کے اقدامات
گھریلو دواسازی اور بایوفارما مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتِ ہند نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم برائے فارماسیوٹیکلز، اسٹرینتھننگ آف فارماسیوٹیکل انڈسٹری (ایس پی آئی) اسکیم اور بلک ڈرگ پارکس اسکیم جیسے اہم اقدامات نافذ کیے ہیں۔ ان اسکیموں کی بنیادی توجہ مینوفیکچرنگ صلاحیت میں اضافہ، ایکٹیو فارماسیوٹیکل اجزاء (اے پی آئیز) اور انٹرمیڈیٹس کے لیے درآمدات پر انحصار میں کمی، ایم ایس ایم ای یونٹس کو ڈبلیو ایچ او–گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز(جی ایم پی) کے مطابق اپ گریڈ کرنا اور فارماسیوٹیکل کلسٹرز میں مشترکہ ڈھانچے کی تخلیق ہے۔
ایس پی آئی اسکیم کے تحت فارماسیوٹیکل کلسٹرز میں مشترکہ سہولیات کے قیام، ایم ایس ایم ای اداروں کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور ادویات و طبی آلات کے فروغ اور ترقی کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔پی ایل آئی اسکیموں اور بلک ڈرگ پارکس کے ساتھ مل کر یہ اقدامات سپلائی چین کی مضبوطی، معیارات میں بہتری اور ملکی و برآمدات پر مبنی ادویات کی پیداوار کو فروغ دینے کا مقصد رکھتے ہیں۔
فارما میڈ ٹیک (پی آر آئی پی) میں تحقیق اور اختراع کا فروغ
فارما-میڈ ٹیک (پی آر آئی پی) اسکیم میں تحقیق اور اختراع کا فروغ ، جس کا آغاز 2023 میں محکمہ فارماسیوٹیکلز نے کیا تھا ۔ 5, 000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ، ہندوستان کو اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی فارما-میڈ ٹیک سیکٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ اسکیم نئی ادویات ، بائیوسیملرز ، پیچیدہ جینرکس ، صحت سے متعلق ادویات اور نئے طبی آلات میں ابتدائی اور آخری مرحلے کی تحقیق و ترقی کی حمایت کرتی ہے ۔ یہ این آئی پی ای آر میں سینٹرز آف ایکسی لینس کے ذریعے صنعت و تعلیمی شعبے کے تعاون کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔
بایو ای 3 پالیسی اور بایو رائیڈ اسکیم
بایو ای 3 (معیشت ، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایو ٹیکنالوجی) پالیسی کو مرکزی کابینہ نے اگست 2024 میں منظوری دی تھی ۔اس اسکیم کا مقصد پائیدار وکست بھارت کے لیے بایو مینوفیکچرنگ ، بایو-اے آئی ہبس اور بایو فاؤنڈری قائم کرنا ہے ۔نمایاں خصوصیات میں تحقیق اور ترقی کے لیے اختراع پر مبنی تعاون اور پورے شعبے میں صنعت کاری شامل ہیں ۔یہ اختراعات بیماریوں ، غذائی تحفظ اور آب و ہوا کی تبدیلی جیسے اہم سماجی مسائل کو حل کریں گی۔
بی آ ٓئی اوای 3 پالیسی مندرجہ ذیل اسٹریٹجک/موضوعاتی شعبوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے:
- حیاتیاتی اجزا پر مبنی کیمیکلز، پولیمر اور انزائمز
- فنکشنل فوڈز اور اسمارٹ پروٹینز
- صحت سے متعلق بایو تھیرپیٹکس
- موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے مستحکم زراعت
- کاربن کو جذب کرنا اور اس کا استعمال
- سمندری اور خلائی تحقیق
ستمبر 2024 میں شروع کی گئی بایو رائیڈ اسکیم نے ایک اسکیم کے تحت محکمۂ بائیوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کی دو اسکیموں کو ملایا: ’بایو ٹیکنالوجی ریسرچ انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ (بایو-رائیڈ)‘ جس کا نام بایو مینوفیکچرنگ اور بایو فاؤنڈری ہے۔ اسکیم 9197 کروڑ روپے کے اخراجات سے،22-2021 سے 26-2025 تک کے 15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کا احاطہ کرتا ہے۔ دیگر اسکیموں کی طرح، اس کا بھی مقصد صحت کی دیکھ بھال، زراعت، ماحولیاتی پائیداری اور ماحول کے لئے سازگار توانائی جیسے شعبوں میں قومی اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بایو انوویشن کا استعمال کرنا ہے۔
اسکیم کے تین وسیع اجزاء درج ذیل ہیں:
- بایو ٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ(آر اینڈ ڈی)
- صنعتی اور کاروباری ترقی (آئی اینڈ ای ڈی)
- بائیو مینوفیکچرنگ اور بایو فاؤنڈری
اس اسکیم کا مقصد حیاتیات پر مبنی صنعت کاری کو فروغ دینا، جدید تحقیق کی حمایت کرنا، صنعت کے ساتھ تعلیمی تعاون کو آسان بنانا، پائیدار بایو مینوفیکچرنگ، فنڈ ریسرچرز کی حوصلہ افزائی کرنا اور بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے طلباء، نوجوان محققین اور سائنسدانوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔
اختتامیہ
یہ تمام اقدامات تحقیق، اختراع، مینوفیکچرنگ اور صنعت کاری پر محیط ہندوستان میں ایک مستحکم بایو فارما ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے حکومت کی طرف سے سوچے سمجھے اور مربوط پالیسی کے نقطہ نظر کا اشارہ دیتے ہیں۔ یہ ہم آہنگی اہمیت کی حامل ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ہندوستان کی بیماری کا بوجھ غیر متعدی حالات جیسے ذیابیطس، کینسر اور خود مدافعتی امراض کی طرف منتقل ہوتا ہے، جہاں طویل مدتی صحت کے نتائج کے لیے حیاتیاتی علاج تک رسائی ضروری ہے۔
مرکزی بجٹ27-2026میں اعلان کردہ بایوفارما شکتی اسکیم اسی سمت میں ایک اہم پالیسی حل کی نمائندگی کرتی ہے۔ پانچ برسوں میں 10,000 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے تقویت یافتہ یہ اسکیم بایولوجکس اور بایوسمیلیئرز کے شعبے میں ہندوستان کی گھریلو صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔اس اسکیم کے تحت انسانی وسائل کی ترقی، ملک گیر کلینیکل ٹرائلز کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور انضباطی صلاحیت میں اضافہ جیسے مخصوص شعبوں میں ہدف کے مطابق سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ان اقدامات کے ذریعے ہندوستان کے اس عزم کو مزید تقویت ملے گی کہ وہ عالمی سطح پر بایوفارما مینوفیکچرنگ کا ایک نمایاں مرکز بن سکے۔
حوالہ جات
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2115882®=3&lang=2
https://ocs.yale.edu/resources/biopharma/
https://birac.nic.in/nbm/
https://birac.nic.in/webcontent/National_Biopharma_Mission_Document.pdf
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=2115882®=3&lang=2
https://www.mea.gov.in/Images/CPV/NBM-WEBSITE.pdf
https://www.worldbank.org/en/news/feature/2025/11/24/india-s-biopharma-leap-the-world-bank-backed-national-biopharma-mission-is-transforming-health-innovation
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2110765®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=2115882®=3&lang=2
https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/184/AU4732_iEI6nD.pdf?source=pqals
https://prip.pharma-dept.gov.in/
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2048568®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2056001®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=154488&NoteId=154488&ModuleId=3®=3&lang=2
Transforming India into a Global Biopharma Hub
********
(ش ح ۔م ش ۔رض)
U. No. 1473
(Explainer ID: 157178)
आगंतुक पटल : 5
Provide suggestions / comments