• Skip to Content
  • Sitemap
  • Advance Search
Social Welfare

بھارت پرو 2026

بھارت کی وراثت کا ایک زندہ عکس

Posted On: 31 JAN 2026 3:57PM

جمہوری ملک کے دل میں ثقافت

جیسے ہی بھارت کی 77 ویں یومِ جمہوریہ کی پریڈ کی گونج جنوری کی تازہ ہوا میں مدھم ہوئی، دہلی کا تاریخی لال قلعہ قوم کی روح کی ایک زندہ تصویر میں بدل گیا۔

بھارت پرو 2026، چھ روزہ قومی ثقافتی اور سیاحتی فیسٹول، جسے وزارتِ سیاحت کی جانب سے منعقد کیا گیا، 26 جنوری سے شروع ہو کر 31 جنوری تک جاری رہا۔ یہ تقریب 2016 سے سالانہ طور پر منعقد ہو رہی ہے اور حاضرین کو بھارت کی متنوع ثقافتی وراثت کے رنگا رنگ پہلوؤں میں ڈوبنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

بھارت پرو  نئی دہلی کے لال قلعے کے سامنے لانز اور گیان پتھ پر یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے حصہ کے طور پر منعقد ہوتا ہے۔ یہ فیسٹول بھارت کی مالا مال ثقافتی، فنی، خوراک پر مبنی اور روحانی وراثت کا جشن ہوتا ہے اور ساتھ ہی قومی اقدامات جیسے “ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” اور “دیکھو اپنا دیش” کو فروغ دیتا ہے۔ گذشتہ برسوں کےدوران، یہ فیسٹول بھارت کے تنوع میں اتحاد اور سیاحت کی صلاحیت کو اجاگر کرنے والا ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

وندے ماترم کے 150 سال

اس سال کا بھارت پرو خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ صرف ایک اور یومِ جمہوریہ کی تقریب نہیں تھا، بلکہ ’’وندے ماترم‘‘ کے 150 سالہ جشن کی مناسبت بھی تھی، جس کا مطلب ہے’’ماں، میں تجھے نمن کرتا ہوں‘‘۔

بنکم چندر چٹرجی لکھا ہوا گیت ’’وندے ماترم‘‘  پہلی بار 7 نومبر 1875 کو ادبی جریدے ‘بنگادرشن’ میں شائع ہوا۔ بعد میں اسے ان کے لازوال ناول ‘آنندمٹھ’ (1882) میں شامل کیا گیا اور بعد ازاں ربندرناتھ ٹیگور نے اسے موسیقی کے ساتھ پیش کیا۔

یہ موضوع اس انقلابی جذبے کی عکاسی کرتا ہے جس نے جدید بھارت اور آئینی اصولوں کے مطابق تنوع میں اتحاد اور عوامی شرکت کے جذبے کو جنم دیا ۔

بھارت کے سفر پر، ایک دور میں  ایک پویلین

اس فیسٹول کے احاطے میں، بھارت کا تنوع متعدد پرتوں اور گہرائیوں میں نمودار ہوا۔

یومِ جمہوریہ کی جھانکی: چلتی پھرتی کہانیاں

اہم کشش کا مرکز 41 یومِ جمہوریہ جھانکیوں کی نمائش تھی، جس نے حاضرین کو 26 جنوری کو کرتویہ پتھ پر چلنے والی بصری کہانیوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں کی نمائندگی کرنے والی یہ جھانکیوں نےثقافتی ورثہ، ماحولیاتی شعور، جدت اور سماجی ترقی جیسے موضوعات کو اجاگر کیا۔ قریب سے دیکھنے پر، یہ ہر جھانکی دستکاری اور علامتی معنویت کی پرتوں سے بھرپور نظر آتی تھی۔

ثقافتی پرفارمنسز: اسٹیج پر روایت

متعدد اسٹیجز پر 48 ثقافتی پرفارمنسز نے عوامی اور کلاسیکی روایات کو زندہ کیا۔ ریاستی گروپس، ثقافتی اکیڈمیز اور معروف فنکاروں کی جانب سے پیش کی جانے والی رقص کی اقسام، موسیقی کے گروپ اور تھئیٹر کی پیشکشیں ہر شام کو رنگ و موسیقی سے بھرپور بناتی رہیں۔

ان کے ساتھ بھارتی مسلح افواج اور نیم فوجی بینڈز کی 22 پرفارمنسز بھی شامل تھیں، جن کی موسیقی نے ماحول میں ایک جوشیلے حب الوطنی کے جذبے کو پیدا کیا۔

خطوں کا ذائقہ

بھارت کے سفر میں اس کے کھانے کا تجربہ لازمی ہے اور بھارت پرو کا شاندار فوڈ کورٹ ملک کا ایک کھانے کا نقشہ پیش کرتا تھا۔ 60 سے زائد اسٹالز پر روایتی طریقوں اور مقامی اجزاء کے ذریعے تیار شدہ علاقائی پکوانوں کی نمائش کی گئی اور کھانا پکانے کے براہ راست مظاہرے پیش کیے گئے۔ باجرے پر مبنی پکوان، قبائلی خوراک کی روایات اور معروف علاقائی پسندیدہ کھانے—یہ سب اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جغرافیہ، موسم اور ثقافت کس طرح بھارت کے متنوع کھانے کے منظرنامے کو تشکیل دیتے ہیں۔

حاضرین کے لیے یہ تجربہ صرف کھانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ پکوانوں کے ورثہ، پائیداریت اور علاقائی شناخت کا ایک عملی سبق بھی بن گیا۔

جب لال قلعے میں فرانس ملا جھارکھنڈ سے

بھارت پرو کی ثقافتی تبادلے کی خوشبونے  اُس وقت حقیقت کا روپ اختیار کرلیا جب ایک فرانسیسی شخص نے پہلی بار جھارکھنڈ کے پکوانوں کا تجربہ کیا۔

مہمان نے دھوسکا اور آلو چنا جیسے روایتی کھانے چکھے، جو رانچی کے انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ کے طلبہ نے شیف ہرے کرشنا چودھری کی رہنمائی میں تیار کیے تھے۔

مہمان نے کہا کہ ’’ذائقہ، سادگی اور انفرادیت‘‘ نے دل کو چھو لیا اور انہوں نے کہا کہ یہ پکوان مقامی ثقافت اور پائیدار خوراک کے طریقوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

یہ اسٹال جھارکھنڈ کے بھرپور خوراک کے ورثے کا ایک سفر پیش کرتا تھا، جو قبائلی روایات، دیہی طریقوں اور پائیدار، باجرے پر مبنی کھانوں پر مبنی ہے۔

 

دستکاری، کپڑا اور طبقے

ایک وسیع دستکاری اور ہینڈلوم بازار بھی بہت پُرکشش تھا، جس میں ریاستوں، مرکزی وزارتوں، ڈی سی ہینڈی کرافٹس، ڈی سی ہینڈلومز اور ٹرائیفیڈ کی جانب سے ترتیب دیے گئے 102 سے زائد اسٹالز شامل تھے۔ یہاں حاضرین کو ہاتھ سے بُنے ہوئے کپڑے، دھاتی کام، لکڑی کی دستکاری، مصوری اور زیورات دیکھنے کو ملے—جن میں سے ہر ایک نسل در نسل منتقل ہونے والی مہارت اور ثقافتی یاد کا امین تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ، 34 ریاستی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سیاحتی پویلین اور 24 مرکزی وزارتوں کے اسٹالز نے علاقائی سیاحتی مقامات، ثقافتی سرکٹس اور عوامی اقدامات پیش کیے۔ یہ مقامات کہانی سنانے اور عوامی رابطے کا حسین امتزاج تھے، جہاں انٹرایکٹو اور بصری نمائشوں کے ذریعےحاضرین کو بھارت کے متنوع مناظر اور حکمرانی کی کوششوں سے روشناس کرایا گیا۔

 

ایسی ثقافت جو شرکت کو متوجہ کرتی ہے

بھارت پرو کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ ایک انٹرایکٹو فیسٹول اور اس سال کے ایڈیشن میں ہر عمر کے حاضرین کی بھرپور شرکت کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ بچوں کے لیے مخصوص زونز، ثقافتی کوئز، نُکّڑ ناٹک (اسٹریٹ پلے) اور مختلف شراکتی سرگرمیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حاضرین محض تماشائی بن کر نہ رہیں۔اس کے بجائے، انہوں نے ثقافت کو ایک ایسی چیز کے طور پر محسوس کیا جو پُر اثر ہو اور اُس میں سب کی شرکت بھی ہو۔یہ وہ  انداز تھا جو نسل در نسل ثقافتی شعور کو فروغ دینے کے فیسٹول کے بڑے مقصد سے ہم آہنگ تھا۔

 

ڈیجیٹل نمائشوں اور منتخب گیلریوں نے روایت اور ٹیکنالوجی کے درمیان فاصلے کو بھی پاٹ دیا، جس سے وراثت اپنی گہرائی برقرار رکھتے ہوئے نوجوان نسل کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بن گئی۔

بھارت پرو 2026 میں، دیہی صحت تربیتی مرکز، نجف گڑھ نے سی پی آر (سی پی آر) کے عملی مظاہروں، آیورویدک اور احتیاطی صحت سے متعلق مشاورت، کوئز اور “اپنی آشا کو پہچانیے” گوشے کے ذریعے حاضرین کو متحرک کیا اور عوامی صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دیا۔ اسی دوران، نیشنل سائنس سینٹر کی انٹرایکٹو سائنسی نمائش نے عملی تجربات اور ڈیجیٹل ڈسپلے کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور سائنس کو عام فہم اور دلچسپ انداز میں پیش کیا۔

زمین سے ابھرتی آوازیں

ٹرائیفیڈ (ٹی آر آئی ایف ای ڈی) کے زیرِ اہتمام ایک اسٹال پر رکس رَنگ ڈی مومِن (عمر 26 سال) خاموش مگر پُراعتماد انداز میں اپنے سامان کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ میگھالیہ کے ضلع ویسٹ گارو ہلز کے شہر تورا سے تعلق رکھتے ہیں اور قبائلی نوجوان کاروباریوں کی اُس نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو کمیونٹی کے اجتماعی علم میں جڑی روایات کو آگے بڑھا رہی ہے۔

مومِن کے مطابق، چائے محض ایک پیداوار نہیں بلکہ میگھالیہ کی قبائلی برادریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، جو جنگلاتی روایات اور اجتماعی محنت سے تشکیل پاتی ہے۔ بھارت پرو میں شرکت نے انہیں ایک ایسی چیز فراہم کی جو اپنے علاقے میں شاذ و نادر ہی میسر آتی ہے اور وہ ہے نمائش اور پہچان۔

ایسے پلیٹ فارم دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور حاشیے پر موجود لوگوں کو قومی سطح پر جگہ فراہم کرتے ہیں، جہاں وہ اپنی کہانیاں خود بیان کر سکتے ہیں اور وراثت پر مبنی روزگار کے ذریعے وقار اور مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے 59 سالہ ماہرِ امراضِ قلب جیکب مولر کو یہ فیسٹول تقریباً اتفاقاً دیکھنے کا موقع ملا۔ بھارت پہنچنے کے محض آٹھ گھنٹے بعد وہ لال قلعہ دیکھنے کے لیے پرانی دہلی کی طرف نکلے اور خود کو بھارت پرو کی دھنوں اور رنگوں کے درمیان پایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق “ایک بہت ہی چھوٹے ملک” سے ہے اوریہی سبب ہے کہ اتنے بڑے فیسٹول کو دیکھ کر انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ مرکزی اسٹیج پر ہونے والی پرفارمنسز نے سب سے پہلے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔

کھانے پینے کے اسٹالز کو دیکھنے کے شوق میں، وہ اپنے اردگرد موجود تنوع کو تجسس اور قدردانی کے ساتھ محسوس کرتے رہے۔

دہلی کے رہنے والے آرین کرن سنگھ (عمر 26 سال) کے لیے بھارت پرو ایک ایسا تجربہ ثابت ہوا جس سے وہ مانوس بھی تھے اور یہ بالکل نیا بھی تھا۔ انہیں اس فیسٹول کے بارے میں انسٹاگرام کے ذریعے معلوم ہوا تھا، مگر لال قلعے کے احاطے میں قدم رکھتے ہی ان کا تجسس حیرت میں بدل گیا۔ دارالحکومت میں پوری زندگی گزارنے کے باوجود، آرین کا کہنا تھا کہ اس فیسٹول نے انہیں ایک ہی جگہ پر کئی ریاستوں کی ثقافتوں سے روشناس ہونے کا موقع دیا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جو انہوں نے اس سے پہلے کبھی اتنی شدت کے ساتھ محسوس نہیں کیا تھا۔

انہیں سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ یومِ جمہوریہ کی جھانکیوں کی نمائش تھی۔ ان کا کہنا تھا،“میں نے کبھی 26 جنوری کی پریڈ نہیں دیکھی، لیکن یہاں لال قلعے کے سامنے میں ان جھانکیوں کو دیکھ کر میرے دل میں حب الوطنی کا گہرا جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔”یہ تجربہ جتنا جذباتی تھا اتنا ہی محسوس بھی تھا۔ وہ ریاستی اسٹالز پر لافنگ اور فلٹر کافی سے لطف اندوز ہوئے اور انہوں نے خود کو بھارت کے تنوع کا جشن مناتے ہوئے پایا—کسی مجرد تصور کے طور پرنہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کے طور پر جسے وہ محسوس اور چھو سکتے تھے۔

جمہوری ملک کا اظہار فیسٹول

بنیادی طور پر، سالانہ بھارت پرو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بھارت کی طاقت صرف اس کے اداروں میں نہیں، بلکہ اس کے عوام اور ان کی روایات میں مضمر ہے۔ لال قلعے کے سامنے—جو آزادی اور جمہوریت کی علامت سمجھا جاتا ہے—یہ فیسٹول خود جمہوریہ کا ایک زندہ اظہار بن جاتا ہے۔

بھارت پرو حاضرین کو “بھارت کے تصور” کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے، اس کی متنوع آوازوں کو سننے کا موقع دیتا ہے اور انہیں ملک کی مشترکہ ثقافتی وراثت سے ایک نئے اور گہرے ربط کے احساس کے ساتھ واپس لوٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

31 جنوری 2026 کو منعقد ہونے والی اختتامی تقریب اس فیسٹول کا شایانِ شان اختتام ثابت ہوئی، جس میں نائب صدرِ جمہوریہ ہند نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور اس پلیٹ فارم کی قومی اہمیت کو اجاگر کیا۔

بھارت پرو 2026 اختتام پذیر ہوگیا اور اس نے حاضرین کے لیے صرف یادیں ہی نہیں چھوڑیں، بلکہ اس نے بھارت کے تصور سے ایک گہرا تعلق بھی عطا کیا جو ایک ایسا تصور ہے جو بے شمار شخصیتوں، روایات اور اجتماعی فخر سے تشکیل پایا ہے۔

حوالے

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2218525&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2218957&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219507&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219961&reg=3&lang=1

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/nov/doc2025116686201.pdf

پی ڈی ایف دیکھنے کےلئے یہاں کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ک ح۔ ن م۔

U-1481

(Explainer ID: 157176) आगंतुक पटल : 7
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Kannada , Malayalam
Link mygov.in
National Portal Of India
STQC Certificate