• Skip to Content
  • Sitemap
  • Advance Search
Infrastructure

زمین کی نایاب دھاتوں سے متعلق ہندوستان کی حکمت عملی: مینوفیکچرنگ، راہداریاں، اور عالمی اشتراک

Posted On: 02 FEB 2026 6:53PM

اہم نکات

· قومی بجٹ 27–2026 میں اڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں زمین کی نایاب دھاتوں کے لیے مخصوص راہداریوں کا اعلان کیا گیا ہے، جن کا مقصد کان کنی، پراسیسنگ، تحقیق اور زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں(آر ای پی ایم) کی تیاری ہے۔

· نومبر 2025 میں 7,280 کروڑ روپےکی آرای پی ایم مینوفیکچرنگ اسکیم کی منظوری دی گئی۔

· 6,000 ایم ٹی پی اے کی مربوط آرای پی ایم  پیداواری صلاحیت قائم کی جائے گی۔

· پانچ برسوں میں 6,450 کروڑ روپےکی فروخت سے منسلک مراعات دی جائیں گی۔

· جدید سہولیات کے لیے 750 کروڑ روپےکی سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

· جیولوجیکل سروے آف انڈیا(جی ایس آئی) نے نایاب ارضی معدنی وسائل کے 482.6 ملین ٹن کی نشاندہی کی ہے۔

 

تعارف

بھارت اہم اور حساس مواد میں خود کفالت کے حصول کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہا ہے، جس کے تحت زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں (آرای پی ایم) کے لیے ایک مضبوط مقامی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ اعلیٰ کارکردگی کے حامل مقناطیس برقی گاڑیوں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں، الیکٹرانکس، ہوابازی اور دفاع جیسے شعبوں کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اس مقصد کے تحت حکومت نے نومبر 2025 میں 7,280 کروڑ روپے کی ایک اسکیم کی منظوری دی، جس کے ذریعے 6,000 ایم ٹی پی اے کی مربوط آرای پی ایم پیداواری صلاحیت قائم کی جائے گی، اور نایاب ارضی آکسائیڈز سے لے کر تیار شدہ مقناطیس تک پوری ویلیو چین کا احاطہ کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ، مرکزی بجٹ 27-2026 میں اوڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں زمین کی نایاب دھاتوں کے لیے مخصوص راہداریوں کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، تاکہ کان کنی، پروسیسنگ، تحقیق اور تیاری کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ اقدامات آتم نربھر بھارت، نیٹ زیرو 2070 اور وکست بھارت @2047 جیسے قومی اہداف سے ہم آہنگ ہیں، اور بھارت کو جدید مواد کی عالمی ویلیو چین میں ایک اہم کردار کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔

ہندوستان میں زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوںکی اسٹریٹجک اہمیت اور وسائل کی صلاحیت

زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں (آرای پی ایم) مستقل مقناطیس کی مضبوط ترین اقسام میں شمار ہوتے ہیں اور اپنی بلند مقناطیسی طاقت اور استحکام کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا چھوٹا حجم اور غیر معمولی کارکردگی انہیں جدید انجینئرنگ کے شعبوں میں ناگزیر بنا دیتی ہے، جیسے برقی گاڑیوں کے موٹرز، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں کے جنریٹرز، صارف اور صنعتی الیکٹرانکس، ہوابازی کے نظام، دفاعی آلات اور اعلیٰ درستی کے حامل سینسرز۔

جیسے جیسے بھارت صاف توانائی، جدید نقل و حرکت اور اسٹریٹجک شعبوں میں اپنی پیداواری صلاحیت کو وسعت دے رہا ہے، آرای پی ایم کی ایک قابلِ اعتماد مقامی فراہمی انتہائی اہم ہو گئی ہے۔ اس سے نہ صرف درآمدات پر انحصار کم ہوتا ہے بلکہ جدید مواد کی عالمی ویلیو چین میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

§ بھارت کے وسائل کی بنیاد

§ بھارت کے پاس نایاب ارضی معدنیات کے وافر ذخائر موجود ہیں، جو زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں (آرای پی ایم) جیسی ڈاؤن اسٹریم صنعتوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

§ مونازائٹ کے ذخائر: بھارت کے پاس 13.15 ملین ٹن مونازائٹ موجود ہے، جس میں اندازاً 7.23 ملین ٹن نایاب ارضی آکسائیڈز (آر ای او)  شامل ہیں۔

§ جغرافیائی پھیلاؤ: یہ ذخائر اوڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، مغربی بنگال، گجرات، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ ، بالخصوص ساحلی سمندری ریت، ٹیری/سرخ ریت اور اندرونی علاقوں میں میں پائے جاتے ہیں۔

§ اضافی وسائل: گجرات اور راجستھان میں سخت چٹانی علاقوں کے اندر 1.29 ملین ٹن نایاب ارضی آکسائیڈ(آر ای او) کے وسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

§ تحقیقی و تلاش کی کوششیں: جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی ) نے مزید تلاش اور تحقیق کے ذریعے ذخائر میں اضافہ کیا ہے، اور 34 تحقیقی منصوبوں کے تحت 482.6 ملین ٹن نایاب ارضی معدنی وسائل کی نشاندہی کی ہے۔

یہ تمام ذخائر مل کر زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں (آرای پی ایم ) کی مربوط مینوفیکچرنگ کے ایک جامع نظام کے قیام کے لیے بھارت کے مضبوط خام مال کے وسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس شعبے میں تلاش اور سرمایہ کاری کی ضرورت — اگرچہ بھارت کے پاس نایاب ارضی وسائل کی ایک مستحکم بنیاد موجود ہے، تاہم مستقل مقناطیس کی مقامی پیداوار ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے، اور زیادہ تر طلب درآمدات کے ذریعے پوری کی جا رہی ہے، جن میں بنیادی حصہ چین سے آتا ہے (2022 سے 2025 کے دوران قدر کے لحاظ سے تقریباً 60 سے80 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 85 سے90 فیصد)۔ برقی نقل و حرکت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس اور دفاعی شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے باعث 2030 تک زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں کی کھپت کے دوگنا ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی مقامی پیداواری صلاحیت کو وسعت دے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور طویل المدتی خود کفالت کو یقینی بنایا جا سکے۔

نایاب ارضی مینوفیکچرنگ اور راہداریوں کے لیے بجٹ کی مضبوط حمایت

مرکزی بجٹ27-2026 میں اہم اور حساس مواد میں بھارت کی خود کفالت کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے تحت حال ہی میں منظور کی گئی زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں (آرای پی ایم) مینوفیکچرنگ اسکیم کو نئی راہداری پر مبنی پہل کاریوں کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک جامع فریم ورک تشکیل دیتے ہیں، جو مقامی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے، اور بھارت کو جدید مواد کے عالمی میدان میں ایک قائدانہ کردار دلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آرای پی ایم مینوفیکچرنگ اسکیم

اہم اور حساس مواد میں بھارت کی خود کفالت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے 26 نومبر 2025 کو زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتوں کے لیے ایک بڑی اسکیم کی منظوری دی۔ اس اقدام کے تحت ایک مکمل طور پر مربوط مقامی مینوفیکچرنگ نظام قائم کرنے کے لیے مالی معاونت اور مراعات فراہم کی جائیں گی۔

 

· مالی حجم: 7,280 کروڑ روپے

· پیداواری صلاحیت کا قیام: سینٹرڈ آرای پی ایم کی 6,000 ایم ٹی پی اے کی مربوط پیداواری صلاحیت، جو عالمی مسابقتی بولی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پانچ مستفید کنندگان میں تقسیم کی جائے گی

· مراعات: پانچ برسوں میں 6,450 کروڑ روپےکی فروخت سے منسلک مراعات

· سرمایہ جاتی سبسڈی: جدید سہولیات کے قیام کے لیے 750 کروڑروپے

· مدتِ نفاذ: منصوبے کے قیام کے لیے دو سال کی تیاری کی مدت، اس کے بعد پیداوار سے منسلک پانچ سالہ مراعات کی فراہمی

· مقصد: نایاب ارضی آکسائیڈز سے لے کر تیار شدہ مقناطیس تک ایک مکمل اینڈ ٹو اینڈ نظام قائم کرنا، تاکہ برقی نقل و حرکت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس، ہوابازی اور دفاع جیسے شعبوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں

· مرکزی  بجٹ27-2026 : زمین کے اندر پائی جانیوالے نایاب دھاتوں کے لئے راہداریوں کا قیام

 

آر ای پی ایم اسکیم کی تکمیل کے لیے مرکزی بجٹ27-2026 میں اڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں زمین کی نایاب دھاتوں کے لیے مخصوص راہداریوں کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ راہدارییں کان کنی، پراسیسنگ، تحقیق اور مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کریں گی، اور ان ریاستوں کی معدنی وسائل سے بھرپور بنیاد سے فائدہ اٹھائیں گی۔ اس اقدام سے مقامی معیشتوں کو تقویت ملنے، تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) کی صلاحیت میں اضافے، اور بھارت کو جدید مواد کی عالمی ویلیو چین میں مزید گہرائی سے شامل کرنے کی توقع ہے۔

 

یہ راہداریں اوڈیشہ اور کیرالہ میں آئی آر ای ایل (انڈیا) لمیٹڈ کی پہلے سے موجود سرگرمیوں کی براہِ راست تکمیل کرتی ہیں۔

آئی آر ای ایل (انڈیا) لمیٹڈ، جو پہلے انڈین ریئر ارتھز لمیٹڈ کے نام سے جانا جاتا تھا، 1963 سے محکمۂ جوہری توانائی کے تحت کام کر رہا ہے۔ سالانہ 10 لاکھ ٹن کی پروسیسنگ صلاحیت کے ساتھ یہ ادارہ اہم اسٹریٹجک معدنیات جیسے اِلمنائٹ، روٹائل، زرکون، سیلیمانائٹ اور گارنیٹ تیار کرتا ہے۔ خاص طور پر، آئی آر ای ایل اوڈیشہ میں ایک نایاب ارضی اخراجی پلانٹ اور کیرالہ کے الووا میں ایک نایاب ارضی ریفائننگ یونٹ چلا رہا ہے، جو نایاب ارضی راہداریوں کے اقدام سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ آئی آر ای ایل کی موجودہ سہولیات کو نئی راہداریوں کے ساتھ مربوط کر کے حکومت کا مقصد زمین کی نایاب دھاتوں کی مقامی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، جدید مینوفیکچرنگ کو فروغ، اور خود کفالت و صاف توانائی کی جانب بھارت کی منتقلی کو تیز کرنا ہے۔

قومی اہداف سے ہم آہنگ نایاب ارضی ترقی

بھارت کے حالیہ پالیسی اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نایاب ارضی عناصر کی ترقی کو کس طرح وسیع تر قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ توجہ صرف صنعتی ترقی تک محدود نہیں بلکہ صاف توانائی، دفاع اور اسٹریٹجک وسائل کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے۔

· خود کفالت (آتم نربھر بھارت): درآمدات پر انحصار کم کر کے، جہاں25-2022 کے درمیان مستقل مقناطیس کی قدر کے لحاظ سے 60 سے 80فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 85سے90 فیصد چین سے حاصل کی گئی تھی، بھارت کا مقصد اپنی مقامی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور اہم سپلائی چینز کو محفوظ بنانا ہے۔

· صاف توانائی کی منتقلی: زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتیں برقی گاڑیوں کے موٹرز اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائن جنریٹرز کے لیے ناگزیر ہیں، جو بھارت کی قابل تجدید توانائی کی توسیع اور نیٹ زیرو 2070 وژن کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرکزی  بجٹ میں اعلان کردہ یہ راہدارییں یقینی بنائیں گی کہ معدنی وسائل سے بھرپور ریاستیں براہِ راست اس منتقلی میں حصہ لے سکیں۔

· قومی سلامتی اور دفاع: زمین کے اندر پائی جانیوالی نایاب مستقل مقناطیسی دھاتیں ہوابازی کے نظام، دفاعی آلات، اور اعلیٰ درستی کے سینسرز کے لیے اہم ہیں۔ مقامی راہداریوں اور پیداواری صلاحیت سے اسٹریٹجک استعمال کے لیے محفوظ رسائی یقینی بنتی ہے اور عالمی سپلائی چین کی رکاوٹوں کے باعث خطرات کم ہوتے ہیں۔

· پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات: یہ اقدامات مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ (ایم ایم ڈی آر)  ایکٹ، ترمیم شدہ 2023 کے تحت کی گئی اصلاحات کی تکمیل کرتے ہیں، جس میں اہم معدنیات کی مخصوص فہرست شامل کی گئی اور نجی شعبے کو تلاش اور کان کنی میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔ یہ اقدامات نیشنل کرٹیکل منرلز مشن (این سی ایم ایم) ، جنوری 2025 میں منظور شدہ) کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں، جس کا مقصد زمین کی نایاب دھاتوں اور دیگر اسٹریٹجک معدنیات کے لیے پائیدار سپلائی چین کو محفوظ بنانا ہے۔

عالمی معدنی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا:

بھارت کی زمین میں  پائی جانیوالی نایاب دھاتوںاور اہم معدنیات کی حکمت عملی صرف داخلی اصلاحات تک محدود نہیں بلکہ یہ مضبوط سپلائی چین کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔

· دو طرفہ معاہدے

· کان کنی کے وزارت نے معدنیات سے بھرپور ممالک جیسے آسٹریلیا، ارجنٹینا، زیمبیا، موزمبیق، پیرو، زمبابوے، ملاوی، اور کوٹے ڈی آئیور کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔

· یہ شراکت داری طویل مدتی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں تاکہ نایاب ارضی اور دیگر اہم معدنیات حاصل کی جا سکیں، جو صاف توانائی، جدید نقل و حرکت، اور دفاعی استعمال کے لیے ناگزیر ہیں۔

 

کثیرجہتی پلیٹ فارم

· بھارت معدنیات سکیورٹی پارٹنرشپ (ایم ایس پی) میں حصہ لیتا ہے، جو بڑی معیشتوں کا ایک گروپ ہے اور جس کا مقصد اہم معدنیات کے عالمی سپلائی چینز کو متنوع اور محفوظ بنانا ہے۔

· بھارت، ہند-بحرالکاہل اکنامک فریم ورک (آئی پی ای ایف) کا بھی حصہ ہے، جس میں صاف توانائی اور اہم معدنیات کی سپلائی چین پر تعاون شامل ہے۔

· یہ پلیٹ فارم بھارت کو ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، اور پائیدار کان کنی کے طریقوں پر تعاون کے مواقع فراہم کرتے ہیں، جس سے سپلائی کی رکاوٹوں کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

 

کھنیج بدیش انڈیا لمیٹیڈ(کے اے بی آئی ایل) کا کردار

· کے اے بی آئی ایل،  نیشنل ایلومینیم کمپنی لمیٹڈ (این اے ایل سی او) ، ہندستان کاپر لمیٹڈ(ایچ سی ایل) اور مائنرل ایکسپلوریشن اینڈ کنسلٹنسی لمیٹڈ (ایم ای سی ایل) کا مشترکہ منصوبہ ہے، جو کان کنی کے وزارت کے تحت کام کرتا ہے۔

· اس کا مقصد بیرون ملک معدنی وسائل حاصل کرنا اور انہیں ترقی دے کر بھارت کی مقامی ویلیو چینز کو مضبوط بنانا ہے۔

· کے اے بی آئی ایل، نے ارجنٹینا میں سی اے ایم وائی ای این کے ساتھ پانچ لیتھیم برائن بلاکس کی تلاش اور کان کنی کے لیے معاہدہ کیا، جو بیرون ملک اہم معدنی وسائل کی حفاظت میں ایک اہم قدم ہے۔

 

نتیجہ:

بھارت میں پائی جانے والی زیر زمین نایاب دھاتوں سے متعلق  حکمت عملی مضبوط مقامی وسائل کی صلاحیت کو ہدفی پالیسی اور مالی معاونت کے ساتھ جوڑ کر فیصلہ کن انداز میں خود کفالت کی طرف بڑھ رہی ہے۔7,280 کروڑ روپےکی آرای پی ایم  مینوفیکچرنگ اسکیم اور مرکزی بجٹ27-2026 میں اعلان شدہ مخصوص نایاب ارضی راہداریوں سے مل کر کان کنی، پراسیسنگ، تحقیق اور مینوفیکچرنگ کے لیے ایک مربوط فریم ورک قائم ہوتا ہے۔ یہ اقدامات درآمدات پر انحصار کم کرتے ہیں، صاف توانائی اور دفاعی سپلائی چینز کو مضبوط کرتے ہیں، اور آتم نربھر بھارت، نیٹ زیرو 2070 اور وکست بھارت @2047 جیسے قومی اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔ بین الاقوامی شراکت داریوں اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ یہ اقدامات اہم معدنیات تک پائیدار رسائی کو مزید یقینی بناتے ہیں۔ مربوط داخلی اور عالمی اقدامات کے ذریعے، بھارت خود کو جدید مواد کی ویلیو چین میں ایک قابل اعتماد اور مسابقتی فریق کے طور پر پیش کررہا ہے۔

 

حوالہ جات:

بھاری صنتوں کی وزارت :

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2194687&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2151394&reg=3&lang=2

 

 

کان کنی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114467&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1945102&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1996380&reg=3&lang=2

mines.gov.in/admin/storage/ckeditor/NCMM_1739251643.pdf

 

جوہری توانائی کا محکمہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2147282&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2147282&reg=3&lang=2

 

آئی آر ای ایل (انڈیا) لمیٹید

https://www.irel.co.in/quick-aboutus

 

مرکزی بجٹ27-2026

https://www.indiabudget.gov.in/

 

پریس انفارمیشن بیورو:

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156753&ModuleId=3&reg=3&lang=1

زمین کی نایاب دھاتوں سے متعلق ہندوستان کی حکمت عملی: مینوفیکچرنگ، راہداریاں، اور عالمی اشتراک

 

************

ش ح۔ع و ۔ ج ا

 (U: 1483) 

(Explainer ID: 157175) आगंतुक पटल : 4
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati
Link mygov.in
National Portal Of India
STQC Certificate