• Skip to Content
  • Sitemap
  • Advance Search
Farmer's Welfare

کھادوں کا متوازن استعمال: پائیدار کاشتکاری کا ایک اہم ذریعہ

پیداواری صلاحیت، مٹی کی زرخیزی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو ایک ساتھ لانا

Posted On: 31 JAN 2026 10:25AM
اہم نکات:
  • کھادوں کا متوازن استعمال اس بات پر منحصر ہے کہ تمام ضروری میکرو نیوٹرینٹس اور مائیکرو نیوٹرینٹس فصل کی ضرورت، مٹی کی زرخیزی کی صورتحال اور موجودہ موسم کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب تناسب، مقدار، وقت اور طریقۂ استعمال کے ساتھ فراہم کیے جائیں۔
  • حکومتِ ہند مختلف اقدامات کے ذریعے کھادوں کے متوازن استعمال کو فعال طور پر فروغ دے رہی ہے، جن میں سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم، نیوٹرینٹ بیسڈ سبسڈی، نیم لیپت یوریا، حسبِ ضرورت اور مضبوط (فورٹیفائیڈ) کھادیں اور نینو کھادیں شامل ہیں۔
  • ری جنریٹو زراعت مٹی کی زرخیزی کو بہتر بنا کر اور غذائی اجزاء کے مؤثر استعمال کو بڑھا کر متوازن کھاد کے تصور کو مضبوط کرتی ہے، ساتھ ہی غذائی اجزاء کے ضیاع میں کمی اور طویل مدتی پیداوار کے استحکام کو یقینی بناتی ہے۔
  • مٹی کے ٹیسٹ پر مبنی سفارشات، حسبِ ضرورت کھادیں اور مربوط غذائی نظم و نسق کے طریقے کھاد کے زیادہ درست، مؤثر اور کفایتی استعمال میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

تعارف: کھاد کے متوازن استعمال کی اہمیت

سبز انقلاب نے بھارت کی زرعی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ پیدا کیا۔ 1960 کی دہائی کے وسط میں چاول اور گندم کی زیادہ پیداوار دینے والی، کھاد پر مثبت ردِعمل ظاہر کرنے والی اقسام کے تعارف، وسیع پیمانے پر آبپاشی کے فروغ اور کیمیائی کھادوں کے استعمال نے ملک کو “مشکل سے گزارا کرنے” کی صورتِحال سے نکال کر غذائی خود کفالت اور بعد ازاں غذائی اجناس برآمد کرنے والا ملک بنا دیا۔ غذائی اجناس کی پیداوار میں اس تیز رفتار اضافے نے نہ صرف قومی سطح پر خوراک کی یقینی فراہمی کو ممکن بنایا بلکہ بھوک میں نمایاں کمی، دیہی ذریعہ معاش میں بہتری اور بھارت کو دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کیا۔

تاہم، پیداوار میں اضافے کی بنیاد بننے والی اس بہترین کاشت کاری نے وقت کے ساتھ اپنی حدود بھی ظاہر کر دیں۔ مسلسل کاشت، نائٹروجنی کھادوں پر غیر متناسب انحصار اور نامیاتی کھادوں کے استعمال میں کمی کے نتیجے میں غذائی اجزا کا عدم توازن پیدا ہوا اور مٹی کی زرخیزی بتدریج خراب ہونے لگی۔ کھادوں کے حد سے زیادہ اور غیر متوازن استعمال نے ثانوی اور خورد مقوی عناصر کی تیزی سے کمی، مٹی کی ساخت کی خرابی اور بہاؤ و رساؤ (رن آف اور لیچنگ) کے ذریعے غذائی اجزا کے ضیاع کو بڑھا دیا۔

مٹی کی زرخیزی میں کمی فصل کی نشوونما اور پیداوار کو منفی طور پر متاثر کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں:

  • پودوں کے حیاتیاتی و میٹابولک عمل میں خلل،
  • کیڑوں اور بیماریوں کے خلاف حساسیت میں اضافہ، اور
  • زرعی پیداوار کے معیار میں کمی۔

کھاد کا غیر متوازن استعمال صرف مٹی کی زبوں حالی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے دور رس اثرات ماحولیاتی آلودگی اور انسانی صحت کے ممکنہ خطرات کی صورت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کے منفی اثرات مویشیوں کے شعبے تک بھی پھیلتے ہیں، کیونکہ غذائی اجزا سے محروم مٹی پر اگنے والی فصلیں اکثر چارہ اور خوراک کے لیے ضروری معدنیات سے خالی ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں جانوروں کی صحت متاثر ہوتی ہے اور ان کی پیداواریت کم ہو جاتی ہے۔ یوں غذائی اجزا کا عدم توازن مربوط فصل-مویشی نظام کی طویل مدتی پائیداری اور کارکردگی کے لیے ایک بڑا رکاوٹ بن جاتا ہے۔لہٰذا، مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھنا اور سائنسی بنیادوں پر مبنی طریقۂ کار اپنانا زرعی پیداوار کی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔ مٹی کی زرخیزی، جو اس کی کیمیائی، طبعی اور حیاتیاتی خصوصیات سے متعین ہوتی ہے، غذائی اجزا کے مؤثر استعمال، معاشی افادیت اور ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

 

کھاد کے غیر متوازن استعمال سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے جواب میں، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) نے طویل مدتی کھادوں کے تجربے سے متعلق کل ہند مربوط تحقیقی پروجیکٹ کا آغاز کیا۔ یہ پروجیکٹ مختلف زرعی و ماحولیاتی خطّوں اور کاشتکاری کے متنوع نظام میں نافذ کیا گیا، جس کا مقصد طویل عرصے تک کھاد کے مسلسل استعمال کے مٹی کی زرخیزی، فصل کی پیداواریت اور مجموعی نظام کی پائیداری پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔

اس تحقیق نے غذائی اجزا کے غیر سائنسی اخراج (نیوٹریئنٹ مائننگ)، مٹی کی زرخیزی میں کمی اور معقول و متوازن کھاد کے انتظام کی ضرورت سے متعلق مضبوط تجرباتی شواہد فراہم کیے۔ ان نتائج نے پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کی اور ایسے معقول غذائی اجزا کے انتظامی طریقوں کو فروغ دیا جو اعلیٰ زرعی پیداوار پر مبنی کاشتکاری کو برقرار رکھتے ہوئے ماحولیاتی صحت کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔

اسی تناظر میں، حکومتِ ہند مٹی کی زرخیزی کو بحال کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے کھاد کے متوازن استعمال کو ایک بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر فعال طور پر فروغ دے رہی ہے، تاکہ پائیدار زرعی پیداوار کو مضبوط سہارا فراہم کیا جا سکے۔

 

کھادیں کیا ہیں؟

کھاد وہ قدرتی یا مصنوعی مادہ ہے جو مٹی میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ پودوں کو ایک یا ایک سے زیادہ ضروری غذائی اجزاء فراہم کیے جا سکیں۔

کھادوں کو عمومی طور پر دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

غیر نامیاتی کھادیں

غیر نامیاتی کھادیں تیار شدہ کیمیائی مرکبات ہوتی ہیں جن میں مخصوص غذائی عناصر زیادہ مرتکز شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ کھادیں فصلوں کو غذائی اجزاء کی درست مقدار فوری طور پر فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

نامیاتی کھادیں

نامیاتی کھادیں قدرتی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں، جیسے کمپوسٹ، جانوروں کا گوبر، فصلوں کی باقیات، سمندری گھاس اور ہڈیوں کا سفوف۔ یہ کھادیں غذائی اجزاء کو بتدریج اور متوازن انداز میں فراہم کرتی ہیں، مٹی کی ساخت کو بہتر بناتی ہیں، نامیاتی مادہ اور حیاتیاتی سرگرمی میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں جانوروں سے حاصل ہونے والی مصنوعات بھی شامل ہوتی ہیں، جیسے خون کا سفوف (بلڈ میل)، پر کے سفوف (فیدر میل) اور سینگ یا کھُر کا سفوف۔

کھاد کا متوازن استعمال: پائیدار زراعت کی کلید

متوازن غذائی اجزا کے انتظام سے کھاد کے استعمال کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے غذائی اجزا کے جذب کو زیادہ سے زیادہ اور ضیاع کو کم سے کم کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف غذائی اجزا کے درمیان ہم آہنگ اور تقویتی تعلقات کو فروغ ملتا ہے، جو پودوں کی بہتر نشوونما، فصل کی کارکردگی اور مجموعی پیداوار میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔کھاد کا متوازن استعمال طویل مدت میں مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھتا ہے، جس میں مٹی کے نامیاتی مادّے اور حیاتیاتی صحت کا تحفظ شامل ہے۔ یہ مناسب غذائیت کے ذریعے ممکنہ اور حاصل شدہ فصل کی پیداوار کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مزید برآں، یہ کھاد کے غیر متوازن استعمال سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات—جیسے غذائی اجزا کا بہاؤ، رساؤ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج—کو کم کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

کھاد کے متوازن استعمال کی سائنسی بنیاد جسٹس فان لیبگ کے قانونِ کم از کم سے جڑی ہوئی ہے، جس کے مطابق فصل کی بڑھوتری اُس غذائی عنصر سے محدود ہو جاتی ہے جو سب سے زیادہ کمی کا شکار ہو، چاہے دیگر غذائی اجزا وافر مقدار میں ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ یہ اصول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کسی ایک غذائی عنصر کا حد سے زیادہ استعمال اُس وقت بے سود ہو جاتا ہے جب دوسرے ضروری غذائی اجزا کی کمی برقرار رہے۔

لہٰذا، متوازن کھاد سے مراد تمام ضروری نباتاتی غذائی اجزا—خواہ وہ بڑے غذائی عناصر (میکرونیوٹرینٹس) ہوں یا خورد غذائی عناصر (مائیکرونیوٹرینٹس)—کو فصل کی ضروریات، مٹی کی زرخیزی کی کیفیت اور موجودہ موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب تناسب، مقدار، وقت اور طریقۂ استعمال کے ساتھ فراہم کرنا ہے۔ یہ تصور صرف نائٹروجن (N)، فاسفورس (P) اور پوٹاشیم (K) کے روایتی استعمال تک محدود نہیں بلکہ غذائی اجزا کے ایک جامع اور ہمہ گیر بندوبست نظام کو اپنانے پر زور دیتا ہے۔

متوازن کھاد کے فوائد

متوازن کھاد کا استعمال پائیدار زراعت کا ایک بنیادی ستون ہے، جو زرعی، معاشی اور ماحولیاتی سطح پر وسیع فوائد فراہم کرتا ہے:

فصلوں کی زیادہ پیداوار:غذائی اجزا کی متوازن فراہمی فصلوں کو اپنی مکمل پیداواری صلاحیت تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے، جس کے نتیجے میں نمایاں طور پر زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی بہترین کارکردگی:فصلوں کی جدید اور بہتر اقسام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے متوازن غذائیت نہایت ضروری ہے۔

غذائی اجزا کے استعمال کی بہتر کارکردگی:خورد غذائی عناصر کی مناسب دستیابی بڑے غذائی اجزا کے مؤثر استعمال کو بڑھاتی ہے، جس سے ضیاع میں کمی آتی ہے۔

فصل کے معیار اور دباؤ کے خلاف مزاحمت میں بہتری:اچھی غذائیت سے پرورش پانے والے پودے بیماریوں کے خلاف بہتر مزاحمت اور موسمی یا ماحولیاتی دباؤ کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی خوراک اور مویشیوں کے چارے کے لیے اعلیٰ معیار کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔

مٹی کی زرخیزی اور پائیداری میں بہتری:متوازن کھاد مٹی کی زرخیزی، خورد حیاتی سرگرمی، مٹی کی ساخت اور پانی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔

ماحولیاتی خطرات میں کمی:فصل کی ضروریات کے مطابق غذائی اجزا کا استعمال بہاؤ، رساؤ اور آبی آلودگی کو کم سے کم کرتا ہے۔

کم لاگت اور مؤثر وسائل کا استعمال:متوازن غذائی اجزا کا انتظام کسانوں کو زرعی وسائل زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے، غیر ضروری کھاد کے اخراجات کم کرتا ہے اور زیادہ پیداوار و بہتر معیار کے ذریعے آمدنی میں اضافہ کرتا ہے، جس سے طویل مدت میں یہ طریقہ معاشی طور پر نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

متوازن کھاد کا طریقۂ کار: مٹی سے حل تک

متوازن کھاد کے حصول کے لیے ایک کثیر جہتی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے، جس میں سائنس، پالیسی، ٹیکنالوجی اور کسانوں کی فعال شمولیت کا امتزاج شامل ہو۔ بھارتی زراعت میں غذائی اجزا کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات نہایت اہم ہیں:

-1مربوط غذائی اجزا کا انتظام:مربوط غذائی اجزا کا انتظام متوازن کھاد کے حصول کی ایک بنیادی حکمتِ عملی ہے اور یہ اسمارٹ نیوٹرینٹ یوز کے اصول پر مبنی ایک عملی اور سائنسی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے غذائی اجزا کا مؤثر، معاشی اور پائیدار استعمال ممکن ہوتا ہے، جس میں نامیاتی ذرائع، معدنی کھادوں اور حیاتیاتی وسائل کو دانشمندانہ انداز میں یکجا کیا جاتا ہے۔ مربوط غذائی اجزا کا انتظام اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ نہ تو صرف کیمیائی کھادیں اور نہ ہی صرف نامیاتی ذرائع فصلوں کی تمام غذائی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک جامع نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیتا ہے، جس میں شامل ہیں:

کیمیائی کھادیں: بنیادی بڑے غذائی اجزا (نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم – این پی کے) کی فراہمی کے لیے۔

نامیاتی مادّہ: جس میں کمپوسٹ، گوبر کی کھاد، کھیت کی کھاد، گائے کا گوبر اور سبز کھادیں جیسے دھینچا شامل ہیں، جو مٹی کی ساخت، پانی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت اور خورد حیاتی سرگرمی کو بہتر بناتے ہیں۔

فصلوں کی گردش اور باقیات کا انتظام: زرعی نظام میں تنوع بڑھانے، کیڑوں اور بیماریوں کے چکر کو توڑنے اور غذائی اجزاء کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے۔

 

-2ٹیکنالوجی کے ذریعے حسبِ ضرورت  کھادیں:

حسبِ ضرورت کھادیں مخصوص فصل اور مٹی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ ان میں بڑے اور خورد غذائی اجزا سائنسی طور پر متعین تناسب میں شامل ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر، مقامی مٹی میں پائی جانے والی کمیوں کی بنیاد پر زنک، بوران اور سلفر جیسے خورد غذائی عناصر کو یوریا یا ڈی اے پی کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کا ہدف پر مبنی استعمال غذائی اجزا کے ضیاع کو کم کرتا ہے، کھاد کی کارکردگی بڑھاتا ہے اور فصل کے بہتر ردِعمل کا باعث بنتا ہے۔

-3مٹی کے تجزیے پر مبنی کھاد کی سفارشات:

مٹی کا تجزیہ متوازن کھاد کے نظام میں ایک بنیادی اور ناگزیر مرحلہ ہے۔ تجزیے کے نتائج کی بنیاد پر مٹی کو غذائی اجزا کی مقدار کے لحاظ سے کم، درمیانی یا زیادہ درجے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ غذائی اجزا کی کمی والی مٹی میں کھاد کی مقدار بڑھائی جاتی ہے، جبکہ جہاں غذائی اجزا پہلے سے وافر ہوں وہاں مقدار کم کی جاتی ہے۔ سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم اس طریقۂ کار کی معاونت کرتی ہے، کیونکہ یہ کسانوں کو کھیت کی سطح پر مٹی سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے، جس سے وہ کھاد کا زیادہ درست استعمال کر سکتے ہیں اور غیر ضروری زیادتی سے بچ سکتے ہیں۔

-4سوائل ٹیسٹ کراپ رسپانس (ایس ٹی سی آر) طریقۂ کار:

ایس ٹی سی آر طریقہ کھاد کے استعمال کو براہِ راست فصل کے مطلوبہ پیداواری ہدف سے جوڑتا ہے۔ اس میں مٹی کی غذائی حالت، فصل کی قسم اور مقامی موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر مطلوبہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے غذائی اجزا کی درست مقدار کا حساب لگایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کھاد کے زیادہ یا کم استعمال کو روکتا ہے، غذائی اجزا کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اور پائیدار فصلاتی پیداوار کو فروغ دیتا ہے۔

 

-5تشخیص اور سفارشات کا مربوط نظام (ڈی آر آئی ایس):

یہ طریقۂ کار پودوں کے بافتوں (ٹشو) کے تجزیے کے ذریعے غذائی اجزا کے تناسب—جیسے نائٹروجن بہ مقابلہ فاسفورس (N/P) یا نائٹروجن بہ مقابلہ پوٹاشیم (N/K)—کا جائزہ لیتا ہے، بجائے اس کے کہ صرف غذائی اجزا کی مطلق مقدار پر توجہ دی جائے۔

جب غذائی اجزا میں عدم توازن کی نشاندہی ہوتی ہے تو اصلاحی اقدامات، عموماً اوپر سے کھاد ڈالنے (ٹاپ ڈریسنگ) کے ذریعے، تجویز کیے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ خاص طور پر طویل مدتی فصلوں کے لیے مفید ہے اور گندم اور سویابین جیسی فصلوں میں بھی اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

مقام کے مطابق غذائی اجزاء کا انتظام:

یہ طریقۂ کار کھاد کے استعمال کو فصل کی حقیقی ضروریات اور ایک ہی کھیت کے اندر مٹی کی مختلف حالتوں کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ یکساں مقدار میں کھاد ڈالنے کے بجائے، اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ غذائی اجزاء صرف وہیں اور اسی وقت فراہم کیے جائیں جہاں اور جب ان کی ضرورت ہو۔ اس میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:

کھیت کے اندر مٹی کی زرخیزی میں فرق کو سمجھنے کے لیے زمینی تغیر (فیلڈ ویری ایبلٹی) کا تجزیہ،

مٹی میں موجود غذائی ذخائر، فصل کی باقیات اور نامیاتی کھاد جیسے دستیاب غذائی ذرائع کا استعمال،

صرف غذائی کمی کو پورا کرنے کے لیے کھاد کا استعمال، تاکہ غیر ضروری زیادتی سے بچا جا سکے۔

یہ طریقۂ کار تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:

مقامی حالات کی بنیاد پر ایک حقیقت پسندانہ پیداواری ہدف مقرر کرنا،

مٹی اور نامیاتی ذرائع سے دستیاب قدرتی غذائی اجزا کا تخمینہ لگانا،

باقی رہ جانے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کھاد کا استعمال کرنا۔

ری جنریٹو زراعت: متوازن کھاد کے لیے ایک تکمیلی نقطۂ نظر

ری جنریٹو زراعت ایک جامع زرعی طریقۂ کار ہے جو مٹی کی صحت کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع میں اضافے پر مرکوز ہے۔ اس کے بنیادی اصولوں میں مٹی کو کم سے کم چھیڑنا، فصلوں کی گردش کو فروغ دینا، کلیدی فصلیں کاشت کرنا اور ایگروفاریسٹری نظاموں کا انضمام شامل ہے۔

مٹی کی ساخت میں بہتری اور نامیاتی مادّے کی مقدار میں اضافے کے ذریعے، ری جنریٹو طریقے مٹی کی غذائی اجزاء اور نمی کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے فصلوں کے ذریعے غذائی اجزاء کا بہتر جذب ممکن ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں غذائی اجزاء کے ضیاع میں کمی، بار بار کھاد ڈالنے کی ضرورت میں کمی اور غذائی اجزاء کے زیادہ مؤثر استعمال کو فروغ ملتا ہے، جو متوازن کھاد کے نظام کو مضبوط بناتا ہے۔

بھارتی تناظر میں، ری جنریٹو زراعت کے تحت عام طور پر اپنائے جانے والے طریقوں میں مائیکرو آبپاشی، درست مشینی کاشت (پریسیژن میکانائزیشن)، قدرتی کھیتی، کور کراپنگ، ملچنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی نظام شامل ہیں۔

 

متوازن کھاد کے فروغ کے لئے حکومت کے اقدامات

مٹی کی زرخیزی میں بہتری، فصلوں کی پائیدار پیداوار کو برقرار رکھنے اور ماحولیاتی بگاڑ کو کم سے کم کرنے کے لیے متوازن کھاد کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومتِ ہند نے زرعی شعبے میں اس کے فروغ کے لیے متعدد فعال اور جامع اقدامات کیے ہیں۔

 

سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم

سال 2015 میں شروع کی گئی سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم کے تحت کسانوں کو ہر زمین کے ٹکڑے (پلاٹ) کے لیے سائنسی مٹی کے تجزیے پر مبنی ایک تشخیصی رپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ یہ کارڈ مٹی کی زرخیزی کا جائزہ بارہ اہم اشاریوں کی بنیاد پر لیتا ہے، جن میں شامل ہیں:

 

بڑے غذائی اجزاء: نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم اور سلفر

خورد غذائی اجزاء: زنک، آئرن، تانبا، مینگنیز اور بوران

اہم مٹی خصوصیات: مٹی کا ردِعمل، برقی موصلیت اور نامیاتی کاربن

ہر دو سال بعد جاری کیا جانے والا یہ کارڈ کسانوں کو مٹی میں موجود غذائی اجزاء کی کیفیت اور طبعی و کیمیائی حالات کی جامع معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ فصل کے لحاظ سے کیمیائی کھادوں، حیاتی کھادوں، نامیاتی ذرائع اور مٹی کی اصلاحی تدابیر کے استعمال سے متعلق سفارشات بھی دیتا ہے، تاکہ کسان باخبر فیصلے کر سکیں اور طویل مدت میں مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھا جا سکے۔

جولائی 2025 تک، اس اسکیم کے تحت 93 ہزار سے زائد کسان تربیتی پروگرام، تقریباً 6.8 لاکھ فیلڈ مظاہرے، اور ہزاروں بیداری مہمات منعقد کی جا چکی تھیں۔ نومبر 2025 کے وسط تک ملک بھر میں 25.55 کروڑ سے زائد سوائل ہیلتھ کارڈ تقسیم کیے جا چکے تھے، جو متوازن غذائی اجزا کے انتظام کے فروغ میں اس اسکیم کی وسعت اور اثر پذیری کو ظاہر کرتا ہے۔

نیوٹرینٹ پر مبنی سبسڈی اسکیم

نیوٹرینٹ پر مبنی سبسڈی اسکیم نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم اور سلفر جیسے ضروری غذائی اجزاء کے متوازن استعمال کو فروغ دیتی ہے، تاکہ کسان کسی ایک کھاد پر حد سے زیادہ انحصار سے بچیں، مٹی کی زرخیزی برقرار رہے اور فصل کی پیداوار میں بہتری آئے۔

اس اسکیم کے تحت حکومت فاسفیٹک اور پوٹاشک کھادوں—بشمول ڈی اے پی—پر مقررہ سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ سبسڈی کی شرح ہر کھاد میں موجود غذائی اجزاء کی مقدار سے منسلک ہوتی ہے اور وقتاً فوقتاً اس میں نظرِ ثانی کی جاتی ہے۔ ربیع سیزن 26-2025 کے لیے منظور شدہ این بی ایس شرحیں یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک نافذ العمل ہیں۔

 

سال 23-2022 سے 24-2023 کے دوران، مقامی اور درآمد شدہ دونوں اقسام کی فاسفیٹک اور پوٹاشک  کھادوں کے لیے مجموعی طور پر 2.04 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی مختص کی گئی، جو کھاد کے متوازن استعمال کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

نیم کوٹیڈ یوریا

حکومتِ ہند نے ملک میں تیار ہونے والی تمام یوریا پر سو فیصد نیم کوٹنگ کو لازمی قرار دیا، جس کے تحت کھاد بنانے والی کمپنیوں کو اس سے وابستہ اخراجات کی تلافی کے لیے زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت میں 5 فیصد تک اضافہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ شرط مقامی طور پر تیار شدہ یوریا کے لیے ستمبر 2015 سے اور درآمدی یوریا کے لیے دسمبر 2015 سے نافذ کی گئی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں یوریا کی مکمل فراہمی نیم کوٹیڈ شکل میں منتقل ہو گئی۔

نیم کوٹیڈ یوریا دراصل عام یوریا ہے جسے نیم کے تیل سے عمل میں لایا جاتا ہے۔ نیم ایک نائٹری فیکیشن انہیبیٹر کے طور پر کام کرتی ہے، جو مٹی میں نائٹروجن کے اخراج کی رفتار کو سست کر دیتی ہے اور غذائی اجزا کی دستیابی کو فصل کی ضرورت کے مطابق ہم آہنگ بناتی ہے۔ اس سے نائٹروجن کے استعمال کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، غذائی اجزاء کے ضیاع میں کمی آتی ہے اور کھاد کے حد سے زیادہ استعمال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کسان یوریا کی مجموعی کھپت کم کر سکتے ہیں۔ یوں نیم کوٹیڈ یوریا مٹی کی زرخیزی میں بہتری اور زرعی پیداوار کے نظام کی مجموعی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

پرَمپراگت کرشی وکاس یوجنا

سال 2015 میں شروع کی گئی پرَمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دیتی ہے اور اس کے تحت تین سالہ مدت میں فی ہیکٹر 31,500 روپے کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اسکیم متوازن غذائی اجزا کے انتظام کی حمایت کرتی ہے، جس میں روایتی زرعی طریقوں کو پائیدار مٹی زرخیزی کے اصولوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جیسے کمپوسٹ، حیاتی کھادوں اور نامیاتی مادّے کا استعمال۔

31 اکتوبر 2025 تک، اس اسکیم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 16.90 لاکھ ہیکٹر رقبہ پرَمپراگت کرشی وکاس یوجنا کے تحت لایا جا چکا ہے۔

پی ایم-پرانام (وزیرِ اعظم پروگرام برائے بحالی، آگاہی، غذائیت اور ماں دھرتی کی اصلاح)

 

پی ایم-پرانام اسکیم (وزیرِ اعظم پروگرام برائے بحالی، آگاہی، غذائیت اور ماں دھرتی کی اصلاح) کی توجہ کیمیائی کھادوں کے استعمال میں کمی اور متوازن غذائی اجزاء کے فروغ پر مرکوز ہے۔ یہ اسکیم نامیاتی کھاد، حیاتیاتی کھاد اور کمپوسٹ جیسے ماحول دوست متبادل ذرائع کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

اس اسکیم میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ترغیب دینے کا التزام شامل ہے، جس کے تحت اگر کوئی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام  علاقہ کسی مالی سال میں کیمیائی کھادوں (یوریا، ڈی اے پی، این پی کے اور ایم او پی) کے استعمال کو گزشتہ تین برسوں کی اوسط کھپت کے مقابلے میں کم کرتا ہے تو حاصل ہونے والی کھاد سبسڈی کی بچت کا 50 فیصد بطور ترغیبی رقم فراہم کیا جاتا ہے۔

مالی سال 24–2023 کے دوران، 14 ریاستوں نے گزشتہ تین مالی سالوں کی اوسط کے مقابلے میں 15.14 لاکھ میٹرک ٹن کیمیائی کھاد کے استعمال میں کمی درج کی۔

 

نینو کھادوں کا فروغ

نینو کھادوں کا فروغ حکومتِ ہند کی ایک اہم پہل ہے، جس کا مقصد غذائی اجزاء کے مؤثر اور متوازن استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی پر مبنی یہ کھادیں کم مقدار میں زیادہ اثر دکھاتی ہیں، غذائی اجزاء کے ضیاع کو کم کرتی ہیں اور فصلوں کے ذریعے غذائی اجزاء کے بہتر جذب کو ممکن بناتی ہیں، جس سے مٹی کی صحت اور زرعی پائیداری کو تقویت ملتی ہے۔

نینو کھادوں کا فروغ

نینو کھادیں وہ نباتاتی غذائی اجزاء ہیں جو نہایت باریک ذرات (نینو میٹیریلز) کی شکل میں تیار کی جاتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے غذائی اجزاء آہستہ آہستہ خارج ہوتے ہیں اور فصلیں انہیں زیادہ مؤثر انداز میں جذب کرتی ہیں، جس سے ضیاع نہایت کم ہو جاتا ہے۔ نینو کھادوں کے فروغ کے لیے محکمۂ کھاد نے درج ذیل اہم اقدامات کیے ہیں:

ورکشاپس، ویبینارز، فیلڈ مظاہروں، نکڑ ناٹکوں اور علاقائی فلموں کے ذریعے بیداری مہمات

ملک بھر میں پردھان منتری کسان سمردھی کیندر  پر نینو یوریا اور نینو ڈائی امونیم فاسفیٹ  کی دستیابی

ماہانہ کھاد فراہمی کی منصوبہ بندی میں نینو یوریا کو شامل کرنا تاکہ مستقل دستیابی یقینی بنائی جا سکے

نینو اقسام سمیت متوازن کھاد کے استعمال کی ملک گیر تشہیر

تمام 15 زرعی و موسمی خطّوں میں نینو ڈائی امونیم فاسفیٹ  کو فروغ دینے کے لیے “مہا ابھیان” کا انعقاد، جس میں فیلڈ مظاہرے اور منظم کسانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال شامل ہیں

مؤثر اور کم لاگت استعمال کے لیے ڈرون کے ذریعے اسپرے اور بیٹری سے چلنے والے اسپرے پمپس کے استعمال کو فروغ دینا، جس میں تربیت یافتہ دیہی سطح کے کاروباری افراد کی معاونت شامل ہے

کھاد بنانے والی کمپنیوں کو نینو کھادوں کی پیداوار بڑھانے اور توسیع دینے کی حوصلہ افزائی

حسبِ ضرورت اور مضبوط (فورٹیفائیڈ) کھادوں کی تیاری

حکومت مٹی، فصل اور علاقے کے مطابق غذائی ضروریات کو پورا کرنے والی مضبوط اور حسبِ ضرورت کھادوں کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ نیوٹرینٹ پر مبنی سبسڈی  پالیسی کے تحت بوران اور زنک جیسے خورد غذائی اجزاء سے مضبوط یا کوٹیڈ فاسفیٹک اور پوٹاشک  کھادوں کو سبسڈی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایسی مضبوط یا کوٹیڈ کھادوں پر فی میٹرک ٹن اضافی سبسڈی بھی دی جاتی ہے، تاکہ بنیادی غذائی اجزا کے ساتھ ان کے استعمال کی حوصلہ افزائی ہو اور متوازن غذائی اجزا کا فروغ ممکن ہو سکے۔

 

کھاد کی فراہمی اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے نفاذی اقدامات

 

محکمۂ کھاد نے محکمۂ زراعت و کسان بہبود، حکومتِ ہند کے قریبی اشتراک سے موجودہ خریف اور ربیع سیزن 26–2025 (اپریل تا وسط جنوری 2026) کے دوران کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور قومی کھاد سپلائی چین کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع نفاذ مہم چلائی۔

ریاستی حکومتوں اور ضلعی سطح کے حکام کے تعاون سے کھاد کے غلط استعمال اور غیر قانونی رخ موڑنے کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر معائنے، چھاپے اور قانونی کارروائیاں کی گئیں۔ اس مہم کے تحت 14,692 وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے گئے، 6,373 لائسنس معطل یا منسوخ کیے گئے اور 766 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ یہ فعال اور سخت اقدامات کھاد کی بروقت دستیابی کو یقینی بناتے ہیں، مارکیٹ میں نظم و ضبط کو مضبوط کرتے ہیں اور ملک بھر میں کھاد کی تقسیم کے نظام کی سالمیت کو برقرار رکھتے ہیں۔

نتیجہ

کھاد کا متوازن استعمال اب بھارت کی زرعی حکمتِ عملی کا ایک مرکزی جزو بن چکا ہے، جس کا مقصد زرعی پیداوار کو پائیدار بناتے ہوئے مٹی کی ناقص حالت، غذائی اجزا کے عدم توازن اور ماحولیاتی دباؤ جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنا ہے۔ کھاد کے غیر متوازن استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے، حکومتِ ہند نے سائنسی بنیادوں اور کسان دوست اقدامات کے ذریعے غذائی اجزاء کے عدم توازن کو درست کرنے اور کھاد کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فعال اور مربوط اقدامات کیے ہیں۔

سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم کے تحت مٹی کے تجزیے پر مبنی سفارشات، نیوٹرینٹ بیسڈ سبسڈی، مربوط غذائی اجزا کے انتظام (آئی این ایم) کا فروغ، حسبِ ضرورت اور مضبوط (فورٹیفائیڈ) کھادوں کی حوصلہ افزائی اور نینو کھادوں جیسے جدید زرعی مدخلات کو اپنانا—یہ تمام اقدامات غذائی اجزا کے عدم توازن کے ازالے اور کھاد کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی جامع پالیسی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات مٹی کی زرخیزی کی بحالی، زرعی وسائل کے بہتر استعمال اور زرعی شعبے کی طویل مدتی لچک اور پیداواریت کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کو واضح کرتی ہیں۔

 

حوالہ جات

Ministry of Agriculture and Farmers Welfare

PIB Press Releases

PIB Backgrounders

Economic Survey 2025-2026

 

پی ڈی ایف کے لئے یہاں کلک کریں:

 

 

ش ح۔ م ع۔ ج

1360Uno-

(Explainer ID: 157140) आगंतुक पटल : 1
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali
Link mygov.in
National Portal Of India
STQC Certificate