• Skip to Content
  • Sitemap
  • Advance Search
Technology

ڈیزائن سے منسلک ترغیبی اسکیم

ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ایکو سسٹم کو فروغ

Posted On: 04 JAN 2026 12:10PM
  • سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن ایک اہم ویلیو ڈرائیور ہے، جو 50 فیصد تک ویلیو ایڈیشن، 20 سے 50 فیصد بل آف میٹریل (بی او ایم ) لاگت اور 30 سے 35 فیصد عالمی سیمی کنڈکٹر فروخت میں حصہ ڈالتا ہے۔
  • سیمیکون انڈیا پروگرام کے تحت وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) کی ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم کا مقصد ایک خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی چِپ ڈیزائن ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔
  • ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت تعاون یافتہ 24 چِپ ڈیزائن منصوبے اسٹریٹجک شعبوں کو ہدف بنا رہے ہیں، جن میں ویڈیو نگرانی، ڈرون کی نشاندہی، توانائی کی پیمائش، مائیکرو پروسیسرز، سیٹلائٹ مواصلات، اور آئی او ٹی سسٹمز آن چِپ (آئی او ٹی ایس او سی )شامل ہیں۔
  • ڈی ایل آئی سے تعاون یافتہ منصوبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، جن میں 16 ٹیپ آؤٹس، 6 اے ایس آئی سی چِپس، 10 پیٹنٹس، 1,000 سے زائد انجینئرز کی شمولیت اور نجی سرمایہ کاری میں تین گنا سے زائد اضافہ شامل ہے۔

تعارف

ہندوستان اپنے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے اور سیمی کنڈکٹر چِپس کو صحت، نقل و حمل، مواصلات، دفاع، خلاء اور ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے کلیدی اہل کار کے طور پر تسلیم کر رہا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن میں تیزی کے ساتھ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر چِپس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس تناظر میں، حکومتِ ہند سیمیکون انڈیا پروگرام اور انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم) کے ذریعے گھریلو سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام اور سپلائی چین کو مضبوط بنا رہی ہے۔ تاہم، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ چند مخصوص جغرافیائی خطوں تک محدود ہونے کے باعث عالمی سپلائی چین انتہائی نازک اور رکاوٹوں کا شکار ہے۔ یہ صورتِ حال عالمی مینوفیکچرنگ بنیاد کو متنوع بنانے کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے، جس میں ہندوستان تیزی سے عالمی سیمی کنڈکٹر منظرنامے میں ایک اسٹریٹجک اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں:فاب لیس چِپ ڈیزائن سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کا ایک کلیدی ستون ہے

الیکٹرانکس ویلیو چین میں، فاب لیس سیمی کنڈکٹر کمپنیاں سب سے زیادہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ وہ ایسی چِپس ڈیزائن کرتی ہیں جو مصنوعات کی ذہانت، کارکردگی اور سلامتی کو تقویت دیتی ہیں۔ جہاں فاب ادارے سلکان تیار کرتے ہیں اور ای ایم ایس کمپنیاں آلات کو اسمبل کرتی ہیں، وہیں سیمی کنڈکٹر کی نصف سے زائد اقتصادی قدر ڈیزائن اور انٹلیکچول پراپرٹی (آئی پی) سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ محض جسمانی پیداوار سے۔

فاب لیس سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ماڈل نسبتاً کم سرمایہ جاتی اخراجات کے ساتھ اعلیٰ ویلیو ایڈیشن پیدا کرتے ہیں، کیونکہ ڈیزائن اور آئی پی مصنوعات کی مجموعی اقتصادی قدر میں غیر متناسب کردار ادا کرتے ہیں۔

مضبوط فیبلس صلاحیت کے بغیر، کوئی بھی قوم حتیٰ کہ اس صورت میں بھی کہ الیکٹرانکس مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہوں، بنیادی ٹیکنالوجیز کے لیے درآمدات پر منحصر ہی رہتی ہے۔ اس لیے ایک مضبوط فیبلس ایکو سسٹم کی تشکیل بھارت کو ویلیو چین کی سب سے اہم سطح کی ملکیت حاصل کرنے، دانشورانہ ملکیت کو محفوظ رکھنے، درآمدات میں کمی لانے، مینوفیکچرنگ کو راغب کرنے، اور طویل مدتی تکنیکی قیادت قائم کرنے کے قابل بناتی ہے۔

 

ڈی ایل آئی اسکیم

ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم ہندوستان کے مضبوط فاب لیس سیمی کنڈکٹر ڈیزائن صلاحیت کے قیام کے عزائم کو عملی جامہ پہنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس اسکیم کو وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) نے سیمیکون انڈیا پروگرام کے تحت نافذ کیا ہے، تاکہ گھریلو اسٹارٹ اپس اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو مالی ترغیبات اور جدید ڈیزائن انفراسٹرکچر تک رسائی فراہم کر کے ایک مضبوط، خود کفیل چِپ ڈیزائن ماحولیاتی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت اہلیت

اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز سیمی کنڈکٹر پروڈکٹ ڈیزائن اور تعیناتی کے لیے مالی ترغیبات اور ڈیزائن انفراسٹرکچر سپورٹ کے اہل ہیں۔دیگر گھریلو کمپنیاں سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کی تعیناتی کے لیے مالی ترغیبات کی اہل ہیں۔

  • ایم ایس ایم ایز: وزارتِ مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے نوٹیفکیشن، مؤرخہ 1 جون 2020 کے مطابق تعریف شدہ۔
  • اسٹارٹ اپس: ڈیپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے نوٹیفکیشن، مؤرخہ 19 فروری 2019 کے مطابق متعین۔
  • گھریلو کمپنیاں: غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پالیسی سرکلر، 2017 یا موجودہ ضوابط کے مطابق، جن کی ملکیت رہائشی ہندوستانی شہریوں کے پاس ہو۔

ڈی ایل آئی اسکیم سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے پورے لائف سائیکلڈیزائن اور ترقی سے لے کر تعیناتی تک—کی معاونت کرتی ہے، جس میں انٹیگریٹڈ سرکٹس (آئی سیز)، چِپ سیٹس، سسٹمز آن چِپ (ایس او سیز)، سسٹمز اور آئی پی کورز شامل ہیں۔
الیکٹرانک مصنوعات میں دیسی سیمی کنڈکٹر مواد اور دانشورانہ املاک کو فروغ دے کر، اس اسکیم کا مقصد درآمدی انحصار میں کمی، سپلائی چین کی لچک میں اضافہ، اور گھریلو ویلیو ایڈیشن کو مضبوط بنانا ہے۔

ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت مالی ترغیبات اور ڈیزائن انفراسٹرکچر سپورٹ

مالی ترغیبات

پروڈکٹ ڈیزائن سے منسلک ترغیب

تعیناتی سے منسلک ترغیب

اہل اخراجات کے 50% تک کی ادائیگی۔

  • معاوضہ فی درخواست 15 کروڑ روپے تک محدود ہے۔
  • یہ سپورٹ سیمی کنڈکٹر ڈیزائن میں شامل اداروں کے لیے دستیاب ہے: انٹیگریٹڈ سرکٹس (آئی سیز) چپ سیٹس سسٹم آن چپس (ایس او سیز) سسٹمز اور آئی پی کور سیمی کنڈکٹر سے منسلک ڈیزائن۔
  • خالص فروخت کے ٹرن اوور کے 6% سے 4% کی مراعات پانچ سالوں کے لیے فراہم کی جاتی ہیں۔
  • ترغیب کی حد فی درخواست 30 کروڑ ہے۔
  • سال 1-5 کے دوران کم از کم مجموعی خالص فروخت درکار ہے سٹارٹ اپس ایم ایس ایم ایزکے لیے 1 کروڑ اور دیگر گھریلو کمپنیوں کے لیے 5 کروڑ۔
  • ڈیزائن کو الیکٹرانک مصنوعات میں کامیابی کے ساتھ تعینات کیا جانا چاہیے۔

ڈیزائن انفراسٹرکچر سپورٹ

ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت منظور شدہ کمپنیوں کو ڈیزائن انفراسٹرکچر سپورٹ فراہم کرنے کے لیے سی-ڈی اے سی نے چِپ اِن سینٹر قائم کیا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • نیشنل ای ڈی اے (الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن) ٹول گرِڈ:
    چِپ ڈیزائن سرگرمیوں کے لیے جدید (ایڈوانس) ای ڈی اے ٹولز کی ایک مرکزی سہولت تک ریموٹ رسائی اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو فراہم کی جائے گی۔
  • آئی پی کور ریپوزیٹری:
    سسٹمز آن چِپ (ایس او سی) ڈیزائن سرگرمیوں کے لیے آئی پی کورز کے ریپوزیٹری تک لچکدار رسائی فراہم کی جائے گی۔
  • ایم پی ڈبلیو پروٹو ٹائپنگ سپورٹ:
    سیمی کنڈکٹر فاؤنڈریز میں ایم پی ڈبلیو طریقۂ کار کے تحت ڈیزائن کی تیاری کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
  • پوسٹ سلکان ویلیڈیشن سپورٹ:
    تیار شدہ اے ایس آئی سی اور سلکان کی تیاری کے بعد انجام دی جانے والی سرگرمیوں کی جانچ اور توثیق کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

ڈی ایل آئی پروگرام کی نمایاں خصوصیات اور کلیدی کامیابیاں

دسمبر 2021 میں آغاز کے بعد سے ڈیزائن لنکڈ انسینٹو (ڈی ایل آئی) اسکیم ہندوستان میں ایک مضبوط اور خود کفیل سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ایکو سسٹم کی تشکیل میں نہایت مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کو مالی مراعات، جدید ڈیزائن ٹولز تک رسائی اور پروٹو ٹائپنگ سپورٹ فراہم کر کے یہ اسکیم جدت کاروں کو خیالات سے لے کر حقیقی سلکان چِپس کی تیاری تک بغیر رکاوٹ پیش رفت کے قابل بناتی ہے۔ یہ ایکو سسٹم پر مبنی طریقۂ کار چِپ ڈیزائن کے لیے مشترکہ قومی انفراسٹرکچر کے قیام پر استوار ہے۔

اس انفراسٹرکچر کا ایک اہم ستون چِپ اِن سینٹر ہے، جس نے ملک بھر میں تقریباً 400 تنظیموں سے وابستہ تقریباً ایک لاکھ انجینئروں اور طلبہ کے لیے جدید ای ڈی اے (الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن) ٹولز تک رسائی کو جمہوری بنا دیا ہے، اور اس طرح یہ دنیا میں مرکزی نوعیت کی چِپ ڈیزائن سہولت کا سب سے بڑا صارفین کا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ اس میں چِپس ٹو اسٹارٹ اپ (سی ٹو ایس) پروگرام کے تحت تقریباً 305 تعلیمی اداروں اور ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت 95 اسٹارٹ اپس کو معاونت شامل ہے، جس سے ابتدائی مرحلے کے جدت کاروں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں۔

اس کوشش کی تکمیل کرتے ہوئے، ہندوستان کے مشترکہ ای ڈی اے گرِڈجو کہ اعلیٰ درجے کے چِپ ڈیزائن سافٹ ویئر پر مشتمل ایک قومی پلیٹ فارم ہے—نے 2 جنوری 2026 تک ڈی ایل آئی کے تحت معاونت یافتہ 95 اسٹارٹ اپس کے ذریعے مجموعی طور پر 54,03,005 گھنٹوں کے استعمال کو ریکارڈ کیا ہے، جو تمام ریاستوں میں اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور محققین کی جانب سے مضبوط اپنانے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ معاون اقدامات ملکی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے لیے ٹھوس نتائج میں تبدیل ہوئے ہیں۔ ڈی ایل آئی اسکیم کے تحت معاونت یافتہ کمپنیوں نے جدت سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے دس پیٹنٹس دائر کیے ہیں، 16 چِپ ڈیزائن ٹیپ آؤٹس مکمل کیے ہیں، اور چھ سیمی کنڈکٹر چِپس کامیابی کے ساتھ تیار کی ہیںجو تصور سے لے کر سلکان تک کے سفر میں اہم سنگِ میل ہیں۔ اسی دوران، ڈی ایل آئی کے تحت معاونت یافتہ منصوبوں کے ذریعے ایک ہزار سے زائد خصوصی انجینئروں کو تربیت دی گئی یا ان کو شامل کیا گیا، جس سے ہندوستان کے ڈیزائن ٹیلنٹ بیس کو تقویت ملی ہے۔ استفادہ کنندگان نے 140 سے زائد دوبارہ قابلِ استعمال سیمی کنڈکٹر آئی پی کورز بھی تیار کیے ہیں، جو جدید چِپ ڈیولپمنٹ کے لیے نہایت اہم معاون عناصر ہیں۔

ان کامیابیوں کی بنیاد پر، ڈی ایل آئی اسکیم اب ڈیزائن ویلیڈیشن سے پروڈکٹائزیشن کی جانب منتقلی کو فروغ دے رہی ہے، جس کے تحت اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کو بڑے پیمانے پر تیاری، سسٹم انٹیگریشن اور مارکیٹ میں تعیناتی کی سمت آگے بڑھنے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ ارتقا پذیر ایکو سسٹم نہ صرف ہندوستان کی گھریلو سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ملک کو عالمی سطح پر چِپ ڈیزائن اور جدت طرازی میں ایک قابلِ اعتماد کردار کے طور پر بھی پیش کرتا ہے۔

سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کے لیے کلیدی ادارہ جاتی فریم ورک

ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو ایک جامع اور مربوط ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے، جو پالیسی قیادت، سرمایہ کاری کی معاونت، صلاحیت سازی اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کو یکجا کرتا ہے۔ اس ضمن میں کلیدی پروگرامز اور ایجنسیاں چِپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی سے لے کر ہنر مند انسانی وسائل کی تیاری اور اوپن سورس مائیکرو پروسیسر آرکیٹیکچرز کے فروغ تک، ہمہ جہت (اینڈ ٹو اینڈ) معاونت فراہم کر رہی ہیں، تاکہ ہندوستان ایک خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ماحولیاتی نظام کی جانب مستحکم پیش رفت کر سکے۔

  • الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) قومی سیمی کنڈکٹر اقدامات کی قیادت کرتی ہے اور پالیسی سمت کے ساتھ ساتھ کلیدی اینکر اسکیمیں فراہم کرتی ہے۔ یہ وزارت ہندوستان کے چِپ ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مستحکم بنانے کے لیے ادارہ جاتی اور صنعتی شراکت داریوں کو بھی مربوط کرتی ہے۔ ایم ای آئی ٹی وائی نے ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ہندوستان کی گھریلو سیمی کنڈکٹر ڈیزائن صنعت میں موجود ساختی کمزوریوں کو دور کرنا اور سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ہندوستانی کمپنیوں کی پیش رفت کو تقویت دینا ہے۔
  • سیمیکون انڈیا پروگرام (ایس آئی )، جس کے تحت 76,000 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات مختص کیے گئے ہیں، سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ ڈیزائن ماحولیاتی نظام میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے۔ ڈی ایل آئی اسکیم اسی پروگرام کے تحت نافذ کی جا رہی ہے، جو ڈیزائن، فابریکیشن اور پیداوار کے تمام مراحل میں جامع معاونت کو یقینی بناتی ہے۔ سی-ڈی اے سی ، جو ایم ای آئی ٹی وائی کا ایک اہم تحقیق و ترقی ادارہ ہے، ڈی ایل آئی اسکیم کے نفاذ کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر ذمہ دار ہے۔
  • چِپس ٹو اسٹارٹ اپ (سی ٹو ایس) پروگرام ایک جامع صلاحیت سازی پروگرام ہے، جسے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائن میں مہارت رکھنے والی بی ٹیک، ایم ٹیک اور پی ایچ ڈی سطح کی تقریباً 85 ہزار صنعت کے لیے تیار افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
  • مائیکرو پروسیسر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت سی-ڈی اے سی، آئی آئی ٹی مدراس اور آئی آئی ٹی بمبئی میں شروع کی گئی کاوشوں کے نتیجے میں اوپن سورس مائیکرو پروسیسر آرکیٹیکچر پر مبنی مائیکرو پروسیسرز کے ایک مکمل خاندان کا ڈیزائن، ترقی اور فابریکیشن ممکن ہوئی ہے۔ ویگا، شکتی اور اے جے آئی ٹی مائیکرو پروسیسرز اس سمت میں خود انحصاری کی جانب ایک نمایاں قدم ہیں۔

یہ تمام ادارہ جاتی اقدامات مل کر ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر عزائم کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہ اقدامات اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور تعلیمی اداروں کو اختراع اور توسیع کے قابل بناتے ہیں، تحقیق سے لے کر پیداوار تک موجود خلا کو پُر کرتے ہیں، خود انحصاری کو فروغ دیتے ہیں، عالمی مسابقت میں اضافہ کرتے ہیں، اور ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر منظرنامے میں ایک اسٹریٹجک اور قابلِ اعتماد کھلاڑی کے طور پر مستحکم مقام عطا کرتے ہیں۔

ہندوستان کی ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم: کامیابی کی نمایاں کہانیاں

ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم کے تحت ویڈیو نگرانی، ڈرون کی شناخت، توانائی میٹرنگ، مائیکرو پروسیسرز، سیٹلائٹ مواصلات، نیز براڈ بینڈ اور آئی او ٹی سسٹمز آن چِپ (ایس او سی )جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں 24 چِپ ڈیزائن منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 95 کمپنیوں کو انڈسٹری گریڈ الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (ای ڈی اے )ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستانی چِپ ڈیزائن اسٹارٹ اپس کے لیے ڈیزائن اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مستفید ہونے والوں میں درج ذیل کمپنیاں اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کس طرح ڈی ایل آئی اسکیم عالمی معیار کی سیمی کنڈکٹر اختراع کو فروغ دے رہی ہے:

  • ورسیمی مائیکرو الیکٹرانکس، جس کے پاس 110 سے زائد سیمی کنڈکٹر آئی پیز، 25 انٹیگریٹڈ سرکٹ (آئی سی ) پروڈکٹ ورژنز، 10 عطا شدہ پیٹنٹس اور 5 تجارتی رازوں پر مشتمل ایک مضبوط پورٹ فولیو موجود ہے، مختلف ایپلی کیشنز کے لیے موٹر کنٹرول چِپس تیار کر رہی ہے۔ ان ایپلی کیشنز میں صارفین کے آلات جیسے پنکھے، کولرز، مکسر گرائنڈرز، ایئر کنڈیشنرز، واشنگ مشینیں اور ڈرونز، نیز آٹوموٹیو ایپلی کیشنز جیسے ای-اسکوٹرز اور ای-رکشے شامل ہیں۔ یہ چِپس بی ایل ڈی سی موٹروں کی ایک منفرد کلاس کو سپورٹ کرتی ہیں۔ وریسیمی نے دو چِپس کے لیے پائلٹ لاٹ سیمپلنگ مکمل کر لی ہے، جبکہ تیسری چِپ رواں سال کے اواخر میں فاؤنڈری سے متوقع ہے۔ اس کے متعدد عالمی صارفین پہلے ہی ان چِپس کو استعمال کرتے ہوئے مصنوعات کی تیاری میں مصروف ہیں۔
  • ان کور سیمی کنڈکٹر مقامی آر آئی ایس سی-وی مائیکرو پروسیسر آئی پیز اور سسٹمز آن چِپ (ایس او سی ) ڈیزائن آٹومیشن ٹولز کے ڈیزائن اور ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس کا حتمی مقصد ہندوستان کا سب سے طاقتور ایمبیڈڈ پروسیسر ڈولومائٹتیار کرنا ہے، جسے انٹری لیول اسمارٹ فونز اور ایج-اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ ان کور کے پروسیسر آئی پی کورز کا پورٹ فولیو متعدد کسٹمر چِپس میں سلکان سطح پر ثابت ہو چکا ہے، جو 180 نینو میٹر سے لے کر 16 نینو میٹر تک کے ٹیکنالوجی نوڈس پر تیار کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد اسٹریٹجک اور تجارتی ایپلی کیشنز کو فعال بناتے ہوئے درآمد شدہ سی پی یو آئی پی پر ہندوستان کے انحصار کو کم کرنا ہے۔
  • نیتراسیمی محفوظ سی سی ٹی وی نگرانی، اسمارٹ سینسرز، روبوٹکس اور ڈرونز، نیز موبلٹی ایپلی کیشنز کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس سسٹمز آن چِپ (ایس او سی ایس) کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی نے جدید 12 نینو میٹر پروسیس نوڈ پر ہندوستان کا پہلا مقامی طور پر ڈیزائن کردہ اے آئی ایس او سی کامیابی کے ساتھ ٹیپ آؤٹ کیا ہے، جس میں اِن ہاؤس اے آئی/ایم ایل ایکسلریٹرز، ویژن پروسیسنگ اور ویڈیو انجنز کو یکجا کیا گیا ہے۔ نیتراسیمی کو کسی بھی ہندوستانی سیمی کنڈکٹر کمپنی کے لیے اب تک کی سب سے بڑی نجی وینچر کیپیٹل فنڈنگ کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے، اور آئندہ سال کے لیے اس کے پاس کم پیچیدگی سے لے کر اعلیٰ درجے کی نگرانی کے ایس او سیز تک متعدد ڈیزائن ٹیپ آؤٹس کی منصوبہ بندی موجود ہے۔
  • اہیسا ڈیجیٹل انوویشنز وہان” تیار کر رہی ہے، جو ایک مقامی فائبر براڈ بینڈ حل ہے اور گھروں و کاروباری اداروں کو تیز رفتار فائبر نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ “وہان” ایک مقامی ویگا پروسیسر پر مبنی گیگابِٹ پاسیو آپٹیکل نیٹ ورک (جی پی او این ) آپٹیکل نیٹ ورک ٹرمیل (او این ٹی ) اور نیٹ ورک (ایس او سی )کے گرد تیار کیا گیا ہے، جو فائبر ٹرمینیشن، ڈیٹا پروسیسنگ اور نیٹ ورک مینجمنٹ کے افعال کو ایک ہی چِپ میں ضم کرتا ہے۔ یہ حل قابلِ اعتماد، محفوظ اور لاگت کے اعتبار سے مؤثر براڈ بینڈ کنیکٹوٹی فراہم کرتا ہے۔ کمپنی 2026 میں صارفین کے لیے ایک ریفرنس پلیٹ فارم متعارف کرانے کی راہ پر گامزن ہے۔
  • آگیا ویژن جدید ریڈار-آن-چِپ ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہے، جو تمام موسمی حالات میں قابلِ اعتماد کارکردگی پیش کرتی ہے اور حفاظت، سلامتی، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ایج کمپیوٹنگ، ابھرتے ہوئے 6جی سینسر نیٹ ورکس اور ڈرون کی شناخت جیسی اہم ایپلی کیشنز میں نمایاں پیش رفت کو ممکن بناتی ہے۔

یہ کامیابی کی کہانیاں اس امر کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں کہ کس طرح ڈی ایل آئی اسکیم مقامی چِپ ڈیزائن کی صلاحیتوں کو سلکان سے ثابت اور مارکیٹ کے لیے تیار مصنوعات میں تبدیل کر رہی ہے۔ جدید ڈیزائن، پروٹو ٹائپنگ اور کمرشلائزیشن کی جامع معاونت کے ذریعے یہ اسکیم نہ صرف ہندوستان کی تکنیکی خود انحصاری کو فروغ دے رہی ہے بلکہ عالمی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ماحولیاتی نظام میں اس کے مقام کو بھی مستحکم کر رہی ہے۔

نتیجہ

ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیم ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کے سب سے زیادہ اسٹریٹجک اور قدر پر مبنی حصے—یعنی چِپ ڈیزائنمیں شامل کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ درآمد شدہ سیمی کنڈکٹر آئی پی اور چِپس پر انحصار کم کرکے، جیو پولیٹیکل اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے مقابلے میں لچک کو مضبوط بناتے ہوئے، اور دفاع، ٹیلی کام، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور نقل و حرکت جیسے اہم شعبوں کے لیے کلیدی ٹیکنالوجیز تک یقینی رسائی فراہم کرکے، ڈی ایل آئی اسکیم اسٹریٹجک خودمختاری اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ اسکیم ڈیپ ٹیک اختراع کو عالمی سطح پر مسابقتی مصنوعات میں تبدیل کرکے، اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، اور ایک اعلیٰ درجے کی ہنر مند انجینئرنگ افرادی قوت کی تعمیر کے ذریعے اعلیٰ قدر پر مبنی ترقی کو بھی ممکن بناتی ہے۔

یہ مثبت نتائج اب عملی طور پر واضح ہو چکے ہیں، جہاں ڈی ایل آئی کی معاونت سے مستفید ہونے والی کمپنیوں نے متعدد چِپ ٹیپ آؤٹس، سلکان سے ثابت شدہ ڈیزائنز، پیٹنٹس، دوبارہ قابلِ استعمال آئی پی، تربیت یافتہ ٹیلنٹ اور فعال ڈیزائن انفراسٹرکچر حاصل کیا ہے، جو زمینی سطح پر اسکیم کے ٹھوس اور قابلِ پیمائش اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ ماحولیاتی نظام پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، سلکان سے تصدیق شدہ ڈیزائن بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ، سسٹم انضمام اور مارکیٹ میں تعیناتی کی سمت پیش رفت کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہندوستانی کمپنیاں نہ صرف قابلِ اعتماد عالمی سپلائرز کے طور پر ابھر رہی ہیں بلکہ گھریلو سپلائی چین کو بھی مضبوط بنا رہی ہیں اور ہندوستان کے خود کفیل سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو مزید تقویت فراہم کر رہی ہیں۔

حوالہ جات

پریس انفارمیشن بیورو

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2150464&reg=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2159727&reg=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2202899&reg=3&lang=2

وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی

https://chips-dli.gov.in/DLI/Faq
https://ism.gov.in/about-semiconindia
https://www.meity.gov.in/static/uploads/2024/12/10fcadec462c330211502fed3d24ea83.pdf

لوک سبھا

https://eparlib.sansad.in/bitstream/123456789/2989604/1/lsd_18_IV_02-04-2025.pdf

پی ڈی ایف میں ڈاؤن لوڈ کریں

Download in PDF

***

UR-109

(ش ح۔اس ک  )

(Explainer ID: 156816) आगंतुक पटल : 11
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Manipuri , Gujarati , Kannada , Malayalam
Link mygov.in
National Portal Of India
STQC Certificate