• Skip to Content
  • Sitemap
  • Advance Search
Infrastructure

ایک مربوط اور خوشحال بہار کی تعمیر

Posted On: 22 AUG 2025 3:44PM

 

اہم نکات

 

22 اگست 2025 کو، وزیر اعظم نے 1,870 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والی 8.15 کلومیٹر آنٹا – سمریا پل پروجیکٹ کا افتتاح کیا ہے۔

ریاست کی معیشت 12-2011 سے اب تک 3.5 گنا بڑھ چکی ہے، جس میں سڑکوں، ریلوے، ہوائی رابطہ اور توانائی میں سرمایہ کاری کی کارکردگی کارفرما ہے۔

ریلوے میں سالانہ سرمایہ کاری 1,132 کروڑروپے (14-2009) سے بڑھ کر26-2025 میں 10,066 کروڑروپے ہو گئی ہے۔

 

بہار: تبدیلی کی دہلیز  پر

image002L3P8 111.jpg

 

وزیر اعظم نے قومی شاہراہ 31 پر 8.15 کلو میٹر طویل آنٹا–سیمریا پل پروجیکٹ کا افتتاح کیا ہے، جس میں دریائے گنگا پر 1.86 کلو میٹر طویل چھ لین والا پل شامل ہے، جو 1870 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ تقریباً سات دہائی پرانے راجندر سیتو کے متوازی تعمیر کیا گیا یہ نیا پل، پٹنہ ضلع کے مکامہ کو بیگوسرائے سے براہِ راست جوڑتا ہے، جس سے بھاری گاڑیوں کے سفر کا فاصلہ تقریباً 100 کلو میٹر تک کم ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کو سہل بناتا ہے بلکہ سیمریا دھام، جو ایک معروف تیرتھ استھل اور ممتاز شاعر رام دھاری سنگھ دِنکر کی جنم بھومی ہے، تک رسائی کو بھی بہتر بناتا ہے، اس طرح یہ پل کمیونٹیز کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور ثقافتی ترقی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

اس تاریخی پروجیکٹ کے افتتاح سے بہار میں جاری بڑی تبدیلی کی لہرکی عکاسی ہوتی ہے، جو ریاست بھر میں کنیکٹیویٹی اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے بڑے بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری سے تقویت پا رہی ہے۔ ریاست کی معیشت 12-2011  کے بعد سے 3.5 گنا بڑھ چکی ہے اور24-2023  میں اس کا مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی)  8.54 لاکھ کروڑ تک پہنچ گیا ہے، جس سے حالیہ برسوں میں ایک تاریخی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں بہار کے ہر گاؤں تک سڑک، بجلی اور نلکے کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ سرکاری اقدامات کا مقصد عوام کی زندگی کے معیار کو بلند کرنا ہے، جن میں سستی رہائش، صفائی ستھرائی، صاف پینے کا پانی، صحت کی سہولیات اور غذائی تحفظ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

مرکزی حکومت نے بہار کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اپنی مالی معاونت کو 14-2004  کے دوران 2.8 لاکھ کروڑ سے بڑھا کر24- 2014  کے دوران 9.23 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچا دیاہے، جس سے بڑے پیمانے پر ترقیاتی پروجیکٹ مختلف شعبوں میں ممکن ہو سکے ہیں۔ اسی ترقی کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 18 جولائی 2025  کو بہار کے موتیہاری میں 7,000  کروڑ روپے سے زیادہ  کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور ان کا افتتاح کیا۔

image003OSJ9 222.jpg

بہار، جسے کبھی ترقی کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا تھا، اب شمولیاتی ترقی کی ایک روشن مثال کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی یہ لہر معیشت کے نئے مواقع کے دروازے کھولنے اور بھارت کی مجموعی ترقی کو تقویت دینے کی طاقت رکھتی ہے۔

بہار میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی: آگے کی طرف پیش رفت

گزشتہ 10 برسوں میں بہار میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں، ریلوے، پلوں، فضائی سفر اور توانائی سے متعلق بڑے پیمانے پر پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں۔ سڑکوں اور پلوں کی ترقی کے لیے 4 لاکھ کروڑ روپے، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے اور ہوابازی سے متعلق منصوبوں کے لیے 2,000  کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سڑک اور شاہراہوں کی ترقی: معیشتوں اور کمیونٹی کوآپس میں جوڑنا

گزشتہ چند برسوں میں بہار نے سڑک اور شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ ریاست کی تقریباً 90  فیصد قومی شاہراہیں اب ڈبل لین یا اس سے زیادہ چوڑی ہو چکی ہیں، جس سے علاقائی روابط میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پچھلے پانچ برسوں میں 850  کلو میٹر سے زائد چار لین یا اس سے زیادہ چوڑی قومی شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں (ہائی اسپیڈ کوریڈورز کو چھوڑ کر)، جس سے نقل و حرکت، معاشی ترقی اور سفر میں آسانی اورسہولت کو فروغ ملا ہے۔

image004ZCV2 333.jpg

اگست 2025  میں وزیر اعظم نے قومی شاہراہ 31  کے بختیارپور–مکامہ سیکشن کا افتتاح کیا، جو تقریباً 1,900 کروڑ روپے کی لاگت سے چار لین بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ٹریفک جام کو کم کرنے، سفر کے وقت کو بچانے اور مسافروں و مال برداری کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ بکرم گنج–دعوتھ–نوا نگر–ڈمراون سیکشن (قومی شاہراہ 120) کو دو لین پختہ شولڈر والی سڑک میں تبدیل کیا گیا ہے، جس سے دیہی رابطہ مضبوط ہوا ہے اور مقامی برادریوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

اس سے قبل، 18 جولائی 2025 کو وزیر اعظم نے آرا بائی پاس (قومی شاہراہ 319) کی چار لین تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا، جو آرا-موہنیا (این ایچ-319) اور پٹنہ-بکسر (این ایچ-922) کو جوڑتا ہے۔ اسی موقع پر وزیر اعظم نے پریریا سے موہنیا تک قومی شاہراہ 319 کے چار لین سیکشن کا بھی افتتاح کیا، جو 820 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہوا ہے۔ یہ سیکشن آرا ٹاؤن کو قومی شاہراہ 02 (گولڈن کوآڈری لیٹرل) سے جوڑتا ہے اور مال برداری اور مسافروں کی نقل و حرکت میں نمایاں بہتری لایا ہے۔

اس کے علاوہ، سروان سے چکائی تک قومی شاہراہ 333 سی پر دو لین پختہ شولڈر والی سڑک تعمیر کی گئی ہے، جس نے سامان اور افراد کی آمدورفت کو سہل اورآسان بنایا اور بہارا ور جھارکھنڈ کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کیاہے۔

بہار میں سڑک کے بنیادی ڈھانچے کے بڑے پروجیکٹ

1. گرین فیلڈ پٹنہ–آرا–سسرام کوریڈور (قومی شاہراہ 119 اے)

گرین فیلڈ پٹنہ–آرا–سسرام کوریڈور، جس کی لمبائی 120.10  کلومیٹر ہے، کو اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ ہائبرڈ  اینویٹی موڈ (ایچ اے ایم) کے تحت تقریباً 3,712.4 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا جا رہا ہے۔

اس کوریڈورکامقصد ریاستی شاہراہوں ایس ایچ-2، ایس ایچ-12، ایس ایچ-81 اور ایس ایچ- 102 پر ٹریفک جام کو کم نا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اہم قومی شاہراہوں ایس ایچ-19، ایس ایچ-319، ایس ایچ- 922، ایس ایچ-131جی اور ایس ایچ-120 سے بھی جڑ جائے گا۔

یہ پروجیکٹ کنیکٹیویٹی اوررابطے کو مزید بہتر بنائے گا کیونکہ یہ دو ہوائی اڈوں، چار ریلوے اسٹیشنوں اور پٹنہ کے ان لینڈ واٹر ٹرمینل کو آپس میں جوڑے گا۔ اس سے تقریباً 48 لاکھ یومیہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے اوراس سے سامان و مسافروں کی نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

2. دیگر اہم سڑک بنیادی ڈھانچے کے بڑے پروجیکٹ

بہار کے ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے کئی بڑے سڑک پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں:

  • پٹنہ–گیا–ڈوبھی سیکشن (قومی شاہراہ 22) کی چار لین کی تعمیر 5,520  کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہو چکی ہے۔
  • اسی طرح قومی شاہراہ 119اے کی چار لین کی تعمیر اور قومی شاہراہ 319بی اورقومی شاہراہ 119ڈی کی چھ لین کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔
  • اس کے علاوہ دریائے گنگا پر بکسّر اور بھراؤلی کے درمیان ایک نیا پل تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ دریائی روابط کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

یہ اقدامات ریاست کے اس مضبوط عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید نسل کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے جو نہ صرف شہروں اور دیہی علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے بلکہ عوام کو مواقع، منڈیوں اور خدمات سے بھی مربوط کرتا ہے۔ اس طرح کے ہر نئے پروجیکٹ کے ساتھ بہار مشرقی بھارت میں ایک لاجسٹکس اور کنیکٹیویٹی مرکز بننے کی طرف پیش رفت کررہا ہے۔

 

بہار میں ریلوے: رویلوے میں پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار ترقی

image0062YCE 444.jpgimage005Z6NA 555.jpg

بھارتیہ ریلویز نے بہار میں نمایاں ترقی کی ہے، جس سے کنیکٹیویٹی اور گنجائش میں بڑی بہتری آئی ہے۔ 2014 سے 2025  کے درمیان اوسطاً 172.6 کلومیٹر نئی ریل پٹریاں، جو مکمل یا جزوی طور پر بہار میں آتی ہیں، بچھائی گئیں، جو 2009  سے 2014  کے درمیان بننے والے 63.6  کلومیٹر سے ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔ صرف  24-2023  میں ہی بہار میں 361 کلومیٹر نئی ریل پٹریاں بچھائی گئیں ہیں۔ بہار کے لیے سالانہ ریلوے بجٹ الاٹمنٹ میں بھی تقریباً نو گنا اضافہ ہوا ہے، جو 2014-2009  کے دوران 1,132  کروڑ روپے فی سال سے بڑھ کر 26-2025 میں 10,066 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔

مسافروں کی سہولت بڑھانے اورانہیں آسانیاں فراہم کرنےکے لیے 2014  کے بعد سے 115 نئی ٹرینیں شروع کی گئی ہیں اور 300  سے زائد جوڑی ٹرینوں میں اضافی اسٹاپ فراہم کیے گئے ہیں۔ زرعی نقل و حمل کے لیے بہار سے پہلی بار کسان ٹرین بھی چلائی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات حکومت کی اس مضبوط توجہ کو ظاہر کرتے ہیں جو بہار کے ریلوے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور شہری و دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ کنیکٹیویٹی اورروابط کی فراہمی کویقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

یہ تبدیلی سب سے زیادہ بہار کے ریل بنیادی ڈھانچے کی توسیع میں نظر آتی ہے۔ نئی لائنوں اور برقی کاری سے لے کر  ڈبلنگ اور جدید پلوں تک کئی اہم پروجیکٹ ریاست میں مکمل ہو چکے ہیں، جن سے کنیکٹیویٹی اورروابط میں نمایاں بہتری اور معاشی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں مکمل یا جزوی طور پر بہار میں مکمل کیے گئے چند اہم پروجیکٹ درج ذیل ہیں:

 

نمبر شمار

پروجیکٹ

لاگت (کروڑروپے میں)

1

ارریہ-گالگلیا نئی لائن (111 کلومیٹر)

4,415

2

پٹنہ پل  (40 کلومیٹر)

3,555

3

مونگیر پل  (19 کلومیٹر)

2,774

4

سکری-لوکہا بازار-نرملی اور سہرسہ-فوربس گنج گیج کی تبدیلی (206 کلومیٹر)

2,113

5

رامپورہاٹ-میندارہل نئی لائن اور رامپورہاٹ-مرارئی-تیسری لائن (160 کلومیٹر)

1,500

6

کیول گیاڈبلنگ  (123 کلومیٹر)

1,200

7

جیےنگر-دربھنگہ-نرکٹیا گنج اور نرکٹیا گنج-بھیکھنا توری گیج کی تبدیلی (295 کلومیٹر)

1,193

8

حاجی پور-بچوارہ ڈبلنگ (72 کلومیٹر)

930

9

کوسی پل  (22 کلومیٹر)

516

10

بختیار پور فلائی اوور  (4 کلومیٹر)

402

11

والمیکی نگر-سگولی-مظفر پور اور سگولی-رکسول ریلوے الیکٹریفیکیشن (240 کلومیٹر)

351

12

کٹاریہ-کرسیلا پیچ ڈبلنگ سمیت۔ دریائے کوسی پر پل (7 کلومیٹر)

222

13

کروٹا پیٹنر-منکتھا - سطحی مثلث (8 کلومیٹر)

129

14

کیول تلائیاریلوے الیکٹریفیکیشن (87 کلومیٹر)

105

 

جاری اور آئندہ ریلوے پروجیکٹ

بہار کا ریلوے بنیادی ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس میں ملٹی ٹریکنگ، نئی لائنوں اور جدید ٹرینوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ریاست ایک بڑے ریل مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے، جو علاقائی کنیکٹیویٹی اورروابط کو بہتر بنا رہا ہے، بھیڑ کو کم کر رہا ہے اور مسافروں کی سہولیات میں اضافہ کر رہا ہے۔

مندرجہ ذیل چند اہم پروجیکٹ ہیں جو مکمل یا جزوی طور پر بہار میں شروع کیے گئے ہیں:

نمبر شمار

پروجیکٹ

لاگت (کروڑ روپے میں)

1

سون نگر - پتراٹو ملٹی ٹریکنگ (291 کلومیٹر)

5148

2

پیرپینتی-جسڈیہہ نئی لائن (97 کلومیٹر)

2140

3

نیورہ-دنیاوان-بہارشریف - بربیگاہ-شیکھ پورہ نئی لائن (166 کلومیٹر)

2200

4

دریائے گنگا پر پل کے ساتھ وکرم شیلا-کٹاریہ نئی لائن  (26 کلومیٹر)

2090

5

حاجی پور-سگولی نئی لائن (151 کلومیٹر)

2087

6

کوڈرما-تلیا نئی لائن (65 کلومیٹر)

1626

7

ارریہ-سوپول نئی لائن (96 کلومیٹر)

1605

8

کھگڑیا-کشیشوراستھان نئی لائن  (42 کلومیٹر)

1511

9

مظفر پور-سگولی ڈبلنگ  (101 کلومیٹر)

1465

10

رام پور ڈمرا - تال - راجندر پل - اضافی پل اور ڈبلنگ (14 کلومیٹر)

1677

11

سگولی-والمیکی نگر ڈبلنگ  (110 کلومیٹر)

1280

12

سکری-حسن پور نئی لائن  (76 کلومیٹر)

735

13

سمستی پور - دربھنگہ ڈبلنگ (38 کلومیٹر)

624

14

سیتامڑھی-شیوہر نئی لائن (28 کلومیٹر)

567

15

برونی- بچواڑہ تیسری اور چوتھی لائن (32 کلومیٹر)

124

 

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم: مسافروں کے تجربات میں تبدیلی

امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت ملک بھر میں 1,337 ریلوے اسٹیشنوں کو ازسرنو تعمیر کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جن میں 98  اسٹیشن بہار میں شامل ہیں۔ اس اسکیم کے تحت بہار میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے، جس کے پہلے مرحلے کے کام پیرپینتی اور تھاوے اسٹیشن پر مکمل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سہرسہ، سلاونا، لکھی سرائے، گیا اور مظفرپور جیسے اہم مقامات پر ازسرنو تعمیر کے کام جاری ہیں، جن کا مقصد مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنا اور اسٹیشن کے بنیادی ڈھانچے کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔

وزارت ریلوے نے امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کا آغاز کیا ہے تاکہ ریلوے اسٹیشنوں کو طویل مدتی اور مرحلہ وار طریقے سے ازسرنو تعمیر کیا جا سکے۔ اس اسکیم کا مقصد مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے، جن میں آسان رسائی، سرکولیٹنگ ایریاز، انتظار کے لئے مخصوص ہال، بیت الخلاء، لفٹ اورایسکلیٹر، پلیٹ فارم کی سطح بندی، صفائی ستھرائی، مفت وائی فائی، مقامی مصنوعات کے لیے کیوسک (ون اسٹیشن ون پروڈکٹ)، جدید انفارمیشن سسٹمز، ایگزیکٹیو لاؤنجز اور معذور افراد کے لیے مخصوص سہولیات شامل ہیں۔یہ اسکیم اسٹیشنوں کو شہری بنیادی ڈھانچے کے ساتھ مربوط کرنے، پائیداری کو فروغ دینے اور اسٹیشنوں کو مستقبل کے سٹی سینٹرز میں تبدیل کرنے پر بھی مرکوز ہے۔

 

جدید ریل خدمات: بہار میں تیز رفتار تبدیلی

بنیادی ڈھانچے  میں بہتری کے ساتھ ساتھ بہار میں پریمیم ریل خدمات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 22 اگست 2025  کو وزیر اعظم نے دو اہم ریل خدمات کا افتتاح کیا۔ امرت بھارت ایکسپریس گیا اور دہلی کے درمیان شروع کی گئی، جو جدید سہولیات، آرام دہ اور حفاظت کے ساتھ ساتھ مسافروں کے سفر کواور زیادہ سہل بنائے گی۔ اسی طرح بدھ سرکٹ ٹرین ویشالی سے کوڈرما کے درمیان چلائی گئی ہے، جو خطے کے اہم بدھ مت مقامات پر سیاحت اور مذہبی سفر کو فروغ دے گی۔

اس وقت بھارت بھر میں چلنے والی 144 وندے بھارت ایکسپریس خدمات میں سے 20 سروسز بہار کے اسٹیشنوں سے شروع ہوکریا ان پر ختم ہو کر مسافروں کو سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ ریاست نمو بھارت ریپڈ ریل کے ذریعے بھی منسلک ہے، جس کی 4 میں سے 2 آپریشنل سروسز بہار کو سہارا دیتی ہیں۔ یہ ترقیات بہار کے عوام کے لیے تیز، جدید اور آرام دہ ریل سفر فراہم کرنے میں اہمیت کی حامل ہیں۔

ریلوے کی خدمات تہواروں کے ایام کے سفر اور روحانی کنیکٹیویٹی اورروابط میں اضافہ کرتی ہیں

بھارتیہ ریلویز درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ جیسے بڑے تہواروں کے دوران سفر کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سال دیوالی اور چھٹھ کے موقع پر 12,000 سے زائد خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ مسافروں کی واپسی کے سفر کو بغیر کسی پریشانی کے یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ جو مسافر 13 سے 26 اکتوبر کے درمیان سفر کریں گے اور 17 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان واپس لوٹیں گے، انہیں ریٹرن ٹکٹ پر 20 فیصد رعایت دی جائے گی، جس سے بڑی تعداد میں تہوار کے مواقع پر سفر کرنے والے مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔

گزشتہ سال یکم اکتوبر سے 5 نومبر کے درمیان 4,521 خصوصی ٹرینوں نے 65  لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کی تھی۔ چھٹھ پوجا، جو خاص طور پر بہار میں نہایت اہم ہے، کے موقع پر تہوار سے پہلے روزانہ اوسطاً  175  خصوصی ٹرینیں اور واپسی کی بھیڑ کے دوران 160  سے زائد ٹرینیں چلائی گئیں، زیادہ تر سمستی پور اور داناپور ڈویژن کے ذریعے چلائی گئیں۔ مجموعی طور پر 6.85 کروڑ مسافروں نے بہار، مشرقی یوپی اور جھارکھنڈ کا سفر کیا، جو ریلوے کی تہوار کے دوران اہم مدد کو اجاگر کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے بہار کے اپنے 18 جولائی 2025  کے دورے کے دوران سیتا مڑھی سے ایودھیا تک نئی ریلوے لائن کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس سے چمپارن کے عقیدت مند ایودھیا درشن کے لیے سفر کر سکیں گے۔ یہ اقدام خطے میں روحانی کنیکٹیویٹی اورروابط کو مزید تقویت دے گا۔

ہوائی رابطہ: بہار کی ہوائی خدمات میں توسیع

پٹنہ ایئرپورٹ پر 2024-2014  کے دوران سالانہ 3 کروڑ مسافروں کی آمدورفت ہوئی، 83,000 ٹن مال برداری ہوئی اور 24,026 پروازوں کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی۔ یہ بہار میں جدید، مؤثر اور شمولیاتی بنیادی ڈھانچے کی طرف ایک نمایاں تبدیلی کو اجاگر کرتا ہے۔

  • پٹنہ ہوائی اڈے پر ایک نئے ٹرمینل کا افتتاح کیا گیا ہے، جس میں سالانہ 10 ملین مسافروں کی آمدورفت کو سنبھالنے کی گنجائش ہے۔
  • دربھنگہ ہوائی اڈہ اب کام کر رہا ہے، جو دہلی، ممبئی اور بنگلورو جیسے بڑے شہروں کو براہ راست ہوائی رابطہ فراہم کرتا ہے۔
  • بیہٹہ ہوائی اڈہ فی الحال زیر تعمیر ہے، جس پر 1,400 کروڑروپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس کا مقصد پٹنہ ہوائی اڈے کی بھیڑ کو کم کرنا اور علاقائی فضائی بنیادی ڈھانچے کووسعت دینا ہے۔

توانائی اور بجلی کا شعبہ: قابل اعتماد اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانا

وزیراعظم نے اگست 2025 میں بکسّر تھرمل پاور پلانٹ  (660ایکس1 میگاواٹ)  کا بھی افتتاح کیا، جو تقریباً 6880  کروڑروپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ بہار کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھائے گا، توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنائے گا اور خطے میں بڑھتی ہوئی بجلی کی مانگ کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ ترقیات ریاست کی اُن وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں جو روایتی توانائی کی صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی پائیداری کے لیے بتدریج صاف ستھرے اور قابلِ تجدید ذرائع کی طرف منتقلی کو فروغ دیتی ہیں۔

ریاست کے دیگر پروجیکٹوں میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. تھرمل پاور میں توسیع – نبی نگر سپر تھرمل پاور پروجیکٹ، اسٹیجII -(3ایکس800 میگاواٹ)  اورنگ آباد میں ہے، جو 29,930 کروڑروپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ جاری ہے۔ یہ پروجیکٹ 1,500 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا، جو بہار اور مشرقی بھارت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
  2. قابلِ تجدید توانائی کی ترویج
  • کجرہ میں سولر پارک اور پی ایم-کُسُم (پی ایم-کے یو ایس یو ایم) پروجیکٹ سولر بیسڈ زرعی بجلی کی فراہمی کو آسان بنا رہے ہیں۔
  • قابلِ تجدید زرعی فیڈرز کے آغاز سے کسانوں کی پیداوار میں بہتری اور پائیدار بجلی تک رسائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

مستقبل کے لیے وژن: ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ بہار

وزیراعظم نریندر مودی بہار کو جدید بنیادی ڈھانچہ اور جامع ترقی کا ایک متحرک اوردرخشاں مرکز بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ریاست مختلف شعبوں جیسے بجلی، سڑک، ریل اور ہوائی نقل و حمل میں مربوط ترقی کے ذریعے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس وژن کی حمایت نشان زد فلاحی اسکیموں سے کی جا رہی ہے جیسے پی ایم-کسم (پی ایم-کے یو ایس یو ایم)،  پی ایم-کسان سمّان ندھی، مکھانا بورڈ کا قیام، اور فوڈ پروسیسنگ ادارے کی تخلیق، ان تمام کا مقصد کسانوں اور مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بناناہے۔دیہی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے، جو بہار کو ترقی یافتہ بھارت کے سفر میں ایک اہم ستون بنانے کے وسیع وژن سے ہم آہنگ ہے۔

image0078KA1 555.jpg

گزشتہ 11 سالوں کے دوران، ملک بھر میں پی ایم آواس یوجنا کے تحت 4 کروڑ سے زائد گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں، جن میں تقریباً 60 لاکھ گھر بہار میں شامل ہیں۔ موتیہاری ضلع میں تقریباً 3 لاکھ کنبوں کو پکا گھر فراہم کیا گیا ہے۔ ایک ہی دن میں اس علاقے کے 12,000 سے زائد کنبوں کو اپنے نئے گھروں کی چابیاں دی گئیں، جو زمینی سطح پر فلاحی اسکیموں کے مؤثر نفاذ کی عکاسی کرتی ہیں۔

image0087K6H 666.jpg

بہار کے لیے حکومت کا وژن 26-2025  کے مرکزی بجٹ میں نمایاں ہیں

مکھانا بورڈ

مکھانا بورڈ کے قیام کا اعلان مکھانا کی پیداوار، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، اور مارکیٹنگ کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ بورڈ ان سرگرمیوں میں شامل افراد کو فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او) میں منظم کرنے میں مدد دے گا۔ بورڈ تربیت، رہنمائی اور متعلقہ سرکاری اسکیموں تک رسائی کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔

خوراک کی پروسیسنگ کے لیے تعاون

مشرقی بھارت میں خوراک کی پروسیسنگ کی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے بہار میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ کے قیام کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ کسانوں کو ویلیو ایڈیشن کے ذریعے زیادہ آمدنی حاصل کرنے، نوجوانوں کے لیے مہارت سازی، کاروباری مواقع پیداکرنے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدد دے گا۔

آئی آئی ٹی پٹنہ میں صلاحیت کی توسیع

آئی آئی ٹی پٹنہ میں بنیادی ڈھانچہ، بشمول ہاسٹلز کو توسیع دی جا رہی ہے۔ پورے بھارت میں گزشتہ 10 سالوں میں آئی آئی ٹیز کے طلباء کی تعداد 65,000 سے بڑھ کر 1.35 لاکھ ہو گئی ہے۔ 2014 کے بعد قائم ہونے والے پانچ آئی آئی ٹیز میں اضافی سہولیات 6,500  مزید طلباء کی مدد کریں گی۔

ویسٹرن کوشی کینال پروجیکٹ (متھلانچل)

ویسٹرن کوشی کینال ای آر ایم پروجیکٹ کے لیے مالی تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، جومتھلانچل علاقے میں 50,000 ہیکٹر سے زیادہ زمین پر کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

بہار کے لیے 25-2024 کے مرکزی بجٹ میں اہم اعلانات

1. پرودیہ

حکومت نے مشرقی ریاستوں، بشمول بہار، کی ترقی کے لیے ‘پرودیہ’ پروجیکٹ کے نفاذ کا اعلان کیا۔ یہ منصوبہ بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل کی ترقی، اور اقتصادی مواقع پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ اس خطے کو ترقی یافتہ بھارت کے لیے ایک نمو کا محرک بنایا جا سکے۔

2. گیا انڈسٹریل نوڈ

امرِتسر–کولکاتہ صنعتی کوریڈور کے تحت گیا میں ایک صنعتی نوڈ کے قیام کا اعلان کیا گیاہے۔ یہ بہار میں صنعت کو فروغ دے گا اور ثقافتی ورثے کو جدید معیشت سے جوڑے گا، جو “ترقی بھی، ورثہ بھی” کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔

3. مذہبی اور ثقافتی ترقی

  • راجگیر کے لیے ایک جامع پروجیکٹ کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ اسے ایک اہم مذہبی اور سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکے۔
  • گیا میں وشنو پاڈ ٹیمپل کوریڈور اور مہابودھی ٹیمپل کوریڈور کو کاشی وشوانتھ کوریڈور کے ماڈل پر ترقی دی جائے گی۔
  • نالندہ کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے گا اور نالندہ یونیورسٹی کو اس کی قدیم شان و شوکت کے مطابق بحال کیا جائے گا۔

نتیجہ

بہار کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کنیکٹیویٹی اورروابط، پائیداری اور جامع ترقی کی جانب ایک واضح قدم کی عکاس ہے۔ ریل، سڑک، توانائی، اور ہوابازی میں اہم پروجیکٹوں کے ساتھ، بہار نہ صرف مشرق بلکہ پورے ملک کے لیے ایک ترقی کا محرک بننے کے لیے تیار ہے۔ ان اقدامات سے اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی شعبوں میں کثیرجہتی اثرات متوقع ہیں، جو خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کریں گے۔

حوالہ جات

Prime Minister's Office

Ministry of Railways

MINISTRY OF ROAD TRANSPORT AND HIGHWAYS

Cabinet Committee on Economic Affairs (CCEA)

Finance Department, Govt of Bihar

Ministry of Finance

IBEF

Ministry of Cooperation

Click here to see pdf

************

ش ح ۔ م م ع ۔ م ا

Urdu No-5612

 

Infrastructure

Building a Connected and Prosperous Bihar

(Backgrounder ID: 155077)

 

 

(Explainer ID: 155145) आगंतुक पटल : 25
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी
Link mygov.in
National Portal Of India
STQC Certificate