• Skip to Content
  • Sitemap
  • Advance Search
Farmer's Welfare

قومی بانس مشن

بانس کے ذریعے ہندوستان کی سبز معیشت کو مضبوطی فراہم کرنا

Posted On: 29 AUG 2025 12:01PM

اہم نکات

 
  • قومی بانس مشن کی نئی تشکیل شدہ شکل 24 ریاستوں/مرکزکے زیر انتظام علاقوں میں بانس کی کاشت، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کو فروغ دیتی ہے۔
  • یہ مشن مالی معاونت، ایف پی او کی تشکیل اور ہنر کی ترقی کے ذریعے کسانوں ، چھوٹے و درمیانے کاروباروں(ایم ایس ایم ای ایز) کی مدد کرتا ہے۔
  • این ایم بی اگربتی کے شعبے کی بحالی اور درآمد پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
  • مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اور آسام کی کامیابی کی کہانیاں دیہی روزگار اور خواتین کے بااختیار بنانے پر مثبت اثرات ظاہر کرتی ہیں۔

تعارف

ہندوستان کے پاس بانس کی سب سے زیادہ رقبہ (13.96 ملین ہیکٹر) ہے اور بانس کی اقسام کے لحاظ سے چین کے بعد یہ دوسرا سب سے مالدار ملک ہے، جس میں (125 مقامی اور 11 غیر ملکی) 136 اقسام پائی جاتی ہیں۔ ہندوستان کی زیادہ تر پہاڑی ریاستوں میں بانس کو تعمیرات/عمارت کے  تعمیراتی سامانوں کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔فرنیچر، لباس، خوراک، توانائی اور جڑی بوٹیوں کی دوائی جیسی صنعتوں میں روایتی اور جدید استعمالات کے ساتھ، دیگر ممالک میں بھی اس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

1.jpg

ہندوستان کی بانس اور رتن کی صنعت کی مالیت 28,005 کروڑ روپے ہے۔ بانس کے شعبے کی وسیع غیر استعمال شدہ صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، نئے سرے سے تشکیل شدہ قومی بانس مشن (این بی ایم) کو اپریل 2018 میں اقتصادی امور پر مرکزی کابینہ کمیٹی(سی سی ای اے) کی منظوری دی گئی، تاکہ ملک بھر میں معیاری اور موزوں اقسام کی کاشت، علاج اور ابتدائی پروسیسنگ کو فروغ دے کر اسے ملکی اور عالمی مارکیٹوں میں مسابقتی بنایا جا سکے۔

یہ مشن بانس کے شعبے کی ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے کے لیے علاقائی بنیاد پر مختلف حکمت عملی اپنانے اور بانس کی کاشت اور مارکیٹنگ کے تحت رقبہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مشن کے تحت نئی نرسریاں قائم کرنے اور موجودہ نرسریوں کو مضبوط کرنے کے ذریعے معیاری پودے کی دستیابی بڑھانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ آگے کی مربوط ترقی کے لیے مشن بانس مصنوعات، خاص طور پر ہنرمندکاریگروں کی اشیاء کی مارکیٹنگ کو مضبوط کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔ نئے سرے سے تشکیل شدہ قومی بانس مشن ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے۔ اسے ریاستی نوڈل محکموں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جو متعلقہ ریاست/مرکزکے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کی طرف سے نامزد کیے گئے ہیں۔ مستفیدین کے انتخاب اور معاونت کی فراہمی ریاستی بانس مشن/ریاستی بانس ڈیولپمنٹ ایجنسی کے ذریعے کی جا رہی ہے جو مشن کے نفاذ کے لیے ریاست/مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے نوڈل محکمہ میں تعینات ہے۔ اس وقت یہ اسکیم 24 ریاستوں/مرکزکے زیر انتظام میں نافذ کی جا رہی ہے۔

قومی بانس مشن کے مقاصد

2.jpg

قومی بانس مشن کی حصولیابیاں

31 دسمبر 2024 تک نئے سرے سے تشکیل شدہ این ابی ایم کی فزیکل پیش رفت درج ذیل ہے:

408 بانس نرسریاں قائم کی گئی ہیں جن میں 14 مستند نرسریاں شامل ہیں۔

 

60,000 ہیکٹر غیر جنگلاتی رقبہ بانس کی کاشت کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

 

104 بانس کے  ٹریٹمنٹ (علاج)اور تحفظ کے یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔

 

528 مصنوعات کی ترقی اور پروسیسنگ کے یونٹس قائم کیے گئے ہیں۔

 

بانس کے کاروبار کے لیے 130 مارکیٹ انفراسٹرکچر کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

31 دسمبر 2024 تک نئے سرے سے تشکیل شدہ این بی ایم کے تحت مالی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

3.jpg

بانس کی مختلف بانس کے مختلف اقسام اور استعمال

بانس کے اقسام

عام/مقامی نام

بنیادی تجارتی استعمال

بمبوسا بالکووا

بھیما، بلوکا (آسامی)، بلکو بانس (بنگالی)

اگربتی کی اسٹیک(چھڑی)، دستکاری، گودا

ڈینڈروکلامس اسٹریٹس

کرالی (بنگالی)، نکور بانس (گجراتی)، سالیا (اڑیہ)

موسیقی کے آلات، فرنیچر، تعمیرات میں، دواؤں کے پتےکے طور پر

میلوکانا بیکفیرا

ترائی (آسامی)، مولی (بنگالی)، موبی (مانی پوری)

بانسری  بنانے، بنائی، گودا(کاغذ بنانے)، خوردنی ٹہنوں اور بیج کے طور پر

اوچلینڈرا ٹراوانکوریکا

ایٹا (ملیالم)، ایرل (تمل)

چٹائی کی بنائی، ٹوکری، بانس کا پلائی، چھتری کے ہینڈل، کھرچناکے طور پر

ڈینڈروکلامس ایسپر

میٹھا بانس

کھانے کے قابل ٹہنیاں، ڈنڈے، گودا

بامبوسا پولیمورفا

جاما بیٹوا (آسامی)، بیتوا (بنگالی)، نارنگی بانس (ہندی)

زمین کی تزئین، کھانے کے قابل ٹہنیوں، اگربتی کی چھڑیاں اور تعمیر میں

سیوڈوکسائٹینتھیرا اسٹاکس آئی

مالابار بانس، مانگا (مراٹھی)، مارہالا بیدورو (کنڑ)

کھانے کے برتن، تعمیر، ٹوکری اور فرنیچر بنانےمیں

ڈینڈروکلامس گیگینٹئس

وورا (آسامی)، مروبوب (منی پوری)، انمولا (ملیالم)

کشتی کا مستول، عمارت، تعمیرات، ٹہنیوں کو کھانے کے طور پر

تھائروسٹیکیٹس اولیویری

رنگون بانس، کورانا (ملیالم)

فرنیچر، ٹوکری، تعمیر اور کھمبے بنانے میں

شیزوسٹاچیم پرگریسائل

بھلن بانس (ہندی)، مدنگ (آسامی)، ووٹانگ (منی پوری)

زمین کی تزئین، دستکاری اور گودا(کاغذ بنانے) میں

 

 

قومی بانس مشن کی ابتدا اور ترقی

4.pngقومی بانس مشن کو 07-2006میں ایک مرکزی امداد یافتہ اسکیم (سی ایس ایس) کے طور پر شروع کیا گیا تھا اور 15-2014 کے دوران اسے باغبانی کے مربوط ترقیاتی مشن(ایم آئی ڈی ایچ) کے تحت شامل کر دیا گیا اور یہ16-2015 تک جاری رہا۔ اس کے بعد فنڈز صرف این بی ایم کے تحت پہلے سے لگائے گئے بانس کے باغات کی دیکھ بھال کے لیے جاری کیے گئے۔ تاہم، یہ زیادہ تر بانس کے پھیلاؤ اور کاشت تک محدود تھا، جس میں محدود سیزننگ اور علاج کے یونٹس اور بانس بازار شامل تھے۔

باغبانی کے مربوط ترقیاتی مشن(ایم آئی ڈی ایچ)

ایم آئی ڈی ایچ سرکشا ایک مرکزی امداد یافتہ اسکیم ہے ،جو باغبانی کے شعبے کی ہمہ گیر ترقی کے لیے ہے اور اس میں پھل، سبزیاں، جڑ اور گانٹھ والی فصلیں، مشروم، مصالحہ جات، پھول، خوشبو دار پودے، ناریل، کاجو، کوکوا اور بانس شامل ہیں۔

اگرچہ ایم بی ایم نے جنگلاتی اور غیر جنگلاتی رقبوں میں بانس کے رقبے کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا، لیکن اس اسکیم کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ کارشت کرنے والوں (کسانوں) اور صنعت کے درمیان کوئی مضبوط ربط موجود نہیں تھا، قیمت میں اضافے کا مضبوط جزو کمزور تھا اور بانس کے کسانوں کو اداروں جیسے کوآپریٹیوز،ایس ایچ جی ایز، جے ایل جی ایز وغیرہ کے ذریعے منظم کرنے کی کوششیں کمزور تھیں۔ لہٰذا اس وقت توجہ تجارتی لحاظ سے مطلوبہ اقسام کے معیاری بانس کے پودوں کی کاشت، مصنوعات کی ترقی اور قیمت میں اضافہ، بشمول ابتدائی پروسیسنگ اور علاج، خورد، چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قیمت کی مصنوعات؛ مارکیٹوں اور ہنر کی ترقی پر مرکوز کی گئی، تاکہ بانس کے شعبے کی مکمل ویلیو چین قائم کی جا سکے اور بانس پر مبنی صنعت کو فروغ دیا جا سکے جو دیہی معیشت پر بھی مثبت اثر ڈالے۔

نئے سرے سے تشکیل شدہ مشن میں درج ذیل مسائل کو حل کیا جا رہا ہے تاکہ بانس کے شعبے کی ہمہ گیر ترقی ممکن ہو سکے:

  1. بین شعبہ جاتی ہم آہنگی:

نئے سرے سے تشکیل شدہ این بی ایم مختلف وزارتوں، محکموں اور اداروں جیسےاین سی ڈی سی کے درمیان تامل میل کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہا ہے، جس سے بانس سے متعلق سرگرمیوں کو مرکزی اور ریاستی سطح پر بہتر طور پر مربوط کیا جا رہا ہے۔

  1. پیداواری صلاحیت میں اضافہ:

معیاری پودے، بہتر کاشت کاری کے طریقے اور تحقیق و ترقی  میں مدد کے ذریعے طلب اور رسد کے فرق کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ہندوستان  موسمیاتی اہداف کی حمایت کے لیے اعلیٰ کاربن جذب کرنے والی بانس کی اقسام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

  1. مقامی اوزار اور ٹیکنالوجیز:

تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ہندوستانی بانس کے اقسام کے مطابق اوزار اور مشینری تیار کی جا سکیں، جس کا مقصد کٹائی کے بعد ہونے والے نقصان کو کم کرنا اور کمیونٹی اور صنعتی سطح پر پروسیسنگ کی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔

  1. 4.jpgمصنوعات کی ترقی اور مارکیٹنگ:

بانس کی مصنوعات کے ڈیزائن، قیمت میں اضافہ، ذخیرہ، ابتدائی پروسیسنگ، ہنر کی ترقی اور مارکیٹ کے روابط میں جدید کاری کو فعال طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

  1. صنعتی ترقی کے لیے پالیسی میں مدد:

بانس کے شعبے کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پالیسی مراعات متعارف کرائی جا رہی ہیں، جس سے کسانوں کی آمدنی اور دیہی روزگار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

  1. تعمیرات میں بانس کو فروغ دینا:

سرکاری تعمیراتی منصوبوں جیسے اسکول، صحت کے مراکز، ریلوے اور چھاؤنیوں میں بانس کے استعمال کو لازمی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے ماحول دوست، آفت مزاحم انفراسٹرکچر کو فروغ مل رہا ہے اور بانس کی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قومی بانس مشن کی حکمت عملی اور کلیدی نتائج

مشن کے مقاصد کے حصول کے لیےاین بی ایم نے بانس کے شعبے کی ترقی کے لیے علاقائی ہدفی اور مکمل ویلیو چین کھ نقطہ نظر اپنایا ہے۔ بنیادی حکمت عملی میں درج ذیل شامل ہیں:

علاقائی توجہ:یہ مشن ان ریاستوں پر مرکوز ہے جو بانس کے لیے سماجی، تجارتی اور ماحولیاتی فوائد رکھتی ہیں، خاص طور پر شمال مشرقی خطہ اور مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، اوڈیشہ، کرناٹک، اتراکھنڈ، بہار، جھارکھنڈ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، گجرات، تمل ناڑو اور کیرالہ جیسی دیگر بانس سے مالامال ریاستیں اس میں شامل ہیں۔

 

معیاری پودے:تجارتی اور صنعتی طلب رکھنے والی جینیاتی طور پر اعلیٰ بانس کے اقسام کی پیداوار اور تقسیم کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

 

مکمل ویلیو چین:ایم بی ایم بانس کےکاشت کاروں سے لے کر صارفین تک ایک مکمل ویلیو چین کانقطہ نظر اپناتا ہے—جس میں پیداوار، ابتدائی اور ثانوی پروسیسنگ، قیمت میں اضافہ اور مارکیٹنگ شامل ہے، جوایف پی او ایز، کوآپریٹیوز اوراپنی مدد آپ گروپس کی شرکت کے ساتھ کلسٹر پر مبنی ماڈل کے ذریعے کی جاتی ہے۔

 

ادارتی ہم آہنگی:مشن مختلف وزارتوں اور محکموں کی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ وسائل اور تکنیکی مہارت کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق جمع کیا جا سکے۔

 

مارکیٹ تک رسائی اور برآمدات:انفراسٹرکچر سپورٹ، ای-ٹریڈنگ پلیٹ فارمز اور مارکیٹ لنکس کے ذریعے بانس کی مصنوعات میں ملکی اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

 

ہنر کی ترقی اور تحقیق و ترقی: ساختہ تربیت کے ذریعے صلاحیت سازی پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ تحقیق و ترقی(آر اینڈ ڈی) ،اعلیٰ پیداوار دینے والے کلونز، مصنوعات میں جدت، بہتر پراسیسنگ ٹیکنالوجیزاور آلات کی ترقی پر مرکوز ہے۔

 

پالیسی میں معاونت: سرکاری تعمیرات میں بانس کے استعمال کے لیے مراعات اور احکامات، اور وزیراعظم کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) اور ای – این اے ایم جیسی اسکیموں کے ساتھ انضمام کے ذریعے بانس کو بھارت کے ترقیاتی نظام میں مرکزی حیثیت دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مشن کا مقصد ٹھوس نتائج فراہم کرنا ہے جو ماحولیاتی پائیداری، دیہی آمدنی میں اضافہ اور صنعتی مسابقت کے اس کے مقاصد کے ساتھ براہِ راست ہم آہنگ ہوں۔

5.jpg

بانس مشن کے تحت بانس کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مراعات

حکومت اور نجی شعبے دونوں کو شامل کرتے ہوئے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی گئی ہے، جس میں شامل ہیں:

  • بانس کی کاشت کو فروغ دینا  اور سہولت فراہم کرنا
  • ابتدائی پروسیسنگ کی سہولیات کا قیام
  • قیمت میں اضافہ اور مصنوعات کی ترقی
  • خورد، درمیانے اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینا
  • فضلہ سے دولت پیدا کرنے کے طریقے اپنانا
  • بازار کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سہولت کی فراہمی
  • ہنر کی ترقی کے اقدامات
  • مہمات، سیمینارز، ورکشاپس وغیرہ کا انعقاد

اس مشن میں 50:10:40(سبسڈی، خود کا تعاون، قرض کا پیٹرن) کے تناسب میں لون-لنکڈ بنک-ایڈیڈ سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔شمال مشرقی ریاستوں میں نجی شعبے کو اضافی 10؍فیصد مدد فراہم کی جاتی ہے۔

قومی بانس مشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی  مدد کے علاوہ، زرعی انفراسٹرکچر فنڈ (اے آئی ایف) کے تحت بانس کی ابتدائی پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کو بھی سہارا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، محکمہ زراعت و کسان فلاح کی ایف پی او کی تشکیل ،اسکیم کے تحت بانس پر مبنی کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی او ایز) قائم کی جا رہی ہیں۔

زرعی انفراسٹرکچر فنڈ)اے آئی ایف)

2020-21 میں شروع کیے گئے اے آئی ایف کا مقصد بعد از فصل انتظام میں موجود خلا کو پر کرنا ہے، جس کے لیے فارم گیٹ اسٹوریج، لاجسٹکس، اور پروسیسنگ انفراسٹرکچر کی معاونت کی جاتی ہے۔ یہ ایک درمیانی تا طویل مدتی قرضہ مالی سہولت ہے جو سود کی سبسڈی اور قرضوں پر کریڈٹ گارنٹی کی حمایت کے ذریعے  فصل کے بعد کے انتظام کے انفراسٹرکچر اور قابلِ عمل زرعی اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

 

کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ای پی او ایز)

ایف پی او ایک عمومی نام ہے، جو کسان-پروڈیوسرز کی تنظیم کی طرف اشارہ کرتا ہے جو یا تو کمپنیز ایکٹ کے پارٹ IX-Aکے تحت یا متعلقہ ریاستوں کے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت شامل/رجسٹرڈ کی جاتی ہے اور زرعی و متعلقہ شعبے کی پیداوار اور مارکیٹنگ میں پیمانے کی معیشت کے ذریعے اجتماعی فائدہ حاصل کرنے کے لیے تشکیل دی جاتی ہے۔ ایف پی او ایز کے پیچھے یہ تصور ہے کہ زرعی مصنوعات کے پیدا کرنے والے کسان، گروپس تشکیل دے سکتے ہیں۔

قومی بانس مشن کے لیے فنڈنگ کا نمونہ

اسکیم کا فنڈنگ نمونہ تمام ریاستوں کے لیے مرکز اور ریاستی حکومت کے درمیان 60:40 ہے، سوائے شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستوں کے جہاں یہ 90:10 ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، تحقیق و ترقی کے ادارے، بانس ٹیکنالوجی سپورٹ گروپس (بی ٹی ایس جی ایز) اور قومی سطح کے اداروں کے لیے 100؍فیصد ہے۔ کوآپریٹیو شعبے کے لیے مرکزی فنڈنگ جزو کو نیشنل کوآپریٹیو ڈیولپمنٹ کارپوریشن(این سی ڈی سی) کے ذریعے نوڈل ایجنسی کے طور پر فراہم کیا جاتا ہے۔ ریاستوں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کوآپریٹیو شعبے کے لیے اپنی ریاستی حصہ داری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے این سی ڈی سی سے قرضہ حاصل کریں۔

قومی بانس مشن کے مشن کی بناوٹ:

یہ مشن ملک بھر میں بانس کی ترقیاتی سرگرمیوں کے مؤثر نفاذ، ہم آہنگی اور نگرانی کے لیے تین سطحی ادارتی ڈھانچے کی پیروی کرتا ہے۔ یہ سطحیں قومی، ریاستی اور ضلعی سطح پر کام کرتی ہیں، جس سے ذمہ داریوں کا عمودی اور افقی بہاؤ کوبلا رکاوٹ یقینی بنایا جاتا ہے۔

6.jpg

قومی بانس مشن کے نگرانی اور جائزہ لینے کے طریقہ کار

فیزیکل/مالیاتی حصولیابیوں کی نگرانی کے علاوہ، مختلف اشاریوں پر دیگر سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اس میں ایک دو سطحی نظام یعنی قومی سطح پر ایگزیکٹو کمیٹی (ای سی) اور ریاستی سطح پر اسٹیٹ لیول ایگزیکٹو کمیٹی(ایس ایل ای سی) اپنایا گیا ہے،ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے مطابق تیسرے فریق کے آزادانہ جائزے بھی کیے جا رہے ہیں۔ تیسرے فریق کا جائزہ کسانوں، کسان گروپس، کاریگروں، خواتین وغیرہ کی شرکت اور تاثرات کو یقینی بناتا ہے۔

مشن کے لیے ریاستوں کی پیش رفت اور کامیابیوں پر ایم آئی ایس (مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز) پورٹل کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ تمام قائم شدہ بنیادی ڈھانچے کا جیو ٹیگنگ لازمی ہے اور اسے ریاستی مشن ڈائریکٹرز کے ذریعے نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر کے تعاون سے بھون پورٹل پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔

قومی بانس مشن سے اگربتی  کےشعبے کو مضبوطی:

7.jpgقومی بانس مشن نے اگربتی اسٹک(اگربتی بنانے) کی پیداوار کے لیےایم آئی ایس پر مبنی رپورٹنگ پلیٹ فارم شروع کیا ہے تاکہ اس شعبے میں شفافیت اور ہم آہنگی کو بڑھایا جا سکے۔ یہ پلیٹ فارم اسٹک (چھڑی)بنانے والی یونٹس، خام مال کی دستیابی، پیداوار کی صلاحیت اور مارکیٹ کے روابط کی نقشہ سازی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایم ایس ایم ای)، کھادی اور دیہی صنعتیں کمیشن(کے وی آئی سی)، ریاستی حکومتوں اور صنعت کے شراکت داروں کے تعاون سے،ایم بی ایم گھریلو اگربتی کی پیداوار کو بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خود انحصاری اور عالمی مسابقت ہے۔ اگربتی شعبے نے روایتی طور پر مقامی افرادی قوت کو بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کیا، جو مختلف عوامل کی وجہ سے کم ہو گیا تھا، جن میں سستے درآمد شدہ راؤنڈ اسٹکس اور خام بتی کی آمد شامل ہے۔ اس کے علاوہ، 2019 میں این بی ایم کی جانب سے ایک جامع مطالعہ کیا گیا، جس کے بعد حکومت کی جانب سے اگست 2019 میں خام بتی کی درآمدات کو آزاد سے محدود زمرہ میں منتقل کرنے اور جون 2020 میں راؤنڈ اسٹک پر یکساں طور پر 25؍فیصد درآمدی ڈیوٹی بڑھانے کے پالیسی اقدامات نے گھریلو یونٹس کو فروغ دیا۔

قومی بانس مشن کی کامیابی کی کہانیاں

بانس: کسانوں کے لیے لائف لائن – مدھیہ پردیش کے وجےپاٹیدارکی کامیابی کی کہانی

مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگونے کے ایک ترقی پسند کسان جناب وجے پاٹیدار نے کامیابی کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ بانس کی کاشت روایتی کاشتکاری کے مقابلے میں ایک پائیدار اور منافع بخش متبادل ہو سکتی ہے۔

  • روایتی فصلوں سے وابستہ خطرات اور نقصانات کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے 2019 میں بانس کی کاشت کی طرف رخ کیا اور 4,000 بانس کے پودے لگائے۔
  • ریاستی بانس مشن کی طرف سے ہر پودے پر تین سال کے دوران 120 روپے کی سبسڈی کی حمایت کے ساتھ، ان کے اخراجات کافی حد تک کم ہو گئے۔ دو سال کے اندر انہوں نے دیگر کسانوں کو بانس کے کھمبے بیچ کر 75,000 روپے کما لیے۔
  • بانس کے کیڑوں اور موسمی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت مہنگے ان پٹ کی ضرورت کو کم کرتی ہے، جبکہ اس کے خشک پتے سےتقریباً 1000 کوئنٹل فی ایکڑ—کو کھاد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
  • جناب پاٹیدار نے بانس کے ساتھ مرچ، کیپسیکم، ادرک  اور لہسن کی اندرونی کاشت بھی کامیابی کے ساتھ کی اور بانس کے سایے کی وجہ سے پانی کے استعمال میں کمی اور فصل کی بہتر حفاظت نوٹ کی۔

تاجروں کی دلچسپی کو متوجہ کرتے ہوئے، وہ یقین دلاتے ہیں کہ بانس کی مضبوط مارکیٹ صلاحیت ہے اور مقامی کسانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بہتر آمدنی کی حفاظت کے لیے اپنی زمین کے کم از کم 10؍فیصد حصے پر بانس کی کاشت کریں۔

گڑچروڈی اگربتی پروجیکٹ: خواتین کی قیادت میں دیہی روزگار کے لیے ایک ماڈل

مہاراشٹر کے قبائلی اکثریتی ضلع میں 2012 میں شروع کی گئی گڑچروڈی اگربتی پروجیکٹ (جی اے پی) نے اگربتی کی پیداوار کے ذریعے 1100 سے زائد افرادجن میں 90؍فیصد خواتین شامل ہیں—کے لیے پائیدار روزگار پیدا کیا ہے۔ 32 فعال مراکز کے ساتھ، یہ پروجیکٹ خواتین کو مستحکم آمدنی (5000؍روپے ماہانہ)، ہنر کی تربیت، اور قیادت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

7.png

بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، مشینری کے استعمال اور پروڈیوسر گروپ کی تشکیل کے ذریعے جی اے پی نے آمدنی میں بہتری لائی، نقل مکانی کو کم کیا اور صنفی مساوات کو فروغ دیا۔ اس نے 10 کروڑ روپے کی تنخواہیں فراہم کیں اور عوامی انتظامیہ میں شاندار کارکردگی کے لیے وزیراعظم ایوارڈ سمیت قومی سطح پر پہچان حاصل کی۔ مہاراشٹر بانس ڈیولپمنٹ بورڈ کی معاونت سے، پروجیکٹ نےکووڈ-19 کے دوران بھی اپنے کام کو جاری رکھا اور مزید 350 خواتین کو مستحکم آمدنی فراہم کی۔ جی اے پی دیہی ترقی اور خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے ایک کامیاب اور جامع ماڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اسٹیٹ بانس ڈیولپمنٹ ایجنسی(ایس بی ڈی اے)، آسام: بانس کی ویلیو چین کو فروغ دینا

8.pngاسٹیٹ بانس ڈیولپمنٹ ایجنسی(ایس بی ڈی اے) آسام میں قومی بانس مشن کے نفاذ کا ادارہ ہے۔ اس نے درج ذیل اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں:

  • معیاری پودے لگانے کا سامان: کرشی وِگیان کینڈراس اور رین فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، جورہٹ میں 10 نرسریوں کو فنڈ فراہم کیا تاکہ اعلیٰ معیار کی بانس کی جینیاتی اقسام کی سپلائی کی جا سکے۔
  • منظم کاشتکاری:  ایف پی او ایز جیسے اداروں کے ذریعہ بانس کی کاشت کو فروغ دیا، جس میں 609 کسان اور 585 ہیکٹر رقبہ شامل ہیں۔ 14 اضلاع میں مزید 18 ایف پی او ایز کی تجویز دی گئی ہے۔
  • ہنرکاری کا فروغ: ایکسپورٹ پروموشن کونسل فار ہنرکرافٹ کے ساتھ 10 کاریگروں کو تربیت دی گئی، جس سے 3.65 لاکھ روپے کی فروخت اور روزانہ 350-300روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
  • صنعتی رابطہ کاری: مقامی اگربتی کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے Cycle Pure Agarbatties کے ساتھ خرید و فروخت اور تربیت کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط کیے گئے۔

یہ کوششیں آسام میں ایک مضبوط اور پائیدار بانس کے ماحولیاتی نظام کی تخلیق کر رہی ہیں۔

نتیجہ

قومی بانس مشن ہندوستان کے بانس کے شعبے کو منظم اور جامع ویلیو چین کے نقطہ نظر کے ذریعے دوبارہ فعال بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ کاشتکاری، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور پالیسی میں مدد کو ہم آہنگ کر کے یہ مشن نہ صرف دیہی روزگار کو بڑھا رہا ہے بلکہ پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ صلاحیت سازی، بین شعبہ جاتی ہم آہنگی اور مارکیٹ تک رسائی پر مرکوز کوششوں کے ساتھ ایم بی ایم بانس کو ہندوستان کی سبز معیشت اور آتم نربھر بھارت کے وژن کے ایک اہم ستون  میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔

حوالہ جات

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت

https://midh.gov.in/

https://nbm.da.gov.in/

https://nbm.da.gov.in/Success-Stories

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2113716

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2106913

https://nbm.da.gov.in/Documents/pdf/NBM_Revised_Guidelines.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1717614

Annual Report 2024-25: https://www.agriwelfare.gov.in/Documents/AR_Eng_2024_25.pdf

نیتی  آیوگ

https://niti.gov.in/sites/default/files/2023-08/Technical_Session_2_Incentives_and_Way_Forward_for_promotion_of_Bamboo_Smt._Chhavi_Jha.pdf

https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2023-08/Technical_Session_1_Commercial_Bamboo_Varieties_and_their_production_in_the_different_states_of_India_Shri_Syed_Salim.pdf

 

Click here for pdf file

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 (ش ح –م ع ن- م ا)

U. No.5434

(Backgrounder ID: 155118) Visitor Counter : 8
Provide suggestions / comments
Read this release in: English , Hindi
Link mygov.in
National Portal Of India
STQC Certificate