Infrastructure
وہیل آف چینج: گرین موبلٹی کے لیے ہندوستان کی الیکٹرک پیش رفت
Posted On: 26 AUG 2025 5:03PM
- ہندوستان نے فروری 2025 تک 56.75 لاکھ الیکٹرک گاڑیوں کا اندراج کیا ہے
- ایف اے ایم ای II، پی ایم ای-ڈرائیو، پی ایل اسکیموں اور پی ایم ای-بس سیوا جیسے اہم اقدامات سرمایہ کاری، لوکلائزیشن اور بڑے پیمارے پر ای وی کے استعمال کی رہنمائی کررہے ہیں۔
- وزیر اعظم نریندر مودی نے میڈ ان انڈیا ای-ویتارا ای وی کا افتتاح کیا، جس نے ہندوستان کو ماحولیات کے لئے سازگار نقل و حرکت سے متعلق برآمدات کے لیے سوزوکی کے بین الاقوامی مرکز کے طور پر قائم کیا۔
|
ناقابل تسخیر خواب
ترقی پذیر شہر کی پہچان کیا ہے؟ خاموش سڑکیں، صاف ہوا، گاڑیاں خاموشی سے گزر رہی ہوں ؟ ٹھیک ہے، البتہ یہ مستقبل کا منظر نہیں ہے بلکہ ایک ایسا سفر ہے جو پہلے ہی سے پورے ہندوستان میں جاری ہے۔ ماحولیات کے موافق، کم اخراج والے اور توانائی سے موثر نقل و حمل کے طریقے کے تئیں ہندوستان کے پورے دل سے کیے گئے عزم کی بدولت گرین موبلٹی اچھی طرح سے اور صحیح معنوں میں ایک مقبول لفظ سے آگے بڑھ گئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج احمد آباد کے ہنسل پور پلانٹ میں سوزوکی کی پہلی عالمی اسٹریٹجک بیٹری الیکٹرک وہیکل (بی ای وی) ’’ای ویٹارا‘‘ کا افتتاح کرکے ہندوستان کے ماحولیات کے لئے سازگار نقل و حرکت کے سفر میں ایک تاریخی سنگ میل نمایاں کیا ہے ۔ یہ 100 سے زیادہ ممالک کو میڈ ان انڈیا بی ای وی کی برآمد کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وزیر اعظم نے توشیبا، ڈینسو اور سوزوکی کے مشترکہ منصوبے، ٹی ڈی ایس لتیم آئن بیٹری پلانٹ میں ہائبرڈ بیٹری الیکٹروڈ کی مقامی پیداوار کا بھی افتتاح کیا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ بیٹری کی قیمت کا 80 فیصد سے زیادہ ہندوستان کے اندر تیار کیا جائے، جس سے ’’میک ان انڈیا ، میک فوردی ورلڈ‘‘ کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ تاریخی تبدیلیاں نہ صرف ہندوستان کو عالمی ای وی سپلائی چین میں ایک بڑے شراکتدار کے طور پر پیش کرتی ہے بلکہ یہ آتم نربھر بھارت اور ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کی اختراع کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت بھی ہے۔
|
ہندوستان کی برقی گاڑیوں کی مارکیٹ مالی سال 2024-25 ریکارڈ توڑنے والے نمبروں کے ساتھ پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ الیکٹرک دو پہیہ (ای-2 ڈبلیو) کی فروخت 11.49 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے 9.48 لاکھ سے 21فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ہندوستانی سڑکوں پر ماحولیات کے لئے سازگار ، زیادہ پائیدار نقل و حرکت کی جانب تیزی سے بڑھتی ہوئی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں ۔

یہ تبدیلی صرف گاڑیوں کے بارے میں نہیں بلکہ وژن کے بارے میں بھی ہے۔ یہ ایک نقل و حمل کا ماحولیاتی نظام تیار کرنے کے بارے میں ہے جوہمارے ماحولیاتی اہداف کے عین مطابق ہے، معاشی ترقی میں تعان کرتا ہے اور روزمرہ کی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ مضبوط پالیسیوں، پبلک پرائیویٹ تعاون اور اختراع کے ساتھ، ہندوستان ایک ماحولیات کے لئے سازگار ، سرسبز اور زیادہ لچیلی نقل و حرکت کے مستقبل کی راہ پر گامزن ہے۔
فوائد سے آراستہ
الیکٹرک گاڑیاں (ای وی) ایک ماحولیات کے لئے سازگار، ہوشیار اور زیادہ موثر متبادل روایتی ایندھن پر مبنی نقل و حمل کی پیشکش کرکےہم سفر کے طریقے کو تبدیل کر رہی ہیں۔ جیسا کہ ہندوستان پائیدار نقل و حرکت کو فروغ دیتا ہے، برقی گاڑی میں تبدیل ہونا ایک عملی اور مستقبل کے لیے تیار انتخاب بنتا جا رہا ہے۔

ماحولیات کے لئے سازگار نقل و حرکت کے لیے حکومت کا روڈ میپ
ہندوستان کی سبز نقل و حرکت کی کہانی ایک ہی راستے پر نہیں بلکہ تبدیلی لانے والے جرات مندانہ اقدامات کے نیٹ ورک پر بنی ہے۔ سبز نقل و حرکت کی جانب ہندوستان کے سفر میں کئی ترقیاتی اسکیمیں معاون ہیں جو مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہیں جہاں ہر سفر ایک صحت مند کرہ ارض کی جانب ایک قدم ہے۔
نیشنل الیکٹرک موبلٹی مشن پلان اینڈ ایف اے ایم ای1-
ہندوستان کے برقی نقل و حرکت کے سفر میں حکومت کی طرف سے ایک واضح پالیسی: نیشنل الیکٹرک موبلٹی مشن پلان (این ای ایم ایم پی) 2020 کے آغاز کے ساتھ ایک بڑا پیش رفت ملی۔ یہ منصوبہ برقی گاڑیوں (ای وی) کو اپنانے اور پیداوار میں تیزی لانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا تاکہ ماحولیات کے لئے زیادہ سازگار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ایف اے ایم ای انڈیا اسکیم (فاسٹر ایڈاپشن اینڈ مینوفیکچرنگ آف ہائبرڈ اینڈ الیکٹرک وہیکلز) کو 2015 سے 2019 تک نافذ کیا گیا تھا۔ ایف اے ایم ای-I نے نہ صرف ای وی کے استعمال کو بڑھانے پر بلکہ ضروری چارجنگ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر بھی توجہ مرکوز کی۔ اس اسکیم کے تحت تقریبا 520 چارجنگ اسٹیشنوں کو منظوری دی گئی جس کے لیے مجموعی طور پر 43 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
ایف اے ایم ای-Iکے تحت تعاون یافتہ ای ویز
|
زمرہ
|
تعاون یافتہ ای ویز کی تعداد
|
ای-2 وہیلرز
|
1,51,648
|
ای-3 وہیلرز
|
786
|
ای-4 وہیلرز
|
1,02,446
|
الیکٹرک بسیں
|
425
|
کل
|
2,55,305
|
ایف اے ایم ای II (الیکٹرک گاڑیوں کو تیزی سے اپنانا اور تیار کرنا)-مرحلہ دوم
پچھلے مرحلے کی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے، ایف اے ایم ای-II نے برقی نقل و حرکت کی طرف منتقلی کے لیے جرات مندانہ سرمایہ کاری کرتے ہوئے طریقۂ تبدیل کیا ہے۔ اپریل 2019 میں شروع کی گئی ایف اے ایم ای انڈیا فیز-II پر11,500 کروڑ روپے کا بجٹ تھا۔ اس اسکیم میں ای-بس نیٹ ورک کو بڑھانےاور چارجنگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ۔
|
جون 2025 تک ایف اے ایم ای-IIکے تحت تعاون یافتہ ای ویز
|
زمرہ
|
تعاون یافتہ ای ویز کی تعداد
|
ای-2 وہیلرز
|
14,35,065
|
ای-3 وہیلرز
|
1,65,029
|
ای-4 وہیلرز
|
22,644
|
ای-بسیں
|
5,165 (6,862 منظور شدہ)
|
کل
|
16,29,600
|
اس کی حمایت میں، بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے مارچ 2023 میں تین تیل کمپنیوں-انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (آئی او سی ایل) بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ(بی پی سی ایل) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمٹیڈ (ایچ پی سی ایل) کے لیے800 کروڑ روپے کی منظوری دی۔ (ایچ پی سی ایل) نے پورے ہندوستان میں اپنے ایندھن کے آؤٹ لیٹس پر 7,432 پبلک چارجنگ اسٹیشن (پی سی ایس) قائم کیے۔ مارچ 2024 میں، 980 چارجنگ اسٹیشنوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے اضافی 73.50 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جن میں سے 400 کو مختلف ریاستوں میں ایکسپریشن آف انٹرسٹ کے ذریعے منظوری دی گئی۔
9, 332 ای وی پی سی ایس کی تنصیب کے لیے کل 912.50 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 8,885 ای وی پی سی ایس 30 جون 2025 تک نصب کیے جا چکے ہیں، جو ملک کے برقی نقل و حرکت کے بنیادی ڈھانچے کو بااختیار بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
|
ہندوستان میں آٹوموبائل اینڈ آٹو کمپونینٹ انڈسٹری (پی ایل آئی-آٹو)کے لئے پیداوار سےمنسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم
پی ایل آئی اسکیم جدید آٹوموٹو ٹیکنالوجیز کے لیے عالمی مرکز بننے کے ہندوستان کے عزائم کو تقویت دے رہی ہے، جس سے گھریلو اختراعات کو ڈرائیور کی نشست پر رکھا جا رہا ہے۔ ستمبر 2021 میں شروع کی گئی آٹوموبائل اور گاڑیوں کے کل پرزوں کی صنعت کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم میں ایڈوانسڈ آٹوموٹو ٹیکنالوجیز (اے اے ٹی) کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے 25,938 کروڑ روپے کا بجٹ ہے۔ مارچ 2025 تک، اس اسکیم نے مجموعی طور پر 29,576 کروڑ روپے سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے اور 44,987 (نمبر) ملازمتیں پیدا کیے ہیں۔ ٹاٹا موٹرز اور مہندرا اینڈ مہندرا جیسی بڑی کمپنیوں نے اہم ای وی پروڈکشن سرمایہ کاری کے ساتھ قدم بڑھایا ہے۔ ایک کلیدی مینڈیٹ یہ ہے کہ کمپنیوں کو کم از کم 50فیصد گھریلو ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ وہ مراعات کے اہل ہوں۔
|
ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی ) بیٹری اسٹوریج سے متعلق قومی پروگرام کے پی ایل آئی اسکیم
بیٹریاں الیکٹرک موبلٹی کے دل کی دھڑکن ہوتی ہیں اور اے سی سی پی ایل اسکیم کے ساتھ، ہندوستان اپنے مستقبل کو اندر سے طاقت فراہم کرے گا، درآمدات کو کم کرے گا اور گھر میں جدید ترین توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دے گا۔ ایڈوانسڈ کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج کے لیے 2021 میں شروع کی گئی پیداوار سے منسلک ترغیبی (پی ایل آئی) اسکیم کا مقصد 18,100 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 50 جی ڈبلیو ایچ اے سی سی بیٹریوں کے لیے ہندوستان کی بیٹری مینوفیکچرنگ صلاحیت کو سپر چارج کرنا ہے۔ فروری 2025 تک، 40 جی ڈبلیو ایچ کو ایوارڈ دیا گیا ہے، جس کے تحت، دو سال کے اندر، مستفیدین کو مقررہ صلاحیت کے مطابق فی جی ڈبلیو ایچ 225 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنی ہوگی اور پانچ سال کے اندر کم از کم 25فیصد گھریلو ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) اسکیلنگ کو 60فیصدتک یقینی بنانا ہوگا۔ یہ پہل ہندوستان کی الیکٹرک نقل و حرکت اور توانائی ذخیرہ کرنے کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے اہم ہے۔
|
پی ایم ای-ڈرائیو
اگرچہ سڑکوں پر چلنے والے ٹرکوں کی تعداد صرف 3 فیصد ہے لیکن جب آلودگی کی بات آتی ہے تو یہ سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ کل کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ان کا حصہ 34 فیصد ہے، جبکہ دھول، سوٹ اور دھوئیں جیسے باریک ذرات (پی ایم )کے اخراج میں ان کا حصہ 53 فیصد تک ہے، جو واقعی چونکا دینے والا ہے۔ اسی طرح بسیں بھی سڑکوں پر 1 فیصد سے کم ہیں، مگر ماحول پر ان کا اثر بھی کم نہیں ہے، کیونکہ ان سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے کل اخراج میں تقریباً 15 فیصد حصہ آتا ہے۔ستمبر 2024 میں منظور اور مارچ 2028 تک نافذ کیے جانے کے لیے تجویز کردہ انوویٹو وہیکل انہانسمنٹ میں پی ایم الیکٹرک ڈرائیو انقلاب (پی ایم-ای ڈرائیو) ایک مرکوز کوشش ہے تاکہ ایسے اخراج پر قابو پایا جا سکے جو شہری فضائی معیار کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ یہ ہندوستان میں برقی نقل و حمل کو تیز رفتار بنانے کے لیے 10,900 کروڑ روپے کی ایک جامع پہل ہے۔ جولائی 2025 تک اس منصوبے نے سبسڈی فراہم کرکے صارفین کو ترغیب دی ہے۔24.79 لاکھ ای-ٹو وہیلر (1,772 کروڑ روپے سبسڈی کے ساتھ)،3.15 لاکھ ای-تھری وہیلر (907 کروڑ روپے سبسڈی)،5,643 ای-ٹرک (500 کروڑ روپے سبسڈی — برقی ٹرکوں کے لیے حکومت کی پہلی براہِ راست ترغیبی اسکیم)،ای-ایمبولینس (500 کروڑ روپے سبسڈی)-ان سب کو اس اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جولائی 2025 تک اس اسکیم نے 4,391 کروڑ روپے کی فنڈنگ کے ذریعے 14,028 برقی بسوں کو بھی تعاون دیا ہے۔
مزید یہ کہ، ہائی ویز اور شہری علاقوں میں ای وی عوامی چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کے لیے 2,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ای وی ٹیسٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے 780 کروڑ روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد پائیدار اور سبز ٹرانسپورٹ کے تئیں ہندوستان کے عزم کے مطابق ای وی اپنانے میں رکاوٹوں کو دور کرنا، ملک میں برقی گاڑیوں کے لیے سازگار ماحول کو مضبوط بنانا، گھریلو مینوفیکچرنگ کو سہارا دینا اور آلودگی کو کم کرنا ہے۔
|
ہندوستان میں الیکٹرک پیسنجر کار کی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی اسکیم (ایس پی ایم ای پی سی آئی)
|
|
الیکٹرک کار کی تیاری کے لیے ہندوستان کو ایک عالمی مرکز بنانے کے ہدف کو مارچ 2024 میں نوٹیفائی کی گئی اسکیم ایس پی ایم ای پی سی آئی کے ذریعے رفتار دی گئی ہے۔ اس کے لیے درخواست گزاروں کو کم از کم 4,150 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا عزم کرنا ہوگا، تین سال میں 25 فیصد گھریلو ویلیو ایڈیشن (ڈی اے وی)حاصل کرنا ہوگا اور پانچ سال کے اختتام تک ڈی وی اے میں 50 فیصد تک اضافہ کرنا ہوگا۔ایس پی ایم ای پی سی آئی کے لیے درخواست پورٹل 24 جون 2025 کو لانچ کیا گیا اور اس پر 21 اکتوبر 2025 تک درخواست دی جا سکتی ہے۔ عالمی گاڑی ساز کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کے مقصد سے یہ اسکیم منظور شدہ درخواست دہندگان کو درخواست کی منظوری کی تاریخ سے پانچ سال تک 15 فیصد کے کافی کم کسٹم ڈیوٹی پر برقی چار پہیہ گاڑیوں (ای-4ڈبلیو)کی مکمل تیار شدہ یونٹس (سی بی یو) درآمد کرنے کی اجازت دیتی ہے، جن کی کم از کم سی آئی ایف (قیمت، انشورنس اور فریٹ) 35,000 امریکی ڈالر ہو۔
یہ اسکیم ’’میک ان انڈیا‘‘ اور ’’آتم نربھر بھارت‘‘ پہل کے ساتھ ساتھ صاف ماحولیات کے لئے سازگارٹرانسپورٹ کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے لوکلائزیشن کے ساتھ مراعات کو جوڑتی ہے۔
|

|
|
پی ایم-ای بس سیوا اسکیم
پی ایم ای-بس سیوا یوجنا ہندوستان میں ماحولیات کے لئے سازگارشہری آمدورفت کی سمت ایک بڑی پیش رفت ہے، جو سڑکوں پر ہزاروں برقی بسیں لا کر عوامی ٹرانسپورٹ کو ایک نیا روپ دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ ہر مسافر کے لیے آرام دہ، آسانی سے دستیاب اور پائیدار ہے۔حکومت نے شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے اگست 2023 میں یہ اسکیم شروع کی۔ سرکاری-نجی شراکتداری (پی پی پی)ماڈل کے تحت 10,000 برقی بسوں کے لیے 20,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ یہ اسکیم شہری آمدورفت کو صاف اور زیادہ کفایتی بنانے پر مرکوز ہے۔اس کے تحت اہل شہروں میں وہ شہر شامل ہیں جن کی آبادی 3 سے 40 لاکھ کے درمیان ہے، اس کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی وہ راجدھانیاں بھی شامل ہیں جن کی آبادی 2011 کی مردم شماری کے مطابق 3 لاکھ سے کم ہے۔اگست 2025 تک، 14 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 7,293 برقی بسوں کو منظوری دی جا چکی ہے۔ ای-بسوں کے توسیعی منصوبے میں تعاون کے مقصد سے 12 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ڈپو اور برقی ڈھانچے کے لیے 1,062.74 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے اہم سہولیات کے لیے 9 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 475.44 کروڑ روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
|
پی ایم ای-بس سیوا-ادائیگی سیکورٹی میکانزم (پی ایس ایم) اسکیم
برقی گاڑیوں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، اکتوبر 2024 میں منظور شدہ 3,435.33 کروڑ روپے کی پہل پی ایم ای-بس سیوا – پی ایس ایم اسکیم کا مقصد مالی سال 2024-25 سے مالی سال 2028-29 کے درمیان پورے ہندوستان میں 38,000 سے زیادہ برقی بسیں چلانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس میں ان بسوں کو ان کی تعیناتی کی تاریخ سے لے کر 12 سال تک آپریشنل مدد شامل ہے۔اس اسکیم کا مقصد ای-بس آپریٹروں کے لیے ایک مالیاتی حفاظتی ڈھال فراہم کرنا ہے، جو اس صورت میں ادائیگی سیکیورٹی میکنزم تیار کرتا ہے جب پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (پی ٹی اے) ادائیگی میں چوک کر جائیں۔پی ایم ای-بس سیوا اسکیم بڑے پیمانے پر برقی بسیں چلانے کے نظام کو فعال کرکے اور ادائیگی کی حفاظت کے ذریعے آپریشنل خطرات پر قابو پاتے ہوئے مستقبل میں ہندوستان کی شہری آمدورفت کو آگے بڑھاتی رہے گی۔
|
انڈیا الیکٹرک موبلٹی انڈیکس(آئی ای ایم آئی)
ہندوستان کے ماحولیات کے لئے سازگار ٹرانسپورٹ کے مستقبل کو تشکیل دینے کی سمت ایک بڑے قدم کے طور پر، نیتی آیوگ نے اگست 2025 میں انڈیا الیکٹرک موبلٹی انڈیکس (آئی ای ایم آئی) کا آغاز کیا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا آلہ ہے جو اس سمت میں کیے گئے اقدامات کی نگرانی، حساب کتاب رکھنے اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے برقی ٹرانسپورٹ سے متعلق ان کی امنگوں کی جانب پیش رفت کا موازنہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔یہ اپنی طرح کا پہلا فریم ورک نہ صرف کامیابیوں کو معیاری پیمانے پر پرکھتا ہے بلکہ یہ واضح تصویر فراہم بھی کرتا ہے کہ ہر خطہ برقی اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے لیے سازگار ماحول میں کہاں کھڑا ہے۔آئی ای ایم آئی اسکور تین بڑے موضوعات کے تحت 16 اشاریوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرکے تیار کیا جاتا ہے:ٹرانسپورٹ کی برقی کاری کی پیش رفت،چارجنگ انفراسٹرکچر کی تیاری،برقی گاڑیوں سے جڑے تحقیق اور اختراع کی حالت۔ان شعبوں میں زیادہ اسکور ایک مضبوط اور زیادہ ترقی یافتہ برقی ٹرانسپورٹ منظرنامے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نتائج کی بنیاد پر خطوں کو تین زمروں میں رکھا گیا ہے:وہ جن کے پاس پہلے سے سازگار ماحول ہے،وہ جو مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں،اور آرزو مندعلاقے جنہیں اپنی رفتار بڑھانے کے لیے ہدفی تعاون درکار ہے۔حالیہ آئی ای ایم آئی اسکور میں دہلی، مہاراشٹر اور چندی گڑھ کو’’سب سے آگے بڑھنے والوں‘‘کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
|


سنگ میل طے، کل کی طرف نگاہ
ہندوستان سبز توانائی اور برقی کاری کے عمل میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ واضح وژن اور فیصلہ کن اہداف کے ساتھ آئندہ کا روڈمیپ صاف ہوا، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور مستقبل کے لیے تیار ٹرانزٹ نیٹ ورک کی راہ ہموار کرتا ہے۔
حکومت ہند نے عالمی ای وی30@30 پہل کے مطابق 2030 تک 30 فیصد برقی گاڑیوں(ای وی)کے استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے۔
|
فروری 2025 تک ہندوستان میں 389.77 ملین رجسٹرڈ گاڑیوں میں سے 56.75 لاکھ برقی گاڑیاں رجسٹرڈ کی جا چکی ہیں۔
|
ہندوستان نے ایک جرات مندانہ کانکشی سبز افق پر اپنی نظر جما رکھی ہے، جس کا مقصد 2030 تک اندازاً 1 بلین ٹن کاربن اخراج میں کمی لانا ہے۔
|
کم اخراج والے مستقبل کی سمت ایک فیصلہ کن قدم کے طور پر ہندوستان کا ہدف ہے کہ 2030 تک معیشت کی کاربن شدت کو 45 فیصد سے کم کرے اور آخرکار 2070 تک ملک کو نیٹ زیرو نیشن میں تبدیل کر دے۔
|
************
ش ح/ ک ح/ ج ا
U. No. 5428
(Backgrounder ID: 155114)
Visitor Counter : 8
Provide suggestions / comments